Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • رشی کپور کی موت پر بالی وڈ فنکاروں کا اظہار افسوس

    رشی کپور کی موت پر بالی وڈ فنکاروں کا اظہار افسوس

    بالی وڈ لیجنڈری اداکار رشی کپور کی موت پر مداحوں کے ساتھ بالی وڈ فنکار بھی غمزدہ ہیں انہوں سوشل میڈیا پر اداکار کی موت پر افسوس کا اظہار کیا

    باغی ٹی وی : رشی کپور تقریباً 2 سال کے عرصے سے کینسر سے جنگ لڑ رہے تھے اور انہیں گزشتہ روز سانس لینے میں تکلیف پر ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا جہاں وہ انتقال کر گئے

    اداکار کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد بالی وڈ شوبز سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے سوشل میڈیا پر اپنے دکھ کا اظہار کیا
    https://www.instagram.com/p/B_l9QYMjLh1/?igshid=4ljy3ar1bo14
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر ٹونکل کھنا نے لیجنڈ اداکار کی تصویر شئیر کی او ان کی موت پر افسوس کا اظہار کرتےہوئے لکھا کہ چنٹو انکل شدت سے یاد آئیں گے ان کی موت ان کے چاہنے والوں کے لئے ایک صدمہ ہے
    https://www.instagram.com/p/B_l4S7_jy-H/?igshid=1bw2f3kwmnojy
    بھارتی ٹی وی انڈسٹری کی اداکارہ سُربی جتوئی نے رشی کپور کی تصویر شئیر کی اورافسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ہم نے اپنا ایک دلکش انسان کھو دیا


    فلم اسٹار رجنی کانت نے ٹویٹر پر رشی کپور کی موت پر لکھا کہ دل ٹوٹ گیا، سکون میں رہو میرے بہترین دوست رشی کپور


    اکشے کمار نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ ہم سب ایک ڈراؤنے خواب کی زد میں آگئے ہیں رشی کپور کی موت کی خبر ہمارے لیے دل دہلا دینے والی بات ہے وہ ایک لیجنڈ ایک بہترین ساتھی اداکار اور میرے بہت اچھے دوست تھے اکشے کمار نے رشی کپور کے اہلخانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار بھی کیا


    ٹائیگر شروف نے ٹویٹ پر لکھا کہ چنٹو انکل کے انتقال کی خبر سن کر بکھر گیا ہوں اور لکھا کہ سکون میں رہیں سر


    اداکارہ پریانکا چوپڑا نے ٹوئٹر پر رشی کپور اور نیتو کپور کے ہمراہ ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ رشی کپور کی موت نے میرا دل بھاری کردیا ہے اُن کی موت بالی ووڈ کے ایک دور کا اختتام ہے کیونکہ اب ہم دوبارہ ان جیسی بےحد اور کمال کی صلاحیتوں کو نہیں دیکھ سکیں گے میں نیتو میڈم، ردھیما، رنبیر اور اُن کے باقی خاندان سے افسوس کا اظہار کرتی ہوں


    اداکارہ کرن کھیر نے ٹویٹر پر رشی کپور کی تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ رشی کپور اب نہیں ہیں وہ ایک بہترین اداکار اور اچھے دوست تھے آپ کی بہت سی یادیں میرے دماغ میں ہیں آپ نے ایک اچھی اور بھر پور زندگی گزاری سر- اداکارہ نے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا


    روینا ٹنڈن نے لکھا کہ رشی کپور میری زندگی کے ایک حصے کے طرح تھے میری بچپن کی یادیں اور اب یہ سب بہت تیزی سے گزر گیا اچھا نہیں کیا چنٹو انکل ہم سب کے ساتھ ہم سب آپ کو شدت ست یاد کریں گے


    جے دیوگن نے رشی کپور کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ایک کے بعد ایک دھچکا، رشی جی کی موت کی خبر میرے دل پر کسی وار سے کم نہیں ہے میں اور رشی کپور فلم راجو چاچا(2000) سے ایک دوسرے سے وابستہ تھے اور ہم اب تک ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں تھے میں میں نیتو جی ، ردھیما، رنبیراور ڈبو کے ساتھ افسوس کا اظہار کرتا ہوں


    جاوید اختر نے لکھا کہ میں نے آج ایک بیت اچھے دوست کو کھو دیا ہے انہوں نے لکھا کہ میں شعلے کی شوٹنگ کے دوران ایک شام ان سے کچھ گھنٹوں کے لئے ملا تھا اتب سے 47 سال ہو گئے ہماری دوستی کو


    سونم کپور نے لکھا آپ کو سکون ملے چنٹو انکل میرا پیار آپ کے لئے مجھے افسوس ہے کہ ہم سب آپ کوالوداع ٹھیک طور پر نہیں کہہ سکے


    اداکار ورون دھون نے بھی ایک فلم کے سین کے دوران رشی کپور کے ساتھ لی گئی تصویر شئیر کی اور افسوس کا اظہار کیا


    کپل شرما نے بھی اپنے شو کے دوران لی گئی رشی کپور کے ساتھ تصویر شئیر کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا


    اداکار سنی دیول نے لکھا کہ رشی کپور کی اچانک موت نے حیران کر دیا وہ ایک بہترین ساتھی اداکار اور اچھے دوست تھے میری دعائیں ان کی فیملی کے ساتھ ہیں ہم آپ کو شدت سے یاد کریں گے


    ہیما مالنی نے لکھا کہ یہ خبر سن کر یقین نہیں آیا کہ ایک اچھے اور بہترین انسان رشی کپور اب اس دنیا میں نہیں رہے میرا دل نیتو ،رنبیر اور تمام فیملی کے لئے اداس ہے


    ارجن رام پال نے لکھا کہ کل اور آج دو آرٹسٹ بہترین اداکار بھائی باپ اور ساتھی اداکار اس وقت میں چل بسے جب لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہم ان کو ان کے ہاں جا کر احترام نہیں دے سکے


    جان ابراہم نے ٹوئٹر پر رشی کپور کی تصویر کرتے ہوئے اُن کی موت پر افسوس کا اظہار کیا


    بالی ووڈ اداکارہ شلپا شیٹی کندرا نے ٹوئٹر پر رشی کپور کی تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ ایک افسوس ناک خبر سے دن کا آغاز بہت ہی بُرا ہے، ایک لیجنڈری اداکار جسے دُنیا بھر کے لاکھوں لوگوں نے پسند کیا آج ہمیں چھوڑ کر چلے گئے آپ کا انداز، آپ کی شان، آپ کی مُسکراہٹ ہمیں بہت یاد آئے گی، آپ آنے والی نسلوں تک زندہ رہیں گے

    شلپا سیٹھی نے لکھا کہ میر دل اس مشکل کی گھڑی میں نیتو جی اور تمام خاندان کے لئے افسردہ ہے


    بھارتی لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر نے رشی کپور کی یاد میں پر رشی کپور کے بچپن کی ایک تصویر شیئر کی جس میں گلوکارہ نے اداکار کو گود میں اٹھایا ہوا ہے لتامنگیشکر نے یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ کچھ عرصہ پہلے رشی جی نے مجھے اُن کی اور میری یہ تصویر بھیجی تھی آج مجھے وہ سب دن اور سب باتیں بہت یاد آرہی ہیں


    لتا منگیشکر نے رشی کپور کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ کیا لکھوں؟ کیا کہوں؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے رشی جی کی موت پر مجھے بہت زیادہ دکھ ہو رہا ہے اُ ن کے جانے سے بھارتی فلم انڈسٹری کو بہت بڑا نقصان ہوا ہے
    یہ دُکھ سہنا میرے لئے بہت مشکل ہے،خدا ان کی روح کو سکون دے
    https://www.instagram.com/p/B_mHj7AJdBq/?igshid=1cq9iyc9xuwrq
    اداکارہ کاجول نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انسٹا گرا م پر لکھا کہ ہم آپ کو ہمیشہ یاد رکھیں
    https://www.instagram.com/p/B_l5VCaD8df/?igshid=13nsomfwnz97r
    اداکارہ تاپسی پنوں نے بی انسٹا گرام پر فلم کے دوران لی گئی رشی کپور کے ساتھ اپنی ا یک تصویر شئیر کی اور ان کی موت پر افسوس کا اظہار کیا
    https://www.instagram.com/p/B_l6_ZPAqup/?igshid=1ljmwihnuf2f5
    ایکتا کپور نے بھی انسٹا گرام پر رشی کپور کی موت پر افسوس کا اظہار کیا

    رشی کپور زندہ دل شخص اور قابلیت کا پاور ہاؤس تھے نریندر مودی

    رشی کپور کو آنسوؤں سے نہیں ہمیشہ مسکراہٹ کے ساتھ یاد رکھیں گے اہلخانہ

    ایک اور بھارتی اداکار رشی کپور چل بسے

  • عقیدہ ختم نبوت کے آئینی و قانونی پہلو  تحریر:پیر فاروق بہاؤالحق شاہ

    عقیدہ ختم نبوت کے آئینی و قانونی پہلو تحریر:پیر فاروق بہاؤالحق شاہ

    عقیدہ ختم نبوت کے آئینی و قانونی پہلو
    تحریر:پیر فاروق بہاؤالحق شاہ
    عقیدہ ختم نبوت اسلام کی اساس ہے۔یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس پر قصر اسلام کی پوری عمارت کھڑی ہے۔اس عقیدہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سرکار دوعالمﷺ کے وصال ظاہری کے بعد مملکت اسلامیہ کی دگر گوں حالت کے باوجود خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبرؓ نے منکرین ختم نبوت کے خلاف بھر پور جہاد کیا۔صحابہ کرام کی بھاری تعداد ان جنگوں میں شہید ہوئی۔لیکن حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے ان سے تعرض نہ فرمایا۔بلکہ ان کے خلاف جہاد مکمل کیا۔ختم نبوت اتنا اہم مسئلہ ہے کہ قرآن کریم میں واضح الفاظ اس امر کا اعلان کیا کہ سرکاردوعالمﷺ خاتم النبین ہیں۔بلکہ مختلف پیرائے میں بھی اس امر کی وضاحت کی جاتی رہی۔یہاں تک کہ پوری امت اس بات پر یکسو ہو گئی۔مسیلمہ کزاب،طلیحہ بن خویلد،اسود عنسی یامرزا قادیانی ان سب کے خلاف امت مسلمہ یکسو رہی۔انکے نظریات۔ کا رد کیااور۔۔ انکے خلاف جہاد کیا۔اور اسلام کی بنیادی اساس کی حفاظت کی۔قدیم زمانہ اسلام سے لے آج تک مختلف علماء۔ مفصرین،محققین نے نے ختم نبوت کے حوالے سے گراں ا قدر خدمات سر انجام دیں۔مرزا قادیانی کے جھوٹے دعوی نبوت کے بعد پیر سید مھر علی شاہ گولڑوی سید ابوالحسنات شاہ قادری،مولانا سید محمد یوسف بنوری، ،آغا شورش کاشمیری،سید عطا اللہ شاہ بخاری مولانا مفتی محمود،مولانا عبدالستارخان نیازی،ضیاء الامت حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری سیمت متعدد قابل قدر بزرگوں نے ہر میدان میں انکا تعاقب کیا۔حالیہ ایام میں جس انداز میں عقیدہ ختم نبوت پر گفتگو کی گئی۔دشام طرازی کا بازار گرم ہوا اس سے ہر ذی شعور شخص نہ صرف اس رویے پر پریشان ہے بلکہ مغموم بھی ہے۔پاکستان ایک دستوری ریاست ہے۔اسکا ایک تحریری آئین ہے۔جس میں تمام باتیں واضح طور پر درج ہیں۔قانون کا طالب علم ہونے کے ناطے میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں عقیدہ ختم نبوت کی اتنی مظبوط قانونی و دستوری وجوھات موجود ہیں جسکے ہوتے ہوئے ہمیں کسی کمزور بحث کی ضرورت نہیں۔قرارداد مقاصد جو کہ دستور پاکستان کا دیباچہ ہے اس میں واضح طور پر تحریر ہے کہ حاکمیت صرف اللہ تعالی کی ہو گی۔دستور کے آرٹیکل (۱) کے مطابق یہ ایک اسلامی مملکت ہو گی جبکہ آرٹیکل(۲) میں درج ہے کہ یہاں کا کوئی قانون قرآن وسنت سے متصادم نہیں ہو گا۔اس طرح دستور کی شق (1)227کے تحت پارلیمنٹ کواختیار نہیں کہ وہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون سازی کر سکے۔بلکہ وہ قوانین جو قرآن وسنت کے خلاف ہیں انکی فوری اصلاح کی ہدایت کی گئی ہے۔چناچہ ابتدائی طور پر ملک پاکستان اپنے دستور کے تحت اس بات کا پابند تھا کہ یہاں پر قادیانیوں کے خلاف قانون سازی کر کے ایک آئینی ضرورت کو پورا کیا جاتا۔لیکن قیام پاکستان کے بعد جب حکمرانوں نے اس دستوری ضرورت سے انحراف کیا تو 1953میں مسلمانوں کو سڑکوں پر آنا پڑا۔خون ریزی،فسادات،گرفتاریاں،سزاوں، اور سب سے بڑھ کر ایک آئین کی خلاف ورزی کر کے شدید بحران پیدا کر دیا گیا۔تاہم فوج کی مدد سے ان فسادات پر قابو پایا گیا۔مقدمات چلے۔مولانا عبدالستار خان نیازی اور مولانا موددی کو سزائے موت سنائی گئی۔جسکو بعد میں اعلی عدالتوں نے کاالعدم قرار دے دیا۔ 29 مئی 1974کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر پیش آنے والے واقع نے ملک بھی اضطراب پیدا کر دیا ۔ پورے ملک میں تحریک ختم نبوت کا آغاز ہو گیا جسکی قیادت اپنے اپنے علاقوں میں مختلف نوجوان رہنماوں نے کی جن میں حاجی محمد حنیف طیب سندھ میں، پیر امین الحسنات شاہ، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا اللہ وسیا،مولاناخواجہ خان محمد کندیاں والے اور پیر ابراہیم شاہ پنجاب میں،مولانا فضل الرحمن خیبر پختونخواہ میں نمایاں رہے۔ضلع سرگودھا میں تحریک ختم نبوت کا مزکز بھیرہ شریف بنا۔قادیانی تحریک کے کئی اکابرین کا تعلق بھیرہ سے تھا۔اس لئے یہاں کے لوگوں میں اس کے خلاف رد عمل بھی شدید تھا۔حضرت پیر محمد امین الحسنات شاہ نے پنجاب بھر کے مختلف اضلاع۔شہروں اور دیہاتوں کے طوفانی دورے کیے اور اپنی ولولہ انگیز تقریروں سے عوام میں شعور کی ایک لہر پیدا کر دی۔بھیرہ کے تمام مکاتب فکر کے بزرگ جن میں مولانا جلال الدین،مولانا عبدالرشید اور صاحبزادہ ابرار احمد بگوی،حکیم برکات احمد بگوی نمایاں طور پر پیر محمد امین الحسنات شاہ کے ساتھ تھے۔حضور ضیاء الامت کے ایک فرزند پیر محمد ابراہیم شاہ جو کہ فوج میں بطور افیسر منتخب ہو چکے تھے انہوں نے بھی فوج میں اپنی حاضری کو ملتوی کرتے ہوئے ختم نبوت کی اس تحریک میں دلیرانہ کردار ادا کیا۔خاندان ضیاء الامت کے ایک اور فردپیر زاداہ احمد جنید شاہ نے ایک مجاہدانہ کردار ادا کرتے ہوئے پیر محمد امین الحسنات شاہ کے دست بازو رہے اور اپنی دلیری سے دشمنان اسلام کو مرعوب کیے رکھا۔الحاج پیر حفیظ البرکات شاہ نے اس تحریک کی کامیابی کے لیے بے مثال مالی ایثار کا مظاہرہ کیا۔تحریک ختم نبوت کا سب سے نازک مرحلہ تب پیش آیا جب حضرت پیر محمد امین الحسنات شاہ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔آپ رات گئے ایک جلسہ سے واپس آرہے تھے کہ لنگر شریف کے بالکل نزدیک چھپے ہوئے قادیانیوں نے آپ پر سیدھے فائر کیے لیکن اللہ کریم نے آپ کو سلامت رکھا۔دیواروں اور دروازوں پر گولیوں کے واضح نشانات آج بھی قادیانیوں کی بزدلانہ حرکت کی گواہی دے رہے ہیں۔قریب تھا کہ حالات مزید کشیدہ ہو جاتے لیکن قائد تحریک ختم نبوت حضرت پیر محمد امین الحسنات شاہ نے شہریوں کو پر امن رہنے کی تلقین کی۔ پھراس مسئلہ کو مولانا شاہ احمد نوارنی نے پارلیمنٹ میں لے جانے کا اعلان کیا۔اور ایک مرتبہ پھر قانونی رستہ اختیار کیا۔ 30جون 1974کو انہوں نے پارلیمنٹ قرارداد پیش کی جس میں قادیانیوں کے عقائد کے پیش نظر انکو غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔اس تحریک پر بحث کے دوران اس بات کی اجازت دی گئی کہ ارکان پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ایک آزاد ریاست کے آزاد شہری ہونے کے ناطے قادیانیوں کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہو کر اپنا موقف بیان کرنے کا مکمل مو قع فراہم کیا گیا۔13دن تک سوال وجواب،بحث و مباحثہ جرح وتنقید کا سلسلہ جاری رہا۔پاکستان کے اٹارنی جنرل یحیح بختیار نے قادیانیوں کے سربراہ مرزا ناصر پر جرح کی اور سوال وجواب پر مشتمل کی گئی گفتگو ں پر مشتمل طویل سیشن ہوئے۔22اگست1974کو اس بحث کو قانونی شکل دینے کے لیے ایک کمیٹی بنی جس کے معزز ارکان میں مولانا شاہ احمد نورانی،مفتی محمود،پروفیسر غفور احمد،چوہدری ظہور الہی،مسٹر غلام فاروق اور سردار مولا بخش سومرو اور وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ اس کمیٹی کے رکن تھے۔7ستمبر1974کو پارلیمنٹ نے قانون سازی کے ذریعے متفقہ طور پر انکو غیر مسلم قرار دیتے ہوئے دستور کی دفعہ260اور دفعہ160میں ترمیم منظور کی۔26اپریل1984 اس وقت کی وفاقی حکومت نے امتناع قادیانیت ارڈی نینس جاری کیا۔جس میں انہیں اسلامی شعائر کا استعمال نہ کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی ایک نئی دفعہ298کا تعزیرات پاکستان میں اضافہ کیا گیا جس کی رو سے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے اور۔اپنی تبلیغ کے ذریعے مسلمانوں کی توہین کرنے کو قابل تعزید جرم قرار دیا گیا۔قادیانیوں نے اس ارڈی نینس کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کر دیا۔15جولائی 1984 سے 12اگست1984تک اس کی سماعت بلا تعطل جاری رہی۔قادیانیوں کی۔پیٹیشن نے اس آرڈینینس کو انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا گیا تھا۔12اکتوبر1984کو وفاقی شرعی عدالت نے اس پٹیشن کو خارج کر دیا۔چیف جسٹس جسٹس فخر عالم نے فیصلہ تحریر کیا۔جبکہ جسٹس چوہدری محمد صدیق،جسٹس مولانا ملک غلام علی جسٹس مولاناعبدالقدوس قاسمی نے تائیدی دستخط کیے۔اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بینچ میں اپیل کی گئی۔جسکو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے لکھا کہ قادیانیوں کو مروجہ جمہوری اور قانونی طریقہ کار کے مطابق اقلیت قرار دیا گیا ہے۔نیز یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ چکی ہے کہ قادیانی ملک میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔لہذا یہ قانو ن انسانی حقوق کے خلاف کے نہیں بلکہ آئین پاکستان کے عین مطابق ہے۔یہ فیصلہ جسٹس محمد افضل ضلحہ نے تحریر کیا۔جبکہ ڈاکٹرنسیم حسن شاہ،جسٹس شفیع الرحمن،جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری اور جسٹس تقی عثمانی نے تائید کی۔جبکہ جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری اور جسٹس مولانا تقی عثمانی نے الگ سے بھی فیصلہ تحریر کیا(SC-167…PLD1988)لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس رفیق تارڑ نے 1987میں، بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس امیر المک مینگل نے 1988 میں، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس خلیل الرحمن نے 1992میں، جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے ہی جسٹس میاں نزیر اختر نے 1992میں قادیانیوں کے خلاف کیے جانے والے دستوری اقدامات کو قانون کے عین مطابق قرار دیا۔بعد ازاں سپریم کورٹ کے ایک فل بینچ نے 1993میں الگ مفصل فیصلہ تحریر کیا جو کہ اس ضمن میں حرف آخر کی حیثیت رکھتا ہے۔اس بینچ میں جسٹس عبدالقدیر چوہدری جسٹس ولی محمد خان،جسٹس محمد افضل لون،اور جسٹس سلیم اختر شامل تھے۔(1993-S.C.M.R1718) اسمیں فل بینچ نے قرار دیا کہ ایک اقلیت کی جانب سے مسلمانوں کے شعائر کا استعمال فتنہ و فساد کا موجب بن سکتا ہے،ملک میں امن و امان کامسئلہ پیدا ہو سکتا ہے اور لوگوں کی جان و مال خطرے میں پڑ سکتی ہے۔اس لیے انسانی حقوق کے تحفظ اور دستور پاکستان کے بنیادی نکات عمل کرنے کی خاطر قادیانیوں کو اس طرح کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔1988 میں قادیانیوں نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشن کی طرف رجوع کیا اور درخواست کی کہ پاکستان میں انکے انسانی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں لہذا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے جرم میں پاکستان کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں حکومت پاکستان نے جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری کو جینوا میں اس کمشن کے اجلاس میں پاکستانی موقف بیان کرنے کے لیے بھیجا۔انہوں نے قانون،آئین اور بین الاقوامی قوانیں کی روشنی میں قادیانیوں کے الزامات کا جواب دیا۔ اس قانونی جنگ کا نتیجہ 30اگست1988کو سامنے آیا جب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشن نے بھی قادیانیوں کی درخواست کومسترد کر دیا اور حکومت پاکستان کے موقف کو درست تسلیم کیا۔لیکن آج کی پاکستانی حکومت کا کرادر اس حوالے سے معذرت خوانہ کیوں ہے۔ایسے مسائل جن پر قرآن و سنت کا حکم واضح اور امت کا اجماع اور ملک کی منتخب پارلیمنٹ کا اتفاق اور اعلی عدالتوں کے فیصلے اس امر کی تصدیق کر رہے ہیں تو حکومت پاکستان کا موجودہ رویہ ہم سب کے لیے پریشان کن ہے۔اس معاملے پر ایک مضبوط موقف اپنانے کی ضرورت ہے۔
    ختم نبوت کا مسئلہ محض دینی،قانونی یا سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ یہ 22کروڑمسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔انہوں نے صدر ٹرمپ کے پاس جا کر پاکستان کی بدخواہی کر کے اپنے منہ پر کالک ملی ہے اور خود ہی اس مسئلے کو بین الاقوامی رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔یہ تو ممکن نہیں کہ آپ پاکستان کا کھائیں،پاکستان میں سہولیات سے لطف اندوز ہوں لیکن اپنے گندے کپڑے ٹرمپ کے سامنے جا کر دھوئیں کیا یہ بات قرینے انصاف ہے کہ 2لاکھ کی آبادی 22کڑوڑ لوگوں کو یرغمال بنا لے۔ان کے عقائد کا مذاق اڑائے اور پھر اپنی مظلومیت کا رونا بھی روئے۔حقیقت یہ ہے کہ قادیانی اس ملک کی اقلیت ہیں انکو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو دیگر اقیلیتوں کو حاصل ہیں۔یہ لوگ ملک میں کسی بھی جگہ ملازمت کر سکتے ہیں،جایئدادکی خریدو فروخت کر سکتے ہیں۔پاکستان کے کئی بڑے ادارے انکی ملکیت ہیں۔ان کو نا صرف قانونی تحفظ حاصل ہے بلکہ یہ حساس اداروں میں اعلی منصاب تک پہنچ سکتے ہیں۔اگر یہ لوگ پاکستان کے قانون کا تحفظ حاصل کر رہے ہیں تومنطقی طور پر انکو ان فرائض کا بھی خیال رکھنا ہو گا جو آئین کے تحت پاکستانی قوم ان سے توقع کرتی ہے۔ہمارے تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ اس موضوع کو نصاب میں شامل کریں اور کچھ سکہ کتب مسئلأئ ختم نبوت ازشورش کاشمیری، حسام الحرمین از مام احمد رضا بریلوی، اور پیر مھر علی شاہ کی کتاب شمس الہدایت کا مطالعہ کریں تا کہ بعد میں کف افسوس نہ ملنا پڑے۔

  • عارضی دوری کے بعد مایا علی کی سوشل میڈیا پر واپسی

    عارضی دوری کے بعد مایا علی کی سوشل میڈیا پر واپسی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مایا علی نے رواں ماہ 7 اپریل کو سوشل میڈیا سے عارضی دوری اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم اب اداکارہ سوشل میڈیا پر واپس آگئیں ہیں

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا سے عارضی دوری اختیار کرنے والی اداکارہ مایا علی ایک بار پھر سے سوشل میڈیا پر واپس آگئی ہیں جس کا اعلان انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر کیا

    مایا علی نے انسٹاگرام پر اپنی ایک تصویر شیئر کی جس میں وہ نظریں جھکائے مُسکرا رہی ہیں انہوں نے اپنی اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا کہ لو جی آگئی میں
    https://www.instagram.com/p/B_kCBz1nWLy/?igshid=1euyb97tmzzsc
    اداکارہ نے اپنے مداحوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ میں امید کرتی ہوں کہ آپ سب رمضان محفوظ طریقے سے اور گھروں میں رہتے ہوئے اپنے پیاروں کے ساتھ گُزار رہے ہوں گے

    انہوں نے لکھا کہ میری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھے اور ہمیں اس وبا سے بچنے کی ہمت عطا کرے

    مایا علی نے لکھا کہ انشا اللہ یہ وقت بھی بہت جلد گُزر جائے گا مشکل کے اس وقت میں ان لوگوں کو نہ بھولیں جنہیں اس وقت آپ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے

    واضح رہے کہ رواں ماہ 7 اپریل کو مایا علی نے اپنی ایک انسٹاگرام پوسٹ میں اعلان کیا تھا کہ وہ کچھ دنوں کے لیے سوشل میڈیا سے عارضی طور پر دور ہورہی ہیں

    مایا علی کا سوشل میڈیا سے عارضی دوری اختیا ر کرنے کا اعلان

    ماہرہ خان نے سوشل میڈیا سےعارضی دوری اختیار کر لی

  • رشی کپور کو آنسوؤں سے نہیں ہمیشہ مسکراہٹ کے ساتھ یاد رکھیں گے  اہلخانہ

    رشی کپور کو آنسوؤں سے نہیں ہمیشہ مسکراہٹ کے ساتھ یاد رکھیں گے اہلخانہ

    بالی وڈ کے لیجنڈری اداکار رشی کپور کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وہ اداکار کو آنسوؤں کے ساتھ نہیں بلکہ مسکراہٹ کے ساتھ یاد رکھیں گے

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بالی وڈ کے لیجنڈری اور اداکار رشی کپور کی موت پر بیان دیتے ہوئے ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اسپتال انتظامیہ کے مطابق رشی کپور اپنے آخری لمحات میں بھی خوش تھے اور ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اس لیے ہم بھی رشی کپور کو آنسوؤں سے نہیں بلکہ مُسکراہٹ کے ساتھ ہمیشہ یاد رکھیں گے


    رشی کپور کے اہلخانہ نے ان کی موت کی خبر مداحوں سے شیئر کرنے کے لیے ایک بیان بھی جاری کیا ہمارے پیارے رشی کپور لیوکمیا سے 2 سال تک لڑنے کے بعد آج صبح 8 بج کر 45 منٹ پر ہسپتال میں سکون سے اس دنیا سے رخصت ہوگئے، ہسپتال کے ڈاکٹرز اور میڈیکل اسٹاف کے مطابق رشی کپور نے آخری لمحے تک انہیں محظوظ کیا

    رشی کپور تقریباً 2 سال کے عرصے سے کینسر سے جنگ لڑ رہے تھے رشی کپور کی فیملی کا کہنا تھا کہ ان دو سال کے دوران خاندان، دوست، فلمیں اور کھانا رشی کپور کی توجہ کا مرکز تھا اور ان سے ہر ملنے والا یہی کہتا تھا کہ رشی کپور نے کیسے اپنی بیماری سے جنگ کی

    لیجنڈری اداکار کے اہلخانہ نے کہا کہ وہ بہت خوش ہوتے تھے کہ دنیا بھر میں موجود ان کے لا تعداد مداح ان سے بےحد محبت کرتے ہیں اور ان کے مداحوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ رشی کپور کو دکھی ہوکر نہیں بلکہ خوش ہوکر یاد کرنا ہے

    بھارتی اداکار کے اہل خانہ نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ دنیا بھر کی طرح بھارت میں بھی لاک ڈاؤن ہے اور عالمی وبا کے پیش نظر ہجوم پر پابندی ہے لہذا ہماری رشی کپور کے مداحوں، خیر سگالیوں اور دوستوں سے گذارش ہے کہ اپنے گھروں میں رہیں اورکورونا وبا سے بچاؤ سے پیچ نظر کئے جانے والے حکومتی اقدامات کا احترام کریں

    واضح رہے کہ رشی کپور کے سوگواران میں ان کی اہلیہ اداکارہ نیتو سنگھ، بیٹا رنبیر کپور اور بیٹی ردھیما کپور شامل ہیں

    خیال رہے کہ اکتوبر 2018 میں رشی کپور کے کینسر میں مبتلا ہونے کی اطلاعات منظر عام پر آئی تھیں جس کے علاج کے لیے وہ امریکا گئے تھے تاہم اس وقت انہوں نے اپنی بیماری کی تصدیق نہیں کی تھی

    بعدازاں جنوری 2019 میں ان کے بھائی رندھیر کپور نے ان کے امریکا میں زیر علاج ہونے کی تصدیق کی تھی تاہم بیماری کے حوالے سے اس وقت بھی نہیں بتایا گیا تھا تاہم ایک سال قبل اپریل میں فلم ساز راہول راویل نے بتایا تھا کہ رشی کپور کینسر کو شکست دے کر صحتیاب ہوگئے ہیں

    رشی کپور زندہ دل شخص اور قابلیت کا پاور ہاؤس تھے نریندر مودی

    ایک اور بھارتی اداکار رشی کپور چل بسے

  • رشی کپور زندہ دل شخص اور قابلیت کا پاور ہاؤس تھے نریندر مودی

    رشی کپور زندہ دل شخص اور قابلیت کا پاور ہاؤس تھے نریندر مودی

    بھارتی معروف لیجنڈری اداکار رشی کپور کی موت پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پرافسوس کا اظہار کیا

    باغی ٹی وی : رشی کپور تقریباً 2 سال کے عرصے سے کینسر سے جنگ لڑ رہے تھے اور انہیں گزشتہ روز سانس لینے میں تکلیف پر ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا جہاں وہ انتقال کر گئے بھارتی لیجنڈری اداکار رشی کپورکی موت پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنا ایک پیغام جاری کیا


    نریندر مودی نے کہا کہ رشی کپور جی ایک پیارے ہمہ جہت اورزندہ دل شخص تھے وہ قابلیت کا پاور ہاؤس تھے

    نریندر مودی نے کہا کہ میں ہمیشہ میری اور رشی کپور کے درمیان ہونے والی تمام بات چیت اور ملاقاتوں کو یاد رکھوں گا رشی کپور بھارت اور بھارتی فلموں کی ترقی کا شوق رکھتے تھے

    بھارتی وزیراعظم نے رشی کپور کی موت سے غمزدہ ان کے اہل خانہ اور مداحوں سے تعزیت کا اظہار کیا

    خیال رہے کہ اکتوبر 2018 میں رشی کپور کے کینسر میں مبتلا ہونے کی اطلاعات منظر عام پر آئی تھیں جس کے علاج کے لیے وہ امریکا گئے تھے تاہم اس وقت انہوں نے اپنی بیماری کی تصدیق نہیں کی تھی

    بعدازاں جنوری 2019 میں ان کے بھائی رندھیر کپور نے ان کے امریکا میں زیر علاج ہونے کی تصدیق کی تھی تاہم بیماری کے حوالے سے اس وقت بھی نہیں بتایا گیا تھا تاہم ایک سال قبل اپریل میں فلم ساز راہول راویل نے بتایا تھا کہ رشی کپور کینسر کو شکست دے کر صحتیاب ہوگئے ہیں

    ایک اور بھارتی اداکار رشی کپور چل بسے

  • عرفان خان کی موت پر عدنان صدیقی کا تعزیتی پیغام

    عرفان خان کی موت پر عدنان صدیقی کا تعزیتی پیغام

    بھارتی معروف اداکار عرفان خان 53 سال کی عمر میں گزشتہ روز انتقال کرگئے تھے ان کے اچانک انتقال کی خبر سے مداحوں کے ساتھ بھارتی فنکاروں اور پاکساتنی فنکاروں کو بھی حیران پریشان کر دیا

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عرفان خان کو منگل کے روز ممبئی کے ایک ہسپتال میں اس وقت داخل کروایا گیا جب ان کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اداکار کو بڑی آنت کا انفیکشن ہوا تھا جس کے علاج کے لیے وہ ہسپتال میں داخل ہوئے عرفان خان نے سوگواران میں اہلیہ ستاپا اور دو بیٹے بابیل اور ایان چھوڑے ہیں

    ان کے انتقال کے بعد دنیا بھر میں موجود ان کے مداحوں اور ساتھی اداکاروں نے سوشل میڈیا پر اپنے دکھ کا اظہار کیا اور خراج تحسین بھی پیش کیا
    https://www.instagram.com/p/B_j4mcinxwI/?igshid=1kdoah7xc83km
    پاکستان شوبز اندسٹری کے معروف اداکار عدنان صدیقی نے بھی عرفان خان کے انتقال کے بعد سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹا گرام پر ان کے لیے ایک طویل نوٹ جاری کیا اور عرفان خان کے ساتھ اپنی دوستی کے بارے میں بھی مداحوں کو بھی بتایا

    عدنان صدیقی نےاپنی اور عدنان صدیقی کی تصویر سوشل میڈیا پع شئیر کی اور کیپشن میں لکھا کہ ایک بہترین شخص بہت جلدی چلا گیا، مجھے عرفان خان سے پہلی بار ملنے کا اعزاز ’اے مائٹی ہارٹ‘ فلم کے سیٹ پر ملا ایک سین کے دوران جب ہم نے اپنی لائنز پڑھ لی تو میں نے دیکھا کہ وہ ایک سین بار بار کررہے ہیں میں یہ دیکھ کر حیران ہوا

    عدنان صدیقی نے لکھا میں نے ان سے پوچھا عرفان صاحب یہ کررہے ہیں آپ؟ اس پر انہوں نے جواب دیا ہم دونوں سی آئی ڈی ایجنٹس کا کردار نبھا رہے ہیں جس کا مطلب ہمیں ہر جگہ اپنا آئی ڈی دکھانا پڑے گا میں یہ سین پریکٹس کررہا ہوں تاکہ اصل سین کے دوران جب میں آئی ڈی کارڈ دکھاؤں تو عجیب نہ لگوں اور یہ پہلا موقع تھا جب مجھے احساس ہوا کہ وہ کتنے بہترین اداکار ہیں

    انہوں نے لکھا کہ ہم اس فلم کے سیٹ پر اچھے دوست بن گئے اور شوٹ کے بعد ایک ساتھ رہتے تھے اور گھوما کرتے تھے عدنان صدیقی نے لکھا مجھے یاد ہے کہ ایک اور سین کے لیے وہ پاکستان میں عام استعمال ہونے والا اردو کا ایک لفظ سیکھنا چاہتے تھے اور انہوں نے اس حوالے سے مجھ سے پوچھا وہ ایک زبردست اداکار تھے لیکن اپنے فن کو مزید بہتر کرنے کے لیے کچھ بھی پوچھنے پر ہچکچاتے نہیں تھے

    اداکار نے لکھا کہ ایک شام انہوں نے مجھے بتایا کہ انہیں اور ان کے دوست کو جیمز بانڈ سیریز کی فلم اکٹوپسی میں ایکسٹرا اداکاروں کا کردار آفر ہوا اس فلم کی شوٹنگ بھارت میں ہوئی تھی لیکن وہ سائیکل چلا کر سیٹس تک پہنچتے تھے تو انہیں دیر ہوگئی اور شوٹ ختم ہوچکا تھا انہوں نے مجھے بتایا کہ اس وقت سے وہ ہا لی وڈ فلم میں کام کرنے کے خواہشمند تھے ہا لی وڈ میں ہمارے کیریئر کا آغاز ساتھ ہوا لیکن عرفان خان نے اپنا ثابت کر دکھایا اور مقام حاصل کیا

    عدنا صدیقی نے مزید لکھا کہ 2018 میں لندن میں آئی پی پی اے میں شرکت کے دوران مجھے پتا چلا کہ عرفان خان بھی لندن میں موجود ہیں وہ اس دوران کسی سے نہیں مل رہے تھے البتہ انہوں نے مجھ سے ملاقات کرنے پر اتفاق کیا اس دوران ہم نے فلموں اور دنیا کے دیگر موضوعات پر بات چیت کی وہ بےحد مثبت نظر آرہے تھے ان کے آخری الفاظ یہ تھے ’عدنان میں جلد ٹھیک ہوکر واپس آوں گا‘ انشاءاللہ کون جانتا تھا کہ آب میں ان کے لیے یہ نوٹ تحریر کروں گا

    عدنان صدیقی نے ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور عرفان‌خان کی روح کے سکون کے لئے دعا کی اور لکھا کہ ہم آپ کو ہمیشہ یاد کریں گے

    یاد رہے کہ عدنان صدیقی اور عرفان خان نے 2007 کی ہولی وڈ فلم ’اے مائٹی ہارٹ‘ میں اکٹھے کام کیا تھا

    عرفان خان کے انتقال پر بالی وڈ فنکاروں کا افسوس کا اظہار

    عرفان خان کے انتقال پر پاکستانی فنکاروں کا افسوس کا اظہار

  • ماہرہ خان نے  سوشل میڈیا سےعارضی دوری اختیار کر لی

    ماہرہ خان نے سوشل میڈیا سےعارضی دوری اختیار کر لی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ ماہرہ خان نے سوشل میڈیا سے عارضی طور پر دوری اختیار کر لی

    باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ ماہرہ خان نے سوشل میڈیا سے عارضی طور پر دوری اختیار کر لی اداکارہ نے یہ اعلان سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں دیا ماہرہ نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ وہ کچھ عرصے کے لیے سوشل میڈیا سے عارضی دوری اختیار کررہی ہیں


    اداکارہ نے اپنے پیغام میں مزید لکھا کہ ان وقتوں میں صبر، شکر اور توکل کو یاد رکھیں


    ماہرہ خان نے اپنی ایک ٹویٹ میں بالی وڈ اداکار عرفان خان کی انتقال پر افسوس کا اظہار کیا اور عرفان خان کی ایک تصویر شئیر کی اور لکھا کہ آپ ہمیشہ قیمتی تھے اور رہیں گے

    واضح رہے کہ اداکارہ ماہرہ خان سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتی ہیں اور کسی کی برتھ ڈے ہو یا کسی خوشی یا غمی کا موقع ہو یا کوئی تہوار ہو وہ ہر سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں رہتی ہیں اور ہر کسی کے غم و خوشی میں پیش پیش ہوتی ہیں

    اداکارہ ماہر خان کورونا وبا کے مشکل وقت میں بھی حکومت اور دیگر معروف شخصیات کی طرح عوام میں اس وبا سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر اپنانے کے اکثر و بیشتر آگاہی پیغامات سوشل میڈیا پر دیتی نظر آتی ہیں علاوہ ازیں کورونا وبا کے دوران لاک ڈاؤن کے موقع پر سیکیورٹی اہلکاروں کی حوصلہ افزائی اور فرنٹ لائن پر وبا کے خلاف جنگ لڑنے والے ڈاکٹرز اور طبی عملے کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے پیش پیش ہیں

    ماہرہ خان کا اپنی کزن اور پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین

    ایمن خان نے انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالوورزکے ساتھ ماہرہ خان کو پیچھے چھوڑ دیا

    مہوش حیات کا پولیس کو خراج تحسین

  • باغی ٹی وی کا پنجاب پولیس کے شہدا کو خراج تحسین

    باغی ٹی وی کا پنجاب پولیس کے شہدا کو خراج تحسین

    باغی ٹی وی کا پنجاب پولیس کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ایک سلسلہ شروع کرنے کا اعلان

    باغی ٹی وی: باغی ٹی وی پنجاب پولیس کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ایک سلسلہ شروع گا جس میں شہداء کی عوام کے لئے دی گئیں خدمات اور ان کی بہادری کے کارناموں پر روشنی ڈالی جائے گی اور ان کی سوانح حیات کو منظر عام پرلایا جائے گا

    تفصیلات کے مطابق باغی ٹی وی نے پنجاب پولیس کے شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے شہدا کے نام تصویریں واقعہ شہادت اور ان کے سوگواران اور لواحقین کی تفصیلات دینے کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے اور یہ اپنی نوعیت کا پہلا پروجیکٹ ہے جو کسی بھی نیوز کے ادارے کو کرنے کا پہلی دفعہ اتفاق ہو رہا ہے

    باغی ٹی وی چاہتا ہے کہ قوم کو شہدا کی قربانیوں کا ادراک ہو احساس اور قوم ان کی قربانیوں کو دیکھنے کے بعد شہد کو خراج تحسین پیش کرے

    پاکستانی قوم کے اور اس کی حفاظت کرنے والی اسیکیورٹی فورسز کے ارادے اتنے بلند ہیں کہ وہ کٹ تو سکتی ہیں لیکن جھک نہیں سکتی پاکستان کی حفاظت کے لئے افواج اور پولیس سمیت دوسری سیکیورٹی فورسز نے ہمیشہ سے اپنا اہم کردار ادا کیا جس کی کہیں کوئی مثال نہیں ملتی انہوں نے ہمیشہ اس جذبے سے دشمنوں کے ساتھ جنگ لڑی کہ اپنے پاک وطن کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں تک کی پرواہ نہیں قوم نے ان کے جذبوں اور شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا اور خراج تحسین پیش کیا کسی بھی قوم میں امن و امان کے لئے قربانیاں دینے والوں کا بڑا کردار ہو تا ہے امن و امان کے قیام کے لئے پنجاب پولیس کی کردار کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا گذشتہ دو دہائیوں میں ملک بھر میں جاری دہشت گردی کی لہر میں پنجاب پولیس کے شہدا کا بھی بہت بڑا کردار ہے جنہوں نے امن و امان کے قیام کے لئے قربانیاں دیں اور بڑی بہادری اور جذبے سے وطن پاکستان اور اس میں بسنے والوں کی حفاظت کے لئے لڑتے ہوئےاپنی جانیں تک قربان کر دیں ان کا نام ہمیشہ تاریخ کی سنہری حروف میں جگمگاتا رہے گا

    شہداء پنجاب پولیس


    شہدا کی قربانیوں اور ان کی خدمات کے بارے میں تفصیلات جاننے کے لئے باغی ٹی وی کی ویب سائٹ کا وزٹ کریں

  • عرفان خان کے انتقال پر پاکستانی فنکاروں کا افسوس کا اظہار

    عرفان خان کے انتقال پر پاکستانی فنکاروں کا افسوس کا اظہار

    بالی وڈ کے معروف اداکار عرفان خان 53 سال کی عمر میں انتقال کرگئے ان کے اچانک انتقال کی خبر سے مداح اور ساتھی اداکارحیران پریشان ہو گئے پاکستانی فنکاروں اور معروف شخصیات نے سوشل میڈیا پر افسوس کا اظہار کیا

    باغی ٹی وی: بالی وڈ کے معروف اداکار عرفان خان 53 سال کی عمر میں انتقال کرگئے ان کے اچانک انتقال کی خبر سے مداح اور ساتھی اداکارحیران پریشان ہو گئے پاکستانی فنکاروں اور معرقف شخصیات نے سوشل میڈیا پر افسوس کا اظہار کیا بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عرفان خان کو منگل کے روز ممبئی کے ایک ہسپتال میں اس وقت داخل کروایا گیا جب ان کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اداکار کو بڑی آنت کا انفیکشن ہوا تھا جس کے علاج کے لیے وہ ہسپتال میں داخل ہوئے عرفان خان نے سوگواران میں اہلیہ ستاپا اور دو بیٹے بابیل اور ایان چھوڑے ہیں

    اداکار کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد پاکستانی شوبز سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے سوشل میڈیا پر اپنے دکھ کا اظہار کیا


    پاکستانی اداکار و گلوکار علی ظفر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر عرفان خان کی موت کا اظہار کیا اور لکھا کہ آپ متاثر کن اور بے مثال تھے


    پاکستانی اداکار شان شاہد نے بھی عرفان خان کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹ میں لکھا کہ یہ واقعی ایک افسوسناک خبر ہے مرحوم کے آخری سفر کے لئے میری دعا ہے کہ اللہ ان کی روح کو سکون دے اور جنت میں جگہ دے اور ان کی فیملی کو صبر دے وہ ایک عمدہ اداکار تھے


    اداکارہ صبا قمر نے ہندی میڈیم فلم کے دوران اداکار عرفان خان کے ساتھ لی گئی تصویر شئیر کی اور لکھا کہ عرفان خان کے انتقال کے بارے میں سن کر بہت پریشان ہوں ایسا لگتا ہے جیسے ہندی میڈیم کے سیٹ سے کل ہی واپس آ رہی ہوں۔ انہوں نے بطور اداکار اور ایک سرپرست کی حیثیت سے مجھے بہت کچھ سکھایا۔ ایسا شاندار اداکار بہت جلد چلا گیا۔


    سابقہ پارلیمینٹیرین سُمن جعفری نے بھی اداکار کی موت پر افسوس کا اظہار کیا


    سارہ لورین نے ٹویٹر پر عرفان خان کی موت پر افسوس کا اظہار کیا انہوں نے اداکار کی تصویر شئیر کی جس پر لکھا تھا کہ عرفان خان ہم آپ کو یاد کریں گے
    https://www.instagram.com/p/B_jhV9Lnaoo/?igshid=1namyt87z9cgy
    اداکار عمران عباس نے انسٹآ گرام پر اداکار کی تصویر شئیر کی اور لکھا کہ ان کی روح کو سکون دے اور ہم ہمیشہ انہیں یاد کریں گے آرٹ کی کوئی سرحد نہیں ہوتی عمران عباس نے لکھا کہ ہم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

    واضح رہے کہ چند روز قبل عرفان خان کی والدہ سعیدہ بیگم کا بھارتی ریاست راجستھان کے شہر جے پور میں 95 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا تھا عرفان خان نے کورونا وائرس کے باعث ملک میں جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنی والدہ کی آخری رسومات میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے شرکت کی تھی

    خیال رہے کہ عرفان خان نے 2018 میں بتایا تھا کہ وہ نیورواینڈوکرائن ٹیومر میں مبتلا ہوگئے ہیں بعد ازاں وہ علاج کی غرض سے بیرون ملک چلے گئے تھ ۔ اپنی بیماری کے باعث عرفان خان فلم ’’انگریزی میڈیم‘‘ کی تشہیر کا حصہ بھی نہیں بن سکے تھے یہ عرفان خان کی آخری فلم تھی

    عرفان خان کو فلم ’’پان سنگھ تو مر‘‘ میں شاندار اداکاری کرنے پر نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا تھا عرفان خان کئی ہالی ووڈ پراجیکٹ کا بھی حصہ رہ چکے ہیں جن میں سلم ڈاگ ملینئر، جراسک ورلڈ، دی امیزنگ اسپائیڈر اور لائف آف پائی شامل ہیں

    عرفان خان کے انتقال پر بالی وڈ فنکاروں کا افسوس کا اظہار

    بالی وڈ اداکار عرفان خان آئی سی یو میں زیر علاج،کرونا وائرس یا کوئی اوروجہ اہم خبرآگئی

  • خوشی اور خوشگوار زندگی…!!! تحریر:جویریہ بتول

    خوشی اور خوشگوار زندگی…!!! تحریر:جویریہ بتول

    خوشی اور خوشگوار زندگی…!!!
    (تحریر:جویریہ بتول)
    یہ بات طے اور مسلمہ ہے کہ خوشی کا تعلق مکان و اموال سے نہیں ہے بلکہ خوشی کا راز دل کی کیفیت میں پوشیدہ ہے…
    جتنا آپ کا دل مطمئن ہوتا ہے،خوشی کے آثار آپ کے چہرے،انداز اور زندگی کے ہر پہلو سے جھلکتے دکھائی دیتے ہیں…
    خوشی پھول نہیں کہ تم سونگھ لو…
    اگر دل اداس ہے تو پھول کو چھُو کر بھی راحت نہیں ملتی…
    عموماً ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس جتنے زیادہ مکانات ہوں گے،بینک بیلنس ہو گا،سہولیات،مرغوبات اور ہر پسندیدہ چیز ہو گی ہم تب خوش رہ سکتے ہیں؟
    ایسا بھی نہیں ہے،بلکہ انہی چیزوں کی زیادتی ہمارے فکر و اندوہ میں اضافے کا باعث ہے…
    ہماری ذہنی تناؤ کو بڑھاوا دیتی ہے…
    یہ چیزیں نعمتیں ضرور ہیں،مگر ان میں نعمتیں عطا کرنے والے کی رضا کو تلاش کر ہی ہم اپنے لیئے باعثِ سکون بنا سکتے ہیں…
    حقیقت میں وہ دل خوش رہ سکتا ہے جو ایمان کی قوت سے بھر پور ہو…
    راضی بقضا رہے…
    ملی نعمتوں پر شکر گزاری کے جذبہ سے لبریز…
    اور عدم موجود پر صبر کے ساتھ پُر اُمید ہو…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا:
    "اور نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھیئے،دنیاوی زندگی کی شان و شوکت کو جو ہم نے اُن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے،وہ تو ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیئے دی ہے اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق ہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے…”
    (طٰہ:131)۔
    خوشی کا معیار اور زندگی میں خوشگواری کا حصول،بڑائی،ظاہری ٹیپ ٹاپ اور دنیاوی مال و متاع کی زیادتی میں نہیں ہے…
    آپ اکثر مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ بڑے بڑے بنگلوں اور مال والے کسی نہ کسی ذہنی کوفت میں مبتلا ہوں گے اور دو وقت کی روٹی بمشکل حاصل کرنے والوں کے انداز،گفتگو اور اطمینان سے خوشی چھلک چھلک کر دکھائی دیتی ہو گی…!!!

    خوشی آپ تب پا سکتے ہیں جب آپ کے دل میں کسی کے معاملات کا رنج نہ ہو…
    کوئی کیا کر رہا ہے،کیوں کر رہا ہے؟
    کسی کے رزق پر آپ حسد اور بغض کا شکار نہیں ہوں گے بلکہ یہ بات ذہن میں لے آئیں کہ وہ آپ کے کسی کام کا نہیں ہے،نہ آپ کو وہ ملنے والا ہے…
    بس آپ کے پاس جو روکھا سوکھا ہے وہ پرفیکٹ ہے…
    یہ دنیا ہے…نشیب و جس کا مقدر ہیں…
    نفس میں عاجزی سے خوشی نصیب ہوتی ہے،
    اسے گمنام رکھنے سے روحانی بالیدگی ملتی ہے…
    بناوٹ اور تکبر سے اکڑے درختوں کو ہی تند و تیز ہوائیں جلد اُکھاڑ دیتی ہیں…
    یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ تقدیر ہمیشہ ہماری خواہشات کے عین مطابق نہیں ہو سکتی…
    یہ ہمارا قصور ہو گا کہ ہم اُسے نہ مان کر خود کو ہمیشہ کے لیئے افسردہ کر لیں،ساری زندگی بددلی اور شکوؤں کی نذر کر ڈالیں…
    دل تب بھی خوشی کے سمندر میں موجیں مارتا ہے جب ہم اپنی خوشی کے ساتھ لوگوں کی بھی بھلائی اور خوشی چاہیں…
    شاعر کہتا ہے:
    "میرے اور میری زمین پر وہ بادل نہ برسیں،جو سارے ملک کو سیراب نہ کرتے ہوں…”
    ہر وقت صرف اپنے ہی غم میں گھلتے چلے جانا اور اس بات کا حسد رکھنا کہ میرے جیسی نعمت،سہولیات اور صلاحیتیں کسی اور کو نہ ملنے پائیں تو یہ چیز بھی خوشی کو ہمیشہ کے لیئے ہمارے آنگن سے رخصت کر دیتی ہے…!!!
    برائی کا بدلہ اچھائی سے دینے،ترشی کے مقابل نرمی اپنانے اور غرور کے مقابل تواضع بھی خوشی لاتی ہے…
    لوگوں کے رویوّں پر کڑھنے کی بجائے وہ جس حال میں ہیں،انہیں قبول کرنے سے بھی خوشی کا حصول ممکن ہے…
    مثالیت میں پڑنے کی بجائے حقیقت کے ساتھ جینے میں بھی خوشی کا گہرا راز ہے…!!!
    عارضی خوشی کے پیچھے دائمی خوشی ضائع نہ ہونے دیں…
    دائمی اور کامل خوشی کیا ہے ؟
    یہ کوئی برائی اس کے حسین چہرے پر چھینٹے نہ پڑنے دے…
    آپ سلاخوں کے پیچھے باہر کی دنیا کو دیکھ کر مسکرائیں…
    آپ شر میں بھی خیر ڈھونڈنے والے ہوں…
    آپ راضی بالقضا ہوں…
    آپ میسر پر مشکور ہوں…
    آپ پانے کے لیئے پر اُمید ہوں…
    آپ پتھر دیکھ کر دلبرداشتہ ہو کر سفر ہی ترک کر دینے کی بجائے اُسے تراش کر رستہ بنائیں…
    آپ تنقید کے پتھروں پر برہم ہو جانے کی بجائے انہیں سے آگے نکل جانے کا برج تعمیر کریں…
    زندگی کے سفر میں رب کی رضا کو نصب العین بنا لیں…
    تو آپ کا ہر لمحہ خوشی و رضا اور اطمینان و برکت سے بھر پور گزرے گا…!!!
    اپنے ٹارگٹ پر نظر کریں اور اس کی تکمیل اور خوشی میں دوسروں کو بھی شامل کریں…
    کسی کی راہ میں روڑے ڈالنے اور کسی کی خوشی پر رنجیدہ ہونا چھوڑ دیں…
    خوشی کے حصول کے یہی آسان سے فارمولے ہیں…
    کیونکہ لاریب خوشی کا تعلق ظاہر و باہر سے نہیں بلکہ اندر کی کیفیات سے ہوتا ہے،اور پھر ہم باہر کی دنیا کو بھی اُسی آئینہ میں دیکھنے لگ جاتے ہیں…!!!!!!
    ===============================
    (جویریات ادبیات)۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤