سازشوں سے سرجیکل سڑاٸیک تک
✍️#شعیب بھٹی کےقلم سے
====================
یہ سن 1971 کی بات ہے انڈین نے مشرقی پاکستان(بنگلہ دیش) میں ہندٶوں اساتذہ اور غداروں کے ذریعے مغربی پاکستان میں بغاوت کھڑی کردی تھی۔ مشرقی پاکستان(بنگلہ دیش) کے سانحہ کے بعد وہاں سے پاکستانی رہاٸشیوں کو نکالنے کا سلسلہ شروع ہوا تو انڈیا نے پاکستان کو فضاٸی راستہ دینے سے انکار کردیا پاکستان نے سری لنکا کے راستے مشرقی پاکستان(بنگلہ دیش) تک رساٸی حاصل کی جس سے فوجی آپریشن میں مشکل ہوٸی۔ پاکستانیوں کو وہاں سے نکالنے کے لیے پاکستان نے نیپال اور نیپال سے بذریعہ اٸیر لاٸن دبٸی اور دبٸی سے پاکستان کا لمبا روٹ اختیار کرنا پڑا۔ ان اجڑے لوگوں اور دیس بدر ہوۓ۔ لوگوں کے روپ میں انڈیا نے اپنے ایجنٹس کو پاکستان میں داخل کرنے کی کوشش شروع کردی۔ پاکستان کے ایک ایجنٹس سلیم شاہ نے وہاں درجنوں ایجنٹس کو جہنم کا راستہ دیکھایا اور پاکستان پہنچنے والے ایجنٹس کے متعلق متعلقہ اداروں کو بروقت آگاہ کیا۔ یہ پاکستان پر نہایت سخت قسم کا وقت تھا۔ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) سازشوں کا شکار ہوکر کٹ چکا تھا پاکستان اپنے بازو سے محروم ہوا اور ساتھ ہی ہزاروں فوجی انڈین قید میں چلے گٸے۔ روس اس وقت انڈیا کا اتحادی تھا۔ پاکستان کے اتحادی امریکی نے ہمیشہ کی طرح بے وفاٸی کی تھی۔ روس اس وقت اقتصادی سپر پاور تھا۔ اسی گھمنڈ میں روس نے گرم پانیوں تک رساٸی حاصل کرنے کے لیے افغانستان پہ حملہ کردیا پاکستانی اداروں نے اس کے خلاف بروقت حکمت عملی تشکیل دی اور اس جنگ کو افغانستان میں لڑنے کا فیصلہ کیا۔
پاکستان سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے افغان جہاد میں شرکت کی۔ جذبہ ایمانی کے تحت لڑی گٸی اس دفاعی جنگ میں روس کو شکست ہوٸی اور اسے مشرق وسطی کے بہت سارے مسلم ممالک کو آزاد کرنا پڑا۔ اس وقت افغانیوں اور پاکستانیوں نے اپنے دفاع کی جنگ لڑی تھی۔ اللہ نے ان مجاہدین کی نصرت فرماٸی اور روس کے جنرل کلاشنکوف کی بناٸی گن SMG ان سے چھین کر انہی پہ استعمال کی گٸی۔ اس وقت انڈیا نے پاکستان پہ رعب جمانے کے لیے ایٹمی دھماکے کیے جس کے جواب میں اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان نے اپنا ایٹمی پروگرام مکمل کیا اور انڈیا کو منہ توڑ جواب دیا۔ انڈیا کو پاکستان کی ترقی کھبی بھی ہضم نہیں ہوٸی۔ اس لیے انڈیا نے سندھ اور بلوچستان میں عیلحدگی کی تحاریک کو پروان چڑھانے اور پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینا شروع کیا۔ اس کا سلسلہ اس وقت بڑھا جب امریکہ نے 9/11 کے بہانے افغانستان پہ حملہ کیا اور انڈیا نے افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردوں کو فنڈنگ شروع کی اور افغانستان میں ان کے لیے ٹریننگ کیمپ بناۓ۔ لیکن اللہ کی رحمت اور پاکستانی مارخور کی بہترین حکمت عملی سے بھارت کے منصوبے دھرے رہ گٸے۔ افغانیوں کی ثابت قدمی نے دوسری سپر پاور کو گھٹنے لگانے پہ مجبور کردیا اور پاکستان پہ ڈبل گیم کا الزام لگانے والے امریکہ کو جب اپنی ہی بناٸی M_16 سے افغانی شیروں سے مار پڑی تو پاکستان کے ذریعے مذاکرات کی میز پہ بیٹھ کر معافی تلافی کی کوشش شروع کردی۔ اب اس وقت امریکہ افغانستان سے اپنی فوج کو واپس نکال رہا ہے تو انڈیا کا افغانستان میں کردار ختم ہوگیا ہے۔ انڈیا سے افغان طالبان نے بھی باغی قوت کی مدد کرنے کی وجہ سے مذاکرات سے انکار کردیا ہے۔ نیپال نے اپنی اسمبلی میں قرارداد کے ذریعے نیپال کا نیا نقشہ پاس کیا ہے جس میں ان علاقوں کو نیپال کا حصہ قرار دیا ہے جن کو بھارت اپنے علاقے سمجھتا تھا نیپال کی بھارت کے ساتھ جھڑپ بھی ہوٸی۔ جس میں انڈیا کے فوجی ہلاک بھی ہوۓ اور گرفتار بھی ہوۓ ہیں۔ دوسری طرف انڈیا کشمیر میں اپنے8 لاکھ سے زاٸد فوج کو بیٹھا کر پون صدی سے اس پہ قابض ہے۔ انڈیا نے کشمیر و جموں کی خصوصی حثیت 370A کو ختم کرکے اسکی متازعہ حثیت ختم کرنے کی کوشش کی اور ساتھ ہی پاکستانی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو اپنا علاقہ کہنا شروع کردیا۔اس سے قبل گزشتہ سال کشمیری شخص کے فداٸی حملے کے بعد جب 100 سے زاٸد انڈین فوجی جہنم رسید ہوۓ تو اس الزام بھی پاکستان پہ لگا دیا گیا بعد میں بدلے لینے کے طور پر جھوٹی سرجیکل سڑاٸیک کا دعوی کیا گیا۔ جس کا بانڈا بیچ چوراہے پھوٹ گیا۔ انڈیا نے دوبارہ سے اٸیر سڑاٸیک کی کوشش کی جس کے جواب وار میں 26 فروری 2019 کو انڈیا کے دو طیارے گرا دٸیے گٸے اور ایک پاٸلٹ ابھیندن کو گرفتار کرلیا جس کو جذبہ خیر سگالی کے تحت اگلے دن رہا کردیا گیا۔ لیکن اس تذلیل ہونے کے بعد بھی انڈیا لاٸن آف کنٹرول پہ مسلسل گولہ باری کررہا ہے جس کا اسکو بھرپور جواب دیا جارہا ہے۔ وادی کشمیر کے اندر حریت قیادت کو نظر بند کرنے اور مسلسل لاک ڈاٶن کے باوجود کشمیری عوام اور مجاہدین کی طرف سے سخت ردعمل کا سامنا ہے۔ ادھر لداخ پہ چاٸنہ نے انڈیا کے گندے ارادوں کو جانتے ہوۓ گلگت بلتستان کو آنے والے راستے پر قبضہ کرلیا ہے۔ چاٸنہ نے متنازعہ علاقہ وادی گولان کے اونچے پہاڑوں پہ اپنے جھنڈے لہرا دٸیے ہیں۔
دریاۓ گیلون جو دریاۓ شیوک میں گرتا ہے اس حصہ پر بھی چاٸنہ کی پپلز لبریشن آرمی نے اپنے جھنڈے لہرا دٸیے ہیں۔ چاٸنہ کے ساتھ انڈیا کے حالات غیر معمولی حد تک خراب ہیں۔ انڈیا اور چاٸنہ کے درمیان ایک معاہدہ پایا جاتا ہے جس کے مطابق فرنٹ لاٸن پہ رہنے والی سیکیورٹی فورسز اپنے پاس اسلحہ نہیں رکھے گٸ۔ اگر ان کے پاس کوٸی ہتھیار ہو بھی تو اس کا رخ زمین کی طرف ہوگا۔ اس لیے حالیہ تصادم میں یہاں لاتوں اور ڈنڈوں کی ویڈیوز واٸرل ہورہی ہیں۔ بروز منگل 16 جون کو انڈینز کی طرف سے بارڈر لاٸن کراس کرنے پر جھڑپ کا آغاز ہوٸی۔ جس کے بعد انڈین آرمی کے میجر سنتوش بابو سمیت ایک حوالدار اور سپاہی جہنم یاترا کو روانہ ہوۓ۔ لیکن بہت سارے انڈین زخمی تھے۔ جن میں 17 زخمی فوجی اگلے دن ہلاک ہوگٸے۔ اس طرح کل تعداد 20 ہوگی۔ ایک انڈین اخبار نے اسے چاٸنہ کی سرجیکل سڑاٸیک قرار دیا۔ چینی فوجیوں نے یہاں خار دار لپٹی تاروں والی لاٹھیوں اور لوہے کے سریہ کا استعمال کیا۔ کرنل سمیت 20 بھارتی فوجیوں کو بغیر گولی چلاۓ جہنم روانہ کردیا۔اس کے علاوہ انڈین آرمی کے 34 فوجی لاپتہ بھی ہیں جن کے بارے خدشہ ظاہر کیا جارہاہے
کہ وہ چاٸنہ کی قید میں ہیں۔ چین نے 3 دن میں 5 دفعہ بھارت کو وارننگ دی ہے کہ وہ سرحدی پروٹوکول کی خلاف ورزی نہ کرے۔ چین اور انڈیا کے فوجی افسران کے درمیان ہونے والے مذاکرات بھی بے نتیجہ ختم ہوگٸے ہیں۔ پاکستان کو ایٹم کی دھمکیاں دینے والا انڈیا اب چاٸنہ سے سب معاملات میں تحمل سے کام لینے کا راگ الاپ رہا ہے۔
انڈین اور چاٸنہ کے درمیان 45 سال میں یہ سب سے زیادہ کشیدہ حالات ہیں۔ لداخ کے سرحدی علاقے اور تبت کے اونچے پہاڑوں پر چاٸنہ کی فوجی مشقیں جاری ہیں جن میں بھاری مشینری استعمال کی جارہی ہے۔ انڈین کو سانپ سونگ گیا ہے کیونکہ چاٸنہ عددی اعتبار سے اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے انڈیا سے بہت آگے ہے۔ پاکستان کی لاٸن آف کنڑول پر بھی حالات بہت زیادہ سخت ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم سیمت تینوں فورسز کے چیف کی آٸی ایس آٸی ہیڈ کواٹر میں اعلٰی سطح کی میٹنگز ہورہی ہیں۔ پچھلے تین ہفتوں میں تین دفعہ آٸی ایس آٸی کے ہیڈ کواٹر میں میٹنگ اور ڈی جی آٸی ایس آٸی سمیت آرمی چیف کے افغانستان کا دورہ حالات کی سنگینی کا پتہ دیتے ہیں۔ کور کمانڈر کانفرنسز بھی ہورہی ہیں۔ انڈیا افغانستان میں تنہا ہوچکا ہے۔ کشمیر،نیپال اور لداخ پر تین ہمسایوں کے ساتھ شدید قسم کے تعلقات بگاڑ چکا ہے۔ انڈیا کی سیون سسڑز ریاستوں میں پہلے سے ہی علیحدگی پسند تحاریک عروج پہ تھی جن کو لداخ واقعے کے بعد مزید توقیت ملے گی۔ پنجاب میں خالصتان کی گونج، کشمیر میں پاکستان کے ساتھ الحاق کی گونج سے بھی انڈیا کے کان پھٹ رہے ہیں۔ انڈین وزیراعظم اور فورسز کے چیف کے درمیان شدید اختلافات کی خبریں بھی گردش میں ہیں۔ انکی چھوٹی سی غلطی اب آگ پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہوگی۔ جس کا خمیازہ انڈیا کو کشمیر اور لداخ سے ہاتھ دھونے کی صورت اٹھانا پڑے گا۔ ان شاء اللہ
بھارت اس وقت تین ہمسایوں میں سینڈوچ بنا ہوا ہے۔ بھارت کے اپنے باقی ہمسایوں سے بھی تعلقات زیادہ اچھے نہیں ہیں۔
====================
✒️✍️ #شعیب_بھٹی
Author: عائشہ ذوالفقار
-

سازشوں سے سرجیکل سڑاٸیک تک بقلم:شعیب بھٹی
-

ملک میں پہلی مرتبہ پیپر لیس ڈرائیونگ لائسنس ایشوئنگ سسٹم متعارف
صد احترام : پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ
باغی ٹی وی :ملک میں پہلی مرتبہ پیپر لیس ڈرائیونگ لائسنس ایشوئنگ سسٹم متعارف -پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور سنٹرل پولیس آفس راولپنڈی کے اشتراک سے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شہریوں کی سہولت کیلئے پیپر لیس ڈرائیونگ لائسنس ایشوئنگ سسٹم متعارف کروایا گیا ہے –
جس کے تحت شہری ون ونڈو سہولت سے لرنر ڈرائیونگ لائسنس اور ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید کیلئے درخواست دے سکتے ہیں۔اب شہریوں کو اپنی تصویریں ‘پاسپورٹ یا فارم لانے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ اپنا اصل شناختی کارڈ اور فیس ساتھ لا کر لائسنس بنوا سکتے ہیں۔
یہ سسٹم ابتدائی طور پر راولپنڈی میں متعارف کروایا گیا ہے ۔پی آئی ٹی بی کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین اظفر منظور نے کہا کہ یہ جدید نظام شفافیت کو یقینی بنانے، جعلی لائسنس کی روک تھام اور ایجنٹ مافیا کے خاتمہ میں مددگار ثابت ہو گا اور جلد ہی پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی متعارف کروا دیا جائے گا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل آئی ٹی آپریشنز فیصل یوسف ودیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔
-

قرآن مجید میں موتیے کی بیماری کا بیان بقلم سلطان سکندر!!!
قرآن مجید میں موتیے کی بیماری کا بیان۔
Cataracts(موتیے کی بیماری)
دماغی تناو سے مماثلت رکھتی ہے.کیٹاریکٹس(موتیےبند کی بیماری) کا مطلب آنکھوں کا دھندلاپن ہے.
Reference:- Wikipedia, Cataract, 2019
"کیٹاریکٹ آنکھ کے ڈیلے کا دھندلا جانا ہے جو نظر میں کمی کا باعث بنتا ہے. کیٹاریکٹ کی بیماری آہستگی سے بڑھتی ہے اور ایک یا دونوں آنکھوں پہ اثرانداز ہوسکتی ہے. اس بیماری کی نشانیوں میں دھندلا رنگ, دھندلاپن (بلَر) یا ڈبل وِژن(یعنی ایک چیز کا دو دو دفع نظر آنا), روشنی کے اردگرد ہالوز کا نظر آنا(جیسا کہ کمنٹ میں گاڑی کی ہیڈ لائٹس کو دیکھا جا سکتا ہے), تیز لائیٹ دیکھنے میں دقت ہونا اور رات کو دیکھنے میں دقت ہونا شامل ہے. اس میں ڈرائیونگ کرنے میں, کتاب پڑھنے میں اور چہرے پہچاننے میں بھی دقت ہونا شامل ہے. کیٹاریکٹ کی وجہ سے نظر میں کمی گرنے کے رجحان اور تناو کے رجحان کے بڑھنے کا بھی سبب بن سکتی ہے.”بڑی عمر کے بالغ یعنی بزرگوں میں کیٹاریکٹ کی بیماری تناو کے ساتھ بھی مماثلت رکھتی ہے.
Reference:- Vesan Health, Cataracts In Older Adults Linked To Depression, 2017
"نئ سائنسی تعلیم کے مطابق جو آپٹومیٹری اینڈ وِژن سائنس کی طرف سے ایک جریدے میں شائع ہوئی ہے کہ
بڑی عمر کے بالغ یعنی بزرگوں میں کیٹاریکٹس کی بیماری تناو کی بیماری کی نشانیوں سے مماثلت رکھتی ہے. پوری دنیا میں, کیٹاریکٹ(موتیے) کی بیماری نظر کم کرنے میں پہلے نمبر پہ ہے. مایو کلینِک کے مطابق, تقریباً آدھے امریکیوں کو ساٹھ سال کی عمر میں جا کر کچھ ڈگری کا موتیابند(کیٹاریکٹس) ہوجاتا ہے. تناو, جس سے ہر عمر کے لوگوں کا واسطہ پڑتا ہے, عموماً بڑی عمر کے بالغ لوگوں میں یہ کچھ زیادہ ہی پایا جانے لگا ہے.”یعنی بڑی عمر کے لوگوں یعنی بزرگوں میں موتیےبند کی بیماری تناو کی بیماری سے بھی مماثلت رکھتی ہے.
لیکن اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے قرآن میں یہ بات کہہ دی گئی تھی,
یوسف علیہ کے واقعے میں, انکے والد کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں جبکہ وہ تناو کا شکار تھے.Quran: 12:84
وَتَوَلّـٰى عَنْـهُـمْ وَقَالَ يَآ اَسَفٰى عَلٰى يُوْسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْـمٌ (یوسف 84#)اور اس نے ان سے منہ پھیر لیا اور کہا ہائے یوسف! اور غم سے اس کی آنکھیں سفید ہوگئیں(موتیےبند کا شکار ہوگئیں, نظر چلی گئی) جب وہ سخت غمگین(تناو کا شکار) ہوا۔
جب انکی آنکھیں موتیےبند کا شکار ہوئی تھیں تو وہ تب کافی بوڑھے تھے.
ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے کیسے جان سکتا ہے کہ بڑھاپے میں موتیےپن(کیٹاریکٹس) کی بیماری کا تعلق تناو کی بیماری سے بھی ہے؟؟؟؟؟؟بقلم سلطان سکندر!!!
-

بالی وڈ گلوکارہ نہیا ککڑ کے مزاحیہ ڈانس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
بھارتی نامور گلوکارہ نہیا ککڑ کی پاکستان کے نامور اداکار و میزبان فہد مصطفی کے شو جیتو پاکستان پر ایکٹنگ کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے-
باغی ٹی وی :بالی وڈ گلوکاری نہیا ککڑ کا سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ وائرل ہو رہا ہے جس میں گلوکارہ فہد مصطفی کے شو جیتو پاکستان کے ایک کلپ پر مزاحیہ ایکٹنگ کرتے ہوئے دکھائی دے رہی ہیں –
https://www.instagram.com/p/CBk_T0IlB-f/?igshid=pqapspbgaq6l
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گلوکارہ کے ساتھ ویڈیو میں موجود ساتھی اداکار فہد مصطفی بن کر نیہا ککڑ سے ائیر فریشنر کو مائیک کی جگہ استعمال کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کیا نام ہے آپ کا جس پر نہیا ککڑ شرماتے ہوئے جواب دیتی ہیں زُفرا-جس پرگلوکارہ کو گانا سنانے کو کہتے ہیں تو نہیا ککڑ شرماتے ہوئے تھوڑا سا گانا سناتی ہے اور پھر مزاحیہ انداز میں شرمانا شروع کر دیتی ہیں
گلوکارہ کی اس ویڈیو کو بہت پسند کیا جا رہا ہے اور لوگ دلچسپ اور مزاحیہ کمنٹس کر رہے ہیں-
ول اسمتھ تشدد زدہ غلام کی زندگی پر بنائے جانے والے ڈرامے میں جلوہ گر ہوں گے؟
کورونا وائرس: فلمی دنیا کے سب سے معتبر ایوارڈ کی تقریب 2 ماہ کے لئے موخر
-

طارق عزیز اپنی تمام جائیداد پاکستان کے نام کر گئے
گزشتہ روز انتقال کر جانے والے پاکستان ٹی وی کے ماضی کے معروف کمپئیر، میزبان،سیاستدان اور اداکار طارق عزیز نے وفات سے 2 سال قبل اپنی وصیت میں تمام اثاثے جائیداد پاکستان کے نام کردیئے تھے۔
باغی ٹی وی : گزشتہ روز انتقال کر جانے والے پاکستان ٹی وی کے ماضی کے معروف کمپئیر، میزبان،سیاستدان اور اداکار طارق عزیز نے وفات سے 2 سال قبل اپنی وصیت میں اپنی تمام جائیداد پاکستان کے نام کر دی تھی-
دو سال قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر اپنے ایک ٹویٹ میں طارق عزیز نے اعلان کیا تھا کہ ان کی کوئی اولاد نہیں ہے تو وہ اپنی ساری جائیداد وفات کے بعد پاکستان کے نام کرتے ہیں-
https://www.instagram.com/p/CBiI_RYh3Tu/?igshid=12lp433xg2mcg
طارق عزیز نے اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ اللہ پاک نے مجھے اولاد نہیں دی یہ خدا کی قدرت ہے جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے اور جسے چاہے دے کر لے لے-انہوں نے لکھا تھا کہ میں مرنے کے بعد اپنی ساری جائیداد پاکستان کے نام کرتا ہوں-

انہوں نے مزید ایک اور ٹویٹ میں لکھا تھا کہ میرا سب کچھ میرے مرنے کے بعد پاکستان کا ہے-واضح رہے کہ گزشتہ روز طارق عزیز حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے-
ہمارے بچپن کو یادگار بنانے والے رخصت ہو گئےطارق عزیز کی وفات پر شوبز فنکار اور معروف شخصیات غمزدہ
-

سوشانت سنگھ کی موت کے بعد عالیہ بھٹ اور کرن جوہر کو سوشل میڈیا پر بڑی ناکامی
34 سالہ بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے اتوار کے دن بارہ بجے کے قریب ممبئی کے علاقہ باندرا میں اپنی رہائش گاہ پر خودکشی کرلی تھی بھارتی عوام سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اداکار کی خود کشی کی ذمہ دار بالی وڈ انڈسٹری کو ٹھہرا رہی ہے
باغی ٹی وی : 34 سالہ بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے اتوار کے دن بارہ بجے کے قریب ممبئی کے علاقہ باندرا میں اپنی رہائش گاہ پر خودکشی کرلی تھی پولیس کے مطابق اداکار نے خودکشی ڈپریشن کی وجہ سے کی تھی-
اداکار کی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق بھی اداکار کی موت دم گھٹنے کی وجہ سے ہی ہوئی تھی اور 15 جون ان کی آخری رسومات ادا کردی گئی تھیں۔
سوشانت سنگھ راجپوت کی اچانک خودکشی کے بعد جہاں بھارت کے سیاسی، سماجی اور شخصیات صدمے میں ہیں، وہیں عوام میں بھی ان کی خودکشی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں ۔ اداکار کے مداح لڑکے لڑکیاں غم میں خودکشی ک رہے ہیں-
تاہم زیادہ تر بھارتی عوام کسی حد تک سوشانت سنگھ کی خودکشی کا ذمہ داربالی انڈسٹری کو بھی ٹھہرا رہی ہے اور چند بالی وڈ شخصیات پر تو براہ راست ان کی خودکشی کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں۔
تاہم رواں ہفتے 16 جون کو بھارت سمیت پاکستان میں ٹوئٹر پر بائیکاٹ کرن جوہر گینگ مووی سب سے ٹاپ ٹرینڈ رہا اور اس ٹرینڈ کے تحت بھارتی عوام کی جانب سے فلم ساز کرن جوہر اور اداکارہ عالیہ بھٹ سمیت دیگر شوبز شخصیات کو اقربا پروری اور سوشانت سنگھ راجپوت جیسے اداکاروں کو نظر انداز کرنے کے الزامات لگائے۔
بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق مذکورہ ٹرینڈ اس وقت ٹوئٹر پر ٹاپ بن گیا جب کرن جوہر اور عالیہ بھٹ نے سوشانت سنگھ راجپوت کی اچانک خودکشی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ٹوئٹس کیں۔
تاہم اب عالیہ بھٹ اور کرن جوہر کی سوشل میڈیا پر پاپولیرٹی اورفین فالونگ بھی دن بہ دن کم ہو رہی ہے ان کی عالیہ بھٹ کی رواں ماہ 14 جون 2020 کو سوشل میڈیا پر مداحوں کی تعداد 4 کروڑ 87 لاکھ51 ہزار 4 سو 80 تھی اور اس دن ان کو 103891 لوگوں نے مزید فولو کیا جبکہ 15 جون 2020 کو ان کو 4 ہزار 9 سو 19 لوگوں نے مزید فولو کیا جس پر 4کروڑ 79 لاکھ 3 سو 99 ہو گئی-
سوشانت سنگھ کی موت پر ان کے خلاف چلائے گئے ٹریںڈ اور ان کو سوشانت کی خودکشی کی ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کو مداحوں نے ان فولو کرانا شروع کر دیا جس کی وجہ سے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر 16 جون 2020 کو ان کو 2 لاکھ 56 ہزار 1 سو 17 لوگوں نے ان فولو کیا تو ان تعداد 4 کروڑ 85 لاکھ 42 ہزار 282 ہوگئی- جبکہ گذشتہ روز 17 جون 2020 کو بھی 2 لاکھ 28 ہزار 900 لوگوں نے اداکارہ کو ان فولو کیا جس پر تعداد 4 کروڑ 83 لاکھ 13 ہزار 382 رہ گئی مداحوں کا اداکارہ کو سوشل میڈیا پر ان فولو کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور آج 18 جون 2020 کو مزید 1 لاکھ پچاس ہزار 2 سو 20 لوگوں نے ان فولو کیا جس پر اداکارہ کو فولو کرنے والوں کی تعداد 4 کروڑ 81 لاکھ 63 ہزار 1 سو 62 رہ گئی ہے-

عالیہ بھٹ کے علاوہ جرن جوہر کی فین فالونگ میں بھی کمی دیکھنے میں آرہی ہے لوگ اپنے پسندیدہ پروڈیوسر کو ان فولو کر رہے ہیں فلمساز کرن جوہر کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر فالورز کی تعدام 11 ملین سے 10.6ملین ہوگئی ہے –

جبکہ دوسری جانب مبینہ خودکشی کر کے موت کو گلے لگانے والے اداکار سوشانت سنگھ کے لئے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر سوشل میڈیا فالوورز کا اضافہ ہو گیا ہے گزشتہ دنوں سے آنجہانی اداکار کی فولونگ 9 ملین سے 12.2 ملین ہوگئی۔

سوشانت سنگھ کی موت کی ذامہ دار بالی وڈ انڈسٹری ہے بھارتی عوام
-

بہترین پاکستانی اداکاروں کے مداحوں کو مایوس کر دینے والے بدترین ڈرامے
وہ پاکستانی اداکار جنہوں نے اپنا نام بنانے کے لئے کافی سخت محنت کی ہے وہ یقینی طور پر اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کریں گے۔ پھر بھی ، بعض اوقات ایسے مواقع آتے ہیں جب وہ کچھ ایسے انتخاب کرتے ہیں جو ان کے دیکھنے والوں کو حیران کردیتے ہیں۔ جب یہ اداکار کام کرنے کے لئے غیر معیاری ڈراموں کا انتخاب کرتے ہیں تو ، ان کے مداح حیران رہ جاتے ہیں کہ انہوں نے اسکرپٹ کا انتخاب کیوں کیا؟ ان اداکاروں میں سے کچھ نے انٹرویوز میں اعتراف بھی کیا ہے کہ وہ محض تفریح کے لئے کچھ ڈرامے کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے انتخاب بعض اوقات انڈسٹری میں اس حیثیت کے مترادف نہیں ہوتے ہیں۔
باغی ٹی وی: یہاں کچھ معروف پاکستانی اداکار ہیں جنہوں نے ٹیلی ویژن کے بدترین ڈراموں میں سے کچھ کا حصہ بننے کا انتخاب کیا ہے۔
عدنان صدیقی (جنم) :عدنان صدیقی ایک شاندار اداکار ہیں اور وہ عام طور پر ان پروجیکٹس کا انتخاب کرتے ہیں جن میں وہ دانشمندی سے کام کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر وہ منفی کردار ادا کرنے کا انتخاب کرتے ہیں تو بھی ، وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ جس پروجیکٹ میں وہ کام کررہے ہیں اس کی کچھ کلاس ہوگی۔ جنم بالکل مختلف کہانی تھی! یہ ایک بدترین کہانی کا ڈرامہ تھا اور صبا قمر اور عدنان صدیقی کی اداکاری کی وجہ سے یہ چل گیا تھا۔جانم یقینی طور پر اس قسم کا ڈرامہ نہیں تھا جس کی آپ توقع کریں گے کہ عدنان صدیقی جیسے اداکار اس میں کام کریں گے جنم ان کے کیرئیر کا بدترین ڈرامہ تھا جس میں انہوں نے کام کیا –

عفان وحید ( میں نا جانوں) : عام طور پر عفان وحید بہترین ڈراموں میں اپنی انتہائی جذباتی پرفارمنس دیتے نظر آتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر وہ ناقص شوہر کا کردارکرتے ہیں تو بھی ، وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ وہ جس ڈرامے کا حصہ ہیں اس کا اسکرپٹ اچھا ہے عفان نے مقبول ڈرامہ سیریل دو بول میں اپنی اداکاری سے ناظرین کو اپنا گروہدہ کر لیا ، لیکن ڈرامہ میں نا جانوں میں اپنی ناقص کارکردگی سے ناظرین کو حیران پریشان کر دیا۔

مذکورہ ڈرامے میں ان کے ناکارہ کردار اور ناقص اداکاری سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بعض اوقات بہترین اداکار بھی بدترین انتخاب کر سکتے ہیں! انہوں نے یقینی طور پر غلطی میں کام کرکے خود کو چھڑا لیا لیکن میں نا جانوں ہمیشہ ان کا بدتر ین پروجیکٹ ہوگا۔ عفان وحید کے علاوہ صنم جنگ اور زاہد احمد کے کیرئیر کا بھی بدترین انتخاب تھا-فواد خان(نم، اشک): فواد خان کو ڈرامہ ہمسفر سے بے پناہ مقبولیت ملی نہ صرف پاکستان میں بلکہ بھارت میں بھی ان کے مداحوں می اضافہ ہوا اور اسی ڈرامے نے ان کے لئے بالی وڈ انڈسٹری میں راہیں ہموار کیں۔ ہمسفر کے بعد ان کے مداح ان کی طرف سے مزید حیرت انگیز ڈرامے دیکھنے کا شدت سے انتظار کر رہے تھے۔ تاہم ہمسفر کے بعد آنے والے ڈراموں میں فواد خان نے مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے پاکستانی ڈراموں کی تاریخ کی سب سے بڑی تباہی کی تھی۔

ڈرامہ سیریل اشک کی کہانی بدترین تھی کسی نے بھی ڈرامہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا ، زیادہ تر لوگوں نے اسے فواد خان کے لئے دیکھا لیکن خود فواد نے بھی ایسا لگتا ہے کہ اس پروجیکٹ کو سنجیدگی سے نہیں لیا کیوں کہ اس ڈرامے میں ان کی کارکردگی اور کردار مایوس کن تھے۔ فواد کی اداکاری میں نم ایک اور خوفناک ڈرامہ تھا جس کی وجہ سے دیکھنے والوں کومایوس کر دیا تھا۔ ایک ایسا ڈرامہ جس نے ایک اہم سماجی مسئلے کے بارے میں وعدہ کیا تھا وہ ایک لطیفہ نکلا! ناظرین نے فواد سے بہتر توقع کی تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس صرف ایک دو اچھے ڈرامے ہیں۔ہمایوں سعید: (بن روئے):اداکارہمایوں سعید زیادہ تر ایسے کردار ادا کرنے کا انتخاب کرتے ہیں جن میں کارکردگی کے لئے کافی گنجائش ہو اور جو کہانی کا مرکزی مقام ہو۔ بن روئے میں ان کا کردار نقش نگاری کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ بن روئے پاکستانی ڈرامہ کی تاریخ کا واحد ڈرامہ تھا جو بطور فلم بطور اور ٹیلی ویژن پر بطور سیریل بظاہر بڑے پردے پر پیش کیا گیا تھا۔

اس ڈرامے سے بڑی توقعات وابستہ تھیں کیونکہ اس کے ساتھ شوبز کے بڑے نام وابستہ ہیں۔ یہ فلم اور ڈرامہ کا ایک عجیب و غریب مرکب تھا۔ ترمیم کی بہت ساری غلطیاں تھیں ، کہانی میں قطعاً کوئی چنگاری نظر نہیں آتی تھی اور ہمایوں سعید کا ادا کردہ ارتضی کا کردار ایک انتہائی ناگوار مردانہ لیڈ تھا-اقراء عزیز (جھوٹی): اقرا عزیز پہلے سے کہیں زیادہ مشہور ہوگئیں جب انہوں نے رانجھا رانجھا کردی میں مرکزی کردار ادا کیا۔ بس جب اکثر ناظرین نے انہیں سنجیدہ اداکارہ کے طور پر پہچانا تو اقرا عزیز نے ایک ایسے ڈرامے پر دستخط کیے جس نے سب کو مایوس کردیا۔ جھوٹی ایک اور ڈرامہ نکلا جو منطق سے عاری تھا۔ جھوٹی ڈرامے میں اقرا کا منفی کردار کچھ نہیں تھا جیسا کہ رنجھا رانجھا کردی میں انھوں نے ادا کیا تھا۔ جہاں رانجھا رانجھا کردی کو بہت سارے لوگوں نے سراہا ، جھوٹی کو اس کی مضحکہ خیز کہانی کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

عمران اشرف (کہیں دیپ جلے) : عمران اشرف کی دل لگی میں پرفارمنس ، الف اللہ اور انسان ، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ رانجھا رانجھا کردی نے انہیں بے مثال فین فالوونگ دی ناظرین کو صرف اتنا یقین تھا کہ آئندہ منصوبوں کا انتخاب کرتے ہوئے عمران واقعی اچھا انتخاب کریں گے۔ جبکہ انکار ایک بامعنی ڈرامہ نکلا ، کہیں دیپ جلے اس سال کے بدترین ڈراموں میں سے ایک تھا۔

کہیں دیپ جلے میں نہ صرف یہ کہ عمران اشرف کے کردار اور اداکاری نے ہی اپنے مداحوں کو حیران کردیا۔ ہر کوئی یہ سوچ کر رہ گیا تھا کہ عمران نے کسی ڈرامے کا حصہ بننے کا انتخاب کیوں کیا جس میں ریٹنگ مل گئی لیکن اس میں اچھے مواد کی کمی ہے۔مایا علی ( صنم ، من مائل اور ضد ):مایا علی بہترین پاکستانی ڈراموں میں سے کچھ کا حصہ رہی ہیں لیکن انہوں نے کچھ واقعی بدترین انتخاب بھی کیے ہیں! ایک سے زیادہ مرتبہ ، وہ ڈراموں کا حصہ رہی ہے اور اس نے ایسے کردار ادا کیے ہیں جن کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ ان کرداروں نے دیکھنے والوں کو ناراض کردیا اور مایا علی کی اسٹار پاور اس دن کو نہیں بچا سکی۔ڈرامہ سیریل صنم ، من مائل اورضد مایا علی کے بدترین انتخاب تھے۔ یہ سارے ڈرامے اتنے بورنگ تھے کہ زیادہ تر لوگوں کو انھیں دیکھنے میں مشکل پیش آتی تھی۔ اگرچہ من مائل ایک زبردست ہٹ فلم تھی ، لیکن منو کا کردار کسی لطیفے سے کم نہیں تھا! بعض اوقات یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ مایا نے اس طرح کے خوفناک انتخاب کیے۔

سجل علی (نور العین اور چپ رہو): سجل علی کی اداکاری کی شاندار صلاحیتوں نے بہت سوں کو متاثر کیا لیکن بالکل اسی فہرست میں جتنے بھی اداکار ہیں انھوں نے بھی کچھ ایسے انتخابات کیے ہیں جو زیادہ دانشمندانہ نہیں تھے۔ نور العین اور چپ رہو ایسے دو ڈرامے تھے جو محض بدترین تھے۔ ڈرامہ نور العین نہ صرف ایک بالی وڈ فلم کی مکمل کاپی تھا بلکہ یہ سب سے بدترین ڈرامہ تھا جس میں سجل نے اپنےپورے کیریئر میں کام کیا ہے۔چپ رہو ایک ڈرامہ تھا جس میں ایک اہم سماجی مسئلے پر توجہ دی گئی لیکن یہ ایک لطیفہ نکلا۔ ولن کو کسی دوسرے کردار سے زیادہ اسکرین ٹائم دیا گیا تھا اور رامین (سجل کے کردار) نے دوسرے کے بعد ایک غیر مناسب کام کیا تھا۔ یہ دونوں ڈرامے سجل نے کیے ہوئے بدترین انتخاب تھے-

عائزہ خان (شہرناز): عائزہ خان پیارے افضل کے بعد پہلے سے کہیں زیادہ مشہور ہوگئیں۔ بس جب اس کے مداح اسے دوبارہ اسکرین دیکھنے کے بے تاب تھے تو ان کی شادی ہوگئی اور کچھ دیر کے لئے ٹیلی ویژن اسکرین سے غائب ہوگئیں۔ جب انہوں نے واپسی کی تو مداحوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے جو پلے بیک کیا تھا وہ اب تک کی سب سے بڑی مایوسی ثابت ہوئی۔

عائزہ خان کو ایک سٹرونگ کردار میں دیکھنے کے منتظر ناظرین حیرت زدہ رہ گئے کہ عائزہ نے اس کردار کا انتخاب کیوں کیا- شہرناز دانش تیمور کی اپنی پروڈکشن تھی لہذا یہ اندازہ کرنا آسان ہے کہ عائزہ خان نے ایسے غیر معیاری ڈرامے کا حصہ بننے کا فیصلہ کیوں کیا؟ اگرچہ عائزہ بہت سارے اوسط ڈراموں کا حصہ رہی ہیں اور کافی دقیانوسی کردار ادا کئے ہیں ، لیکن انہوں نے اپنے کیریئر میں جو بھی کردار ادا کیا وہ شہ ناز کی طرح خراب نہیں تھا۔ثنا جاوید(رومیو ویڈز ہیر اور ڈر خدا سے): ثنا جاوید کو خانی سے کامیابی ملی وہ کسی اور سے نہیں۔ ڈرامہ سیریل میں انہوں نے جو مضبوط کردار ادا کیا تھا اس نے ان کے بہت سے مداح جیت لئے۔ دیکھنے والے توقع کر رہے تھے کہ ثناء جاوید مستقبل میں اس طرح کے مزید ڈراموں میں کام کریں گے۔ انہوں نے خانی کے بعد کچھ معیاری منصوبوں میں کام کیا لیکن انہوں نے کچھ ایسے انتخابات بھی کیے جو قابل تعریف نہیں تھے۔رومیو ویڈز ہیر نے خانی لیڈ جوڑی کی کامیابی کو کمانے کی ایک کوشش کی تھی۔ ڈرامہ نہ تو مضحکہ خیز تھا اور نہ ہی دل لگی تھا لیکن پھر بھی اس کی تشہیر کی گئی جیسے اگلی بڑی چیز تھی۔ ڈر خدا سے ایک اور ڈرامہ تھا جس نے اب دیکھو خدا کیا کرتا ہے کی کہانی کی نقل تیار کی تھی اور ایسا کرنا انتہائی بے معنی تھا-

سارہ خان (بند کھڑکیاں ، دیوار شب،میرے بے وفا) سارہ خان ایک اور معروف پاکستانی اداکارہ ہیں جن کی مداحوں کی زبردست فین فالوونگ ہے۔ وہ اکثر اچھے ڈراموں کا بھی انتخاب کیا لیکن انہوں نے کچھ واقعی برے ڈرامے بھی منتخب کئے ہیں میرے بیوفا ایک ڈرامہ تھا جس میں انہوں نے انتہائی مظلوم بیوی کا کردار ادا کیا تھا جو ڈرامہ کے دوران ان کے شوہر کی طرف سے بدسلوکی کی جاتی ہے لیکن اس نے آخر میں اسے معاف کردیا جیسے اس نے کچھ غلط نہیں کیا!

ڈرامہ سیریل بند کھڑکیاں میں ، سارہ خان کا کردار اور خود ڈرامہ بھی اتنا ہی مضحکہ خیز تھا جیسے میرا بیوفا تھا۔ دیوارِ شب ایک اور حالیہ ڈرامہ تھا جس میں سارہ خان بہت خوبصورت لگ رہی تھیں لیکن ان کے کردار میں گہرائی کا فقدان تھا۔ ڈرامہ خود بھی تھوڑی بہت تیزی سے آگے بڑھا۔ یہ یقینی طور پر سارہ خان کے ذریعہ کیے گئے بہترین انتخاب نہیں تھے۔یمنی زیدی(آپ کی کنیز): یمنی زیدی نے ان تمام سالوں میں خود کو ایک بہترین اداکارہ کے طور پر منوایا ہے۔ وہ ایسے ڈراموں کا انتخاب کرتی ہیں جس میں وہ زبردست کچھ پیش کرتے ہیں لیکن وہ ایک خاص ڈرامے کا حصہ تھی جس نے اسے ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر سب سے زیادہ بےچاری کردار میں دکھایا۔ آپ کی کنیز اس کے لقب کی طرح ہی تھا۔ یمنی زیدی نے کام کرنے کے لئے اس طرح کے ایک بدترین ڈرامے کا انتخاب کرتے ہوئے شائقین کو حیرت زدہ کردیا۔

صباقمر(اضطراب،جنم ، کیست تم سے کہوں): صبا قمر انتہائی ٹیلنٹڈ اداکارہ ہیں جنہوں نے ماضی میں کچھ بدترین انتخاب کیےجسکا اعتراف انہوں نے ایک انٹرویو میں بھی کیا ان کا پروجیکٹ میں کیا تم سیےکہوں یہ اتنا کم اوسط ڈرامہ تھا کہ زیادہ تر لوگوں نے اسے نہیں دیکھا۔اضطراب اور جنم صبا قمر کے دو اور ڈرامے ہیں جنہیں اپنے دور کے بدترین سیریل کہا جاسکتا ہے-

-

تحفظ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پنجاب اسمبلی کا تاریخی کردار تحریر:پیر فاروق بہاوالحق شاہ
تحفظ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پنجاب اسمبلی کا تاریخی کردار۔
تحریر۔پیر فاروق بہاوالحق شاہ۔
عقیدہ ختم نبوت ایک ایسا متفق علیہ قانون اور عقیدہ ہے جس پر امت مسلمہ کے تمام مکاتب فکر کا کامل اتفاق ہے۔مرزا قادیانی کے جھوٹے دعویٰ نبوت کے بعد امت مسلمہ نے جس طرح اس کی گرفت کی اور علماء نے جس طرح اس کا تعاقب کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ مرزا قادیانی انگریز کا خود کاشتہ پودا تھا جو اس نے مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنے کے لیے لگایا تھا۔لیکن اس کا یہ وار اس لیے ناکام گیا کہ بلاتفریق مسلک علمائے کرام ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے اور انہوں نے ہر محاذ پر اس کو شکست فاش دی 1953 کی تحریک ختم نبوت میں حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی اور مولانا مودودی کو سزائے موت سنائی گئی۔کئ دیگر علمائے کرام بھی پابند سلاسل رہے۔1974 کی تحریک ختم نبوت میں علماء اور عوام نے مل کر ایسا کردار ادا کیا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔۔1974 کی تحریک ختم نبوت میں شیخ الاسلام خواجہ قمر الدین سیالوی ،مفتی محمود احمد رضوی،ضیاء الامت حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری،مولانا منظور احمد چنیوٹی،مولانا اللہ وسایا،شورش کاشمیری ،چوہدری ظہور الٰہی جیسے اکابر علماء صف اول میں شامل تھے۔ختم نبوت کے تحفظ کے لیے لیے علماء و مشائخ اور عوام نے اپنے جان و مال کی قربانی پیش کی۔ایوانوں سے باہر پاکستان کے گلی کوچوں میں ختم نبوت کے شیدائیوں نے اپنے خون سے وطن عزیز کی گلیوں کو رنگ دیا۔۔عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے صرف علما ہی میدان میں نہیں تھے بلکہ ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ اور ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد نے اپنے اپنے طور پر اپنا کردار ادا کیا۔ جس طبقے کو جو کردار سونپا گیا تھا وہ انہوں نے بخوبی سرانجام دیا۔ملک کے اہل قلم نے قلم کے ذریعے اس کا تعاقب کیا۔شعراء نے نظمیں کہیں،۔لکھاریوں نے کتب لکھیں۔عوام نے اپنا جان مال مال اور وقت سب کچھ قربان کیا اسی طرح ملک کے سیاست دانوں نے بھی اس نے میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔۔بلکہ اگر یہ کہا جائے تو تاریخی طور پر غلط نہ ہوگا کہ قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ملک کے سیاستدانوں نے ہی ٹھونکی اور پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر ان کو کافر قرار دے کر تاریخ میں اپنا نام محفوظ کروا دیا۔یوں تو ان خوش بخت سیاستدانوں کی فہرست بہت طویل ہے لیکن اس وقت قومی اسمبلی میں جن لوگوں نے اس مسئلہ میں را ہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا ان میں مولانا شاہ احمد نورانی،مولانا مفتی محمود،خان عبدالولی خان،چوہدری ظہور الہی،پروفیسر غفور احمد،نمایاں تھےجبکہ ذوالفقار علی بھٹو کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ انہوں نے اپنے دستخط سے اس ترمیم کو دستور پاکستان کا حصہ بنایا۔
ایں سعادت بزور بازو نیست
قادیانی لابی کے اثر کو محسوس کرتے ہوے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ میں نے اپنی موت کے پروانے پر دستخط کیے ہیں۔۔پاکستان کی قومی اسمبلی کی طرف سے قادیانیوں کو کافر قرار دینے کے بعد قادیانیوں کی سرگرمیوں پر قانونی طور پر پابندی عائد کی گئی۔انہوں نے پاکستان کی مختلف عدالتوں میں جا کر اپنا موقف بیان کیا۔جس طرح قومی اسمبلی میں قادیانیوں کا موقف بڑے تحمل کے ساتھ سنا گیا تھا اور قادیانیوں نے کئ دن تک مسلسل اپنے عقائد بیان کیے تھے اسی طرح پاکستان کی ہر سطح کی عدالتوں میں ان کے وکلا نے بڑی شرح و بسط کے ساتھ اپنا موقف بیان کیا۔پاکستان ہر عدالت نے ان کے موقف کو غلط قرار دیتے ہوئے قومی اسمبلی میں بنائے گئے قانون کی توثیق کی اور جو پابندیاں ان پر لاگو کی گئی تھیں ان کو بحال رکھا۔
پاکستان سے مایوس ہونے کے بعد قادیانیوں نے بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کوبدنام کرنے کی کوشش شروع کی۔ان کی اس کوشش کو ناکام بنانے کا سہرا بھی ہمارے بزرگوں کے سر رہا۔جنیوا میں ہونے والے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں ضیاء الامت حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری جو اس وقت سپریم کورٹ کے جج بھی تھے وہ جنیوا شریف لے گئے اور اس بین الاقوامی فورم پر قادیانیوں کے جھوٹ کا پول کھولا۔ان کے موقف کو جھوٹا ثابت کیا۔ان کو غیر مسلم قرار دینے کی منتطقی وجوہات پیش کیں اور پاکستان کے موقف کو فتح سے ہمکنار کیا۔ ویسے۔سارے عمل کی تفصیل قبل ازیں ہم الگ کالم میں بیان کر چکے ہیں جو روزنامہ نوائے وقت میں ہی شائع ہوا تھا۔مختلف ادوار میں قادیانیوں نے اپنی تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا لیکن عوامی سطح پر ان کو کبھی پذیرائی نہیں ملی۔ہمیں اس حقیقت کا اعتراف کرنا ہوگا کہ ملک کے کئی کلیدی عہدوں پر ان کے حمایت یافتہ افراد پہنچے اور قادیانیوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بھی قادیانیوں کو تحفظ دینے کی کوشش کی گئی تو مسلمانان پاکستان نے جذبہ ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی ہر کوشش کو ناکام بنایا۔
2018 کہ انتخابات کے بعد پاکستان میں قادیانیوں کی سرگرمیوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا۔۔یہ تاثر پایا جانے لگا فیصلہ ساز اداروں میں ان کا اثر نفوذ بڑھ رہا ہے۔اور اہم عہدوں پر قادیانیوں کی تعیناتی کی جارہی ہے۔وفاقی حکومت کی طرف سے کوئی واضح موقف نہ آنے کے باعث شبہات کی فضا مزید گہری ہو گئی۔ان حالات میں اقلیتی کمیشن کا معاملہ اٹھا۔اور بڑی چابکدستی سے قادیانیوں کو اس کمیشن کا رکن بنانے کی کوشش کی گئی۔خبروں کے بروقت لیگ ہوجانے کے باعث بے پناہ عوامی رد عمل سامنے آیا اس کی وجہ سے اس لابی کی یہ کوشش ناکام ہوگئی۔لیکن شکوک و شبہات کی فضا قائم رہی۔وفاقی وزیر مذہبی امور کی باربار وضاحت کے بعد ایک گونہ اطمینان نصیب ہوا۔وزیر اعظم پاکستان نے بھی اپنے ایک پیغام میں اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ختم نبوت پر کامل یقین رکھتے ہیں اور کسی ایسی سرگرمی کی پشت پناہی نہیں کی جائے گی جو قادیانیت کی تقویت دینے کا باعث بنے ۔
موجودہ حکومت کی سیاسی ہیئت ترکیبی میں مسلم لیگ ق کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔پنجاب میں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سب سے تجربہ کار سیاستدان چوہدری پرویز الہٰی بطور سپیکر پنجاب اسمبلی کام کر رہے ہیں۔قانون ختم نبوت کے ساتھ ساتھ چوھدری ظہورالہی فیملی کا ایک خاص تعلق بھی ہے۔چنانچہ ایک مرتبہ پھر پاکستان کے تمام سیاستدانوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا کرتے ہوئے چوہدری پرویز الہی نے ایک اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔یقینا اس فیصلے میں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی مکمل رضامندی اور تائید شامل تھی۔مئ 2020 میں ہونے والے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں پنجاب کی حکومت کے وزیر اور چوہدری برادران کے قریبی ساتھی حافظ عمار یاسر نے یہ سعادت حاصل کی اور انہوں نے حضور خاتم النبیین کی عظمت و شان کے تحفظ کے لیے پنجاب اسمبلی میں قرارداد پیش کی۔قرارداد پیش کرنے سے پہلے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر ہماری جان بھی قربان ہے۔جب تک قادیانی اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم نہیں کرتے تب تک ان کو اقلیت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔پنجاب کے وزیر معدنیات کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے،اے مسلمانو،حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں مگر وہ اللہ کے رسول ہیں۔اور خاتم النبیین ہیں۔قرآن میں واضح طور پر بیان ہوگیا کہ نبوت کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہے۔اب کسی اور نبوت کے اجراء کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پنجاب اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد میں جامع ترمذی اور سنن ابی داود میں حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ایک اور روایت بھی بیان کی گئی جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امت میں سے 30 افراد ایسے اٹھیں گے جو کذاب یعنی جھوٹے ہوں گے ان میں سے ہر شخص اپنے بارے میں یہ گمان کرتا ہوگا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔قرار داد میں مزید کہا گیا گیا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور فضیلت کا پہلو اس اعتبار سے کہ نبوت آپ پر کامل ہو گئی ہے رسالت کی آپ پر تکمیل ہوگئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم قرآن و حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ضمن میں خاص طور پر تکمیل اکمل جیسے الفاظ بکثرت استعمال ہوئے۔قرارداد میں وفاقی کابینہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ ایوان وفاقی کابینہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جنہوں نے قادیانیوں کو اس بنا پر اقلیتی کمیشن میں شامل نہیں کیا ۔قادیانی نہ آئین پاکستان کو مانتے ہیں نہ اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرتے ہیں۔یہ ایوان اعادہ کرتا ہے کہ آئے روز ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا کردیا جاتا ہے۔کبھی حج فارم میں تبدیلی کر دی جاتی ہے کبھی کتب میں سے خاتم النبیین کا لفظ نکال دیا جاتا ہے لیکن آج تک ان سازشیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔پاکستان ایک اسلامی ملک ہے لیکن ہمیں تحفظ ناموس رسالت کی بھیک مانگنی پڑتی ہے۔یہ ہم سب کے لیے شرم کا مقام ہے۔یہ ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
قرار داد میں مزید کہا گیا کہ جو لوگ ان سازشوں میں ملوث ہیں ان کو بے نقاب کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے۔۔اقلیتی کمیشن میں ہندو سکھ اور مسیحی بیٹھے ہیں ، ہم نے کبھی ان پر اعتراض نہیں کیا کیونکہ وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے ۔ ہم اقلیتوں کو آئین میں دیئے گئے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ اگر قادیانیوں کا سربراہ یہ لکھ کر بھیج دے کہ وہ آئین پاکستان کو مانتے ہیں اور اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرتے ہیں تو ہمیں ان کے کمشن میں بیٹھنے پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔قرارداد کے متن میں مزید کہا گیا کہ ختم نبوت کا معاملہ ہمارے لیے ریڈ لائن ہے۔تحفظ ختم نبوت،تحفظ ناموس رسالت،تحفظ ناموس اصحاب رسول،تحفظ ناموس اہل بیت اطہار،اور تحفظ ناموس امہات المومنین رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بڑھ کر ہمارے لئے کوئی چیز نہیں۔اس پر کسی کو ابہام نہیں ہونا چاہیے۔۔
یہ قرارداد موجودہ پنجاب حکومت اور پنجاب اسمبلی کے ماتھے کا جھومر ہے۔اس کی منظوری پر پنجاب اسمبلی میں قائد ایوان عثمان بزدار اور اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف مبارکباد کے مستحق ہیں۔یہ وہ سعادت ہے جو ان کے لیے دنیا اور آخرت کی کامرانی کا باعث بنے گی۔۔اس سارے عمل کے پس منظر میں میرے دوست ، چوہدری راسخ الہی کا بھر پور کردار رہا۔جن کا دل محبت رسول کے جزبے سے معمور ہے۔انکے خاموش لیکن موثر کردار نے اس قرارداد کی تیاری اور منظوری میں بنیادی کردار ادا کیا۔عثمان بزدار کی حکومت بجا طور پر اس کارنامہ پر فخر کر سکے گی۔سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے اپنے طرز عمل سے ثابت کیا کہ وہ نہ صرف ایک پرعزم،جہاندیدہ سیاستدان ہیں بلکہ وہ اپنے سینے میں محبت رسول سے بھرپور ایک دل بھی رکھتے ہیں۔ان دنوں ان کے بیانات اور تقاریر ان کے درد دل کی نشاندہی کرتے ہیں۔گستاخانہ مواد پر مبنی کتب کی پابندی بھی چوہدری پرویز الہی اور پنجاب حکومت کا اہم کارنامہ ہے.پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیرمین راے منظور ناصر راسخ العقیدہ مسلمان اور درد دل رکھنے والے انسان ہیں۔انکی موجودگی بھی موجودہ نظام کیلیے خوش آئند ہے۔بے یقینی،مایوسی،نالائقی،بے حکمتی کہ اس ماحول میں صوبہ پنجاب کی طرف سے یہ اقدامات ٹھندی ہوا کی مانند ہیں۔پنجاب حکومت اور پنجاب اسمبلی کے یہ اقدامات تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ایسے ہی اقدامات مرکز میں بھی ہونے چاہیں۔اسی نوعیت کی قرارداد سندھ اسمبلی سے بھی منظور ہوی ہے جو کہ خوش آئند ہے۔یہ اقدامات عوام کے جذبات کی حقیقی ترجمانی کرتے ہیں۔۔- -

طارق عزیز کھرا سچ پروگرام کے میزبان مبشر لقمان کے مداح تھے
پاکستان کے ماضی کے معروف میزبان کمپئیر اداکار اور سیاستدان طارق عزیز کا اپنے ایک انٹرویو میں کہنا تھا جکہ وہ پروگرام کھرا سچ کے میزبان مبشر لقمان کے شو کے انتظار میں جاگتے رہتے ہیں-
باغی ٹی وی : گذشتہ روز پاکستان کے معروف اداکار کمپئیر میزبان اور سیاستدان طارق عزیز کا انتقال ہو گیا تھا جس پر پاکستانی عوام سمیت تمام معروف شخصیات ، شوبز فنکار اور سیاستدان غمزدہ ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنے غم کا اظہار کر رہے ہیں طارق عزیز کے انتقال کے بعد سے اُن کے مختلف انٹرویوز، اور تقاریر کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں-
https://www.instagram.com/p/CBkcYYRpbKn/?igshid=agtv0jzykfh
اُن میں سے نجی چینل کے ایک شو میں انٹر ویوکی ویڈیو زیر گردش ہے اس ویڈیو میں طارق عزیز کہتے نظر آرہے ہیں کہ وہ سئنئیر اینکر پرسن مبسر لقمان کا شو دیکھنے کے لئے جاگتے رہتے ہیں اور وہ مبشر لقمان کے فین ہیں-طارق عزیز نے اس انٹر ویو کے دوران پی ٹی وی پر کام کرنے اور حکومت پر تنقید کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب ہم پی ٹی وی پر کام کرتے تھے تو سوچتے تھے کہ ہم حکومت کو گالی دیں ان کا تو چینل ہے اس میں نوکری کر رہے ہیں ہم ان پر کیسے تنقید کر سکتے ہیں-
طارق عزیز کا کہنا تھا کہ آج تو آپ حکومت پر وزیر اعظم پر تنقید کر سکتے ہیں-
انہوں نے سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کھرا سچ کا میزبان مبشر لقمان کو دیکھنے کے لئے میں
جاگتا رہتا ہوں کہ آج وہ کس کا دامن جھنجھوڑتے ہیں- -

پاکستانی اداکار جو ڈاکٹر بھی ہیں
پاکستان شوبز انڈسٹری میں بہت سارے اعلی تعلیم یافتہ افراد ہیں جنہوں نے اعلی ڈگری رکھنے کے باوجود شوبز کا انتخاب کیا حالانکہ ان کے پاس مختلف کیریئر کے حصول کا اختیار موجود تھا۔ کچھ لوگوں کو شاید یہ معلوم ہی نہ ہو کہ کچھ مشہور پاکستانی اداکار بھی ہیں جو ڈاکٹر بھی ہیں۔ ڈاکٹر بننے کو کل وقتی ملازمت سمجھا جاتا ہے اور اداکار ہونے کے لئے بھی بہت زیادہ کام اور وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تب بھی ان اداکاروں نے اپنے میدانوں میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
باغی ٹی وی : مندرجہ ذیل پاکستانی اداکار جو ڈاکٹر ہیں۔
1 شائستہ لودھی
2 عائشہ گل
3 نادیہ حسین
4 مزنا ابراہیم
5 سید جبران
6 عدیل چودھری
7 فہد مرزاسید جبران: سید جبران پاکستان کے بہترین مرد اداکاروں میں سے ایک ہیں۔ رانجھا رانجھا کردی میں ان کی کارکردگی کی وجہ سے انہیں بہت سراہا گیا۔ بہت سے لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ سید جبران نے راولپنڈی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا تھا لیکن انہوں نے ڈاکٹر کے بجائے اداکار بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کبھی بھی شوبز میں آنے کا ارادہ نہیں کیا تھا لیکن وہ اکثر اس بارے میں سوچتے تھے۔ ان کے دوست نے انہیںکمرشل کیلئے آڈیشن دینے کے لئے چیلنج کیا ، اس بچکانہ شرط تھا جس کی وجہ سے وہ اداکار بن گیا-
https://www.instagram.com/p/B_uuzsSni44/?igshid=1a9ntj9mpwvf1
انہیں پی ٹی وی کی طرف سے پہلی بار ایک ڈرامے میں اداکاری کرنے کے لئے کال موصول ہوئی اس وقت وہ میڈیکل کے چوتھے سال میں تھے۔ ان کے والدین نے کہا کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرے اور پھر وہ جو چاہے کر سکتے ہیں- انہوں نے بس ایسا ہی کیا! جب اداکاری کا آغاز کیا تو انہوں نے اسی کیرئیر کو لے کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا!فہد مرزا: فہد مرزا ایک پلاسٹک سرجن اور اداکار ہیں۔ وہ ان دونوں پیشوں کو یکساں طور پر سنجیدگی سے لیتے ہیں اور ان دونوں کے مابین توازن برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ فہد مرزا نے ٹیلی ویژن پر زیادہ کام نہیں کیا ہے لیکن انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ وہ شوبز کے میدان میں خود کو متعلقہ رکھنے کے لئے کچھ نہ کچھ کرتے رہیں۔ پلاسٹک سرجری کے میدان میں جو کچھ انہوں نے حاصل کیا اس پر فہد مرزا کو واقعی فخر ہے۔ وہ اپنے کاموں کو پسند کرتےہیں اور اسی وجہ سے اکثر وہ اپنے بہترین کام کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے رہتے ہیں۔
https://www.instagram.com/p/CAU-JhyJ_h6/?igshid=1wk2hce5rzaa5
https://www.instagram.com/p/CAVVZXeJH6h/?igshid=11sotjpjv5wbr
عدیل چودھری: زیادہ تر لوگ عدیل چوہدری کو بطور گلوکار ،سونگ رائٹرز ، اور اداکار کے طور پر ہی جانتے ہیں لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ ڈینٹسٹ بھی ہیں۔ ہندوستان میں اپنے ماڈلنگ کے پہلے منصوبے کے بعد ، عدیل چودھری واپس آئے اور لاہور کے ایک معروف میڈیکل کالج سے ڈینٹسٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اس نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ایک مصدقہ دانتوں کا ڈاکٹر ہے جو چاہے تو جڑ کی نہر سرانجام دے سکتا ہے! بعد میں ، انہیں بطور گلوکار اور ایک اداکار کی حیثیت سے ہندوستان میں مزید کام کرنے کی پیش کش مل گئی۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہیں احساس ہوا کہ وہ فنون لطیفہ کی طرف زیادہ مائل ہے اور انہوں نے کبھی بھی پیشہ کے طور پر دندان سازی کا انتخاب نہیں کیا۔
https://www.instagram.com/p/B-9FXAkJ4yS/?igshid=19uerytvuj196
شائستہ لودھی : شائستہ لودھی نے شوبز میں اپنے کیریئر کی شروعات بطور میزبان کی تھی اور کئ سالوں سے وہ معروف چینلز کے سب سے بڑے شوز کی میزبانی کرتی تھیں۔ حال ہی میں ، شائستہ لودھی نے بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ شائستہ لودھی جب شوبزکرئیر کا اغاز کیا تھا تو وہ ہاؤس جاب کرتی تھیں۔ ایک بار جب وہ شوبز کا پیشہ اپنا لیا تو تو ، وہ واقعی میں یہ پیشہ ان کو بھا گیا اور اپنا زیادہ تر وقت اس کے لئے وقف کردیا۔ اب برسوں شوبز انڈسٹری فعال طور پر کام کرنے کے بعد شائستہ لودھی نے ایک بار پھر اپنے دوسرے پیشے کو شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اس میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہیں-
https://www.instagram.com/p/CBffvVajvP4/?igshid=1xw66ql3pj9un
شائستہ لودھی کی اپنی کاسمیٹک سرجری اور جلد کا کلینک ہے۔ وہ ایسی تصاویر پوسٹ کرتی رہتی ہے جس میں وہ اپنے مریضوں کا علاج کرتی نظر آتی ہے۔ شائستہ اپنے کاموں سے محبت کرتی ہے ، ایسی چیز جو اس کی حوصلہ افزائی کرتی اور چلتی رہتی ہے۔ حال ہی میں ، اس نے اپنی اسکین کیئر کی رینج بھی شروع کی ہے-
https://www.instagram.com/p/CBIpqRHpLB_/?igshid=1ubr0ectdfzci
عائشہ گُل: عائشہ گل ایک معروف اداکارہ ہیں انہوں نے کرغیز اسٹیٹ میڈیکل اکیڈمی سے میڈیکل ڈگری حاصل کی۔ عائشہ گل اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لئے ہائی اسکول کرنے کے بعد دبئی سے کرغزستان گئیں۔ وہ دبئی میں مقیم ہیں لیکن وہ پاکستانی شوبز انڈسٹری کا حصہ بننا پسند کرتی ہیں۔ عائشہ گل ان اداکاروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنے طبی پیشے کو مکمل طور پر پیچھے چھوڑ دیا اور اداکاری ان کی پہلی پسند بن گئی۔ ایک انٹرویو میں ، انہوں نے بتایا کہ اگر وہ شوبز میں نہ آتیں تو وہ پلاسٹک سرجن بن جاتیں۔ عائشہ گل شاید اب بھی کاسمیٹک سرجری کا آغاز کریں گی جب وہ شوبز کو خیر با کہیں گی۔
https://www.instagram.com/p/CBkL-jzp-hC/?igshid=2dkgje7fsten
نادیہ حسین: نادیہ حسین ماڈلنگ کی دنیا میں بڑا نام بنانے کے بعد اب وہ اداکاری میں بھی اپنا سکہ جمانے میں کامیاب ہو گئیں ہیں۔ وہ ایک ڈینٹسٹ ہونے کے ساتھ ایک کاسمیٹک سرجن بھی ہیں۔ نادیہ حسین نے اپنی اے لیول مکمل کرنے کے بعد اتفاق سے ماڈلنگ کا آغاز کیا۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ اس ماڈلنگ کیریئر کو کل وقتی ملازمت کے طور پر گزاریں گی۔ انہوں نے اپنے ڈاکٹری کے پیشے کو پیچھے چھوڑا اور ماڈلنگ ان کا جنون بن گیا۔ نادیہ حسین نے اب اپنا سیلون کھول لیا ہے اور وہ کاسمیٹک طریقہ کار بھی کرتی ہیں۔ ان کی اپنی میک اپ لائن بھی ہے۔
https://www.instagram.com/p/CBiy6L8Jr7y/?igshid=12r8fjhist5rt
مزنہ ابراہیم: مزنا ابراہیم ایک اور اداکارہ ہیں جو نہ صرف ڈاکٹر ہیں بلکہ عوامی اسپیکر بھی ہیں جنہوں نے حال ہی میں کارپوریٹ دنیا سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی تربیت کا آغاز کیا۔ انہوں نے اپنی مہارت اور معلومات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی اسکین اسپیر لائن بھی شروع کردی ہے۔ مزنا ابراہیم نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ وہ اپنی ڈگری کو زندگی کے مختلف شعبوں میں جس بھی طریقے سے کرسکتی ہیں ، میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے استعمال کریں گی۔ وہ ایک پر اعتماد اور پُرجوش خاتون ہیں جو مسلسل آگے بڑھنے میں یقین کرتی ہیں اسی لئے وہ ہمیشہ کسی نئی چیز کی طرف راغب ہوتی رہتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مزنا کے لئے ڈاکٹر اور اداکار ہونا کافی نہیں ہے ، انہیں یقین ہے کہ وہ اور بھی کچھ کر سکتی ہے
https://www.instagram.com/p/CBh47nkDxQY/?igshid=7beugnjvelsl
