Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ٹویٹر صارفین کیلئے زبردست فیچر لے آیا

    ٹویٹر صارفین کیلئے زبردست فیچر لے آیا

    مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر نے ایک نئے فیچر کا تجربہ کیا ہے جس سے صارفین اپنی آواز کو استعمال کرتے ہوئے ٹویٹ کرسکیں گے ، جس میں 140 سیکنڈ تک آڈیو پیغام ریکارڈ ہو سکے گا-

    باغی ٹی وی: مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم نے کہا کہ صارفین ٹویٹ کمپوزر اسکرین پر ایک نیا "ویولینگتھ” آئیکن استعمال کرکے اپنا ٹویٹ صوتی شکل میں شئیر کر سکیں گے-
    https://twitter.com/Twitter/status/1273313100570284040?s=20
    گذشتہ روز ٹویٹر انچارج کا کہنا تھا کہ وہ ایک نئی خصوصیت کی جانچ کر رہے ہیں جس سے صارفین اپنی آواز کو استعمال کرتے ہوئے ٹویٹ کرسکیں گے ، ایک ہی ٹویٹ میں 140 سیکنڈ تک آڈیو حاصل کرسکیں گے۔

    ٹویٹر نے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا ، فیچر ایپل کے آئی او ایس پلیٹ فارم پر محدود تعداد میں صارفین کے لئے دستیاب ہوگا اور آئندہ ہفتوں میں مزید آئی او ایس صارفین کے لئے تیار کیا جائے گا۔

    مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم نے کہا کہ صارفین ٹویٹ کمپوزر اسکرین پر ایک نیا "طول موج” آئیکن استعمال کرکے صوتی(آڈیو) ٹویٹ شئیر کر سکیں گے۔

    ٹویٹر سمیت سوشل میڈیا کمپنیوں پر طویل عرصے سے دباؤ رہا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر بدسلوکی ، ہراساں کرنے اور غلط معلومات جیسے مواد کو روکنے کے لئے پریشر میں ہیں۔

    ٹویٹر کے ترجمان ایلے پاویلا نے کہا ، "ہم سب کو اس تک پہنچانے سے پہلے مانیٹرنگ کے اضافی نظام کو شامل کرنے پر کام کر رہے ہیں۔”

    "ہم کسی بھی اطلاع شدہ آڈیو ٹویٹس کا اپنے قواعد کے مطابق جائزہ لیں گے ، اور ضرورت کے مطابق لیبلنگ سمیت کارروائی کریں گے۔”

    ٹویٹر ، جس میں جوڑ توڑ یا مصنوعی میڈیا پر مشتمل مواد پر لیبل شامل کیا جاتا ہے ، نے بعض قسم کے کورونا وائرس اور انتخابات سے متعلق غلط معلومات پر بھی حقائق کی جانچ پڑتال کرنے والے لیبل شامل کرنا شروع کردیئے ہیں ، بشمول میل ان بیلٹس کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک ٹویٹ میں۔

    پچھلے مہینے ، ٹویٹر نے بھی منیپولیس احتجاج کے بارے میں ٹرمپ کے ایک ٹویٹ میں ایک انتباہ شامل کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس نے تشدد کو بڑھاوا دیا ہے۔

    واٹس ایپ نے ای کرنسی کا فیچر متعارف کروا دیا جس میں صارف خریدی گئی اشیاء کی ادائیگی خود کر سکے گا

  • کبھی ہم مسلمان بھی تھے از قلم ۔۔۔۔ اقصٰی عامر

    کبھی ہم مسلمان بھی تھے از قلم ۔۔۔۔ اقصٰی عامر

    کبھی ہم مسلمان بھی تھے
    از قلم ۔۔۔۔ اقصٰی عامر

    دنیا کو روشن کیا جس نعرہ تکبیر نے۔۔!!
    اس نعرہ پر ایمان رکھنے والے انسان تھے ہم۔۔!!

    کفر و شر بھی لرز جاتے تھے جس کے نام پہ۔۔!!
    اس مذہب سے تعلق رکھنے والے مسلمان تھے ہم۔۔!!

    وہ جو عشق تھا بلال کا محبت کی اذان میں۔۔۔!!
    مذہبی احیا کی خاطر کرتے تھےجان تک قربان ہم۔۔۔!!

    پھر یوں ہوا کہ فرقوں میں پڑ گئے ۔۔۔!!
    ایک ہی رب کو لے کر ٹکڑوں میں بکھر گئے۔۔۔!!

    ذکر رہتا تھا جاری پیاسے ہونٹوں سے بھی۔۔!!
    نیزے پر بیٹھ کر پڑھتے تھے قرآن ہم۔۔!!

    اہل حدیث تھے اہل سنت تھے اہل قرآن تھے ہم۔۔!!
    یہ فرقے نہیں تھے جب تو مسلمان تھے ہم۔۔۔!!

  • فوجی عدالتوں کے مجرم اور پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ  بقلم:منہال زاہد سخی

    فوجی عدالتوں کے مجرم اور پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ بقلم:منہال زاہد سخی

    فوجی عدالتوں کے مجرم اور پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ
    منہال زاہد سخی

    آپکا وقت ضرور لگے مگر بے فائدہ نہیں جائے گا ۔ پڑھیں اور جتنا ہوسکے وائرل کریں ۔

    کل فیسبک پر اک پوسٹ نظروں کے سامنے آئی ۔ پشاور ہائیکورٹ نے فوجی عدالتوں سے 200 سزا یافتہ مجرموں کو رہا کردیا یے ۔ اس اک پوسٹ نے پھر قلم اٹھانے پر مجبور کیا ۔

    کیا پاکستان کا عدالتی نظام مغربی دنیا کا عکس پیش نہیں کررہا ہے ۔ ؟ کیا پاکستان کے عدالتوں سے انصاف صرف برائے نام ہی نہیں ہے ۔ ؟ کیا ثبوتوں کے ہوتے ہوئے طاقتور اور اثر رسوخ رکھنے والے مجرم کو سزا سے بری نہیں کیا جاتا ۔ ؟ کیا بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو تختہ دار پر لٹکانے کے بجائے چھوڑا نہیں جاتا ؟ کیا پھر معصوم لوگوں کا قتل کرنے والے مجرموں کو سزائے موت سے دور نہیں رکھا جاتا ؟ کیا ملک کو لوٹ کر اندر سے کھوکھلا کرکے اور ملک کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑنے والوں پر ہاتھ ڈالنے کے برعکس ان کے ساتھ عزت سے پیش نہیں آیا جاتا ۔ کیا ان عدالتوں سے فوج کو للکارا نہیں جاتا ۔ کیا ان عدالتوں سے محب وطن لوگوں پر انگلی نہیں اٹھائی جاتی ؟

    یہ سوالات ہیں اور آپ ان کا بخوبی جواب دے سکتے ہیں ۔ آپ بھی پاکستانی ہیں کیا آپ کو پتا ہے آپ کا انصاف کو ڈوبانے میں کتنا کردار ہے ؟ اگر کوئی مجھ سے یہ سوال کرے تو میرا جواب ہوگا پاکستانی عوام کا انصاف کو ڈبانے 95 ٪ کرادار ہے ۔ اور کردار اس طرح ہے کہ نہ آپ کو پتا ہے نہ مجھے مگر کردار ادا ہورہا ہے ۔

    آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ کا کردار کیا ہے ۔ جمہوری نظام سے آپ سب واقف ہیں ۔ ووٹ دال کر اپنے حکمرانوں کو چنا جاتا ہے ۔ اور آپ سب بھی تقریباً کسی نہ کسی تنظیم کے ساتھ ضرور کھڑے ہونگے ۔ آپ نے ووٹ ڈالا اور حکمران بنے جس کو جتنی سپورٹ تھی اس کو اتنا بڑا عہدہ مل گیا ۔ ملا کس کی بدولت آپ کی بدولت کیونکہ آپ نے ووٹ دالا تھا ۔ اور آپ نے ہی انھیں حکمران بنایا اب حکمران ہمارے نکلے دو نمبر، چور نکلے تو ہمارے حکمران، قاتل نکلے تو ہمارے حکمران، شرابی ہمارے حکمران، قبضہ مافیا ہمارے حکمران، غدار ہمارے حکمران ۔ جس ملک کے حکمران چور ہوں تو رعایا میں سے کوئی چوری کرتا ہے بڑی بات نہیں ۔ جس ملک کا حکمران قاتل ہو تو اس ملک میں قاتل ہونا کوئی بڑی بات نہیں ۔ جس ملک کا حکمران شرابی ہو تو اس ملک میں شراب خانے ہونا بڑی بات نہیں ۔ آپ کی غلطی آپ نے ایسے لوگوں کو چنا ہے ۔

    جس صوبے میں جس تنظیم کا اثر و رسوخ ہے عدالتیں بھی اس کی ہیں ۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں مراد علی شاہ وزیر اعلیٰ سندھ کی IG سندھ سے تکرار چلتی رہی اور وزیر اعلیٰ نے کیا کچھ نہیں کہا اور IG تبدیل ہوا ۔ کس کے کہنے پر مراد علی شاہ کے کہنے پر ۔ زرداری اور PPP غندہ گردی کرتی ہے قبضہ کرتی ہے کوئی پوچھنے والا نہیں اب آتے ہیں پشاور پر پاکستان میں جتنے دہشت گردانہ حملے ہوئے ان حملوں میں تقریباً ملوث افغانی تھے جو پشاور سے آتے جاتے تھے ۔ اور حالیہ بات ہی 200 سزا یافتہ مجرموں کو پشاور ہائیکورٹ نے بری کردیا ۔ اب آجائیں بلوچستان پر بلوچستان کا سارا بجٹ کہاں جاتا ہے وڈیرے کھاتے ہیں لوٹتے ہیں جیبیں بھرتے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ بلوچستان کو حقوق نہیں ملے اور کیا سب کچھ ریاست نے ہے ۔ اور اندر کا کچھ پتا نہیں اور ریاست پر الزام آگے آجاتے ہیں۔ اب پنجاب پر آتے ہیں لاہور ہائیکورٹ نے کتنی دفعہ ضمانتوں پر رہا کیا PMLN والوں کو کبھی نواز کبھی شہباز کن کن کو بری کیا لاہور ہائیکورٹ نے آپ کو پتا ہے جنہوں فوج سے ٹکر لی بھارت میں بمبئی حملوں کا الزام پاکستان پر لگایا اور کارگل کی جیتی جیتائی جنگ پر پانی پھیر دیا ملک پر قرضے کے انبار لگادئے اور ملکی خزانہ صاف کردیا لاہور ہائیکورٹ نے ان کو بری کیا ثبوت ہوتے ہوئے یہ ۔ جس کی حکومت اس کی عدالتیں ۔

    آئیے آپ کو بتائیں عدالتیں آرمی کو کیسے للکارتی ہیں سزا یافتہ مجرموں کو چھوڑ کر ۔ پاک فوج کے جرنیلوں کو غدار پکار کر اور انھیں سزائے موت کے نوٹیفکیشن جاری کر کے فوج کو للکارتی ہے اور کئی طریقوں سے طنز مار کر اپنا گندا غلیظ باطن ظاہر کرتی ہے ۔

    آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ پاکستان کا عدالتی نظام تاریخ اسلام پر دھبہ کیسے ہے ۔ جسٹس فائز عیسیٰ ایک جج ہے اربوں روپوں کی جائیدادیں بیرون ملک ہے اور جب حساب مانگا جائے تو جواب آتا ہے یہ میرے بیوی بچوں کے نام ہے میں اس کا ذمہ دار نہیں ۔ تو آپ جج بن کر کیسے پورے وطن کے ذمہ دار ہوسکتے ہیں آپ سے آپ کا سرکش گھر تو سنبھالا نہیں گیا اور آپ جج بن کر ملک کے فیصلے کریں گے ۔ عمر (رض) کے دور خلافت میں ایک شخص نے آپ سے مسجد نبوی میں پوچھا کہ آپ نے سوٹ جوڑا کیسے بنالیا جب سب کو ایک ایک چادر ملی ہے تو آپ نے جواب دیا میرے بیٹے اور میری چادد سے یہ جوڑا بنا ہے ۔ امیر المومنین نے جواب دیا خلیفہ وقت نے جواب دیا تو جواب نہیں دے سکتا ۔ امیر المومنین جواب دے سکتے ہیں پر فائز عیسیٰ جواب نہیں دے سکتا ۔ عمر (رض) کے دور خلافت میں سب کو انصاف سے نوازا گیا ہر مجرم پر ہاتھ ڈالا گیا ایک عیسائی گورنر مسلمان ہوا آپ کے دور خلافت میں حج یا عمرے کے دوران کسی کا پاؤ اس کی چادر پر آیا اس حکمران نے زور سے تھپڑ مارا اور زخمی کردیا ۔ بات امیر المومنین تک پہنچی آپ نے کہا انصاف ہوگا حکمران کو تھپڑ مارا جائے گا ۔ کیا نبی ص نہیں فرمایا تھا اگر میری بیٹی بھی چوری کرتی تو میں اس کے ہاتھ کاٹتا ۔ یہ ہے اسلام کے انصاف کا تقاضہ ۔ حضرت عمر بن عبد العزیز کا دور خلافت ہے عید پر بچوں کے نئے سوٹ بنانے کو رقم نہیں ہے اور اس ڈر سے بیت المال سے رقم نہ لی کہ لوٹا پاؤںگا کہ نہیں زندہ رہوں گا کہ نہیں ۔ چند درہم دینار نہیں لئے خلیفہ تھے چاہتے تو لے سکتے تھے نہیں لیا ۔ اور ہمارے حکمرانوں نے ملکی خزانہ خالی کردیا ۔ انصاف دینے والے فائز عیسیٰ خود مجرم ہیں ۔ کلمہ کی بنیاد پر بننے والا ملک کن لوگوں کے ہاتھوں میں آگیا اللہ رحم فرمائے ۔

    برطانیہ میں ایک 9 سال پرانی ویڈیو نکالی گئی جس میں ایک وزیر ٹریفک کا قانون توڑ کر نکلا ہے ۔ 9 سال بعد اس کو 9 سال کیلئے جیل کے نظر کردیا گیا ۔ یہ ہوتا ہے انصاف برطانیہ میں اور کئی ممالک میں عمر لاء کے نام سے کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ۔ اور ان قوانین کو اپنایا جاتا ہے ۔ جب بھارت وجود میں آیا تو گاندھی نے اپنی کابینہ سے کہا کہ میں تمہیں اپنوں میں سے کسی کی مثال نہیں دیتا ۔ میں تمہیں عمر اور ابوبکر (رض) مثال دیتا ہوں ان کی طرح چلنا ۔ اسلام کو ہر جگہ اپنایا جا رہا ہے مگر پاکستان میں نہیں ۔

    پاکستان میں کوئی بھی واقعہ رونما ہوتا ہے تو سب سے پہلے پولیس پہنچتی ہے ۔ ہماری پولیس ہی چائے پانی اور رشوت پر چلتی ہے انصاف دینے والے خود مجرم ہیں ۔ راؤ انوار 400 لوگوں کا قاتل ہے کسی نے ہاتھ نہیں ڈالا ایک پولیس انسپکٹر نے 400 سے زائد قتل کئے کسی نے کچھ پوچھا نہیں ۔ چوروں کو سزا دینے والے ججز خود چور ہیں کچھ نہیں ہوسکتا ۔ بچوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے کوئی کچھ نہیں بولتا جیسے کہ یورپ ہو کسی کو بھی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالو ۔ سانحہ ساہیوال کے مجرموں کو ثبوت ہوتے ہوئے بھی چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ یہ ہے عدالتی نظام ۔

    اگر کسی نے پاکستان کو انصاف فراہم کیا تو وہ پاک فوج نے کیا ۔ MQM کا صفایا پاک فوج نے کیا مافیا کو پکڑا تو پاک فوج نے پکڑا ملک کو فسادات سے بچایا تو پاک فوج نے بچایا ۔ بچوں سے زیادتی کرنے پر پھانسی پر لٹکایا تو ضیاء الحق نے لٹکایا ۔ چوروں اور غداروں کو جیل میں ڈالا اور ملک بدر کیا تو پرویز مشرف نے کیا ۔ ملک میں بغاوت کرنے والے نواب اکبر بگٹی کو سبق سکھایا تو فوج نے سکھایا پرویز مشرف نے سکھایا ۔ ضرب عضب آپریشن کرکے ملک کو بچایا تو راحیل شریف نے بچایا اور کوئی پاکستان کو لے کر چل رہا ہے تو قمر جاوید باجوہ لے کر چل رہا ہے ۔ اور رضوان راکا جیسے ملک غداروں کو پھانسی پر لٹکایا تو پاک فوج نے ۔ بلوچستان کو علیحدہ ہونے سے بچایا تو پاک فوج نے ۔

    ملک میں جب جمہوری نظامِ حکومت کا خاتمہ ہوگا ۔ پھر انشاللہ پاکستان ترقی کی جانب سفر کرے گا ۔ میری نظر میں جو پاکستان اس وقت عزت اور وقار کے ساتھ کھڑا ہے اس کے پیچھے لگنے والے تین مارشل لاء ہیں اور پاک فوج ہے جب انصاف فراہم ہی پاک فوج نے کرنا ہے تو ان عدالتوں کا کیا فائدہ ایسی جگہوں کا کیا فائدہ جہا مظلوم کو انصاف نہ ملے اور ظالم بچ جائے ۔ پھر ہمیں فوج ہی طلب ہے گر فوج طلب ہے تو انصاف طلب ہے ۔ آئیں عہد کریں اور جمہوری نظام حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں ۔

    اب آپ نے پڑھ لی ہے تو شیئر بھی کردیں تاکہ صدقہ جاریہ بن سکے اور پاکستان عدل و انصاف کی جانب چل پڑے ۔ شکریہ 🥰

    #قلم_سخی
    #پاکستان
    #پاک_فوج
    #SAKHI
    #PAKISTAN
    #PakFouj

  • تاریخی قلعہ نندنا کا سفر نامہ  صدائے اسد بقلم: اسد عباس خان

    تاریخی قلعہ نندنا کا سفر نامہ صدائے اسد بقلم: اسد عباس خان

    تاریخی قلعہ نندنا کا سفر نامہ

    صدائے اسد: اسد عباس خان
    صدیوں پرانا تاریخی قلعہ نندنا پنڈ دادنخان سے 30 کلومیٹر دور باغانوالا گاؤں کے پاس پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے۔ ہم نے وہاں تک پہنچنے کے لیے نسبتا لمبا راستہ چنا۔ جو جہلم پنڈ دادنخان روڈ سے براستہ پنن وال اور پھر کوٹلی پیراں سے ہوتا ہوا شمال کی جانب کوہستان نمک کے پہاڑی سلسلے کی جانب جاتا ہے۔ اس لمبے راستے کو چننے کا واحد مقصد کچھ دوستوں اور عزیزوں کو شامل سفر کرنا مقصود تھا۔ یہاں سے ہمارے اس سفر کے گائیڈ و میزبان محترم ندیم خان بھائی ہمارے ساتھ چلنے کو تیار تھے۔ ندیم بھائی نے ہماری ضیافت کا سامان موٹر سائیکل پر لادا اور ہمارے ساتھ ہی عازم سفر ہوئے۔ کوٹلی پیراں سے ہی مزید ایک موٹر سائیکل پر میصم شاہ صاحب بھی ہمارے ساتھ مل گئے یوں تین عدد موٹر سائیکلوں کا قافلہ بن گیا۔ کوٹلی پیراں کی گلیاں بارش کے بعد پانی سے بھری ہوئی تھیں۔ کیچڑ اور ٹوٹے ہوئے راستے پر موٹر سائیکل پھسل جانے کا بھی ڈر تھا۔ لیکن منزل کا دلکش خیال کسی ڈر پر غالب نہ آ سکا۔ اور سفر احتیاط کے ساتھ سنبھل سنبھل کر جاری رہا۔ کوٹلی کے بعد کوٹ عمر نسبتا پرانا گاؤں ہے۔ وہاں بھی ٹوٹی پھوٹی گلیاں پانی سے لبریز تھیں اور وہی کیچڑ اور پھسلن ہمارے استقبال کے لیے منتظر۔ جوں ہی کوٹ عمر قصبے سے نکلے تو سامنے کارپٹ روڈ دیکھ کر حیرت کے ساتھ ہی بے انتہا خوشی ہوئی۔ ضلع جہلم میں پسماندگی کی علامت تحصیل پنڈ دادنخان کے عام سے گاؤں میں ایسی سڑک دیکھ کر اس کی تعمیر میں شریک ہر حصہ دار کے لیے دل سے دعا نکلی۔ موٹر سائیکل جو پہلے ہچکولے کھاتی ہوئی چیخو پکار کر رہی تھی یکایک اس کی بے ڈھنگی آواز میں بھی کمال کا سر آ گیا۔ خوبصورت کھیتوں کے بیچو بیچ کبھی سیدھی اور کبھی بل کھاتی پختہ سڑک سے آس پاس کا نظارہ خوبصورت ترین منظر پیش کر رہا تھا۔ یہ زرعی زمین بے حد زرخیز ہے۔ یہاں گندم، مکئ، آلو، مٹر، اور سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں جو یہاں کے گاؤں باسیوں کی آمدن کا اہم ذریعہ ہیں۔ کوٹ عمر سے تقریبا 3 کلومیٹر کے بعد دو راستے ہو جاتے ہیں ایک جنوب کی طرف ورنالی گاؤں کی طرف جبکہ دوسرا شمال میں باغانوالا کی طرف مڑ جاتا ہے۔ جو ہماری منزل تھا۔ علی الصبح ہونے والی بارش کے بعد موسم خوب سہانا ہو چکا تھا عین سامنے باغانوالا کے سرسبز و شاداب پہاڑ اور ہوا کے دوش پر اڑتی موٹر سائیکلوں پر دلکش نظارہ ناقابل یقین حد تک دل کو موہ لینے والا تھا۔ یوں چند کلومیٹر کا سفر پل بھر میں طے ہو گیا۔ اور ہم باغانوالا گاؤں میں پہنچ گئے۔ قلعے کی طرف جانے کا راستہ گاؤں کے اندر سے ہی گزرتا ہے۔ اس گاؤں کے زیادہ تر گھر پرانے طرز تعمیر پر ہی بنے ہوئے ہیں۔ کچھ مکمل کچی مٹی سے بھی اور کچھ کشمیری و گلگتی طرز پر بڑے بڑے پتھروں کو جوڑ کر بنائے گئے ہیں۔ صدیوں پرانے اور تاریخی گاؤں کی گلیاں انتہائی تنگ ہیں جہاں سے موٹر سائیکل کا گزر بھی بمشکل ہی ہوتا ہے تنگ اور بل کھاتی گلیوں سے ہوتے جب ہم پہاڑ کی جانب نکلے تو سامنے حسین و و دلکش نظارے دیکھ کر بے ساختہ سبحان اللہ کہے بغیر نہ رہ سکے۔ باغانوالا گاؤں سے ہمارے ساتھ ایک اور دوست میاں صاحب بھی اپنے موٹر سائیکل پر ہمراہی بن گئے یوں ہمارے ساتھ موٹر سائیکلوں کی تعداد چار ہو گئی۔ ندیم خان بھائی نے مشورہ دیا کہ موٹر سائیکل یہیں گاؤں میں کسی کے سپرد کر دئیے جائیں اور آگے کا سفر پیدل چل کر طے کیا جائے لیکن میصم شاہ صاحب موٹر سائیکل پر ہی جانے کو بضد تھے۔ جب انہیں قائل کرنے کی تمام کوششیں بے سود رہیں تو یہ جانتے اور دیکھتے ہوئے بھی کہ اب آگے پہاڑی علاقہ شروع ہو رہا ہے۔ جہاں پیدل چلنا بلکہ چڑھنا بھی دشوار ہے۔ ہم سب بھی جوش میں آ کر ایک بڑی غلطی کر بیٹھے جس کا ذکر آگے آۓ گا یوں موٹر سائیکلوں پر ہی آگے کا سفر کرنا طے پایا۔
    اب اس خطرناک ترین راستے پر سفر شروع ہوا تو بے جان موٹر سائیکل بھی معافی مانگنے پر آ گئے لیکن جب ابن آدم ضد پر آ جاۓ تو اسے کون روکے۔ کچھ منٹ کا سفر طے کرنے کے بعد سرپھروں پر یہ راز بھی فاش ہوا کہ پتھریلا ٹریک دشوار اور کٹھن راہ کے ساتھ چڑھائی پر جب موٹر سائیکل چلائیں تو اسے ہموار رکھنا انتہائی مہارت اور دقت طلب مشقت ہے۔
    خیر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے پر ایمان پختہ رکھے اور سانسیں بند کیے ہوئے کہ کہیں سانس لینے سے جو حرکت پیدا ہو تو کہیں دو چکے کی سواری اپنا توازن ہی نہ کھو دے۔ یہ سفر جاری رہا۔
    پانی کا ایک چشمہ اوپر پہاڑوں سے نکل کر باغانوالا کو سیراب کرتا ہے اس کا صاف شفاف بہتا ہوا پانی اس سرسبز وادی میں جنت کا سماں پیش کر رہا تھا۔ یہ چشمہ صدیوں سے مکمل خاموشی کے ساتھ مستقل چلنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہاں البتہ راستے میں کہیں کہیں جب اونچائی سے اس کا پانی نیچے گرتا ہے تو پر سکون ماحول میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے اور وادی کی خاموشی کا سکوت ٹوٹ جاتا ہے۔
    سامنے ایک اونچے پہاڑ کی چوٹی پر قلعہ نندنا کے دو ڈھانچے واضح دیکھے نظر آ رہے تھے۔
    یہ قلعہ ہندو شاہی کے زمانے میں جے پال راجہ نے بنوایا تھا جبکہ نندنا کا شیو مندر جے پال کے بیٹے انند پال کی تعمیر ہے۔ 1114ء میں سلطان محمود غزنوی نے جب اس پر حملہ کرکے فتح کرلیا تو ابو ریحان البیرونی نے اس قلعہ میں قیام کے دوران سائنسی تجربات کے لیے رصد گاہ بنائی اور زمین کا قطر ناپا البیرونی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ”کتاب الہند” کا بیشتر حصہ یہیں بیٹھ کر لکھا۔ یہ وہی البیرونی ہیں جنہیں ہندوستان کے لوگوں نے ” ودیا ساگر” یعنی علم کا سمندر کا لقب دیا۔ البتہ (بعض تاریخ دان ٹلہ جوگیاں بارے بھی یہی دعوی کرتے ہیں یہ بھی ضلع جہلم میں ہی موجود ہے)
    سلطان محمود غزنوی کے بعد نندنا قلعہ تیرہوی صدی میں قمر الدین کرمانی حاکم کے قبضے میں آگیا اس کے بعد جلال الدین خوارزم کے ایک جرنیل نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا پھر چنگیز خان کے ایک افسر ترتی مغل نے یہ قلعہ فتح کر لیا بعد میں اس قلعہ کو التتمش نے فتح کیا۔ مغل بادشاہ بابر نے بھی اس قلعہ کو فتح کیا- اکبر بادشاہ نے یہاں ایک باغ لگایا تھا موجودہ گاؤں باغانوالا اسی باغ کے نام سے ہے جس کے آثار آج بھی موجود ہیں۔ مندر کے سامنے ایک مسجد بھی موجود ہے جو کچھ مورخین کے مطابق سلطان محمود غزنوی جبکہ کچھ کے خیال میں التتمش دور کی ہے۔ اس قلعے کے شاندار ماضی اور اس پر بدلتے حاکموں کو یاد کرتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ انسان جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو اس کی حیثیت اس فانی دنیا میں فقط مہمان سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ پتہ نہیں کیوں یہ زندہ حقیقت ہمارے حکمرانوں کی نظروں سے اوجھل کیوں ہے ؟ شاید انسانی فطرت میں ہی دنیا کا لالچ طاقت کا گھمنڈ اور اختیارات کا نشہ اس چھوٹے سے نقطے پر بھاری ہو۔ خیر انہی خیالات کے سمندر میں ڈوبا ہوا سفر اس وقت تھم گیا جب ایک مقام پر اچانک ندیم خان بھائی نے موٹر سائیکل روک دیا اور تقریبا حکم دیتے ہوئے بتایا کہ اسی جگہ پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ تاکہ کھانا پکانے کا کام نمٹایا جا سکے۔ ویسے موٹر سائیکلوں پر ہونے والی اچھل کود نے شکم میں بل ڈال دئیے تھے۔ سو ان کی بات من وعن تسلیم کرنے میں ہی راحت محسوس ہوئی اس وقت دوپہر ڈھل چکی تھی۔ چونکہ قلعہ نندنا دیکھنے کے اشتیاق میں صبح کا ناشتہ بھی بھول گئے تھے لہذا بھوک اگر جوبن پر نہ سہی لیکن کچھ کم بھی نہ تھی۔ کھانا بنانے کی تیاریاں شروع ہوئیں تو سب اپنی اپنی ذمہ داری میں جُت گئے۔ چونکہ پڑاؤ چشمے کے عین قریب تھا لہذا پانی کی کوئی پریشانی نہ تھی۔ البتہ سرسبز جگہ سے لکڑی تلاشنا مشکل امر تھا۔ چونکہ میزبان ندیم خان بھائی تھے لہذا کھانا بنانے کی اصل ذمہ داری بھی انہیں کے ناتواں کندھوں پر تھی۔ باقی لوگ تو اپنے اپنے ذمہ کے کام نمٹا کر جلدی سے فارغ ہو گئے۔ اور گرمی کی شدت مٹانے کے لیے چشمہ پر موجود قدرتی تالاب میں گود گئے۔ جب چشمے کا ٹھنڈا پانی سردیوں کی یاد دلانے لگا تو باہر آنے میں ہی عافیت سمجھی۔ اس سارے عمل میں دو گھنٹے کا وقت بیت گیا۔ کھانا تیار ہو چکا تھا اور دیسی مرغ کڑاہی کی دل موہ لینے والی خوش کن مہک سے یوں لگتا جیسے پوری وادی کی فضاء بھی معطر ہو گئی ہو۔ کھانے کی مہک اور بھوک سے برا حال اب مزید انتظار ناقابل برداشت تھا۔ جلدی جلدی سب قدرتی دستر خواں یعنی "کھلی زمین” پر براجمان ہو گئے اور کھانا سامنے تیار پڑا تھا۔ بسم اللہ پڑھتے ہی نان کڑاہی کے ساتھ خوب انصاف کیا نان آتے وقت ہی ساتھ لاۓ گئے تھے۔ کھانا کھاتے وقت اس بات کا عقدہ بھی کھلا کہ ندیم خان بھائی کھانا بنانے کے فن سے خوب آشنا اور کسی پیشہ ور طباخ کی طرح بہت اچھے ماہر ہیں۔ ما شاء اللہ ذائقہ ایسا کہ سب انگلیاں چاٹتے رہ گئے۔ جب کھانے سے فارغ ہوئے اس وقت تک عصر نصف گزر چکی تھی۔ اب اگلے سفر کی تیاری شروع ہوئی تو ندیم خان بھائی نے اس بات کا انکشاف کیا کہ اس مقام سے آگے موٹر سائیکلوں پر سفر ناممکن ہے۔ ہمیں پیدل جانا ہو گا۔ اور قلعہ تک پہنچنے کا راستہ پہاڑ کا پورا چکر کاٹ کر طے ہو گا جو پیدل چلنے پر ایک گھنٹے کی مسافت ہے۔ اب ہمیں اس غلطی کا احساس ہوا جو نیچے باغانوالا سے اوپر آتے وقت ہم سے سرزد ہوئی۔ یعنی موٹر سائیکل اب ہم پر وہ بوجھ بن گئے جو ہم اٹھانے سے قاصر تھے۔ اور اس ویرانے میں انہیں سپرد خدا چھوڑنا بھی بےوقوفی کے زمرے میں آتا تھا۔ اب قلعہ نندنا اور ہمارے درمیان موٹر سائیکل ٹانگ کا پھندہ بن گئے اور اس بات پر سب میصم شاہ کو گھورنے لگے۔ جبکہ وہ نظیریں چرائے پراعتماد آواز میں واپسی کا مشورہ بھی دے رہے تھے۔ مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق چارونا چار ہمیں پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ سامان سمیٹا اور پھر بوجھل دل کے ساتھ واپسی کی راہ لی۔ پیچھے پلٹنے کا سفر بھی آسان نہ تھا جبلی پگڈنڈیوں پر سواری کی اترائی کبھی کبھار موت کے منہ میں جانے کے مترادف لگا۔
    اللہ اللہ کرتے جب نسبتاً ہموار جگہ پر پہنچے تو چشمے کے صاف پانی سے شاہ صاحب کو بطور ڈنڈ تمام موٹر سائیکل سروس کرنے پڑے۔ اور باقی افراد ہوا خوری، عکس بندی اور نندنا قلعے کو دور سے ہی حسرت بھری نگاہوں سے دیکھنے میں مشغول ہو گئے۔ باغانوالا پہنچ کر ایک دوسرے کو اس وعدے کے ساتھ الوداع کیا کہ اگر زندگی نے وفا کی تو اگلی بار نندنا کا قلعہ ضرور مسخر کریں گے۔

  • ایک بار طارق عزیز کی یادگار تقریر دل کے کانوں سے سنیں، طارق عزیز کا امت مسلمہ کو بیدار کرنے کیلئے اہم پیغام

    ایک بار طارق عزیز کی یادگار تقریر دل کے کانوں سے سنیں، طارق عزیز کا امت مسلمہ کو بیدار کرنے کیلئے اہم پیغام

    پاکستان کے معروف اداکار کمپئیر میزبان اور سیاستدان طارق عزیز کا آج انتقال ہو گیا ہے جس پر پاکستانی عوام سمیت معروف شخصیات غمزدہ ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنے غم کا اظہار کر ہی ہے-

    باغی ٹی وی : پاکستان کے معروف اداکار کمپئیر میزبان اور سیاستدان طارق عزیز کا آج انتقال ہو گیا ہے جس پر پاکستانی عوام غمزدہ ہے اور سوشل میڈیا پر اپنے غم کا اظہار کر ہی ہے سوشل میڈیا پر طارق عزیز کے ایک یاد گارخطاب کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ پاکستان میں تعلیم کے نظام اور پاکستانی معشیت پر بات کرتے نظر آ رہے ہیں-

    طارق عزیز نےاپنے ایک خطاب میں تعلیم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی تعداد ایک ارب اور پچاس کروڑ کے قریب ہے گویا دنیا کا ہر پانچواں یا چھٹا آدمی مسلمان ہے اور اس کے مقابلے میں یہودی چند کروڑ ہیں دو یا تین کروڑ ہیں ہم ایک ارب پچاس کروڑ اور وہ پانچ کروڑ اور پچھلے 100 سال میں 200 میں سے 180 نوبل پرائز یہودیوں کے پاس ہیں اور آپ کے پاس صرف تین ہیں اب اس کے بعد رونے کو جی نہ چاہے تو پھر آدمی کیا کرے-

    انہوں نے افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ایک ارب پچاس کروڑ وہ تین نوبل پرائز حاصل کرتے ہیں اور دوسری طرف بہت ہی واجبی پانچ کروڑ وہ 180 پرائز حاصل کرتے ہیں معشیت ان کے ہاتھ میں ہے کارل ماس یہودی تھا پینسلین بنانے والا یہودی تھا دنیا کی اکنامکس کو اس وقت یہودی کنٹرول کر رہے ہیں-

    انہوں نے خطاب میں موجود لوگوں کو مخاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک بات ذہن میں رکھئے گا آپ کے بچوں کا دودھ تک یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اس پر قبضہ کر چکی ہیں جس دن چاہیں گے آپ کے بچوں کو بھوکا مار دیں گے اور پاکستان دنیا میں دودھ پیدا کرنے والا پانچواں مُلک ہے لیکن آتا سب کچھ ادھر سے ہی ہے بسکٹ گندم بھی ادھر سے آتے ہیں –

    انہوں نے کہا میرے پاس وقت کم ہے اور زخم زیادہ ہیں انہوں نے بچوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مستقبل ادھر بیٹھا ہے یہ ہاتھ اگر مضبوط ہوئے یہ ذہن اگر پڑھے لکھے اور طاقتور ہوئے تو پاکستان طاقتور بنے گا پاکستان میں بلوچستان کے گوادر سے لے کر چترال کے گاؤں کے بچے تک ایک ہی اگر نظام تعلیم ہو جائے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان 10 ، 20 سال میں اقوام عالم کو پیچھے چھوڑ دے گا لیکن شرط یہ ہے کہ 18 کروڑ میں سے صرف پانچ فیصد کو حاکمانہ غرور نہ دو پچانوے فیصد کو غربت ور جہالت نہ دو ان کو اردو میڈیم کہہ کر نفرت نہ دو تمہاری اپنی زبان ثقافت ادب ہر چیز تمہاری یہ پانچ فیصد کھا رہے ہیں گدھوں کی طرح نوچ رہے ہیں اور پچانوے فیصد کے پاس رات کو کھانے کے لئے نہ روٹی ہے نہ ان کے گھر دیا جلتا ہے-

    طارق عزیز نے کہا کہ پاکستان زرعی ملک ہے لیکن گندم باہر سے آتگی ہے زرعی ملک ہے چاول اور دودھ باہر سے آتا ہے اور زرعی ملک ہے لیکن کسان کے چہرے پر خوشی نہیں ہے آنکھوں میں روشنی نہیں ہے اس کا بچہ سکول نہیں جا سکتا-

    ماضی کے معرف کمپئیر طارق عزیز انتقال کر گئے

    ہمارے بچپن کو یادگار بنانے والے رخصت ہو گئےطارق عزیز کی وفات پر شوبز فنکار اور معروف شخصیات غمزدہ

  • ہمارے بچپن کو یادگار بنانے والے رخصت ہو گئےطارق عزیز کی وفات پر شوبز فنکار اور معروف شخصیات غمزدہ

    ہمارے بچپن کو یادگار بنانے والے رخصت ہو گئےطارق عزیز کی وفات پر شوبز فنکار اور معروف شخصیات غمزدہ

    پاکستان شوبز اںڈسٹری کے ماضی کے معروف اداکار کمپئیر اور ہر دلعزیز طارق عزیز شو کے میزبان طارق عزیز اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں ان کی وفات پر شوبز فنکار، کرکٹر اور معروف شخصیات اپنے غم کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت اور پی ٹی وی کیلئے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کررہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : مسحور کن شخصیت کے مالک اور ناظرین و حاضرین کو اپنی گفتگو کے سحر میں جکڑ لینے والی ہر دلعزیز شخصیت کی وفات سے ایک خلا پیدا ہو گیا ہے جسے پُر کرنا ناممکن ہو گا-ان کی وفات پر جہاں ان کے مداح غمگین ہیں وہیں شوبز شخصیات سمیت پاکستانی کرکٹر اور معروف شخصیات بھی غمزدہ ہیں اور اپنے غم کا اظہات اپنے سوشل میڈیا پیغامات کے ذریعے کر رہی ہیں –


    علی ظفر نے اٹویٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ اللہ آپ کی روح کو سکون دے آپ نے ہمیں یادوں سے بھرا بچپن تحائف اور بہت کچھ دیا-گلوکار نے لکھا کہ ہماری قوم اپنے ہیروز کو بہت جلد بھول جاتی ہے لیکن طارق عزیز کی شخصیت کبھی نہیں بھلائی جائے گی۔آپ کے ساتھ ہی ایک عہد بھی اختتام پزیر ہوا ہے-


    معروف میزبان و اداکار واسع چوہدری نے ابھی طارق عزیز کو خراج عقیدت پیش کیا۔


    اداکارہ ماورہ حسین نے اپنے پیغام میں لکھا کہ’میرے بچپن کو یادگار بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والے طارق عزیز آج دنیا سے رخصت ہوگئے، اللہ آپ کو دائمی سکون عطا کرے۔ ہمیں اپنے گیم شوز اور اس سب کے لئے جس سے اپ نے ہمیں لطف اندوز کیا آپ کا شکریہ انہوں نے طارق عزیز کا معروف ڈائیلاگ ’دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام‘ بھی تحریر کیا-


    اداکارہ صبا قمر نے لکھا کہ ایک اور دن ایک اور بڑا نقصان انہون نے لکھا کہ وہ طارق عزیز کی وفات کی خبر سننے کے بعد شدید دل شکستہ ہیں۔


    اداکار بلال اشرف نے طارق عزیز کی موت کو ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے لکھا کہ طارق عزیز کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔


    علی رحمن خان نے لکھا کہ میری زندگی کی نہایت معزز اور دل چسپ شخصیات میں سے ایک طارق عزیز اب ہم میں نہیں ہیں اللہ ان کی روح کو سکون دیں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے-


    اداکارہ منشا پاشا نے بھی طارق عزیز کو خراج عقیدت پیش کیا-


    اداکارہ ماہرہ خان نے طارق عزیز کی وفات پر گہرے دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طارق عزیز کی پاکستان کیلئے کی گئی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ لیجنڈ طارق عزیز نے طویل عرصے تک پاکستان کی خدمت کی جس کے ہم سب مقروض ہیں۔ طارق عزیز کی وفات کے ساتھ ہی فن کی دنیا کا ایک عہد اختتام پذیر ہوا ہے۔
    https://twitter.com/AftabIqbaI/status/1273178836667154433?s=19
    آفتاب اقبال نے لکھا کہ پاکستان نے آج ایک ہیرا کھودیا ہے افسوس اس ملک میں ہیروں کی قدر تب ہوتی ہے جب وہ اس دنیا فانی سے کوچ کر جاتے ہیں پاکستان ٹیلی ویژن پر سب سے پہلی سنے جانے والی آوز طارق عزیز کی تھی وہ اکیلا شخص ہی پوری ٹیلی ویژن انڈسٹری تھا اللہ انکو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین-


    اداکار فیروزخان نے بھی افسوس کا اظہار کیا-


    ڈاکٹر شائستہ لودھی نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے طارق عزیز کا مشہور ڈائیلاگ لکھا وہ تالیوں کی گونج میں دوڑتا ہوا آتا شروع اللہ کے نام سے کرتا، سُنتے کانوں اور دیکھتی آنکھوں کو سلام کرتا، عوام میں خوشیاں اور معلومات بانٹتا، پاکستان پائندہ باد کا نعرہ لگا کر آئندہ ملاقات کا وعدہ کرکے چلا جاتا۔۔
    https://twitter.com/ushnashah/status/1273178220725141504?s=19
    اداکارہ اشنا شاہ نے طارق عزیز کے دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لئے دائمئ سکون کی دعا کی-


    گلوکار ابرارالحق نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ الوداع طارق عزیز صاحب-


    اداکارہ وینا ملک نے اپنے تعزیتی پیغام میں طارق عزیز کو ان کی خدمات کے صلے میں سرکاری اعزاز کے ساتھ دفنانے کا مطالبہ کیا اور لکھا کہ افسوس جب وہ زندہ تھے تب ہم نے انکی قدر نا کی۔ انکی خدمات کے بدلے انہیں قومی سبز ہلالی پرچم میں سپرد خاک کیا جانا چاہیئے وہ اپنے پروگرام کے آخر میں جس جوش اور محبت سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگواتے تھے وہ کبھی نہیں بھولےگا-اللہ انکو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔آمین


    رابی پیرزادہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ طارق عزیز مجھے ہمیشہ کہتے تھے کہ شوبز تمہارے لئے نہیں اور شاید وہ صحیح کہتے تھے-


    جرنلسٹ جویریہ صدیقی نے لکھا کہ میزبانی کا عہد ختم ہوا –


    صنم جنگ نے لکھا کہ طارق عزیز کے انتقال کے بارے میں سن کر انتہائی افسوس ہوا –


    کرکٹر حسن علی نے اپنے تعزیتی پیغام میں لکھا کہ ہم آپ کی جادوئی آواز کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اللہ آپ کے درجات بلند کرے اور جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے-


    جرنلسٹ احتشام الحق نے اپنے پیغام میں لکھا کہ طارق عزیز صاحب انتقال فرماگئے ھیں۔اللہ ان کے درجات بلند فرمائے ۔آمین


    سابق کرکٹر شعیب اختر نے لکھا کہ آج صبح لیجنڈری اینکر طارق عزیز صاحب کی افسوس ناک خبر سنی۔ اللہ ان کا آگے کا سفر آسان بنائے۔ وہ پاکستان ٹیلی وژن کا پہلا چہرہ تھے۔


    اداکار عمران عباس نے ایک طویل تعزیتی نوٹ شئیر کیا اور لکھا کہ دیکھتیآنکھوں سنتے کانوں آج جیسے پاکستان ٹیلی ویژن کے سر سے کسی بزرگ کا سایہ اٹھ گیا ہے-انہوں نے لکھا طارق عزیز صاحب آپ جیسا کوئی اب کوئی نہیں آئے گا انہوں نے ایک شعر بھی لکھا کہ :ہم وہ سیاہ بخت ہیں طارق کے شہر میں ، کھولیں دوکان کفن کی تو سب مرنا چھوڑ دیں-


    عدنان صدیقی نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ طارق عزیز صاحب کا نام آتے ہی ہیں میرے ذہن میں نیلام گھر آجاتا ہے اور وہ آواز گونجنے لگتی ہے جو طارق عزیز صاحب اپنے پروگرام کے ابتدا میں کہتے تھے۔ ”دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام”۔ اب نہ وہ دیکھتی آنکھیں رہیں اور نہ ہی وہ سنتے کان رہے۔ طارق عزیز صاحب رخصت ہوگئے-


    ہمایوں سعید نے تعزیتی پیغام میں لکھا کہ طارق عزیز صاحب ایک سچے لیجنڈ اور قوم کی شبیہہ تھے۔ انکی روح کو سکون ملے آمین-

    یاد رہے کہ آج صبح ماضی کے معروف اور لیجنڈری اداکار و میزبان کمپئیر اور سیاستدان طارق عزیز کا انتقال ہو گیا تھا ان کا نماز جنازہ گارڈن ٹاؤن میں بعد نماز عصر ادا کیا جائے گا-

    طارق عزیز شو بز اور ادب کی دنیا کا لیجنڈ بقلم:محمد نعیم شہزاد

    "یوں لگتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہو” چند گھنٹے قبل ٹویٹ کرنے والے طارق عزیز کیلئے وقت تھم گیا از طہ منیب

    ماضی کے معرف کمپئیر طارق عزیز انتقال کر گئے

  • نادیہ جمیل علاج کے لئے پھر ہسپتال میں داخل

    نادیہ جمیل علاج کے لئے پھر ہسپتال میں داخل

    بریسٹ کینسر جیسے خطرناک مرض میں مبتلا پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ و سماجی کارکن نادیہ جمیل اپنے علاج کے لیے ایک بار پھر ہسپتال میں داخل ہوگئی ہیں۔

    باغی ٹی وی : انسٹاگرام پر نادیہ جمیل نے اپنی ایک تصویر پوسٹ کی جس میں اداکارہ ہسپتال کے کمرے میں موجود ہیں اور اُن کے ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی ہے۔

    تصویر پوسٹ کرتے ہوئے نادیہ جمیل نے لکھا کہ دس گھنٹے بعد مجھے ہسپتال کے ایک کمرے میں داخل کیا گیا ہے جہاں میرے لیے بیڈ کے ساتھ تکیہ اور کمبل موجود ہے اورمیں اس کے لیے اللہ تعالی کی شُکر گزار ہوں۔
    https://www.instagram.com/p/CBeGembh8i2/?igshid=1h5ukdkgxtcp9
    نادیہ جمیل نے لکھا کہ مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہو رہا ہے بس اتنا جانتی ہوں کہ ڈاکٹرز کو میرے اندر انفیکشن کا شبہ ہوا ہےاور وہ نہیں سمجھتے کہ یہ انفیکشن کوویڈ 19 ہے

    انہوں نے لکھا کہ میرے دل کی دھڑکن تیز ہوتی جارہی ہے میں نے ابھی تک کچھ نہیں کھایا ہے، مجھے متلی محسوس ہورہی ہے اور ٹانگوں میں بھی تکلیف ہے لیکن میں پھر بھی اپنے رب کا شکر ادا کرتی ہوں کہ میں اپنے کمرے کی کھڑکی سے اُس کا تخلیق کیا گیا خوبصورت آسمان دیکھ سکتی ہوں۔

    نادیہ نے لکھا کہ مجھے اُمید ہے کہ بہت جلد مجھے گرم کھانا اور پانی دیا جائے گا-

    انہوں نے لکھا کہ کچھ گھنٹوں بعد مجھے گرم کھانا اور پانی دیا جائے گا تب تک میں اس نرم بستر کے لیے اللہ تعالی کا شکر ادا کرتی ہوں۔

    نادیہ جمیل نے لکھا کہ کوویڈ 19 نے واقعی اسپتالوں کو مغلوب کر دیا ہے۔

    اداکاری و سماجی کارکن نے مزید لکھا کہ مجھے اپنی جیب سے کچھ جیلی بینز ملی ہیں اور اب میں ان کو کھاتے ہوئے لطف اندوز ہوں گی۔

  • واسع چوہدری کورونا وائرس سے صحتیاب ہو گئے

    واسع چوہدری کورونا وائرس سے صحتیاب ہو گئے

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار و میزبان واسع چوہدری کورونا سے صحتیاب ہو گئے ہیں-

    باغی ٹی وی :پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار و میزبان واسع چوہدری کورونا سے صحتیاب ہو گئے ہیں- سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر واسع چوہدری نے مداحوں اور دوستوں کو اپنی صحت سے آگاہ کرتے ہوئےلکھا کہ الحمداللہ میرا کورونا ٹیسٹ منفی آیا ہے۔


    اداکار و میزبان نے مداحوں کے دُعائیہ پیغامات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ میں میرے لئے کی گئیں آپ سب کی دُعاؤں، پیغامات اور نیک خواہشات کے لئے بہت زیادہ مشکُور ہوں۔

    اداکار کی طرف سے یہ ٹویٹ سامنے آنے کے بعد جہاں ان کے مداحوں نے خوشی کا اظہار کیا وہاں معروف شخصیات نے بھی مبارکباد دی-


    معروف اینکر اجمل جامی نے لکھا کہ آکر کار آپ ٹھیک ہو گئے ماشاءاللہ سُن کر بہت خوشی ہوئی اپنے اردگرد لوگوں کا خاص خیال رکھیں-


    ترجمان پی آئی اے دانیال گیلانی نے بھی خوشی کا اظہار کیا-

    واضح رہے کہ رواں ماہ 8 جون کو واسع چوہدری نے اپنے ایک ٹویٹ میں بتایا تھا کہ اُن کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد انہوں نے خود کو قرنطینہ کرلیا تھا۔

    واسع چوہدری نے بتایا تھا کہ انہیں کورونا کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں، اہلخانہ کا بھی کورونا ٹیسٹ کروایا تھا سب کے نتائج منفی آئے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل ندا یاسر ، یاسر نواز، روبینہ اشرف ، نوید رضا ، شفاعت علی ،پاکستانی کرکٹر شاہد آفریدی ، ابراالحق اور رحیم شاہ بھی کوویڈ 19 کا شکار ہیں انہوں نے کورونا پوزیٹیو آنے پر خود کو گھروں میں قرنطینہ کر لیا ہے-

    اداکار واسع چوہدری بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے

    ندا یاسر ،اپنے شوہر کے ہمرا کرونا کا شکار

    اداکار نوید رضا کا کورونا وائرس کی تصدیق کرتے ہوئے خصوصی پیغام جاری

    معروف ٹی وی میزبان شفاعت علی بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے

    روبینہ اشرف کی صحت سے متعلق زیر گردش خبریں بے بنیاد ہیں ڈاکٹر عامر لیاقت

    ابرارالحق کے بعد ایک اور گلوکار کورونا وائرس کا شکار ہو گئے

  • طارق عزیز شو بز اور ادب کی دنیا کا لیجنڈ   بقلم:محمد نعیم شہزاد

    طارق عزیز شو بز اور ادب کی دنیا کا لیجنڈ بقلم:محمد نعیم شہزاد

    طارق عزیز شو بز اور ادب کی دنیا کا لیجنڈ
    محمد نعیم شہزاد

    "ابتدا ہے رب جلیل کے نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔ دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے”
    زمانہ طالب علمی میں پاکستان ٹیلی ویژن سے نشر کیے جانے والے سوال و جواب کے انعامی شو نیلام گھر کے میزبان طارق عزیز کے یہ الفاظ آج بھی کانوں میں گونجتے ہیں۔ طارق عزیز 28 اپریل 1936ء کو جالندھر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ جالندھر کی آرائیں گھرانے سے ان کا تعلق ہے۔ ان کے والد میاں عبد العزیز پاکستانی 1947 میں پاکستان ہجرت کر آئے۔ ان کی پاکستان سے والہانہ محبت اور لگاؤ کا یہ عالم تھا کہ وہ پاکستان بننے سے پہلے سے ہی اپنے نام کے ساتھ پاکستانی لکھتے تھے۔آپ نے اپنا بچپن ساہیوال 142/9L میں گزارا۔ طارق عزیز نے ابتدائی تعلیم ساہیوال سے ہی میں حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور سے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ اپنی مایہ ناز صداکاری کے لیے بہت عروج پایا اور یہی وجہ تھی کہ جب 1964ء میں پاکستان ٹیلی وژن کا قیام عمل میں آیا تو طارق عزیز ہی پی ٹی وی کے سب سے پہلے مرد اناؤنسر تھے۔ تاہم 1975 میں شروع کیے جانے والے ان کے سٹیج شو نیلام گھر نے ان کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ یہ پروگرام کئی سال تک جاری رہا اور اسے بعد میں بزمِ طارق عزیز شو کا نام دے دیا گیا۔

    طارق عزیز ہمہ جہت شخصیت کے حامل اور صاحب کمال تھے۔ انہوں نے ریڈیو اور ٹی وی کے پروگراموں کے علاوہ فلموں میں بھی اداکاری کی۔ ان کی سب سے پہلی فلم انسانیت (1967 ) تھی اور ان کی دیگر مشہور فلموں میں سالگرہ، قسم اس وقت کی، کٹاری، چراغ کہاں روشنی کہاں، ہار گیا انسان قابل ذکر ہیں۔

    انہیں ان کی فنی خدمات پر بہت سے ایوارڈ مل چکے ہیں اور حکومتِ پاکستان کی طرف سے 1992ء میں حسن کارکردگی کے صدارتی تمغے سے بھی نوازا گیا۔ طارق عزیز نے سیاست میں بھی حصہ لیا 1970 کے دور میں ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست میں ان کافعال کردار تھا۔ بعدازاں وہ اپنی پی ٹی وی اور فلم کی مصروفیات کے باعث سیاست کو وقت نہ دے سکے۔ بھٹو کے وارثان و قائمقامان کی سیاست سے دل برداشتہ ہو گئے اور پی پی پی سے اپنی وابستگی ختم کر دی۔ بعدازاں میاں نواز شریف کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہو گئے اور 1997ء میں لاہور سے ایم این اے منتخب ہوئے۔ طارق عزیز علم و ادب اور کتاب سے محبت کرنے والے انسان ہیں۔ وسیع مطالعہ والے اور صاحب قرطاس ہیں
    ان کے کالموں کا ایک مجموعہ ’’داستان‘‘ کے نام سے اورپنجابی شاعری کا مجموعہ کلام ’’ہمزاد دا دکھ‘‘ شائع ہو چکا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اردو بلکہ اپنی مادری زبان پنجابی میں بھی شاعری کی ہے۔

    نمونہ کلام: پنجابی غزل

    گناہ کیہ اے، ثواب کیہ اے ایہہ فیصلے دا عذاب کیہ اے
    میں سوچناں واں چونہوں دِناں لئی ایہہ خواہشاں دا حباب کیہ اے
    جے حرف اوکھے میں پڑھ نئیں سکدا تے فیر جگ دی کتاب کیہ اے
    ایہہ سارے دھوکے یقین دے نے نئیں تے شاخ گلاب کیہ اے
    ایہہ ساری بستی عذاب وچ اے
    تے حکم عالی جناب کیہ اے

    نمونہ کلام از اردو شاعری: آزاد نظم سے اقتباس

    دوست یہ تو کی ہے تو نے بچوں کی سی بات
    جو کوئی چاہے پا سکتا ہے خوشبووں کے بھید
    اس میں دل پر گہرے درد کا بھالا کھانا پڑتا ہے
    ہنستے بستے گھر کو چھوڑ کے بن میں جانا پڑتا ہے
    تنہائی میں عفریتوں سے خود کو بچانا پڑتا ہے
    خوشبوگھر کے دروازوں پر کالے راس رچاتے ہیں
    جو بھی واں سے گزرے اس کو اپنے پاس بلاتے ہیں
    زہر بھری پھنکار سے اس کے جی کو خوب ڈراتے ہیں
    جو کوئی چاہے پا سکتا ہے خوشبووں کے بھید

    طارق عزیز مسحور کن شخصیت کے مالک تھے اور ناظرین و حاضرین کو اپنی گفتگو کے سحر میں لینے کا ملکہ رکھتے تھے۔ پی ٹی وی کراچی کے سابق جی ایم قاسم جلالی نے طارق عزیز کی بحیثیت پروگرام کمپئیر فنی صلاحیتوں کا ان الفاظ میں اعتراف کیا ہے۔

    "ان دنوں جبکہ پروگرام ریکارڈ کرنے کی بجائے براہ راست چلائے جاتے تھے،طارق عزیز کو سخت محنت کرنا پڑتی تھی۔پروگرام شروع کرنے کے بعد کسی اداکار یا کردار نے آنا ہوتا تھا اور اسے آنے میں تاخیر ہوجاتی تو طارق عزیز دیکھنے والوں کو اپنی ایسی باتوں میں لگا لیتے کہ تاخیر محسوس ہی نہیں ہوتی تھی ، یوں تاخیر کا عرصہ کمال خوبی سے ازخود نکل جاتا تھا۔”

    علم و ادب اور فن اداکاری و صداکاری کی عہد ساز شخصیت 84 برس کی عمر میں چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملی اور اس دار فانی کو خیر باد کہہ دیا۔

  • پی ٹی وی نے عوام سے اربوں روپے کا ٹیکس وصول کیا لیکن وہ کوئی ایسا شاہکار نہ بنا سکا جس پر ہمیں فخر ہو شان شاہد

    پی ٹی وی نے عوام سے اربوں روپے کا ٹیکس وصول کیا لیکن وہ کوئی ایسا شاہکار نہ بنا سکا جس پر ہمیں فخر ہو شان شاہد

    پاکستان کے معروف اداکار شان شاہد کا کہنا ہے کہ وہ تُرک سیریز کے پاکستان میں نشر کرنے کے مخالف نہیں بلکہ پی ٹی وی پر نشر کرنے کے مخالف ہیں۔

    باغی ٹی وی : مسلمانوں کی تیرھویں صدی کی اسلامی فتوحات پر مبنی تُرک سیریز ’دیرلیش ارطغرل‘ کو وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر اردو میں ڈب کر کے سرکاری ٹی وی چینل پر یکم رمضان سے ’ارطغرل غازی‘ نشر کی جارہی ہے- اور اسے نہ صرف مقبولیت حاصل ہو ئی بلکہ یہ پاکستانیوں کا پسندیدہ ڈرامہ بن گیا ہے اس ڈرامے کو پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر کرنے کی مخالفت سب سے پہلے اداکار شان شاہد نے کی تھی-انہوں نے کہا تھا کہ ہماری تاریخ اور ہمارے ہیروز کو تلاش کرنے کی کوشش کریں –

    اداکار شان کے اس بیان کے بعد سے ایک تنازع کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی اور سوشل میڈیا صارفین ارطغرل کے مداحوں سمیت مشہور شخصیات نے بھی اداکار کے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے اداکار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا-

    جس کےبعد پاکستانی اداکار نے 14 جون کو کی گئی اپنی ایک ٹویٹ میں ’ارطغرل غازی ‘ کو ایک شاہکار سیریز قرار دیتے ہوئے لکھا کہ وہ ’ارطغرل غازی‘ دیکھ کر ابھی فارغ ہوئے ہیں، بلاشبہ یہ ایک کلاسک شاہکار ہے۔

    اداکار نے اپنی ٹویٹ میں ڈرامے کے پروڈیوسرز کا اتنا اچھا ڈرامہ بنانے پر خصوصی طور پر شکریہ اد اکرنے کے ساتھ ساتھ کاسٹ اور تکنیکی ماہرین کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس سیریز کو شاہکار بنانے کے لئے انتھک محنت کی-انہوں نے اپنی ٹویٹ میں بتایا تھا کہ یہ ڈرامہ انہوں نے نیٹ فلکس پر دیکھا ہے-

    شان شاہد کی جانب سے ترک ڈرامے کو کلاسک قرار دینے پر کئی لوگ حیران رہ گئے تھے، کیوں کہ سب سے پہلے انہوں نے ہی اس ڈرامے کو سرکاری ٹی وی پر نشر کرنیکی مخالفت کی تھی۔

    تاہم شان شاہد کی جانب سے ڈرامے کی تعریف کیے جانے پر لوگوں نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ پہلے انہوں نے دیکھے بغیر ہی ڈرامے کی مخالفت کی اور اب تعریفیں کر رہے ہیں۔

    شان شاہد نے خود پر ہونے والی تنقید کے بعد ٹویٹر پر وضاحتی نوٹ شئیر کیا اور بتایا کہ وہ اب بھی ڈرامے کو سرکاری ٹی وی پر نشر کرنے کے مخالف ہیں۔


    شان شاہد نے لکھا کہ ان کی جانب سے ڈرامے کی تعریف کو غلط سمجھا گیا اور انہوں نے جو پہلے ڈرامے پر ٹویٹ کی تھیں وہ ڈرامے کے خلاف نہیں بلکہ اسے سرکاری ٹی وی پر نشر کرنے کی مخالفت میں تھیں۔

    اداکار نے لکھا کہ سرکاری ٹی وی نے گزشتہ 25 سال سے عوام سے اربوں روپے کا ٹیکس وصول کیا مگر کوئی بھی ایسا شاہکار نہیں پیش کرسکی جس پر ہمیں فخر ہو۔ لیکن وہ اس ڈرامے یعنی ارطغرل غازی کے مخالف کبھی بھی نہیں تھے-

    انہوں نے لکھا کہ پچھلے چند ہفتوں سے وہ سوشل میڈیا پر دیکھ رہے ہیں کہ ہم سب نفرت، بغیر کسی وجہ تنقید اور دوسروں پر ملامت کرنے کی بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں اور بغیر کسی وجہ سے دوسروں پر ملامت کرنے کے لئے تیا ر رہتے ہیں-

    شان نے لکھا کہ پی ٹی وی پر اپنے ملک کے نظریے اور ہیروز کے فروغ سمیت دیگر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جو وہ اب تک پوری کرنے میں بُری طرح ناکام ہے۔

    اداکار نے لکھا کہ ماضی میں نجی چینلز غیر ملکی مواد نشر کرتے آئے ہیں لیکن انہوں نے کبھی اس کی مخالفت نہیں کی نہ کریں گے، مسئلہ صرف سرکاری چینل پر دوسرے ملک کی پروڈکشن نشر کرنے سے ہے۔

    شان شاہد نے ارطغرل غازی کو کلاسک شاہکار قرار دیا