Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • فیصل قریشی کا سوشانت کی خودکشی پر معنی خیز پیغام

    فیصل قریشی کا سوشانت کی خودکشی پر معنی خیز پیغام

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار و میزبان فیصل قریشی نے سوشل میڈیا پر بھارتی اداکار سوشانت سنگھ کی موت کے بعد ایک معنی خیز پیغام جاری کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رواں ماہ اتوار کو باندرا میں اپنے فلیٹ میں گلے میں پھانسی کا پھندہ ڈال کر خودکشی کرنے والے 34 سالہ نوجوان بھارتی اداکار سوشانت سنگھ کی موت کے بعد سے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چل رہا ہے جس میں صارفین اُن کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر سوشانت سنگھ کی موت کی وجہ کیا تھی اور ساتھ ہی وہ بالی وڈ کو سوشانت سنگھ کی موت کا مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں جبکہ چند شوبز ستاروں پر براہ راست بھی الزام تراشی کر چکے ہیں –

    سوشانت سنگھ کی خودکشی نے جہاں بھارتی فنکاروں کو غمزدہ کیا ہے وہیں پاکستانی فنکار بھی ورطہ حیرت میں ہیں اور سوشل میڈیا پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے مختلف پیغام شئیر کر رہے ہیں-


    پاکستان کے نامور اداکار و میزبان فیصل قریشی نے ٹوئٹر پر ایک پیغام جاری کیا ہے جس میں اُنہوں نے لکھا کہ کسی انسان کے مرنے کے بعد ہم اس کے بارے میں جتنا جانتے ہیں کاش ہم اُس کی زندگی میں اُس انسان کو آدھا ہی جان پائیں-

    اداکار نے لکھا کہ اس طرح ھمارے کندھے مسکراھٹ میں چھپے آنسو ھی ڈھوئیں گیں۔جنازے نہیں-


    اداکار و میزبان کی اس ٹویٹ پر اداکار اعجاز اسلم نے بھی اتفاق کیا-

    واضح رہے کہ اس سے قبل اداکار عمران عباس نے بھی اپنے ایک پیغام میں کہا تھا کہ ڈپریش حقیت ہے مذاق نہیں براہ کرم اسے سنجیدہ لیں اور اپنوں کو اکیلا مت چھوڑیں اس سے قطع نظر کہ وہ زندگی میں کتنے خوش اور مطمئن نظر آتے ہیں-

    یاد رہے کہ اس سے قبل معروف اداکارہ حرا مانی نے اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا تھا کہ جب کوئی ہمارے درمیان موجود ہوتا ہے تو ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی لیکن لوگوں کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ہمیں اُن کی قدر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ دوسروں کے ساتھ نرمی اختیار کریں اور ان کا خیال رکھیں جن کے دل میں رحم ہوتا ہے ان کے دل میں خدا ہوتا ہے-

    واضح رہے کہ سوشانت سنگھ کی خودکشی کے واقعے کی تحقیقات کے دوران پولیس کو ان کے گھر سے کچھ دستاویزات موصول ہوئے تھے جن کے مطابق سوشانت سنگھ ڈپریشن کا علاج کروا رہے تھے اور اُن کے قریبی دوستوں کا بھی کہنا تھا کہ اداکار ذہنی تناؤ کا شکار تھے لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اُن کے ڈپریشن کی وجہ کیا تھی-

    ڈپریشن حقیقت ہے مذاق نہیں براہ کرم اسے سنجیدہ لیں عمران عباس

    جن کے دل میں رحم ہوتا ہے ان کے دل میں خدا ہوتا ہے حرامانی

  • پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کی عائزہ سے شادی کی خواہش

    پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کی عائزہ سے شادی کی خواہش

    ماہرہ خان اور عائزہ خان کو کسی تعارف کی ضرورت نہیں- یہ دونوں بے حد باصلاحیت اور حیرت انگیز اداکارہ ہیں۔ جب کہ ماہرہ نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کی ہے ، عائزہ نے محض اپنے ڈراموں کے پاکستانیوں سمیت دنیا بھر میں مداحوں کے دل جیت لئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : اگرچہ عائزہ اور ماہرہ نے ابھی تک کسی بھی پروجیکٹ میں ساتھ کام نہیں کیا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ ماہرہ عائزہ کی مداح ہیں۔ ایک حالیہ براہ راست انٹرویو میں جہاں ماہرہ نے سجل الی کی تعریف کی ، وہیں ماہرہ نے یہ بھی بتایا کہ وہ عائزہ انہیں انتہائی خوبصورت لگتی ہیں اور اگر اس کی شادی دانش تیمور سے نہ ہوتی تو وہ اس سے شادی کرلیتی۔

    ماہرہ عائزہ خان کے بارے میں اپنی محبت کا اظہار دل میں بغیرکسی قسم کا تعصب رکھے کیا ہمیں خوشی ہے کہ ہماری اداکارائیں کس طرح پیشہ ورانہ رقابت سے بالاتر ہو چکی ہیں اور اب ایک دوسرے کے بارے میں بغیر کسی تعصب کےکھل کر بات کرتی ہیں ، ایک دوسرے کی کُھلے دل سے تعریف کرتی ہیں-

  • ماضی کے معرف کمپئیر طارق عزیز انتقال کر گئے

    ماضی کے معرف کمپئیر طارق عزیز انتقال کر گئے

    ماضی کے معروف کمپیئر،اداکار ،میزبان اور سیاستدان طارق عزیز انتقال کر گئے-

    باغی ٹی وی : ماضی کے مقبول ٹی وی شو نیلام گھر کے میزبان اور کمپئیر طارق عزیز آج انتقال کر گئے-طارق عزیز 28 اپریل 1936 کو جالندھر میں پیدا ہوئے – اور اپنی ابتدائی تعلیم جالندھر سے ہی حاصل کی انہوں نے اپنے فنی کرئیر کا اغاز ریڈیو پاکستان لاہور سے کیا انہوں نے اپنے ٹی وی پر اپنے فنی کیرئیر کا اغاز 1964 میں کیا-

    جب پاکستان میں لاہور میں ٹیلی ویژن پر ابتدائی نشریات کا آغاز نومبر 1964 کو ہوا تو طارق عزیز پی ٹی وی کے پہلے میل اناؤنسر تھے- پی ٹی وی پر نشریات میں دیکھے جانے والے پہلے آدمی تھے-

    طارق عزیز نے 1967 میں اپنی فلمی کیرئیر کا اغاز اداکار وحید مراد اور اداکارہ زیبا کے ساتھ فلم انسانیت سے کیا اس کے عالوہ انہوں نے فلم ہار گیا انسان میں بھی اداکاری کی- عالوہ ازیں طارق عزیز متعدد لوکل ٹی وی پروگرامز اور مارننگ شو بھی کئے-

    انہوں نے ٹیی تھون کے نام سے ایک چیریٹی تنظیم بھی بنائی-

    طارق عزیز کو ان کے شو بزم طارق عزیز سے شہرت ملی-

    ان کو پہچان ٹی وی شو نیلام گھر سے ملی جس کا آغاز 1974 میں ہوا تھا بعد میں یہ ٹی وی کوئز شو طارق عزیز شو اور پھر بزم طارق عزیز کے نام سے نشر کیا جانے لگا-

    طارق عزیز نے 1960 سے 1970 تک کئی فلموں میں سائڈ رول بھی ادا کئے ان کی مشہور فلموں میں تھی جو 1969 میں ریلیز ہوئی تھی اور اس فلم نے دو نگار ایوارڈ بھی اپنے نام کئے تھے

    طارق طارق اپنے طالبعلمی کے زمانے سے ہی سیاست میں دلچسپی رکھتے تھے اپنے کالج میں بھی سایسی سرگرمیوں می‌حصہ لیتے تھے انہوں نے 1970میں ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت پی پی پی جوائن کی بعد میں 1996 میں انہوں نے مسلم لیگ ن جوائن کی اور اس جماعت کے رُکن کی حیثیت سے لاہور سے نیشنل اسمبلی میں منتخب ہوئے اور 1997 سے 1999 تک پاکستان نیشنل اسمبلی کے رُکن رہے – بعد ازاں پریذیڈنٹ پرویز مشرف کے دور اقتدار میں مشرف کی سیاسی پارٹی پہاکستان مسلم لیگ ق میں چلے گئے-

    طارق عزیز کو ان کی فنی صلاحیتوں اور اعلی کاگردگی پر 1992 میں حکومت کی طرف سے پرائیڈ آف پرفارمنس کے اعزاز سے نوازا گیا-

    پاکستانی ڈرامے مقدس رشتوں کی پامالی کے زمہ دار !!! جلن ڈرامے میں اخلاقی اقدار کو بری طرح سے پامال کیا جائے گا تحریر: غنی محمود قصوری

  • نوجوان نسل کے مسائل   تحریر: ساحل توصیف، محمد پورہ، کولگام، کشمیر

    نوجوان نسل کے مسائل تحریر: ساحل توصیف، محمد پورہ، کولگام، کشمیر

    نوجوان نسل کے مسائل
    ساحل توصیف، محمد پورہ، کولگام، کشمیر
    نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں اور مستقبل کی تمام تر ذمہ داریاں انہی نوجوانوں کے کندھوں پر ہوتی ہیں ۔اگر یہی نوجوان راہ راست سے بھٹک جائیں تو قوم کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے اور دوسری قومیں اس پر ٹوٹ پڑتی ہیں ۔
    ہمارے نوجوان آج کل ہر قسم کی بُرایئوں میں ملوث پائے جاتے ہیں مثلاً فحاشیت’ جُوا بازی’ منشیات وغیرہ ہمارے نوجوانوں میں ایسے بہت سارے مسائل جنم لے چکے ہیں جن کا تدراک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بحثیت قوم ہم پہ یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اِن مسائل کا بروقت تدراک کریں ۔
    انسانی زندگی کے تین ادوار ہیں۔ بچپن۔ جوانی۔اور بڑھاپا۔
    لیکن ان تین ادواروں میں انسانی زندگی کا جو کٹھن دور ہوتا ہے وہ جوانی کا دور ہے ۔ جوانی میں قدم رکھتے ہی اس کے اندر عزم’ ہمت اور ولولے انگڑائیاں لینے لگتے ہیں اور یہی سے اس کی بلوغت کا دور بھی شروع ہوتا ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ہماری وادی میں لوگ اپنے بچوں کی شادیاں تیس(30) پنتیس(35) سال کی عمر میں کرتے ہیں یہ ہمارے سماج کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔کبھی ماں بات ٹال دیتی ہے اس لئے کہ ہمارا بچہ ابھی پڑھ رہا ہے روزگار ملے گا تو اچھی طرح سے شادی کریں گے اور کبھی باپ ۔۔۔ مگر دیر سے شادی کرنے سے بہت سارے مسائل پیدا ہوتے ہیں اس کا نفسیات پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے خواہشات کا بڑھتے جانا۔ یا ان کا پورا نہ ہونا بڑا تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔اور جب اُن کا دباؤ بڑھ جاتا ہے تو بہت سی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔جنہیں اعصابی امراض یعنی (HYSTERIA) کہتے ہیں
    ان جانے خوف۔ گھبراہٹ۔وحشت۔مایوسیی ، چڑچڑاپن۔تشویش۔وحشتناک خواب وغیرہ وغیرہ اور ان کی وجہ سے ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے۔نیند کم آتی ہے رنگ زرد ہو جاتا ہے۔گیس اور بدہضمی سےکھانا ہضم نہیں ہوتا ہے۔نظر کمزور ہوتی ہے پڑھنے لکھنے کو دل نہیں کرتا ہے اور اس طرح آہستہ آہستہ صحت خراب رہنے لگتی ہے اور یہی سے انسان چور دروازے ڈھونڈنا شُروع کر دیتا ہے اور سماج میں بھی اس کا بہت بُرا اثر پڑتا ہے اور بُرائیاں جنم لیتی ہیں۔ اس سب کے ذمہ دار وہ والدین ہیں جو اپنے بچوں کی نفسیات کو پس پُشت ڈال دیتے ہیں اُن کی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور نتیجتاً بہت سی بُرائیوں کو دعوت دیتے ہیں۔میرا ماننا ہے کہ یہی سے سب بُرائیاں جنم لیتی ہیں۔ نفسانی خواہش کا پورا نہ ہونا انسان کو منشیات کی طرف لے جاتا ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ اب نشے میں ہی وہ سکون حاصل کرسکتا ہے۔ہمارے سماج میں اکثر جوان ان جرائم میں ملوث ہو چُکے ہیں کوئی نشے کا عادی ہے تو کوئی فحاشی کا اور یہ جرائم روز بہ روز بڑھتے ہی جاتے ہیں ۔
    دوسری اہم بات جو جوان منشیات کے عادی ہو چکے ہیں اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہ سب سے زیادہ چوریوں میں ملوث پائے جاتے ہیں نشہ نہ ملنے کی صورت میں وہ گھر کی کوئی بھی چیز بیچ کر یا دوسروں کی چوری کرکے اپنے نشے کو جلا بخشتے ہیں۔
    چونکہ ہماری وادی میں نوجوانوں کے مسائل بہت زیادہ ہیں ان میں بے روزگارنوجوانوں کی تعدا میں اضافہ ہونا۔ روز روز ہڑتالیں ۔خوف و ہراس ۔ بہت سے ایسے مسائل ہیں جس نے یہاں کے نوجوان پر بہت بُرا اثر ڈالا ہے۔غرض کہ ہر طرح سے ہمارے جوانوں کو ، ہمارے سرمائے کو ایک منظم طریقے سے ختم کیا جارہا ۔ اب بحثیت قوم ہم پہ یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جو ہم سے بن سکے وہ ہم کریں، اگر ہم زیادہ نہیں کرسکتے تو کم از کم اپنے حصے کی کوشش ضرور کریں پھر فیصلہ اللہ پہ چھوڑدیں ، اللہ کرے کہ ہمارے نوجوان جن کے ہاتھوں میں ہمارا مستقبل ہے وہ سنور جائیں اور ترقی کی منازل طے کرتے چلیں ، میری اپنی قوم سے یہی گُزارش ہے کہ اپنے مستقبل کو تباہ ہونے سے بچائیں اور مستقبل کے معماروں کو راہ راست پر لانے کی بھرپور کوشش کریں ۔اللہ ہمارے مستقبل کو اپنے حفظ وامان میں رکھے۔
    جوانوں کو میری آہِ سَحر دے
    پھر ان بچوں کو بال وپَر دے
    خدایا آرزو میری یہی ہے
    میرا نورِ بصیرت عام کردے

  • حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا دور بنو امیہ کا بہترین اور اسلام کا سنہری دور   تحریر:عاشق علی بخاری

    حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا دور بنو امیہ کا بہترین اور اسلام کا سنہری دور تحریر:عاشق علی بخاری

    میں نانا جیسا بنوں گا!!!
    تحریر:
    عاشق علی بخاری

    تاریخ میں جسے بھی بڑا کردار ادا کرنا ہو اس کی تعلیم و تربیت بھی اسی قدر سخت ہوتی ہے اللہ تعالی کو ہی معلوم ہوتا ہے کہ کب کس نے اور کس وقت تاریخ کے رخ کو تبدیل کرے گا اور وہی یہ سارا انتظام کرتا ہے. جب عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے والد مصر کے گورنر مقرر ہوئے تو انہوں نے اپنی بیوی کو خط لکھا کہ بیٹے کو لے کر مصر آجاؤ. عمر رحمہ اللہ کی والدہ ام عاصم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں تاکہ ان سے مشورہ کریں. انہوں نے کہا بالکل تمہیں جانا چاہیے وہ تمہارا شوہر ہے لیکن عمر کو یہیں چھوڑ جاؤ یہ تم میں ہم سب سے زیادہ مشابہ ہے. تاکہ مدینہ جو علم کا گھر ہے یہاں رہ کر تمہارے بچے کی بہتر تربیت ہو سکے گی لہذا اسے ہمارے پاس چھوڑ جاؤ. خود ابن عمر رضی اللہ عنہ خود وقت کے محدث اور صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں. بچپن میں جب عمر رحمہ اللہ پڑھ کر آتے تو اپنی والدہ سے کہتے "میں نانا جیسا بنوں گا” والدہ بھی ان سے مذاق کرتی اور حیران ہوتیں. تقدیر انسان کو ہمیشہ اس راستے پر چلاتی رہتی ہے جہاں اس کی منزل ہوتی ہے، آپ اپنے نانا جیسا بننا چاہتے تھے لیکن اللہ رب العالمین نے آپ کو اپنے پڑنانا عمر بن خطاب رحمہ اللہ جیسا بنا دیا یہی وجہ آج آپ کو لوگ عمر ثانی کے نام سے یاد کرتے ہیں.
    جن اساتذہ سے علم حاصل کیا ان میں سے ہر ایک علم کا سمندر ہے، انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ، ابو بکر بن عبد الرحمن بن ابو بکر، آپ کے استاذ خاص صالح بن کیسان اور عبید اللہ بن عتبۃ بن مسعود رحمہ اللہ ہیں. آپ کے والد عبدالعزیز بن مروان بھی اپنے پیارے بیٹے کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ رہتی تھی. صالح بن کیسان رحمہ اللہ سے خط و کتابت اور جب کبھی مدینہ آتے یا راستے سے گزر رہے ہوتے ان سے اپنے بیٹے کی تعلیم کے متعلق سوال و جواب کرتے، جہاں کمی نظر آتی وہاں سختی کا حکم دیتے. آپ کے اساتذہ بھی آپ پر خاص توجہ دیتے سعید بن مسیب رحمہ اللہ خلیفہ وقت کے لئے بھی کھڑے نہ ہوتے لیکن جب اپنے شاگرد کا بلاوا آتا تو ضرور جاتے. اللہ تعالی نے آپ کو یہ شرف بخشا کہ آپ نے بچپن میں ہی قرآن مجید حفظ کیا، اس کے ساتھ ساتھ عربی ادب، شعر و شاعری پر بھی عبور حاصل کیا. احادیث کا بھی علم حاصل کیا اگرچہ آپ نے احادیث صحابہ کرام اور تابعین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے حاصل کی لیکن زیادہ تر فقیہ و مفتی مدینہ عبید اللہ بن عتبۃ بن مسعود رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں. آپ کی تعلیم اور اساتذہ کی تربیت کا خاص نتیجہ تھا کہ لڑکپن میں ہی قرآن پڑھ کر زار و قطار روتے. اپنے اساتذہ کا ادب اور ان جیسے اخلاق اپنانے کی کوشش کرتے اور اپنے ساتھیوں میں انہیں یاد کرتے اور کہتے استاد محترم عبیداللہ کی مجلس میں بیٹھنا 1000 درہم سے بہتر ہے. گورنر مدینہ بننے کے بعد بھی اپنے اساتذہ کی مجلس میں آتے. حتی کہ جب آپ خلیفہ بن گئے اس وقت بھی اپنے اساتذہ کو نہیں بھولے اور جب کبھی کوئی مشکل پیش آتی تو اپنے اساتذہ کو یاد کرتے کہ اگر آج میرے استاد و مربی عبیداللہ رحمہ اللہ زندہ ہوتے تو میں ان کی رائے کو مقدم رکھتا. یہی وجہ ہے کہ ان مختصر ترین دور بھی بنی امیہ کا بہترین اور اسلام کا سنہرا دور کہلاتا ہے.
    ہم اگر چاہتے ہیں کہ ہماری دنیا و آخرت بہتر ہو. اپنے بچوں دین کی تعلیم ضرور دیں اس لیے کہ یہ علم دنیا و آخرت میں رب کی رضا کا باعث ہے.

  • فاصلہ ہوتی ہے فقط اک دُعا…!!!  بقلم:جویریہ بتول

    فاصلہ ہوتی ہے فقط اک دُعا…!!! بقلم:جویریہ بتول

    ہ لفظِ دُعا…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    رب سے ملتی ہے یہ کال…
    دُعا کے لفظوں کے ہیں جو جال…
    دل کے یہ سب احساسات…
    کبھی اشکوں میں بہتے جذبات…
    دل کھول کر کبھی سب بتانا…
    کبھی خاموشی سے کُچھ کہنا…
    وہ جانتا ہے سبھی خیال…
    خوش کریں جو رہیں محال…
    اسے پھر بھی بلانا اچھا ہے لگتا…
    ایسے بندوں کی وہ دیتا ہے مثال…
    اُن کے لفظوں کو بنا کر چراغِ رہ…
    منزلوں کے حصول کی دلاتا ہے چاہ…
    میں تو شہ رگ بھی ہوں قریب…
    میں سنتا ہوں دعائیں اور مجیب…
    کرتا ہوں مقدر جو خیر ہو…
    پسند ہے مجھے دُور شر سے رہو…
    کبھی تو ملتا ہے ہمیں فائدہ فوری…
    کہیں کر دی جاتی ہے شر سے دوری…
    کہیں بنتی التجا ہے ذخیرۂ آخرت…
    جان سکے نہ نہیں یہ بندۂ حضرت…
    دعا تو نام ہے اک پکار کا…
    مجیب سے تعلق کی مہکار کا…
    بندے کا کام ہے کرنا التجا…
    اپنے معبود کو ہی پکارنا سدا…
    اُسے اچھی لگتی ہے یہ ادا…
    وہ دعاؤں کا ضرور دیتا ہے صلہ…
    یہ لفظوں کے جال نہ ٹوٹنے پائیں…
    دعا کے اثرات نہ چھوٹنے پائیں…
    پاس آئے نہ کبھی اپنے مایوسی…
    یہ دُعا ہی درد سے دیتی ہے خُلاصی…
    یہ نسخہ تجویز کردہ مالکِ شفا کا…
    جو باعثِ قرار،دلوں کی صدا کا…
    اس تعلق و ربط میں…
    اشک و ضبط میں…
    کبھی آئے نہ کوئی خلل…
    سفرِ رواں کی کہانی میں…
    لمحات مشکل آئیں یا کہ سہل…!!!!!
    بس جاری رہے یہ لفظِ دُعا…
    کہ یہی تو ہے اندازِ وفا…
    جو بے قراریوں کی ہے دوا…!!!
    کہ کسی مشکل کے حل میں…
    فاصلہ ہوتی ہے فقط اک دُعا…!!!
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • ویویک اوبرائے نے بھی سوشانت سنگھ کی موت کا ذمہ دار بالی وڈ کو قرار دیا

    ویویک اوبرائے نے بھی سوشانت سنگھ کی موت کا ذمہ دار بالی وڈ کو قرار دیا

    بھارتی اداکار ویویک اوبرائے کا کہنا ہے کہ سوشانت کی آخری رسوامات ادا کرتے وقت دیکھے گئے مناظر اور اُن کی بہن اور اُن کے والد کی آنکھوں میں دیکھی گئی دُکھ کی شدت بیان کرنا ناممکن ہے۔

    باغی ٹی وی : اتوار کے روز باندرا میں اپنے گھر میں خودکشی کرنے والے 34 سالہ بھارتی اداکار سوشانت سنگھ کی آخری رسومات میں شریک ویویک اوبرائے نےبتایا کہ وہ سوشانت کے والد کی آنکھوں میں دکھ کی شدت نا قابل بیان تھی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک تفصیلی پیغام شیئر کرتے ہوئے ویویک اوبرائے نے لکھا کہ سوشانت سنگھ کی موت کی خبر بہت دل توڑنے والی تھی-


    ویویک اوبرائے نے لکھا کہ میری شدید خواہش ہے کہ کاش میں سوشانت کو اپنے تجربے سے سکھا پاتا اور اس کی تکلیف دور کرتا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔انہوں نے لکھا میں خود اس درد سے گزر چُکا ہوں یہ بہت مایوس کن اور تنہا محسوس ہوتا ہے-لیک موت اس کا جواب نہیں اور خودکشی ہر مسئلے کا حل نہیں-

    ویویک نے لکھا کاش وہ اپنے ساتھ آج یہ دیکھ پاتا کہ فرینڈز ،والدین ،فیملی اور لاکھوں مداحوں کو اس المناک حادثے نے کتنا دُکھ پہنچایا ہے تو اسے احساس ہوتا کہ سب لوگ اس کی کتنی کئیر کرتے ہیں-

    انہوں نے سوشانت کی آخری رسومات کے حوالے سے لکھا کہ جب ان کے والد آخری رسومات ادا کررہے تھے تو جو غم ان کی آنکھوں میں تھا اور جس طرح سوشانت کی بہن ان کی لاش کی منتیں کر رہی تھی کہ بھائی واپس آ جاؤ، وہ سب ناقابل بیان ہے۔

    اداکار نے بالی وڈ کوسوشانت کی موت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلم انڈسٹری ایک ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں ٹیلنٹ کی پرورش ہو نا کہ اسے کچل دیا جائے۔

    ویویک نے مزید کہا کہ بالی ووڈ خود کو ایک فیملی تو کہتی ہے لیکن اس فیملی کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود بینی کی ضرورت ہے، یہاں انا اور طاقت کا زیادہ زور چلتا ہے، صلاحیتوں کی کوئی اہمیت نہیں لیکن موت ان سب سازشوں کا جواب نہیں ہے۔

    دوسری جانب بھارتی میڈیا چینل ٹائمز آف انڈیا نے بتایا کہ سوشانت سنگھ کی خودکشی کے بعد جہاں ان کے اہل خانہ اور ملک صدمے میں ہے، وہیں ان کے کزن کی بیوی بھی اداکار کے صدمے میں چل بسیں۔

    رپورٹ کے مطابق سوشا نت سنگھ کے کزن کی اہلیہ نے اداکار کی خودکشی کی خبر سننے کےبعد لوگوں سے بات چیت کم کردی تھی اور وہ اس قدر صدمے میں چلی گئی تھیں کہ انہیں کھانے پینے کا بھی احساس نہیں رہا تھا۔

    واضح رہے کہ ویویک اوبرائے سے پہلے اداکارہ کنگنا رناوت اور بھارتی عوام نے بھی سوشانت سنگھ کی موت کا ذمہ دار بالی وڈ انڈسٹری کو قرار دیا تھا یہاں تک کہ بھارتی عوام نے چند شوبز ستاروں کو براہ راست نشانہ بنایاتھا-

    سوشانت سنگھ کی موت کی ذامہ دار بالی وڈ انڈسٹری ہے بھارتی عوام

    اداکارہ کنگنا رناوت نے سوشانت سنگھ کی افسوسناک موت کے حوالے سے فلم انڈسٹری کی جانب سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کو بے نقاب کردیا

  • بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی 50  خواہشات

    بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی 50 خواہشات

    بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت اپنی زندگی میں 50 خواہشات رکھتے تھے جنہیں اداکار نے خود لکھ کر اپنی موت سے قبل سوشل میڈیا پر شئیر کیا تھا۔

    باغی ٹی وی :34 سالہ بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے رواں ہفتے اتوار کے دن تقریباً دوپہر 12 بجے کے قریب بھارتی شہر ممبئی کے علاقہ باندرا میں اپنے گھر میں خودکشی کر کےاپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا ان کی پھندا لگی لاش ممبئی میں ان کے گھر کے ایک بند کمرے سے ملی تھی۔

    ان کی موت پر ان کے مداحوں سمیت شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے افراد غمزدہ ہیں، اور ان کے اہل خانہ کے لیے تعزیتی پیغام بھیج رہے ہیں۔

    ایسے میں سوشل میڈیا پر سوشانت سنگھ راجپوت کی لکھی گئی 50 خواہشات بھی گردش کر رہی ہیں جنہیں اداکار نے خود لکھ کر اپنی موت سے قبل سوشل میڈیا پر شئیر کیا تھا کرتے ہوئے اپنے مداحوں کو بتایا تھا کہ وہ انہیں پورا کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔


    سوشانت سنگھ کی سب سے بڑے خواہش طیارہ اڑانا اور بائیں ہاتھ سے کرکٹ کھیلنا بچوں کی سپیس کے بارے میں سیکھنے میں مدد کرنا اور چیمپئن کے ساتھ ٹینس کھیلنا تھی-


    علم فلکیات حاصل کرنا ،بلیو ہول میں غوطہ لگانا،دہلی کے انجنئیرنگ کالج کے ہاسٹل میں شام گزارنا اور 100 پودے اور درخت لگانا بھی انکی خوہش تھی-


    ناسا کی کوئی ایک ورکشاپ اٹینڈ کرنا ،جنگل میں ایک پفتہ گزارنا اور مختلف کھیلوں میں حصہ لینا بھی اداکار کی خواہشات میں شامل تھا-


    اداکار 10 ڈانس فورم پر ڈانس سیکھانے اور بچوں کو فری تعلیم دلوانے اور تعلیم عام کرنے کا بھی جذبہ رکھتے تھےاور انٹارکٹکاکی سیر کرنے کی بھی خواہش تھی-


    اداکار بچوں کو ڈانس سکھانا چاہتے تھے وہ خود بھی ایک بیک گراؤنڈ ڈانسر تھے اپنے پچاس پسندیدہ گانوں کے دھنوں کا گٹار سیکھنے،چیمپئین کے ساترھ چیس کھیلنے اور اپنی لیمبو گینی خریدنے کی خواہش رکھتے تھے-


    انڈین ڈیفینس فورسز کے لئے طلباء کو تیار کرنے،سوامی ویوکنندا پر ڈاکومینٹری بنانے اورپورے یورپ کا ٹرین سے دورہ کرنیکے بھی خواہش مند تھے-

    اداکارہ کنگنا رناوت نے سوشانت سنگھ کی افسوسناک موت کے حوالے سے فلم انڈسٹری کی جانب سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کو بے نقاب کردیا

    سوشانت سنگھ کی موت کی ذامہ دار بالی وڈ انڈسٹری ہے بھارتی عوام

  • سوشانت سنگھ کی موت کی ذامہ دار بالی وڈ انڈسٹری ہے  بھارتی عوام

    سوشانت سنگھ کی موت کی ذامہ دار بالی وڈ انڈسٹری ہے بھارتی عوام

    34 سالہ بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے اتوار کے دن بارہ بجے کے قریب ممبئی کے علاقہ باندرا میں اپنی رہائش گاہ پر خودکشی کرلی تھی بھارتی عوام سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اداکار کی خود کشی کی ذمہ دار بالی وڈ انڈسٹری کو ٹھہرا رہی ہے-

    باغی ٹی وی : 34 سالہ بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے اتوار کے دن بارہ بجے کے قریب ممبئی کے علاقہ باندرا میں اپنی رہائش گاہ پر خودکشی کرلی تھی پولیس کے مطابق اداکار نے خودکشی ڈپریشن کی وجہ سے کی تھی-

    اداکار کی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق بھی اداکار کی موت دم گھٹنے کی وجہ سے ہی ہوئی تھی اور 15 جون ان کی آخری رسومات ادا کردی گئی تھیں۔

    سوشانت سنگھ راجپوت کی اچانک خودکشی کے بعد جہاں بھارت کے سیاسی، سماجی اور شخصیات صدمے میں ہیں، وہیں عوام میں بھی ان کی خودکشی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں ۔

    تاہم زیادہ تر بھارتی عوام کسی حد تک سوشانت سنگھ کی خودکشی کا ذمہ داربالی انڈسٹری کو بھی ٹھہرا رہی ہے اور چند بالی وڈ شخصیات پر تو براہ راست ان کی خودکشی کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں۔

    آج ٹوئٹر پر بائیکاٹ کرن جوہر گینگ مووی سب سے ٹاپ ٹرینڈ رہا اور اس ٹرینڈ کے تحت بھارتی عوام کی جانب سے فلم ساز کرن جوہر اور اداکارہ عالیہ بھٹ سمیت دیگر شوبز شخصیات کو اقربا پروری اور سوشانت سنگھ راجپوت جیسے اداکاروں کو نظر انداز کرنے کے الزامات لگائے۔
    https://twitter.com/DubeArsh/status/1272810493393031169?s=20
    بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق مذکورہ ٹرینڈ اس وقت ٹوئٹر پر ٹاپ بن گیا جب کرن جوہر اور عالیہ بھٹ نے سوشانت سنگھ راجپوت کی اچانک خودکشی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ٹوئٹس کیں۔
    https://twitter.com/karanjohar/status/1272111382905802753
    کرن جوہر نے اپنی ٹویٹ میں سوشانت سنگھ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ بہت افسوس ناک اور دل کو تکلیف دینے والی بات ہے کہ سوشانت چلے گئے انہوں نے لکھا کہ انہیں اداکار کے ساتھ گزارے گئے لمحات ہمیشہ یاد رہیں گے۔


    عالیہ بھٹ نے بھی اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ وہ سوشانت سنگھ کی موت کا سن کر صدمے میں ہیں انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا ہو رہا ہے اور وہ اس پر کیا لکھیں اداکارہ نے سوشانت کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔

    دونوں کی ٹویٹس پر مداحوں نے انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب سوشانت سنگھ زندہ تھے تو وہ ان کا مختلف تقاریب اور پروگرامات میں مذاق اڑاتے تھے اور اب مگر مچھ کی طرح جھوٹے آنسوں نکال رہے ہیں۔


    https://twitter.com/sakshie6/status/1272442630723403776?s=20
    https://twitter.com/Mr_Inexpugnable/status/1272208183025643522?s=20
    https://twitter.com/Manoj28345898/status/1272249138759991296?s=20
    https://twitter.com/prashant012318/status/1272312424197091330?s=20


    https://twitter.com/Sammyass888/status/1272309976329936896?s=20
    https://twitter.com/thinkingcraftsm/status/1272247480281755648?s=20
    کرن جوہر کی ٹویٹ پر بھی لوگوں نے بھر پور تنقید کا نشانہ بنایا-
    https://twitter.com/Saffron_Kashmir/status/1272399488691236864?s=20
    https://twitter.com/Actionholic2/status/1272249123526201346?s=20
    https://twitter.com/Actionholic2/status/1272421973235167233?s=20
    انڈیا ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے بعد بھارت میں ٹوئٹر پر کرن جوہر از بلی سمیت دیگر ٹرینڈز ٹرینڈ کرنے لگے اور لوگوں نے کرن جوہر، عالیہ بھٹ، سونم کپور اور دیگر شوبز شخصیات اور ان کے اداکار بچوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

    کئی صارفین کا کہنا تھا کہ سونم کپور، عالیہ بھٹ اور سوناکشی سنہا جیسی اداکاراؤں کی نہ تو ذہانت اچھی ہے اور نہ ہی انہیں اداکاری آتی ہے، تاہم انہیں اداکاروں کے بچے ہونے کی وجہ سے انڈسٹری میں اہم مقام حاصل ہے اور سوشانت سنگھ جیسے ٹیلنٹڈ اداکار پریشانی کا شکار بن کر زندگی کا خاتمہ کر دیتےہیں۔


    انڈیا ڈاٹ کام نے اپنی ایک اور رپورٹ میں بتایا کہ ٹویٹر پر لوگ سوشانت سنگھ کی سابق گرل فرینڈ اداکارہ انکتا لوکھنڈے کو ان کی خودکشی کا سبب قرار دے رہے ہیں جس پر اداکارہ سونم کپور نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے بیہودہ الزامات لگانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
    https://www.india.com/entertainment/bollywood-news-netizens-brutally-roast-sonam-kapoor-for-her-tweet-on-sushant-singh-rajputs-death-trend-karanjoharisbully-4059237/
    واضح رہے کہ بھارتی عوام کے علاوہ کنگنا رناوت بھی سوشانت سنگ کی موت کو خود کشی نہں بلکہ مرڈر قرار دیا –

    اداکارہ کنگنا رناوت نے سوشانت سنگھ کی افسوسناک موت کے حوالے سے فلم انڈسٹری کی جانب سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کو بے نقاب کردیا

  • ول اسمتھ تشدد زدہ غلام کی زندگی پر بنائے جانے والے ڈرامے میں جلوہ گر ہوں گے؟

    ول اسمتھ تشدد زدہ غلام کی زندگی پر بنائے جانے والے ڈرامے میں جلوہ گر ہوں گے؟

    ول اسمتھ ایک تاریخی ڈرامے میں تشدد زدہ غلام کے کردار میں نظر آئیں گے ۔

    باغی ٹی وی : آسکر نامزد اداکار ول اسمتھ ایک تشدد زدہ غلام کی تصویر سے متاثر ایک تاریخی ڈرامہ میں اداکاری کے لئے ہدایتکار انٹون فوکا کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ، آزادی کے نام سے بننے والی اس فلم میں اسمتھ کو پیٹر نامی ایک بھگوڑے غلام کے طور پر دکھایا جائے گا ، جس نے 1860 کی دہائی میں شکاریوں اور لوزیانا کے خطرناک دلدلوں سے بچ کر آزادی حاصل کی تھی۔

    یہ کہانی ، ولیم این کولیج کی لکھی گئی ہے ، طبی معائنے کے دوران پیٹر کی کمر سے لی گئی تصاویر پر مبنی ہے ، جس میں اس کے سفاک مالکان کی وجہ سے ہونے والے زخموں سے چونکانے والے نشانات ظاہر ہوئے ہیں۔

    شاٹ سب سے پہلے مئی 1863 میں دی انڈیپنڈنٹ میں شائع ہوا اور غلامی کی لرزہ خیز حقیقتوں کی علامت کی حیثیت سے چلا گیا۔

    ڈیڈ لائن سے بات کرتے ہوئے ، فوکا نے کہا کہ اس تصویر پر دنیا پر پڑنے والے اثرات سے وہ متوجہ ہو گیا: “یہ دنیا کی غلامی کی بربریت کا پہلا وائرل امیج تھا ، جو آپ کو آج اور سوشل میڈیا کے ساتھ تناظر میں رکھتے ہیں۔ اور ایک بار پھر دنیا کیا دیکھ رہی ہے۔ ”

    فوکا نے مزید کہا کہ وہ اسمتھ کے ساتھ تعاون کرنے پر بہت خوش ہیں انہوں نے سمتھ کو سراہتے ہوئے کہا کہ "وہ ایک قابل اور منجھے ہوئے اداکار اور پروڈیوسر ہیں”