Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • رشی کپور ’لیجنڈ آف مولا جٹ ‘ کی ریلیز میں دلچسپی رکھتے تھے ، عمارہ حکمت

    رشی کپور ’لیجنڈ آف مولا جٹ ‘ کی ریلیز میں دلچسپی رکھتے تھے ، عمارہ حکمت

    پاکستانی فلم ’لیجنڈ آف مولا جٹ ‘ کی پروڈیوسر عمارہ حکمت نے انکشاف کیا ہے کہ چند روز قبل وفات پانے والےبھارتی اداکار رشی کپور ان کی فلم کے بارے میں پوچھا کرتے تھے اور اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے تھے

    باغی ٹی وی: پاکستانی فلم’لیجنڈ آف مولا جٹ ‘کی پروڈیوسر عمارہ حکمت نے ماضی میں ٹوئٹر پر رشی کپور سے اپنی فلم کے حوالے سے کی گئی گفتگو کے بارے میں بتایا کہ بھارتی سینئیر اداکار رشی کپور اکثر فلم ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کی ریلیزمیں دلچسپی رکھتے تھے اور اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے تھے

    عمارہ حکمت کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے رشی کپور کی اچانک موت کی خبر سنی تو وہ بہت دُکھی ہوگئیں تھیں

    فلم پروڈیوسر نے بتایا کہ وہ رشی کپور سے کی گئی گفتگو دیکھنے ٹوئٹر چیک کیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ گذشتہ ماہ رشی کپور نے ان سے بذریعہ ٹوئٹر رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی

    عمارہ حکمت نے افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ٹوئٹر پر مستقل غیر فعالی کے باعث وہ یہ پیغام نہ دیکھ سکیں، اور انہیں رشی کپور کے پیغامات کا جواب نہ دینے کا دُکھ ہمیشہ رہے گا

    واضح رہے کہ فلم لیجنڈ‌آف مولو جٹ رواں سال عیدالفطر کے موقع پر پیش کی جائے گے اس میں حمزہ علی عباسی ،فواد خان،ماہرہ خان اور حمائمہ ملک مرکزی کرداروں میں نظر آئیں گے

    رشی کپور کا وفات سے قبل آخری پیغام

    رشی کپور کو آنسوؤں سے نہیں ہمیشہ مسکراہٹ کے ساتھ یاد رکھیں گے اہلخانہ

  • اس دور میں ہر فارغ شخص شعر کہتا ہے ، شعراء پر کی گئی شاعری   بقلم: منہال زاہد سخی

    اس دور میں ہر فارغ شخص شعر کہتا ہے ، شعراء پر کی گئی شاعری بقلم: منہال زاہد سخی

    منہال زاہد سخی

    سب کچھ بھول بھلا کر پھر وہ شعر کہتا ہے
    سب کو چپ لگا کر پھر وہ شعر کہتا ہے

    بیزار نظر آتے تھے جو شعر و شاعری سے
    اب اس گروہ کا ہر فرد شعر سنتا ہے شعر کہتا ہے

    پریشان نظر آتے ہیں گھر کے سبھی افراد کہ
    سب کو ستاتا ہے اسے الہام ہوتا ہے پھر یہ شعر کہتا ہے

    وہ منظر کی خوبصورتی بڑھانے میں کوشاں ہے
    وہ منظر کو چار چاند لگانے میں شعر کہتا ہے

    یہ شاعری ہے کیا سچ ہے کیا جھوٹ ہے اس میں
    گھما پھرا کر کہتا ہے پھر وہ شعر کہتا ہے

    سب متاثر نظر آتے ہیں اب شعراء سے سخی
    اس دور میں ہر فارغ شخص شعر کہتا ہے

    #قلم_سخی

  • "شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات ”  از قلم : ایمان کشمیری

    "شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات ” از قلم : ایمان کشمیری

    "شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات ”

    از قلم ایمان کشمیری

    صد شکر کہ رمضان المبارک کا بابرکت اور سعادتوں والا مہینہ ہم پر پھر سے سایہِ فگن ہے ، یہ مہینہ اتنا بابرکت ہے کہ اس میں ہر نیکی کا اجر بڑھا کر سات سو گنا تک کر دیا جاتا ہے ، اس مہینے میں رب کی رحمت ، برکت اور مغفرت بے بہا ہو جاتی ہے ۔۔ اسی مہینے کے بارے میں ہی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ناں کہ :

    ” اُس شخص کی ناک خاک آلود ہو ،جس پر رمضان آئے اور وہ گزر جائے مگر اِس کے گناہ معاف نہ ہوں ”

    ناک خاک آلود ہونے سے مراد اللہ کی رحمت سے محرومی ہے، یعنی جس کے پاس رمضان کا مہینہ آیا مگر اُس نے اس مہینے میں رب کو راضی کر کے اپنے گناہ نہ بخشوائے تو وہ بہت بدقسمت ہے اور اللہ رب العزت کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے ۔۔۔
    آپ سب جانتے ہیں کہ رمضان المبارک کے آنے سے پہلے ہم کرونا وائرس جیسی آزمائش میں مبتلا تھے، اِس نظر نہ آنے والے وائرس کا خوف اِس قدر طاری ہو چکا تھا کہ سب گھروں میں بند ہو گئے تھے ، سکول ، کالج، یونیورسٹیاں ،مدارس ، بازار یہاں تک کہ مساجد کو بھی بند کر دیا گیا تھا مبادا کہ کسی متاثرہ بندے سے دوسرے کو وائرس ٹرانسفر نہ ہو جائے ۔۔۔ قصہ مختصر کہ پوری دُنیا اس چھوٹے سے اور نظر نہ آنے والے وائرس کی وجہ سے سُنسان اور ویران ہو چکی تھی ۔۔ ہم مسلمان جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کوئی مصیبت یا تکلیف نہ تو رب کی اجازت کے بغیر آ سکتی ہے اور نہ ہی جا سکتی ہے، چنانچہ ہم رمضان المبارک کا بڑی بے صبری کے ساتھ انتظار کر رہے تھے کہ جیسے ہی رمضان کا مبارک مہینہ شروع ہو گا رب اپنی بے پناہ رحمتوں اور برکتوں کے سبب ہم سے اِس آزمائش کو ختم کر دے گا ، ہم روزے کی حالت میں زیادہ رب کے قریب ہوں گے ، زیادہ سے زیادہ عبادت کریں گے ، رو رو کے اپنی عرضیاں رب کے حضور پیش کریں گے مطلب جتنی بھی سستی اور کوتاہی ہم سے گزشتہ زندگی میں ہو چکی ہم اِس مہینے میں اُس کا ازالہ کر لیں گے ۔۔۔
    مگر افسوس ہوا کیا ،رمضان المبارک کا مہینہ تو شروع ہو گیا اور ہم جو رمضان المبارک کا بڑی بے صبری سے انتظار کر رہے تھے ترکی کے ایک سیریل ارطغرل میں مگن ہو گئے ، ہم بھول گئے کہ ہم کس مصیبت سے دو چار تھے اور ہمیں اِس مہینے کی کتنی ضرورت تھی ۔۔ آپ کے دل میں خیال آیا ہو گا کہ میں اِس سیریل کے دیکھنے پہ فتوٰی لگانے لگی ہوں ، ارے نہیں نہیں ۔۔۔ میں نہ تو کوئی عالمہ ہوں اور نہ ہی مفتیہ، میں اِس سیریل کو دیکھنے سے منع بھی نہیں کر رہی ،انڈین فلمیں اور ڈرامے دیکھنے سے تو بہتر ہے ایسے سیریل ہی دیکھ لیے جائیں ، مگر میں یہاں جس چیز کےلیے فکر مند ہو رہی ہوں وہ رمضان المبارک کا تیزی سے گزرتا ہوا مہینہ ہے ، ہاں وہی مہینہ جس کے روزوں کے بارے میں حدیثِ قدسی ہے کہ :

    ” روزہ میرے لیے ہے اور میں خود ہی اِس کا اجر دوں گا ”

    مطلب رب نے سب عبادات کا اجر بتا دیا مگر روزے کا اجر چھُپا لیا اور کہا یہ میرا اور میرے بندے کا معاملہ ہے میں جتنا بھی چاہوں گا اُسے بڑھا چڑھا کے اجر دوں گا ، ذرا سوچیے جس روزے کا اجر رب نے اس طرح دینا ہو اُس کے کچھ تقاضے بھی تو ہوں گے ناں ۔۔۔
    اب ہوا کیا ہم نے روزہ تو رکھ لیا مگر روزے کے تقاضوں کو یکسر بھول گئے ، ہم بھول گئے کہ ہمیں روزے کی حالت میں کن کن کاموں سے بچنا تھا ، ہم بھول گئے کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ تلاوتِ قرآن پاک اور اذکار کی پابندی کرنی تھی ، ہم بھول گئے کہ ہمیں اپنی مناجات سے رب کو راضی کرنا تھا تاکہ وہ ہم پر آئی ہوئی آزمائش کو ختم کر دے ۔۔۔۔ ہمیں یاد رہا تو بس یہی کہ ارطغرل سیریل دیکھنا ہے تاکہ جذبہِ جہاد پیدا ہو ۔۔۔۔۔ ارے یہ کیسا جذبہِ جہاد ہے جس نے رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں کو کھا لیا ، یہ کیسا جذبہِ جہاد ہے جو رمضان المبارک کے مہینے میں لڑے گئے غزوؤں سے تو پیدا نہ ہوا اور اِس سیریل سے پیدا ہونے لگا ، یہ کیسا جذبہِ جہاد ہے کہ ہمارے مجاہدین روز دو ،دو ، چار کر کے شہید ہونے لگے اور ہمیں اُن کےلیے دُعا کی بھی فرصت نہ مل سکی ۔۔۔ ہمارے جوانوں کے ذہنوں میں تو حلیمہ کی ادائیں اور شاہینہ کی وفائیں ہی ثبت ہو کے رہ گئیں ، ہمارے جوانوں کو یاد رہیں تو بس شہناز خاتون کی عیاریاں اور عالیہ خاتون کی مکاریاں ۔۔۔
    میں جانتی ہوں کہ میری بات بہت سے لوگوں کڑوی محسوس ہو گی مگر ساتھ یہ بھی دعوی سے کہتی ہوں کہ آپ کے ضمیر اِس بات کی گواہی دیں گے کہ سیریل کو دیکھتے ہوئے نوجوان کس چیز کی طرف زیادہ راغب ہوتے ہیں ،ارے دیکھنا ہی تھا تو رمضان کے بعد دیکھ لیتے مگر افسوس وہ لوگ جن کو اِس سیریل کی الف ب کا بھی نہیں پتہ تھا اُنہوں نے بھی عبادت سمجھ کے اِسے رمضان میں دیکھنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ میں نے بغور مشاہدہ کیا کہ ہمارے نوجوان اِس سیریل کو دیکھنے کے بعد اِس میں موجود خواتین کا تذکرہ کرتے نظر آتے ہیں ، کچھ حضرات تو خواتین کی تصاویر اور ویڈیو کلپس اپنی ٹائم لائن پر لگا کر خود بھی لطف اندوز ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی کرتے ہیں ،،،،، میری بہنیں جنھوں نے کبھی اپنی تصویر فیس بک پر اپلوڈ نہیں کی تھی ،وہ بھی سیریل میں موجود خواتین کی تصاویر کو اپنی پروفائل پر لگا کر فخر محسوس کرتی ہیں ، عزیز بہنو!!! تھوڑا نہیں پورا سوچو کہ تمہاری پروفائل پہ لگی ایک غیر محرم عورت کی تصویر کو جب ہمارے جوان زوم کر کے دیکھیں گے اور اُن کے دِل میں بُرے خیالات پیدا ہوں گے تو کیا تمہیں ثواب ہو گا ؟؟؟
    درست کہتے ہیں ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں ، اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ مثبت پہلو اپناتا ہے یا منفی ۔۔۔ جہاں تک میرا اندازہ اور مشاہدہ ہے تو ہمارا جھکاؤ اِس سیریل کے منفی پہلو کی طرف زیادہ ہے ، زیادہ دکھ اِس بات کا ہے کہ ہم نے اِس سیریل کو رمضانُ المبارک پر فوقیت دے دی ،،،، ارے سیریل تو رمضان کے بعد بھی دیکھا جاتا مگر کیا پتہ اگلا رمضان ہمیں نصیب ہو کہ نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دردِ دِل سے التجا کرتی ہوں ابھی بھی وقت ہے رمضانُ المبارک کی با برکت ساعتوں کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا لیں ، سیریل کو دیکھنا فی الحال ترک کر دیں ، رمضان کے بعد یہی کام ہوتے رہیں گے ، ابھی رب کو منانے کا وقت ہے ،ایسا نہ ہو کہ یہ قیمتی ساعتیں گزر جائیں اور ہم خالی ہاتھ ، نامراد رہ جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو آئیے رب کی بارگاہ میں سب ہاتھوں کو اُٹھاتے ہیں ، سر کو جھکاتے ہیں ، اُسے مناتے ہیں کہ وہ ہم سے وائرس جیسی آزمائش کو دور کر دے ،،،،، میدانِ کارزار گرم ہے ہمارے کشمیری بھائی روز اپنے رب کو شہادتوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں ، ہم اُن کےلیے کچھ اور نہیں کر سکتے تو کم از کم رب سے اُن کی فتح ، نصرت اور مدد کےلیے التجا تو کر سکتے ہیں ناں ،،، اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ہمیں سیدھے رستے پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔۔۔ آمین یا رب المجاہدین، یا ارحم الراحمین ، ارحم لنا

  • ریپٹرز(گوشت کھانے والے پرندے) کا قرآن مجید میں ذکر  بقلم سلطان سکندر!!!

    ریپٹرز(گوشت کھانے والے پرندے) کا قرآن مجید میں ذکر بقلم سلطان سکندر!!!

    ریپٹرز(گوشت کھانے والے پرندے) کا قرآن مجید میں ذکر

    "شکار کرنے والے پرندے، ریپٹرز، پرندوں کی ان انواع (سپیشیز) میں شامل ہیں جو کشیرے (ریڑھ دار) جانوروں کا شکار کرتے اور ان کا گوشت کھاتے ہیں جو شکاری کی بہ نسبت بڑے ہوتے ہیں۔
    مزید براں، انکی نظر اتنی تیز ہوتی ہے جو انہیں اڑان کے دوران ہی یا کچھ فاصلے پر ہی اپنے شکاری کی طرف متوجہ(فوکس) کر دیتی ہے، انکے پاوں پنجوں کے ساتھ اتنے مضبوط ہوتے ہیں جو شکاری کو پکڑنے یا مارنے کیلئے کافی ہوتے ہیں، اور مڑی ہوئی چونچ جو شکاری کے جسم کو پھاڑنے کیلئے کافی ہوتی ہے۔”
    Reference:- Wikipedia, bird of prey, 2019.

    ریپٹرز اپنے پنجوں کے ذریعے شکار کو پکڑتے ہیں۔ جبکہ اکثر پرندے اپنی چونچ کے ذریعے اپنے شکار کو پکڑتے ہیں جیسا کہ ہاکنگ(Hawking)

    "ہاکنگ (Hawking) پرندوں میں شکار کو پکڑنے کی ایک ایسی حکمت عملی ہے، جس میں ہوا میں اڑنے والے کیڑوں کو پکڑنا شامل ہے، ہاکنگ کی اصطلاح اس طرز عمل سے مماثلت رکھتی ہے جس میں ہاک (Hawk) یعنی شکار کو ہوا میں پکڑنا شامل ہے، جہاں ریپٹرز اپنے پنجوں کے ذریعے شکار کو پکڑ سکتے ہیں اسی طرح ہاکنگ کا بھی اپنے شکار کو چونچ کے ذریعے پکڑنے کا ایک طرز عمل ہے۔
    Reference:- Wikipedia, Hawking, 2019

    دوسرے پرندوں سے مختلف، ریپٹرز اپنے شکار کو اپنے پاوں(پنجوں) کے ذریعے شکار کرتے ہیں۔

    تو ثابت ہوا کہ ریپٹرز اپنے شکار کو اپنے پنجوں کے ذریعے پکڑتے ہیں، چونچ کے ذریعے نہیں۔
    ایسی ہی بات 1400 سال پہلے قرآن میں لکھی ہوئی پائی گئی،

    Quran 22:31

    حُنَفَآءَ لِلّـٰهِ غَيْـرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ ۚ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّـٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْـرُ اَوْ تَهْوِىْ بِهِ الرِّيْحُ فِىْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ ( الحج 31#)

    خاص اللہ کے ہو کر رہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔

    "پرندے اچک لیتے ہیں” جیسا کہ یہ پرندے اس انسان پہ حملہ کرکے اسے اچک لیتے ہیں تو مطلب یہ ریپٹرز (گوشت کھانے والے) پرندے ہوتے ہیں۔

    جیسا کہ قرآن کہتا ہے کہ وہ لوگ اچک لیے جاتے ہیں، کھائے نہیں جاتے، اگر وہ پرندے انسانوں کو ہوا میں ہی اچک لے جاتے ہیں، کھائے نہیں جاتے تو اسکا مطلب وہ پرندے اپنے پاوں کا استعمال کرتے ہیں، آج ہم جانتے ہیں کہ ریپٹرز اپنے پاوں کے ذریعے شکار کو پکڑتے ہیں، چونچ کے ذریعے نہیں۔


    سوال یہ بنتا ہے کہ ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے ہی کیسے جان سکتا ہے کہ اکثر باقی پرندوں سے مختلف ریپٹرز اپنے پاوں کے ذریعے شکار کرتے ہیں؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • حمزہ علی عباسی بھی ترک ڈرامے ارطغرل غازی کے مداحوں میں شامل

    حمزہ علی عباسی بھی ترک ڈرامے ارطغرل غازی کے مداحوں میں شامل

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے سابق اداکارحمزہ علی عباسی کی گٹار پر ترکی کے مقبول تاریخی ڈرامے ’’ارطغرل غازی‘‘ کی دھن نہایت خوبصورتی سے بجانے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے

    باغی ٹی وی :اسلامی فتوحات کی تاریخ پر مبنی ترکی کے شہرہ آفاق ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘ جسے ترکی کا ’گیم آف تھرونز‘ بھی کہا جاتا ہے نے پاکستان میں دھوم مچائی ہوئی ہے پاکستان میں لوگ اس ڈرامے کے دیوانے ہوگئے ہیں سوشل میڈیا ڈرامے کی کہانی اور کرداروں کی تعریفوں سے بھرا پڑا ہے عام لوگوں کے ساتھ فنکار بھی اس کے سحر میں مبتلا نظر آتے ہیں
    https://www.instagram.com/p/B_yUaK7Bwti/?igshid=1xk06jt4qw739
    ’ارطغرل غازی‘‘ کے مداحوں میں اداکار حمزہ علی عباسی بھی شامل ہیں اداکار حمزہ علی عباسی نے حال ہی میں انتہائی منفرد انداز میں شو سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ اپنی اہلیہ نمل خاور کے ذریعہ ریکارڈ کردہ ایک ویڈیو میں عباسی گٹار پر شو کا تھیم سانگ چلا رہے ہیں۔ جن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے حمزہ علی عباسی اتنی خوبصورتی سے دھن بجارہے ہیں کہ مداح ان کا یہ نیا ٹیلنٹ دیکھ کر حیرانی اور خوشی کا اظہار کر رہے ہیں

    خیال رہے کہ دیریلیش ارطغرل‘ کو پی ٹی وی پر نشر کیے جانے کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے بھی خصوصی پیغام جاری کیا تھا اور انہوں نے ترک ڈرامے کو نہ صرف اسلامی بلکہ پاکستانی ثقافت و تاریخ کے بھی قریب قرار دیا تھا وزیر اعظم عمران خان نے اپنی خصوصی ویڈیو میں ’دیریلیش ارطغرل‘ کو نشر کیے جانے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ لازم ہوگیا تھا کہ اسلامی فتوحات کی تاریخ پر مبنی ڈرامے کو پی ٹی وی پر نشر کیا جائے تاکہ پاکستان کی نئی نسل اپنی تاریخ سے وابستہ ہو۔

    و اضح رہے کہ اسلامی فتوحات کی تاریخ پر مبنی ترکی کے شہرہ آفاق ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘ جسے ترکی کا ’گیم آف تھرونز‘ بھی کہا جاتا ہے اس وقت دنیا بھر میں دیکھا جا رہا ہے اس ڈرامے کو 13 ویں صدی میں اسلامی فتوحات کے حوالے سے انتہائی اہمیت حاصل ہے

    دیریلیش ارطغرل‘ ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی کہانی ہے اور اس ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13 ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے

    ارطغرل ڈرامہ سیریل میں حلیمہ کون ہے ؟

    وزیراعظم عمران خان نے ارطغرل غازی کے علاوہ ایک اور ترک ڈرامے کو پاکستان میں نشر کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا

  • وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان کا حمزہ علی عباسی کو جواب

    وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان کا حمزہ علی عباسی کو جواب

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معورف اداکار حمزہ علی عباسی کی احمدیوں کے حق میں کی گئی ٹویٹ پر پی ٹی آئی رہنما اور وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان کا کرارا جواب

    باغی ٹی وی :پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار ضمزہ علی عباسی نے گذشتہ دنوں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر قائداعظم کے تاریخی الفاظ پر مبنی ایک نوٹ شئیر کیا

    حمزہ علی عباسی کی طرف سے شئیر کئے گئے نوٹ پرلکھا تھا کہ 23 مئی 1944 کو قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کے دورے کے موقع پر پریس کانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ احمدی مسلمان ہیں اور مسلم کانفرنس پر مشتمل تنظیم میں شامل ہونے کے حقدار ہیں۔ ہم ذیل میں اردو کتاب تاریخ حریت کشمیر سے اقتباس کرتے ہیں ہسٹری آف انڈیپینڈینس موومنٹ ان کشمیر والیوم 2 ، 1936-1945 صفحہ نمبر 291:


    اخباری نمائندوں نے قائداعظم سے مرزا ئیوں کے بارے میں ایک سوال پوچھا کہ انہیں مسلم کانفرنس میں شرکت کی اجازت نہیں دی جارہی ہے کیونکہ وہ غیر مسلم سمجھے جاتے ہیں۔آپ کا اس کے بارے میں کیا موقف ہے؟ مسٹر جناح نے جواب دیا میں ایسے شخص کو غیر مسلم قرار دینے والا کون ہوں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو؟

    نوٹ میں لکھا تھا کہ اس مقام پر کتاب کا ایک مخصوص پوائنٹ سوال کے پس منظر کی وضاحت کرتا ہے:مسلم کانفرنس کی بحالی کے موقع پر اس کا آئین فلیکسیبل بنا دیا گیا ہے تاکہ کوئی احمدی کانفرنس کا ممبر نہ بن سکے۔

    یہ نوٹ شئیر کرتے ہوئے حمزہ علی نے اپنی پوسٹ کے کیپشن میں لکھا کہ اللہ کے آخری نبی/رسول صل اللہ علیہ وسلم نےجو دین دیا اس میں انسانوں کو ایک دوسرے کی اصلاح کی کوشش کا اختیاریے لیکن کوئی فرد/گروہ، جو اپنے آپ کو مسلمان کہے، اس کی دلیل قرآن و سنت سے دے، اسے غیر مسلم ڈکلیر کرنے کا اختیار رسول اللہ کے دنیاسے رخصت ہونے کے بعد کسی انسان کے پاس نہیں.


    حمزہ علی عباسی کی اس ٹویٹ کا پی ٹی آئی رہنما اور وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھائی کوئی شخص تب تک مسلمان ہو ہی نہیں سکتا جب تک وہ عقیدہ ختم نبوت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم پہ کامل ایمان نہ رکھے کہ محمد(ص)اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور ان کے بعد نہ کوئ نبی آئے گا نہ کوئ رسول۔ یہی قرآن کہتا ہے۔ یہی حدیث سے ثابت ہے اور یہی آئین پاکستان کہتا ہے

    جنت اور جہنم کیسی اور اس کے حقدار کون لوگ، رحمت ہی رحمت سحر ٹرانسمیشن

    کورونا، سندھ اور اٹھارویں ترمیم: بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کوایسا کیا کہ دیا؟

  • پچاس سالوں تک سکواش کی دنیا میں راج کرنے والے سات پاکستانی

    پچاس سالوں تک سکواش کی دنیا میں راج کرنے والے سات پاکستانی

    اسکواش ایک ریکیٹ اور بال پر مشتمل کھیل ہے جو دو دیواروں (سنگلز) یا چار کھلاڑیوں (ڈبلز اسکواش) کے ذریعہ چار دیواری والی کورٹ میں چھوٹی ، کھوکھلی ربڑ کی گیند کے ساتھ کھیلا جاتا ہے پاکستان کے شہر پشاور اور ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے 7ا سکواش چیمپیئنز نے 50 سال تک اسکواش کی دنیا پر راج کیا اور دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا

    باغی ٹی وی : ایک ہی شہر پشاور سے تعلق رکھنے والے 7 اسکواش چیمپیئنز نے 50 سال تک اسکواش کی دنیا پر راج کیا اور دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا جن میں جان شیر خان ، محب اللہ سر، اعظم خان، جہانگیر خان، ہاشم خان، روشن خان ، قمر زمان

    جان شیر خان:
    جان شیر خان 15 جون 1969 کو پشاورمیں پیدا ہوئے پاکستان میں [4]) سابق عالمی نمبر 1 پیشہ ور پاکستانی اسکواش کھلاڑی ہیں۔ اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے آٹھ بار ورلڈ اوپن ، اور چھ بار برٹش اوپن جیتا۔ جان شیر خان 2010 سے 2012 تک نیشنل ہیڈ سکواش کوچ رہے پھر 2010 سے 2012 ہر 201 سے 2018 تک پاکستان سکواش فیڈریشن کے صدر کے مشیر بھی رہے

    جان شیر خان کو ان کی اعلی کارکردگی پر حکومت پاکستان کی طرف سے کئی ایوارد سے بھی نوازا گیا 1988 میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس .1993 میں ستارہ امتیاز ، 1997 میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا جان شیر ستمبر 2002 میں سکواش ٹیم سے ریٹائرڈ ہو گئے تھے

    محب اللہ خان:
    محب اللہ خان پاکستان سے تعلق رکھنے والے سابقہ ​​ورلڈ اسکواش چیمپیئن ہیں، جسے اکثر "مو خان” کے نام سے جانا جاتا ہے جان شیر خان کے بڑے بھائی ہیں 2 دسمبر 1937 – 31 مارچ 1994 پاکستان کا اسکواش کھلاڑی رہے وہ 1970 کے دہائی میں کھیل کے اہم کھلاڑیوں میں سے ایک تھے ، کیریئر کی اعلی درجہ بندی میں عالمی نمبر میں دوسرے نمبر پر پہنچے ۔ وہ 1975 میں ہونے والے افتتاحی ورلڈ اوپن میں رنر اپ رہے تھے ۔ اور اسکواش کے مشہور خان راجستھان کے ممبر تھے۔ ان کی سب سے بڑی فتح 1963 میں برٹش اوپن کی جیت تھی۔

    مو خان 1950 کی دہائی کے دو سب سے زیادہ طاقتور پاکستانی اسکواش کھلاڑی بھائیوں ہاشم خان اور اعظم خان کے بھتیجے تھے۔ وہ روشن خان کے بھتیجے بھی تھے ، جو 1957 میں برٹش اوپن کا فاتح تھا۔ روشن جہانگیر خان کے والد ہیں ، جنھیں تاریخ کا سب سے بڑا اسکواش کھلاڑی سمجھا جاتا ہے۔ 1950 اور 1960 کی دہائی کے دوران ، موخان اور ن کے چچا ہاشم ، اعظم ، اور روشن نے تقریبا ہر بڑے پیشہ ورانہ اسکواش مقابلے میں فتح حاصل کی-

    محب اللہ خان نے پوری دنیا میں بین الاقوامی اسکواش چیمپئن شپ میں بہت سی کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے آسٹریلیا کے جیف ہنٹ کو شکست دے کر پرسٹیجئیس ورلڈ ماسٹر اسکواش چیمپینشپ اور آئرش ماسٹر اسکواش چیمپین شپ جیتا۔

    1976 میں ، محب اللہ خان نے انگلینڈ میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز ورلڈ سیریز جیتا۔ ملکہ الزبتھ دوم مہمان خصوصی تھیں اور انہیں جیتنے والی ٹرافی یعنی سورڈ دی۔

    اس کے علاوہ انہوں نے برطانوی امیچور اسکواش چیمپین شپ جیت لی ، آسٹریلیائی اوپن ، نیوزی لینڈ اہپن ، یو ایس چیمپین شپ ، اسکندریائی اسکواش چیمپین شپ ، فرانسیسی اسکواش اوپن ، پاکستان اوپن اور بہت ساری محب اللہ خان ایک بہت ہی تیز اور طاقت ور کھلاڑی تھا۔ اس کی شاٹس کی طاقت انتہائی غیر معمولی تھی۔

    اعظم خان:
    اعظم خان 20 اپریل 1926 کو پشاور میں پیدا ہوئے اعظم خان پاکستانی اسکواش کے بہترین کھلاڑی تھے جنہوں نے 1959 سے 1962 کے درمیان چار بار برٹش اوپن جیتا تھا۔

    ان کے بھائی ہاشم خان اور پوتی کارلا خان بھی اسکواش کے کھلاڑی تھے۔اعظم اپنے وقت کے دو دیگر معروف پاکستانی کھلاڑی روشن خان اور نصراللہ خان کے سیکنڈ کزن تھے ، جن کے بیٹے رحمت خان ، تورزم خان اور جہانگیر خان بھی اسکواش کے کھلاڑی ہیں۔ وہ شریف خان اور عزیز کے چچا تھے اعظم خان کا 93 سال کی عمر میں لندن میں 29 مارچ 2020 کو انتقال کر گئے تھے

    جہانگیر خان :
    جہانگیر خان 10 دسمبر 1963 کو پیدا ہوئے تھے سابق عالمی نمبر 1 پیشہ ور پاکستانی اسکواش کھلاڑی ہے۔ انہوں نے چھ بار ورلڈ اوپن ، اور برٹش اوپن دس بار جیتا۔ جہانگیر خان کو اب تک کا اسکواش کا سب سے بڑا کھلاڑی سمجھا جاتا ہے۔

    انہوں نے اپنی قابلیت اور بہترین کارگردگی پا کئی ایوارڈذ اپنے نام کئے

    1981 میں جہانگیر 17 سال کی عمر میں فائنل میں آسٹریلیا کے جیف ہنٹ کو شکست دے کر ورلڈ اوپن کے سب سے کم عمر فاتح بنے-

    1999میں – فرانسیسی حکومت کے ذریعہ کھیل اور یوتھ ایوارڈ جیتا-

    2005 میں – ٹائمز ایوارڈ – ٹائم میگزین نے جہانگیر کا نام پچھلے 60 برسوں میں ایشیا کے ہیرو میں شامل کیا ۔

    2007 ء میں – انھیں لندن میٹرو پولیٹن یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ آف فلسفہ کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔

    2017 میں – حکومت جاپان نے جہانگیر خان کیریئر کو منانے کے لئے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا-

    2018 میں – کھیل میں نمایاں کارنامے کے لئے 8 واں ایشین ایوارڈ جیتا-

    ہاشم خان :
    ہاشم خان ، پاکستانی اسکواش کھلاڑی یکم جولائی 1914 ء کو پشاور میں پیدا ہوئے 18 اگست ، 2014 کو ، اورورا ، کولا۔) ، آٹھ سالوں میں 7 مرتبہ اسکواش چیمپیئن (1951–) 56 ، 1958) برٹش اوپن کے فاتح کی حیثیت سے جیتا ، جو اس وقت کھیل کا سب سے بڑا عالمی ٹورنامنٹ سمجھا جاتا تھا۔

    صدر پاکستان کی طرف سے 1958 میں انہوں نے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ جیتا-

    1959 میں حکومت پاکستان نے تمغہ قائداعظم سے نوازا-

    حکومت پاکستان کا 2008 میں ستارہ امتیاز (اسٹار آف ایکسی لینس) ایوارڈ حاصل کیا-

    روشن خان:
    روشن خان 26 نومبر 1929 کو پشاور میں پیدا ہوئے – 6 جنوری 2006 کو کراچی میں وفات پائی پاکستان کے سکواش کے بہترین کھلاڑی رہے وہ سن 1960 کی دہائی کے اوائل میں کھیل کے اہم کھلاڑیوں میں سے ایک تھے ، اور 1957 میں برٹش اوپن ٹائٹل اپنے نام کرلیا تھا۔ ان کا بیٹا جہانگیر خان 1980 کی دہائی میں دنیا کے ممتاز اسکواش پلیئر تھے-

    پشاور سے پشتون خاندان سے تعلق رکھنے والے ، روشن کے تین بیٹے تھے – تورسم خان ، حسن خان اور جہانگیر خان۔ تورسم اور جہانگیر دونوں کو روشن نے تیار کیا کہ وہ بین الاقوامی اسکواش کے اعلی کھلاڑی بن گئے۔ تورسم نے 1979 میں ورلڈ نمبر 13 پر کیریئر کی اعلی درجہ بندی حاصل کی تھی

    تورسم خآن 27 سال کی عمر میں آسٹریلیا میں ٹورنامنٹ کا میچ کھیلتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔ تورسم کی موت کے بعد ، جہانگیر نے کھیل کو چھوڑنے کے بجائے اپنے بھائی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کھیل میں کیریئر بنانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کھیل کے اندر غیر معمولی اونچائیوں کو حاصل کیا – دس برٹش اوپن ٹائٹلز ، چھ ورلڈ اوپن ٹائٹل اپنے نام کئے-پانچ سال تک انہوں نے فاتح کی حیثیت سے اسکواش پر قابض رہے 500 سے زائد میچوں میں کھیلے۔ نصراللہ خان کے بھائی اور رحمت خان کے چچا تھے-

    روشن خان کو 1960 میں صدر پاکستان کی جانب سے پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا-

    قمر زمان:
    قمر زمان 11 اپریل 1952 کوئٹہ میں پیدا ہوئے پاکستان کے سابق اسکواش کھلاڑی ہیں۔ وہ 1970 اور 1980 کی دہائی کے دوران کھیل کے نمایاں کھلاڑیوں میں شامل تھے۔ ان کی سب سے بڑی فتح 1975 میں برٹش اوپن جیت رہی تھی۔ … قمر ​​نے 1968 میں پاکستان جونیئر اسکواش چیمپئن شپ جیتا تھا۔

    قمر نے 1968 میں پاکستان جونیئر اسکواش چیمپین شپ جیتا تھا۔ 1973 میں برطانیہ کے پہلے ٹرپ پر ، وہ برطانوی چیمپئن شپ کے سیمی فائنل میں پہنچے تھے۔ 1974 میں ، وہ برٹش اوپن کے سیمی فائنل میں پہنچے اور آسٹریلیائی امیچور چیمپئن شپ جیت لی۔

    1975 کے برٹش اوپن میں ، قمر نے کوارٹر فائنل میں دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا کے جیف ہنٹ کو شکست دی ، اور فائنل میں 9-7 ، 9-6 ، 9-1 سے اپنے ساتھی پاکستانی کھلاڑی گوگی علاؤن کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔ .

    اس کے بعد ، قمر مزید چار مواقع پر برٹش اوپن کے فائنل میں پہنچ گیے۔ وہ 1978 ، 1979 اور 1980 میں ہنٹ اور 1984 میں جہانگیر خان کے ساتھ رنر اپ تھے۔ وہ 1976 ، 1979 اور 1980 کے فائنل میں ہنٹ سے شکست کھا کر چار بار ورلڈ اوپن میں رنر اپ بھی رہے تھے ،

  • ارطغرل ڈرامہ سیریل میں حلیمہ کون ہے ؟

    ارطغرل ڈرامہ سیریل میں حلیمہ کون ہے ؟

    باغی ٹی وی : ارطغرل ترکی کی تاریخ کا ایسا شاندار ڈرامہ ہے جسے اس وقت دنیا بھر میں دیکھا جا رہا ہے یہ سلطنت عثمانیہ کی تاریخ پر بنایا گیا ہے حلیمہ سلطان کا سلطنت عثمانیہ کے قیام میں بہت اہم کردار تھا اس میں ایک اہم کردار حلیمہ خاتون کا بھی ہے حلیمہ حاتون کون تھیں ؟حلیمہ سلطان ترک قبیلے قائی کے ساردار غازی ارطغرل کی زوجہ تھیں اور سلطنت عثمانیہ کے بانی غازی عثمان کی والدہ تھیں آپ ایک سنجوگ شہزادی تھیں حلیمہ سلطان سنجوگ سلطنت کے شہزادہ نعمان کی بیٹی تھیں
    https://www.youtube.com/watch?v=Q2pp4flN3uY&feature=youtu.be
    تاریخ کی کتابوں میں ان کا ذکر حائمانا اور حلیمہ خاتون کے نام سے ہوا ہے حائمانا لفظ غازی ارطغرل کی والدہ اور بیوی دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ارطغرل غازی کے مصنف مہمت بزداغ تاریخ کے طالبعلم ہیں ان کے مطابق صحیح نام حلیمہ سلطان ہے اسی وجہ سے ڈراموں میں حلیمہ خاتون کے نام سے پٔکارتے ہیں

    غازی ارطغرل آغوز قبیلے سے تعلق رکھتے تھے جب ان کی شادی ہوئی تو اس شادی سے بکھرے ہوئے ترک قبائل کو اکٹھے ہونے میں کافی مدد حاصل ہوئی جس کے بعد انہوں نے بہت زیادہ کامیابیاں حاصل کیں اس شادی کے لئے حلیمہ سلطان نے شہزادی کے ٹائٹل کی قربانی دی اور اس کے بعد غازی ارطغرل کے ساتھ وفا دار رہیں اور انہوں نے غازی ارطغرل اور ان کے قبیلے اور تمام مسلمانوں کی مدد کی

    جب غازی ارطغرل کو اپنے والد کے بعد قبیلے کی سرداری ملی تو انہیں حاتون کا ٹائٹل ملا جس کے بعد انہوں نے تمام زندگی آخر دم تک وفاداری کی اور اس ٹائٹل کی لاج رکھی حلیمہ حاتون کی وفات کے بعد انہیں غازی ارطغرل کے ساتھ دفنایا گیا

    واضح رہے کہ اسلامی فتوحات کی تاریخ پر مبنی ترکی کے شہرہ آفاق ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘ جسے ترکی کا ’گیم آف تھرونز‘ بھی کہا جاتا ہے اس وقت دنیا بھر میں دیکھا جا رہا ہے اس ڈرامے کو 13 ویں صدی میں اسلامی فتوحات کے حوالے سے انتہائی اہمیت حاصل ہے۔

    دیریلیش ارطغرل‘ ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی کہانی ہے اور اس ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

    ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13 ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے-

    وزیراعظم عمران خان نے ارطغرل غازی کے علاوہ ایک اور ترک ڈرامے کو پاکستان میں نشر کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا

    ہمیں اپنی تاریخ اور ہیروز کو تلاش کرنا چاہیئے ارطغرل غازی کو پی ٹی وی پر نشر کرنے پر شان شاہد کی تنقید

  • ٹویٹر پر بھارت کو ذلیل کرنے والے عرب ایکٹوسٹ پاکستان کی تعریف کررہے

    ٹویٹر پر بھارت کو ذلیل کرنے والے عرب ایکٹوسٹ پاکستان کی تعریف کررہے

    ٹویٹر پر مودی اور آر ایس ایس کے خلاف برسر پیکار ایک کویتی شیخ نے بھارتیوں کو چھیڑتے ہوئے پاکستانی عوام کو سلام اور محبت بھیجا ہے

    باغی ٹی وی : ٹویٹر پر مودی اور آر ایس ایس کے خلاف برسر پیکار ایک کویتی شیخ نے بھارتیوں کو چھیڑتے ہوئے پاکستانی عوام کو سلام اور محبت بھیجا ہے کویتی مسلم عبداللہ الشریکۃ سوشل میڈیا پر مودی سرکار اور بی جے پی انتہا پسند ہندو آر ایس ایس کی انڈیا اور کشمیر کے مسلمانوں پر کئے جانے والے ظلم و ستم پر اور مسلمانوں کے حقوق کی پامالی پر مودی فاشسٹ اور آر ایس ایس کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں


    اب بھی انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر کویتی شیخ عبداللہ الشریکۃ نے پاکستانی عوام کو سلام بھیجتے ہوئے لکھا کہ پاکستان کے معزز عوام کو سلام ، محبت اور تعریف

    عبداللہ کی اس ٹویٹ کا پاکستانیوں نے بھی محبت بھرا جواب دیا


    تنزیل شیخ نامی صارف نے لکھا کہ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آپ نے جس طرح مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے لئے آواز اٹھائی۔ اللہ آپ کو اسکی جزا دے۔ آمین۔ بہت ساری محبت اور دعائیں آپ کے لئے پاکستان سے۔


    اصغر حسین نامی صارف نے لکھا کہ پاکستان کے عوام کا غیرت مند کویتی بھائیوں کو بھی دل کی اتھاہ گہرائیوں سے سلام
    //twitter.com/SajidNa88207326/status/1257111891803017220?s=20
    ساجد نامی صارف نے کویتی مسلمان عبداللہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ بہت بہت شکریہ جناب پاکستانی ہمیشہ ہمارے مسلم مما لک اور عوام احترام کرتے ہیں۔


    حسین نامی صارف نے لکھا کہ پاکستان کی طرف سے تمام عرب مسلمان بھائیوں کو سلام


    دوسری جانب عبداللہ نے ایک اور ٹویٹ میں مسلمانوں اور اسلام مخالف انتہا پسندوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ ہم مسلمان مظلوموں اور بےگناہوں کا دفاع کرتے ہیں چاہے وہ مسلمان ہی نہ ہوں .. یہ ہمارے اصول ہیں


    انہوں نے مزید لکھا کہ جو لوگ اسلام پر حملہ کرتے ہیں اور دہشت گردی کا الزام لگاتے ہیں وہ واقعی اسلام کو بخوبی نہیں جانتے ہیں


    شہزادی ہندالقاسم نے بھی ٹویٹر پر اپنے اکاؤنٹ پرپائلٹ راہول دیو کی تصویر شئیر کرتے ہوئے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بارایک ہندو لڑکے راہول دیو کو پاکستان ائیر فورس میں بھرتی کرنے پر پاکستان کے اس اقدام کی تعریف کی


    یو اے ای دبئی کے خبر رساں ادارے گلف نیوز کے سی آئی ای نے بھی اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر راہول دیو کی تصویر شئیر کرتے ہوئے پاکستان کے اس فیصلے کو سراہا اور لکھا کہ پاکستان ائیر فورس میں پہلا ہندو پائلٹ

    واضح رہے کہ انڈیا اور کشمیر کے مسلمانوں پر مودی سرکار اور آر ایس ایس اور انتہا پسند بھارتیوں کے ظلم و ستم دن بہ دن شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں یہاں تک کہ انتہا پسند ہندوؤں نے بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلنے می وجہ بھی مسلمانوں کو قرار دیتے ان پر شدید ظلم و ستم کئے مسلمانوں سے تمام قسم کے لین دین ختم کر دیئے اور عرب ممالک میں رہائش پذیر ہندؤں نے مسلمانوں اوع اسلام کے خلاف ٹویٹس کیں

    اس صورتحا ل کو دیکھتے ہوئے عرب خلیجی ممالک بھی مسلمانوں کے حق میں بول اٹھے اور انہوں نے یو اے ای گورنمنٹ سے ان تمام ہندو لوگوں کے خالف ایکشن لینے کی اپیل کی

    سعودی سفیر نے سنائی سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کو بڑی خوشخبری

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز سے برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچن ٹرنر کی ملاقات۔

  • لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا شادیاں نہ رکنے پائیں

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا شادیاں نہ رکنے پائیں

    چین کے شہر ووہان سے دنیا بھر میں پھیلنے والے کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے تمام ممالک میں تعلیمی اور مذہبی کاروباری سرگریموں سمیت تمام ثقافتی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد ہے تمام اجتماعی سرگرمیوں پر بھی پابندی ہے کورونا وائرس کی بچاؤ سے حفاظتی تدابیر کے پیش نظر لوگوں کو غیر ضروری گھروں سے باہر نکلنے اور شادیوں یا کئی دوسری تقریبات اور اجتماعی تقاریب پر پابندی عائد کر رکھی ہے

    باغی ٹی وی : چین کے شہر ووہان سے دنیا بھر میں پھیلنے والے کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے تمام ممالک میں تعلیمی اور مذہبی کاروباری سرگریموں سمیت تمام ثقافتی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد ہے تمام اجتماعی سرگرمیوں پر بھی پابندی ہے تاہم اس کے بر عکس سعودی وزارت انصاف کے ناجز پورٹل نے آن لائن شادی کے معاہدے کی پیشکش کر دی ہے


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر عرب نیوز کے ہینڈلر سے ٹویٹ کی گئی اس میں لکھا گیا کہ سعودی وزارت انصاف کے ناجز پورٹل نے آن لائن شادی کے معاہدے کی پیش کش کردی

    سعودی وزارت انصاف کے ناجز پورٹل نے نہ صرف آن لائن شادی کے معاہدے کی پیش کش بلکہ ریاض میں وبا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران ایک جوڑے کو شادی کے بندھن میں بھی باندھ دیا

    سلمان خان دولہا بننے کے قریب ہی تھے کہ شادی سے انکار کر دیا اداکار کے قریبی دوست کا انکشاف

    اداکارہ نمرہ خان نے شادی کر کے نئی زندگی کا آغاز کر دیا