Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • کورونا وائرس : مس انگلینڈ نے ہسپتال میں ملازمت اختیار کر لی

    کورونا وائرس : مس انگلینڈ نے ہسپتال میں ملازمت اختیار کر لی

    انگلینڈ میں گزشتہ برس مقابلہ حسن جیتنے والی 24 سالہ مس انگلینڈ بھاشا مکھرجی نے کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے کے لیے واپس ڈاکٹری کا پیشہ اختیار کرلیا

    باغی ٹی وی : انگلینڈ میں گزشتہ برس مقابلہ حسن جیتنے والی 24 سالہ مس انگلینڈ بھاشا مکھرجی نے کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے کے لیے واپس ڈاکٹری کا پیشہ اختیار کرلیا انگلینڈ کے شہر ڈربی میں رہائش پذیر بھاشا نے بوسٹن کے ایک اسپتال میں جونیئر ڈاکٹر کی حیثیت سے اپنی نوکری کا آغاز کیا تھا اور اب وہ ایک پروفیشنل ڈاکٹر ہیں انہوں نے دو مختلف میڈیکل ڈگری حاصل کی ہیں جن میں میڈیکل سائنس اور سرجری اینڈ میڈیسن شامل ہیں علاوہ ازیں بھاشا مکھرجی نے سانس کی بیماریوں سے متعلق خصوصی کورس بھی کر رکھا ہے
    https://www.instagram.com/p/B-Hr4eXnaOZ/?igshid=18lewipsb98vw
    ڈاکٹری کے پیشے کو چھوڑ کر مقابلہ حسن میں حصہ لینے والی بھارتی نژاد برطانوی بھاشا مکر جی نے دسمبر 2019 میں مس انگلینڈ کا اعزاز حاصل کیا تھا جس کے وہ فلاحی اداروں کے ساتھ منسلک ہو گئیں تاہم اب کورونا وبا کے بڑھتے ہوئے کورونا کے مریضوں کے پیش نظر انہوں نے واپس اپنا پیشہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے

    غیر ملکی نشریاتی ادارے سی این این سے بات کرتے ہوئے بھاشا مکھرجی نے بتایا کہ انہوں نے 24 مارچ کو اپنے سابق ساتھی ڈاکٹرز سے رابطہ کیا اور وہاں کی صورتحال سے متعلق معلومات حاصل کیں جنہوں نے انہیں بتایا گیا کہ وہ انتہائی دباؤ اور مشکل حالات میں کام کر رہے ہیں
    https://www.instagram.com/p/B8OZtiDnJXy/?utm_source=ig_embed
    بھاشا مکھرجی کا کہنا تھا کہ انہوں نے ساتھی ڈاکٹرز سے بات کرنے کے بعد اپنے پرانے ہسپتال کی انتظامیہ سے بات کی اور انہیں بتایا کہ وہ واپس آکر بطور ڈاکٹر خدمات سر انجام دینا چاہتی ہیں،کیوںکہ بطور ایک ڈاکٹر ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مشکل وقت میں اپنے ملک کے لوگوں کی خدمت کریں جس پر سابق ہسپتال انتظامیہ نےانکے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے واپس اپنا چارج سنبھالنے کی ذمہ داری دے دی

    جسکے بعد مس انگلینڈ برطانوی ہائی کمیشن کی مدد سے براستہ جرمنی لندن پہنچیں اور اس وقت وہ 2 ہفتوں کا قرنطینہ کی مدت پوری کر رہی ہیں اور جلد ہی وہ بطور ڈاکٹر انگلینڈ کے ایک ہسپتال میں خدمات سر انجام دیں گی

    کرونا وائرس نے دنیا ہی بدل کررکھ دی ،اقراء عزیزاوریاسرحسین نے گھرمیں درزیوں کا کام شروع کردیا

  • نیو یارک کی صورتحال بدترین ہے سڑکیں سنسان اور ہسپتالوں میں ہر طرف لاشیں ہی لاشیں ہیں  سلمان احمد

    نیو یارک کی صورتحال بدترین ہے سڑکیں سنسان اور ہسپتالوں میں ہر طرف لاشیں ہی لاشیں ہیں سلمان احمد

    پاکستانی معروف گلوکار سلمان احمد کا کہنا ہے کہ نیو یارک کی صورتحال بدترین ہے لواحقین مرنے والوں کی آکری رسومات ادا کرنےاور جنازوں میں شرکت کرنے سے احتیاط برت رہے ہیں اتنی قبریں ہیں کہ قبر نکالنے کی باری نہیں آ رہی چار چار دن سے لوگ انتظار کر رہے ہیں

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر گلوکار سلمان احمد کی جانب سے ایک منٹ اور 5 سیکنڈ پر مشتمل ویڈیو شئیر کی گئی ہے جس میں ویڈیو بنانے والے نے برہمی اور افسوس کا ملے جُلے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کورونا کے خوف کے باعث لواحقین جنازے میں شرکت سے احتیاط برت رہے ہیں


    ویڈیو بنانے والا کہہ رہا ہے کہ ایک بیٹا نیویارک میں رہتے ہوئے بھی اپنے باپ کے جنازے پر شرکت کرنے نہیں آیا

    انہوں نے بتایا کہ یہاں تین جنازے پڑھائے گئے جس میں لواحقین نے یہ کہتے ہوئے شرکت کرنے سے انکار کیا کہ آپ لوگ ہمیں ویڈیو بنا کر بھیج دیں

    ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ اتنی قبریں ہیں کہ قبر نکالنے کی باری نہیں آ رہی چار چار دن سے لوگ انتظار کر رہے ہیں

    سلمان احمد نے ویڈیو شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ ہم خدا کے ہیں اور خدا کی طرف ہی لوٹنا ہے

    سلمان احمد کا اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہنا ہے کہ نیویارک میں قیامت خیز مناظر دیکھنے میں آرہے ہیں انہوں نے بتایا کہ یہاں کی سڑکیں سنسان اور اسپتالوں میں ہر طرف لاشیں ہی لاشیں ہیں

  • کبری خان کی قرنطینہ میں مصروفیات کے 20 سیکنڈ

    کبری خان کی قرنطینہ میں مصروفیات کے 20 سیکنڈ

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ کبری خان نے سوشل میڈیا پرایک مختصر ویڈیو شئیر کی جس میں انہوں نے مداحوں کو قرنطینہ میں اپنی مصروفیات سے آگاہ کیا

    باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ کبری خان نے سوشل میڈیا پرایک مختصر ویڈیو شئیر کی جس میں انہوں نے مداحوں کو قرنطینہ میں اپنی مصروفیات سے آگاہ کیا سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر کبریٰ نے 20 سیکنڈ کی ایک مختصر ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے مداحوں کو قرنطینہ میں اپنی مصروفیات بتائیں
    https://www.instagram.com/p/B-onAMbn-b7/?utm_source=ig_embed
    اداکارہ نے شئیر کردہ ویڈیو کے کیپشن میں لکھا کہ میرے دن کی مصروفیات 20 سیکنڈ میں اور انہوں نے ہیش ٹیگ StayHome کا بھی استعمال کیا

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے قرنطینہ کے دوران ان کی واحد مصروفیت کھانا پینا، سونا اور ہاتھ دھونا ہے

    ویڈیو میں اداکارہ کو ورزش کرتے بھی دکھائی دیں ویڈیومیں کبری خان کے تاثرات دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اداکارہ قرنطینہ سے لطف اندوز نہیں بلکہ بور ہو رہی ہیں

    کبریٰ کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو سے مداح خوب محظوظ ہورہے ہیں اور دلچسپ تبصرے کر رہے ہیں

    اداکارہ عائشہ عمر نے اکمنٹس میں لکھا ان کی بھی یہی مصروفیات ہیں

    پروڈیوسر عمارہ حکمت اور عدنان قاضی بھی اداکارہ کی ویڈیو سے خوب محفوظ ہوئے

  • لاکھوں چراغ لا کہ…!!!  تحریر:جویریہ چوہدری

    لاکھوں چراغ لا کہ…!!! تحریر:جویریہ چوہدری

    لاکھوں چراغ لا کہ…!!!

    فراغت کے یہ لمحات…فرصت کی یہ ساعتیں…
    اپنوں کے سنگ بیتتی یہ جاں فزا گھڑیاں…
    اک گہرے سکوں کی لپٹ میں گزرتے یہ شب و روز…
    اردو گرد شور کی آلودگی سے پاک یہ دن…
    کسی گہری سوچ و عمل کے بھی متقاضی ہیں…
    اذان کی دلسوزصدا سے وقتِ فجر میری آنکھ کھلی…دعا پڑھنے کے بعد اذان کا جواب دینا شروع کیا…
    ویسے کیا روح پرور لمحات ہوتے ہیں کہ جب اک گہری نیند سے بیدار ہو کر رب کی کبریائی کی صدا سماعت کے دریچوں سے ٹکراتی ہے تو روح میں اک سکوں کی لہر اُتر جاتی ہے…
    ویسے اکثر ان لمحات میں اذان کی پر سوز پکار کا جواب دیتے ہوئے میری آنکھیں چھلک بھی پڑتی ہیں…
    نماز سے فارغ ہوتے ہی جب قریب کے درختوں کی شاخوں کی مکیں چڑیاں اک خاص ترنم سے چہچہاہٹ کا سماں باندھتی ہیں تو رب کی تسبیح کا اور شدت سے اندازہ ہونے لگتا ہے کہ:
    "زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اس کی تسبیح کرتی ہیں مگر تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے…”(النور)۔
    ہم انسان اکثر سستی کی ردا اوڑھے دیر،سویر کے مرتکب بھی ہو جاتے ہیں مگر کبھی اوقاتِ سحر میں مرغانِ سحر کو سستی کرتے دیکھا ہے ؟ نہیں بلکہ وہ ان لمحات کے آنے میں بانگ دینے کو مچل رہے ہوتے ہیں…
    ہم آجکل جس وبا کے اثرات سے بچنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں اس میں سرِ فہرست صفائی ستھرائی کا اہتمام ہے…
    صبح جاگتے ہی جب ہاتھ،منہ ناک، کان تک کی صفائی کے بعد جب ہم خالقِ کائنات کی بارگاہ میں کھڑے ہوتے ہیں تو اُس سجدے کی لذت کا کیا ہی مزہ اور اس پیشانی کی کیا ہی شان ہوتی ہے؟
    عافیت و کامیابی کی دعاؤں سے مزین عبادت کے بعد ہم ایک جسمانی و روحانی طاقت کا مشاہدہ کرتے ہیں اور ہمارا امیون سسٹم بہتر محسوس کرتا ہے…
    تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب ان ایام میں ہم اگر گھروں میں قید بھی ہیں تو ان لمحات کی گرانی میں خیر کو تلاش کرنے والے بنیں…
    اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے بنیں…
    جہاں ہاتھ منہ دھونے کی بات ہے تو ہم پانچ مرتبہ بآسانی یہ کام کر سکتے ہیں،پھر کوئی بھی کام کرنے کے بعد ہاتھ صابن سے دھونا،تو جانے کتنی بار یہ کام دہرانے کے ہم آسانی سے عادی ہو سکتے ہیں…!!!
    اور اگر پہلے کبھی مصروفیات اس کام میں تساہل کا شکار کر بھی دیتی تھیں تو ہم اس ریفریش کورس میں اپنی غلطیوں کو دور کر کے اصلاح کر سکتے ہیں…
    قرآن مجید ہمارے لیئے ضابطۂ حیات ہے ہم اس سے ٹوٹے تعلق کو ان دنوں میں بحال کر کے زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں…
    مطالعہ کے لیئے چونکہ ذہنی یکسوئی بے حد ضروری ہے تو اس وقت کو ترجمہ و تفسیر سمجھنے میں گزار سکتے ہیں…
    اسی طرح کتاب کی دنیا سے ٹوٹ گئے رابطے کو پھر سے استوار کر سکتے ہیں…
    معلوماتی اور تاریخی و ادبی کتابیں ذہنی بالیدگی اور تفریح کا بہترین ذریعہ ہیں…اس گھر میں آئے وقت کو یوں بہترین انداز میں گزارہ جا سکتا ہے…
    اگر چہ ہم ایک کلک پر بہت سی چیزیں اک نظر میں دیکھ کر گزر جاتے ہیں مگر اس کے ہمارے ذہنوں میں بیٹھنے کے چانسز اس سے کہیں کم ہوتے ہیں جو ہم حاضر دماغی سے چاہے ایک دو اوراق ہی کیوں نہیں پڑھ لیتے…اور جو ہمارے لیئے اتھینٹک حوالے کا بھی کام کر جاتے ہیں…
    اسی طرح مرد حضرات جو اکثر وقت گھروں باہر ہی گزارتے ہیں…
    یہ وقت گھر میں گزارنا مشکل محسوس ہوتا ہے ابھی پچھلے دنوں خبر پڑھی کہ گھریلو تشدد میں اضافہ کا رجحان،عورتوں اور بچوں کے ساتھ جھگڑوں کی وجہ سے ہیلپ لائن قائم…وغیرہ
    تو بحیثیت مسلمان ہمیں پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کی کوشش کرنی چاہیئے کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی گھریلو مصروفیات کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے کہا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم گھر والوں کی خدمت کیا کرتے تھے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو فوراً نماز کے لیئے چلے جاتے۔(صحیح بخاری)۔
    مرد حضرات کو چاہیئے کہ وہ ان لمحات میں عورتوں کی مدد کریں،ان کے کاموں میں ان کا ساتھ دیں
    وہ کپڑے دھوتی ہیں تو مرد پھیلا دیں…
    برتن دھل جائیں تو اُٹھا کر سنبھال دیں…
    صفائی کے معاملے میں مدد کریں اور اپنے گھروں سے اس کام کا آغاز کریں تاکہ صفائی مہم ہماری قومی سوچ کی شکل اختیار کرے…
    جانتے ہو ناں کہ قومیں افراد سے بنتی ہیں اور فرد اپنی ذات اور گلی محلے سے اپنی موومنٹ کا آغاز کرتے ہیں…اور پھر قوم کی پہچان بنتے ہیں…
    اس بیماری کے صرف ایک ہی رُخ پر واویلا کرنے کی بجائے ہر زاویے سے اصلاح کی طرف قدم بڑھائے جائیں اپنوں کے ساتھ بیٹھ کر بیتے اس وقت کو یادگار بنانے کی کوشش کرنی ہے…اپنی عبادات اور معاملات کی اصلاح کے ساتھ ہر لمحہ،ہر آن،نئی شان سے چراغ جلانے کی کوشش کرنی ہے تاکہ جب ہم باہر نکلیں تو بلاؤں اور وباؤں سے ٹکراتی اور کامیابی سے صبر و استقامت کے ساتھ ہم آغوش ہوتی قوم کے لقب سے نوازے جائیں…
    اور اپنی تاریخ پر فخر ہمارا طرہ امتیاز رہے…ہم ایک سنوری ہوئی،دردِ دل رکھنے والی اور اپنی ذات پر انسانیت کو ترجیح دینے والی قوم کی صورت اُبھریں…
    مرے دیس کے غریب کا یہ وقت بخیر و عافیت گزرے اور ہوا کے جھونکے کسی طوفاں میں نہ بدلنے پائیں…!!!
    ہمیں اپنی اپنی ذمہ داری کا چراغ جلائے رکھنا ہے…
    لاکھوں چراغ لا کہ
    ہوا تیز ہے بہت…
    صرف اک دیا جلا کر
    سرِ رہ گزر نہ جا…
    صرف دوسروں کو درس دے کر آگے بڑھ جانے اور ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ سے آنکھیں بچا جانا اجتماعی مسائل کو کم نہیں کر سکتے…
    اور یاد رکھیئے کہ:
    ہر عسر کے بعد یسر…
    ہر تنگی کے بعد آسانی…
    ہر شدت کے بعد سکوں…
    اور ہر شب کے بعد سحر ہونا ایک یقینی اور فطری امر ہے۔
    بس ہمیں…:
    لینا ہے جائزہ ہر رُخ سے تصویر کا…!!!!!
    کہ اس پُر اسرار سکون کے بعد کا جو منظر بنے وہ اتحاد و یکجہتی کی چاشنی سے گندھی مسکراہٹوں سے سجا خاموش مگر دیرپا پرسکون معاشرہ ہو…!!!!!!

  • اپنے رب سے معافی مانگنے کی شب  تحریر؛  سیّد عتیق الرّحمن بخاری

    اپنے رب سے معافی مانگنے کی شب تحریر؛ سیّد عتیق الرّحمن بخاری

    شب برات کی رات شعبان المعظم کی پندرھویں رات ہوتی ہے حضور نبی رحمت صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ و آلہِ وَسَلَّم کا فرمان ہے "رمضان المبارک اللّٰہ عزوجل کا محبوب مہینہ ہے اور شعبان میرا محبوب مہینہ ہے”۔ شعبان المعظم کی فیوض و برکات بے شمار ہیں مگر اس مہینے کی پندرہ تاریخ کو نہایت ہی بابرکت رات بنایا گیا ہے. یہ رات لیلة البراة یعنی دوزخ سے نجات والی رات بھی کہلاتی ہے اس رات کو لیلة الرحمة یعنی رحمت کے نزول کی رات بھی کہا جاتا ہے اس رات اللّٰہ عزوجل اپنی رحمت کی وجہ سے بے شمار لوگوں کو عذابِ جہنم سے نجات دیتا ہے اس رات کو لیلة الصک بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ رات تفویضِ امور سے ہے۔

    قرآن کریم میں اللّٰہ عزوجل کا فرمان ہے!
    "حم۔ اس روشن کتاب کی قسم، ہم نے اسکو مبارک والی رات میں نازل فرمایا۔ ہم تو راستہ دکھانے والے ہیں۔ اس رات میں تمام حکمت والے امور طے کئے جاتے ہیں ہمارے ہاں سے حکم ہو کر۔ بے شک ہم ہی (انبیاء علیہم السلام کو) بھیجتے ہیں۔ یہ تمہارے پروردگار کی تم پر رحمت ہے اور وہ تو سننے والا اور جاننے والا ہے” سورة الدخان١_٦

    مفسرین نے اس سورہ مبارکہ کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ اس سورت میں مبارک رات سے مراد شبِ برات ہے۔ جب اللّٰہ تعالٰی نے حضرت جبرائیل کو حکم دیا کہ قرآنِ پاک کو نازل کرنے کیلیے اِسے لوحِ محفوظ سے نقل کر لو تو وہ رات شبِ برات کی تھی جس رات قرآنِ کریم کا حقیقی نزول شروع ہوا وہ رات لیلة القدر کی تھی، اس رات کو اللّٰہ عزوجل نے بہت سی خوبیوں اور برکتوں کا منبع بنایا ہے اور اس رات کو بہت سی خصوصیات کےساتھ امتیاز فرمایا ہے اس رات کے خصائص میں سال بھر کے اُمورکی تقسیم ، رحمت کا نزول ، شفاعت کا۔قبول ہونا ، عبادت کی مقبولیت شامل ہیں۔

    حضور غوث الاعظم حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں کہ شب برات برکت والی چیزوں میں سے ہے اللّٰہ عزوجل نے اس رات کو اہلِ زمیں کےلیے رحمت، برکت، خیر، گناہوں سے مغفرت اور جہنم سے آزادی کی رات بنایا ہے۔

    علاوہ ازیں یہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بیش بہا انعامات سے نوازا۔اللہ کی ذات اپنے بندے سے کس قدر محبت کرتی ہے اسے احاطہ تحریر میں لانا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم اسکی ان گنت عطاٶں کا شکر بجا لاٸیں۔اب ان راتوں کی افادیت یہ بھی ہے کہ ہم وہ سست اور کاہل لوگ ہیں جو ہر رات قیام نہیں کر سکتے ایسے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں نظر انداز نہیں کیا بلکہ موقع فراہم کیا کہ آٶ ان راتوں میں میری بارگاہ میں آجاٶ میں تمہاری ساری کوتاہیاں معاف کردوں یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے اس رات میں کون کونسے امور، کس کس انداز سے نمٹاٸے جاتے ہیں مختلف علما اور مفسرین کے نقاط اور علوم سے استفادہ کرتے ہوٸے چند چیزیں ذکر کی جاتی ہیں

    شبِ برات کی رات میں سال بھر میں ہونے والے تمام اُمورِکائنات، عروج وزوال ، ادبارواقبال ، فتح وشکست ، رزق کی فراخی و تنگی ، زندگی وموت اور دیگر کارخانہ قدرت کے دوسرے شعبوں کی فہرست مرتب کی جاتی ہے اور یہ تمام اُمور فرشتوں کو الگ الگ ان کاموں کی تقسیم کر دی جاتی ہے اس رات اللّٰہ عزوجل رزق کی فراہمی کا ذمہ حضرت میکائیل کے سپرد فرماتے ہیں اعمال و افعال کا شیڈول آسمانِ اوّل کے فرشتے حضرت اسمائیلؑ کے حوالے کیا جاتا ہے مصائب وآلام کا شیڈول حضرت عزرائیل کے حوالے کیا جاتا ہے. اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نے اس رات سے کیسے اور کسقدر استفادہ کرنا ہے۔

    سیدنا ابو ثعلبہ سے روایت ہے رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شعبان کی پندرہویں شب اللہ پاک اپنے بندوں پر خاص تجلّی فرماتا ہے مومنوں کو بخش دیا جاتا ہے، کافروں کو ڈھیل دی جاتی ہے اور ایسے لوگ چھوڑے جاتے ہیں جنکے دل میں کینہ اور بغض ہو یہاں تک کہ وہ اس چیز کو اپنے دل سے نکال دیں تو ہمیں اللہ سے گڑگڑا کر معافی مانگنی ہے مگر اس سے پہلے ایکدوسرے کو معاف کرنا ہے بغض و عداوت کی اس دہکتی آگ کو سرد کرنا ہے پھر اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے کہ ہم معافی طلب کر سکیں ۔ جیسے کہ آجکل میرے ملکی حالات چل رہے ہیں بلکہ ساری امت مسلمہ جس پریشانی کا سامنا کر رہی ہے ایسے میں یہ رات ایک رحمت کا فرشتہ ہے ۔ ایک موقع ہے اپنی توبہ قبول کروانے کا۔ بخشش مانگنے کا اللہ کی منت سماجت کرنے کا کہ وہ ہمیں اس آزماٸش اس مصیبت سے آزاد فرماٸے۔ یہ وہ رات ہے جسمیں ہر ایک کی بخشش یقینی ہے معاف کیجیے اور معافی طلب کیجیے کیونکہ وہ معاف کرنیوالا ہے اور معاف کرنیوالوں کو پسند کرتا ہے

    اس رات کی فضیلت کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس رات اللّٰہ عزوجل بخشش ومغفرت فرماتا ہے اور بے شمار لوگوں کے گناہ اس رات معاف کر دئیے جاتے ہیں اور بے شمار لوگوں کو جہنم سے نجات ملتی ہے بخشش و مغفرت کا تعلق اللّٰہ عزوجل کے فضل و کرم سے ہے کہ وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے اپنی رحمتوں سے نوازدے لہذا اس رات اللّٰہ عزوجل سے اس کا کرم طلب فرمانا چاہیے اللّٰہ عزوجل سے بخشش و مغفرت طلب فرمانی چاہیے تا کہ وہ اپنہ شانِ کریمی کے باعث اپنی رحمتوں اور مہربانیوں کے دروازے کھول دے۔

    حضرت ابوبکر صدیقؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ و آلہِ وَسَلَّم نے فرمایا! "اللّٰہ عزوجل نصف شعبان کی شب آسمانِ دنیا کیطرف نزولِ اجلال فرماتا ہے اور اس شب میں مشرک اور دل میں بغض رکھنے والوں کے سوا ہر کسی کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ تو چلیے اس مالکِ کل کی چوکھٹ پر اس سے اس کے محبوب کے طفیل بخشش طلب کجیے۔دامن طلب بچھاٸیے اور عرض کیجیے کہ یااللہ ہم اپنی جانوں پر ستم کرنے کے بعد اس رات کی مقدس ساعتوں میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوٸے ہیں ۔اے دن کو رات اور رات کو دن میں بدلنے والے کارسازِ حقیقی ہمارے دنوں کو پھیر دے ۔ہمارے قلوب و اذہان کو منور و معطر کردے۔ہمیں ہماری اصل سے ملا دے ۔

    یاد رکھیے وہ اللہ ہی ہے جو انسان کی آخری سانس تک اسکے لوٹنے کا منتظر رہتا ہے۔وہ کریم اپنے بندے سے ستر ماٶں سے زیادہ محبت کرنے کی بات ہی اسلیے کرتا ہے کہ اس نے انسان کے اندر محبت کی جانب کھچے جانے کی ایک مقناطیسی قوت رکھی ہے۔اسی لیے وہ ”جبار اور ”قہار“ ہونے کے باوجود اپنے رحمن اور رحیم ہونے کا احساس دلاتا ہے تاکہ اسکا بندہ کی جانب پلٹ جاٸے ۔ اللہ کریم حق سننے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرماٸے۔

  • قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ،امام مہدی اور فتنۂ دجال…!!!قسط:4  تحریر ؛ جویریہ چوہدری

    قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ،امام مہدی اور فتنۂ دجال…!!!قسط:4 تحریر ؛ جویریہ چوہدری

    قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ،امام مہدی اور فتنۂ دجال…!!![قسط:4]

    قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ کافر طاقتیں مسلمانوں پر ٹوٹ پڑیں گی،مسلمان تعداد میں کم بھی نہیں ہوں گے،وسائل کی کمی بھی نہیں ہوگی لیکن حیثیت جھاگ کی طرح ہو جائے گی جسے طوفانی لہریں بہا لے جائیں…
    لیکن ایسا کب ہو گا؟
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جب ان میں وہن کی بیماری آ جائے گی…
    پوچھا گیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم !!!
    وہن کیا ہے ؟
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    دنیا سے محبت اور موت سے نفرت…”
    (ابو داؤد)
    جب یہ صورتحال پیدا ہو گی تو کافر طاقتیں مسلمانوں پر ایسے ٹوٹ پڑیں گی جیسے بھوکے دستر خوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔

    قیامت کی صغریٰ نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ بیٹھیں گے…(ابنِ ماجہ_کتاب الفتن)
    آج اس فریضہ سے غفلت کا عالم یہ ہے کہ ایک گھر میں بھی کوئی کسی کو اچھی بات کا کہہ دے،بری بات سے منع کر دے تو فوراً پرسنل چوائس کا جواب حاضر ہوتا ہے یا میری راہ میری مرضی کا کلیہ سبھی کو ازبر ہوتا ہے وغیرہ…
    لیکن جہاں ہر انسان اپنے اچھے،برے راستے کو اختیار کرنے میں آزاد ہے وہیں اپنی رعیت کے بارے میں جوابدہ بھی جس سے وہ کم از کم امر بالمعروف و نہی عن المنکر کر کے عہدہ برآ ہو سکتا ہے…
    حاکم اپنی رعایا کے بارے میں
    مرد اپنے اہل و عیال کے بارے میں
    عورت اپنے گھر شوہر اور بچوں کے بارے میں جوابدہ ہے…
    فکلکم راعِِ و کلکم مسئولٌ عن رعیتہ(صحیح بخاری)
    "پس تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا…”

    قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ مردوں کی قلت ہو جائے گی اور عورتوں کی کثرت ہو گی…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "قیامت کی نشانیوں میں سے ہے
    علم کا اُٹھ جانا،جہالت کا پھیل جانا،بدکاری کی کثرت،شراب پینے کی کثرت،مردوں کی کمی اور عورتوں کی کثرت یہاں تک کہ پچاس پچاس عورتوں کو سنبھالنے والا ایک نگران ہو گا…”(صحیح بخاری)۔

    قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ مسلمان کا خواب جھوٹا نہیں ہو گا۔۔۔
    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جب قیامت کا وقت قریب آ لگے گا تو مسلمان کا خواب بالکل جھوٹ نہ ہو گا…(صحیح بخاری_کتاب التعبیر)۔
    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "نبوت کے حصوں میں سے کچھ باقی نہ رہے گا مگر بشارتیں رہ جائیں گی…!!!
    لوگوں نے عرض کی یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم !
    خوش خبریاں کیا ہیں؟
    فرمایا:
    الرُّؤیَا الصَّالِحَۃُ…اچھے خواب…”

    (جاری ہے…)

    قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ ،امام مہدی،اور فتنۂ دجال_!!![قسط:1]—–از—جویریہ چوہدری

    قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ،امام مہدی اور فتنۂ دجال__!!![قسط:2]—–از—جویریہ چوہدری

    قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ،امام مہدی اور فتنۂ دجال قسط:3 تحریر ؛جویریہ چوہدری

  • اپنی زندگی میں جنگیں اور سیاسی انتشار دیکھے ہیں لیکن اس سے بدترین وقت کبھی نہیں دیکھا انور مقصود

    اپنی زندگی میں جنگیں اور سیاسی انتشار دیکھے ہیں لیکن اس سے بدترین وقت کبھی نہیں دیکھا انور مقصود

    پاکستان کے نامور مصنف اور میزبان انور مقصود کا کہنا ہے کہ میں ٹی وی چینلز سے درخواست کرتا ہوں کہ اس وقت اس قسم کے اشتہارات نشر نہ کیے جائیں پاکستان میں اس وقت بہت سے افراد ایسے ہیں جن کے گھروں میں کھانے کے لیے کچھ بھی موجود نہیں

    باغی ٹی وی : پاکستان کے نامور مصنف اور میزبان انور مقصود نجی ٹی وی چینل ڈان کو دیے ایک انٹرویو میں دنیا بھر میں پھیلی وبا کورونا کے حوالے سے بات کی

    اپنے انٹر ویو میں انور مقصود کا کہنا تھا کہ مجھے آج کل ٹی وی پر کھانے پکانے کے تیل کے اشتہارات دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے ان اشتہارات میں لوگ بہترین پکوان تیار کرتے نظر آتے ہیں میں ٹی وی چینلز سے درخواست کرتا ہوں کہ اس وقت اس قسم کے اشتہارات نشر نہ کیے جائیں پاکستان میں اس وقت بہت سے افراد ایسے ہیں جن کے گھروں میں کھانے کے لیے کچھ بھی موجود نہیں

    انور مقصود نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں جنگیں اور سیاسی انتشار بھی دیکھا تاہم موجودہ وقت کو سب سے بدترین قرار دیتے ہوئے
    ان کا کہنا تھا کہ میں نے اس سے بدترین وقت نہیں دیکھا پوری دنیا صرف ایک چھینک اور کھانسی کے ڈر سے گھروں میں محصور ہیں

    انور مقصود نے کہا کہ لیکن ہمیں سمجھنا چاہیے پوری دنیا میں ہی لاک ڈاؤن نافذ ہے عبادت گاہیں بند کی جارہی ہیں تو پھر مساجد کیسے بند نہیں ہوں گی؟ ہمارے گھروں کے دروازے کیسے بند نہیں ہوں گے؟ اگر ہم ابھی خیال کرلیں گے تو سب کچھ جلد دوبارہ کھل جائے گا

    جب ان سے لاک ڈاؤن کے باعث مقامی سینما اور ٹی وی کے متاثر ہونے پر بات کی گئی کہ ٹی وی سینما بند ہو گئے ہیں لاک ڈاؤن کے باعث شوٹنگز منسوخ ہو گئیں ہیں تو انہوں نے اس پر نہایت مزاحیہ انداز میں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کہ ٹی وی اور سینما کا بند ہونا یقیناً بہترین ہے لاک ڈاؤن کے باعث نئی پروڈکشن نہیں ہوگی میرے خیال میں یہی ہے جو ہمارے ٹی وی اور سنیما کے لئے بہترین ہے ان کے لئے ، واقعی ، جوانی پھر نہیں آنی

    نور مقصود قرنطینیہ کا وقت کس طرح گزار رہے ہیں؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ میں اپنی صحت کا خیال رکھ رہا ہوں پینٹنگ کررہا ہوں اور نئے نئے پکوان بنانا سیکھ رہا ہوں

    کیا آپ موجودہ دور کے حالات کے بارے میں نہیں لکھ رہے؟ اس سوال پر انور مقصود نے کہا کہ شاید میں ، ایک بار یہ سب ختم ہوجانے کے بعد کچھ لکھوں ، ایک بار جب میں ان اوقات پر غور کرنے کے قابل ہوجاؤں ابھی فی الحال ، اگرچہ ، میں نہیں لکھنا چاہتا

    انہوں نے کہاکہ اس مشکل وقت میں لوگ خدا کی طرف رجوع کررہے ہیں اسکے باوجود ، گروسری اسٹوروں میں ذخیرہ اندوزی اور ضرورت سے زیادہ مال چارج کرنے سے بنیادی انسانیت کی تردید ہوتی ہے یہاں تک کہ اگر میں اسکے بارے میں کچھ مزاحیہ لکھنے کی کوشش کر بھی لوں تو شاید اسے پڑھ کر ہنسی نہیں آئے گی

    انور مقصود نے کہا یقیناً ان پریشان کن اوقات میں ، لطیفے اور لطیفے ریمارکس آسان نہیں ہوتے ہیں چاہے آپ انور مقصود ہی کیوں نہ ہوں

    نیک عمل کی تشہیر کرنے کوسستی شہرت قرار دینا صحیح نہیں، سلمان ثاقب شیخ عرف مانی

    کیا پاکستان کی میوزک، سینما انڈسٹری اور آئی ایس پی آر ناکام ہو گئے؟

  • ہریتھیک روشن نے شطرنج میں کامیابی کے اصول بتا دیئے

    ہریتھیک روشن نے شطرنج میں کامیابی کے اصول بتا دیئے

    بالی وڈ معروف فلم اسٹار ہریتھیک روشن نے لاک ڈاؤن کے دوران اپنے بیٹے کو شطرنج کھیلنےکے کچھ اُصول بتادئیے

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز بالی وڈ فلم اسٹار ہریتھیک روشن نے انسٹاگرام پر ایک تصویر شیئر کی جس میں اداکار کا بیٹا شطرنج کھیل رہا ہے ہریتھیک روشن نے اپنی اس پوسٹ کے کیپشن میں ترتیب سے شطرنج میں کامیابی کے کچھ اُصول بتائے
    https://www.instagram.com/p/B-pEYnLHWNf/?utm_source=ig_embed
    بالی ووڈ اداکار نے لکھا کہ سب سے پہلے ہمیں اپنی پوری توجہ کھیل پر دینی ہے اُس کے بعد اپنا ایک مقصد بنانا ہے اور پھر میں جو اُصول بتارہا ہوں ان پر عمل کرنا ہے سب سے آگے بڑھنے کے لیے کچھ منصوبے بنایئے

    ہر چال کے لیے تیار رہیں

    آپ کو اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کے لیے کچھ قربانیاں بھی دینی پڑسکتی ہیں اوریہ ٹھیک ہیں

    آپ کے ہر اقدام سے آپ کو فائدہ اور نقصان ہوگا

    غلطیاں کرنے سے شطرنج کے کھلاڑیوں کی جانیں بھی جاسکتی ہیں

    آپ اپنے مقاصد دورہی سے بنائیں

    بہت قریب سے مت بڑھو

    اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کریں

    کھیل کے دوران گھبرانا نہیں ہے

    یہ صرف ایک کھیل نہیں ہے بلکہ اس سے زندگی گُزارنے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے

    اور کھیل شروع کرنے سے پہلے اپنے ہاتھوں کو لازمی دھوئیں

    بھارتی اداکار نے آخر میں لکھا کہ میرے خیال میں ہماری زندگی میں ہر قسم کی جنگوں کے لئے اصول ایک جیسے ہی رہتے ہیں

    اُنہوں نے لکھا کہ آیئے یہ جیتیں

  • اداکارہ میرا نے قرنطینہ کے دوران انتہائی فکر انگیز سبق سیکھ لیا

    اداکارہ میرا نے قرنطینہ کے دوران انتہائی فکر انگیز سبق سیکھ لیا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی اداکارہ میرا جی نے ایک ویڈیو شیئرکی جس میں انہوں نے کہا کہ ہم بچوں سے بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں

    باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف سینئیر اداکارہ میرا جی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر ایک ویڈیو شئیر کی جس میں وہ ٹریمپولین پر بچوں کے ساتھ اچھل کود رہی ہیں ویڈیو کے کیپشن میں انہوں سوالیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا کہ کون کہتا ہے کہ ہم بچوں سے کچھ نہیں سیکھ سکتے؟
    https://www.instagram.com/p/B-m38UQj9tm/?igshid=im9yjh1kdory
    اداکارہ نے لکھا کہ ایک انتہائی فکر انگیز سبق جو مجھے کورونا نے سکھایا وہ یہ ہے کہ بچے مستقبل کے معمار ہیں ہم ان سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں جیسا کہ میں نے 6 سالہ عالیہ سے شکست کھانے کے بعد بہت کچھ سیکھا

    اداکارہ نے نئی دنیا کا خیر مقدم کرتے ہوئے لکھا کہ وہ خود ساختہ تنہائی میں معیاری کام کرکے اپنے اہل خانہ کے ساتھ ایک بہترین وقت گزار رہی ہیں

    میرا جی نے لکھا کہ ہم نے اپنے گھر کے پچھلے حصے کو جم بنایا ہوا ہے جس کی ہم خود صفائی کرتے ہیں

    سنئیر اداکارہ نے لکھا کہ مثبت اہداف صحت مند رویوں کے ساتھ میں بچوں کے ساتھ کھیلنا سیکھ رہی ہوں اور میں زندہ رہنے کا طریقہ سیکھ رہی ہوں

  • دعا ملک کی پینٹنگ کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

    دعا ملک کی پینٹنگ کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

    اسلام کی خاطر شوبز کو خیر باد کہہ دینے والے پاکستانی اداکار فیروز خان کی بہن پاکستانی گلوکارہ دُعا ملک نے کُن فیکون پر مشتمل اپنی پینٹنگ کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کردی

    باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف گلوکارہ دُعا ملک نےسوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنی ایک تصویر شیئر کی دُعا ملک کی جانب سے شیئر کی جانے والی تصویر میں اُنہوں نے اپنے ہاتھ میں ایک پینٹنگ پکڑی ہوئی ہے جس پر قرآنی لفظ ’کُن فیکون‘ لکھا ہے اور یہ خطاطی دعا ملک نے خود بنائی ہے
    https://www.instagram.com/p/B-p2DjdDecX/?utm_source=ig_embed
    انہوں نے اپنی اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا کہ اس کے صرف الفاظ ہیں جو ہم بغیر کسی خوف کے جج کئے پینٹ کر سکتے ہیں وہ کُن کہتا ہے اور کائنات تخلیق ہوجاتی ہے ہمارے ان چھوٹے چھوٹے مسائل کی کیا حیثیت ہے؟

    واضح رہے کہ گذشتہ ماہ دُعا ملک نے اپنےایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ اپنی آنے والی زندگی کو اسلام کی راہ میں وقف کرنا چاہتی ہیں اور انہیں امید ہے کہ بھائی فیروز خان اور ان کے اعلان کے بعد بہت جلد ان کی بہن اداکارہ حمائمہ ملک بھی ایسا ہی اعلان کریں گی