Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • منشا پاشا کا اپنی بہت سمیت دنیا بھر کے طبی عملے کو خراج تحسین

    منشا پاشا کا اپنی بہت سمیت دنیا بھر کے طبی عملے کو خراج تحسین

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ منشا پاشا نے اپنی ڈاکٹر بہن سمیت پوری دُنیا کے فرنٹ لائن پر کورونا کے خلاف جنگ لڑنے والےڈاکٹرز اور طبی عملے خدمات اور بہادری کو سراہتے ہوئے اُن کو خراج تحسین پیش کیا

    باغی ٹی وی: گذ شتہ روز پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ منشا پاشا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایپ انسٹاگرام پر اپنی بہن ڈاکٹر حنا کے ساتھ لی گئی ایک تصویر شئیر کی

    اداکارہ منشا پاشا نے اپنی اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا کہ اس وقت میری بہن برطانیہ میں ہےاور وہ ایک ڈاکٹر ہے اور یہی اور قابل تصوربات ہے
    https://www.instagram.com/p/B-m_Vt1lEic/?igshid=1fjh7caxrtd7u
    اداکارہ نے لکھا کہ میری دُعائیں میری بہن اور دُنیا بھر کے تمام ڈاکٹرز کے لیے ہیں

    منشا پاشا نے ڈاکٹرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اور اُن کی بہادر ی کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ آپ لوگ جو کچھ بھی کررہے ہیں وہ واقعی میں حیرت انگیز اور بہادری کی مثال ہے

  • بھارت میں پابندی سے شہرت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا بلکہ پابندی کے باوجود بھارتی مداحوں نے خوب پیار دیا  عاطف اسلم

    بھارت میں پابندی سے شہرت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا بلکہ پابندی کے باوجود بھارتی مداحوں نے خوب پیار دیا عاطف اسلم

    پاکستانی معروف گلوکار عاطف اسلم کا کہنا تھا کہ میری فین فالونگ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے میں خوش قسمت ہوں کہ دنیا بھر کے لوگ مجھے پسند کرتے ہیں میں بھی ان کی دل سے قدر کرتا ہوں کہ پرستاروں نے ہی مجھے یہاں تک پہنچایا

    کراچی : ایک حالیہ انٹرویو میں عاطف اسلم سے سوال کیا گیا کہ موجودہ بحران اُن کے میوزک کیرئیر کو کس طرح نقصان پہنچا رہا ہے تو اس کا جواب دیتے ہوئے عاطف اسلم نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں دنیا رک چکی ہے ہر کاروبار لاک ڈاؤن کا شکار ہے لوگ مساجد میں نماز نہیں پڑھ سکتے مسلمانوں کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جانے کی پابندی ہے جو تمام مسلمانوں کے لیے سب سے مقدس شہر ہیں

    انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں اگر مجھے کوئی فکر ہے تو وہ یومیہ اجرت لینے والوں کی ہے مجھے یہ پریشانی لاحق ہے کہ اگر لاک ڈاؤن کی مدت بڑھتی ہے تو ان کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہوگا

    عاطف اسلم نے فرنٹ لائن پر لڑنے والے تمام ڈاکٹرز کے لیے بھی پریشانی کااظہار کیا اور کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے ڈاکٹرز خراج تحسین کے مستحق ہیں دنیا میں اپنے ملک کی بقا کو یقینی بنانے کے لیے ڈاکٹروں کا جذبہ قابلِ تحسین ہے

    گلوکار کا مداحوں کے حوالے سے کہنا تھا کہ پرستار ہمیشہ ہی میرے حوالے سے تشویش میں رہتے ہیں وبائی مرض کے دنوں میں مجھے ہزاروں کی تعداد میں پیغامات موصول ہوئے جس میں خیریت دریافت کی گئی تھی اور پوچھا گیا تھا کہ کیا میں محفوظ مقام اور ملک میں ہی موجود ہوں

    عاطف اسلم کا کہنا تھا کہ میری فین فالونگ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے میں خوش قسمت ہوں کہ دنیا بھر کے لوگ مجھے پسند کرتے ہیں، میں بھی ان کی دل سے قدر کرتا ہوں کہ پرستاروں نے ہی مجھے یہاں تک پہنچایا

    بالی وڈ کے حوالے سے سوال کہ کیا بھارت میں پابندی عائد کئے جانے سے عاطف کی شہرت میں کمی اور منافع بخش ذریعہ آمدنی میں کوئی فرق پڑا ؟ اس کا جواب دیتے ہوئے عاطف اسلم کا کہنا تھا کہ بھارت میں پابندی سے ان کی شہرت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا بلکہ شہرت میں مزید اضافہ ہوا کہ وہاں کے پرستاروں نے پابندی ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جب اُن کا گانا فلم’نوٹ بُک‘ کے ساؤنڈ ٹریک سے ہٹادیا گیا تھا تو پرستاروں کی جانب سے شدید مزاحمت کی گئی تھی بھارت میں پابندی کے باجود وہاں کے مداحوں نے خوب پیار دیا جس کا ایک ثبوت بھارت کے ٹوئٹر ٹرینڈ پینل پر سرفہرست ٹرینڈ UnBanAtifAslam تھا

    آمدنی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں عاطف اسلم کا کہنا تھا کہ جتنا آپ کو ملنا ہو مل کر رہتا ہے کوئی اسے چھین نہیں سکتا

    عاطف اسلم نے بتایا کہ گزشتہ سال انہوں نے حج کی سعادت بھی حاصل کی اور یہ ان کا دوسرا حج تھا گلوکار نے کہا کہ میرے اندر اچانک سے کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ میں ہمیشہ ہی دنیاوی لذتوں سے بھاگتا آیا ہوں، سکون کی تلاش میں حق کی کھوج لگانے کی کوشش کرتا ہوں

    انہوں نے کہا کہ زندگی میں سب سے ضروری یہ ہے کہ شہرت عزت دولت سے اللہ نوازے تو ایسے وقت میں پاؤں زمین پر ہی رکھیں کیونکہ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا انہوں نے کہا کہ کیا پتہ مستقبل میں میرے پاس کوئی کام نہ ہو اور ایسی صورت میں زندہ رہنے کے لیے حقیقت پر چلنا ہی واحد راستہ ہے

    قرنطینہ کے دنوں کے بارے میں بتاتے ہوئے عاطف اسلم کا کہنا تھا کہ وہ آج کل فیملی کے ساتھ وقت گزارر ہے ہیں انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ سالوں میں ایک مشین کی طرح کام کرتے رہے ہیں گھر میں بچوں کے ساتھ وقت گزار کر بہت اچھا لگ رہا ہے

    دوسری جانب کوک سٹوڈ یو میں تاجدار حرم اور وہی خدا ہے کی ریکارڈ توڑ شہرت حاصل کرنے کے بعد حال ہی میں سامنے آنے والی عاطف اسلم کی آواز میں اذان نے بھی ان کے مداحوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیا ہےمداح عاطف اسلم کے اس اقدام پر انہیں لیجنڈ قرار دے رہے ہیں

    عاطف اسلم کی آواز میں دی گئ اذان کی ویڈٰیو سوشل میڈیا پر وائرل

    کورونا وائرس کے حوالے سے عمران خان کے اقدامات قابل تحسین ہیں عاطف اسلم

  • فیصل آباد؛ لاک ڈاؤن میں ہوزری مل مالکان نے مسلسل چار بار سٹے آرڈر لے کر دفعہ 144 کو قانونی طور پر چیلنج کر کے قانون کی دھجیاں اڑا دیں

    فیصل آباد؛ لاک ڈاؤن میں ہوزری مل مالکان نے مسلسل چار بار سٹے آرڈر لے کر دفعہ 144 کو قانونی طور پر چیلنج کر کے قانون کی دھجیاں اڑا دیں

    کورونا وائرس سے بچاؤ کے حوالے سے حفاظتی تدابیر کے پیش نظردنیا بھر کی طرح پاکستان نے بھی لاک ڈاؤں نافذ‌ کر رکھا ہے اور اس کو قائم رکھنے کے لئے وعام پر سختی بھی کی جا رہی ہےتاہم اس کے باوجود فیصل آباد سے تقریباً پندرہ کلومیٹر دوری پر کھڑڑیانوالہ روڈ چک جھمرہ میں کمال ہوزری انڈسٹری نے دفعہ 144 کو قانونی طور پر چیلنج کرنے کے لئے چوتھی مرتبہ سٹے آرڈر لے کر ثابت کر دیا کہ قانون ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے

    باغی ٹی وی : لاک ڈاؤن کے باوجود فیصل آباد سے تقریباً پندرہ کلومیٹر دوری پر کھڑڑیانوالہ روڈ چک جھمرہ میں کمال ہوزری انڈسٹری نے دفعہ 144 کو قانونی طور پر چیلنج کرنے کے لئے چوتھی مرتبہ سٹے آرڈر لے کر ثابت کر دیا کہ قانون ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے رپورٹس کے مطابق جہاں لاک ڈاؤن کی وجہ سے فیصیل آباد میں تمام ملیں فیکٹریاں بند کر دی گئیں تھیں وہیں کمال ہوزری مل نے کمشنر آفس سے یکے بعد دیگر 3 سٹے آرڈر لے کر مسلسل اپنی مل میں شفٹوں میں کام جا ری رکھا ہوا ہے جبکہ رپورٹ کے مطابق آس پاس کی تمام ملز قانون کے فیصلے کی پاسداری کرتے ہوئے بند ہیں

    علاوہ ازیں رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جو لوگ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کام پر نہیں جا سکتے ان کی تنخواہیں بھی روک رکھی ہیں ساتھ ہی لاک ڈاؤں کے دوران کی جانے والی چھٹیوں کے پیسے تنخواہوں میں سے کاٹے جا رہے ہیں جبکہ مزدوروں کو ڈرا دھمکا کر ان سے کام لیا جا رہا ہے یہاں تک کہ سپروائزرز اور انتظامیہ کی بلیک میلنگ کی انتہا اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ یہ لوگ مزدوروں کو یہ کہہ کر بلارہے ہیں کہ آپ آجاؤ ہماری عزت کا سوال ہے

    ایڈمن جھمرہ پولیٹیکل پارٹی (جسٹس پیپلز پارٹی)کا اس کے حوالے سے کہنا ہے کہ کمال ہوزری کہ اندر کا یہ ہجوم چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے ادارے کچھ نہیں کر سکتے پولیس بھی کچھ نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔ کیونکہ ان لوگوں نے دفعہ 144 کو قانونی طور پر چیلنج کرنے کے لئے چوتھی مرتبہ سٹے آرڈر لے کر ثابت کر دیا کہ قانون ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے

    انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہماری ڈی سی او فیصل آباد سے گزارش ہے اگر سٹے آرڈر سے کرونا فیکٹری کے اندر نہیں گھس سکتا ہے تو تعلیمی ادارے کیوں بند کئے؟ ہزاروں فیکٹریاں بند کروا کے لوگوں کو بھیک مانگنے پر مجبور کیوں کیا گیا؟ ٹرانسپورٹ بند کر کے لوگوں کی نقل و حمل کیوں روکی گئی؟ معزز شہریوں کو سڑکوں پر کان کیوں پکڑوائے جا رہے؟ مارکیٹیں بند، دکانیں بند، شادی ہال بند، مدرسے بند، تبلیغی پر ،نماز جمعہ ،مسجدیں تک بند لاک ڈائون کی حیثیت کیا؟ کیا ان کو سٹے آرڈر نہیں مل سکتا؟

    ایڈمن جھمرہ پولیٹیکل پارٹی (جسٹس پیپلز پارٹی) کا کہنا تھا آپ نے ایک نہیں دو پاکستان بنا دئیے ایک عام عوام کا جس کو کرونا بازاروں میں بھی نہیں نکلنے دے رہا اور ایک کمال ہوزری جسمیں کرونا سٹے آرڈر دیکھ کر واپس چلا جاتا اس کے بعد اس ہوزری کہ سپروائزروں اور انتظامیہ کی بلیک میلنگ کی انتہا دیکھ لیں جن مزدوروں کو یہ کہہ کر بلایا گیا کہ آپ آجاؤ ہماری عزت کا سوال ہے

    ان مزدوروں سے کام تو کروا یا جا رہا لیکن تنخواہ دینے سے انکار کر دیا گیا قانون تو کیا یہاں انسانیت کی دھجیاں اڑائی جا رہیں ہے حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی؟

    پرائیویٹ سکولز کی ہٹ دھرمی۔ فیس بل گھر بھجوا دیئے۔ والدین کا بڑا مطالبہ

  • کورونا وائرس ؛ شاہ رخ نے قرنطنیہ سینٹر بنانے کے لئے ممبئی حکومت کو جگہ دے دی

    کورونا وائرس ؛ شاہ رخ نے قرنطنیہ سینٹر بنانے کے لئے ممبئی حکومت کو جگہ دے دی

    کورونا وائرس کے باعث بھارت میں نافذ کیے گئے 3 ہفتوں کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہاں کے مزدوروں اور مستحق افراد کی مدد کے لیے جہاں حکومت نے اعلان کیے ہیں وہیں بالی وڈ شخصیات نے بھی مزدوروں کی معاونت کا اعلان کر رکھا ہے

    باغی ٹی وی : کورونا وائرس کے باعث بھارت میں نافذ کیے گئے 3 ہفتوں کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہاں کے دیہاڑی دار مزدوروں کی مدد کے لیے جہاں حکومت نے اعلان کیے ہیں وہیں بالی وڈ شخصیات نے بھی مزدوروں کی معاونت کا اعلان کر رکھا ہے ان میں شاہ رخ خان بھی شامل ہیں بالی وڈ کنگ خان نے بھی جہاں فلم ملازمین کی مدد کے لیے امداد فراہم کی ہے وہیں انہوں نے بھارت کی مرکزی حکومت سمیت ریاست مہاراشٹر کی حکومت کی مدد کا بھی اعلان کر رکھا ہے

    مرکزی اور ریاستی حکومت کے بعد اب شاہ رخ خان اور انکی اہلیہ گوری خان نے مہارا شٹر کے دارالحکومت ممبئی کی مقامی حکومت کو بھی مدد کی پیش کش کرتے ہوئے انہیں کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے قرنطینہ سینٹر بنانے کے لیے اپنی 4 منزلہ عمارت دے دی


    بالی وڈ اداکار اور ان کی اہلیہ کی جانب سے انتظامیہ کو عمارت فراہم کرنے کے بعد مقامی انتظامیہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ان کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ شاہ رخ خان اور گوری خان کی جا نب سے فراہم کی جانے والی 4 منزلہ عمارت میں بچوں، بزرگوں اور خواتین کے لیے قرنطینہ سینٹر قا ئم کیا جائے گا


    مقامی انتظامیہ کی جانب سے شکریہ ادا کرنے پر شاہ رخ خان کی اہلیہ گوری خان نے بھی جوابی ٹویٹ میں انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم دونوں شکر گزار ہیں کہ ہم ممبئی کاروں کی مدد اور دیکھ بھال کے لئے آپ کی کوششوں کا حصہ بن سکتے ہیں اور ساتھ ہی کہا کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ ممبئی کے رہنے والوں کو مناسب سہولیات فراہم کی جائیں

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہ رخ اور ان کی اہلیہ گوری خان اپنی 4 مختلف کمپنیوں سماجی تنظیم میر فاؤنڈیشن، کرکٹ ٹیم کولکتا نائٹ رائڈرز، ریڈ چلی انٹرٹینمینٹ اور ریڈ چلی وی ایف ایکس کے تحت مرکزی و ریا ستی حکومت سمیت شہری حکومت اور عام افراد کی مدد کر رہے ہیں

    واضح رہے کہ اس سے قبل سلمان خان نے بھی بالی وڈ کے پچیس ہزار یومیہ اجرت کے ملازمین کی مالی امد اد کرنے کا اعلان کیا تھا سلمان خان اور شاہ رخ خان کے علاوہ اکشے کمار اور امیتابھ بچن سمیت دیگر کئی با لی وڈ شخصیات نے بھی کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے لاکھوں روپے امداد کا اعلان کیا ہے

    بھارت میں لاک ڈاؤن، سلمان خان کا فلم انڈسٹری کے 25 ہزار مزدوروں کی مدد کا اعلان

  • شہزاد رائے نے اپنے مداح ڈاکٹر کی فرمائش پر گا نا گا دیا

    شہزاد رائے نے اپنے مداح ڈاکٹر کی فرمائش پر گا نا گا دیا

    معروف گلوکارشہزاد رائے نے اپنے ڈاکٹر مداح کی خواہش پوری کرتے ہوئے اُن کے لیے اپنا مشہور گانا آگ گایا جس کی ویڈیو اُنہوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کردی

    باغی ٹی وی : چند روز قبل معروف گلوکار شہزاد رائے نے اپنے مداحوں کے لیے اپنا 12 سال پرانا گانا ایک بار گایا تھا جس کی ویڈیو انہوں نے ٹوئٹر پر شیئر کی تھی؟


    شہزاد رائے کے اس گانے کے بعد اُن کے ایک مداح ڈاکٹر کامران نے اُن سے فرمائش کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا تھا کہ مہربانی کرکے گانا یہ جو آگ ہے، تیری یادوں میں جلا رہی میرا دل گالیجئے جس کے جواب میں گلوکار شہزاد رائے نے لکھا کہ اسے سر آپ کیا ڈاکٹر ہیں آپ جو کہیں گے گا دوں گا بلکہ ڈانس بھی کر دوں گا


    شہزاد رائے نے اپنی اس ویڈیو میں گانا شروع کرنے سے پہلے کہا کہ ڈاکٹر کامران آپ نے ٹوئٹر پرفرمائش کی تھی کہ آگ آپ کا پسندیدہ گانا ہے اور میں یہ گانا آپ کے لیے گاؤں تو میں آپ کی فرمائش کو پورا کرتے ہوئے یہ گانا آپ کے لیے گا رہا ہوں


    گلوکار نے یہ ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ مجھے ڈاکٹر کامران جو جو چلڈرن ہاسپٹل اور انسٹی ٹیوٹ آف چلڈرن ہیلتھ ، لاہور میں کام کرتے ہیں ان کی یہ خواہش پوری کرنے کے لیے آگ گا کر بہت زیادہ خوشی ہوئی ہے

    شہزاد رائے نے لکھا کہ آپ ہی وہ لوگ ہیں جو پوری دُنیا کو بچا رہے ہیں

  • کورونا بچاؤ کی مہم کے سلسلے میں ڈونکی کنگ نئی ویڈیو کے ساتھ میدان میں آگیا

    کورونا بچاؤ کی مہم کے سلسلے میں ڈونکی کنگ نئی ویڈیو کے ساتھ میدان میں آگیا

    ڈونکی کنگ کورونا سے بچاؤ کی مہم کے سلسلے میں اپنے نئے گانے کے ساتھ میدان میں اترا آیا

    باغی ٹی وی :نجی ٹی وی چینل جیو کی طنز و مزاح سے بھر پور پاکستانی اینی میٹڈ فلم دی ڈونکی کنگ کے مرکزی کردار منگو کی بھی جان لیوا کورونا وائرس سے احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک نئی ویڈیو سامنے آگئی

    ڈونکی کنگ نے کہا مجھے پتہ ہے آپ کورونا وائرس سے ڈرے ہوئے ہیں لیکن اس خطرناک وبا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے ویڈیو گانے میں پیغام دیا گیا ہے کہ کورونا سے ڈرنا نہیں ہے لڑ نا ہے سماجی فاصلے کو برقرار رکھنا ہے ماسک پہننا ہے لاک ڈاؤن چھٹیاں نہیں ہیں اپنی صفائی رکھنی ہے گھروں میں ہی زیادہ رہنا ہے اس وبا کے پیچھے ہمیں ہاتھ دھو کرپڑنا ہے

    ڈونکی کنگ منکو نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ سماجی فاصلہ رکھناہے لیکن دلوں‌ کو جوڑے رکھنا ہے

    واضح رہے کہ واضح رہے اس سے پہلے پاکستان کی اینیمیٹڈ فلم دی ڈونکی کنگ کے مرکزی کردار منگو کابھی کورونا وائرس میں احتیاطی تدابیر اپنانے کے حوالے سے ویڈیو پیغام سامنے آ یا تھا جس می منگو نے کہا تھا کہ آ پ سب کورونا وائرس سے ڈرے ہوئے ہیں، لیکن اس وائرس سے ہمیں ڈرنا نہیں لڑنا ہے

    خیال رہے باکس آ فس پر سب سے زیادہ بزنس کرنے والی پہلی پاکستانی سپر ہیرو اینی میٹڈ فلم دی ڈونکی کنگ میں جان ریمبو نے منگو کی ڈبنگ کی تھی تالسمان اسٹوڈیو کی فلم دی ڈونکی کنگ ہر عمر کے افراد میں یکساں مقبول ہوئی تھی

    علاوہ ازیں بچوں کے پسندیدہ گانے بےبی شارک ڈو ڈو میں بھی بچوں اور بڑوں دونوں کو ہاتھ دھونے کا پیغام دیا گیا تھا بچوں کے اس مقبول اور پسندیدہ گانے بےبی شارک کے اشعار تبدیل کرکے نیا گایا جاری کیا گیا تھا جس میں ہاتھ دھونے کا صحیح طریقہ بھی سمجھایا گیا اوراس کے ساتھ ساتھ چھینکتے اور کھانستے وقت منہ کو ڈھانپنے کا پیغام دیا گیا تھا

    کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے بے بی شارک کا بچوں اور بڑوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا پیغام

    کورونا وائرس سے لڑنے کے لئے آپس میں فاصلہ تو رکھنا ہے مگر دلوں کو جوڑ کر رکھنا ہے ، ڈونکی کنگ

  • دوسروں کو اذیت دینا، انسان کا پسندیدہ مشغلہ : تحریر؛ محمد نعیم شہزاد

    دوسروں کو اذیت دینا، انسان کا پسندیدہ مشغلہ : تحریر؛ محمد نعیم شہزاد

    انسان کی تخلیق فطرت سلیم پر ہوئی ہے۔ اس کے والدین، دوست احباب اور ماحول اس کی طبع کو متاثر کیے بغیر نہیں چھوڑتا اور انسان زمانے کے ساتھ ساتھ بہت سی تبدیلیوں سے گزرتا ہوا کچھ مخصوص عادات اپنا لیتا ہے جس کو اس کی فطرت، نیچر یا طبیعت کا نام دیا جا سکتا ہے۔ خوب معلوم رہے کہ اس طبیعت کا انحصار تین بنیادی مراکز پر ہے جو اس کے والدین، قریبی لوگ اور ماحول ہیں۔ ماحول میں آنے والی قدرتی و مصنوعی تبدیلیاں اس کو اثر انداز کرتی ہیں، والدین اور اقرباء کا عمل، ان کی گفتگو اور الفاظ اس کو متاثر کرتے ہیں اور انسان ایک خاص سانچے میں ڈھلتا چلا جاتا ہے۔

    انسانی رویے انہیں تبدیلیوں کے زیر اثر وجود پاتے ہیں اور اسی سے متاثر ہو کر انسان صحیح اور غلط کے اپنے معیارات مقرر کرتا ہے۔ کن باتوں سے اسے راحت حاصل ہوتی ہے اور کون سی باتیں اس کے لیے رنجیدہ خاطر ہیں سب انہیں عوامل پر منحصر ہے۔

    ان تینوں طبعی عوامل کے ساتھ ایک چوتھا عامل ابلیس، اس کی ذریت اور تلبیسات ہے۔ یہ ایک مضبوط محرک ہے جو انسان کے ہر جذبے، سوچ اور عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ انسان اگر فطرت سلیم پر قائم رہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کو اپنے لیے حفاظتی حصار بنا لے تو یہ محرک اس پر اثر انداز نہیں ہو سکتا مگر بتقاضائے بشریت انسان بہت سے مقامات پر اپنی حفاظت سے غافل ہو کر اس دامِ پرفریب میں آ جاتا ہے اور پھر جو ابلیس چاہتا ہے اس سے کرواتا ہے اور اس ساری تخریب کاری کا ذمہ دار تو بہرحال یہ انسان خود ہی قرار پاتا ہے۔

    انہی تخریبی جذبات میں حسد، بغض و عناد اور آپس کی رنجشیں ہیں جو انسان کے دین اور دنیا کو تباہ کر کے رکھ دیتے ہیں۔ ہادی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی ہی صورتحال کا تذکرہ اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے ان الفاظ میں کیا:

    عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّهُ قَالَ: إِذَا فُتِحَتْ عَلَيْكُمْ (خَزَائِن) فَارِسُ وَالرُّومُ أَيُّ قَوْمٍ أَنْتُمْ؟ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: نَقُولُ كَمَا أَمَرَنَا اللهُ. قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَوَ غَيْرَ ذَلِكَ تَتَنَافَسُونَ ثُمَّ تَتَحَاسَدُونَ ثُمَّ تَتَدَابَرُونَ ثُمَّ تَتَبَاغَضُونَ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ ثُمَّ تَنْطَلِقُونَ فِي مَسَاكِينِ الْمُهَاجِرِينَ فَتَجْعَلُونَ بَعْضَهُمْ عَلَى رِقَابِ بَعْضٍ

    عبداللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب فارس اور روم کے(خزانے) تم پر کھول دیئے جائیں گے، تو اس وقت تم کس طرح کے بن جاؤ گے؟ عبدالرحمن بن عوف‌رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم وہی بات کہیں گے جو اللہ تعالیٰ ہمیں حکم دیا ہے۔ (یعنی شکر کریں گے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ بھی، تم ایک دوسرے سے رشک کرو گے، پھر حسد کرنے لگو گے، پھر ایک دوسرے سےپیٹھ پھیرو گے، پھر آپس میں بغض رکھو گے، یا اسی طرح کچھ کرو گے، پھر تم مہاجرین کے گھروں کی طرف جاؤ گے اور انہیں ایک دوسرے کی گردنوں پر رکھو گے(ایک دوسرے کا حکم بناؤ گے)۔
    (سلسلہ احادیث صحیحہ، حدیث :2035)

    حسد، بغض اور عناد ایسے زہریلے عناصر ہیں جو معاشرتی زندگی کو تہ و بالا کر کے رکھ دیتے ہیں اور انسان سکون قلب سے محروم ہو جاتا ہے مگر ابلیس اس کو یہ سارے حالات خوشنما کر کے دکھاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو عین حق پر جانتا ہے۔ انا پرستی کا بت انتہائی طاقتور ہو جاتا ہے اور انسانیت کا جذبہ معدوم ہو جاتا ہے۔ ایسے میں الہامی ہدایت ہی ہمارے لیے مینارہ نور کی حیثیت رکھتی ہے اور عناد کے بحر ظلمات سے بھائی چارہ اور باہمی انس و محبت کے روشن جہان میں لانے کا ذریعہ بنتی ہے۔

    حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ .

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اور ایک دوسرے کو پیٹھ نہ دکھاؤ ( یعنی ملاقات ترک نہ کرو ) اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو، اور کسی مسلمان کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ملنا جلنا چھوڑے رکھے ۔
    (سنن ابی داؤد، حدیث: 4910)

    مام ابن قیم رحمہ اللہ، ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے خاص تلامذہ میں سے ہیں۔ تصوف اور سلوک کی صحیح اسلامی شکل کو انھوں نے اپنی تصانیف کے ذریعے واضح کیا۔ مدارج السّالكين میں وہ لکھتے ہیں :

    ‏طبعٌ مذموم، نسأل اللَّه العافية

    قال الإمام ابن القيِّم – رحمه اللّٰه -:

    كثيرٌ من النّاس لا يهنأ له عيشٌ في يومٍ
    لا يؤذي فيه أحدًا من بني جنسه،

    ويجد في نفسه تأذيًا بِحمل تلك السمّية
    والشر الذي فيه، حتى يفرغهُ في غيره،

    فيبرد عند ذلك أنينهُ، وتسْكن نفسَه.

    مدارج السّالكين (٧٩/١)

    بد طینت طبع، ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرتے ہیں

    امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

    بہت سے لوگ اپنی زندگی کا ایک دن بھی اس حال میں نہیں گزارنا چاہتے
    کہ وہ اپنے ہم جنس (کسی دوسرے انسان) کو تکلیف نہ دیں

    وہ اپنے آپ کو تکلیف میں محسوس کرتے ہیں اس زہر سے جو ان کے اندر بھرا ہوا ہے
    اور اس کا ضرر اٹھائے رکھتے ہیں حتی کہ اسے کسی اور کے جسم میں داخل کر دیں

    پھر کہیں جا کر ان کا غضب ٹھنڈا ہوتا ہے اور ان کی روح کو تسکین ملتی ہے۔

    مدارج السّالكين (جلد 1/صفحہ 79 )

    کس احسن انداز میں انھوں نے انسان کے دو رویوں کو بیان کر دیا ہے۔ پہلا رویہ انسان کا دسرے انسانوں کے ساتھ اور دوسری طرف اس کی رب تعالیٰ سے لگائی گئی امیدیں۔ انسان کا اپنا تو یہ حال ہے کہ وہ خوامخواہ دوسروں کے لیے اپنے دل میں عناد بھرے رکھتا ہے اور ان کو اذیت دیے بغیر اطمینان نہیں پاتا۔ دوسروں کو ایذا دینے کو ہم اپنی تسکین کا ذریعہ بنا بیٹھے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے عافیت کے طلبگار ہیں۔ کیونکر ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے عیال کہا، ہم رنج پہنچائیں اور بدلے میں اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کریں۔ ہرگز نہیں بلکہ دنیا کے غموم و ھموم، وباؤں اور بیماریوں سے عافیت چاہتے ہیں تو اپنے قلب کی اصلاح کیجیے۔ دوسروں کو معاف کرنا سیکھیے اور اپنے دل کو وساوس سے پاک کر لیجیے۔ جب آپ کے دل میں دوسروں کے لیے عناد کی جگہ محبت ہو گی تو کائنات کا مالک بھی آپ کو عافیت عطا فرمائے گا۔

  • وبا   تحریر؛عائشہ طاہر

    وبا تحریر؛عائشہ طاہر

    وبا
    "ماں! بھوک لگی ہے،روٹی دے دو” نقاہت بھری ننھی سی آواز اس کے قریب ہی ابھری تھی۔
    "ماں! تم سنتی کیوں نہیں،مجھے بھوک لگ رہی ہے،روٹی دے دو نا” آواز پھر آئی تھی مگر وہ اب بھی چپ سادھے بیٹھی تھی۔
    "ماااااااں! مجھے بھوک لگ رہی ہے” اب کے آواز میں شدت ابھری تھی مگر وہ اب بھی بغیر اس آواز پر توجہ دیئے بے تاثر آنکھوں سے دروازے کو تک رہی تھی۔

    "ماں! بابا ہوتے تو مجھے روٹی لاکر ضرور دیتے،بابا بہت بہادر تھے وہ فوجیوں سے بھی نہیں ڈرتے تھے،تم بالکل بھی اچھی نہیں ہو،روٹی بھی نہیں دیتی بات بھی نہیں سنتی” منہ بسورے وہ ننھی کلی شکووں کی پٹاری کھولے بیٹھی اور ماں خشک بنجر آنکھیں لیے یوں بے حس و حرکت بیٹھی تھی جیسے بہری ہی ہوگئی ہو۔

    "میں جنت میں جاؤں گی نا تو اللہ کو بھی تمہاری شکایت لگاؤں گی اور بابا کو بھی بتاؤں گی تم مجھے روٹی نہیں دیتی تھی، ماں! چلو ابھی جنت چلتے ہیں بس، وہاں اللہ تعالی سے کھانا بھی لیں گے اور بابا بھی مل لیں گے۔ وہاں، چلو ماں۔۔۔اب اٹھو بھی۔ اب کی بار ننھے ننھے ہاتھوں نے اس کو جھنجھوڑا تھا اور وہ جو پتھر کی مورت بنی بے حس و حرکت بیٹھی تھی،ان جملوں نے گویا اس میں کرنٹ بھردیا تھا، خشک ویران آنکھوں میں چمک سی بھرگئی تھی ،تیر کی تیزی سے وہ اٹھی اور چادر سر پر جمائے، پانچ سالہ زاریہ کا ہاتھ تھامے دروازے کی طرف بڑھی اور کنڈی کھول کر سنسان گلی میں نکل گئی تھی۔

    "اے اے ! کہاں جا رہی ہے تو؟ رک ،ارے رک ۔۔۔!” اپنے پیچھے چلاتے ہندو فوجی کی للکار کو ان سنی کرتی وہ زاریہ کو گھسیٹتی تیز قدموں سے آگے بڑھ رہی تھی کہ ایک دم فضا میں تڑتڑاہٹ کی آواز گونجی تھی اور ساتھ ہی زاریہ کی معصوم چیخ بھی، وہ ٹھٹھک کر رکی تھی اور بے دم ہوکر گرتی زاریہ کو لپک کر سینے سے لگایا تھا۔
    "اللہ! ” آخری ہچکی کے ساتھ یہ لفظ زاریہ کے لبوں سے ادا ہوا تھا اور زاریہ کو سینے سے چمٹائے اس کی پشت سے بہتے لہو میں اپنے تر بتر ہاتھوں کو تکتی وادئ کشمیر کی اس بلکتی ماں نے ساتھ چھوڑتے حواس کے ساتھ تڑپ کر دور ساتویں آسمان پر متمکن ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرنے والی اس وحدہ لاشریک ذات کو شکوہ کناں نگاہوں سے تکا تھا اور عرش ہل گیا تھا۔۔۔

    آناً فاناً فیصلہ ہوا تھا۔۔۔زمین والوں پر وبا چھوڑ دی گئی تھی۔۔۔
    وہ آزاد تھے مگر "موت” کے نادیدہ خوف نے ان کو گھروں میں محصور کردیا تھا۔۔۔
    جگمگاتے شہر اور پر رونق گلیوں میں گویا ایسا سناٹا در آیا تھا جیسے کسی عفریت نے یہاں اپنے پنجے گاڑ دیے ہوں یا کسی آسیب کی افواہ نے لوگوں کو وہاں سے دور بھگادیا ہو۔۔۔
    ملاقات تو دور ایک دوسرے کی شکلیں تک دیکھنے کو ترس گئے تھے۔۔۔
    اور سزا صرف یہیں تک محدود نہیں تھی بلکہ۔۔۔۔خدا نے اپنے گھر کے دروازے بھی ان پر بند کرلیے تھے!

  • اللہ کی مرضی اور اللہ کے فیصلے اللہ سے بڑھ کر اور کوئی نہیں جانتا  تحریر :سفیر اقبال

    اللہ کی مرضی اور اللہ کے فیصلے اللہ سے بڑھ کر اور کوئی نہیں جانتا تحریر :سفیر اقبال

    #سفیہِ برگ گل

    انہوں نے کہا کہیں نظر نہ آنا
    جواب ملا "ٹھیک ہے نہیں نظر آئیں گے لیکن کیوں” ؟
    انہوں نے بتایا "تمہارا نام اور تمہارا ہر اچھا کام دنیا والوں کو چبھتا ہے”
    جواب ملا "نام نہیں نظر آئے گا البتہ کام نہ رکنے والا ہے اور نہ رکے گا.”

    پھر دنیا والوں نے دیکھا سب کچھ ختم کر دیا گیا . گھنے درختوں کی گھنی آور ٹھنڈی چھاؤں سے تمام مسافر اٹھا دئیے گئے اور اس سایہ چمن سے محروم کر دئیے گئے جو سالہا سال سے گرتے پڑتے تھکن سے چور مسافروں کو حوصلہ اور تسکین بخش رہا تھا.

    اللہ کی مرضی اور اللہ کے فیصلے اللہ سے بڑھ کر اور کوئی نہیں جانتا
    کرونا جنگ شروع ہوئی تو وہ گمنام مسافر اور بے نام راہی جو تپتے صحراؤں میں چلتے چلتے گھنی چھاوں والے درختوں سے محروم ہو کر ادھر ادھر بھٹک رہے تھے… منزل تک پہنچنے سے مایوس ہو رہے تھے نئے ولولوں کے ساتھ دوبارہ عازم سفر ہوئے. نیکی کبھی فنا نہیں کی جا سکتی. احسان کا بدلہ احسان سے بڑھ کر کچھ نہیں. وہ نیکی اور اچھائی کے درس جو امت کے نوجوانوں کے دل میں بٹھا دئیے گئے حالات کے اتار چڑھاؤ کے باعث اتنی جلدی مٹنے والے نہیں ہوتے. حکومتوں کے فیصلے بیشک بجا ہو گے لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے
    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
    ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ….!

    کرونا وائرس کی اس جنگ میں جس وقت حکومتی ایوانوں میں ٹائیگرز فورس کے ابھی صرف مشورے چل رہے تھے…. اس وقت "تلہ گنگ کرونا فائیٹرز” میدان میں اتر چکے تھے . جس وقت ٹائیگرز فورس کی شرٹیں پرنٹ ہو رہی تھیں کرونا فائیٹرز ایک تاریخ رقم کر رہے تھے. تلہ گنگ کا ایک نوجوان….. ایک سرکاری سکول ٹیچر اٹھا اور اپنے چند رفقاء کے ساتھ ملکر کرونا وائرس کی اس جنگ میں ہراول دستہ بن کر سامنے آیا. اور میڈیا پر ایک بار پھر یہ تاریخی الفاظ گونج گئے کہ” کسی بھی حادثے میں جہاں ابھی فوج اور سرکاری ادارے نہیں پہنچتے یہ لوگ وہاں پہلے پہنچ جاتے ہیں ”

    ایک سرکاری سکول ٹیچر کو کسی "اچھے کام” سے نہ تو روکا جا سکتا اور نہ ہی اس پر انگلیاں اٹھائی جا سکتی ہیں . کیوں کہ وہ سرکاری بندہ ہے. وہ "ہم” میں سے ہی ہے اس لیے جو اس کے ساتھ ہے وہ بھی” ہم” میں سے ہی ہے.

    سفیہِ برگِ گل بنا لے گا قافلہ مورِ ناتواں کا
    ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہو گا

    خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
    میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا

    (اللہ تعالیٰ عرفان صادق صاحب اور ان کے رفقاء کو ریاکاری اور ہر قسم کے فتہ و فساد سے محفوظ رکھے )

    #رنگِ_سفیر

  • اصل حقدار کون؟؟؟  تحریر؛ ابنِ فضل باغی

    اصل حقدار کون؟؟؟ تحریر؛ ابنِ فضل باغی

    اصل حقدار کون؟؟؟

    سورج ڈھل چکا تھا سائے لمبے ہوکر معدوم ہونے کے قریب تھے اور شام اپنا سحر طاری کرنے کو تھی ایسے میں راولپنڈی کے ایک غیر معروف چوک میں ایک دوست کا انتظار کرنے کیلئے جیسے ہی گاڑی روکی تو مختلف اطراف سے چند بظاہر مزدور نظر آنے والے لوگ میری گاڑی کے شیشوں سے مجھ سے مخاطب ہونے لگ گئے بھائی صبح سے بیٹھے ہیں مزدوری نہیں ملی کچھ راشن ہی دے دیں۔

    چونکہ پچھلی سیٹ پر پڑے راشن کے پیک شاید ان کو نظر آ گئے تھے۔

    میں ان کی مفلوک الحالی اور چہروں پر طاری مسکینیت سے متاثر ہوکر ان لوگوں کو راشن دینے کا ارادہ کر ہی چکا تھا لیکن اس سے قبل میں نے ان چاروں مزدوروں سے کہا کہ آپ سب میرے ساتھ گھر چلو تھوڑا سا کام ہے معقول مزدوری بھی دوں گا اور راشن بھی۔ بس میرا اس بات کا کہنا ہی تھا کہ وہ سب پیشہ ور بھکاری جو بظاہر مزردورں کے کیل کانٹوں سے لیس تھے مجھ سے پیچھے آکر رکنے والی پراڈو کے اردگرد ہوگئے اور چند منٹ میں اس گاڑی میں موجود خدا ترس خاتون سے بھاری بھرکم راشن کے پیک لیکر رفو چکر ہو چکے تھے۔

    وہ راشن پیک دینے والی خاتون ان کو راشن تو دے چکی تھی لیکن نہ جانے کہاں سے چند لمحوں میں ہی درجنوں مانگنے والے مرد وزن اس کی گاڑی کو گھیرے کھڑے تھے اور اس خاتون سے اپنے بھوکے بچوں کا واسطہ دیکر راشن پیک مانگ رہے تھے۔ اور اس خاتون کے ہاتھ پیر پھول چکے تھے کہ ان مانگنے والوں سے کیسے جان چھڑائے۔ اور پھر اس خاتون کو اپنے پرس سے سو سو کے نوٹ نکال کر ان مانگنے والوں و دیکر بمشکل جان چھڑانے پڑی۔

    یہ تو ایک چھوٹے سے چوک کا منظر تھا شہر کے مصروف چوکوں پر مزدوروں کی لگی لمبی لائنیں اور اسلام آباد کی سڑکوں کنارے بیٹھے یہ نام نہاد مزدور یقیناً ایسے سہل پسند خرچ کرنے والوں کے منتظر ہوتے ہیں جو آتے ہیں اور اپنی بڑی گاڑیوں کے شیشے کھول کر ان مزدوروں کے ہاتھوں میں پیسے تھما جاتے ہیں۔

    یہ خرچ کرنے والے اپنے تئیں نیکی تو کر رہے ہوتے ہیں لیکن نہ جانے کتنے لوگوں کو پیشہ ور بھکاری بنا رہے ہوتے ہیں اور ان بھکاریوں کی وجہ سے وہ سفید پوش لوگ جو مانگ نہیں سکتے ان خرچ کرنے والوں کے تعاون سے محروم رہ جاتے ہیں۔

    میری خرچ کرنے والے تمام احباب سے درد مندانہ اپیل ہے کہ آپ خرچ کریں ضرور کریں لیکن اس میں اپنی سہل پسندی تلاش نہ کریں بلکہ تھوڑی سی تکلیف برداشت کر کے سفید پوش افراد کو تلاش کر کے ان تک راشن پہنچائیں کہ وہ مانگ بھی نہیں سکتے اور انتہائی مجبور بھی ہیں۔ خرچ کرنا اصل کام نہیں ہے بلکہ صحیح جگہ خرچ کرنا اصل کام ہے۔

    خیراتی اداروں اور فلاحی تنظیموں کے افراد سے گزارش ہے کہ کچی آبادیوں تک ضرور پہنچیں لیکن یہ بات بھی مدِ نظر رکھیں کہ ہر تنظیم یا ادارہ بظاہر ان کچی بستیوں کو ہی ہدف بناتے ہیں تو ایسے میں وہ سفید پوش گھرانے کہ جن کے کفیل موجودہ حالات کی وجہ سے بے روزگار ہوکر گھروں میں محصور ہیں اور ان کی عزتِ نفس گوارا نہیں کرتی کہ کسی سے سوال کریں ان تک اپنا تعاون بہر صورت پہنچائیں۔ کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ حالات اس حد تک پہنچ جائیں کہ یہ سفید پوش طبقہ حالات سے تنگ آ کر کوئی انتہائی اقدام کرے۔ ہاں ہمیں پہچاننا ہوگا اس سفید پوش طبقہ کو اور بچانا ہوگا انہیں بھی بھکاری بنانے سے