Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • وزیراعظم عمران خان نے ارطغرل غازی کے علاوہ ایک اور ترک ڈرامے کو پاکستان میں نشر کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا

    وزیراعظم عمران خان نے ارطغرل غازی کے علاوہ ایک اور ترک ڈرامے کو پاکستان میں نشر کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا

    وزیر اعظم عمران خان کی خواہش پر اسلامی فتوحات کی تاریخ پر مبنی ترکی کے شہرہ آفاق ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘ کو اردو زبان میں ڈب کر کے پاکستان میں پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر یکم رمضان المبارک سے ڈرامے کی نشریات شروع کی

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم عمران خان کی خواہش پر ترکی کے شہرہ آفاق ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘کی پاکستان میں پی ٹی وی پر یکم رمضان المبارک سے نشریات شروع کی گئیں دیریلیش ارطغرل‘ کو پی ٹی وی پر نشر کیے جانے کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے بھی خصوصی پیغام جاری کیا تھا اور انہوں نے ترک ڈرامے کو نہ صرف اسلامی بلکہ پاکستانی ثقافت و تاریخ کے بھی قریب قرار دیا تھا

    پاکستانی وزیراعظم نے ’دیریلیش ارطغرل‘ کو نشر کیے جانے پر خوشی کا اظہار بھی کیا تھا کہ یہ لازم ہوگیا تھا کہ اسلامی فتوحات کی تاریخ پر مبنی ڈرامے کو پی ٹی وی پر نشر کیا جائے تاکہ پاکستان کی نئی نسل اپنی تاریخ سے وابستہ ہو

    پاکستان میں مذکورہ ڈرامے کی بے حد مقبولیت کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نے اپنے ایک اور پسندیدہ ڈرامے کو ملک میں نشر کروانے کی خواہش کا اظہار کردیا وزیر اعظم عمران خان چاہتے ہیں کہ ترکی کا ایک اور معروف ڈرامہ ’یونس امرے‘ بھی پاکستان میں نشر کیا جائے

    سینیٹر فیصل جاوید خان نے اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اسلامی تاریخ کی اہم شخصیت کی زندگی پر بنائے گئے ڈرامے ’یونس امرے‘ کو بھی پاکستان میں نشر کیا جائے تاکہ عوام اپنی تاریخ سے واقف ہوں

    یونس امرے‘ ڈرامے کو ترکی کے سرکاری ٹی وی چینل ٹی آر ٹی ون نے بنایا تھا اور اس ڈرامے کا پہلا سیزن 2015 میں جب کہ دوسرا سیزن 2016 میں نشر کیا گیا تھا اور ڈرامے کی مجموعی طور پر 41 اقساط تھیں اس ڈرامے کو بھی ترکی کے علاوہ دیگر اسلامی ممالک اور خصوصی طور پر مشرق وسطیٰ میں کافی پسند کیا گیا

    ’یونس امرے‘ ڈراما دراصل 13 ویں صدی کے ترک صوفی شاعر یونس امرے کی زندگی پر بنایا گیا ہے یونس امرے سلطنت عثمانیہ سے 200 سال قبل پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے اناطولیہ زبان ادب و ثقافت پر گہرے اثرات چھوڑے، وہ عربی، فارسی و ترک زبان پر عبور رکھنے والے ایک شاعر گھرانے میں پیدا ہوئے اس لئے ان کا رحجان شاعری کی طرف تھا

    امید کی جا رہی ہے کہ وزیر اعظم کی جانب سے ’یونس امرے‘ ڈرامے کو پاکستان میں نشر کروانے کی خواہش کے اظہار کے بعد ممکنہ طور پر مذکورہ ڈرامے کو بھی پی ٹی وی پر نشر کیا جائے گا تاہم اس میں کافی عرصہ لگ سکتا ہے

    ترک سیریز ارطغرل غازی یکم رمضان سے پی ٹی وی پر نشر کی جائے گی

    ہمیں اپنی تاریخ اور ہیروز کو تلاش کرنا چاہیئے ارطغرل غازی کو پی ٹی وی پر نشر کرنے پر شان شاہد کی تنقید

    ارطغرل غازی کے نشر کئے جانے کے موقع پر وزیراعظم عمران خان کا خصوصی پیغام

  • راجہ داہر ہیرو نہیں بلکہ ایک ظالم انسان تھا  صدر جموں و آزاد کشمیر مسعود خان

    راجہ داہر ہیرو نہیں بلکہ ایک ظالم انسان تھا صدر جموں و آزاد کشمیر مسعود خان

    گذشتہ روز دس رمضان المبارک سے نامور سپہ سالار کے راجہ داہر پر حملے اور اس کی ہلاکت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر سندھی قوم پرست حلقوں ۔ این جی اوز اور ملک کے سیکولر و لبرل حلقوں کی جانب سے راجہ داہر کو سندھ کا بیٹا قرار دے کر قومی ہیرو بنانے کی مہم چلائی جا رہی ہے ۔ یہ پاکستانی سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہے

    باغی ٹی وی: ارض پاک میں ہر روز کسی نہ کسی نئے شگوفے کا سامنا ہے کہیں اسرائیل کے جھنڈے اسلام آباد میں نصب ہو رہے ہیں ۔ رنجیت سنگھ کا مجسمہ لاہور لگایا گیا اور اب سندھ میں راجہ داہر کو ہیرو بنانے کی مہم ہے راجہ داہر کو ایک منصف ، سندھ کا بیٹا اور کامیاب حکمران کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ۔ جسے ایک ” بیرونی عرب حملہ آور” محمد بن قاسم نے شکست دے کر ہلاک کر دیا تھا ۔
    دراصل یہ برصغیر میں اسلام کی آمد کے خلاف "دلی بغض” تکلیف اور دکھ کے اظہار کی ایک کوشش ہے ۔ اسلام کی آمد پر تنقید کی بجائے محمد بن قاسم کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

    راجہ داہر کو ہیرو بنا کر دراصل ایک اسلامی ہیرو کو متنازعہ کرنے کی کوشش ہے ۔ یہ سب ایک خاص حلقے کی جانب سے کیا جا رہا ہے اس مہم کے تحت اپنی مرضی کے تاریخ دانوں کے حوالوں کے ذریعے ایسے تمام واقعات کو ہی جھوٹا قرار دیا گیا ہے جن میں راجہ داہر کے بارے منفی تاثر پیدا ہو اس دور میں لکھی گئی کتابوں جن میں راجہ داہر کی جانب سے عرب جانیوالے ایک قافلے کی لڑکیوں کو یرغمال بنانے ، اپنی بہن سے شادی رچانے اور عوام پر ظلم و ستم کے واقعات درج ہیں ان سب کو مسترد کرکے موجودہ دور کے ایسے من پسند تاریخ دانوں کے حوالے دئیے گئے ہیں جن میں جی ایم سید وغیرہ شامل ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ عالمی میڈیا اور کچھ این جی اوز اب یہ مطالبہ شروع کرانے کی کوشش میں ہیں کہ سندھ میں اسلام کے فروغ کا باعث بننے والے محمد بن قاسم کو ولن اور راجہ داہر کو ہیرو بنا کر پیش کیا جائے ۔


    یو جے سعدی نامی خاتون صارف نے ان لبرل لوگوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے لکھا کہ 10 رمضان ، یوم بل اسلام ، اس دن جب اسلام برصغیر میں ایک عظیم نوجوان ہیرو محمد بن قاسم کی آمد کے ساتھ آیا ، جو راجہ داہر کے ہاتھوں اغوا کیے گئے لوگوں کی مدد کرنے آیا تھا۔ وہ لڑکی ناہید کے لکھے ہوئے خط کے جواب میں آیا
    https://twitter.com/SaadiUj/status/1257251711548305408?s=20
    انہوں نے مزید لکھا کہ اور وہ لوگ جو 10 رمضان المبارک کے دن کو دہر کے لئے سب سے زیادہ مبارک دن منارہے ہیں ، انھیں شرم آنی چاہئے ، اگر محمد بن قاسم نہ آتے تو ، آپ لوگ بھی آج مسلمان نہ کہلاتے-


    یو جے سعدی کی ٹویٹ کے جواب میں آزاد جموں و کشمیر کے صدر مسعود خان نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے اپنا خیالات کا اظہار کیا اور لکھا کہ راجہ داہر ہیرو نہیں تھا۔ ایک ظالم انسان تھا ، اس نے ظلم کیا۔ نوجوان ہیرو محمد بن قاسم انسانیت کو بچانے کے لئے دنیا کے اس حصے میں آئے تھے۔

    دوسری جانب کچھ لبرل لوگ راجہ دہر کو ہیرو اور مسلم عظیم سپہ سالار محمد بن قاسم کو ولن قرار دے رہے ہیں

    https://twitter.com/OthoMujeeb/status/1257268969582596096?s=20
    ایک صارف مجیب اوٹھو نے لکھا کہ 10 رمضان المبارک.آج کے دن لٹیرے، قاتل، ڈاکو محمد بن قاسم نے سندھ دھرتی پے حملا کیا، لوٹ مار کی اور سندھ کی عصمت پائمال کی.اور اس رھزن سے لڑتے لڑتے راجہ داھر سندھ پے قربان ہوئے گئے.راجہ ڈاھر کی عظمت کو سلام!


    علی رضا نامی صارف نے لکھا کہ آپ سے گزارش ہے کہ حقیقی تاریخ کا مطالعہ کیجیئے۔ درسی کتب میں نسیم حجازی نامی بد بخت کے ناول پر مبنی جھوٹی تاریخ درج ہے۔ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ محمد بن قاسم کو حجاج بن یوسف ملعون نے سندھ بھیجا تھا آل رسول کا نام و نشان مٹانے۔ وہ کوئی ہیرو نہیں ظالم تھا۔


    اس صارف کی ٹویٹ کے جواب میں طلحہ شہباز نامی صارف نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا کہ اور راجی داہر تو آل رسول کا محافظ تھا ہے ناں

    واضح رہے کہ گذشتہ روز دس رمضان المبارک سے سے نامور سپہ سالار کے راجہ داہر پر حملے اور اس کی ہلاکت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر سندھی قوم پرست حلقوں ۔ این جی اوز اور ملک کے سیکولر و لبرل حلقوں کی جانب سے راجہ داہر کو سندھ کا بیٹا قرار دے کر قومی ہیرو بنانے کی مہم چلائی جا رہی ہے اور یہ سب کچھ گذشتہ سال سے ایک خاص حلقے کی جانب سے کیا جا رہا ہے

    مسلمان اپنے رول ماڈل کے مطابق زندگی گزاریں تو انکی زندگی سنور جائے، رحمت ہی رحمت رمضان ٹرانسمیشن میں گفتگو

    حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی زندگی نہ صرف خواتین بلکہ مردوں کیلیے بھی مشعل راہ، رحمت ہی رحمت ٹرانسمیشن میں گفتگو

  • ارتغرل ترکی یا سعودی اورصوفی و سلفی کی لڑائی نہیں اگر طبع سلامت ہو تو بہت کچھ خیر بھی ہے اس میں ؛بقلم: فلک شیر چیمہ

    ارتغرل ترکی یا سعودی اورصوفی و سلفی کی لڑائی نہیں اگر طبع سلامت ہو تو بہت کچھ خیر بھی ہے اس میں ؛بقلم: فلک شیر چیمہ

    ارتغرل ترکی یا سعودی اورصوفی و سلفی کی لڑائی نہیں اگر طبع سلامت ہو تو بہت کچھ خیر بھی ہے اس میں
    بقلم: فلک شیر چیمہ

    "دیریلیش ارطغرل” بین الاقوامی برانڈ بن چکا ہے اور رمضان کے آغاز سے پی ٹی وی پہ اردو ڈبنگ کے ساتھ دکھایا جا رہا ہے ، سو میں نے چاہا کہ مکمل سیریز دیکھنے کے دوران چند نکات جو میں نے اخذ کیے ، وہ یہاں اس تھریڈ کی صورت پیش کر دوں

    ارطغرل سیریز میں پیش کردہ واقعات کی تاریخی حیثیت پہ میں کچھ نہیں کہوں گا، کیوں کہ یہ فکشن ہے ، البتہ اس کا مقصد یقیناً بھلا ہے۔ یہ ترکی کیمپ یا سعودی کیمپ کی چیز نہیں ہے ۔ یہ صوفی و سلفی کی لڑائی میں سے ایک کا ہتھیار بھی نہیں ہے ، اگر طبع سلامت ہو تو بہت کچھ خیر اس میں ہے

    یہ سیریز آئندہ کے لیے ایسے ایوینیوز کے رستہ کو بھی کشادہ کرتی ہے ۔ نکات کی یہ فہرست نامکمل ہے اور اس میں سے کئی نکات سے احباب اختلاف بھی کر سکتے ہیں ۔ لیکن سر دست یہ جہاں ہیں ، جیسے ہیں ، کی بنیاد پہ پیش کی جا رہی ہے ، بعد ازاں اس میں اضافہ و تدوین ممکن ہے

    1) میڈیا کے میدان میں تحرک ابھی بھی اسلامی دنیا نے اپنی ترجیحات میں کافی پیچھے اور نیچے رکھا ہوا ہے ، یہ فی زمانہ کم از کم بلنڈر کے درجہ کی چیز ہے

    2) نئی نسل کی فطرت کے قریب نشوونما کے لیے روایتی تعلیمی ڈھانچوں کو توڑ کر کچھ نیا اور انقلابی کرنے کی ضرورت ہے ، یہ دو چار دن کی بات نہیں ، اربوں کے پراجیکٹ نہیں ، آؤٹ آف باکس سوچ کر زندگیاں وقف کرنے والے چند سو رضاکاروں کاکام ہو سکتا ہے سرِ دست ۔

    3) خواتین جسدِ کائنات میں روحِ جمال پھونکنے پہ مامور ہیں اور مرد اُن کی لطافت اور پاکیزگی سے حالات کی سختی سے نمٹتا اور اخلاق کی پاکیزگی پاتا ہے۔ سچ ہے کہ ٹیڑھی پسلی سے عورت پیدا کی گئی ہے ، مگر یہ بھی سچ ہے کہ مرد کو سیدھا رکھنے میں اس کجی کا بھی ایک کردار ہے۔ اچھی مائیں اچھے گھر بناتی ہیں اور اچھے بیٹے معاشرے کو عطا کرتی ہیں ۔

    4) سکرین ہر فرد کی زندگی کا ناگزیر حصہ بن چکی ہے ، اسے نظرانداز کرنا 5) معلوم ہے کہ ظلم کی بنیاد پہ عظیم فتوحات محض دہائیوں صدیوں تک محدود رکھی جا سکتی ہیں اور عدالت و مرحمت ہی انسانی معاشروں میں قائم و دائم انقلابات اور حکومتی ڈھانچوں کو سہار سکتے ہیں ۔

    عدالت و مرحمت کا فریم ورک جس معاشرے اور ریاست سے غائب ہو گا، وہاں چاہے جو بھی نام بورڈ پہ لکھ لیجیے ، جو بھی بینر آویزاں کر لیجیے ، جو بھی قانون سازی کر لیجیے ، اسے زیادہ دیر بقا حاصل نہ رہے گی۔

    6) تحاریک اپنے کارکنان ، حکومتیں اپنے عمال و ارکان ، تعلیمی ادارے اپنے طلاب و طالبات اور ہر گھر کا سربراہ محبت اور حکمت سے اپنے اہل خانہ کو فطرت کے جس قدر قریب رکھ سکے ، یہ اس کی دنیوی و اخروی کامیابی کا پہلا اور اہم ترین زینہ ہو گا۔ یہ اشارہ ہے، خوراک سے لباس ، مشاغل سے تعلقات۔

    7) علمائے کرام، جو ایمانداری سے یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کے مختلف گروہوں کے عقائد و عبادات میں فلاں فلاں خامیاں ہیں ، انہیں ان کی نشاندہی ضرور فرمانی چاہیے، لیکن پہلے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ کہیں وہ اہل اسلام کے گریٹر کاز کو تو نقصان تو نہیں پہنچا رہے کہیں وہ اخلاق حسنہ سے ہاتھ تو نہیں دھو بیٹھے ، کہیں وہ مسلمانوں کو ہر محلے اور ہر گلی کی بنیاد پہ ایک دوسرے سے اس قدر متنفر تو نہ کر دیں گے کہ وہ کفار سے تو ہاتھ ملانا پسند کریں اور اپنے کلمہ گو بھائی سے سلام لینا بھی گوارا نہ کریں

    8) ۔ علمائے کرام کو اپنے کردار کا خیمہ دعوت ، تزکیہ اور بصیرت افروزی کے ستونوں پہ کھڑا کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ وہاں اس غرض سے آنے والے سیاست، معیشت اور عدالت کے میدانوں میں وحی کے نمائندہ و پروردہ بن کر کھڑے ہو سکیں

    9) مسلمانوں کی سرزمینوں کی محافظت کو دینی فریضہ سمجھنا عین شرعی و اسلامی ہے ، اسے کسی "موعود عالمی تحریک” کی خاطر مؤخر نہیں کیا جا سکتا، اس کی اہمیت کم نہیں کی جا سکتی اور اس فریضے پہ فائز حکام کو ان کی دیگر کمزوریوں اور خرابیوں کی وجہ سے مکمل ملعون و مطعون کرنا مناسب نہیں۔ ان گروہوں اور افواج کی کمیوں کوتاہیوں کو درست کرنا اور ان کی اصلاح کی کوشش کرنا لازم ہے ، وہ آہستہ آہستہ ان بنیادوں پہ نہ ہونے لگے ، جس پہ دین بیزار، وطن بیزار ۔ ان کی اصلاح ایسے ہو، جیسے مریض کی، جسے اپنے مرض سے گویا پیار سا ہو چکا ہے ، جیسے وحشی کو وحشت اور نشہ باز کو نشہ سے

    10) ہر چیز بتانے کی اور نمائش کی نہیں ہوتی ۔ آپ کیا کھاتے ہی ، آپ کی ملکیت میں کون سی سواری ہے، بچے کیا پسند کرتے ہیں ، انہوں نے کب کیا تخلیق کیا ان کی صلاحیتیں کیا ہیں ، آپ کی صلاحیتیں اور حسرتیں کیا ہیں ، اس کی چوک چوراہے پہ ہمہ وقت تشہیر شخصیت کو ایک "کھلا راز” بنا دے گی ۔

    11) گاہے فرد ہی امت ہوتا ہے ، لیکن امت وہی ہوتی ہے ، جو مثل ایک فرد ہو۔

    12) حق پہ کھڑے تھوڑے لوگ ،منافقت اور خیانت پہ قائم کثیر سے ہمیشہ افضل ہوتے ہیں اور حقیقی کامیاب بھی ۔

    13) والدین کا اولاد سے دُوری ، جعلی رعب اور ڈنڈے کا تعلق اُسے کبھی بھی مفید، مثبت اور پراعتماد نہیں بنا سکتا۔

    14) شجاعت ، جسارت اور قیادت لازم و ملزوم ہیں ۔

    15) جنگ جیتنے کے لیے سو من عقل اور ایک من جذبہ درکار ہوتا ہے ۔

    16) محبت ، نے نوازی اور فداکاری امیر سے مامور اور حاکم سے محکوم کی طرف سفر کرتی ہے ، تبھی یہ جذبہ دوطرفہ بنتا ہے ۔

    17) دسترخوان اور اس کے آداب، معاشرہ بتاتے بھی ہیں اور بناتے بھی۔

    18) کسی بھی فرد کے تمام وظائٖف میں سے اہم ترین اس کا خاندان اور اولاد ہے ۔ اگر خاندان کا ادارہ کسی معاشرے میں مؤثر ہے، تو معاشرہ کے بارے میں بھی ایسی ہی امید رکھی جا سکتی ہے ۔ کوئی اور اصلاحی، تعلیمی اور اخلاقی نیٹ ورک "گھر” اور "خاندان” کی جگہ نہیں لے سکتا ۔

    19) اولاد کو اگر آپ وقت ، پیار نہیں دیں گے ، تو آپ انہیں کھو دیں گے ۔ محبت کا کوئی نعم البدل نہیں ، بالخصوص اولاد اور ماں باپ کے رشتے میں ۔ اس وقت اور پیار کا مطلب ہر جائز ناجائز خواہش پورا کرنا نہیں ، خود مثال بننے کے علاوہ والدین کے پاس کوئی چارہ نہیں ۔

    20) خاتون گھر میں مثل کمان کے ہوتی ہے، اپنے تیروں کو سمیٹتی ہے، سنبھالتی ہے ، طاقت دیتی ہے، باہر والوں کے لیے ایک وقار سے تنی رہتی ہے ۔ اس بیک وقت جلال و جمال سے مرد زندگی کے ہر ہر شعبے میں اپنے اہداف کو پاتے ہیں ، آگے بڑھتے ہیں اور معاشرہ کو ایک بڑا اور خوشحال گھر بناتے ہیں

    21) بہادری کمطلب ہمہ دم نئے نئے محاذ کھولنا ہی نہیں ، کبھی رکنا، رکے رہنا، موقع تلاش کرنا بھی اسی میں شامل ہے ۔ اور یہ تو معلوم ہی ہے کہ گاہے رک جانے والے والا بڑا بہادر ہوتا ہے بہ نسبت پھٹ پڑنے والے کے ۔

  • غنی ٹائیگر کے والد کے قتل میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    غنی ٹائیگر کے والد کے قتل میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    سیالکوٹ کی تحصیل پسرور سے تعلق رکھنے والے ٹک ٹاک سٹار غنی ٹائیگر نے اپنی ٹک ٹاک ویڈیو میں روتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کے والد کو کچھ افراد نے بےدردی سے قتل کردیا جبکہ ان کے بھائی پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا ہے

    باغی ٹی وی : سیالکوٹ کی تحصیل پسرور سے تعلق رکھنے والے غنی ٹائیگر نے اپنی ٹک ٹاک ویڈیو میں روتے ہوئے بتایا تھا کہ میری آنکھوں کے سامنے میرے والد کو گزشتہ روز قتل کردیا گیا ان کا کوئی قصور نہیں تھا ان لوگوں کے پاس اسلحہ تھا وہ میرے ابو مجھے اور میرے بھائی کو مارنے آئے تھے
    https://www.instagram.com/p/B_v4zW3pSEW/?igshid=5hqlpl5a9mml
    غنی ٹائیگرنے مزید بتایا کہ اس حملے میں میں بچ گیا میرے ابو کو راڈ سے سر پر مارا اور پھر ان کے سر میں گولی مار دی میرے بھائی کے پاؤں پر گولی لگی

    ٹک ٹاک اسٹارنے اپنی ویڈیو میں انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے ابو ایک اچھے انسان تھے انہوں نے کبھی کسی کو کچھ نہیں کہا میری ماں صدمے میں ہے میرا بھائی ہسپتال میں ہے میرے ابو قبر میں ہیں میری زندگی تباہ کرنے والے میرے پاکستانی ہی ہیں

    سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ٹویٹر پر’جسٹس فار داؤد‘ کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگا جس کا استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین سمیت کئی معروف شخصیات نے بھی غنی ٹائیگر سے ہمدردی کا اظہار کیا اور انصاف کے لئے حکومت سے اپیل کی

    جس کے بعد وزیراعلی پنجاب کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا اظہر مشوانی نے ٹوئٹر پر بتایا کہ پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا جبکہ 2 زخمی حالت میں ہسپتال میں ہیں


    انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ دو فریقوں کے مابین کراس فائرنگ کا واقعہ تھا

    اظہر مشوانی نے اپنے ٹوئٹر پر ایک اور ویڈیو بھی جاری کی جس میں غنی ٹائیگر نے سیالکوٹ پولیس کے تعاون کا شکریہ بھی ادا کیا

    ویڈیو میں غنی ٹائیگر نے بتایا کہ میرا نام غنی ٹائیگر ہے، جیسے کہ آپ جانتے ہیں 2 تاریخ کو بڑی بےدردی کے ساتھ میرے والد صاحب کو قتل کیا گیا جس کے بعد میں نے ویڈیو بھی پوسٹ کی میں مکمل طور پر ہوش و حواس میں نہیں تھا مجھے نہیں معلوم کہ میں نے اس ویڈیو میں کیا کہا اس کے باوجود سیالکوٹ پولیس نے ہمارے ساتھ تعاون کیا ہمیں تحفظ فراہم کیا


    ٹک ٹاک سٹار کے مطابق پولیس نے تین ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے

    ویڈیو کے آخر میں انہوں نے پولیس ،ڈی پی او ڈی سی اواور ایس ایچ او اور پوری قوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا انہوں نے میرے لئے آواز بلند کی غنی نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ انشاءاللہ مجھے انصاف ضرور ملے گا

    ٹک ٹاک سٹار کے والد کا قتل، انصاف کے لئے دی دہائی

  • علیزے شاہ کا نعمان سمیع کی سالگرہ پر محبت بھرا پیغام

    علیزے شاہ کا نعمان سمیع کی سالگرہ پر محبت بھرا پیغام

    پاکستان کی معروف اداکارہ علیزے شاہ نے سوشل میڈیا پراداکار نعمان سمیع کے لیے محبت بھرا پیغام لکھ دیا

    باغی ٹی وی : پاکستان کی معروف اداکارہ علیزے شاہ نے سوشل میڈیا پراداکار نعمان سمیع کے لیے محبت بھرا پیغام لکھ دیا اداکار نعمان سمیع کی سالگرہ کے موقع پر پاکستان معروف اداکارہ علیزے شاہ نے انسٹاگرام پر نعمان سمیع کی سالگرہ کی ایک تصویر شیئر کی

    علیزے شاہ نے انسٹاگرام پر یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ میں اپنی خوش قسمتی پر یقین نہیں کرسکتی کہ مجھے آپ جیسا بہترین دوست ملا
    https://www.instagram.com/p/B_uKHlxph04/?igshid=ioqw0ydy808s
    اداکارہ نے لکھا کہ آپ میری زندگی کو ہر دن خاص بناتے ہیں

    انہوں نے نعمان سمیع کو دعا دیتے ہو ئے لکھا کہ اللہ آپ کو زندگی کی سب سے بڑی خوشیوں اور کبھی نہ ختم ہونے والی خوشی سے نوازے

    نعمان سمیع نے لکھا کہ میں ان لوگوں میں سے ایک ہوں جو خوش قسمت ہیں انہوں نے لکھا کل رات سالگرہ کے حیرت انگیز سرپرائز کے لیے آپ کا بہت شکریہ

    واضح رہے کہ اس سے قبل علیزے شاہ نے سوشل میڈیا پر نعمان سمیع سے اظہار محبت کیا تھا

    عارضی دوری کے بعد مایا علی کی سوشل میڈیا پر واپسی

    متنازع سعودی ٹی وی سیریز ’ام ہارون‘ شدید تنقید کی زد میں

  • مسئلہ کشمیر آئینی معاملہ نہیں بلکہ تسلیم شدہ عالمی تنازعہ ہے: الطاف وانی

    مسئلہ کشمیر آئینی معاملہ نہیں بلکہ تسلیم شدہ عالمی تنازعہ ہے: الطاف وانی

    پریس ریلیز
    پیر ، 5 مئی 2020

    مسئلہ کشمیر آئینی معاملہ نہیں بلکہ تسلیم شدہ عالمی تنازعہ ہے: الطاف وانی
    لیبر پارٹی کے سربراہ کو کشمیر بارے اپنی دانشمندی پر نظر ثانی کرنی ہوگی

    اسلام آباد: جموں و کشمیر کے معاملے پر یوکے لیبر پارٹی کے رہنما سر کیر اسٹارمر کے حالیہ بیان کو یکسرمسترد کرتے ہوئے، حریت رہنما اور سینئر وائس چیئرمین جموں کشمیر نیشنل فرنٹ الطاف حسین وانی نے اسٹارمر کو یہ یاد دلادیا ہے کہ کشمیر اقوام متحدہ میں تسلیم شدہ تنازعہ ہے جسے حق خود ارادیت کے عالمی طور پر قبول شدہ اصول کی بنیاد پر پرامن طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

    جے کے این ایف کے رہنما نے لیبر پارٹی کے رہنما کے نام ایک خط میں کہا، ”کشمیر کسی بھی طرح سے ہندوستان کے لئے آئینی معاملہ نہیں ہے لیکن یہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں زیر التواء قدیم حل طلب مسائل میں سے ایک ہے۔ اقوام متحدہ کی درجن سے زیادہ قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے،وانی نے کہا کہ متفقہ طور پر تسلیم شدہ یہ قراردادیں کشمیر میں آزادانہ، منصفانہ، غیرجانبدارانہ رائے شماری کے انعقاد پرزوردیتی ہیں۔ مسٹر وانی نے کہا کہ برطانیہ ان ممالک میں سے ایک ہے جنہوں کشمیری عوا م کا حق تسلیم کرتے ہوئے ان تاریخی قراردادوں کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

    یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہندو فورم برطانیہ کی مسز پٹیل کو لکھے گئے خط میں سر کیئر اسٹارمر نے کہا تھا کہ“ہندوستان میں کوئی بھی آئینی امور ہندوستانی پارلیمنٹ کے لئے ایک مسئلہ ہے، اور مسئلہ کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے لئے دو طرفہ مسئلہ ہے جس سے پرامن طریقے سے حل کرنا چاہیے ”۔

    مسٹر وانی نے مسئلہ کشمیر پر اسٹارمر کے متنازعہ تبصرے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں اس خط میں اپنایا گیا موقف نہ صرف حقیقت سے دوربلکہ یہ لیبر پارٹی کی طرف سے پاس کردہ اس قرارداد سے متصادم ہے جس میں انہوں کشمیرمیں Humainitarian Aidاوربین الاقوام مبصرین کی کشمیر میں داخلے کی سفارش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی قرار داد کو گذشتہ سال ستمبر میں پارٹی کی کانفرنس میں اس وقت منظور کیا گیا تھا جب نریندر مودی کی حکومت نے اگست میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تھی۔

    جے کے این ایف رہنما نے کشمیریوں کی اپنی مادر وطن پر زبردستی اور غیرقانونی قبضے کے خلاف دہائیوں کی طویل جدوجہد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ”اس نازک موڑ پر تنازعہ کشمیر کے تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوئی بھی کوشش ان مظلوم و محکوم کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہوگی جنہوں نے حق خود ارادیت کی 70 سالہ طویل جدوجہد کے دوران اپنی تین نسلیں قربان کی ہیں۔

    مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے لئے لیبر پارٹی کی مستقل حمایت کے اعتراف اور ان کی تعریف کرتے ہوئے، مسٹر وانی نے لیبر پارٹی کے سربراہ پر زور دیا کہ وہ کشمیر سے متعلق اپنی جانکاری پر نظر ثانی کرے اور پارٹی کی قابل فخر اور قابل تقلید پالیسی کے اس تسلسل کو جاری رکھے جو انسانی حقوق کے دفاع اوردنیا بھر میں تنازعات کے حل کے حوالے سے حق خودارادیت کو بنیادی راہنماء اصول گردانتی ہے۔

    دریں اثنا، سری نگر جے کے این ایف کے ترجمان نے ایک الگ بیان میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائیوں کے دوران ترجمان نے بتایا کہ قابض فوج نے جنوبی کشمیر میں گذشتہ دو ہفتوں کے دوران آٹھ مختلف کارڈون اور سرچ آپریشن میں 20 نوجوانوں کو شہید کیا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے خطے کی صورتحال کا جائزہ لینے کی اپیل۔ جے کے این ایف کے ترجمان نے کہا ہے کہ رمضان کے مقدس مہینے میں دوہری لاک ڈاؤن میں پھنسے کشمیریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

  • احوال دل احمد علی ہاشمی

    احوال دل احمد علی ہاشمی

    احوال دل
    احمد علی ہاشمی

    اداس سا ہو جاؤں اکثر
    یاد تیری جب آتی ہے
    تیری باتیں یاد کروں میں
    جان میری جب جاتی ہے

    لب پہ ہنسی سی آ جاتی ہے
    تجھ سے جب میں بات کروں
    آنکھیں یہ نم ہو جاتی ہیں
    نظر نہ جب تو آتی ہے

    تیرے ملن کے سپنے دیکھوں
    رم جھم رت جب آتی ہے
    تیری ہی راہ تکتا ہوں میں
    گھنگھور گھٹا جب چھاتی ہے

    تیرا ہجر میں کب تک جھیلوں
    وصل کی خاطر کب تک بہلوں
    تم ہی کہو اے میرے ساجن
    کتنی مدت باقی ہے

    اداس سا ہو جاؤں اکثر
    یاد تیری جب آتی ہے

  • صدف کنول نے انسٹا گرام پر ساری ماڈلز کو پیچھے چھوڑ دیا

    صدف کنول نے انسٹا گرام پر ساری ماڈلز کو پیچھے چھوڑ دیا

    پاکستان کی کامیاب ماڈل صدف کنول نے انسٹاگرام پر باقی ساری ماڈلز کو پیچھے چھوڑ دیا

    باغی ٹی وی :پاکستان کی کامیاب ماڈل صدف کنول نے انسٹاگرام پر باقی ساری ماڈلز کو پیچھے چھوڑ دیا وہ پہلی پاکستانی ماڈل ہیں انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جن کے مداحوں کی تعداد 10 لاکھ ہوگئی ہے
    https://www.instagram.com/p/B_uK3hiArn6/?igshid=1qbg6m9gz3vis
    لکس اسٹائل ایوارڈ جیتنے والی ماڈل نے اس خبر کا اعلان اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پرکرتے ہوئے اپنے مداحوں کا شکریہ بھی ادا کیا اور لکھا کہ ایک سچا پیار ہونا لاکھوں فالوورز سے بہتر ہے

    خیال رہے کہ صدف کنول 2014 سے پاکستانی فیشن انڈسٹری کا اہم حصہ بنی ہوئی ہیں وہ پاکستان کے کامیاب ڈیزائنرز کے فیشن شوز میں شو اسٹاپر کے طور پر جلوہ گر ہوچکی ہیں علاوہ ازیں چند فلموں اور ڈراموں میں اداکاری بھی کی

    انہوں نے 2017 کی فلم ’بالو ماہی‘ میں اہم کردار نبھایا تھا جبکہ اس ہی سال وہ کامیاب فلم ’نامعلوم افراد 2‘ میں ایک گانے میں جلوہ گر ہوئیں

    اکہتر سالہ چینی فیشن ڈیزائینر کی ناقابل یقین تصاویر وائرل

    سشمیتا سین کی ’سورۃ العصر‘ تلاوت کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

  • سلسلہ امہات المؤمنین: 1؛حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا۔ تحریر: جویریہ بتول

    سلسلہ امہات المؤمنین: 1؛حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا۔ تحریر: جویریہ بتول

    سلسلہ امہات المؤمنین:
    1)۔حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا۔
    تحریر:(جویریہ بتول)۔

    رسول اللّٰہ کی بیویاں امہات المؤمنین ہیں۔۔۔
    ان کی سیرت و کردار تمام مسلمانوں کے لیئے بالعموم اور خواتین کے لیئے بالخصوص مشعل راہ ہے۔۔۔
    ہماری حقیقی فلاح اسی بات میں پوشیدہ ہے کہ ہم اپنی ماؤں کی سیرت سے آگہی حاصل کریں اور ان کے عظیم ترین کردار کو اپنانے کی کوشش بھی کریں۔۔۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے اکثریت کو اپنی ماؤں کے نام تک بھی مکمل یاد نہیں ہوتے،جبکہ فلمی دنیا کے کرداروں کے لفظ بہ لفظ نام ہمارے حافظے میں موجود رہتے ہیں۔۔۔؟
    رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عائلی زندگی ہماری اصلاح کا بہترین نمونہ ہے۔۔۔بہترین رفیقِ حیات کا نقشہ ہے۔۔۔
    اس سلسلہ میں ہم اپنی ماؤں۔۔۔۔امہات المؤمنین کے بارے میں کچھ جانیں گے۔۔۔ان شآ ء اللہ۔
    پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جب پہلی شادی کی تو آپ پچیس سال کے بھر پور جوان تھے،لیکن آپ نے نکاح کے لیئے جس خاتون کا انتخاب کیا،ان کی عمر چالیس سال تھی۔۔۔
    معروف ادیب اور عظیم نعمت خواں مرحوم نعیم صدیقی نے اس بات کو کتنے خوب صورت انداز میں لکھا ہے کہ:
    "یہ نوجوان رفیقۂ حیات کا انتخاب کرتا ہے تو مکہ کی نو عمر اور شوخ و شنگ لڑکیوں کو اک ذرا سا خراج نگاہ دیئے بغیر ایک ایسی عورت سے رشتۂ مناکحت استوار کرتا ہے کہ جس کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ خاندان اور ذاتی سیرت و کردار کے لحاظ سے نہایت اشرف خاتون ہے،اس کا یہ ذوق انتخاب اس کے ذہن،روح اور مزاج کی گہرائیوں کو پوری طرح نمایاں کر دیتا ہے۔۔۔”
    ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا مکہ معظمہ میں پیدا ہوئیں،جاہلیت میں آپ کا لقب طاہرہ تھا۔
    آپ قریش کے شریف و معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔۔۔
    آپ کا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا خاندان ایک ہی تھا۔۔۔یعنی قریش۔
    حضرت خدیجہ کا قبیلہ بنو اسد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ کا قبیلہ بنو ہاشم تھا۔
    یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قریش خاندان عرب میں ممتاز خاندان سمجھا جاتا تھا۔۔۔ام المؤمنین حضرت خدیجہ کے خاندان میں لڑکیوں کی پیدائش کو کئی دیگر قبائل کی طرح برا نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ ان کی پرورش محبت سے کی جاتی تھی۔۔۔
    آپ کا گھرانہ تجارت کے پیشہ سے وابستہ تھا۔
    آپ کے والد تجارت کرتے تھے اور اپنا مال بیرون ممالک لے جاتے اور وہاں سے سامان حجاز خرید کر لاتے۔
    حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا نے بھی تجارت کو اختیار کیا۔۔۔
    آپ محنتی اور امانت دار لوگوں کو اپنا مالِ تجارت دے کر فروخت کرنے بھیجا کرتی تھیں۔۔۔یعنی حضرت خدیجہ کے کردار کی روشنی میں مسلمان خواتین کاروبار کا طریقہ سمجھ سکتی ہیں کہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ کس طریقے سے تجارت کرتی تھیں۔۔۔؟
    آپ کی پہلے دو شادیاں ہوئی تھیں،اپنے دوسرے شوہر کی وفات کے بعد آپ نے قریش کے کئی سرداروں کے پیغامِ نکاح مسترد کر دیئے۔۔۔
    یہاں تک کہ وہ رحمت اللعالمین کے نکاح میں آئیں۔۔۔۔

    حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیئے ہر قربانی پیش کی،
    اپنا تن من دھن،مال و زر آپ کی خدمت اقدس میں حاضر کر دیا اور ایثار کا مثالی نمونہ پیش کیا۔
    اپنا مال آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر کے اس کے خرچ کا اختیار بھی آپ صلی اللہ علیہ کو دے دیا۔۔۔
    یہی وجہ ہے کہ
    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب بھی حضرت خدیجہ کا ذکر کرتے تو بہت زیادہ توصیف کرتے،
    حضرت عائشہ فرماتی ہیں،مجھے غیرت آئی تو میں نے فرمایا:
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اکثر ایک سرخ مسوڑھوں والی عورت کا ذکر کرتے رہتے ہیں،حالانکہ اللہ نے آپ کو اس سے بہتر بیوی عطا کی ہے یعنی(حضرت عائشہ)۔۔۔
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    اللّٰہ تعالی نے مجھے اس سے بہتر بیوی عطا نہیں کی،وہ مجھ پر اس وقت ایمان لائیں،جب سب لوگوں نے میرا انکار کیا۔
    اس نے اس وقت میری تصدیق کی،جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا۔
    اس نے اپنے مال و دولت سے میری مدد کی جب دوسروں نے مجھے محروم کیا۔
    اور اللّٰہ تعالی نے مجھے اس سے اولاد کی نعمت عطا کی،جبکہ دوسری بیویوں سے اولاد نہیں ہوئی۔
    (رواہ احمد)۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا کی موجودگی میں،ان کی پچیس سالہ ازدواجی زندگی میں کوئی اور نکاح نہیں کیا۔۔اور یہ عرصہ انتہائی محبت و الفت سے بھر پور گزرا۔۔۔
    اسی تعاون بھری زندگی کا نتیجہ تھا کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عمر بھر ان کی نیکیاں بیان کرتے رہے۔۔۔
    کفار مکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے بدکنے لگے اور ان کا کچھ اثر نہ لیا،تو اس سخت اذیت کے ماحول میں حضرت خدیجہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ڈھارس بندھاتیں۔
    اس صاحبہ فراست خاتون نے ہر تکلیف کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی و تشفی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔
    نزول وحی کے وقت گھبراہٹ کے موقع پر آپ رضی اللّٰہُ عنھا نے ان الفاظ میں رسول اللہ کو تسلی دی کہ:
    اللّٰہ تعالی آپ کو ہر گز رسوا نہیں کرے گا،آپ صلہ رحمی کرتے ہیں،یتیموں،ناداروں کا خیال رکھتے ہیں،مہمان نوازی کرتے ہیں،مصیبت زدگان کی مدد کرتے ہیں۔۔۔ !!!
    اپنے مال سے تکلیف زدہ مسلمانوں کاخیال رکھنے ،اسلام کی راہ میں عظیم قربانی اور کردار ادا کرنے والی ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا کے کردار کی اللہ رب العزت نے کتنی قدر دانی کی کہ
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا اے اللہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم !
    یہ خدیجہ ہیں جو کھانے کا برتن آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس لا رہی ہیں،
    جب وہ آپ کے پاس آئیں تو انہیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہیں اور میری طرف سے بھی۔
    اور انہیں جنت میں موتیوں کے محل کی خوشخبری دیجیئے،جس میں شوروغل ہے اور نہ کوئی تکلیف و تھکاوٹ۔۔۔”
    (صحیح بخاری)۔
    دنیا میں جنت کی بشارت پانے والی پہلی خاتون سے رسول اللہ کو بہت زیادہ محبت تھی۔۔۔
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ کے رشتہ داروں کی عزت کیا کرتے تھے،آپ کی سہیلیوں کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے،آپ کی سہیلیوں کے گھروں میں کھانا بھجواتے۔
    حضرت خدیجہ سب سے پہلے ایمان لائیں،مسلمان بنیں اور سب سے پہلے پہلی وحی کو تسلیم کیا۔۔۔ان منفرد اعزازات کی حامل،اپنی غمگسار و ہمدرد بیوی کی وفات پر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بہت رنجیدہ ہوئے،
    اور اس صدمہ کی ہی مناسبت سے نبوت کا دسواں سال عام الحزن کہلایا۔۔۔ !!!
    آپ رضی اللّٰہُ عنھا نے 10 رمضان المبارک 10 نبوی میں وفات پائی۔۔۔
    اولاد میں بیٹے کم عمری میں ہی اللہ کو پیارے ہو گئے۔۔۔
    اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا کی چاروں بیٹیاں،زینب،رقیہ،ام کلثوم اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھن تھیں جن میں سے حضرت زینب ابو العاص،حضرت رقیہ و ام کلثوم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔
    (رضی اللہ عنھا)۔
    اللّٰہ تعالی ہم مسلمان مردوں،عورتوں کو اپنی زندگیاں اپنے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا کے عظیم کردار کی روشنی میں گزار کر ابدی فلاح سے ہمکنار ہونے کی توفیق بخشے۔
    دین اسلام کی ترویج و اشاعت کی خاطر ایسے ہی جذبۂ قربانی سے مالا مال فرمائے۔آمین۔
    لا ریب امت کے لیئے اسوۂ حسنہ میں بہترین ازدواجی تعلقات کی یہ انتہائی روشن مثال ہے۔
    اللّٰہ ہمارے احوال کی بھی اصلاح فرما دے اور ہر شوہر،بیوی سیرتِ طیبہ کی راہ نمائی میں اپنا اپنا کردار سمجھ سکیں۔۔۔۔ !!!!!

  • کورونا لاک ڈاؤن: علی ظفر نے پھولوں سے دوستی کر لی

    کورونا لاک ڈاؤن: علی ظفر نے پھولوں سے دوستی کر لی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار اور گلوکار علی ظفر نے پھولوں سے دوستی کر لی،اداکار کی پھولوں سے باتیں کرتے ہوئے خوبصورت تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

    باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار اور گلوکار علی ظفر نے پھولوں سے دوستی کر لی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اداکار و گلوکار علی ظفر نے اپنی ایک تصویر شئیر کی جس میں وہ ایک پھولوں سے لدے درخت کے پاس کحرے ہیں اور ایک پھول کو ہاتھ میں پکڑ کر دیکھ رہے ہیں

    اداکار نے یہ خوبصورت تصویر ٹویٹر پر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ اس تصویر میں آپ کا بھائی پھولوں سے مخاطب ہونے کی کوشش میں پوز مارتا ہوا


    علی ظفر کی تصویر اور پوسٹ پر ان کے مداحوں نے بھی دلچسپ تبصرے کئے اور کچھ صارفین نے ان کی پہنی ہوئی شرٹ کو مذاق کا نشانہ بنایا جبکہ کچھ نے علی ظفر کی تعریف بھی کی


    نصرت صبا نامی صارف نے لکھا کہ پھر پھولوں نے بھی بھائی سے کوئی بات کی کیا؟


    بشیر چوہدری نامی صارف نے اداکار کی شرٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا بھائی نے تکیے کے کور کی شرٹ بنا لی۔۔ اتنی بچت؟


    فیضان نامی صارف نے لکھا بھائی کولاک ڈاؤن نے دیوانہ کر دیا ہے


    ماہ نور نامی صارف نے اداکار کی تعریف کرتے ہوئے لکھا واہ بھائی کیا تصویر ہے
    https://twitter.com/Farahomar123456/status/1256971853857423360?s=19
    فرح عمر نامی صارف نے لکھا کہ آپ اچھے دکھ رہے ہو بس شرٹ مردانہ پہن لو آپ ہمیشہ اچھے دکھو گے


    ایک صارف نے علی ظفر کی تعریف کرتے ہوئے لکھا بھائی ہمیشہ کی طرح اچھے دکھ رہے ہو


    ماہین نامی صارف نے کہا کمال کا پوز ہے بھائی بس دوپٹہ لے لو


    ایک صارف نے لکھا جس طرح کی ھمارے بھائی نے شرٹ پہنی ھوئی ھے اگر گلے میں شفون کا دوپٹہ ڈال لیتے تو ھم بہن بھائی دونوں سے مل کر خوش ھو لیتے


    کنزا نامی صارف نے لکھا کہ علی ظفر کی تو بات ہی نرالی ہے


    عمر علوی نامی صارف نے علی ظفر کی اس پوسٹ اور تصویر پر خوبصورت شعر لکھا : مہکتی کلیاں خوشبودار گلستان … بچپن میں کبھی محبت تو کی ہو گی

    شلوار قمیض کا ایک اپنا لطف ہے علی ظفر


    https://login.baaghitv.com/ali-zafar-ki-awaaz-mai-hammad-social-media-par-wirel/https://login.baaghitv.com/ali-zafar-ny-16-saal-ki-umer-mai-likha-gana-dobara-gaa-diya/