Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • کورونا وائرس کے بعد کی دنیا کیسی ہوگی؟  تحریر؛ صابر ابومریم

    کورونا وائرس کے بعد کی دنیا کیسی ہوگی؟ تحریر؛ صابر ابومریم

    کورونا وائرس کے بعد کی دنیا
    تحریر:صابر ابومریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

    گذشتہ تین ماہ سے دنیا کے بیشتر ممالک کو کورونا وائرس کی وباء کا سامنا ہے جس کے باعث کئی ہزار اموا ت ہو چکی ہیں اور لاکھوں افراد ایسے ہیں جو اس وائرس سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں تاہم دنیا کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ اور عوام بالواسطہ طور پر اس وائرس کے پھیلنے کے سبب متاثر ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی خبروں کے مطابق جس جس ملک میں اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں وہاں پر باقاعدہ لاک ڈاؤن کے ذریعہ اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    لاک ڈاؤن ہونے والے ممالک میں چین، اٹلی، فرانس،لبنان،عراق،غزہ، فلسطینی مقبوضہ علاقہ،اردن،غاصب صہیونی ریاست اسرائیل، اسپین،پاکستان اور برطانیہ سمیت امریکہ کی اتحاد ی ریاستیں بھی شامل ہیں۔اسی طرح کئی ایک اور ممالک ایسے ہیں جو اس وقت لاک ڈاؤن کا سامنا کر رہے ہیں۔صورتحال یہاں تک آ ن پہنچی ہے کہ اس وائرس سے متاثرہ افراد کا علاج کرنے والے میڈیکل اسٹاف اور ڈاکٹر بھی علاج کرتے کرتے اس وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔

    ایک عام رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کے ایک سو پچانوے ممالک اس مہلک وائرس کا شکار ہیں جس کے باعث دنیا کا نظام اور تعلق بھی منقطع ہو چکا ہے۔سیاسی وتجارتی تعلقات اور ہر قسم کے روابط محدود ہو کر رہ چکے ہیں، ہر کام ڈیجیٹل ذرائع سے انجام دینے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔دنیا بھر میں اس وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے سماجی دوری کو حل قرار دیا جا رہاہے۔ غرض یہ ہے کہ اس وباء سے نمٹنے کے لئے ہر ممکنہ احتیاط اور طریقہ کار کو خاطر میں لایا جا رہاہے۔

    اس طرح کے حالات میں کہ جب پوری انسانیت خطر ناک دور سے گزر رہی ہے اور ایک تجزیہ کے مطابق شاید گذشتہ کئی صدیوں میں اس طرح کا بحران دنیا کو سامنا نہیں ہوا ہے۔حالانکہ دو بڑی جنگیں پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریاں اپنی جگہ پر لیکن موجودہ صورتحال تباہ کاری سے کئی گنا زیادہ سنگینی اختیار کر چکی ہے۔ایسے حالات میں ایک سوال جو تحقیقی حلقوں میں گردش کر رہاہے وہ یہ ہے کہ کورونا وائرس کے بعد کی دنیا کیسی ہو گی؟یقینا یہ ایک اہم سوال ہے کہ جس نے ہر ذی شعور کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاہے۔

    ان تمام تر سنگین حالات میں کہ جہاں ایک طرف کورونا وائرس کے باعث نظام زندگی متاثر ہے وہاں ساتھ ساتھ دنیا میں ان ممالک اور علاقوں کی بات بھی سامنے آنا بہت ضروری ہے کہ جو نہ صرف اس وباء سے نبرد آزماہیں بلکہ ساتھ ساتھ عالمی صہیونزم اور ظلم کا شکار ہیں۔

    اس عنوان سے ہمارے سامنے آج کی موجودہ صورتحال میں فلسطین کا مسئلہ سب سے اہمیت کا حامل ہے، اسی طرح کشمیر میں بھی بھارت کی ریاستی دہشت گرد ی کا سلسلہ جار ی ہے، شام کے سرحدی علاقوں پر ترک افواج کی جارحانہ کاروائیوں سے بھی پردہ پوشی نہیں کی جا سکتی، یمن پر جاری سعودی جارحیت بھی انسانیت کے چہرہ پر سیاہ کلنک کی مانند واضح نظر آ رہی ہے۔ایران پر امریکی معاشی دہشت گرد ی بھی جاری ہے، حالانکہ ایران بھی چین، اٹلی، اسپین، فرانس کے بعد پانچواں ایسا ملک ہے کہ جہاں اموات کی شرح زیادہ ہوئی ہے۔لیکن اس صورتحال میں بھی امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مسلسل پابندیوں کو سخت کیا جا رہاہے اور میڈیکل امداد پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔کورونا وائرس کی اس دنیامیں عالمی سامراج اور صہیونزم کی دنیا اپنے ظالمانہ عزائم سے باز نہیں آ رہی ہے اور دنیا کے مظلوم خطوں پر مظالم اور جبر کا سلسلہ جاری ہے۔ایسے حالات میں یہ سوال زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا جا رہاہے کہ کورونا وائرس کے بعد کی دنیا کیسی ہو گی؟

    اسی سوال کے عنوان سے حال ہی میں لبنان کی ایک بہت بڑی سیاسی شخصیت اور اسلامی مزاحمت کے قائد اور حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے ایک ٹیلی ویژن تقریر میں اس سوال کو اٹھاتے ہوئے اس کا جواب دیا ہے۔

    سید حسن نصر اللہ نے اپنی گفتگو میں یہ سوال اٹھاتے ہوئے کہ کورونا وائر س کے بعد کی دنیا کیسی ہو گی؟ کہا ہے کہ آج ہم دنیا میں ایسی صورتحا ل کا سامنا کر رہے ہیں کہ جس کی طول تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔کم سے کم دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اب تک یہ صورتحال کسی بھی عالمی جنگ سے زیادہ خطر ناک ہے۔

    انہوں نے اپنی گفتگو میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ممکن ہے کہ کورونا وائرس کے خاتمہ کی بعد کی دنیا کو ایک نئے عالمی نظام اور نئی صورتحال کا سامنا ہو۔جیسا کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد دوسری جنگ عظیم اور پھر سوویت یونین کے بعد مشرقی و مغربی یورپ کے خاتمہ کے بعد ان سب کے بعد ایک نیا عالمی نظام وجود میں آیا۔آج جو کچھ وقوع پذیر ہو رہا ہے وہ ماضی کی تمام عالمی جنگوں سے بڑھ کر ہے۔کیونکہ وہ (وائرس) دنیا میں ہر خطے اور ہر جگہ میں داخل ہو چکاہے۔آج جو کچھ بھی دنیا میں ہو رہاہے اسکی بنیاد ثقافتی، اعتقادی، دینی،فکری،فلسفی اور جو کچھ بھی ان سے مربوط ہے کو ایک چیلنج درپیش ہے اور یہ ایک زلزلہ ہے جو آ رہا ہے۔

    کورونا وائرس کے بعد کی دنیا میں اہم مرحلہ دنیا کی حکومتوں کو درپیش چیلنج ہے۔ جس میں ایک بڑا چیلنج اقوام متحدہ کے اپنے موثر ہونے کا چیلنج ہے اور عالمی سطح پر بڑے بڑے اتحادیوں کو اپنے موثر ہونے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔نہیں معلوم امریکہ کی متحدہ ریاستیں متحد رہ پائیں گی یا نہیں؟یا پھر موجودہ یورپی اتحاد باقی رہ پائے گا؟اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ آج کی موجودہ نسل چاہے وہ کسی بھی خطہ میں ہو دنیا میں کہیں بھی ہم ایک جدید دور کا تجربہ کر رہے ہیں۔اس تجربہ کی گذشتہ ایک سو یا دو سو سالوں میں مثال نہیں ملتی ہے۔ممکن ہے کہ دنیا اور بشریت ایک نئے حالات اور نئے نتائج کی طرف منتقل ہو جائے۔اس احتمال کی بنیادیں علمی او ر واقعی ہیں۔فکری، ثقافتی اور سیاسی سطح پر اور اسی طرح اتحادی گروپس کی سطح پر، اقتصاد، پیسہ، ریزرو، اور اجتماعی و معاشرتی بنیادوں پر۔ہر سطح پر ایک تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔

    خلاصہ یہ ہے کہ کیا آج وقت نہیں آ گیا ہے کہ دنیا ان ظالم حکمرانوں کے خلاف ڈٹ جائے اور کہے کہ ختم کرو اب بس بہت ہو گیا۔اب اگر دنیا اس فکر میں ہے کہ کیسے جنگوں، لڑائیوں اور مشکلات کو ختم کیا جائے؟اور کورونا سے مقابلہ کو اولیت دی جائے۔یہاں ایک سوال ضرور یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یمن کی عوام بے انتہا غربت اور مظلومیت کے ساتھ اس لائق نہیں ہے کہ ان کے خلاف سعودی جنگ کوختم کیا جائے؟

    کیا فلسطین کے مظلوم عوام اور انسان اس لائق نہیں ہیں کہ ان کے خلاف صہیونی جرائم کا خاتمہ کیا جائے؟آج دنیا کے با ضمیر انسانوں کو یہ آواز پہلے سے زیاد ہ بلند آواز میں اٹھانی چاہئیے کہ ذاتی اختلافات نظر کو اور سیاسی حساب کتاب اور ان باتوں کی جگہ نہیں ہونی چاہئیے۔آج انسانیت کی خاطر صرف اور صرف انسانیت کی خاطر پوری دنیا کو چاہئیے کہ امریکہ پر دباؤ ڈالے اور ایران کے خلاف معاشی دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے، صہیونیوں کے ظلم و ستم کو روکا جائے،سعودیہ اور اس کے اتحادیوں پر زور دیا جائے کہ وہ یمن کے مظلوم عوام پر جنگ بند کر دیں۔

    اگر واقعی یہ عالمی اتحاد اور قوتیں انسان دوست ہیں توآج وقت ہے کہ اپنے ان دعووں کو سچا کر دکھائیں اور دنیا بھر میں جاری ظلم و ستم کو انسانیت کی بقاء کی خاطر رو ک دیں اور آئندہ ایسے جارحیت پسندانہ اقدامات سے بھی گریز کریں۔ کورونا وائرس کے بعد کی دنیا یقینا تبدیل ہو جائے گی اور یہ وہ امتحان ہے جس کا ہمیں مشاہدہ کرنا ہے۔

  • دنیا کو آج سے پہلے کبھی اتنی دعاؤں کی ضرورت نہیں تھی مہوش حیات

    دنیا کو آج سے پہلے کبھی اتنی دعاؤں کی ضرورت نہیں تھی مہوش حیات

    شب برات کے حوالے سے شوبز انڈسٹری سمیت دیگر معروف شخصیات نے اپنے پیغامات سوشل میڈیا پر شئیر کئے ہیں پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مہوش حیات کا کہنا ہے کہ دنیا کو آج سے پہلے کبھی اتنی دعاؤں کی ضرورت نہیں تھی آئیے مل کر دعا کریں کہ یہ مشکل وقت گزر جائے

    باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مہوش حیات کا کہنا ہے کہ دنیا کو آج سے پہلے کبھی اتنی دعاؤں کی ضرورت نہیں تھی آئیے مل کر دعا کریں کہ یہ مشکل وقت گزر جائے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر اداکارہ نے خانہ کعبہ کے ساتھ لی گئی اپنی تصویر شئیر کرتے ہوئے ٹویٹ کی لکھا کہ آج کی رات شب برات پر آئیے اللہ سے معافی مانگیں

    مہوش حیات نے لکھا کہ دنیا کو آج سے پہلے کبھی بھی اتنی دعاؤں اور افہام و تفہیم کی زیادہ ضرورت نہیں تھی

    انہوں نے قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئیے مل کر اللہ سے معافی مانگیں اور دعا کریں کہ یہ مشکل وقت گزرے


    مہوش حیات نے لکھا کہ میں دعا کرتی ہوں کہ عقیدت مند دوبارہ حرم شریف کا رخ کرنے کے قابل ہو جائیں مجھے انہوں نے کہا معلوم ہے کہ یہ میرے لئے کیا معنی رکھتا ہے

    اداکارہ کی اس ٹویٹ کے جواب نے ایک خاتون صارف نے لکھا کہ عام طور پر میں نے کعبہ کو چھوتے ہوئے لوگوں کو روتے دیکھا ہے اور میں نے ہمیشہ سوچا تھا کہ جب بھی کعبہ کو ٹچ کروں گی روؤں گی نہیں کیونکہ یہ اب تک کا سب سے زیادہ خوبصورت احساس ہوگا میں اسے رونے سے ضائع نہیں کروں گی اور آپ کے تاثرات بالکل وہی ہیں جو میں ہمیشہ دیکھنا چاہتی ہوں


    مہوش حیات نے اس صارف کو جوابی کمنٹ کرتے ہوئے لکھا کہ شکریہ ! میں نے رونا ختم کیا اور بہت جذباتی محسوس کیا لیکن بے حد خوشی کا یہ احساس یقیناً میرا فوری رد عمل تھا اور مجھے بہت خوشی ہے کہ دانش نے اس لمحے کو فوراً کیچ کر لیا اس احساس کا اظہار الفاظ میں نہیں کیا جاسکتا لیکن صرف محسوس ہوتا ہے انہوں نے صارف کو دعا دیتے ہوئے مزید لکھا کہ آپ کو جلد ہی اس کا تجربہ ہو

    کوئی بھی طاقت دعا سے بڑی نہیں ماہرہ خان

  • کوئی بھی طاقت دعا سے بڑی نہیں ماہرہ خان

    کوئی بھی طاقت دعا سے بڑی نہیں ماہرہ خان

    اسلامی تہوار شب برات کے موقع پر شوبز انڈسٹری اور دیگرمعروف شخصیات نے اپنے پیغامات سوشل میڈیا پر شئیر کئے ہیں معروف اداکارہ ماہرہ خان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کوئی بھی طاقت دعا سے بڑی نہیں آج بخشش اور رحمتوں کی رات ہے ﷲ تعالی ہم سب پر رحم کرے

    باغی ٹی وی : اسلامی تہوار شب برات کے موقع پر شوبز انڈسٹری اور دیگرمعروف شخصیات نے اپنے پیغامات سوشل میڈیا پر شئیر کئے معروف اداکارہ ماہرہ خان نے بھی سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر اکاؤنٹ پر شب برات کے حوالے سے لکھا کہ کوئی بھی طاقت دعا سے بڑی نہیں آج بخشش اور رحمتوں کی رات ہے ﷲ تعالی ہم سب پر رحم فرمائے آمین


    انہوں نے لکھا کہ میں صرف اس کی ہدایت اور اس کی تندرستی کی طلبگار ہوں

    انہوں نے دو ہیش ٹیگ ShabEBarat #stayhomeandpray# استعامل کرتے ہوئے لوگوں کو گھروں پر رہ کر عبادت کرنے کی ہدایت کی

  • ثمینہ احمد اور منظر صہبائی شادی کے بندھن میں بندھ گئے

    ثمینہ احمد اور منظر صہبائی شادی کے بندھن میں بندھ گئے

    جیو ٹی وی کے معروف ڈرامے الف میں عبدالعلیٰ کا کردار ادا کرنے والے سینئر اداکار منظر صبہائی اور سینئر اداکارہ ثمینہ احمد نے اچانک شادی کر کے مداحوں کو حیران کر دیا

    باغی ٹی وی : جیو ٹی وی کے معروف ڈرامے الف میں عبدالعلیٰ کا کردار ادا کرنے والے سینئر اداکار منظر صبہائی اور سینئر اداکارہ ثمینہ احمد نے 70 برس کی عمر میں اچانک شادی کر کے مداحوں کو حیران کر دیا جوڑے نے رواں ماہ 4 اپریل کو شادی کی دی تھی شادی کی خبر منظر عام پر آتے ہی مداحوں کی بڑی تعداد جوڑے کو مبارکباد دے رہی ہے تاہم دونوں کی جانب سے فی الحال اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے
    https://www.instagram.com/p/B-uuWDwph3j/?igshid=uoj0g6aoelo5
    11 فروری 1950 کو کراچی میں پیدا ہونے والی ثمینہ احمد کی اس سے قبل فلم ڈائریکٹر فرید احمد سے شادی ہوئی تھی جو 1993 میں انتقال کرگئے تھے

    ثمینہ احمد کو پاکستان شوبز انڈسٹری سے جڑے تقریباً 50 برس ہوگئے ہیں وہ نہ صرف بہترین اداکارہ ہیں بلکہ ٹی وی پروڈیوسر اور ڈائریکٹر بھی ہیں ثمینہ احمد کی شوبز کے لیے خدمات کے اعتراف میں انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس کا اعزاز بھی مل چکا ہے ثمینہ احمد کے مشہور ڈراموں میں الف نون، بول میری مچھلی، انگار وادی، پانی جیسا پیار، آخری بارش، فیملی فرنٹ، دھوپ میں ساون، تعلق، نور بانو، میرے ہمدم میرے دوست اور دیگر شامل ہیں

    دوسری جانب منظر صہبائی نے ہدایت کار شعیب منصور کی فلم بول سے فلموں میں قدم رکھا تھا جس میں ان کی جاندار اداکاری نے مداحوں کے دل جیت لئے تھے حال ہی میں منظر صہبائی جیو انٹرٹینمنٹ کے ڈرامہ سیریل الف میں بھی نظر آئے تھے

    منظر صہبائی نامور شاعر سرمد صہبائی کے بھائی ہیں

  • حکومت، لاک ڈاؤن،اور غریب عوام  تحریر: ساجدہ بٹ

    حکومت، لاک ڈاؤن،اور غریب عوام تحریر: ساجدہ بٹ

    ہر سُو بکھرا ہوا وبا کا خوف دِن بہ دن بڑھ رہا ہے اس مرض سے بچنے کے لیے لوگوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔۔۔۔۔
    یہ سب ہماری بھلائی کے لئے کیا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لیکن۔۔
    اے وقت کے حکمران سنو۔۔۔
    لاک ڈاؤن سے ہم بیماری سے تو بچ جائیں گے لیکن بھوک سے مر گئے تو اُس کا حساب کون دے گا؟؟
    غریب عوام کی موت کا ذمہ دار کسے ٹھہرایا جائے گا؟
    حکومت نے تو صاف صاف کہہ دیا کہ ہم بہت زیادہ مدد تو نہیں کر سکتے ہیں اتنا پیسہ تو ہے نہیں ۔۔۔
    اور جو حزب اختلاف پارٹیاں ہیں جو کئی عربوں کھربوں ڈالر کی ملکیت ہیں انہوں نے اس مشکل وقت میں کتنا پیسہ داؤ پر لگایا؟؟
    کس نے رات چھپ کے لوگوں کے گھروں تک راشن پہنچایا؟؟
    اگر کچھ مدد کی بھی گئی تُو اُس کے لیے بھی پہلے کئی کئی اجلاس ہوئے سوشل میڈیا پر دھوم مچادی گئی ۔۔۔
    اور پھر کہیں جا کر اپنے علاقوں کے کچھ لوگوں کو فوٹو گرافی کے ساتھ راشن دیا گیا۔۔۔
    حکومت نے غریب عوام تک راشن پہنچانے کے لیے اب تک کئی اجلاس کر دیے اور اب بھی کہا گیا کہ یہ معاملات ریجسٹریشن وغیرہ کے مراحل میں ہے ۔۔
    افسوس ہے اس وقت کے امیر طبقہ کی خاموشی پر ۔۔۔۔۔
    اور اگر غریب عوام کی مدد کے لیے کچھ پیسہ دینے کا کہا بھی گیا تو صرف 2,3 ہزار کی مدد ۔۔۔۔
    بھلا اتنے پیسوں میں ایک مہینے کا خرچ کیسے ممکن ہے ؟
    چلو اتنا ہی سہی مگر دو گے کب ؟؟؟
    جب بھوک سے نڈھال عوام سڑکوں پر آجائے گی
    جب عوام چوری چکاری پر اُتر آئے گی
    جب چھینا جھپٹی شروع ہو جائے گی
    غریب عوام کا جو بھوک سے بُرا حال ہو رہا ہے تو یقینا اب سے کچھ دنوں بعد یہ حال بھی شروع ہو جائے گا ۔۔۔
    ایسے حالات پیدا کیوں نہ ہوں یہاں زیادہ آبادی دیہاڑی دار طبقے کی تھی کوئی مزدوری کرتا تھا، کوئی رنگ کرنے والا،کوئی پہاڑیوں پر کام کرنے والا کسی کی چھوٹی موٹی دکان تھی ۔۔۔یہ وہ لوگ تھے جو روز کا روز کما کر لاتے تھے تو ہی شام کو کھانا کھاتے تھے ۔
    اب یہ سب بند ہے گھر سے کوئی نکل نہیں سکتا کام پر کوئی جا نہیں سکتا تو پھر کھائیں گے کہاں سے
    اور راشن پہنچانے کے لیے اجلاس پر اجلاس ہوئے جا رہے ہیں لیکن ملے گا تب شاید جب عوام بھوک سے مرنے لگے گی ۔۔۔
    اور پھر رہی بات حق،حق دار تک۔۔۔۔
    تو یہ بات تو میں نے اپنی زندگی میں پوری ہوتی دیکھی ہی نہیں
    پہلی بات تو یہ کہ غریب تک مدد پہنچتی ہی نہیں اگر پہنچ بھی جائے تو مثال کے طور پر اگر 100 ہے تو غریب آدمی تک پہنچتے پہنچتے 30 رہ جائیں گے۔۔
    سنو لوگو۔۔۔۔
    اگر یہ ہی حال رہا تو آنے والا دور اس سے زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے اس بیماری سے بھی زیادہ خطرناک ۔۔۔
    ہم صرف حکومت کو ہی بلیم نہیں کر سکتے جو پیسے والے ہیں عام لوگ اُن کو بھی اس مشکل وقت میں حکومت اور غریب عوام کا ساتھ دینا ہو گا
    یاد رکھنا۔۔۔
    زندگی نا رہی تو پیسہ کس کام کا؟؟
    جو دے سکتے ہیں مدد کر سکتے ہیں تو اب کریں کیوں کہ یہ وقت ہے کھلے دل سے مدد کریں غریب لوگوں کی دعائیں سمیٹ لیں۔۔
    اس سے اللہ تعالیٰ بھی خوش اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق بھی خوش ہو گی ۔۔
    زیادہ نا صحیح اپنے گھر کے آس پاس غریب لوگوں کا پتہ کریں اُن کی مدد کریں پھر محلے کے لئے پھر اسی طرح اپنے گاؤں اور قصبے کے لئے آگے بڑھیں ۔۔۔
    گھبرانا نہیں جتنا لوگوں پر لگاؤ گے اللہ تعالیٰ اتنا مال عطا کریں گے اتنی برکتیں اور نیکیاں سمیٹتے چلے جائیں گے۔۔۔۔
    اس ساری صورتحال کے باوجود کُچھ ایسے فلاحی ادارے بھی ہیں جنہوں نے اب تک غریب عوام کی مدد کے لیے کافی حد تک راشن کا انتظام کیا اور کچھ نے رات کے اندھیرے میں چھپ کے لوگوں کی مدد کی اللہ تعالیٰ اُن کو اس کا بہت اجر عظیم عطا فرمائے گا۔۔۔
    لیکن پھر بھی جتنی ملک کی آبادی ہے اُس کے لیے حکومت،عوام سب کو نیک نیتی کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا پھر ان شاء اللہ ۔
    اللہ نے چاہا تو اس بیماری اور غربت سے ضرور نجات حاصل ہو گی ۔۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین

  • کورونا کیا ہے ایک سیاسی کھیل یا آفاقی وبا؟  سیاق و سباق نشست ہائے سوال و جواب  تحریر؛ بلال شوکت آزاد

    کورونا کیا ہے ایک سیاسی کھیل یا آفاقی وبا؟ سیاق و سباق نشست ہائے سوال و جواب تحریر؛ بلال شوکت آزاد

    سیاق و سباق نشست ہائے سوال و جواب (مورخہ سات اپریل دو ہزار بیس)

    کل ایک نشست ہائے سوال و جواب منعقد کی تھی جس میں سنجیدہ اور علم کے متلاشی احباب نے بھرپور شرکت کرکے حوصلہ افزائی کی اور بہت سے دلچسپ اور اہم سوالات کیے جن کے جواب دیکر مجھے بے خوشی, طمانیت اور علمی تازگی کا احساس ہوا۔

    میں ان سوالات اور جوابات کا سیاق و سباق بطور تحریر پیش کررہا ہوں تاکہ دیگر احباب بھی استفادہ لیں۔

    میں سوالات اور جوابات بالترتیب درج کررہا ہوں ضروری ترمیم اور نام حذف کرکے۔

    تو پہلا سوال کچھ یوں تھا کہ

    سوال: کیا خلافت کی جدوجہد کرنے کا حکم اسلام میں ملتا ہے ؟

    جواب: نہیں, میرے ناقص علم کے مطابق خلافت کوئی انسانی ساختہ نظام نہیں لہذا اسکے لیے جد و جہد کا کشٹ اللہ نے انسان کے ذمہ لگایا ہی نہیں۔

    خلافت تسلیم و رضا اور پیہم عمل اور فرمانبرداری کا نظام ہے جبکہ جس چیز کے حصول میں طمع لالچ اور جدوجہد آجائے وہ فتنہ بن جاتا ہے رحمت نہیں جبکہ ہم جانتے ہیں خلافت ناصرف مسلمانوں کے لیے بلکہ تمام انسانوں کے لیے رحمت ثابت ہوئی تھی۔

    جمہوریت اور وطن کے حصول میں جدوجہد کا عمل دخل ہے لہذا ان میں کمزوریاں اور فتنے بھی ان گنت ہیں۔

    قصہ مختصر خلافت کو جدوجہد کی ضرورت نہیں بلکہ یہ شریعت پر عمل کرنے سے خودبخود نافذ العمل ہوسکتی ہے۔

    بیشک ہم اہل القرآن کا یہ ایمان اور وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم تعامل مع الحکام پر زور دیں اور عمل کریں۔

    یہ بذات خود ایک فتنہ ہے کہ ہم خلافت کی خواہش اور جدوجہد کرتے پھریں۔
    ابھی تک جن جن نے خلافت کا نعرہ لگا کر جدوجہد کی انہوں نے کیا پایا اور مسلمانوں کو کیا فائدہ دیا؟

    ایک تنکے کا بھی نہیں۔

    سوال: کیا کورونا وائرس "نیو ورلڈ آرڈر” کی طرف اشارہ ہے؟

    جواب: پوری طرح نہیں, مبینہ اور خود ساختہ سپر پاورز اور سیکرٹ سوسائٹیز صرف موقع پیدا نہیں کرتی طاقت کے حصول کی خاطر بلکہ بعض اوقات قدرتی و فطرتی عوامل اور مصائب کا فائدہ بھی اٹھاتی ہیں۔

    نیو ورلڈ آرڈر دراصل کچھ بھی نہیں ماسوائے سپرمیسی کی دوڑ کے۔

    فلحال تو انسانی بقاء اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔کورونا وائرس صرف اللہ سے رجوع کرنے اور حقوق العباد نبھانے کا اشارہ ہے۔

    سوال: پاکستان اور پوری دنیا سے کورونا وائرس کا مکمل خاتمہ کب تک ممکن ہے؟ کوئی آئیڈیا یا تحقیق؟

    جواب: یہ ایک آفاقی وباء ہے, کسی انسان کی اختراع نہیں۔

    اور قرین قیاس یہی جواب بنتا ہے کہ جو چیز آفاق سے سر پر مسلط ہو وہ آفاق والے کو منا کر ہی سر سے اتاری جاسکتی ہے۔

    سردست آفاق والا یہی چاہتا ہے کہ ہم صلہ رحمی, اخوت, ایثار اور ایمان کامل کے ساتھ نہایت صبر اور تشکر سے رہیں۔

    البتہ دنیاوی لحاظ سے بتاتا چلوں کہ جب تک چین آف انفیکشن نہیں ٹوٹتی اور جب تک ویکسین تیار نہیں ہوتی یہ وباء ٹلنے یا ختم ہونے والی نہیں۔

    سوال: اس کے لیے کئی ویکسین تیار ہوئی بھی ہے یا صرف قیاس آرائیاں ہیں اور اگر نہیں تو کب تک ممکن ہے؟

    جواب: ویکسین کی دریافت اور تیاری میں اس وقت درجن سے زائد ممالک شامل ہیں۔
    دراصل ویکسین اسی وائرس یا بیکٹیریا کے کمزور جراثیم ہوتے ہیں جنہیں تھوڑی بہت ڈی این اے موڈیفیکیشن کے بعد انسان میں داخل کردیا جاتا ہے تاکہ اگر انسان کو کبھی متعلقہ وائرس یا بیکٹیریا لاحق ہو تو وہ بے اثر ہوکر زائل ہوجائے کیونکہ ویکیسن قوت مدافعت کو مستحکم کردیتی ہے اور مرض کمزور ہوجاتا ہے۔

    سوال: کیا ھمارے اداروں میں امتیازی عہدوں پر قادیانی قابض ہیں, اگر ہاں تو ایسا کیوں ہے اور جنکو پتہ ھے اس بارے تو وہ کیوں ایکشن نہیں لیتے یا عوام تک یہ بات کیوں نہیں پہنچاتے؟

    جواب: پہلے سوال کا جواب ہے کہ نہیں ہمارے اداروں میں سپر سیڈ یا امتیازی عہدوں پر اعلانیہ قادیانی تعینات نہیں تو قبضہ کی صورتحال ہی ندارد۔

    تو جیسا میں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ محض افواہ ہے تو ایکشن اور نوٹیفیکیشن کی ضرورت ہی نہیں بچتی۔

    سوال: بھائی اب اعلانیہ کون کہے گا کہ وہ قادیانی ہے؟

    جواب: تو آپ کس طرح کسی کے باطل میں جھانک سکتے ہیں؟, میرے ناقص علم میں ہے کہ ہمارے لیے ظاہر ہی کافی ہے جب تک اگلا اعلان نہ کردے کہ وہ کافر ہے وغیرہ وغیرہ۔

    سوال: اچھا دوسری بات اگناسٹکس کے خدا کے بارے میں کیا نظریہ ہے؟

    جواب: اگناسٹکس دراصل متذبذب اور متشکک ہوتے ہیں۔ مطلب یہ نا تو خدا کے مکمل طور پر انکاری ہوتے ہیں اور نا ہی مکمل طور پر اقراری, ان کا خدا پر یقین تحقیق سے مشروط ہوتا ہے اسی لیے انہیں اگناسٹکس کہا جاتا ہے۔

    جبکہ ایتھسٹ خدا کے صاف انکاری ہوتے ہیں اور انہیں خدا کے وجود سے کوئی سروکار نہیں ہوتا بیشک دلیل سے ثابت کردیا جائے تب بھی لیکن اگناسٹک دلیل ملنے پر خدا پر یقین کرنے کو تیار رہتے ہیں پر دلیل صیقل ہو تب۔

    سوال: مبشر زیدی کے بارے کیا خیال ہے, 100 لفظوں کی کہانی والا؟

    جواب: وہ دراصل متشکک یا اگناسٹک ہی ہے پر اس کا عمل ایتھسٹ ہونے کی چغلی کھاتا ہے باقی واللہ عالم بلصواب۔

    سوال: کچھ لوگوں کے نزدیک دجال کا ظاہری و جسمانی وجود نہیں اس پر آپ کا کیا کہنا ہے؟

    جواب: بلکل متضاد, کیونکہ میں قرآن و حدیث کا طالبلعلم اور ماننے والا ہوں۔ احادیث میں دجال کی بابت بہت واضح اشارے اور احکامات موجود ہیں۔

    دجال دراصل دجل یا دجلے کی جمع ہے جبکہ دجل یا دجلہ فریب اور دھوکے کو کہتے ہیں مطلب دجال ایک مخلوق ہوگی جو کثیر الفتنہ کردار ہوگا, باقی واللہ عالم بلصواب۔

    سوال: شریعت میں جمہوریت کی کیا حیثیت ہے ؟ نیز اگر ملک میں جمہوری نظام نافذ ہو تو امیر (جمہوری حکومت ) کے خلاف خروج کر کے اسلامی شریعتی نظام کے نفاذ کی کوشش کرنا درست ہو گا؟

    جواب: جمہوریت ایک باطل اور انسانی ساختہ نظام ہے جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں لیکن ہم اس وقت اضطراری کیفیت کا شکار ہیں اپنی خامیوں اور کمزوریوں کی بدولت تو ہم اس نظام کے تحت زندہ رہ سکتے ہیں "نفرت کی نگاہ” سے اس نظام کو دیکھتے ہوئے پر اس کا حصہ بننا صریح گمراہی اور عمل بد ہے۔

    اور جہاں تک بات ہے جمہوری حکومت کا دھڑن تختہ کرنا تو اسلام کا اصول واضح ہے کہ حکومت خواہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی, ہم پر خروج یا بغاوت حلال نہیں بلکہ حکومت جیسی بھی ہو ہمیں تعامل مع الحکام کا حکم ہے مطلب بلا چوں چراں اور لعن طعن کے حکمران اور امیر کی اطاعت فرض ہے ماسوائے شعار اسلام پر قدغن کے لیکن خروج کا حکم تب بھی موجود اور حلال نہیں, واللہ عالم بلصواب۔

    سوال: آپ کی ساری باتوں پر اتفاق کرتا ہوں پر جب اسلامی ملک ہو اور اس پر انسانوں کا بنایا ہوا قانون لاگو کیا جائے جبکہ اسلام اس چیز کی سخت مخالفت کرتا ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے قانون و آئین میں خامیاں ہو سکتی ہیں تو پھر ایسا کیوں ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے قانون کے خلاف آپ یا ہم بغاوت نہیں کر سکتے, تھوڑی وضاحت کر دیں؟

    جواب : کیونکہ بغاوت اور خروج اسلام کا مزاج نہیں۔ اسلام اگر افراد پر لاگو نہیں ہوسکتا تو کم سے کم فرد اسلام کو خود پر ضرور لاگو کرے۔

    اسی اصول کی بنیاد پر تعامل مع الحکام کا حکم وضع ہوتا ہے۔ ہماری ذاتی پسند ناپسند یا علمی ضد کے لیے اسلام کا مزاج اور فطرت نہیں بدلی جاسکتی۔

    اور ثانیاً بتادوں کہ خلافت اب کبھی نہیں آئے گی اور نہ ہی اسلامی ملوکیت کی گنجائش نظر آتی ہے اس لیے جو نظام رائج ہے اس کو پسند کیے بغیر نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اضطراری کیفیت میں ماننا اور اس کے تحت بنے حکمران کی اطاعت کرنا واجب ہے, واللہ عالم بلصواب۔

    سوال: اگر کوئی حکمران اور اس کے ماتحت ادارے عوام کی خدمت کرنے سے قاصر ہوں اور ایسا مسلسل ہو رہا ہو تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیئے؟

    جواب: صبر اور شکر اور اپنے کام سے کام رکھیں, اسلام کا یہی حکم ہے۔

    جہاد کی آٹھ وجوہات میں ایک بھی وجہ ایسی نہیں جو یہ بتائے کہ ہم جہاں رہتے ہیں وہیں ہتھیار اٹھا لیں, واللہ عالم بلصواب۔

    سوال: یہاں ہر دوسرا شخص یہ بات کر رہا ہے کہ کوئی کرونا نہیں ہے گورنمنٹ اپنے آقاؤں (امریکہ) کو خوش کرنے کے لیے یہ سب کُچھ کر رہی ہے, صرف میڈیا وار ہے, جسکا عملی نمونہ بھی نظر آیا, مطلب کسی کو کوئی فکر نہیں, بس عوامی مقامات بند ہیں, آپ کیا کہتے ہیں؟

    جواب: میں جز وقتی دانشور ہونے کے علاوہ کل وقتی طبی و ادویاتی نمائندہ بھی ہوں, سارا دن ہسپتال و ڈاکٹرز اور مریضوں میں گزرتا ہے۔کورونا کوئی ڈرامہ اور گریٹ گیم نہیں بلکہ فطرت کا انسان سے بدلہ ہے۔ کورونا ایک سنگین جان لیوا مرض ہے اور میں خود کافی مریضوں کا گواہ ہوں۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ کورونا کچھ نہیں وغیرہ وغیرہ وہ جاہل ہیں۔ اور کچھ اثرات سازشی تھیوریز کا بھی ہے۔

    جہاں تک بات ہے لاک ڈاؤن میں تفاوت کا تو لاک ڈاؤن کا حکم سب کے لیے ایک جیسا ہے پر یہ عوام ڈنڈے کے بغیر نہیں سمجھتی۔

    جب تک بڑے شہروں میں کرفیو نہیں لگتا اور باقی شہروں کو سخت لاک ڈاؤن نہیں کیا جاتا اس وبا پر کنٹرول ناممکن ہے۔

    سوال: ہر سوال کا کوئی نا کوئی جواب ہوتا ہے, بس اتنا بتا دیں کہ (لفظ سوال) کا مطلب کیا ہے؟

    جواب: سوال کا لفظی مطلب ہے کہ پوچھنا ، معلوم کرنا ، دریافت کرنا جبکہ قران پاک میں ہے کہ یایھا الذین امنوا لا تسالوا عن اشیاء ان تبدلکم تسئوکم مطلب ایسی باتیں تم دریافت نہ کرو کہ تم کو بتادی جائیں تو تم کو ناگوار ہوں اور دوسری جگہ ہے کہ فاسال بہ خبیرا مطلب اسے کسی باخبر سے پوچھو۔

    سوال: لیڈر شپ کا فقدان کیوں ہے, کیوں مخلص قیادت نہیں؟ آپ کیا کہتے ہیں؟

    جواب: اللہ پر یقین کامل, سنت سے محبت, شریعت کی ضرورت اور اخلاق کی قدرو منزلت میں جب کمی آجائے اور انسان کو لگے کہ وہ عقل کل ہے تب قیادت اور مخلص قیادت کا بحران ہی جنم لیتا ہے۔

    مانو یا نا مانو جب اوپر مذکورہ عوامل پر ہماری گرفت تھی تب ہم مخلص قائدین سے قطعی محروم نہیں تھے۔

    سوال: نفس کی پاکیزگی کیا ہے؟

    جواب: نفس پاکیزگی یہ ہے کہ ہم دوسروں کے نفس مت ٹٹولیں مطلب ٹوہ اور تجسس سے گریز کرکے خوش گمان رہیں اور نیک اعمال کی دعوت دیں اور خود بھی نیک اعمال پر عمل کریں۔

    نفس ناپاک ہی تب ہوتا ہے جب ہم اس کو دوسرے کے نفس کی جاسوسی کرنے اور خودساختہ نتائج سمجھنے پر لگاتے ہیں۔

    سوال: کیا موجودہ نظام جمہوریت سے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے یا اس جمہوری نظام میں تبدیلی لا کر؟ کیا کہتے ہیں آپ اس پر؟

    جواب: پاکستان کی ترقی اب نظام سے زیادہ افراد اور ان کی ایمانداری سے جڑی ہے۔
    موجودہ زمانے میں نظام خواہ خلافت کا بھی ہوا لیکن افراد ایماندار نہ ہوئے تو ترقی کے بجائے تنزلی طے ہے۔

    سوال: عالمی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کی سیاست اور خود مختاری پر کیسے اثر انداز ہوتی ھے
    اور کتنا کنٹرول ھے عالمی اسٹیبلشمنٹ کا؟ اور سیاست میں کچھ ایسے لوگ جو اداروں کو بھی پتہ ھے کے یہ دشمن ملک کے آلہ کار ہیں پھر بھی انکو دوسرے ممالک کی طرح کیوں نہیں پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچایا جاتا؟

    جواب: بہت سے طریقے ہیں عالمی اسٹیبلشمنٹ کے پاکستان پر حاوی ہونے کے لیکن ایک رائج طریقہ ہے گھر میں کمند ڈالنا یا سیندھ لگانا۔ غدار وہ واحد سہارہ ہیں عالمی اسٹیبلشمنٹ کا جو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ٹف ٹائم دیتے ہیں۔

    اور یہ کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ میں بھی انسان ہی ہیں جن سے صحیح غلط سب کی بعید ہے لہذا ان میں چھپی کالی بھیڑوں کی بدولت غدار اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے تاحال محفوظ اور کارگر ہیں۔

    ہمارے محب وطن اور ایماندار لوگ کام کررہے ہیں اور ان جونکوں کا صفایا خاموشی سے کرنے کی کوشش کررہے ہیں پر وقت لگے گا۔

    سوال: دنیا تو ہے ہی کافر, پاکستان میں بنے گستاخانہ پیجز اور پاکستان مخالف نعرے مارنے والوں کا اسٹیبلشمنٹ, سیکیورٹی ایجنسیز اور نمبر ون کچھ بھی نہیں اکھاڑ پاتی, آپکے خیال میں اس کی کیا وجہ ہے؟

    جواب: جواب ہے کہ بوجہ جمہوریت وہ قاصر یا معذور ہیں بہت سے معاملات پر سخت اور خودکار و رضاکارانہ ایکشن لینے میں۔ قصہ المختصر تمام ادارے اور ایجنسیز جمہوری ایوانوں کے ماتحت ہیں لہذا ان سے ہر کام کی توقع رکھنا سراسر کج فہمی اور بیوقوفی ہے۔

    سوال: ہم نے تو سنا ہے جمہوریت آتی ہی ان (اسٹیبلشمنٹ, سیکیورٹی ایجنسیز اور نمبر ون) سے ہے, کیا یہ جھوٹ ہے؟

    جواب: یہ کتنا جھوٹ ہے اور کتنا سچ ہے یہ میں نہیں بتاسکتا پر اتنا بتادوں کہ جمہوریت ایک عفریتی چکر ہے اور یہ دنیا کی طرح گول ہے, گھوم پھر کر وہیں واپس لاتی ہے جہاں سے سب شروع ہوتا ہے۔

    آخری سوال یہ تھا کہ

    سوال: آپ کے نذدیک کورونا وائرس خدا کا عذاب ہے یا اسرائیل کی سازش یا پھر چائینہ اس میں ملوث ہے؟ یہ کیا کہانی ہے؟

    جواب: یہ فطرت کا ایکو سسٹم ہے۔
    جب سے یہ کائنات بنی ہے اور دنیا سجی ہے تب سے کچھ بھی ایسا نہیں جس کی تخلیق اللہ نے نہیں کی۔

    بے جان اشیاء کی ایجاد تو انسان کرسکتا ہے پر جاندار مخلوق انسان کی ایجاد کبھی ہو ہی نہیں سکتی۔

    وائرس اور بیکٹیریا جیسا خوربینی جاندار تو بہت دور انسان ایک سانس خود نہیں بناسکتا جس پر یہ زندہ ہے۔

    البتہ یہ جو اس وقت ہورہا ہے یہ نہ عذاب ہے, نہ یہودی و اسرائیلی سازش اور نہ ہی کوئی جنگ۔

    یہ اللہ کی قدرت ہے کہ مبینہ طور پر ہر سو سال بعد بعد زمین خود کو ری سیٹ کرتی ہے اوپر اور نیچے سے تب وبائیں اور مصیبتیں پھوٹنا ایک عام سی بات ہے۔

    "محدود رہیے اور محفوظ رہیے”, یہ اللہ کا حکم نبیوں کو بھی ہوتا تھا جب اللہ واقعی عذاب مسلط کرتا تھا اب عذاب تو معلوم نہیں پر فطرت کا احتساب چلتا ہے تو کیفیت عذاب والی ہی بنتی ہے لہذا احتیاط اور محدود رہنے میں ہی عافیت ہے۔

    تو یہ تھے کچھ سنجیدہ نوعیت کے دلچسپ سوال جن کے ممکنہ جوابات دیکر مجھے بے حد خوشی اور طمانیت ہوئی اور میرا دماغ بھی تازہ ہوا۔

    امید ہے کہ احباب کو یہ نیا سلسلہ ضرور پسند آئے گا کیونکہ میں اس کو ایک دن چھوڑ کر مستقلاً چلانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔

    #سنجیدہ_بات

    #آزادیات

    #بلال #شوکت #آزاد

  • کورونا وائرس : ہالی وڈ اداکارہ جینیفرلوپیز کی شادی موخر

    کورونا وائرس : ہالی وڈ اداکارہ جینیفرلوپیز کی شادی موخر

    تیزی سے پھیلتے ہوئے خطرناک کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں کئی بڑے اجتماعات موخر اور منسوخ ہورہے ہیں وہیں امریکی اداکارہ و گلوکارہ جینیفر لوپیز عرف جے لو کی شادی بھی تاخیر کا شکار ہوگئی

    باغی ٹی وی :تیزی سے پھیلتے ہوئے خطرناک کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں کئی بڑے اجتماعات موخر اور منسوخ ہورہے ہیں وہیں امریکی اداکارہ و گلوکارہ جینیفر لوپیز عرف جے لو کی شادی بھی تاخیر کا شکار ہوگئی جینیفر لوپیز نے ایلن ڈی جینرز کو دئیے ایک ویڈیو انٹرویو میں بتایا کہ کورونا وائرس کے باعث ان کی شادی بھی تاخیر کا شکار ہو گئی

    اداکارہ و گلوکارہ کا کہنا تھا کہ جیسے ساری دنیا اسوقت رک گئی ہے اور انتظار کررہی ہے کہ کب اس وبا سے نجات ملے گی اور اپنی معمول کی زندگی میں واپس آئیں گے ویسے ہی ہم بھی بس انتظار کررہے ہیں، کچھ ماہ انتظار کریں گے اور پھر سوچیں گے کہ آگے کیا کرنا ہے

    جینیفر لوپیز کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہم پوری زندگی ہی ایک ساتھ گزارنے والے ہیں تو جلدی کس بات کی ہے؟

    اداکارہ و گلوکارہ نے مزید کہا کہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ جب ہماری منگنی ہوئی تب میں چاہتی تھی کہ چند ہی ماہ میں ہماری شادی ہوجائے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سوچ تبدیل ہوگئی

    رپورٹس کے مطابق جینفر لوپیز اور ایلکس روڈرگیوز رواں سال مارچ یا اپریل میں شادی کرنے جارہے تھے تاہم اداکارہ نے خود اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا

    واضح رہے کہ جینیفر لوپیز اور ایلکس روڈرگیوز کی منگی گزشتہ سال مارچ میں ہوئی تھی، رواں سال فروری کے آخری میں ایک انٹرویو کے دوران اداکارہ نے واضح کیا تھا کہ ان کو اور ان کے منگیتر کو شادی کرنے کی کوئی جلدی نہیں۔

    خیال رہے کہ یہ جنیفر لوپز کی چوتھی جبکہ ایلکس روڈرگیوز کی دوسری شادی ہوگی دونوں کے سابقہ شادیوں سے 2، 2 بچے ہیں

    نیو یارک کی صورتحال بدترین ہے سڑکیں سنسان اور ہسپتالوں میں ہر طرف لاشیں ہی لاشیں ہیں سلمان احمد

  • وفا و فلاح کے پیکر ، قسط:1  ؛جویریہ چوہدری

    وفا و فلاح کے پیکر ، قسط:1 ؛جویریہ چوہدری

    وفا و فلاح کے پیکر…[قسط:1]

    وہ سرخ و سفید اور سنہرے بالوں والا بچہ دیکھنے میں دلکش اور جاذب نظر تھا،جس کی ذہانت اور شرافت آنکھوں سے جھلکتی تھی…
    خالص عربی النسل،والد قبیلہ بنو نمیر اور والدہ قبیلہ بنو تمیم سے تھیں۔
    ایک دفعہ والدہ نے اپنے خدام و حفاظتی دستے کے ہمراہ سیاحت کی غرض سے عراق خوب صورت مقام کا رُخ کیا…
    مگر وہاں پہنچی ہی تھیں کہ روم کا لشکر اس بستی پر حملہ آور ہو گیا،حفاظتی دستے قتل کر دیئے گئے،مال و متاع چھین لیئے گئے اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا انہی قیدیوں میں یہ خوب صورت عرب بچہ بھی شامل تھا…
    جسے روم لے جا کر غلاموں کی منڈی میں بیچ دیا گیا،وہ بکتے بکتے ایک آقا سے دوسرے کے ہاتھ منتقل ہوتا رہا…
    یہ وہ وقت تھا جب رومی معاشرے کو اس نے بہت قریب سے دیکھا،منکرات و فواحشات کا مشاہدہ کیا…
    غلامی کی زندگی میں پرورش پاتا یہ بچہ منزلیں طے کرتے کرتے جوان ہو گیا،عربی زبان کو بھول جانے والے اس نوجوان کے ذہن میں یہ خیال ضرور کروٹ لیتا تھا کہ میں عربی النسل ہوں اور صحرائی باشندوں کی اولاد ہوں،اپنی قوم سے جا ملنے کی اُمنگ اندر ہی اندر پل رہی تھی،سرزمین عرب میں پہنچنے کا شوق دل و نگاہ میں مچلتا رہتا تھا کہ ایک دن غلامی کی زنجیر توڑ کر بھاگ نکلنے کا موقع میسر آ گیا…
    آپ نے وہاں سے نکل کر مکہ مکرمہ کا رُخ کیا اور پھر یہاں پہنچ کر مستقل سکونت اختیار کی،یہی وجہ تھی کہ روم سے دوبارہ عرب پہنچنے والے اس نوجوان کو باشندگانِ مکہ صہیب رومی کے نام سے جاننے اور پکارنے لگے…!!!
    یہاں پہنچ کر تجارت کا پیشہ اختیار کیا اور مکہ کے ایک سردار کے ساتھ مل کر کام کرنے لگے…
    تجارت خوب پھولی پھلی اور بہت سارا مال جمع ہو گیا…
    صہیب کو وہ بات بھی ستاتی تھی جو اس نے ایک نصرانی نجومی کی زبان سے اپنے آقا کی قید میں سنی تھی کہ عنقریب سرزمین عرب میں کے شہر مکہ میں ایک نبی کا ظہور ہونے والا ہے…
    تجارتی سفر جاری رہتے تھے کہ ایک روز سفر سے واپس پہنچے تو اطلاع ملی کہ مکہ میں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان کیا ہے اور آپ لوگوں کو توحید و رسالت کی دعوت دے رہے ہیں…!!!
    فواحشات و منکرات سے روکتے اور عدل و انصاف کا حکم دیتے ہیں۔
    صہیب کے دل میں وہ خواہش مچلنے لگی کہ میں اُس صادق و امین کے نام سے پکارے گئے نبی کے پاس پہنچوں…
    رہائش گاہ کا پوچھا؟
    جواب ملا:
    دارِ ارقم میں…
    لیکن ذرا دھیان سے کہیں قریش نے تمہیں ادھر جاتے دیکھ لیا تو جینا دو بھر ہو جائے گا اور پھر تمہارا کوئی ایسا بھی نہیں جو مصیبت میں کام آ سکے۔
    اب صہیب باشندگانِ مکہ سے نظریں چُراتے رات تاروں کی روشنی میں دار ارقم روانہ ہوئے…
    نبی محترم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ارشادات سننے کے بعد کلمۂ طیبہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے…
    حضرت صہیب نے بلال،عمار،خباب رضی اللہ عنھم کے ہمراہ قریش کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم نہایت صبر و تحمل سے برداشت کیئے…
    (جاری ہے…)
    (نوٹ:اس سلسلہ میں آپ کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کی زندگیوں کے واقعات بتائے جائیں گے ان شآ ء اللّٰہ)

  • سوشل میڈیا پر وائرل عدنان سمیع کی تصویر مداحوں کی توجہ کا مرکز بن گئی

    سوشل میڈیا پر وائرل عدنان سمیع کی تصویر مداحوں کی توجہ کا مرکز بن گئی

    بھارتی شہریت حاصل کرنے والے پاکستانی معروف گلوکار عدنان سمیع کی سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر کا صارفین نے مذاق بنا دیا

    باغی ٹی وی : گلوکار عدنان سمیع کی سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر کا صارفین نے مذاق بنا دیا سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر گلوکارنے اپنی ایک پرانی تصویر ہی نئے انداز میں شئیر کر کے مداحوں کے مذاق کا نشانہ بن گئے

    حالیہ حالات کے پیش نظر ماسک پہننے اور گھر سے باہر نہ جانے کی احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے عدنان سمیع نے اپنی کوئی ماسک پہنے حقیقی تصویر شئیر کرنے کے بجائے ایڈیٹنگ شدہ تصویر شیئر کی جس پر صارفین کو مذاق اڑانے کا موقع مل گیا


    گلوکار نے گذشتہ سال 12 جون 2019 سے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لگائی گئی تصویر کو ہی انہوں نے نئے انداز سے ایک بار پھر شیئر کر دیا
    گلوکار کی اس حرکت پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بڑی تعداد میں تبصرے کئے جارہے ہیں کہ گلوکار یہ سمجھ رہے ہیں یہ عملی کام کرنے کے بجائے ایڈیٹنگ شدہ تصویر سے وہ اپنی سماجی دوری اور کورونا سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر کا خیال رکھ سکتے ہیں

  • دیپیکا پڈوکون پاکستانی صوفی گلوکارہ  کی آواز کی دیوانی

    دیپیکا پڈوکون پاکستانی صوفی گلوکارہ کی آواز کی دیوانی

    بالی وڈ اداکارہ دپیکا پڈوکون بھی عالمی شہرت یافتہ صوفی گلوکارہ عابدہ پروین کی آوازکی دیوانی ہیں

    کراچی : کوورونا وبا کے باعث تمام ہی فنکاروں نے لاک ڈاؤن میں اپنی مصروفیات ڈھونڈلی ہیں بہت سے فنکار کھانا پکانے اور بیکنگ میں مصروف ہیں تو بہت سے فنکاروں نے اپنے گھرکوجم بنا لیا ہے جہاں وہ روز ورزش کرتے ہیں کچھ فنکار بینٹنگ کر رہے ہیں تو کچھ سوشل میڈیا پروقت گزارکراپنی پسند نا پسند اور مصروفیات سے مداحوں کو آگاہ کررہے ہیں فنکاروں کی دلچسپ سرگرمیوں پر مبنی ویڈیوز اور تصاویر سے مداح بھی خوب محفوظ ہو رہے ہیں

    بالی وڈ اداکارہ دپیکا پڈوکون لاک ڈاؤن میں مشغلہ کھانا پکانا ، بیکنگ ، ورزش کرنا ، اپنے شوہر کے ساتھ وقت گزارنا اور دنیا کو دیکھنے کے لئے اپنے پسندیدہ گانوں کی فہرست دینا ہے

    اداکارہ نے حال ہی میں لاک ڈاؤن کے دوران اپنے سب سے زیادہ سنے جانے والے گانوں کی ایک فہرست شئیر کی اور معلوم ہوا ، چھاپ تلک گانا عابدہ پروین کا کوک اسٹوڈیو ورژن ان میں سے ایک ہے فہرست کے مطابق وہ عالمی شہرت یافتہ صوفی گلوکارہ عابدہ پروین کی آواز کی دیوانی ہیں

    بھارتی اداکارہ نے کوک اسٹوڈیو میں عابدہ پروین کی آوازمیں گانے چھاپ تلک کوبھی اپنی پسندیدہ گانوں کی فہرست میں رکھا ہوا ہے جو انہوں نے لاک ڈاؤن میں خوب سنا ہے