Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • علی ظفر نے اپنی نئی غزل سوشل میڈیا پر شئیر کر دی

    علی ظفر نے اپنی نئی غزل سوشل میڈیا پر شئیر کر دی

    پاکستان کے معروف اداکارو گلوکار علی ظفر نے قرنطینہ میں رہتے ہوئے اُردو کی ایک غزل پڑھی جس کا عنوان سُکون ہے

    باغی ٹی وی : پاکستان کے معروف اداکار و گلوکار علی ظفر نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک ایک ٹوئٹ میں اپنی نئی غزل سُکون کا یوٹیوب لنک شیئر کیا

    علی ظفر نے اپنی غزل سکون کا لنک شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ اس مشکل وقت میں جہاں بہت ساری چیزیں رک گئی ہیں وہیں ہماری تخلیقی صلاحیتیں کسی نہ کسی بہانے سے کچھ نیا کرنے کا انتظام کرہی لیتی ہیں


    انہوں نے مزید لکھا کہ میں نے قرنطینہ میں رہتے ہوئے یہ کچھ اشعار لکھے ہیں

    علی ظفر نے مداحوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ یہ رہا. "سکون”۔ مجھے آپ کے خیالات بتائیں علی ظفر نے اپنی نئی غزل سُکون کے اشعار یوں پڑھے:

    یہ میرے ہر سُو ایک سکوں سا کیا ہے؟
    خاموشی میں چھپا جنوں سا کیا ہے؟
    باہر ایک طوفان ہے برپا اور اندر سناٹا
    سوچتا ہوں یہ کیوں ہے کیا ہے ؟
    یہ میرے ہر سُو ایک سکوں سا کیا ہے؟
    خود سے آشنا تو پہلے بھی تھا
    شائد یہ خودی سے شناسائی کا سلسلہ ہے
    اکیلا تو پہلے بھی تھا لیکن
    اس تنہائی میں اک سرور سا کیا ہے؟
    یہ کیا معجزہ ہے ؟
    کہ میرے ہر سۃو ایک سکوں سا کیا ہے؟
    اپنے مکاں میں بند ہو کر
    میں لامکاں ہو چکا ہوں
    اپنی گرہیں کھولتے کھولتے
    خود پہ عیا ں ہو چکا ہوں
    پر یہ راز راز رکھنے میں بھلا ہے
    کہ میرے ہر سُو ا یک سکوں سا کیا ہے؟
    ہر لمحے میں اک افسانہ ہے موجود
    میرے اپنوں میں اک بیگانہ ہے موجود
    جو میری داستاں مجھے سنا رہا ہے
    جو دیکھ سکا نہ وہ دکھا رہا ہے
    میں شوروغل کا ہوں باسی
    یہ میری اک سزا ہے
    مگر یہ میرے ہر سُو ایک سکوں سا کیا ہے؟
    کوئی فاصلہ باقی نہ رہا
    جام تو ہے ساقی نہ رہا
    میرا تخیل اب سراپا احتجاج نہیں
    میرا ہنر اب کسی تخلیق کا محتاج نہیں
    میکرا قلم ہر جانب واویلا مچا رہا ہے
    پر میرے ہر سُو ایک سکوں سا کیا ہے؟
    میری دنیا اب بدل چُکی ہے
    اس میں میرا اب وجود کیا ہے؟
    جو تھا وہ گُزر گیا
    اب جو ہے وہ موجود کیا ہے؟
    ستم جو ڈھایا تو نے
    جگر کو چیرتا چلا گیا
    اب میرے ہر سُو ایک سکوں سا کیا ہے؟
    قرار اگر ہے تو فطور کیا ہے؟
    محبت اگر ہے تو غرور کیا ہے؟
    ٹھکرایا گیا تو کیا
    پایا گیا تو کیا
    چُھپا ہے گر تاریکی میں تو
    تیرا نور کیا ہے؟َ
    تجھے پانے والے تو اپنا کھو بیٹھتے ہیں
    پر اپنے ہی آپ میں یہ سکوں سا کیا ہے؟
    میری حقیقت میرے جانے کے بعد
    سمجھ جاؤگے تم
    اُمید کرتا ہوں اپنے ہی لئے
    سنور جاؤگے تم
    بعد مین پچھتانے والے ہزاروں بار بکھرتے ہیں
    سمیٹے نہ سمٹے ہاتھوں سے پھسلتے ہیں
    اگر مجھے جان پاؤ تو یہ بھی جان لینا
    کہ میں کون ہوں؟
    اور میرے ہر سُو یہ سکوں سا کیا ہے ؟

    علی ظفر نے ٹوئٹرپر اپنی غزل سکون کی تصاویر شیئر کیں اور لکھا کہ جن کو اُردو پڑھنے کا شوق ہے پہلے چار بند ان کے لیے


    اس کے علاوہ گلوکار نے اپنے اگلے ٹوئٹ میں اپنی غزل کے آخری چار بند کی تصاویر بھی شیئر کیں

    غریبوں کی مدد کریں یہ وقت دل کھولنے کا ہے علی ظفر کی قوم سے اپیل

  • رابی پیرزادہ نے بھی مستحق افراد میں راشن تقسیم کیا

    رابی پیرزادہ نے بھی مستحق افراد میں راشن تقسیم کیا

    گزشتہ سال اسلام کی خاطر شوبز انڈسٹری کو خیر باد کہنے والی سابق گلوکارہ رابی پیر زادہ بھی مشکل کی اس گھڑی میں مستحق افراد میں راشن تقسیم کررہی ہیں

    باغی ٹی وی : کورونا وائرس کے باعث ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے جہاں دیگر کاروبار زندگی متاثر ہورہا ہے وہیں روزانہ اجرت پر کام کرنے والا دیہاڑی دار مزدور طبقہ بھی روزگار کی فکر میں مبتلا ہے لہذا اس غریب طبقے کی مدد کے لیے متعدد فنکار آگے آئے اور مستحق افراد میں راشن تقسیم کرنے کا اعلان کیا جن میں سابق گلوکارہ ربی پیر زادی بھی پیش پیش ہیں


    رابی پیر زادہ نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پینٹنگز کی چند تصاویر شئیر کیں اور اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ‏اللہ کا شکر ہے میں ابھی 100 سے زیادہ خاندانوں کو راشن آٹا دے رہی ہوں

    انہوں نے لکھا کہ میں اب سنگر نہیں ہوں نہ شوبز سے پیسے آتے ہیں اللہ کا نام لکھتی ہوں اور جو اسے خریدتے ہیں اسکی رقم لوگوں کے کام آتی ہے انہوں نے بتایا کہ انکی پیٹنگز کی قیمت 30سے 50 ہزار ہے

  • کرونا وائرس کی چھٹیاں اور بچوں کی تعلیم و تربیت  تحریر : حافظ احسان اللہ بلوچ

    کرونا وائرس کی چھٹیاں اور بچوں کی تعلیم و تربیت تحریر : حافظ احسان اللہ بلوچ

    کرونا وائرس کی چھٹیاں اور بچوں کی تعلیم و تربیت

    تحریر : حافظ احسان اللّٰہ بلوچ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر حکومت پاکستان نے تمام تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ دیگر اداروں اور تقریباً تمام کاروباری مراکز بند کروا کے تمام عوام کو گھروں تک محدود کر دیا ہے ۔ اور سکول پڑھنے والے تمام بچوں سے والدین کو مل بیٹھنے یا جھیلنے کا پہلی بار موقع ملا ہے ۔ حکومتی اور نجی حلقوں میں آن لائن ایجوکیشن کی باتیں چل رہی ہیں ، کالجز اور یونیورسٹیز کے طلباء کے لئے شائد یہ تجربہ کارگر ثابت ہو جائے کہ تعلیم اور عمر کی اس سٹیج پر پہنچ کر ان کو حصول تعلیم کا احساس ہو ہی جاتا ہے ۔ لیکن پرائمری ، مڈل اور میٹرک کے طلباء شاید اس کو قبول نہ کر پائیں ، بلکہ میرے خیال میں تو والدین جب بچوں کو آن لائن ایجوکیشن پر مجبور کریں گے تو والدین اور بچوں میں ایک نفسیاتی جنگ چھڑ جانی ہے ۔ پہلے ہی ہمارے ملک کے جبری نظام تعلیم نے بچوں کے فطری حقوق سلب کر رکھے ہیں اور 72 سالوں میں ہم تعلیمی نظام نہیں سدھار پائے تجربوں پر تجربے کرتے چلے آ رہے ہیں اور اب ایک نیا تجربہ کرنے جا رہے ہیں ۔ ” سبق فاؤنڈیشن ” نے آن لائن ایجوکیشن پر کافی کام کیا ہے لیکن اس سے طلباء نے کم اور اساتذہ نے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے ۔

    بہرحال گھروں میں دندناتے یا والدین کی سختی سے سہمے بچے اس وقت ایک مسئلہ تو ہیں کہ ان کو کیسے ڈیل کیا جائے ، ان کو کیسے تعلیم دی جائے ، ان کی انرجی کو کیسے کھپایا جائے اور ان کے ضائع ہوتے وقت کو کیسے بچا کر مفید بنایا جائے ۔ اس میں راقم کا مشورہ یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ سختی اور کھینچا تانی کی بجائے افہام و تفہیم اور دوستی کا تعلق قائم کریں ، بچوں کی باتیں غور اور توجہ سے سنیں کہ کسی معاملے یا چیزوں کو دیکھ کر انہوں نے کیا سمجھا ہے ، یوں آپ بچوں کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اور بھی ان سے بہت کچھ سیکھیں گے . اولادِ سے سختی کرنے والے اور انہیں ہر وقت سکول کی پڑھائی ، ٹیوشن اور ہوم ورک میں الجھائے رکھنے والے والدین ذرا پیار اور محبت سے بچوں کی آنکھوں میں جھانک کر تو دیکھیں ماں باپ کی محبت ، لاڈ ، ستائش اور توجہ کے لیے ترستی آنکھوں کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا اور آپ کا منہ چھپا کے پھوٹ پھوٹ کر رو دینے کو جی چاہے گا کہ تعلیم اور ترقی کی چاہ میں ہم نے اپنے بچوں سے نہ جانے ان کے کتنے فطری حقوق چھین رکھے ہیں ۔

    راقم نے اس موقع پر والدین کے لئے کچھ تجاویز اور مواد کا انتخاب کیا ہے ، جس سے والدین کو بچوں کو سمجھنے ، ان سے تعلق اور محبت میں رسوخ پیدا کرنے ، ان کی چھٹیاں یادگار بنانے ، ان کی تربیت کرنے ، ان کو سکھانے اور ان کے وقت کو قیمتی بنانے کا موقع ملے گا ۔

    1۔ بچوں کو نمازوں ، تلاوت اور دعاؤں میں اپنے ساتھ پیار اور محبت سے شریک کریں ۔

    2۔ بچوں کے ساتھ ذہنی اور جسمانی کھیل کھیل کھیلیں اور ہار کر ان کے دل جیت لیں ۔ اس کے لئے یوٹیوب پر
    Physical and intellectual games for kids at home
    سرچ کریں ۔ اس حوالے سے بہت زیادہ مواد موجود ہے لیکن یہ سرچنگ اور واچنگ بچوں کی پہنچ سے دور ہو ۔ میں کچھ پلے لسٹس شیئر کر دیتا ہوں ان سے بھی بہت کچھ مل جائے گا ۔

    3۔ اسی طرح بچوں کو اچھی اچھی اسلامی ، سبق آموز اور دلچسپ کہانیاں سنائیں اور پڑھوائیں ۔ اس کے لئے میں نے کچھ کتابوں کا انتخاب کیا ہے جس میں پرائمری لیول سے میٹرک لیول تک کے بچوں کے لئے کافی سارا مواد موجود ہے جن کے لنکس درج ذیل ہیں ۔

    سلسلہ قصص الانبیاء
    خداؤں کا قتل
    ننھی چڑیا کی بےقراری
    ناقابل یقین سچائیاں
    محمد طاہر نقاش کی کہانیاں
    طالب ہاشمی کی کہانیاں
    شاہین بچوں کے اقبال

    اشتیاق احمد رحمہ اللّٰہ کے اردو ناولز

    4۔ بچوں کے ساتھ کارٹون دیکھیں ۔ یہ کارٹون کیبل یا ڈش انٹینا پر دیکھنے کی بجائے یوٹیوب سے ڈاؤن لوڈ کرکے پھر دیکھیں اور یہ ڈاؤن لوڈنگ بچوں سے خفیہ ہو ۔ اور اس کے لئے چند ایک بہترین کارٹون سیریز کے لنکس میں شیئر کر رہا ہوں جن سے بچے تو بچے بڑے بھی بہت کچھ سیکھیں گے ۔ اور ان کو دیکھنے کے دوران بچوں کو بہت کچھ سکھایا جا سکتا ہے مثلاً ان میں خوبی اور ذہانت کی بات یا کارٹونز میں موجود کرداروں سے ہونے والی غلطیوں کی نشاندہی وغیرہ ۔

    عبد الباری کے کارٹون

    عبداللّٰہ اینڈ فرینڈز کارٹون

    طارق بن زیاد کارٹون

    ایم آئی ایس کارٹون

    پیٹ اینڈ میٹ کارٹون

    5۔ بچوں کے ساتھ مل کر گھر کی صفائی بھی کر سکتے ہیں ، کھانا بھی اور دیگر چیزیں بھی بنا پکا سکتے ہیں ، گھر میں پودے وغیرہ بھی لگائے جا سکتے ہیں ۔ اور اس کے لئے یوٹیوب پر بڑا مواد موجود ہے ۔

    6۔ جب آپ بچوں کے ساتھ اس قدر گھل مل جائیں گے تب آپ بچوں سے اپنی ہر بات بغیر کسی سختی سے منوا سکتے ہیں ۔ تو بچوں کو پڑھانے لکھانے کے ساتھ ساتھ عقائد و عبادات ، اخلاقیات اور مسنون دعائیں سکھائیں ، رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث مبارکہ یاد کروائیں تاکہ آپ کے بچے پکے اور سچے مسلمان بنیں ۔

    روشنی کا سفر
    ایپ (Daily dua for kids)

    7۔ اس سب کچھ کے ساتھ ساتھ آپ بچوں کی تعلیم و تربیت کی مہارتیں بجی سیکھیں ، اس کے لئے میں چند ایک مفید کتابوں کے لنکس شئیر کر رہا ہوں ان کا مطالعہ ضرور کریں زندگی بامقصد معلوم ہوگی ۔

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا طریق تربیت

    بچوں کی تربیت کیسے کریں

    ہمارے بچے ہم سے کیا چاہتے ہیں ؟

    اسلام میں بچوں کی تعلیم و تربیت والدین اور اساتذہ کی ذمہ داریاں

    بچوں سے گفتگو کیسے کریں

    بدچلنی اور جنسی بے راہ روی سے بچوں کی حفاظت کیسے کریں ؟
    والدین کا احتساب

    بچوں کا احتساب

    بچوں کی نفسیات

    بچوں کی نشوونما

    أج کے بچے کل کی قوم ، آپ کے بچے آپ کی آخرت کا سرمایہ

  • راج کپور اپنے وقت کے بڑے فنکار جنکے بارے روسی و چینی لکھتے ہیں ہمارے باپ دادا انکے فین تھے تحریر؛ حافظ احمد سعید جعفر

    راج کپور اپنے وقت کے بڑے فنکار جنکے بارے روسی و چینی لکھتے ہیں ہمارے باپ دادا انکے فین تھے تحریر؛ حافظ احمد سعید جعفر

    راج کپور اپنے وقت کے بڑے فنکار جنکے بارے روسی و چینی لکھتے ہیں ہمارے باپ دادا انکے فین تھے۔ حافظ احمد سعید جعفر

    لاک ڈاؤن کے دنوں وقت کو دھکا لگا مشکل ہوگیا تھا
    ایسے میں وقت کی گھڑی کو ریورس مارا
    اور 1955کے زمانے میں پہنچ گیا
    راج کپور جو کہ بالی وڈ کی میری فیورٹ شخصیت ہیں
    صرف اسکے لئے یہ ہمت کر بیٹھا
    ورنہ اتنی پرانی فلم کسی کو آپ زبردستی پانچ منٹ نہیں دکھا سکتے .
    فلم کا نام ہے شری 420
    میرے خیال سے اس کا مطلب ہے "صاحب 420”
    1955میں روس کا صدر بھارت آیا
    نہرو نے اسے کہا
    کہ بھارت کی جس جگہ کا آپ وزٹ کرنا چاہیں آپ کرسکتے ہیں
    جس پر روس کے صدر نے کہا
    ہم تو بھائی شری 420سے ملیں گے
    فلم دیکھنے کے دوران
    ایک ترکی سے تعلق رکھنے والے کا کمنٹ پڑھا
    کہ راج کپور کی موویز کو subtitleدیں
    ہم اسکے فین ہیں
    روس چائنا اور نجانے کہاں کہاں کے لوگوں نے لکھا ہوا تآ
    کہ ہمارے باپ دادا راج کپور کے فین تھے
    حالانکہ یہ باتیں تو مجھے اب پتہ چلیں
    کہ دنیا راج کپور کی فین ہے
    میں تو بچپن سے راج صاحب کا فین ہوں
    دنیا فلم سے اپنا وقت پاس کرتی ہے
    مگر میں وقت پاس کرنے کے ساتھ ساتھ
    لوگوں کا مزاج ,الفاظ کا چناؤ اور رہن سہن اور پتہ نہیں
    کیا کیا چیزیں نوٹ کرتا ہوں
    اس فلم میں ایک جگہ مجھے ہنسی آئی
    کہ جب کوئی کہ رہا تھا
    آجکل نیا زمانہ ہے
    مطلب ہر زمانہ اپنے زمانے میں نیا ہوتا تھا
    اکثر لوگوں سے یہ سنا ہے
    کہ آجکل پیسے کی بڑی قدر ہے
    پرانے زمانے میں مکان کچے اور دل سچے ہوتے تھے
    ایسا کچھ بھی نہیں تھا
    بالکل آج کی طرح پیسے کی قدر تھی
    بنا پیسے کے راج صاحب کو ہوٹل والے سے چائے کی پیالی کی امید نہیں تھی نرگس صاحبہ سے بہانے بہانے سے پیسے مانگ کر ہوٹل والے کو دئے
    اور پھر جب 420بن کر پیسہ کمانے کے بعد اسی ہوٹل پر چائے پینے آتے ہیں
    تو عزت کے ساتھ چائے ملتی ہے
    جیب کترے اس زمانے میں بھی تھے
    راج صاحب کی جیب بھی بمبئی کے جیب کترے کاٹ کر سارے پیسے نکال لیتے ہیں
    اس زمانے میں بھی امیروں کے پاس گاڑیاں تھیں
    گاڑیوں کے مقابلے میں سائیکل تھی
    میں حیران ہوا کہ 2005میں ہمارے شہر میں موبائل کمپنیاں آئیں
    ورنہ اس سے پہلے سب امیر لوگ بھی فون کا استعمال نہیں کرتے تھے
    مگر اتنی پرانی فلم میں بھی کچھ بڑے لوگوں کے ہاں
    تین تین ٹیلی فون تھے
    کچھ لوگ کہتے ہیں
    پرانی فلموں میں ایکٹنگ خاص نہیں تھی
    مجھے تو کہیں ایسا محسوس نہیں ہوا کہ کوئی ایکٹنگ کررہا ہے
    فلم کا ایک ایک سیکنڈ دیکھا ہے
    آخری آدھا گھنٹہ ابھی دیکھنا ہے

  • جرائم پیشہ افراد کس طرح خواتین کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں ایسے لوگوں سے کیسے محفوظ رہا جا سکتا ہے؟

    جرائم پیشہ افراد کس طرح خواتین کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں ایسے لوگوں سے کیسے محفوظ رہا جا سکتا ہے؟

    سائبر کرائم ونگ فیڈرل انویسٹی گیشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف اقبال چودھری نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ جرائم پیشہ افراد ایسی خواتین کو کس طرح اپنے جال میں پھنساتے ہیں اورایسےلوگوں سے محفوظ کیسے رہا جا سکتا ہے ؟

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سائبر کرائم ونگ فیڈرل انویسٹی گیشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف اقبال چودھری نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر 1 منٹ 38 سیکنڈ کے دورانیے پر مشتمل ایک ویڈیو شئیر کی جا میں انہوں نے لکھا کہ یہ خاص طور پرخواتین کیلئے ہے جو سوشل میڈیا ویب سائٹس پر نوکری کی تلاش میں ہوتی ہیں جرئم پیشہ افراد ایسی خواتین کو کس طرح اپنے جال میں پھنساتے ہیں اور ان گھٹیا لوگوں سے محفوظ کیسے رہا جائے؟


    اس ویڈیو میں آصف اقبال چودھری نے بتایا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر فراڈ کی ایک قسم دیکھی وہ یہ ہے کہ فراڈ یے سوشل میڈیا وہب سائٹس پر جاب کی ایڈ دے د یتے ہیں پھر لڑکے یا خواتین جابز کے لئے اپلائی کرتے ہیں ان کا زیادہ شکار خواتین ہوتی ہیں

    انہوں نے کہا کہ جو کی ہمیں شکایت موصول ہوئی ہم نے اس پر ایکشن لیتے ہوئے مجرم کو گرفتار کیا تو اس نے بتایا ہم نے جاب کا ایڈ دیا پھر خاتون کو انٹر ویو کے لئے ہوٹل میں بلایا جہاں اسے جنسی ہراساں کیا اور اس کی ویڈیو بنا کر اسے بلیک میل کیا

    کس طرح یہ فراڈیے لوگوں کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں ؟ اس حوالے سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ نے بتایا کہ یہ لوگ اچھے برنڈز کے نام پر پیج بنا کر جاب کی ایڈ‌دیتے ہیں اور اپلائی کرنے کو کہتے ہیں خواتین سے ان کی تصویریں اور ڈیٹا لے کر کسی پرائیویٹ جگہ پر بلا کر جنسی طور پر ہراساں کرتے ہیں اور ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنا شروع کر دیتے ہیں جبکہ مردوں کو جاب کا لالچ دے کر رجسٹریشن اپلائی کرنے کی فیس یا ٹیسٹ لینے کی فیس کے نام پر ایزی پیسہ یا کسی دوسرے ذ رائع کے ذریعے پیسے منگوانا شروع کر دیتے ہیں

    ایسےلوگوں سے محفوظ کیسے رہا جا سکتا ہے ؟ اس حوالے سے آصف اقبال نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر دی گئی جاب کے لئے ایڈ پر اپلائی کرنے سے پہلے یقین کر لیں کہ سوشل میڈیا پر ویب سائٹ اس کمپنی کی ملکیت ہے جس کی ایڈ دی گئی ہے یہ فیک تو نہیں ہے یہ کنفرم کر لینے کے بعد ہی اپلائی کریں

    انہوں نے مزید بتایا کہ انٹرویو کے لئے جب جائیں تو کنفرم کر لیں کہ وہ کوئی آفس ہےکسی ہوٹل یا گیسٹ ہاؤس میں جا کر انٹر ویو نہیں دینا

    واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی آصف اقبال چودھری نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں آن لائن تجارت اور پُر کشش منافع کا لالچ دے کر عوام کو کولُوٹنے والے فراڈیوں کا پردہ فاش کرتے ہوئے ایسے فراڈیوں سے ہوشیار رہنے کے لئے خبردار کیا تھا

    آن لائن کمپنیاں پر کشش منافع کا لالچ دے کر لوگوں کو کیسے لُوٹتی ہیں؟

  • امریکی اداکار ایلن گارفیلڈ کورونا کے باعث انتقال کر گئے

    امریکی اداکار ایلن گارفیلڈ کورونا کے باعث انتقال کر گئے

    امریکی معروف اداکار ایلن گارفیلڈ کورونا وائرس کے باعث 80 سال کی عمر میں انتقال کرگئے

    باغی ٹی وی : امریکی معروف اداکار ایلن گارفیلڈ کورونا وائرس کے باعث 80 سال کی عمر میں انتقال کرگئے جس کی تصدیق ان کی ساتھی اداکارہ رونی بلیکلی نے کی

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایلن گارفیلڈ کی ساتھی اداکارہ رونی بلیکلی نے میڈیا کو بتایا کہ ایلن کا انتقال کورونا وائرس کے باعث ہوا

    خیال رہے کہ ایلن گارفیلڈ 1968 کی فلم اورجی گرلز 69 کے ساتھ سینما کا حصہ بنے وہ زیاد ہ تر فلموں میں منفی کردار نبھاتے نظر آتے تھے وہ اپنے کیریئر میں بناناز، اے اسٹیٹ آف تھنگز، انٹل دی اینڈ آف دی ورلڈ، نیشول اور دی اسٹنٹ مین نامی پروجیکٹس میں کام کرچکے ہیں

    وہ آخری مرتبہ 2016 میں ریلیز ہونے والی فلم چیف زابو میں جلوہ گر ہوئے تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فلم کی شوٹنگ 1986 میں مکمل ہوچکی تھی

  • کورونا کو منفی کیجیئے محبتوں اور احساس کو مثبت کیجیئے نعمان اعجاز

    کورونا کو منفی کیجیئے محبتوں اور احساس کو مثبت کیجیئے نعمان اعجاز

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار نعمان اعجاز نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شئیر کی جس میں انہوں نے پیغام دیا کہ کورونا کو منفی کیجیے اور محبتوں کو مثبت کیجیے احساس کو مثبت کیجیے اور ایک دوسرے کے لیے مثبت ہوجائیے

    باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار نعمان اعجاز نےانسٹاگرام پر 2منٹ اور تین سیکنڈ کے مختصر دورانیے کی اپنی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں نعمان اعجاز اپنے گھر کی چھت پر موجود ہیں

    نعمان اعجاز نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ بڑے عرصے کے بعد میں اپنے گھر کی چھت پر آیا ہوں اور یقین مانیے کہ یہاں بہت اچھا لگ رہا ہے
    https://www.instagram.com/tv/B-uOxFCpQIv/?igshid=1w5lxfdq0sarh
    انہوں نے آسمان بالکل صاف ہے دور دور تک کچھ ایسا نہیں جو آپ کو دکھائی دے حد نگاہ تک سب کچھ صاف دکھائی دے رہا ہے کیونکہ فضا میں آلودگی، گرد غُبار، دھواں کچھ بھی نہیں ہے سب کچھ بیٹھ چکا ہے اور میں نے اتنا نیلا آسمان بھی بڑے عرصے کے بعد دیکھا ہے

    اداکار نے کہا کہ اس ویڈیو کے ذریعے میں ایک بات کہنا چاہوں گا کہ ہماری زندگی میں بہت ساری ایسی چیزیں ہیں جن کے لیے ہم اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے جیسے گھر، فیملی، کھانا، دوست، تعلقات ،عزیز و اقارب وغیرہ یہ سب ہم پر اللہ کی رحمتیں ہیں اور یہ جتنی بھی رحمتیں ہیں اگر ہم ان کا شُکر ادا کرنے پر آئیں تو ہم ہر لمحے کے بعد اللہ کا شُکر ادا کرتے ہیں اور ہمیں اُس کا شُکر ادا کرنا بھی چاہیے

    نعمان اعجاز نے کہا اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں یہ حس دی کہ ہم یہ ہوا محسوس کر سکیں نظر دی کہ ہم دور تک دیکھ سکیں اور استدعا دی کہ ہم سن سکیں بہت سی کئی چیزیں سب کے لئے ا ن سب نعمتوں سے نوازنے کے لئےاللہ تعالی کا کروڑوں مرتبہ شُکریہ ادا کرتا ہوں

    اُنہوں نے کہا کہ اللہ کا شکرادا کیا کریں کہ ہم روز رات کو مرتے ہیں اور روز صبح زندہ اُ ٹھتے ہیں اس سے بڑی شکر کی بات اور کیا ہو سکتی ہے

    نعمان اعجاز نے کہا کہ آپ سب اپنا خیال رکھیں کورونا کو منفی کیجیے اور محبتوں کو مثبت کیجیے احساس کو مثبت کیجیے اور ایک دوسرے کے لیے مثبت ہوجائیے

    اُنہوں نے اپنی اس پوسٹ کے کیپشن میں شُکرالحمداللہ لکھا

    ہمیں کورونا سے لڑنے کے لئے سیاسی تعصب کو ختم کرنا ہوگا فخرعالم

  • ادکارہ و ماڈل سنیتا مارشل نے مداحوں کے ساتھ اپنی زندگی کی کچھ یادگارتصاویرشئیر کر دیں

    ادکارہ و ماڈل سنیتا مارشل نے مداحوں کے ساتھ اپنی زندگی کی کچھ یادگارتصاویرشئیر کر دیں

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ و ماڈل سنیتا مارشل نے اپنی سالگرہ کے موقع پر اپنی زندگی کی کچھ خاص اور یادگار تصاویر شیئر کرکے پرانی یادیں تازہ کر دیں

    باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ و ماڈل سنیتا مارشل نے آج اپنی سالگرہ کے موقع پرسوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شئیر کی جس میں انہوں نے اپنی پہلی سالگرہ سے لے کر اب تک کے اپنے زندگی کے خاص اور یادگار لمحات کی تصاویر شیئر کیں

    اداکارہ و ماڈل نے اپنی اس پوسٹ کا ایک طویل کیپشن لکھا کہ ہاں آج میری سالگرہ ہے اور اس موقع پر میں کچھ تصاویر آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی ہوں تو آئیے ایک بار ماضی میں چلتے ہیں
    https://www.instagram.com/p/B-uyq6FgLRZ/?utm_source=ig_embed
    انہوں نے لکھا کہ پہلا کولاج اس وقت کا ہے جب میں نے اپنی پہلی، دوسری، تیسری ، چوتھی اور چھٹی سالگرہ منائی تھی

    اس کے بعد سنیتا مارشل نے اپنی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ جب میں نے سن 2000 میں ٹی وی کے لیے پہلے اشتہار میں کام کیا تھا اس کے بعد وہ تصویر شئیر کی جب اداکارہ و ماڈل نے اداکاری کا آغاز کیا تھا

    انہوں نے لکھا تصویر نمبر پانچ اس وقت کی ہے جب میں اپنے شوہر حسن احمد سے 2003 میں ملی تھی اور پھر مجھے ان سے محبت ہوگئی تھی

    پھر اپنی شادی کی تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ 2008 میں میری اور حسن احمد کی شادی ہوئی اور دو بچے 2011 میں ہمارےبیٹے کی اور 2013 میں بیٹی کی پیدائش ہوئی

    سنیتا مارشل نے لکھا کہ یہ 2020 کی بات ہے جب کورونا وائرس وبائی مرض کیوجہ سے پوری دنیا لاک ڈاون کی زد میں ہے سب کی سلامتی اور تندرستی کے لئے دعا گو ہوں اور اپنے پیاروں کے ساتھ اور بھی بہت سی سالگرہ منا نے کی امید کرتی ہوں

    ثمینہ احمد اور منظر صہبائی شادی کے بندھن میں بندھ گئے

  • فنکار ملک کی سلامتی اور عالمی وبا سے نجات حاصل کرنے کے لئے دعا گو

    فنکار ملک کی سلامتی اور عالمی وبا سے نجات حاصل کرنے کے لئے دعا گو

    گذشتہ رات مقدس اور بابرکت اسلامی تہوار شب برات کے موقع پر شوبز انڈسٹری اور دیگر معروف شخصیات نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغامات شئیر کئے اور دیگر لوگوں کی طرح ملک کی سلامتی اوردنیا بھر سےاس عالمی وبا سے نجات حاصل کرنے کے لیے دُعائیں کی

    باغی ٹی وی : گذشتہ رات مقدس اور بابرکت اسلامی تہوار شب برات کے موقع پر شوبز انڈسٹری اور دیگر معروف شخصیات نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغامات شئیر کئے اور ملک کی سلامتی اوردنیا بھر سےاس عالمی وبا سے نجات حاصل کرنے کے لیے دُعائیں کی معروف اداکارہ مومل شیخ نےسوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر ایک تصویر شیئر کی جس کے کیپشن میں اداکارہ نے مسلمانوں کو شب برات کی مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ آئیے آج ایک ساتھ ہاتھ اٹھائیں اور اللہ تعالی سے معافی کی دعا مانگیں
    https://www.instagram.com/p/B-uoGSLFrF-/?igshid=1dxpkexp5hmju
    مومل شیخ نے لکھا کہ اللہ دعا کریں کہ وہ اس مشکل وقت کو ہم سب کے لئے دور کردیں اللہ سبحانہ وتعالی ہماری دعا ئیں قبول فرمائیں فرمائے


    اداکار و گلوکار علی ظفر نے ٹویٹر پر ایک نوٹ شئیر کیا جس پر لکھا تھا کہ میں آج رات سب کے لئے دعا گو ہوں خدا ہماری غلطیاں معاف کرے اور ہماری مشکلات آسان کرے آمین


    اداکار و میزبان فخر عالم نے بھی شب برات کے حوالے سے ٹویٹ کی انہوں نے لکھا کہ اے اللہ ہمیں معاف فرما اور ہم پر اپنا رحم فرما ہم تیری عطا کردہ نعمتوں پر شکر کرنا بھول گئے ہیں آج کی رات ہم سب آپ سے ہماری مغفرت کے لیے دعاگو ہیں


    اداکار ہمایوں سعید نے بھی ٹوئٹ کرتے ہوئےلکھا کہ ہم سب کے لئے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں معاف فرمائے اور ہمیں اس مشکل وقت سے راحت عطا فرمائے اور ہمیں اپنی لاتعداد رحمت سے نوازے

    واضح رہے کہ اس سے قبل معروف اداکارہ ماہرہ خان اور نامورتمغہ امتیاز ادکارہ مہوش حیات نے بھی شب برات کے مقدس اور برکتوں ولیے تہوار کے حوالے سے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام جاری کرتے ہوئے ملک کی سلامتی اور وبائی مرض سے نجات کے لئے دعائیں کی تھیں

    کوئی بھی طاقت دعا سے بڑی نہیں ماہرہ خان

    دنیا کو آج سے پہلے کبھی اتنی دعاؤں کی ضرورت نہیں تھی مہوش حیات

  • ہمیں کورونا سے لڑنے کے لئے سیاسی تعصب کو ختم کرنا ہوگا   فخرعالم

    ہمیں کورونا سے لڑنے کے لئے سیاسی تعصب کو ختم کرنا ہوگا فخرعالم

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار و میزبا ن فخر عالم کا کورونا وائرس کے حوالے سے کہنا ہے کہ مجھے اب بھی یہ خوف ہے کہ یہ ہماری پوری قوم کے لیے ایک حتمی امتحان ثابت ہوسکتا ہے کورونا وائرس سے لڑنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم سیاسی تعصب کو ترک کر دیں

    باغی ٹی وی : گز شتہ روز پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار و میزبان نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ یہ بات 10 مارچ کی ہے جب ایچ بی ایل پی اسی ایل سیزن فائیو جاری تھا اور کسی نے بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ یہ سب ہوگا جو کچھ آج ہورہا ہے اور ہم یہاں آکر رک جا ئیں گے جہاں ہم آج کھڑے ہیں


    انہوں نے لکھا کہ مجھے اب بھی یہ خوف ہے کہ یہ ہماری پوری قوم کے لیے ایک حتمی امتحان ثابت ہوسکتا ہے مجھے جب تک ہم سیاسی تعصب کو ترک نہیں کریں گے اور ہم اس قابل نہیں ہوں گے۔ مل کر اس سے لڑنے کے لئے

    فخرعالم نے لکھا کہ جب تک ہم اس سیاسی تعصب کو ترک نہیں کریں گے تب تک ہم سب مل بھی کر اس (کورونا وائرس) سے لڑنے کے لئے قابل نہیں ہوسکیں گے

    فخر عالم نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ایک دن جب وہ صبح بیدار ہوں گے تو پوری دنیا سے وبائی امراض کا خاتمہ ہوجائے گا


    انہوں نے سوال کرتے ہوئے لکھا کہ کیا ہمارے پاس راتوں رات کوئی ایسی ویکسین بن جائے گی جو کورونا وائرس کو ختم کردے گی اورکیا یہ ویکسین آپ میں سے ہر ایک کے لئے فوری طور پر دستیاب ہوگی؟