Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • میں کیسے مناؤں سالگرہ مبارک؟  تحریر: جویریہ بتول

    میں کیسے مناؤں سالگرہ مبارک؟ تحریر: جویریہ بتول

    میں کیسے مناؤں سالگرہ مبارک؟
    (جویریہ بتول)۔
    (ایک بہن کی فرمائش پر جو اس نے اپنی سالگرہ کے موقع پر لکھنے کے لیئے کی تھی)۔
    گزر گئیں دھیرے دھیرے گھڑیاں…
    ہوا زندگی کا ہے اک اور سال کم…
    دیوارِ حیات کی گری اک اور اینٹ…
    یہ میرے لیئے موقع خوشی ہے کہ غم؟
    گئے سال کے سب بیتے لمحوں میں…
    مسرت کی گھڑی اور غموں میں…
    کھو گیا سب،کہ کُچھ پا بھی سکی؟
    نئے رنگ بھرے کہ ہےتصویر بے رنگ ابھی؟
    میرے وقت کی قدر و اہداف آئے ہاتھ…
    کہ ساری صلاحیتیں وقت بہا لے گیا ساتھ؟
    میں غفلت کی ردا میں ہی سوئی رہی…
    کہ غمِ دنیا میں ہی کھوئی رہی؟؟
    اور وقت کا تو کام ہے ہی چلنا…
    اس کی لغت میں نہ کہیں ہے رُکنا…!!!
    کھو کر اک سال میں کیا خوشی مناؤں؟
    میری زندگی ہوئی ہے کم،دنیا کو بتاؤں؟
    کروں کیا میں سراسر تقلیدِ نصاریٰ؟
    اور دامن میں بھروں سودائے خسارہ؟؟
    جن کی آگ سے نہ روشنی لینے کا…
    جن کی تہذیب سے سدا دُور رہنے کا…
    فلاح کا رستہ محسنِ انسانیت دکھا گئے…
    حق و کامل ہے کیا؟ یہ عمل سے ہمیں بتا گئے…
    میرے ہاتھ میں ہے چراغ روشنئ کامل…
    پھر میں رہوں کیوں نہ اس پر ہی عامل…!!!
    یہی مری فلاح کا سامان ہے…
    یہی میری زندگی،مرا ایمان ہے…!!!
    میں جیئوں کہ مروں تو اس روشنی کے سنگ…
    جس سے ہومحبّت،ہو گا انسان اس آدمی کے سنگ…!!!
    یہی سوچ کر یہ سالگرہ میں مناتی نہیں…
    ہے ڈھونڈا بہت مگر، وجود اس کا نہیں پاتی کہیں…!!!
    ==============================

  • شامی مسلمانوں کا رمضان، ، غمناک تصاویر سامنے آگئیں

    شامی مسلمانوں کا رمضان، ، غمناک تصاویر سامنے آگئیں

    جب شام اپنے آس پاس کی گلیوں کی ٹوٹی پھوٹی اور خالی عمارتوں کے جنگل میں آباد ہوتی ہے تو ، طارق ابو زیاد اور اس کے اہل خانہ اپنے گھر کی باقیات پر رمضان کا روزہ کھولتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق شام کا شمالی قصبہ "ریحا "کسی عفریت کے زلزلے کے منظر کی طرح دکھائی دیتا ہے۔جیسے ایک خاموش ،ڈھیلے سنڈر بلاکس اور چھلنی ہوئے لوہے کی سلاخوں کا گرے سمندر۔


    ابو زیاد کو اپنی چھت پر ملبےکو تھوڑا سا صاف کرنا پڑا تاکہ اپنی بیوی اور بچوں کی افطاری کے وقت کھانے میں شریک ہونے کے لئے بیٹھنے کے لئے گدے بچھائے۔

    29 سالہ تین بچوں کے باپ طارق ابو زیاد نے کہا "اب ، میرا خاندان اور میں یہاں تباہی کے سب سے اوپرمقام پر ہیں ،” ابو زیاد نے کہا۔ "ہم ایک بہت ہی مشکل اور تکلیف دہ یادداشت کو دوبارہ زندہ کر رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ خدا کسی کو بھی اس کا تجربہ نہ ہونے دے۔”

    انہوں نے بتایا کہ وہ اور اس کے اہل خانہ گذشتہ سال کے آخر میں اس وقت "ریحا” سے فرار ہوگئے تھے جب روسی طیاروں کی مدد سے شامی سرکاری فوج نے اس شہر پر حملہ کیا تھا۔

    چند ہفتوں کے اندر ہی ، نو برسوں کی جنگ کے بعد صدر بشر الاسد کی حکومت کی مخالفت کا آخری مضبوط گڑھ ادلیب کے وسیع علاقے پر ، تقریبا ایک ملین شہری حملہ سے فرار ہوگئے۔ اریحہ کی پوری آبادی شمال کی طرف گامزن ہوگئی جب شہر کا بیشتر حصہ زمین بوس ہوگیا۔

    لیکن جنگ بندی کے طور پر ، لُٹے پُٹے مظلوم افراد میں سے کچھ نے اس کے بعد واپس آنے اور سستے رہائش ڈھونڈنے کا انتخاب کیا ہے۔

    ابو زیاد پچھلے مہینے واپس آیا تھا اور اس کو ٹھہرنے کے لئے جگہ مل گئی تھی۔ لیکن وہ کم از کم ایک افطاری میں اس جگہ پر شریک ہونا چاہتا تھا۔ جہاں اس کا گھر ہوتا تھا۔

    انہوں نے کہا ، "ہر سال ، ہم رمضان یہاں گزارتے تھے ، اور ہم اس رمضان کا ایک دن یہاں گزارنا چاہتے تھے۔”

    ان کے آس پاس کوئی اور ذی روح کا نام و نشان نہیں تھا ، صرف ایک قطار میں تباہ ہونے والے مکانات کی قطار کے خوفناک قطار ہی تھی

    لیکن ابو زیاد کی والدہ نے بتایا کہ گھر کا باورچی خانہ بہت طویل ہوچکا ہے ، تاہم وہ تیار ہوکر آئے ہیں۔

    انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ، "ہم باہر سے تیار کھانا لاتے ہیں۔ "سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنی یادوں کو زندہ کرتے ہیں اور اپنے گھر میں کھاتے ہیں۔”

    ابو زیاد اور اس کے اہل خانہ کو ان کی چھت کے ملبے میں تھوڑا سا صاف کرنا پڑا تاکہ ان کے بیٹھنے اور افطاری کا کھانا بانٹنے کے لئے تین بچھائے جائیں ۔

    صوبہ ادلیب کے جنوبی دیہی علاقے میں واقع اریحہ نامی قصبے سے تعلق رکھنے والے طارق ابو زیاد کے بے گھر شامی خاندان نے اپنے تباہ شدہ مکان کے ملبے کے بیچ روزہ افطار کرتے ہوئے۔

    طارق ابو زیاد اور اس کے اہل خانہ گذشتہ سال کے آخر میں اس وقت اریحا سے فرار ہوگئے تھے جب روسی طیاروں کی مدد سے شام کے سرکاری فوجیوں نے اس قصبے کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔
    ]
    ‘ہم ایک انتہائی مشکل اور تکلیف دہ یادداشت کو دوبارہ زندہ کر رہے ہیں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ خدا کسی اور کو بھی اس کا تجربہ نہ ہونے دے۔
    ]
    "سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنی یادوں کو زندہ کرتے ہیں اور اپنے گھر میں کھاتے ہیں طارق کی ماں نے کہا ۔”

    مخلوق رزق کی ذمہ داری اللہ نے اٹھا رکھی ہے ، قرآن میں واقعات ایمان والوں کےلیے نصحیت ہیں ، علامہ حقانی اورعلامہ موسوی کی گفتگو

  • نظر ہو عقابی…!!! بقلم:جویریہ بتول

    نظر ہو عقابی…!!! بقلم:جویریہ بتول

    نظر ہو عقابی…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    گرفتح کی منزل تک پہنچنا ہو…
    دشمن کو قدموں میں روندنا ہو…
    وسائل پہ جرأتوں کو ہو فوقیت…
    کثرت پہ نازاں نہ ہونے کی تربیت…
    اپنے چمن کا حصار ہو مضبوط…
    کہیں بھی کہیں بھی ہو خلا نہ موجود…
    قلعے اور گھروندے سبھی رہیں مامون…
    تو صفوں کے غداروں پہ نظر ہو عقابی…
    جو موقع ملتے ہی نہ پلٹ سکیں جوابی…
    شجر کی جڑوں کو یہی کرتے ہیں کھوکھلا…
    جادہ و منزل میں یہی کرتے ہیں فاصلہ…
    عزائم کی راہوں میں دیوار بن کر…
    آستین میں پلتے سانپ پھن دار بن کر…
    وفاؤں کے دشمن وفا دار بن کر…
    جو رہتے ہیں ساتھ جی دار بن کر…
    جو گھٹن کی سخت آزمائش گھڑی میں…
    گھونپتے ہیں جو بس وہ ہوتا ہے خنجر…
    جو پیٹھ پیچھے سے کر کے وار کرتے ہیں بنجر…!!!
    عزم اور منزل کے رستے کے دشمن…
    یہ ہوتے ہیں ننگِ ملت اور ننگ وطن…!!!
    (4 مئی ٹیپو سلطان کے یومِ شہادت کی تاریخ کی مناسبت سے)۔

  • معزز مہمان جسکے جانے کا احساس صرف دو گھنٹے میں ہو جاتا ہے  تحریر: فیصل ندیم

    معزز مہمان جسکے جانے کا احساس صرف دو گھنٹے میں ہو جاتا ہے تحریر: فیصل ندیم

    معزز مہمان جسکے جانے کا احساس صرف دو گھنٹے میں ہو جاتا ہے

    تحریر: فیصل ندیم

    میری طرح بیشمار لوگ اس سے محبت کا اظہار کرتے ہیں اس کی آمد سے پہلے اس کا انتظار کرتے ہیں ۔۔۔۔۔
    ہر طرف اس کی باتیں اس کے ہی تزکرے ہوتے ہیں جیسے جیسے اس کی آمد قریب ہوتی ہے اس سے ملاقات کا اشتیاق بڑھتا چلا جاتا ہے ۔۔۔۔
    وہ کبھی بھی خالی ہاتھ نہیں آتا ہمیشہ اس کے ساتھ بہت قیمتی تحائف ہوتے ہیں اتنے قیمتی کہ جن کی شائد دنیا میں دوسری مثال کوئی نہ ہو ۔۔۔۔
    اس کی آمد کے بعد ہر شخص کا چہرہ خوشی سے دمک رہا ہوتا ہے ہر طرف اس کی آمد کی بات اور اس کے ساتھ آنے والے بیش قیمت تحائف کا ذکر ہوتا ہے ۔۔۔۔
    بڑا عجیب ہے وہ اسے آتے ہی جانے کی جلدی ہوتی ہے اتنی محبت اتنا پیار اسے ہر طرف سے مل رہا ہوتا ہے لیکن وہ رکتا نہیں ہے چلا جاتا ہے ۔۔۔۔
    وہ بڑا سخی ہے اپنے ساتھ لانے والے تمام قیمتی ترین تحائف ہمیشہ چھوڑ کر جاتا ہے کبھی بھی کچھ بھی ساتھ نہیں لے جاتا ۔۔۔۔
    محبت کا دعوی اس سے سبھی کرتے ہیں لیکن اکثر لوگ اس کے تحائف کی ناقدری کرتے ہیں انہیں ضائع کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ان بیش قیمت تحائف کی اصل قیمت سے واقف نہیں ہوتے ۔۔۔۔
    چند لوگ ہی ایسے ہوتے ہیں جو اس کے لائے گئے تحائف سنبھالتے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ جو اس کے تحائف سنبھال لیتا ہے ان سے وہ کبھی بھی جدا نہیں ہوتا دوبارہ آنے تک ہر لمحہ اس کا ان لوگوں کے ساتھ گزرتا ہے ۔۔۔۔
    جی ہاں یہ رمضان ماہ غفران ہے جو ہر سال آتا ہے اور بڑی جلدی چلا جاتا ہے ….
    آتے ہوئے اس کا دامن رحمتوں ،مغفرتوں ، برکتوں جیسے قیمتی ترین تحائف سے بھرا ہوتا ہے جنہیں یہ ہر ایک کو تقسیم کرتا ہے بہت تھوڑے ہوتے ہیں جو ان تحائف کو سنبھال لیتے ہیں ۔۔۔۔
    رمضان کی آمد کا مقصود تقوی اس کے جانے کے بعد بھی ان کا ہمسفر ہوتا ہے اور جس کا ہمسفر یہ تقوی ہو اس سے رمضان کبھی نہیں جاتا یہ شوال سے شعبان تک اس بندے کے ساتھ ہوتا ہے جس نے رمضان کے لائے گئے بیش قیمت ترین تحفہ تقوی کو سنبھالا ہوتا ہے ۔۔۔۔
    اور وہ لوگ جو یہ بیش قیمت تحفہ سنبھالنے میں ناکام ہوں ان کا رمضان ان کے روزے ان کی نمازیں ان کی تلاوتیں ان کی تراویحیاں اور ان کے اذکار اپنے ساتھ لیکر صرف ڈیڑھ گھنٹہ میں رخصت ہوجاتا ہے ۔۔۔
    یقین نہیں آتا تو رمضان کی آخری مغرب اور شوال کی پہلی عشاء دیکھ لیں مغرب میں مساجد کی رونق اور عشاء میں مساجد کی ویرانی چلا چلا کر اعلان کررہی ہوتی ہیں جو رمضان کے بعد بھی رب کے حضور حاضر ہیں ان کا رمضان باقی ہے اور جو اس لازمی حاضری سے غیر حاضر ہیں ان کا رمضان چلا گیا ہے ۔۔۔۔
    واضح رہے رمضان کی آخری مغرب اور شوال کی پہلی عشاء کے بیچ زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ گھنٹہ کا وقت ہوتا ہے

  • والد بچوں کے جھگڑے کی وجہ سے قتل ہوئے ٹک ٹاک سٹار غنی ٹائیگر

    والد بچوں کے جھگڑے کی وجہ سے قتل ہوئے ٹک ٹاک سٹار غنی ٹائیگر

    چندروز قبل پنجاب کے شہرسیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے ٹک ٹاک اسٹار غنی ٹائیگر نے ایک ویڈیو کے ذریعے بتایا تھا کہ کچھ لوگوں نے ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے والد کو قتل اور بھائی کو زخمی کردیا

    باغی ٹی وی : غنی ٹائیگر نے ویڈیو میں روتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے والد کو قتل کیا گیا ان کے والد کا کوئی قصور نہیں تھا ان کے پاس لوہے کے راڈ اور اسلحہ تھا –

    ٹک ٹاک اسٹار کی جانب سے ویڈیو شیئر کرنے کے بعد ٹویٹر پر ،جسٹس فار داؤد، کی مہم چلائی گئی جس میں کئی شوبز اسٹار و اہم شخصیات نے بھی حصہ لیا اور حکومت سے ٹک ٹاک سٹار کی مدد کی اپیل کی-

    ٹک ٹاک اسٹار کے والد کے قتل کے خلاف معروف شخصیات کی جانب سے مہم چلائے جانے کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور بعد ازاں وزیراعلی پنجاب کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا اظہر مشوانی نے ٹویٹر پر بتایا کہ مذکورہ واقعے میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ دائر کردیا گیا جس کے بعد غنی ٹائیگر نے پولیس کی جانب سے ملزمان کو گرفتار کرنے پر پولیس کا شکریہ بھی ادا کیا

    اب غنی ٹائیگر کی ایک اور ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ٹک ٹاک اسٹار غنی ٹائیگر نے ٹی وی و سوشل میڈیا اسٹار وقار ذکا سے اپنے والد کو قتل کئے جانے کے واقعے پر کھل کر بات کی ہے جس میں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے والد کو دراصل بچوں کے جھگڑے کے بعد قتل کیا گیا ویڈیو میں غنی ٹائیگر نے مخالف پارٹی کے ساتھ جھگڑےاور اپنے والد کے قاتلوں کے بارے میں تفصیل سے بات کی-

    وقار ذکا سے بات کرتے ہوئے غنی ٹائیگر نے بتایا کہ ماہ رمضان کے ابتدائی دنوں میں محلے کے دو بچوں کے درمیان جھگڑا ہوا جن میں سے ایک بچے کا تعلق ان کے خاندان سے تھا اور اس سے پہلے بھی ایسے واقعات پیش آ چکے تھے لیکن اس بار انہیں سمجھ نہیں آیا کہ بات اس حد تک کیسے بڑھ گئی؟

    غنی ٹائیگر نے بتایا کہ بچوں کے جھگڑوں کا علم نہ صرف انہیں تھا بلکہ ان کے گھر کے دوسرے افراد کو بھی تھا اور انہوں نے ہی اپنے والد اور چچا کو بتایا کہ وہ بچوں کے جھگڑے کے معاملے پر سب میں صلح کروادیں گے

    غنی ٹائیگر نے مزید بتایا کہ جس وقت ان کے والد کو قتل کیا گیا اس سے کچھ دیر قبل ہی وہ والد سے بات کر رہے تھے اور انہیں بتا رہے تھے کہ وہ بچوں کے جھگڑے کی صلح کروادیں گے اور اسی دوران ہی باہر سے لڑنے جھگڑنے کی آوازیں آئیں تو وہ گھر سے نکل آئے
    جیسے ہی وہ گھر سے باہر آئے تو انہوں نے اپنے ہی ایک دوست کو گولی لگنے کے بعد زخمی حالت میں دیکھا اور پھر اچانک ان کے ایک کزن کو بھی گولی لگی اور وہ بھی زخمی ہوگئے انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ گولیاں کس طرف سے اور کون چلا رہا ہے

    غنی نے بتایا کہ بچوں کی لڑائی پر دوسری پارٹی کے لڑکوں نے طلبہ تنظیم انجمن طلبہ اسلام کا نام استعمال کرکے دیگر لڑکوں کو بھی اپنے ساتھ ملایا اور تقریبا 11 لڑکے ان کے محلے میں آئے اور ان کی فائرنگ سے پورا محلہ گونج اٹھا

    ٹک ٹاک سٹار نے آبدیدہ ہوتے ہوئے بتایا کہ جب ان کے ایک دوست اور کزن کو گولی لگی اور حالات مزیدہ کشیدہ ہوگئے تو ان کے والد بھی گھر سے نکل آئے اور پھر ان پر بھی کسی نے گولی چلادی اور ان کے والد زندگی کی بازی ہار گئے

    غنی ٹائیگر کے والد کے قتل میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    ٹک ٹاک سٹار کے والد کا قتل، انصاف کے لئے دی دہائی

  • سجل علی شوہر احد رضا میر کی پرکشش شخصیت کے سحر میں مبتلا

    سجل علی شوہر احد رضا میر کی پرکشش شخصیت کے سحر میں مبتلا

    دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتے جان لیوا کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے پیش نظر لاک ڈاؤن جاری ہے اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں فارغ اوقات میں بہترین وقت گزاری کے لیے معروف شخصیات بھی اپنی دلچسپی کے مطابق کام سر انجام دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر اکثر و بیشتر اپنے مداحوں کے ساتھ شیئر بھی کررہی ہیں مداح بھی اپنے پسندیدہ اداکاروں کی دلچسپ سر گرمیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ سجل علی کا اپنے شوہر احد رضا میر شوہر کی پرکشش شخصیت کے سحر میں مبتلا ہوگئیں ہیں

    باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ سجل علی کا اپنے شوہر احد رضا میر شوہر کی پرکشش شخصیت کے سحر میں مبتلا ہوگئیں ہیں اداکارہ سجل علی نے احد رضا میرکا ایک خاکہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنے اکاؤنٹ پرشئیرکیا جو انہوں نے خود تیار کیا ہے اورساتھ ساتھ لکھا کہ وہ اوربھی فن سیکھ رہی ہیں
    https://www.instagram.com/p/B_zQPfDFjgf/
    سجل علی نے لکھا کہ یقین کیجیئے کہ احد رضا میر کی پرکشش اور خوبصورت شخصیت کو اس خاکہ میں قید کرنا آسان نہیں ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اداکارہ نے مداحوں سے یہ بھی پوچھا کہ آپ کی کیا رائے ہے

    واضح رہے کہ پاکستانی خوبر اداکارہ سجل علی رواں مارچ میں معروف اداکار احد رضا میر کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھی ہیں

    کورونا وائرس، مایا علی نے قرنطینہ میں نئی اور دلچسپ مصروفیت ڈھونڈ لی

    کورونا لاک ڈاؤن: علی ظفر نے پھولوں سے دوستی کر لی

  • گرما کھانے کے حیران کن فوائد

    گرما کھانے کے حیران کن فوائد

    گرما ایک خوش ذائقہ صحت بخش اور سردے سے قدرے شیریں پھل ہے اور متعدد امراض کا قدرتی علاج بھی ہے یہ کمزور اصحاب کے لئے ایک عمدہ قسم کی غذا ہے غذائیت کا قدرتی خزانہ ہے صالح خون پیدا کرتا ہے اور جسم موٹا کرتا ہے خوشبو اور ذائقے سے بھر پور پھل گرما کھانے کے بے شمار طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں

    ماہرین غذائیت کے مطابق گرمیوں کے لحاظ سے گرما ایک صحت بخش غذا ہے، گرما کے 100 گرام میں 34 کیلوریز، 0.2 گرام فیٹ، 16 ملی گرام سوڈیم ، 267 ملی گرام پوٹاشیم، 8 گرام کاربوہائیڈریٹس، 0.8 گرام پروٹین پائی جاتی ہے جبکہ 67 فیصد وٹامن اے، 61 فیصد وٹامن سی، 5 فیصد وٹامن بی 6 اور 3 فیصد میگنشیم پایا جاتا ہے

    1:گرما 90 فیصد پانی پر مشتمل پھل ہے، اس کے استعمال سے گرمیوں میں ہائیڈریٹڈ رہنے میں مدد ملتی ہے، گرما منرلز اور وٹامنز حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے

    2: گرما میں فیٹ اور کاربوہائیڈریٹس نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں اسی لیے یہ وزن میں کمی لانے کا سبب بنتا ہے، اگر آپ ڈائیٹ پلان کے ذریعے وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو گرمیوں میں دوسری غذاؤں اور پھلوں کی بنسبت اس کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں

    3:گرما میں پوٹاشیم کی بھاری مقدار پائے جانے کے سبب اس کے استعمال سے پٹھوں کو مضبوطی ملتی ہے، متاثرہ پٹھوں کو بننے میں مدد ملتی ہے اور بلڈ پریشر بھی متوازن رہتا ہے

    4: گرما کے استعمال سے بلڈ شوگر لیول کنٹرول ہوتا ہے، اس کے استعمال سے ذیابطیس کے مریضوں میں شوگر لیول متوازن رہتا ہے

    5:گرما میں وٹامن سی پائے جانے کے سبب اس کے استعمال سے قوت مدافعت مضبوط ہوتا ہے اور موسمی بیماریوں، وائرل، موسمی انفیکشن سے لڑنے میں مدد ملتی ہے

    6: گرما ایک فرحت بخش غذا ہے، گرمیوں میں اس کے استعمال سے گرمی کا احساس کم ہوتا ہے پیٹ کی متعدد بیماریوں سمیت قبض کی شکایت دور ہوتی ہے

    7: گرما میں ’ آکسیکن ‘ اجزا پائے جاتے ہیں جو گردوں میں پتھری بننے کے عمل کو روکتے ہیں گرما میں پانی کی وافر مقدار اور اس کے گودے کے سبب گردوں کی صفائی ہوتی ہے اور گردے کی کارکردگی میں مثبت تبدیلیاں آتی ہے

    8: ماہرین غذائیت کے مطابق خواتین کی صحت کے لیے یہ پھل آئیڈیل ہے خصوصاً حاملہ خواتین کو اس پھل کا استعمال لازمی کرنا چاہیئے، گرما میں فولک ایسڈ پائے جانے کے نتیجے میں انسانی جسم میں موجود اضافی سوڈیم کو زائل ہونے میں مدد ملتی ہے

    9: گرما میں فیٹ اور کاربوہائیڈریٹس بہت کم مقدار میں پائے جاتے ہیں، اس میں موجود فائبر سے کولیسٹرول لیول کو متوزان رہنے میں مدد ملتی ہے، گرما میں خون کو پتلا کرنے کی خصوصیات پائے جانے کے سبب دل کی صحت برقرار رہتی ہے

    10: گرما کھانے کے سبب خون میں آکسیجن کی صحیح مقداد میں ترسیل ہوتی ہے، آکسیجن متوازن مقدار میں دماغ تک پہچتی ہے جس سے انسان خود کو ہلکا محسوس کرتا ہے اور ذہنی دباؤ اور اعصابی تناؤ میں آرام ملتا ہے

    لیموں کے حیرت انگیز طبی فوائد


    https://login.baaghitv.com/magical-benefits-of-cucumber/

  • سینئیر اینکر پرسن مبشر لقمان نے پاکستانی آن لائن ٹیکسی سروس کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کر دیا

    سینئیر اینکر پرسن مبشر لقمان نے پاکستانی آن لائن ٹیکسی سروس کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کر دیا

    آئن لائن ٹیکسی سروس 536 ایسے افراد کو نوکریوں سے نکال رہی ہے جو کہ کمپنی کے31 فیصد ملازمین ہیں جب کہ کریم کی چلنے والی بس ٹرانسپورٹ موبائل ایپ کو بھی بند کردیا گیا ہے جس پر سینئیر اینکر پرسن مبشر لقمان نے اس کمپنے کے ساتھ بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کر دیا

    باغی ٹی وی : باغی ٹی وی پر حال ہی میں خبر شائع کی گئی کہ آئن لائن ٹیکسی سروس کے سی ای او مدثر شیخا کا کہنا تھا کہ یہ بات کہنا آسان نہ تھی مگر موجودہ صورتحال کے تناظر میں کمپنی ایسے 536 افراد کو نوکریوں سے نکال رہی ہے جو کہ کمپنی کے31 فیصد ملازمین ہیں جب کہ کریم کی چلنے والی بس ٹرانسپورٹ موبائل ایپ کو بھی بند کردیا گیا ہے

    مدثر شیخا کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی ٹیم میں شامل ہر فرد کا خیال ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ ہم پہلے بھی یہ اعلان موخر کرچکے تھے، یہ اقدام کمپنی کے بڑے مقاصد پر پورا اترنے کیلیے اٹھایا گیا ہے

    کمپنی میں کی جانے والی تبدیلیوں پر ان کا کہنا تھا کہ تبدیلیوں کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے کچھ ساتھیوں کو کریم میں اب مختلف اور زیادہ کام کرنا پڑے گا اور دیگر آج ہمیں چھوڑ دیں گے کیونکہ ان کیلیے اب کوئی کام نہیں رہا


    باغی ٹی وی کی اس خبر پر سینئیر اینکر پرسن مبشر لقمان نے ٹویٹر پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے اس آن لائن ٹیکسی سروس کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کر دیا

    آن لائن ٹیکسی سروس کے اس اقدام پر مبشر لقمان نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ اس فعل کے لئے کریم کا لازمی طور پر بائیکاٹ کرنا چاہئے

    کریم نے 536 ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کردینے کا اعلان.

    آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کا وزیراعظم کو خط، بڑا مطالبہ کر دیا

  • ارطغرل غازی پر تنقید کے جواب میں ہم نیوز کے سنئیر پروڈیوسر نے شان شاہد کو کھری کھری سنا دیں

    ارطغرل غازی پر تنقید کے جواب میں ہم نیوز کے سنئیر پروڈیوسر نے شان شاہد کو کھری کھری سنا دیں

    اسلامی فتوحات کی تاریخ پر مبنی ترکی کے شہرہ آفاق ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘ جسے ترکی کا ’گیم آف تھرونز‘ بھی کہا جاتا ہے نے پاکستان میں دھوم مچائی ہوئی ہے جہاں پاکستان میں لوگ اس ڈرامے کے دیوانے ہوگئے ہیں وہیں یہ ڈرامہ اپنی پہلی قسط سے ہی تنقید کی زد میں بھی ہے

    باغی ٹی وی : وزیراعظم عمران خا ن کی ہدایت پر ترک ڈرامے’’ارطغرل غازی‘‘کو اردو میں ڈب کرکے یکم رمضان سے پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کیا جارہا ہے اور اسے نہ صرف مقبولیت حاصل ہو ئی بلکہ یہ پاکستانیوں کا پسندیدہ ڈرامہ بن گیا ہے

    سینیٹر فیصل جاوید نے ٹوئٹر پر ’’ارطغرل غازی‘‘ کا یوٹیوب لنک شیئر کرتے ہوئے کہا تھا پی ٹی وی اور ترکی چینل ٹی آر ٹی کے اشتراک سے یہ ڈرامہ یوٹیوب پر پیش کیا جارہا ہے ‘ کی حمایت کی اور شان پر تنقید ک

    اسلامی فتوحات کی تاریخ پر مبنی ترکی کے شہرہ آفاق ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘ جسے ترکی کا ’گیم آف تھرونز‘ بھی کہا جاتا ہے نے پاکستان میں دھوم مچائی ہوئی ہے پاکستان میں لوگ اس ڈرامے کے دیوانے ہوگئے ہیں سوشل میڈیا ڈرامے کی کہانی اور کرداروں کی تعریفوں سے بھرا پڑا ہے عام لوگوں کے ساتھ فنکار بھی اس کے سحر میں مبتلا نظر آتے ہیں

    تاہم جہاں لوگ اور فنکار اس کے سحر میں مبتلا ہیں وہیں کچھ لوگ فنکاروں سمیت اس پر تنقید بھی کر رہے ہیں جبکہ کچھ لوگ ان کی کی تنقید بھرے جواب میں اس ڈرامے کی حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں یا یو ں کہا جائے کہ سوشل میڈیا پر ارطغرل غازی کے چاہنے والوں اور تنقید نگاروں کے درمیان ایک جنگ چھڑی ہو ئی ہے تو بجا ہو گا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار اور سپر اسٹار شان شاہد نے گذشتہ دنوں ترکی کے مقبول ڈرامے ’’ارطغرل غازی‘‘کو پاکستان میں نشر کرنے پرپاکستان ٹیلی ویژن( پی ٹی وی) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری تاریخ اور ہمارے ہیروز کو تلاش کرنے کی کوشش کریں

    شان کی اس تنقید بھری ٹوئٹ پر سوشل میڈیا صارفین ’’ارطغرل غازی‘‘ کی حمایت کی اور شان پر تنقید کی تھی خود پر کی گئی تنقید پر اداکار بھی چُپ نہ رہے اور دو بدو صارفین کو جواب دیا

    اور مختلف ٹویٹس کر کے اپنے موقف پر قائم رہے اور خیالات کا اظہار کیا ایک ٹویٹ میں شان شاہد لے لکھا تھا کہ ہماری لیجنڈز اور ہمارے تاریخی ہیروز پر ڈرامے اور فلمیں بننی چاہیئں تاکہ ہمارے بچوں کو اپنے ہیروز اپنی تاریخ اور کامیابیوں کے بارے میں جان سکیں اور ہماری تاریخ کو نہ بھولیں


    شان شاہد کی اس ٹویٹ پر ہم نیوز کے ایک سینئر پروڈیوسر اداکار ، بریک فاسٹ شو کے ہوسٹ اویس مانگلوالا نے بھی ردعمل دیتے ہوئے تنقید بھرے انداز میں کہا کہ جب پاکستانی نوجوان غلاظت سے بھری گیم آف تھرونز دیکھتے تھے تب کسی شان دار انسان کو خیال نہیں آیا کہ اس سیریز کی شان میں کچھ کہے یا اس کی مذمت کرے. اب ایک صاف ستھری تاریخی سیریز ارطغرل دکھائی جا رہی ہے تو اعتراض اٹھ رہے ہیں. اعتراض کرنے سے بہتر ہے کہ خود ایک شان دار سیریز بنائیں!

    اس سے قبل حمزہ علی عباسی کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں انہوں نے انتہائی منفرد انداز میں سے اپنی محبت کا اظہارکرتے ہوئے گٹار پر ارطغرل غازی کی دھن بجا رہے تھے

    و اضح رہے کہ اسلامی فتوحات کی تاریخ پر مبنی ترکی کے شہرہ آفاق ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘ جسے ترکی کا ’گیم آف تھرونز‘ بھی کہا جاتا ہے اس وقت دنیا بھر میں دیکھا جا رہا ہے اس ڈرامے کو 13 ویں صدی میں اسلامی فتوحات کے حوالے سے انتہائی اہمیت حاصل ہے

    دیریلیش ارطغرل‘ ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی کہانی ہے اور اس ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13 ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے

    ہمیں اپنی تاریخ اور ہیروز کو تلاش کرنا چاہیئے ارطغرل غازی کو پی ٹی وی پر نشر کرنے پر شان شاہد کی تنقید

    حمزہ علی عباسی بھی ترک ڈرامے ارطغرل غازی کے مداحوں میں شامل

  • خدمت انسانیت سے رضائے الہی کا حصول   تحریر: حافظہ قندیل تبسم

    خدمت انسانیت سے رضائے الہی کا حصول تحریر: حافظہ قندیل تبسم

    خدمت انسانیت سے رضائے الہی کا حصول

    حافظہ قندیل تبسم

    اللہ تعالی نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید میں فرمایا :
    "واحسنوا ان اللہ یحب المحسنین”
    اور اچھائی کرو بلاشبہ اللہ تعالی اچھائی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    "اگر میں اپنے بھائی کے کسی کام آ جاؤں تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں اپنی اس مسجد میں ایک ماہ اعتکاف کروں۔
    اور فرمایا :
    "ومن کان فی حاجة اخيه ،كان الله فى حاجته”
    ” جو اپنے بھائی کے کام میں لگا رہتا ہے ہے اللہ اس کے کام میں لگا رہتا ہے۔”

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستے میں چل رہے ہوتے کوئی لونڈی آپ کو ٹھہرا لیتی اور کہتی :
    مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے تو آپ کھڑے ہو کر اس کی بات سنتے۔ ایسا بھی ہوتا کہ آپ اس کے ساتھ اس کے آقا کے ہاں چلے جاتے اور اس کا مسئلہ حل کراتے۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے میل جول رکھتے اور ان کے مصائب و آلام پر صبر کرتے تھے آپ کا لوگوں سے برتاؤ نہایت رحیمانہ تھا آپ انہیں اور اپنے آپ کو جسد واحد سمجھتے تھے غریب کی غربت، غمزدہ کے غم، مریض کے مرض اور محتاج کی محتاجی کا احساس رکھتے تھے۔

    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے صحابۂ کرام سے باتوں میں مشغول تھے کہ دور سے چند لوگ آتے دکھائی دیے۔ وہ فقراء و مسکین تھے جو نجد کی جانب سے آئے تھے ان کا تعلق قبیلۂ مضر سے تھا۔ ناداری کی انتہا یہ تھی کہ انہیں کپڑے سلائی کرنے کو سوئی دھاگا بھی میسر نہیں تھا اور انہوں نے کپڑے درمیان سے چاک کر کے گردنوں میں لٹکا رکھے تھے اس ایک کپڑے کے علاوہ ان میں سے کسی کے پاس کوئی تہبند، عمامہ، شلوار یا چادر نہیں تھی۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ عریانی، تنگ دستی اور بھوک دیکھی تو آپ کا رنگ فق ہو گیا فوراً کھڑے ہوئے گھر تشریف لے گئے لیکن کچھ نہ ملا آپ اس گھر سے نکلے اور دوسرے گھر میں داخل ہوئے ادھر بھی کچھ نہیں تھا پھر مسجد کی طرف چل پڑے۔ ظہر کی نماز پڑھائی اور منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ اللہ تعالی کی حمدوثنا بیان کی اور فرمایا :
    "اما بعد، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں فرمایا :
    اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔ اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناتے توڑنے سے بچو بے شک اللہ تم پر نگہبان ہے۔ (سورۃ النسآء 1)
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص دیکھ لے کہ کل (قیامت) کے لیے اس نے( اعمال کا )کیا (ذخیرہ) بھیجا ہے اور (ہر وقت) اللہ سے ڈرتے رہو۔ یقیناً اللہ تمہارے سب اعمال سے با خبر ہے۔ (الحشر 18)

    اسی طرح آپ آیات سنا سنا کے نصیحت کرتے رہے پھر فرمایا :
    صدقہ کرو اس سے پہلے کہ تم صدقہ نہ کر سکو۔ صدقہ کرو اس سے پہلے کہ تمہیں صدقہ کرنے سے روک دیا جائے۔ ہر شخص اپنے درہم و دینار گندم اور جو کا صدقہ کرے اور کوئی صدقے کی کسی چیز کو حقیر نہ جانے۔
    پھر آپ صدقے کی انوع گنواتے رہے۔ آخر میں فرمایا :
    صدقہ کرو خواہ آدھی کھجور ہی کا ہو۔ اس پر انصار کا ایک آدمی اپنے ہاتھ میں ایک تھیلی لیے کھڑا ہوا اس نے وہ تھیلی منبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا دی۔ آپ کے مبارک چہرے پر خوشی کے آثار دکھائی دیے۔ مجلس برخاست ہوئی ۔ لوگ اپنے اپنے گھروں کو گئے اور صدقات لے کر آئے کوئی ایک دینار لے کر آیا تو کوئی ایک درہم۔ کوئی ایک کھجور لایا اور کوئی کپڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو ڈھیر لگ گئے۔ ایک ڈھیر کھانے پینے کی اشیاء کا اور دوسرا کپڑوں کا۔ یہ منظر دیکھ کر آپ کا چہرہ دمکنے لگا گویا چاند کا ٹکڑا ہو۔ آپ نے یہ سارا سامان انہیں فقراء میں تقسیم کر دیا۔
    جی ہاں!
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ضروریات پوری کر کے ان کے دل جیت لیتے تھے۔ آپ ان کے لیے اپنا مال، اپنا وقت اور اپنی کوشش صرف کرتے تھے۔
    آپ بھی لوگوں کی ضروریات پوری کر کے اور ان کے کام آ کے اس راستے سے ان کے دلوں میں داخل ہو سکتے ہیں۔ بے لوث ہو کر کام آئیں وہ آپ سے محبت کریں گے۔ آپ کے لیے دعا گو رہیں گے اور جب کبھی آپ کو ضرورت پڑے گی آپ کی مدد کو آئیں گے۔

    کسی عرب شاعر نے کہا تھا :
    احسن الی الناس تستعبد قلوبھم
    فظالما استعبد الانسان احسان
    لوگوں سے اچھائی کرو تم ان کے دلوں کو اپنا غلام بنا لو گے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ احسان انسان کو اپنا بنا لیتا ہے۔

    ایک عربی کہاوت بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔
    (الانسان عبد الاحسان)
    "انسان احسان کا بندہ ہے ۔”

    الغرض پریشان اور ضرورت مند لوگوں کی حاجت براری کر کے ہم ان کے دلوں میں گھر کر سکتے ہیں اور مالک الملک کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔
    بقول اقبال

    خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
    میں اس کا بندہ بنوں گا جسے خدا کے بندوں سے پیار ہو گا