Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • روزہ کی اہمیت اور اس کے تقاضے… تحریر: جویریہ بتول

    روزہ کی اہمیت اور اس کے تقاضے… تحریر: جویریہ بتول

    روزہ کی اہمیت اور اس کے تقاضے…
    (تحریر: جویریہ بتول)۔
    صَیَامٌ: صَامَ،یصوم،صوما صیاما…
    رک جانا،کسی بھی چیز یا عمل سے بالقصد رک جانا،صبر کرنا…
    تربیت اور ضبطِ نفس کے لیئے روزہ کا کردار بہت اہم ہے
    ایاما معدودات…
    صرف گنتی کے چند دن کہ اللّٰہ تعالٰی نے حصولِ تقویٰ کے لیئے کوئی مستقل آزمائش یا مشقت نہیں ڈالی بلکہ صرف ایک مہینہ میں اپنی ذات کو تربیت کے کٹہرے سے گزار کر سال کے بقیہ ایام میں اسی رنگ و جذبے کو خود پر لاگو کرنے کا حکم ہے۔
    رمضان کا پیام صرف تعلیم نہیں بلکہ شب و روز کی تربیت ہے اور تقویٰ نام ہی اس احساس کا ہے کہ ہر لمحہ خالق کے سامنے جوابدہی کا احساس زندہ رہے۔
    اہلِ ایمان کے لیئے یہ چند ایام ایسے ہیں جیسے خزاں زدہ آنگن میں صبح بہار اُتر آئے…
    لق و دق تپتے صحرا میں سبزۂ نورستہ ہو جائے اور ظاہر و باطن کو رنگِ تقویٰ سے رنگنے کا چانس ہاتھ لگ جائے…!!!
    رمضان کا مقصد صرف سحری اور افطاری کے پر تکلف اہتمام تک کھانے پینے سے رکے رہنے کا نام نہیں بلکہ اپنے خالق سے کمزور تعلق کو مضبوط کرنے اور نافرمانی کی راہوں کو چھوڑ کر رضائے الٰہی کی طرف ہجرتوں کا نام ہے…
    ان گھڑیوں کے کُچھ تقاضے بھی ہیں۔
    1)۔ثواب و احتساب کی نیت سے روزہ رکھنا۔

    2)۔شھر القرآن میں قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کرنا،علوم کے مآخذ و منبع کو سینے لگا لینا
    قیاس پر مبنی علوم پر اس اتھینٹک علم کو ترجیح دینا…
    دلوں کی بہار اور سینے کا نور بنانے کی کوشش کرنا…
    3)۔نماز کی پابندی کا اہتمام اور تربیت۔
    ہم اپنی غفلت کی چادر اتار کر توبہ و انابت سے اللّٰہ کے حضور سجدہ ریز ہوں،رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اول وقت پر نماز ادا کرنے کو افضل ترین عمل قرار دیا۔

    4)۔دکھاوے سے پرہیز:
    روزہ ایسی عبادت ہے کہ جب تک اس کا اظہار نہ کیا جائے،ریا ممکن نہیں تبھی اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا:
    الصوم لی و انا اجزی بہ…
    بھوک،پیاس،گرمی،کمزوری کا شکوہ زباں پر کبھی نہ لائیں۔

    5)۔فواحشات سے اجتناب:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "روزہ ڈھال ہے،پس روزہ دار کو چاہیئے کہ فحش بات نہ کہے،جہالت کی باتیں نہ کرے اور کوئی جھگڑا کرے تو کہہ دے میں روزہ دار ہوں۔(متفق علیہ)۔
    صوم کا تو معنی ہی رک جانا ہے حلال اور جائز لذتوں سے بھی تو پھر حرام اور معصیت کا ارتکاب کیسے جائز ہے؟
    روزے کو ڈھال سمجھو…
    تو زباں کو باز رکھو…
    آنکھوں کو منکرات سے بچنا بھی ہے ضروری…
    کانوں کی ممنوعہ آوازوں سے رہے دُوری…
    کہیں کھو نہ جائے تم سے…
    صالح اعمال کا خزینہ…!!!
    آج سوشل میڈیا نے مَت مار دی ہے،فحش وڈیوز کی بھر مار ہمارے ایمان پہ ڈاکہ ڈالنے کے لیئے ہمہ وقت تیار ہے…
    محرم،نا محرم کی حدوں سے بہت آگے بڑھتے تعلقات اور رابطے تقویٰ کے حصول کے قریب کرتے ہیں یا دور؟
    یہ سوال ہم نے خود سے خود کرنا ہے…!!!

    6)۔صدقہ و خیرات:
    صحیح بخاری میں ہے کہ جب رمضان آتا تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنے میں بہت سخی،چلتی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتے۔
    صدقات مال کی بڑھوتری کا باعث ہیں سو ان بابرکت لمحات میں اپنے اموال میں سے ارد گرد کے لوگوں کا بھی ضرور خیال رکھیئے۔
    کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرانے کا اجر بھی روزہ دار جتنا ہے(ترمذی)۔
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    آگ سے بچو چاہے کھجور کا ایک ٹکڑا صدقہ کر کے(صحیح بخاری)۔
    مال تھوڑا دیں یا بہت،نیت خالص ہو،مقصد رضائے الٰہی کا حصول ہو۔
    اللّٰہ تعالٰی فرماتے ہیں:
    "اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں…ان کے لیئے اللّٰہ نے بڑی بخشش اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔(الاحزاب:35)۔
    لیکن اس صدقے کے پیچھے کوئی اذیت نہ ہو ورنہ اس سے بھلی تو اچھی بات کہہ دینا ہے۔
    آیئےنیتوں کا معاملہ درست کر لیں کہ اعمال کی جزا نیت کی بنیاد پر ہی ملنی ہے۔

    7)۔صبر:
    روزہ سے حاصل ہونے والے اسباق میں سے ایک صبر بھی ہے۔
    اس سبق کو باقی دنوں میں بھی اپلائی کریں تنگدستی آ گئی تو صبر،
    بیماری آ گئی تو صبر…
    خوشی آئی یا غم ہر حال میں صبر و شکر…

    8)۔دعا:
    رمضان میں دعاؤں کا بھی خصوصی اہتمام کریں اپنے لیئے،
    والدین کے لیئے،اولاد کے لیئے،
    رشتہ داروں کے لیئے…
    فوت شدگان کے لیئے، ضرورت مند مسلمان بہن بھائیوں کے لیئے دعائیں…
    حالیہ چھائی مشکلات سے نجات کے لیئے دعائیں…!!!

    9)۔لیلۃ القدر کی تلاش:
    رمضان کے آخری عشرہ میں ایک رات ایسی ہے جسے لیلۃ القدر کہا گیا ہے جس میں کی جانے والی عبادت کو ہزار مہینوں سے بہتر کہا گیا ہے۔
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حکم دیا ہے چنانچہ آخری عشرہ میں خود کو مستعد و فعال کر لیجیئے اور بے شمار اجر کو سمیٹنے میں سستی اور کوتاہی کے مرتکب نہ ہویئے…!!!

    10)۔اجر:
    روزہ کے مقاصد اور تقویٰ کے تقاضے پورے کرتے ہوئے تزکیہ نفس،اصلاحِ احوال اور اخلاقِ سیئہ سے بچتے ہوئے ہم اپنا رمضان گزار لیتے ہیں تو اس کا اجر بھی بے حساب ہے…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں،اس میں سے سوائے روزہ داروں کے کوئی داخل نہیں ہو گا…(صحیح بخاری)۔
    "روزہ دار کے لیئے دو خوشیاں ہیں:
    ایک خوشی افطار کے وقت اور ایک اپنے رب سے ملاقات کے وقت اجر لیتے ہوئے ہو گی…”
    (صحیح بخاری )۔
    اللھم اجعلنا منھم آمین ثم آمین
    ==============================

  • چاہت بدلیے، راحت پائیے  بقلم :حافظہ قندیل تبسم

    چاہت بدلیے، راحت پائیے بقلم :حافظہ قندیل تبسم

    چاہت بدلیے، راحت پائیے

    حافظہ قندیل تبسم
    ‘‘جب کوئی چارہ کار نہیں تو گزارا کرو ،،
    کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ دنیا کے سارے معاملات ہماری مرضی کے مطابق ہوں ایسی صورتِ حال کا سامنا ہمیں اکثر کرنا پڑتا ہے
    آپ اپنی من پسند ملازمت کے لیے انٹر ویو دینے گئے- وہاں آپ کو قبول نہیں کیا گیا- آپ نے دوسری جگہ رجوع کیا ، وہاں آپ کو رکھ لیا گیا،
    اس پرابلم کا حل کیا ہے ؟
    یہی کہ ‘‘ جب کوئی چارۂ کار نہیں تو گزارا کرو ،،
    آپ نے کسی لڑکی کو شادی کا پیغام بھیجا -لڑکی نے انکار کر دیا اور کسی اور کا پیغام قبول کر لیا –
    اب کیا ہو سکتا ہے ؟
    یہی نہ کہ ‘‘جب کوئی چارۂ کار نہیں تو گزارا کرو ،،
    بہتر ہے کہ اس کا خیال دل سے نکال کر کسی اور لڑکی سے شادی کر لیں – دنیا میں لڑکیوں کی کمی ہے کیا ؟
    بہت سے لوگوں کو ان مسائل کا یہ دو ٹوک حل پسند نہیں آتا -وہ ان مسائل کا حل دائمی افسردگی ،ہمیشہ کے افسوس اور ہر ایرے غیرے سے شکوہ شکایت کی صورت میں نکالتے ہیں- لیکن یہ انداز نہ تو انہیں کھوئی ہوئی اشیاء دلاتا ہے اور نہ قسمت کے لکھے کو تبدیل کرتا ہے –
    میرے نزدیک زندگی کے ان مسائل کا سوائے اس کے اور کوئی حل نہیں کہ آپ جو چاہتے ہیں وہ نہیں ہوتا تو وہ چاہنے لگ جائیں جو ہو سکتا ہے – عقل مند انسان وہی بے جو اپنا مزاج حالات کے سانچے میں ڈال لیتا ہے یہاں تک کے وہ صورت حال کی تبدیلی پر قادر ہو جائے –

    جی ہاں! زندگی گزاریے ۔ پریشان ہونے کا وقت نہیں۔ ضروریاتِ زندگی میں سے جو کچھ مل گیا ہے، اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اُسے استعمال میں لائیے اور جو نہیں ملا، اس پر کڑھنا چھوڑیے۔ یوں سمجھیے جیسے وہ ہے ہی نہیں، اسی میں اطمینان قلب اور ذہنی سکون کا راز مضمر ہے۔
    نوٹ
    "ہر وہ چیز جس کی انسان تمنا کرے ، ضروری نہیں کہ اُسے مل جائے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہوائیں کشتیوں کی مخالف سمت چلتی ہیں”
    (متنبیّ)

  • پاکستانی فلمساز نے نیویارک فیسٹیول میں دو ایوارڈز اپنے نام  کر لئے

    پاکستانی فلمساز نے نیویارک فیسٹیول میں دو ایوارڈز اپنے نام کر لئے

    پاکستانی معروف فلم ساز شہزاد حمید احمد کی دستاویزی فلموں وائٹر شیڈز آف ٹیرر اور کاٹ اِن دا کراس فائر نے نیویارک فیسٹول 2020 میں دو ایورڈز اپنے نام کر لئے

    باغی ٹی وی : نیو یارک فیسٹیول 2020 میں پاکستانی فلم ساز شہزاد حمید احمد اپنی دستاویزی فلموں کے لئے دو ایوارڈز اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے ان کی دستاویزی فلموں کو ہیومن رائٹس اور ہیومن کنسرن کی کیٹیگری میں ایوارڈ سے نوازا گیا

    نیویارک فیسٹول 2020 کے ہیومین رائٹس کی کیٹیگری میں شہزاد حمید احمد کی جنگ زدہ افغانستان کے مسائل پر مبنی دستاویزی فلم کاٹ اِن دا کراس فائر کانسی ایوارڈ جیتنے میں کامیاب رہی

    ہیومن کنسرن کی کیٹیگری میں فلم ساز کی نسل پرستی اور دہشت گردی کی داستان پر مبنی دستاویزی فلم وائٹر شیڈز آف ٹیرر نےسلور ایوارڈ حاصل کیا فلم ساز نے اس فلم میں نسل پرستی اور دہشت گردی کو دکھانے کے لیے معلومات کی غرض سے ناروے، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا سفر کیا

    شہزاد حمید نے کئی بین الاقوامی ایوارڈ اپنے نام کیے ہیں، جن میں اسپین کے بادشاہ کی طرف سے 2014 میں نوازا گیا ’انٹرنیشنل کوآپریشن ایوارڈ‘ بھی شامل ہے

    دستاویزی فلموں کے اعتراف میں فلمساز نیویارک کے چار فیسٹیولز ایوارڈزاپنے نام کر چکے ہیں

    2016 میں انہوں نے اپنی ڈاکیومنٹری ’فلائٹ آف دی فیلکنز‘ کے لیے گولڈ میڈل حاصل کیا تھا اس ڈاکیومنٹری کو کمیونٹی پورٹریٹس کی کیٹیگری میں نامزد کیا گیا تھا

    2017 میں شہزاد حمید نے قصور لوسٹ چلڈرن نامی ڈاکیومنٹری کے لیے ہیومن کنسرن کیٹیگری میں سلور ایوارڈ حاصل کیا تھا

  • معروف شخصیات مولانا طارق جمیل کے دفاع کے لئے میدان میں آ گئیں

    معروف شخصیات مولانا طارق جمیل کے دفاع کے لئے میدان میں آ گئیں

    معروف شخصیات مذہبی سکالر اور عالم دین مولانا طارق جمیل کی حمایت میں میدان میں آگئیں

    باغی ٹی وی : معروف عالم دین اور مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل کی حمایت کرتے ہوئے ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر دی سماجی رباطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر عمران عباس نے مولانا طارق جمیل کے ساتھ اپنی تصویر شئیر کی اور کہا کہ مولانا طارق جمیل ہم آپ سے پیار کرتے ہیں


    اداکار نے کہا کہ آپ کو ان لوگوں سے معافی مانگنے یا انہیں وضاحت دینے کی ضرورت نہیں جو آپ کے پیغام کو غلط انداز میں پیش کررہے ہیں اللہ آپ کا ساتھ دے


    اداکارہ وینا ملک نے کہا کہ دل بہت افسردہ ہے اسلامی جمہوریہ میں عالمِ دین کیخلاف 3 دن سے صرف اس لیے پروگرام کیے جا رہے ہیں کہ اس نے بےحیائی جھوٹ، چوری،ذخیرہ اندوزی سے منع کیا اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا

    وینا ملک نے میڈیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بکاؤ اینکرز باز آجائیں کہیں عوام کا غم و غصہ اس حد تک نا بڑھ جائے کہ انکو دیکھتے جوتیاں مارنے لگ جائیں


    جرنلسٹ اور اینکر کامران خان نے کہا کہ مولانا طارق جمیل مجھے آپ کے رنج والم کااحساس ہےاللہ تعالی آپ کے درجات مزید بلند فرمائیں کیونکہ آپکے رنج وغم کا باعث جارحانہ میڈیا بنا

    کامران خان نے مولانا طارق جمیل سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ادنی میڈیا کارکن کی حیثیت سے میں آپ سے دست بستہ معافی کا خواہ ہوں بھائی انصار عباسی بہن مہر بخاری وجیسمن منظور وغیرہ بھی آپکے ساتھ اعلانیہ کھڑے ہیں


    کامران خان کی اس ٹویٹ پر جرنلسٹ جیسمن منظور نے بھی ٹویٹ کی اور کہا کہ شکریہ کامران صاحب ہم مکمل طور پر مولانا طارق جمیل کے ساتھ کھڑے ہیں اور آپ سینئر ترین صحافی ہوتے ہوئے معافی مانگنے سے آپ کی عزت میں اضافہ ہوا ہے

    جیسمن منظور نے لکھا کہ میں میڈیا کے جارحانہ اور ناقابل برداشت رویے پر مولانا طارق جمیل سے معافی مانگتی ہوں


    معروف مصنف خلیل الرحمن قمر بھی مولانا طارق جمیل کے حق میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ مولانا طارق جمیل صاحب میں کبھی مصلحتوں کو نہیں مانتا لیکن آپ کی مصلحت کو دل کی گہرائی سے سلام پیش کرتا ہوں آپ نے سچ کہا اور ہم سچ کا پہرہ دیں گے


    نامور اداکارہ صبا قمر نے کہا کہ آپ جس چیز کو نہیں سمجھتے اس پر فیصلہ نہ کریں! مولانا طارق جمیل دین کے ایک سچے آدمی ہیں جیسا کہ میں نے اپنی یوٹیوب ویڈیو میں بھی کہا تھا ، میں ایک بار پھرسب کو یہ کہنا چاہتی ہوں کہ بڑے ملے تلقین کرنے والے انسان ہونے کے باوجو خدا کے فیصلے سنانے والے- اداکارہ نے MolanaTariq_OurPride# اورMulanaTariqJameel # بھی استعمال کئے

    اس سے قبل حمزہ علی عباسی ، گلوکار امانت علی،دعا ملک،حمائمہ ملک اور فیروز خان نے بھی سوشل میڈیا پر مولانا طارق کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اعلان کیا تھا

    واضح رہے کہ واضح رہے کہ حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان کی احساس ٹیلی تھون کی لائیو نشریات میں پاکستان سمیت پوری دنیا سے لوگ شریک ہوئے اور دل کھول کر عطیات دئیے جمعرات کو وزیراعظم ہاؤس میں کورونا ریلیف فنڈ کے حوالہ سے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی احساس ٹیلی تھون میں وزیراعظم عمران خان بھی موجود تھے ملک کے مختلف چینلز سے وابستہ اینکرز بھی ٹیلی تھون میں شریک تھے

    نشریات کے اختتام پر معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل نے عوام سے اس وبا سے احتیاط برتنے اور خدا کے حضور توبہ کرنے کی تلقین کی مولانا طارق جمیل نے دعا سے قبل خطاب بھی کیا جس میں ایک بیان میں مولانا طارق جمیل نے اپنے بیان میں کہا کہ میڈیا پر جھوٹ بولا جاتا ہے ہم جھوٹی قوم ہیں ہم اس جھوٹ کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں کوئی مقام نہیں لے سکتے

    22 کروڑ عوام میں کتنے لوگ سچے ہیں.؟. مولانا طارق جمیل نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک بار مجھ سے ایک چینل کے مالک نے نصیحت مانگی میں نے کہا اپنے چینل سے جھوٹ ختم کردو۔تو اس نے کہا کہ چینل ختم ہو سکتا ہے جھوٹ ختم نہیں ہو سکتا۔صرف پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کا میڈیا جھوٹا ہے۔سب سے زیادہ جھوٹ میڈیا پر بولا جاتا ہے مولانا کے اس بیان پر تمام اینکرز سیخ پا تھے دو تین دن سے سوشل میڈیا پر اس بات پر بحث جاری تھی تو میڈیا کے اس سخت ری ایکشن اور اینکر حامد میر کے مطالبے پرمولاناطارق جمیل دودن قبل محمد مالک کے پروگرام میں آئے اور انہوں نے آتے ہی کہا میں میڈیا سے اپنی اس بات پر معافی مانگتا ہوں

    جس کے بعد اب تک یہ معاملہ سوشل میڈیا اور میڈیا پر زیربحث بنا ہوا ہے

    فنکاروں کا مولانا طارق جمیل کے ساتھ یکجہتی کا اظہار

    مولانا طارق جمیل نے ’میڈیا‘ سے متعلق دئیے گئے بیان پر معافی مانگ لی

    مولانا طارق جمیل نے کوئی غلط بات نہیں کی، رحمت ہی رحمت رمضان ٹرانسمیشن میں مبشر لقمان نے مزید کیا کہا؟

  • حرا اور مانی پاک بحریہ کے شکر گُزار

    حرا اور مانی پاک بحریہ کے شکر گُزار

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ حرا مانی اور اُن کے شوہر اداکار سلمان شیخ عرف مانی نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے پاک بحریہ کا شکریہ ادا کیا اور سلام پیش کیا

    باغی ٹی وی: پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ حرا مانی اور اُن کے شوہر اداکار سلمان شیخ عرف مانی نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے پاک بحریہ کا شکریہ ادا کیا ہے سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر اداکارہ حرا مانی نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں اُن کے ہمراہ اُن کے شہورمانی بھی موجود ہیں
    https://www.instagram.com/tv/B_flG_DnJMY/?igshid=tq83yujkhlql
    ویڈیو پیغام میں مانی نے کہا کہ آج ہم اُس جگہ موجود ہیں جہاں ہم اُن راشن بیگز کو تیار کرتے ہیں جو ہم مستحق لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں

    اداکار مانی نے کہا کہ رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوگیا اور ہم یہ نیک کام گزشتہ 30 ،31 دنوں سے کر رہے ہیں اور ہم یہ نیک کام بڑی خوشنودی سے آپ کی مدد سے اور آپ کے پیار و محبت سے کر رہے ہیں

    اداکارہ حرا نے کہا کہ ہم پاک بحریہ کے بہت زیادہ شکر گُزار ہیں کیونکہ انہوں نے اس نیک راہ میں ہمارے ساتھ تعاون کیا اور ہمارا کام دیکھتے ہوئے ہمارے ساتھ رابطہ کیا ہمیں بہت ساری چینی بھیجی تاکہ ہم یہ چینی راشن بیگز میں ڈال کر مستحق لوگوں تک پہنچا سکیں

    اداکارہ نے کہا کہ پاک بحریہ نے ہمیں چینی دے کر ہمارے ساتھ بہت بڑا تعاون کیا ہے جس کے لیے میں پاک بحریہ کو سلام پیش کرتی ہوں اور میرا بہت سارا پیار پاک بحریہ کے لیے

    مانی نے کہا کہ پاک بحریہ ہمیشہ سے ہماری سرحدوں کی حفاظت کرتی آئی ہے اور اس مرتبہ پاک بحریہ نے ایک نیک کام میں اپنا حصہ بھی ڈالا ہے اور یہ اب تک کی سب سے بڑی شراکت داری ہے جس کے لیے میں اُن کا تہہ دل سے شکر گُزار ہوں

    حرا مانی کی اس پوسٹ پر اداکار علی کاظمی نے جوڑے کے اس عمل کو سراہتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور لکھا کہ بہت اعلی اللہ آپ دونوں کو اور نعمتوں سے نوازے سبحان اللہ

    علی کاظمی نے لکھا کہ خاص طور پر اس مشکل کے اس وقت میں اور رحمتوں والے مہینے میں آپ دونوں بہت مدد کر ہے ہیں جب لوگوں کی اس کی شدید ضرورت ہے

    معروف مذہبی سکالر عامر لیاقت کی اہلیہ سیدہ طوبی عامر نے بھی حرا مانی کے اس عمل کو سراہتے ہوئے تعریف کی

    واضح رہے کہ حرا مانی اور اُن کے شوہر سلمان شیخ کورونا وائرس کی اس وبا میں مستحق افراد کی مدد کرنے کے لیے گزشتہ ایک ماہ سے راشن تقسیم کررہے ہیں اور اس نیک کام میں اُن کے ساتھ دیگر صاحب استطاعت بھی تعاون کر رہے ہیں اور اب پاک بحریہ کا تعاون بھی شامل ہے

    نیک عمل کی تشہیر کرنے کوسستی شہرت قرار دینا صحیح نہیں، سلمان ثاقب شیخ عرف مانی

    حرا مانی نے مستحق افراد میں راشن تقسیم کرنا شروع کر دیا

    تصویریں دکھاوے اور اپنا نام بنانے کے لئے نہیں بنائیں ،حرا مانی

  • کورونا وائرس:لاک ڈاؤن کی وجہ سے عرفان خان والدہ کی آخری رسومات میں شریک نہ ہو سکے

    کورونا وائرس:لاک ڈاؤن کی وجہ سے عرفان خان والدہ کی آخری رسومات میں شریک نہ ہو سکے

    بالی وڈ اداکار عرفان خان کی والدہ سعیدہ بیگم 95 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں، بیرون ملک ہونے کے باعث ادکار والدہ کی آخری رسومات میں شرکت نہیں کرسکے

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عرفان خان کی والدہ سعیدہ بیگم طویل عرصے سے علیل تھیں، ہفتے کے روز انہیں طبعیت میں اچانک خرابی کے باعث اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکیں اور بھارتی شہر جےپور انتقال کرگئیں عرفان خان ملک سے باہر تھے اور بھارت میں نافذ لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ اپنی والدہ کے جنازے میں شریک نہیں کر سکے
    https://www.instagram.com/p/B_aj3InHV8_/?igshid=1oyag6kcg6hl6
    اداکار کی والدہ کے انتقال کا اعلان فیشن فوٹو گرافر وائرل بھیانی نے اپنی ایک انسٹا گرام پوسٹ میں کیا انہوں نے لکھا کہ عرفان خان اپنی والدی سعیدہ بیگم کی آخری رسومات میں شریک نہیں ہو سکے وہ 95 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں ہیں

    سعیدہ بیگم بھارتی ریاست راجستھان کے شہر جے پور کی بینیوال کانٹا کرشنا کالونی میں رہائش پذیر تھیں سعیدہ بیگم ٹونک کے نواب خاندان سے تعلق رکھتی تھیں

    کورونا کے ممکنہ پھیلاؤ کے پیش نظر بھارت میں جاری لاک ڈاؤن کے باعث عرفان خان کی والدہ کے جنازے میں فیملی کے چند لوگوں کو ہی شرکت کی اجازت دی گئی دوسری جانب رپورٹس میں یہ دعوی بھی کیا گیا کہ اداکار ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اپنی والدہ کی آخری رسومات کا حصہ بنے

    واضح رہے کہ عرفان خان کو مارچ 2018 میں نیورو اینڈو کرائن کا مرض لاحق ہوگیا تھا اور وہ علاج کے لیے بھارت سے برطانیہ منتقل ہوگئے تھے

    خیال رہے کہ کورونا وائرس کے باعث بھارت میں سخت لاک ڈاؤن نافذ ہے اور تمام ملکی اور بین الاقوامی پروازیں معطل کردی گئی ہیں

  • کورونا وائرس: لاک ڈاؤن سے کوئی فرق نہیں پڑا پچھلے دو سال سے قرنطینہ میں ہوں  سونالی باندرے

    کورونا وائرس: لاک ڈاؤن سے کوئی فرق نہیں پڑا پچھلے دو سال سے قرنطینہ میں ہوں سونالی باندرے

    بالی وڈ کی معروف اداکارہ سونالی باندرے کا کہنا ہے کہ ورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں لگے لاک ڈاؤن سے لوگ بےحد متاثر نظر آرہے ہیں تاہم انہیں اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑ رہا کیوں کہ اپنی بیماری کے دوران بھی وہ گھر میں ہی سارا وقت گزارا کرتی تھیں

    باغی ٹی وی : اداکارہ سونالی باندرے نے 2018 میں انکشاف کیا تھا کہ انہیں خطرناک کینسر کا عارضہ لاحق ہے جس کے بعد علاج کرانے وہ امریکا منتقل ہوگئیں تھی اداکارہ کینسر سے صحتیاب ہونے کے بعد گذشتہ سال دسمبر میں بھارت واپس آئیں سونالی اس دوران بھی اپنی بیماری کے باعث گھر میں محصور ہوگئیں تھی اور اب کورونا وائرس کے باعث نافذ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بھی وہ اپنے گھر میں محصور ہیں

    بھارتی خبررساں ادارے رپورٹ کے مطابق سونالی باندرے کا مزید کہنا تھا کہ میری طبیعت اب پہلے سے بہت بہتر ہے، لاک ڈاؤن سے مجھے کوئی خاص فرق نہیں پڑ رہا کیوں کہ پطچھلے دوسال اپنی بیماری کے دوران بھی میں ایک طرح سے قرنطینہ میں ہی تھی، بس جو بات بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے وہ یہ کہ اس دوران مجھ سے خاندان کے افراد اور دوست ملنے آیا کرتے تھے

    اداکارہ نے کہا کہ سب سے بڑھ کر مجھے اس وقت اپنے والدین کی یاد آ رہی ہے کیونکہ میں واقعتاً ان سے نہیں مل سکتی لیکن اس کے علاوہ ، ہمارے پاس شکر کرنے کے لئے بہت کچھ ہے میں ہمیشہ اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرتی ہوں

    انہوں نے کہا کہ میرے والدین عمر کے اس حصے میں جہاں انہیں اس وبا سے زیادہ خطرہ ہے وہ زیادہ سفر نہیں کر سکتے اپنی جگہ پر ہی مقیم ہیں جیسے ہی لاک ڈاؤن ختم ہوگا سب سے پہلے انہیں جا کر ملیں گی

    اداکارہ نے کہا آپ کو اپنی صحت کا خیال رکھنے کے لئے صحت مند خوراک لینی پڑتی ہے کچھ ایسی چیزیں جن پر میں عمل کرتی ہوں کچھ ایسی ایک دو چیزیں جس سے لگتا ہے مدد ملی ہے انہوں نے کہا جب آپ کیمو تھراپی کے عمل سے گزرتے ہیں تو آپ کا امیون سسٹم کمزور ہو جاتا ہے

    اداکارہ نے کہا میں بغیر اینٹی بائیوٹکس کے اپنا سارا علاج کررہی ہوں چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جو میں استعمال کر رہی ہوں جیسے آملہ ہلدی ادرک کچھ کچے پھل اور سبزیاں وغیرہ تاکہ صحت مند رہ سکوں اداکارہ نے بتایا کہ روازنہ صبح اٹھ کر گرین جوس استعمال کرتی ہوں اور پھر گرم پانی کا استعمال کرتی ہوں

    اداکارہ نے یہ بھی بتایا کہ انہیں کورونا وائرس کے باعث اپنا اور بھی زیادہ خیال رکھنا پڑ رہا ہے، کیوں کہ کینسر میں مبتلا ہونے کے بعد ان کی قوت مدافعت بھی کافی متاثر ہوئی

    واضح رہے کہ سونالی باندرے نے 4 جولائی 2018 کو اپنی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ انہیں ہائی گریڈ کینسر لاحق ہوگیا سونالی باندرے نے علاج کی غرض سے اپنے سر کے بال بھی کٹوائے تھے اور بالوں کو کٹوانے کے دوران وہ روتی ہوئی بھی نظر آئی تھیں

    سرجری مکمل ہو گئی ہے اب صحت یاب ہو رہی ہوں نادیہ جمیل

    کرونا وائرس یا کوئی اور وجہ : بھارت کی خوبصورت اداکارہ کا سرمونڈ دیا گیا ،مداح حیران وپریشان

  • دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟  بقلم؛ حافظہ قندیل تبسم

    دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟ بقلم؛ حافظہ قندیل تبسم

    دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟
    حافظہ قندیل تبسم

    دعا ایک عبادت اور مومن کا ہتھیار ہےجو اسے شیطان لعین کے حملوں اور کے حملوں اور پریشانیوں سے حفاظت میں رکھتی ہے۔ اور انتہائی لطف و کرم کی بات کہ خود مالک کائنات نے فرمایا کہ مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔ (سورہ غافر: آیت 60)
    لیکن بعض اوقات ہم میں سے کچھ لوگ شکوہ کناں نظر آتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری دعائیں نہیں سنتا۔ ایک مسلمان کی یہ شان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات و فرامین پر کامل یقین رکھتا ہے اور اللہ کے فرمان کے مطابق سمجھتا ہے کہ دعا کی قبولیت میں رکاوٹ اس کی اپنی بد عملی کی وجہ سے ہو گی۔ اس مضمون میں ہم ان اسباب کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے جو ہماری دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

    امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "دعائیں، اور تعوّذات (ایسی دعائیں جن کے ذریعے اللہ کی پناہ حاصل کی جائے) کی حیثیت اسلحہ کی طرح ہے، اور اسلحے کی کارکردگی اسلحہ چلانے والے پر منحصر ہوتی ہے، صرف اسلحے کی تیزی کارگر ثابت نہیں ہوتی، چنانچہ اسلحہ مکمل اور ہر قسم کے عیب سے پاک ہو، اور اسلحہ چلانے والے بازو میں قوت ہو، اور درمیان میں کوئی رکاوٹ بھی نہ ہو تو دشمن پر ضرب کاری لگتی ہے، اور ان تینوں اشیاء میں سے کوئی ایک ناپید ہو تو نشانہ متأثر ہوتا ہے۔”
    ("الداء والدواء ” از ابن القیم، صفحہ: 35)

    امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول اس حوالے سے خصوصیت کے ساتھ اہم ہے۔ اس سے ہم جسن سکتے ہیں کہ دعا کی قبولیت میں رکاوٹیں کہاں کہاں آ سکتی ہیں۔ بعض حالات، آداب اور احکام ہیں جن کا دعائیہ الفاظ اور دعا مانگنے والے میں ہونا ضروری ہے، اور کچھ رکاوٹیں، اور موانع ہیں جنکی وجہ سے دعا قبول نہیں ہوتی، چنانچہ ان اشیاء کا دعا مانگنے والے، اور دعائیہ الفاظ سے دور ہونا ضروری ہے۔ جب ان سب معاملات درست ہوں گے تو کوئی سبب نہیں کہ ہماری دعائیں قبول نہ ہوں۔

    قبولیتِ دعا کیلئے معاون اسباب میں چند اسباب یہ ہیں:

    1- دعا میں اخلاص:
    دعا کیلئے اہم اور عظیم ترین ادب اخلاص ہے، اللہ تعالی نے بھی دعا میں اخلاص پر زور دیتے ہوئے فرمایا: (وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ) ترجمہ: اور عبادت اللہ تعالی کیلئے خالص کرتے ہوئے (دعا میں) اسی کو پکارو۔ (الاعراف: آیت 29)
    دعا میں اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ دعا کرنے والا یہ نظریہ رکھے کہ صرف اللہ عز وجل کو ہی پکارا جاسکتا ہے، اور وہی اکیلا تمام ضروریات کو پورا کر سکتا ہے، اور دعا کرتے ہوئے ریا کاری سے گریز کیا جائے۔

    2- توبہ ، اور انابت الی اللہ:
    گناہ اور معصیت دعاؤں کی عدمِ قبولیت کیلئے بنیادی اسباب ہیں، اس لئے دعا مانگنے والے کیلئے ضروری ہے کہ دعا مانگنے سے پہلے گناہوں سے توبہ و استغفار کرے، جیسے کہ اللہ عزو جل نے نوح علیہ السلام کی زبانی فرمایا:
    فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا (10) يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا (11) وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا (12)

    ترجمہ: نوح علیہ السلام کہتے ہیں اور میں نے ان سے کہا کہ اپنے پروردگار سے معافی مانگ لو، بلاشبہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے (10) اللہ تعالی تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا (11) اور تمہاری مال اور اولاد سے مدد کرے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور نہریں جاری کرے گا ۔ (نوح:آیات 10-12)

    3- عاجزی، انکساری، خشوع و خضوع
    قبولیت کی امید اور دعا مسترد ہونے کا خوف، حقیقت میں دعا کی روح، دعا کا مقصود ، اور دعا کا مغز ہے: فرمانِ باری تعالی ہے:( اُدْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ)

    ترجمہ: اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور خفیہ طور پر پکارو، بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ (الاعراف: آیت 55)

    4- دعا الحاح کیساتھ بار بار کی جائی : دو تین بار دعا کرنے سے الحاح ہوجاتا ہے، تین پر اکتفاء کرنا سنت کے مطابق ہوگا، جیسے کہ امام ابو داؤد اور امام نسائی روایت لائے ہیں ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین، تین بار دعا اور استغفار پسند تھی۔

    5- خوشحالی کے وقت دعا کرنا، اور آسودگی میں کثرت سے دعائیں مانگنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوشحالی میں اللہ کو تم یاد رکھو، زبوں حالی میں وہ تمہیں یاد رکھے گا۔ (رواحہ احمد)

    6- دعا کی ابتداء اور انتہا میں اللہ تعالی کے اسمائے حسنی، اور صفاتِ باری تعالی کا واسطہ دیا جائے، فرمان باری تعالی ہے:

    وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا
    ترجمہ: اور اللہ تعالی کے اچھے اچھے نام ہیں، تم انہی کا واسطہ دے کر اُسے پکارو۔ (الاعراف: آیت 180)

    7- جوامع الکلم، واضح، اور اچھی دعائیں اختیار کی جائیں، چنانچہ سب سے بہترین دعا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ دعائیں ہیں، ویسے انسان کی ضرورت کے مطابق دیگر دعائیہ الفاظ سے بھی دعا مانگی جاسکتی ہے۔

    اسی طرح دعا کے مستحب آداب میں یہ بھی شامل ہے کہ با وضو، قبلہ رُخ ہوکر دعا کریں، ابتدائے دعا میں اللہ تعالی کی حمد وثناء خوانی کریں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھیں، اور دعا کرتے ہوئے ہاتھ اٹھانا بھی جائز ہے۔

    قبولیتِ دعا کے امکان زیادہ قوی کرنے کیلئے قبولیت کے اوقات، اور مقامات تلاش کریں۔

    دعا کیلئے افضل اوقات میں فجر سے پہلے سحری کا وقت، رات کی آخری تہائی کا وقت، جمعہ کے دن کے آخری لمحات، بارش ہونے کا وقت، اذان اور اقامت کے درمیان والا وقت اور سفر کے دوران کا وقت شامل ہیں۔

    اور افضل جگہوں میں تمام مساجد شامل ہیں اور مسجد الحرام کو خصوصی درجہ حاصل ہے۔

    اور ایسے حالات جن میں دعاؤں کی قبولیت کے امکانات زیادہ روشن ہوتے ہیں وہ یہ ہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، روزہ دار کی دعا، مجبور اور مشکل میں پھنسے ہوئے شخص کی دعا، اور ایک مسلمان کی اپنے بھائی کے حق میں اس کی عدم موجودگی میں دعا کرنا شامل ہے۔

    دعا کی قبولیت کے راستے میں بننے والی رکاوٹوں میں درج ذیل امور شامل ہیں:

    1- دعا کرنے کا انداز ہی نامناسب ہو:
    مثال کے طور پر دعا میں زیادتی ہو، یا اللہ عزوجل کیساتھ بے ادبی کی جائے، دعا میں زیادتی سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی سے ایسی دعا مانگی جائے جو مانگنا جائز نہیں ہے، جیسے کہ اپنے لیے دائمی دنیاوی زندگی مانگے، یا گناہ اور حرام اشیاء کا سوال کرے، یا کسی کو موت کی بد دعا دے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: بندے کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی رہتی ہے، جب تک وہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے۔ (صحیح مسلم)

    2- دعا کرنے والے شخص میں کمزوری ہو، کہ اسکا دل اللہ تعالی کی طرف متوجہ نہ ہو، یا پھر اللہ کیساتھ بے ادبی کا انداز اپنائے، مثال کے طور پر دعا اونچی اونچی آواز سے کرے، یا اللہ سے ایسے مانگے کہ جیسے اُسے اللہ تعالی سے دعا کی قبولیت کیلئے کوئی چاہت ہی نہیں ہے، یا پھر تکلّف کیساتھ الفاظ استعمال کرے، اور معنی مفہوم سے توجہ بالکل ہٹ جائے، یا بناوٹی آہ و بکا اور چیخ و پکار میں مبالغہ کیلئے تکلّف سے کام لے۔

    3- دعا کی قبولیت کیلئے کوئی رکاوٹ موجود ہو مثلا اللہ کے حرام کردہ کاموں کا ارتکاب کیا جائے، جیسے کہ کھانے ، پینے، پہننے، جائے اقامت اور سواری میں حرام مال استعمال ہو، ذریعہ آمدنی حرام کاموں پر مشتمل ہو، دلوں پر گناہوں کا زنگ چڑھا ہوا ہو، دین میں بدعات کا غلبہ ہو، اور قلب پر غفلت کا قبضہ ہو۔

    4- حرام کمائی کھانا،قبولیتِ دعا کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    لوگو! بیشک اللہ تعالی پاک ہے، اور پاکیزہ اشیاء ہی قبول کرتا ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے متقی لوگوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو دیا ، فرمایا: (يَاأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ) ترجمہ: اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ، اور نیک عمل کرو، بیشک تم جو بھی کرتے ہو میں اسکو بخوبی جانتا ہوں۔ (المؤمنون: آیت51)

    اور مؤمنین کو فرمایا: (يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ) ترجمہ:اے ایمان والو! ہم نے جو تم کو پاکیزہ اشیاء عنائت کی ہیں ان میں سے کھاؤ۔ البقرہ: (آیت 172)
    پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا ذکر فرمایا: جس کے لمبے سفر کی وجہ سے پراگندہ ، اور گرد و غبار سے اَٹے ہوئے بال ہیں، اپنے دونوں ہاتھوں کو آسمان کی جانب اٹھا کر کہتا ہے
    یا رب! یا رب! اسکا کھانا بھی حرام کا، پینا بھی حرام کا، اسے غذا بھی حرام کی دی گئی، ان تمام اسباب کی وجہ سے اسکی دعا کیسے قبول ہو!!
    (صحیح مسلم)

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا ذکر کرتے ہوئے کچھ امور بھی بیان فرمائے، جن سے دعا کی قبولیت کے امکان زیادہ روشن ہوجاتے ہیں، مثلا کہ وہ مسافر ہے، اللہ کا ہی محتاج ہے، لیکن اس کے باوجود دعا اس لیے قبول نہیں ہوتی کہ اس نے حرام کھایا، اللہ تعالی ہمیں ان سے محفوظ رکھے، اور عافیت نصیب فرمائے۔

    5- دعا کی قبولیت کے لیے جلد بازی کرنا، اور مایوس ہوکر دعا ترک کر دینا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    تم میں سے کسی کی دعا اس وقت تک قبول کی جاتی ہے جب تک قبولیت دعا کیلئے جلد بازی نہ کرے، اور کہہ دے "میں نے دعائیں تو بہت کی ہیں، لیکن کوئی قبول ہی نہیں ہوتی”۔
    (صحیح بخاری و مسلم)

    6- مشیتِ الہی پر قبولیت دعا کو معلق کرنا:
    مثال کے طور پر یہ کہنا کہ "یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف کردے” بلکہ دعا کرنے والے کو چاہیے کہ وہ پر عزم، کامل کوشش، اور الحاح کیساتھ دعا مانگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
    تم میں سے کوئی بھی دعا کرتے ہوئے ہرگز یہ مت کہے کہ "یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف کردے”، "یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما” بلکہ پختہ عزم کیساتھ مانگے؛ کیونکہ اللہ تعالی کو کوئی بھی مجبور نہیں کرسکتا۔ (صحیح بخاری و مسلم)

    یہاں ہم نے ایسے امور ذکر کر دیے ہیں جو دعا کی قبولیت کا سبب بن سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کامل امید رکھتے ہوئے ان کو اختیار کیا جائے، ان میں سے چند اسباب کو اختیار کرنا بھی فائدے سے خالی نہیں ہے۔

    قبولیت دعا کے حوالے سے یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ قبولیتِ دعا کی کئی صورتیں ہیں

    • اللہ تعالی بندے کی دعا قبول کرتے ہوئے اسے وہی عنائت کردے جس کی وہ تمنا کرتا ہے۔

    • یا پھر اس دعا کے بدلے میں کسی شر کو رفع کردیتا ہے۔

    • یا بندے کے حق میں اس کی دعا سے بہتر چیز میسر فرما دیتا ہے۔

    • یا اسکی دعا کو قیامت کے دن کے لیے ذخیرہ کردیتا ہے، جہاں پر انسان کو اِسکی انتہائی ضرورت ہوگی۔
    اور انسان خواہش کرے گا کاش اس کی دنیا میں کوئی دعا قبول نہ ہوئی ہوتی۔
    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایسے عمل کی توفیق عطا فرمائے جو اسے پسند ہے اور ہم سے راضی ہو جائے۔

  • کورونا کو شکست دینے والے ٹام ہینکس اور اہلیہ  کا پلازما اور خون کا عطیہ دینے کا اعلان

    کورونا کو شکست دینے والے ٹام ہینکس اور اہلیہ کا پلازما اور خون کا عطیہ دینے کا اعلان

    ہالی وڈ کے آسکر ایوارڈ یافتہ نامور اداکار اور میزبان ٹام ہینکس اور اہلیہ ریٹا ولسن گذشتہ ماہ آسٹریلیا میں کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے تاہم رواں ماہ صحتیاب ہونے کے بعد یہ دونوں واپس امریکا چلے گئے

    باغی ٹی وی :ہالی وڈ کے نامور اداکار اور میزبان ٹام ہینکس اور اہلیہ ریٹا ولسن گذشتہ ماہ آسٹریلیا میں کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے تاہم رواں ماہ صحتیاب ہونے کے بعد یہ دونوں واپس امریکا چلے گئے کورونا نتائج منفی آنے کے باوجود ان دونوں نے خود کو قرنطینہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا اور اب ان دونوں کورونا کے خلاف ادویات تیار کرنے کے لیے اپنے خون کے عطیہ کا اعلان ہے

    پیج سکس نامی غیر ملکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹام ہینکس اور ریٹا ولسن کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کے لیے اپنا خون اور پلازمہ عطیہ کریں گے

    ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار ، 63 سالہ ٹام ہینکس، نے گذشتہ ہفتے انکشاف کیا تھا کہ وہ اور ان کی اہلیہ ، گلوکارہ ریٹا ولسن ، کوویڈ 19 تحقیق میں رضاکارانہ طور پر اپنا خون اور پلازما دینے کا فیصلہ کیا ہے

    اس حوالے سے ٹام ہینکس کا کہنا تھا کہ ہم سے اس حوالے سے رابطہ کیا گیا اور خون اور پلازمہ دینے کے حوالے سے پوچھا گیا تو ہم نے کہا ، ‘کیا آپ ہمارا خون چاہتے ہیں؟ کیا ہم پلازما دے سکتے ہیں؟،تاہم ہم کئی جگہوں پر اپنا خون اور پلازمہ عطیہ کریں گے تاکہ اس پر ریسرچ کی جاسکے اور شاید ایسی کوئی ویکسین تیار کرلی جائے جسے بعدازاں ہینک سین کا نام دے سکیں

    ہینکس نے کہا کہ ہمیں حال ہی میں معلوم ہوا ہے کہ ہم نے آسٹریلیا میں گذشتہ ماہ خطرناک وبا سے لڑائی کے بعد ہم نے اتنی انٹی باڈیز لے رکھی ہیں جو کورونا کے خلاف لڑ سکتی ہیں

    واضح رہے کہ ٹام ہینکس نے گزشتہ ماہ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے مداحوں کو بتایا تھا کہ وہ اور اہلیہ کورونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں پوسٹ میں انہوں نے بتایا تھا کہ ریٹا اور میں آسٹریلیا میں موجود تھے ہم دونوں کو تھکاوٹ کا احساس ہوا، نزلہ ہوا اور جسم میں درد بھی محسوس ہوا، ریٹا کو بار بار سردی بھی لگی اور بخار بھی چڑھا، جس کے بعد ہم دونوں نے کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا اور ہم دونوں میں ہی اس مرض کی تصدیق بھی ہوگئی اور آسٹریلیا کے ایک ہاسپٹل میں زیر علاج ہیں

    بعد ازاں اداکار نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے ہی مداحوں کو خوشخبری سنائی تھی کہ انہیں اور ان کی اہلیہ کو ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے اور اب وہ گھر میں ہی قرنطینہ ہوجائیں گے

    امریکا اپنے گھر جانے کے بعد ٹام ہینکس صحت یاب ہوگئے تھے جہاں انہوں نے اس مرض کو شکست دینے کے بعد پہلی بار انہوں نے11 اپریل کو اپنے معروف ٹی وی پروگرام سیٹرڈے نائٹ لائیو کی میزبانی کی تھی اور وہ پروگرام میں انتہائی خوش دکھائی دیئے اس پروگرام میں وبا کے شکار ہونے سے متعلق اپنے مداحوں کو بتایا یہ پروگرام انہوں نے اپنے گھر میں ہی کیا تھا

    کورونا سے صحتیاب ہونے کے بعد ٹام ہینکس نے پہلا پروگرام ریکارڈ کروا دیا

    کورونا وائرس کا شکارہالی وڈ اداکار ٹام ہینکس اوراہلیہ صحتیاب ہسپتال سے ڈسچارج گھر میں قرنطینہ میں رہیں گے

    ہالی وڈ اداکار ٹام ہینکس اور اہلیہ کرونا وائرس کا شکار

  • Keraunoparalysis  ایک عارضی مفلوج پن کی بیماری ہے جو آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے لگتی ہے. بقلم سلطان سکندر!!!

    Keraunoparalysis ایک عارضی مفلوج پن کی بیماری ہے جو آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے لگتی ہے. بقلم سلطان سکندر!!!

    Keraunoparalysis
    ایک عارضی مفلوج پن کی بیماری ہے جو آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے لگتی ہے.

    Keraunoparalysis
    Kerauno- ("Lightning”) + paralysis

    ناؤن keraunoparalysis(دوائی) آسمانی بجلی گرنے کے بعد اعضاء میں ہونے والی عارضی کمزوری, سردی اور جِلد کے بدبودار ہونے پر استعمال کی جاتی ہے.

    یو ایس نیشنل لائبریری آف میڈیسن کہتا ہے کہ ایک 50 سالہ آدمی ہمارے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں لایا گیا جس پہ آسمانی بجلی گری جب وہ بجلی کے طوفان کے دوران درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا, وہ 15 منٹ تک بےحال پڑا رہا اور 15 منٹ بعد جب اسکی حالت ٹھیک ہونا شروع ہوئی تو وہ اپنے نچلے دونوں اعضاء(ٹانگیں پاؤں وغیرہ) ہلانے کے قابل نہ رہا تھا اور ساتھ ساتھ حساسیت (سینسیشن) اور یورینری ریٹنشن(پیشاب برقرار رکھنے کا سسٹم) کو بھی کھو چکا تھا.

    آسمانی بجلی لگنے سے عارضی طور پر مفلوج پن ہوتا ہے. یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے لیکن اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے سے یہ بات کتاب قرآن مجید میں موجود ہے کہ

    Quran 51:44-45
    فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّـهِـمْ فَاَخَذَتْهُـمُ الصَّاعِقَةُ وَهُـمْ يَنْظُرُوْنَ (44)

    پھر انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی تو ان کو بجلی نے آ پکڑا اور وہ دیکھ رہے تھے۔

    فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِيَامٍ وَّمَا كَانُـوْا مُنْتَصِرِيْنَ (45)

    پھر نہ تو وہ اٹھ(نقل و حرکت) ہی سکے اور نہ وہ کوئی مدد ہی لے سکے۔”

    "پھر نہ وہ اٹھ سکے” آج ہم جانتے ہیں کہ وہ کیوں نہ اٹھ سکے, یہ keraunoparalysis ہے, جو آسمانی بجلی لگنے سے عارضی طور پر مفلوج پن کا سبب بنتا ہے.

    سوال یہ ہے کہ 1400 سال پہلے آنے والا غیر معمولی شخص kerunoparalysis کے بارے میں کیسے جان سکتا ہے؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!