Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • اداکارہ کا ذہنی تناؤکا شکار ہونے کا اعتراف

    اداکارہ کا ذہنی تناؤکا شکار ہونے کا اعتراف

    لاہور: معروف اداکارہ ماورا حسین نے ذہنی تناؤ کا شکار ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کیفیت سے متعلق بتانے پر شرمندہ نہیں ہوں

    اداکارہ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس کیفیت کے حوالے سے بات کی اور مداحون کو کچھ مشورے دیے اور ر اپنی دماغی صحت کی جدوجہد کے حوالے سے ایک طویل پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایک سال قبل ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا کس طرح کیا اور وہ اب کس طرح اپنا خیال رکھ رہی ہیں


    اداکارہ نے فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اپنے ڈرامے ‘داسی’ کی ایک چھوٹی سی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ ڈرامہ ان کے دل سے بے حد قریب ہے

    اپنی پوسٹ میں اداکارہ نے لکھا کہ ہم سب کی زندگی میں مشکل وقت آتا ہے میں بے حد خوش قسمت ہوں کہ میرا کام مجھے میرے غم کو اظہار کرنے کی اجازت دیتا ہے اداکارہ نے بتایا کہ ایک سال قبل مجھے پتا چلا تھا کہ میں انزائٹی کا شکار ہوں لیکن اب میں اس بات سے شرمندہ نہیں کیونکہ یہ میری زندگی کا حصہ ہے جیسے آسمان نیلا ہوتا ہے، لیکن اب میں یقینی طور پر اس سے نمٹنے کے لیے تیار ہوں

    اداکارہ نے مزید بتایا کہ اب جب میں بےچینی کا شکار ہوتی ہوں تو اپنی فیملی یا دوستوں سے دور نہیں بھاگتی میں ان سے شیئر کرتی ہوں اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں پہلے سے کافی مضبوط ہوچکی ہوں، میں یہ سب اس لیے بتا رہی ہوں کہ وہ افراد جو انزائٹی کا شکار ہیں وہ یہ جان لیں کہ وہ بیمار نہیں اور اس کیفیت کی وجہ سے شرمندہ نہ ہوں

    عروہ حسین نے ڈرامہ ادھورا چھوڑنے پر ہدایتکار سے معافی مانگ لی


    ماورا حسین نے یہ بھی انکشاف کیا کہ میں اپنے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے 2018 کے آخر میں سڈنی میں تھراپسٹ کے پاس بھی جاتی رہی جنہوں نے مجھے یہ بتایا کہ میں جتنا زیادہ اس سے ڈروں گی میری صورتحال اور خراب ہوجائے گی اور اس ہی دن میں نے فیصلہ کیا کہ اب اپنی اس کیفیت سے خوفزدہ نہیں ہوں گی

    اداکارہ نے لکھا کہ 2020 میں وہ باآسانی یہ بتاسکتی ہیں کہ وہ کب انزائٹی کا شکار ہوتی اور اسے باآسانی کنڑول بھی کرسکتی ہیں وہ بہت سارا پانی پیتی اور عبادت میں وقت گزار کر اس کیفیت کو بغیر کسی کی مدد کے کنڑول کرپاتی ہیں

    انہوں نے اپنے مداحوں کو پیغام دیتے ہوئے لکھا کہ جو بھی میری یہ پوسٹ پڑھ رہا ہے اور انزائٹی کا شکار ہے وہ کسی تھراپسٹ یا فیملی ممبر کی مدد لے اگر خود کو ٹوٹا ہوا محسوس بھی کرے تو یہ جان لے کہ وہ بہادر ہے رونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کمزور ہے اور ہر نیا دن بہتری لاتا ہے

    آخر میں انہوں نے اپنے ڈرامہ داسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ پروجیکٹ ان کے لئے بہت خاص ہے

  • سلطان راہی کو مداحوں سے بچھڑے آج چوبیس سال ہو گئے

    سلطان راہی کو مداحوں سے بچھڑے آج چوبیس سال ہو گئے

    سلطان راہی کو مداحوں سے بچھڑے آج چوبیس سال ہو گئے
    لاہور: پنجابی فلموں کی شان سلطان راہی کو دنیا چھوڑے چوبیس سال گزر گئے آج ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کئی تقاریب کا اہتمام کیاجائے گا

    لیجنڈ اداکار سلطان محمد 24 جون 1938 کو بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر سہارن پور میں صوبیدار میجر عبدالعزیز کے گھر پیدا ہوئے

    اداکار کوبچپن سے ہی اداکاری کا شوق تھا اپنے فلمی کرئیر کا آغاز بارہ سال کی عمر میں فلم۔بدلہ سے کیا اور 804 فلموں میں اداکاری کر کے اپنا نام گینز بک آف ورلڈ ریکاڈ میں درج کروایا

    اداکار نے 703پنجابی فلموں اور 101 اردو فلموں میں اپنی۔اداکاری کے جوہر دکھائے

    9 جنوری 1996 کو راولپنڈی سے لاہور آتے ہوئے گوجرانوالہ کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہو گئے وہ لاہور میں۔شاہ۔شمس قادری کے مزار کے احاطے میں سپرد خاک ہیں

    سلطان راہی 1959میں فلم۔باغی میں مہمان اداکار کے طور پرپیش ہوئے اس کے بعد فلم بابل میں بطور ولن اپنی شناخت بنائی ان کی گرج دار آواز ان کی پہچان بن گئی ان کی مشہورفلموں انصاف بائکاٹ کھوٹے سکے بابل بشیرا سخی بادشاہ مولا جٹ گنڈاسہ اور دیگر شامل ہیں

    سلطان راہی حافظ قرآن اور نماز روزہ کےپابند تھے انہوں نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں باجماعت نماز تراویح پڑھانے کی۔سعادت بھی حاصل کی اور کئی بار حج اور عمرہ کی ادائیگی کی سعادت بھی حاصل کی

    سلطان محمد کو مساجد اور دینی مدارس سےبھی بے انتہا لگاو تھا انہوں نے اپنے ذاتی گھر میں بھی مسجد بنا رکھی تھی اور وہ دکھی اور غریب لوگوں کی بھی مدد کرنے والے ان کا دکھ درد سمجھنے والے نیک سیرت انسان تھے

  • جے این یو طلباء کے ساتھ سونم کپور کا اظہار یکجہتی

    جے این یو طلباء کے ساتھ سونم کپور کا اظہار یکجہتی

    میری فکر مندی جے این یو طلباء کے ساتھ ہے: اداکارہ
    ہمارے ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے عجیب واقعات ہیں : سونم کپور آہوجا

    ممبئی :اداکارہ سونم کپور آہوجا نے گزشتہ روزایک تحریر دوبارہ شیئر کی جو ان کی بہن ریہا کپور نے لکھی ہے

    انیل کپور کی بیٹی سونم نے انسٹاگرام پر پیش کردہ تحریر کے بعد کہا کہ آج ہمارے ملک میں جو کچھ ہورہا ہے وہ عجیب واقعات ہیں جو کبھی دیکھنے میں نہیں آئے پتہ نہیں ہم اس صورتحال تک کس طرح پہنچے ہیں

    ریہا کی تحریر جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے کیمپس میں پیش آئے تشدد کے بارے میں ہے سونم نے کہا کہ میری فکرمندی جے این یو کے اسٹوڈنٹس کے ساتھ ہیں آپ بڑے بہادر ہیں اور آپ نے بڑی جراتمندی اور بہادری سے نقاب پوش غنڈوں کا سامنا کیاہے

  • سناکشی نے مظاہروں میں شرکت پر دیپیکا کی بھرپور حمایت کر دی

    سناکشی نے مظاہروں میں شرکت پر دیپیکا کی بھرپور حمایت کر دی

    بالی ووڈ اداکارہ سوناکشی سنہا نے دپیکا پڈوکون کی بھارتی انتہا پسندوں کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شرکت کی بھرپور حمایت کردی

    گزشتہ دنوں بھارت کے دارلحکومت نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں انتہا پسندوں نے مسلمان طلبہ و اساتذہ پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں طلبہ و اساتذہ زخمی بھی ہوئے تھے انتہا پسندوں کے خلاف ہونے والے ایک احتجاج میں بھارتی سپر اسٹار دپیکا نے بھی طلبہ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے احتجاج میں شرکت کی تھی جس پر انہیں بھارت میں تنقید کا سامنا ہے

    اس دوران بھارتی انتیا پسندوں کی طرف بھارت میں دپیکا کی نئی فلم ’چھپاک‘ کا بائیکاٹ کرنے کی بھی مہم کا بھی آغاز ہوگیا ہے
    کہ ہم پیسے خرچ کر کے کیوں اس دیش دشمن کی فلم دیکھیں

    دپیکا کی حمایت میں ساتھی اداکارہ سوناکشی سنہا نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک پیغام میں اُن کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کون سی سیاسی جماعت کو سپورٹ کر تے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا آپ تشدد کی حمایت کرتے ہیں ؟کیا آپ کو طلبہ اور اساتذہ کے خون بہنے کے نظارے ہلا کر نہیں رکھ دیتے؟ انہوں نے دپیکا کی مظاہروں میں شرکت کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ اب چُپ رہنے کا وقت نہیں ہے

  • ایران امریکہ کشیدگی پر اداکارہ عمران خان کے موقف کی متعرف

    ایران امریکہ کشیدگی پر اداکارہ عمران خان کے موقف کی متعرف

    ستارہ امتیاز حاصل کرنے والی پاکستانی خونرو اداکار ہ مہوش حیات نے ایران امریکا تنازع پر وزیر اعظم عمران خان کے موقف کی تعریف کردی

    ایران امریکا تنازع میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے عمران خان نےوزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ایران، سعودی عرب اور امریکا کا دورہ کرنے کی ہدایت کی ہے

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں نے جنرل قمر جاوید باجوہ سے کہا ہے کہ وہ متعلقہ فوجی رہنماؤں سے بھی رابطہ کریں اور انہیں واضح پیغام دیں کہ پاکستان قیامِ امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے تاہم وہ دوبارہ کبھی کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا

    مہوش حیات نے عمران خان کے اس موقف کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ عمران خان کے اس موقف نے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ وہ ایک ریاست کی قیادت کرنے کے لیے بہترین ہیں تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ تنازعات میں پاکستان کو ہمیشہ گھسیٹا جاتا ہے انہوں نے سوال اٹھایا کہ پھر آخر میں سب سے زیادہ کسے برداشت کرنا پڑتا ہے؟

    اور پھر انہوں نے اپنے ٹوئٹ کے آخر میں انہوں نے ہیش ٹیگ ’IranVs USA‘ کا استعمال بھی کیا

  • پلاسٹک کے برتن انسانی صحت پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں ؟

    پلاسٹک کے برتن انسانی صحت پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں ؟

    رنگ برنگے اور وزن میں ہلکے اور قیمت میں کم پلاسٹک کے برتن آج کل ہر مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہیں ان برتنوں کا استعمال اتنا بڑھ چکا ہے کہ اب ہر جگہ کھانے کے لئے یہی برتن نظر آتے ہیں ان میں آسانی سے کھانا مائیکرو ویو کے ذریعے گرم بھی ہو جاتا ہے

    پلاسٹک کیسے بنتا ہے؟
    پلاسٹک کئی کیمکلز سے مل کر بنتا ہے جس میں ’بسفینال اے یعنی بی پی اے نامی ایک مادہ پایا جاتا ہے پولی مرز مادوں سے تیار شدہ پلاسٹک کو کسی بھی رنگ اور شکل میں ڈھالا جا سکتا ہے دنیا بھر میں اس مادہ سے بہت سی ضرورت کی اشیا بنائی جا رہی ہیں جن میں کچن میں استعمال ہونے والے برتن پیکنگ اور دیگر اشیا شامل ہیں بی پی اے مادہ پلاسٹک کو سخت بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے

    پلاسٹک کی کوئی بھی قسم اچانک نقصان نہیں پہنچاتی اس کا باقاعدگی سے استعمال انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب کرتا ہے پلاسٹک برتنوں یا گھر میں کسی بھی صورت میں استعمال کے لیے موزوں نہیں ہے

    ب پی اے کے نقصانات:
    بسفینال اے یعنی بی پی اے یقیناً بہت خطرناک مادہ ہے اس سے کئی بیماریوں کا خدشہ ہوتا ہے جیسے کہ دل کی بیماریاں، بریسٹ کینسر سمیت معدے اور آنتوں کا کینسر اور ذیابطیس وغیرہ مارکیٹ میں بی پی اے فری اشیاء بھی دستیاب ہیں لہذا خریدتے وقت احتیاط کریں اور بی پی اے فری برتن خریدیں

    پلاسٹک کو نرم اور لچک دار بنانے کے لیے استعمال کیے جانے والے مادے کو فیتالیٹ کہا جاتا ہے یہ بیوٹی پروڈکٹس اور گھر میں استعمال کی جانے والی اشیا میں بھی استعمال کیا جا تا ہے

    مٹی کے برتن میں کھانا پکانے کے فائدے


    فیتالیٹ کے نقصانات:
    اس کے استعمال سے بھی صحت پر اثرات سامنے آسکتے ہیں جن میں خواتین کے جملہ امراض سمیت بریسٹ کینسر ، مردوں میں اسپرم کی کمی ، آٹزم اسپکٹرم ڈس آرڈر، شوگر ٹائپ 2 ، دمہ اور دماغی بیماریاں ’آئی کیو لیول ‘ کا کم ہو جانا شامل ہے

    اسٹائرین پلاسٹک:
    یہ پلاسٹک انڈوں کے ریک تیار کرنے میں، ڈسپازیبل کپس ، گلاس ، چمچے اور پلیٹیں تیار کرنے میں استعمال کیا جاتا ہے اس پلاسٹک کے استعمال سے مختلف اقسام کے کینسر وجود میں آتے ہیں اسٹائرین پلاسٹک میں پائے جانے والےمتعدد قسم کے اجزاء مضر صحت ہیں

    وینائل کلورائیڈ:
    اس پلاسٹک سے زیادہ تر ٹرانسپیرنٹ شیٹس ، دستر خواں، بیگز، بیڈ شیٹس اور پردے وغیرہ بنتے ہیں یہ بہت پتلا اور لچکدار مادہ ہوتا ہے اور یہی پلاسٹک کینسر کا سبب بنتا ہے

    انسانی صحت کے لیے پلاسٹک کسی بھی صورت فائدہ مند نہیں ہے پلاسٹک کے انسانی آنکھ سے نظر نہ آنے والے چھوٹے چھوٹے ذرّا ت پلاسٹک کے برتنوں میں غذا کے ذریعے سونگھنے اور ایسےبرتنوں کے ہاتھ لگانے کے ذریعے بھی ہمارے اندر منتقل ہو جاتے ہیں

    سب سے زیادہ پلاسٹک کا یہ مادہ ہمارے اندر پلاسٹک کے برتنوں میں کھانا گرم کرنے اور اسی میں کھانے سے با آسانی منتقل ہو جاتا ہے

    اس ایک سروے کے مطابق پلاسٹک کے استعمال بڑھ جانے کی وجہ سے گزشتہ چند دہائیوں میں مردوں کے اسپر م میں 40 فیصد کمی آئی ہے جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں بانجھ پن میں اضافہ ہوا ہے

  • سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک میں حساس سیکیورٹی نقائص سامنے آگئے

    سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک میں حساس سیکیورٹی نقائص سامنے آگئے

    گزشتہ برس ہی ٹک ٹاک نے دیگر سوشل میڈیا ایپ کے درمیان رہتے ہوئے اپنا مقام حاصل کیا ہے لیکن اب ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹِک ٹاک میں سیکیورٹی کے نقائص سامنے آئے ہیں جس کی وجہ سے ہیکرز صارف کا ڈیٹا اس کی حساس معلومات اور اس کی ویڈیوز کو چوری کر سکتے ہیں

    اس ایپ کو ایک چینی کمپنی نے تیار کیا تھا تاہم وہاں پابندی لگنے کے باوجود دنیا بھر میں اس ایپ کے ایک ارب سے زائد یوزرز موجود ہیں جبکہ پاکستان میں یہ سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ ہونے والی سوشل میڈیا ایپ بن گئی ہے

    چیک پوائنٹ ریسرچ کے سائبر سیکیورٹی ماہرین نے بتایا کہ ایپ کی سیکیورٹی میں دو خامیاں سامنے آئی ہیں جن کی وجہ سے ہیکرز یوزرز کے پرائیویٹ ای میل ایڈریس اور اس کی تاریخ پیدائش تک پہنچ سکتے ہیں

    اس کے علاوہ ہیکرز اکاؤنٹ کو اپنے استعمال میں لینے کے بعد اپنی مرضی کی ویڈیو اپ لوڈ کر سکتے ہیں اور یوزر کی پہلی سے اپ لوڈ کی گئی ویڈیوز کو ڈیلیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی حیثیت کوپرائیویٹ سے پبلک بھی کرسکتے ہیں

    ٹک ٹاک نے ایک اور نوجوان کی جان لے لی


    اس ایپ پر لوگوں کی جاسوسی کرنے جیسے الزامات بھی عائد کیے گئے اور دیگر اسکینڈلز کی وجہ سے بھی یہ ایپ خبروں میں گردش کرتی رہی تاہم اس مرتبہ ٹک ٹاک کی خامی کی نشاندہی اس کے بیک اینڈ میں کی گئی ہے جہاں عام یوزرز کی تو رسائی نہیں ہے لیکن ہیکرز وہاں تک آسانی کے ساتھ پہنچ سکتے ہیں

    چیک پوائنٹ سیکیورٹی ریسرچ نے ٹک ٹاک ک کے ایس ایم ایس سسٹم کو بھی توڑا جو ابتدا میں ایپ میں سائن اِن کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے انہوں نے بتایا کہ کوئی بھی ہیکر اس سسٹم میں رد و بدل کرتے ہوئے اسے اپنے استعمال کے قابل بنا سکتا ہے جبکہ وہ اسی کی مدد سے یوزر کو ایس ایم ایس کے ذریعے خطرناک لنک بھی بھیج سکتا ہےاگر یہ یوزرز اس لنک پر کلک کریں گے تو ہیکرز کو اکاؤنٹس تک آسانی کے ساتھ رسائی مل جائے گی

    اس کے علاوہ ٹک ٹاک کی ایڈورٹائزنگ ویب سائٹ کے اندر بھی ایک علیحدہ خامی سامنے آئی ہے جہاں تک ایکس ایس ایس نامی حملوں کو رسائی مل جائے گی ماہرین کا ماننا ہے کہ ہیکرز کی جانب سے سوشل میڈیا ایپ ہی سب سے اہم پوائنٹ ہوتا ہے کیونکہ یہاں سے یوزر کو نجی معلومات حاصل ہوجاتی ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہیکرز ان معروف ایپ میں گھسنے کے لیے اپنا وقت اور پیسہ لگاتے ہیں اور اس دوران کئی صارفین یہ سمجھتے ہیں کہ وہ محفوظ ہیں

    چیک پوائنٹ کی جانب سے چینی ایپ ٹک ٹاک کی انتظامیہ کو ان خامیوں کے بارے میں آگاہ بھی کیا جاچکا ہے تاہم اب ٹک ٹاک کمپنی کی جانب سے اپنے صارفین سے کہا گیا ہے کہ وہ سیکیورٹی خامیوں سے بچنے کے لیے ایپ کو اپ ڈیٹ کر دیں تاکہ ان کے ڈیٹا کی سیکیورٹی کو یقین بنایا جاسکے

    ان سیکیورٹی خدشات کے حوالے سے ٹک ٹاک کی سیکیورٹی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر لیوک ڈیشوٹلز کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ یوزرز کے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے پر عزم ہے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دیگر اداروں کی طرح ہم بھی سیکیورٹی سے متعلق ذمہ دارانہ ریسرچ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاکہ اس کی مدد سے سیکیورٹی خامی کا پتہ لگایا جاسکے

  • بھارتی جرنلسٹ رویش کمار جرنلزم کا ایک بڑا نام کیسے بنا?

    بھارتی جرنلسٹ رویش کمار جرنلزم کا ایک بڑا نام کیسے بنا?

    رویش کمار بھارتی میڈیا کا ایک جانا پہچانا نام ہے یہ بھارت کے ایک بہت بڑے پتر کار ہیں رویش کمار اپنے بے ساختہ اور دو ٹوک انداز کی وجہ سے جانے جاتے ہیں ان کی اسی بے ساختگی اور دو ٹوک انداز کی وجہ سے اکثر لوگ یہاں تھ کہ بڑے بڑے نیتا ان سے خائف رہتے ہیں یہاں تک کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی بھی ان سے خائف ہیں

    رویش کمار ممبئی پریس کلب کی طرف سے 2016 میں جرنلسٹ آف دا ایئر کا خطاب ملا تھا

    رام ناتھ گوئنکا بہترین جرنلزم کا ایوارڈ 2013 اور 2017 میں ملا جبکہ 2019 میں وہ رامن میگسیسے ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں

    کامیابیاں سمیٹنے والے رویش کمار کا تعلق بہار کے ایک چھوٹے سے صوبے موتہاری سے ہے رویش کمار نے ایک چھوٹے اور عام سے پتر کار کے طور پر کیسے اپنا کرئیر کا سفر شروع کیا اور کس طرح وہ دن رات کڑی محنت کر کے اس مقام تک پہنچے ہیں کہ آج ان کا شمار بھارت کے چند ایک بڑے پترکاروں میں ہوتا ہے اس کے بارے میں رویش کمار نے این ڈی ٹی وی پر اپنی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے چند رازوں سے پردہ اٹھایا

    اور بتایا کہ وہ کس طرح ایک چھوٹے سے صوبے سے اپنا کرئیر بنانے ایک بڑے شہر میں آئے اور کس طرح محنت کی اور کس طرح سے ان کے نام کے ساتھ لفظ نمسکار جڑا اور سولہ سال سے ان کے نام کے ساتھ ہی جڑا ہواہے

    رویش کمار نے بتایا کہ وہ جب این ڈی ٹی وی کے دفتر میں آئے تو ان کو ایسا لگا جیسے وہ ناسا کے کے دفتر میں آگئے ہیں انہوں نے پہلے بار یہاں ہی کمپیوٹر ای میلز بڑے بڑے کیمرے او وی وین پروڈکشن ہاوس وغیرہ دیکھے انہوں نے کہا میں نے ان سب چیزوں کو اس طرح دیکھا جیسے پٹنہ اسٹیشن پر سلیپر کلاس سے اتر کر اے سی کوچ میں جھانک کر دیکھتے تھے لوگ کیسے اے سی میں بیٹھتے ہیں

    انہوں نے کہا وہ اس وقت این ڈی ی وی میں آئے جب ہندوستان بدل رہا تھا اور یہ 1996 کی بات ہے اور میرے جیسے کئی لوگ پورے دیش میں یہاں سے وہاں ہو رہے تھے اور نئی نئی نوکریوں میں جا رہے تھے اپنے کرئیر کا آغاز کر رہے تھے یہاں پر بھی بہت سارے ہمارے ساتھی کوئی ودیش سے پڑھ کر آئے تھے کوئی دلی کے ٹاپ کالجز سے پڑھ کر آئے تھے اور ہم بھی آگئے اور اس بھیڑ کا حصہ بن گئے

    پورے ہندوستان سے آنے والے لوگ ہم نے یہ سب این ڈئی ٹی وی میں دیکھا اور پہلی بار ہم آپس میں سب بات کر رہے تھے سیکھ رہے تھے انہوں نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ بات سچ ہے کہ شروع میں اس دفتر میں آنے پر بہت گھبراہٹ ہوتی تھی وہ ایک چھوٹے سے گاؤں سے تھے یہاں لوگوں کے بولنے کا طریقہ کپڑے چال ڈھال سب کچھ ان کے گاوں کے رہن سہن کے مطابق ان کے لئے اجنبی تھے لیکن آہستہ آہستہ اب کافی کچھ بدل گیا ہے

    انہوں نے کہا تب لگتا تھا یہ ناسا تھا اب لگتا ہے یہ این ڈی ٹی وی ہے ان کے ایک کولیگ نے ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ر ویش یقینی طور پر انڈیا کی ایک بہت ہی یونیق الگ آواز ہے جب کہ ایک اور کولیگ نے رویش کمار کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ 2003 ،2004 اور 2005 میں جب وہ لگاتار لکھ رہے تھے تب میں نے دیکھا 2009 میں رویش 2004 اور 2005 کے رویش سے بہت بدلے ہوئے ہیں بہت آگے ہیں شاید اس جگہ پر کسی دوسرے نے اپنی سوچ کا قابلیت کا بہتر استعمال نہیں کیا جتنا رویش نے کیا یہ رویش کی طاقت ہے

    رویش کمار نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ اپنے گاؤں سے شہر آےئے تھے تو وہاں وہ اپنے صوبے کے کسی بھی لوگوں کو دیکھتے تھے تو ان سے بات کر کے ان سے مل کر ااپنے آپ ایک رشتہ سا بن جاتا تھا انہوں نے کہا پروادی وہ لوگ ہیں جو اجڑے ہوئے ہیں اور ہر شہر میں اپنے کو دھونڈتے رہتے تب ہم کوئی فرق نہیں کرتے کہ میں موٹی کمائی والا پترکار ہوں دوسرے کم کمانے والے مزدور ہیں اس سب سے پرے ایک رشتہ سا بن جاتا تھا

    انہوں نے مزید اپنے کام کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نےہر طرح کا یہاں پر کام کیا اور صرف انہوں نے ہی نہیں ہندوستان جیسے دیش میں لاکھوں لوگ اپنی شروعات نیچے سے کرتے ہیں اور اس میں کوئی خاص بات نہیں ہے اور میری یاترا میرے کریئر کے سفر میں بھی یہ کوئی خاص بات نہیں ہے کہ میں نے یہ شروعات نیچے سے کی

    انہوں نے اپنے سیکھنے اور محنت کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ مارننگ شو میں گڈ مارننگ انڈیا میں جو اینکر ہوتے تھے ان کو میں دیکھا کرتا تھا چٹھیاں آتی تھیں ای میلزآتی تھیں وہ اس کا جوب کیسے دیتے تھے اسی میں دیکھ گیا کہ دیکھنے والے کو کیا چاہیئے ہوتا ٹیلی ویژن میں اور وہ کیسے باتیں کرتا ہے کاریکرم کے ذریعے تو ان سب چیزوں سے پھر میں ڈیسک پر آیا پھر رپورٹنگ کرنے لگا پھر کیا کیا کرنے لگا مجھے کچھ پتا نہیں چلا میں کب کہاں اور کس طرح سے کوئی کہانی کہہ رہا ہوں پھر پوری ایک نئی دنیا ایسے کھلتی چلی گئی جو میرے لئے کسی راز سے کم نہیں تھی

    اور یہ وہ ٹائم تھا جب دیش بہت تیزی سے بدل رہا تھا پتر کاراؤں یعنی اخباروں میں سیلیکون ویلی کے قصے آ رہے تھے چھپ رپے تھے کوئی گاؤن سے شہر آ رہاتھا کوئی شہر سے امریکہ جا رہا تھا تو کوئی امریکہ سے مالئشیا جا رہا تھا اس طرح سے ایک بدلاؤ ہو رہا تھا

    اور اسی میں ایک چیز میں نے جاننے کی کوشش کی کہ پلائن کیا ہے جب ہم لوگ بہار سے آئے تو ہمیں تھا کہ پلائن مطلب بھاگنا ہوتا ہے دھیرے دھیرے پتہ چلا کہ پلائن ہوتا ہے سمبھاوناؤں کی تلاش نئی راہوں کی نئی چیزوں کا کھوج ہر کسی کو اپنے ہر کسی کو اپنے جیون میں پلائن کرنا چاہیئے نئی سمبھاوناؤں کی تلاش میں آگے بڑھنا چاہیئے

    رویش کمار کے مطابق ان کو لگتا ہے کہ ان سب کا اچھا موقع انھیں این ڈی ٹی وی نے دیا جو کہ جہاں سے انہوں نے نیہ راہ تلاش کی اپنے نئے سفر کا آغاز کیا رویش کمار نے این ڈی ٹی وی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سفر میں جن جن چرنوں جگہوں میں میری یاترا رہی ہے مجھے کبھی کی نے روکا نہیں کسی نے کبھی ٹوکا نہیں ایک بار وہ لال مائیک پکڑا دیا پھر کبھی کسی نے نہیں پوچھا کہ تم کہاں جاتے ہو کیا کرتے ہو کولیگ کہتی تھی تم کیا کرتے رہتے ہو دن بھرکس کی ریکارڈنگ کرتے رہتے ہویہ کیا اسٹوری ہے

    اسی طرح سے ہم لوگ جوبھی ہیں اس کمپنی کی وجہ سے ہیں جیسے یہ کمپنی پچیس سال میں نوجوان ہو گئی ہم بھی سولہ سال میں کافی کچھ بدلے ہیں ہم بھی جوان ہوئے ہیں

    انہوں نے اپنے این ڈی ٹی وی کے کچھ ساتھیوں اور کولیگ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہا اب میں کچھ آپ کو نام بتاتا ہوں جن سے انہوں نے سیکھا اور سکھایا راجدیپ برکھا اوورنو آسو وکرم منرنجن بھارتی منیس کما ر منودیپا تی ایس سودھی وجیتر ویدھی آنندیو چتر ویدھی –

    چتر ویدھی ہماری دفتر کے پہلے شخص تھے جن کا نام لاگ ان نیم سے پڑھا

    اور وجے جی کی ڈائری دیکھ کر اتنا ڈر لگتا تھا کہ اس میں کتنے نمبر ہیں پتہ نہیں میری ڈائری میں کب اتنے نمبر آئیں گے اور میرے پاس اتنی خبریں آئیں گی

    راجدیپ اور منورنجھن بھارتی کے پاس ایک چیتھری سی کاپی ہوا کرتی تھی جن میں نمبروں اور پرانے نیتاؤں کے بائٹس ہو کرتے تھے

    انہوں نے اپنے اس سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ راجدیپ ڈانٹتے بہت تھے بہت گھبراہٹ ہوتی تھی ڈر کے مارے دفتر کے پیچھے کے دروازے سے ہم لوگ آتے تھے خاص طور پر میں تو نتاشا اکثر کہتی تھی تم چوہا ہو ڈرتے ہو راجدیپ سے راجدیپ بھی بنا بات کے غصہ کرتے تھے اور میں سوچتا تھا کوئی اتنا غصہ ایڈیٹر کرتا ہے کیا

    انہوں نے بتایا کہ ایک دن تو راجدیپ میرے بال کو لے کر غصہ ہو گئے یہ رپورٹر کے بال ہیں یا دیو آنند کے بال ہیں تم رپورٹر بننے آئے ہویا ہیرو بننے آئے ہو

    اسی طرح سے کیمرہ مین بھی ایک سے ایک تلسی سریش کمار مایوک لائلی نتاشا ودوار نریندرا گوڈاولی بنتاشا ودوار سے سامنے تو سٹوری بتانے میں گھبراہٹ پوتی تھی وہ اتنی قابل تھیں کہ ڈر لگتا تھا کہ پتہ نہیں میری سٹوری کا لیول وہ ہے کہ نہیں ہے پر اس طرح سے ہم لوگوں نے سیکھا ہے

    یہاں پر این ڈی ٹ وی می‌ں اور سب نے سب کو مل کر سیکھایا ہے کوئی یہاں ایک دوسرے سے اوپر نہیں تھا لیکن دھیرے دھیرے ان سب کی دخل اندازی نے ان سب کے سنجوگ سے ہم لوگ جو بھی بن پائے ہیں جتنا بھی بن پائے ہیں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میری اس کامیابی میں اس کا حصہ نہیں ہے سب سب کا ہے ہو سکتا ہے اس کا نام نہیں آیا اور اس کو انعام نہیں ملا جو ہم لوگوں کو مل جاتا ہے

  • ہالی وڈ سٹار نے اللہ اکبر کہہ کر ایوارڈ وصول کیا

    ہالی وڈ سٹار نے اللہ اکبر کہہ کر ایوارڈ وصول کیا

    میوزیکل یا مزاحیہ کیٹگری میں فاتح رامی یوسف منفرد ایوارڈ وصولی کی تقریر کی وجہ سے سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں

    امریکی شہر لاس انجیلس میں منعقد 77 ویں گولڈن گلوب ایوارڈ کی رنگا رنگ تقریب میں میوزیکل یا مزاحیہ ٹیلی ویژن سیریز میں بہترین اداکار کا ایوارڈ حاصل کرنے والے رامی یوسف سوشل میڈیا صارفین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں

    رامی یوسف نے جینیفر اینسٹن اور ریزر ویدرسپون سے اپنا ایوارڈ وصول کیا

    ایوارڈ لیتے ہوئے انہوں نے تقریب میں موجود حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے اللہ کی بڑائی بیان کی اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے ’اللّہ اکبر ‘ کہہ دیا

  • بافٹا ایوارڈ میں جوکر زیادہ نامزدگیوں کے ساتھ سرفہرست

    بافٹا ایوارڈ میں جوکر زیادہ نامزدگیوں کے ساتھ سرفہرست

    آسکر اور گولڈن گلوب ایوارڈز کے بعد اہم ترین برٹش فلمی ایوارڈز ’دی برٹش اکیڈمی آف فلم اینڈ ٹیلی وژن آرٹس کے لیے فلموں اداکاروں و ڈائریکٹرز سمیت تمام کیٹیگریز کی نامزدگیوں کا اعلان کردیا گیا

    مجموعی طور پر بافٹا ایوارڈز 2020 کے لیے 25 کیٹیگریز کی نامزدگیوں کا اعلان کیا گیا ہے ہولی وڈ ہارر کامیڈی فلم ’جوکر‘ زیادہ نامزدگیوں کے ساتھ سب سے آگے ہے

    ‘جوکر‘ کو مجموعی طور پر 11 نامزدگیاں ملی ہیں جبکہ نیٹ فلیکس کی ڈرامہ فلم ’دی آئرش مین‘ اور ’ونس اپ اون اے ٹائم ان ہالی وڈ‘ کو 10 نامزدگیاں ملی ہیں بہترین فلم کی کیٹیگری میں ’جوکر، ونس اپ اون اے ٹائم ان ہالی وڈ، دی آئرش مین،1917 اور پیراسائیٹ کو نامزد کیا گیا ہے

    اسی طرح بہترین اداکاروں کی کیٹیگری میں لیونارڈو ڈی کیپریو، ایڈم رور، جیکوئن فیونکس، ٹارن اگرٹن اور جوناتھن پرائس کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ بہترین اداکارہ کی کیٹیگری کے لیے سائروسی رونن، چارلیز تھرون ، سائروسی رونن،اسکارلٹ جانسن ،جیسی بکلی اور رنی زلوگر کو نامزد کیا گیا ہے

    بافٹا ایوارڈزکے لیے بہترین برطانوی فلم، بہترین غیر ملکی زبان کی فلم، بہترین ہدایت کار، بہترین معاون اداکارہ اور بہترین معاون اداکار سمیت مجموعی طور پر 25 کیٹیگریز کی نامزدگیوں کا اعلان کیا گیا ہے

    بافٹا ایوارڈز کی تقریب آئندہ ماہ 2 فروری کو لندن میں ہوگی