Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ذہنی تناؤ اور احساس کمتری جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا

    ذہنی تناؤ اور احساس کمتری جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا

    آج کل پاکستان کے کئی ستارے سوشل میڈیا پر یہ انکشاف کررہے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں انزائٹی کا شکار رہے

    اداکارہ ارمینہ رانا خان نے بھی اپنے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی زندگی میں انزائٹی کے ساتھ ساتھ کئی اور مسائل کا شکار بھی ہوچکی ہیں جبکہ انہوں نے مداحوں کو اس کیفیات سے نکلنے کے مشورے بھی دیئے


    انہوں نے لکھا میں کافی روز سے اس بات پر غور کررہی تھی کہ یہ پوسٹ کروں یا نہیں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ میں اپنے اس سفر کی چھوٹی سی کہانی آپ کے ساتھ شیئر کروں تو اس دہائی میں مجھے بھوک کی کمی انزائٹی اور احساس کمتری جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا

    اداکارہ نے لکھا لکھا کہ یہاں میرا وزن صرف 39 کلو تھا کیوں کہ میری خوراک بہت کم تھی میں بہت بیمار تھی میں یہ کہانی اس لیے شیئر کررہی ہوں کیوں کہ میں مظلوم نہیں جیتنے والی ہوں میں نے ان تمام مسائل پر قابو پایا اور گزشتہ کچھ سالوں میں یہی میری سب سے بڑی کامیاب رہی ب میں اپنے آپ سے خوش ہوں میں وہ کھاتی ہوں جو صحت کے لیے ٹھیک ہو

    انہوں نے لکھا کہ یہ پوسٹ کرنے کی میری واحد وجہ یہ تھی کہ میں آپ کو بتا سکوں کہ چاہے کچھ بھی ہو آپ خوبصورت ہیں پھر چاہے آپ کا وزن کتنا بھی ہو کسی کو یہ اجازت نہ دیں کہ وہ آپ پر تنقید کرے، اس دنیا میں اگر کوئی بات سب سے ضروری ہے تو وہ یہ کہ آپ صحت مند ہوں ہر وہ شخص جو ان خطرناک مسائل سے دوچار ہے میں اپنا پیار ان کو دیتی ہوں اور دعا ہے کہ وہ بھی ان مسائل سے خود کو نجات دلا سکیں

    ارمینہ کی اس پوسٹ پر اداکارہ کبریٰ خان نے بھی کمنٹ کیا اور اپنی کہانی شیئر کرنے کے لیے انہیں سراہا اور کہا کہ انہیں آپ پر فخر ہے

    ابراہیم علوی نے بھی ان کے حوصلے کو سراہتے ہوئے ان کی تعریف کی

    منیب نواز نے بھی ان کی تعریف کی

    چند روز قبل اداکار عدنان ملک نے انسٹاگرام پر اپنے ڈرامے ‘صدقے تمہارے’ کا ایک کلپ شیئر کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ وہ اداکاری کرنے کے شوقین نہیں کیوں کہ اس سے انہیں انزائٹی ہوتی ہے اور اداکارہ ماورا حسین نے بھی اپنے ڈرامے ‘داسی’ کی کلپ شیئر کرتے ساتھ لکھا تھا کہ وہ انزائٹی کا شکارر ہیں لیکن اب و بھی ٹھیک ہیں

    اداکارہ کا ذہنی تناؤکا شکار ہونے کا اعتراف

  • فیصل رحمن کے ساتھ رومانوی سین خاصا مشکل رہا  اداکارہ

    فیصل رحمن کے ساتھ رومانوی سین خاصا مشکل رہا اداکارہ

    پاکستان کی نامور اداکارہ اور میزبان حنا الطاف نے ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا ہے کہ انہیں اداکار فیصل رحمٰن کے ساتھ رومانوی سین شوٹ کروانا سب سے مشکل کام لگا

    اداکارہ کی مزاحیہ انداز میں انٹرویو دیتے ہوئے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہی ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ فیصل رحمن کے ساتھ رومانوی سین سب سے مشکل کام تھا

    شو کے میزبان نے حنا الطاف سے سوال کیا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں اگر فواد خان ان کے ساتھ کام کررہے ہوتے اور انہیں رومانوی سین شوٹ کرنا ہوتا تو کیا وہ ان سے متاثر ہوجاتیں؟

    اس کا جواب دیتے ہوئے حنا الطاف نے کہا کہ میں نے عماد عرفانی کے ساتھ رومانوی سین شوٹ کیا وہ صحیح رہا لیکن میں نے فیصل رحمٰن کے ساتھ بھی رومانوی سین شوٹ کیا ہے لیکن وہ خاصہ مشکل رہا اداکارہ کے مطابق میں نے می ٹو مہم کے نام سے فیصل رحمٰن کو ڈرانا شروع کردیا تھا جس کے بعد وہ کہتے تھے میں آپ کو ہاتھ نہیں لگارہا

    ٹیٹو کے حوالے سے بھی کئے گئے سوال پر اداکارہ نے بتایا کہ انہیں اپنا ٹیٹو بےحد پسند ہے اور اس سے بہت پیار ہے واضح رہے کہ حنا الطاف نے اپنے ہاتھ پر ‘عالم’ نام کا ٹیٹو بنوایا ہوا ہے اور اس سے پہلے ایک شو کے دوران اداکارہ نے انکشاف کیا تھا کہ یہ ٹیٹو ان کے ڈاکٹر کے نام پر ہے جنہوں نے اداکارہ کو ڈپریشن سے باہر آنے میں مدد کی

    حنا الطاف نے اپنے والد کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد بہت سے نیوز شوز دیکھتے ہیں لیکن انہیں سیاست میں بالکل دلچسپی نہیں

  • ملالہ کی زندگی پر مبنی فلم گل مکئی کا پہلا ٹریلر جاری

    ملالہ کی زندگی پر مبنی فلم گل مکئی کا پہلا ٹریلر جاری

    دنیا کی کم عمر ترین نوبیل انعام یافتہ پاکستانی سماجی کارکن ملالہ یوسف زئی کی زندگی پر بنائی گئی فلم ’گل مکئی‘ کا پہلا ٹریلر ریلیز کردیا گیا

    اس فلم پر 2017 سے کام جاری ہے حال ہی میں اعلان کیا گیا تھا کہ فلم رواں سال 31 جنوری کو سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی

    فلم کے پہلے ٹریلر میں ملالہ کی ابتدائی زندگی کے دنوں اور افغانستان و پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں طالبان کی جنگ کو دکھایا گیا

    ٹریلر کا آغاز ملالہ کے کردار کی آواز سے ہوتا ہے جو اپنا تعارف کرواتی ہیں اور اپنے خاندان سے اپنے تعلق کے بارے میں بتاتی ہیں

    ٹریلر میں ملالہ اپنے والد سے سوال کرتی ہیں کہ طالبانوں کی اسکولوں سے کیا دشمنی ہے؟

    جبکہ کسی نے یہ بھی کہا کہ ‘پاکستان کی پریشان حال عوام کو ایک آواز مل گئی اور ہم کو ہماری گل مکئی مل گئی

    جبکہ اس ٹریلر میں وہ طالبان کو کہتی نظر آتی ہیں کہ اگر ان کے پاس بندوقوں ہتھیاروں کی طاقت ہے تو ہماری پاس قلم کی طاقت ہے

    ’گل مکئی‘ میں نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کا کردار نوجوان بھارتی اداکارہ ریم شیخ ادا کرتی دکھائی دیں گی ملالہ یوسف زئی کی والدہ کا کردار اداکارہ دیویا دتا جبکہ عطل کلکرنی ملالہ کے والد کا کردار ادا کرتے نظر آئیں گے

    ’گل مکئی‘ کو بھارتی فلم پروڈکشن کمپنی کے بینر تلے بنایا گیا ہے اس کی ہدایات ایوارڈ یافتہ ایرانی نژاد ہدایت کار امجد خان نے دی ہیں

  • امریکی اداکارہ کی پراسرار موت

    امریکی اداکارہ کی پراسرار موت

    امریکی داکارہ الیکس اپنی رہائش گاہ پر مردہ حالت میں پائی گئیں

    فوکس نیوز‘ کے مطابق ایم ٹی وی کے ڈیٹنگ ریئلٹی شو سیریز ’آر یو دی ون‘ میں شریک ہونے والی اداکارہ 23 سالہ الیکس ایڈی ریاست ویسٹ ورجینیا میں اپنی رہائش گاہ میں مردہ پائی گئیں

    رپورٹ کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اداکارہ کی موت کن وجوہات کی بنا پر ہوئی تاہم ریسکیو اہلکاروں کو پڑوسیوں نے دل کے عارضے سے لڑکی کی موت کی اطلاع دی تھی

    رپورٹ کے مطابق پولیس نے اداکارہ کی پراسرار موت کی تفتیش شروع کردی تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ الیکس ایڈی کی موت طبی پیچیدگیوں کی وجہ سے ہوئی

    الیکس ایڈی نے گزشتہ برس اکتوبر میں منگنی کرنے کا بھی اعلان کیا تھا تاہم منگنی کے فوری بعد انہوں نے اپنے منگیتر کے ساتھ کھنچوائی گئی تصاویر کو سوشل میڈیا سے ڈیلیٹ کردیا تھا جس کے بعد خیال کیا جا رہا تھا کہ ان کی منگنی ختم ہوچکی ہے تاہم اداکارہ نے اس حوالے سے خاموشی اختیار رکھی اور کوئی وضاحت نہیں کی تھی

    لیکس ایڈی کی اچانک موت پر ایم ٹی وی انتظامیہ سمیت ان کے ساتھی اداکاروں نے بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور انہیں ایک پرسکون اور بہترین اداکارہ قرار دیا

  • معروف مصنف خلیل الرحمن نے کیسے طے کیا خلیل الرحمن قمر تک کا سفر ?

    معروف مصنف خلیل الرحمن نے کیسے طے کیا خلیل الرحمن قمر تک کا سفر ?

    پاکستان کے معروف اور نامور مصنف و شاعر خلیل الرحمان نے اپنے ایک انٹر ویو میں بتایا کہ جب انہوں نے پہلی مرتبہ ہاتھ میں قلم پکڑا تھا تو میں جانتا تھا کہ میں مصنف بنوں گا

    پاکستان کے مشہور ڈرامہ سیریل سے شہرت پانے والے مصنف خلیل الرحمان سے جب ایک نجی چینل کی طرف سے لئے گئے انٹر ویو کے دوران پوچھا گیا کہ آپ صف اول کے ڈرامہ نگار ہیں وہ کیا فارمولا ہے آپ کے پاس جس نے آپ کو نامور بنا دیا تو اس کے جواب دیتے ہوئے خلیل الرحمان نے کہا جب میں نے پہلی مرتبہ قلم پکڑی تھی میں تب ہی جان گیا تھا کہ میں مصنف بنوں گا اور مجھے ایک خود آگہی کے طور پر پیدا کیا گیا ہے

    انہوں نے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کہ یہ ان کے لئے قطعاً وہم نہیں تھا بلکہ یہ ایک اتنا پکا یقین تھا جو کبھی ٹوٹ نہیں پایا

    انہوں نے کہا کہ میں شروع ہی سے بہت باریک بین تھا اور یہ سب انہیں قدرت کی طرف سے عطا کی گیا تھا اور میرے سارے تجربے اور آبزرویشنز میرے اندر کہیں محفوظ ہو جاتے ہیں انہوں نے بتایا کہ وہ چھٹی جماعت سے لکھ رہے ہیں اور گیارھویں تک وہ مسلسل لکھتے رہے اور بے تحاشا لکھا

    خلیل الرحمن نے انٹرویو کے دوران انکشاف کیا کہ ان کے والد صاحب ان کے لکھنے کے خلاف تھے اور منع کیا کرتے تھے

    انہوں نے کہا یہ بڑے حیران کن بات تھی میرے لیکن اس کا ادراک مجھے بعد میں ہواکہ وہ ٹھیک تھے کیونکہ ان کے ہاں رائٹرز کا کانسیپٹ
    بہت بُرا تھا انہوں نے بتایا کہ میں ایک اچھا طالبعلم تھا اور میں غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا تو میرے والد چاہتے تھے میں پڑھ لکھ کر ایک بڑا افسر بن جاؤں اور فیملی کی غربت ختم کر دوں خلیل الرحمان نے کہا کہ میرے والد کی اس سرزنش نے ان کے اندر ایک جذبہ پیدا کر دیا جس کی وجہ سے انہوں نے زیادہ بہتر لکھا

    اپنے نام کے ساتھ قمر لگانے کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ میں سب سے پہلے شاعر تھا پھر میں نامہ نگار ہوں لیکن اس میں مہینے ڈیڑھ کا ہی فرق ہے لیکن سب سے پہلے انہوں نے شیر لکھا انہوں نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کو لفظوں کا الہام ہوتا ہےمصنف کے مطابق آمد کو معتبر لفظوں میں الہام کہتےہیں

    انہوں نے کہا کہ میں قصداً بیٹھ کر نہیں لکھ سکتا بلکہ مجھے الہام ہوتا ہے اور یہاں تک کہ میں بیس پچیس لوگوں میں بیٹھ کر لکھ سکتا ہوں اور اس دوران جب میں لکھنے بیٹھتا ہوں تو مجھے پتہ ہی نہیں ہوتا کہ میرے آس پاس بیس پچیس لوگ بیٹھے ہوئے ہیں

    جب ان سے پوچھا گیا کہ جب انہیں الہام ہوتا تب فوراً ہی لکھنا شروع کر دیتے ہیں یا بعد میں اس کے جواب میں مصنف نے کہا میں فوراً لکھنا شروع کر دیتا ہوں بعض اوقات تو اتنی تیزی سے آمد ہوتی ہے کہ لفظ لکھنے سے رہ جاتے ہیں بعض میں ان کو ریکور کر کے لکھتا ہوں کہ یہاں یہ لفاظ تھا

    آئیڈیا تو کہیں ان کے اندر پنپ رہا ہوتا ہے آبزرویشن آئیڈیاز ہی ہوتے ہیں یہ ڈائیلاگز جو ہوتے ہیں اللہ تعالی نے ان پر خاص مہربانی کی ہےیہ مجھ پر اترتے ہیں زیادہ تر اصلی شکل میں کہیں رعایت لفظ استعمال کرنی پڑتی ہے

    اقبال اور غالب کی محنت سے الفاظ کو چست بنا کر پیش کرنے پر خلیل الرحمن نے کہا کہ میرے ہاں سب چست ہی آتا ہے لیکن میں اقبال اور غالب جیسے شاعروں سے متھا نہیں لگا سکتا لیکن میں اب کیا کہوں اپنے بارے میں میرے مرنے کے بعد مانیں گے اگر مانیں گے تو

    واضح رہے خلیل الرحمن ایم بی اے میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرنے کے بعد ایک بینکر سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا انہوں نے بتایا کہ میں ایک مشہور بینکر ہوں جب جس لیول پر بھی گیا انہوں نے کہا کہ میں وائس پریذیڈنٹ تھا بینک آف پنجاب تھا اور اپنے کیریئر کا آغاز نیشنل بینک آف پاکستا ن سے کیا

    انگریزی بولنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں لیاقت تو انگریزی کو سمجھا جاتا ہے اگر آپ کو اچھی انگریزی بولنی نہیں آتی حالاناکہ آپ جتنے مرضی ذہین ہوں آپ کو کچھ سمجھا نہیں جاتا اور یہ بالکل غلط اور گھٹیا رویہ ہے اسی چیز نے ہمیں وہاں لا کر کھڑا کر دیا ہے جہاں سے ہم ترقی کا سفر شروع نہیں کر پا رہے قمر صاحب نے کہا کہ انسان جسم کی غلامی سے تو آزاد ہو جاتا ہے لیکن زبان کی غلامی سے کبھی آزاد نہیں ہوتا اور وہ بے شرمی کی زندگی گزارتی ہیں وہ قومیں جو دوسروں کی زبان بول کر اپنی زبان کو پیروں تلے روندتی رہتی ہیں

    انہوں نے اپنی مادری زبان پنجابی کے بارے بات کرتے ہو ئے کہا کہ میں پنجابی اردو سے زیادہ تیز لکھتا ہوں‌ اور میری پہلی پنجابی فلم تھی نکی جئی ہاں جس نے نیشنل ایوارڈ لیا تھا اور اردو میں میں نے زیادہ کورس کی کتاب پڑی ہے اور اس کے علاوہ میں اچھے لوگوں کو یا ٹی وی میں لوگوں کو اردو بولتے ہوئے غور سے سنا کرتا تھا میں ایک بہت تھا سامع تھا ایک زمانے میں میں بس لوگوں کو سنتا تھا اچھا بولنے والوں کو اچھی بات کرنے والوں کو بہت غور سے سنا کرتا تھا

    انہوں نے بتایا ڈاکٹر احراز نقوی کی اردو سے انہیں عشق ہق گیا تھا بلکہ ان کے لب و لہن کی وجہ سے ان سے عشق ہو گیا تھا اور وہ بھی اتبی ہی میرے سے محبت کرتے تھے اور ان کے نام پر میں نے اپنے چھوٹے بھائی کا نام احراز علی رکھا تھا

    انہوں نے کہا جب وہ فلم انڈسٹری میں آئے انہوں نے دیکھا سب سے برا سلوک رائٹرز سے کیا جارہا ہے تو میرا سب سے پہلا مقصد رائٹرز کی امیج صحیح کرنا تھی ان کو ان کی صحیح پہچان دلوانا تھی تو میں نے مصنفوں کے لئے سٹینڈ لیا اور ابھی تک لے رہا ہوں

    انہوں نے رائٹرز کو عزت دلوانے اور ان کے لئے سٹینڈ لینے کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ کسی کی بجی جرات نہیں تھی کہ میری لکھے ہوےئ تحریروں کو ادھر سے اُدھر کر دے کا کو کی تک میں بدل دے میں اس بات پر بہت زیادہ اور سختی سے ری ایکٹ کرتا ہوں س نے ایسا کیا وہ بعد میں میرے ساتھ کام نہیں کر سکتا

    انہوں نے معاوضے کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پاکستان میں سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے مصنف ہیں

    ان کے تنازعات اور سخت اور تلخ باتوں کے بارے یں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تلخ باتیں تو شاید نہیں سخت باتیں ضرور ہیں اردو کے بارے میں تو مرتے دم تک میں چیختا رہا ہوں گا اردو کو ترقی دلوانے میں لکھنو دہلی اور بھوپال کو زیادہ کردار رہا ہے لاہور کا اتنا کردار نہی ہے لاہور میں ایک وقت تھا جب اچھی اردو بولنے کا سلسلہ رہا جو کہ ٹوٹ گیا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ اردو کی لیاقت انگریزی میں چھپ گئی ہے

    اردو کی تخلیقات کے بارے میں خلیل الرحمن نے باتے کرتے ہوئے بتایا کہ اردو کی اچھی تخلیقات زیادہ پنجاب سے آئی ہیں جبکہ اردو بولی زیادہ کراچی میں جاتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو بولنا اور ؛کھنا دو الگ چیزیں ہیں جیسے اب ہمارے پنجابی میں کام کم ہوتا ہے کیونکہ ہم نے فرض کر لیا ہے کہ پنجابی ہمیں نہیں آتی ہے اسی طرح کراچی میں بھی بہ سارے ایسے لوگ ہیں جو اردو کو اس کی صحیح ایسنس کے ساتھ نہیں بول رہے لب و لہن کا لحاظ کم رکھا جاتا ہے شاید پورے ملک میں ہی ایسا ہے

    لیکن پنجاب ایک زرخیز مٹی ہے اور ہمیشہ سے رہی ہے اور جو بڑے بڑے نام ہیں وہ زیادی تر پنجاب سے ہی ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی اور سندھ نے بھی بہت بڑے بڑے آدمی پیدا کئے ہیں لیکن جو سب سے بڑا آدمی ہے وہ پنجاب میں پیدا ہوا اس مٹی نے بڑے نامور نامی گرامی سپوت پیدا کئے ہیں جیسے علامہ اقبال فیض احمد فیض وغیرہ

    انہوں نے کہا کہ کہیں اردو سیکھنے میں میرا کسی سے کہیں تعلق ہے تو آغا حشر کاشمیری ہیں ان کے ہاں منظوم تھا ڈرامہ اور میرے ہاں جو ڈائلاگز ہیں وہ اس طرح ہوتے ہیں جیسے شاعرے لکھی ہوئی ہے میں کاشمیری سے بہت محبت ہے مجھے

    انٹرویو میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے خلیل الرحمن نے کہا کہ میں خود پسند نہیں ہوں اور میں اپنے آپ پر میں بالکل بھی تنقی نہیں کرتا کیونکہ خلیل الرحمن قمر جس آدمی کا نام ہے میں اس کی میں بھی قدر کرتا ہوں وہ نوازا ہو آدمی ہے اور یہ بالکل بھی خود پسندی نہیں ہے مین اپنی آپ کو بالکل بھی خود پسند نہیں کہتا خلیل الرحمن قمر کو جو عطا ہو رہی ہے اس کو عشق ہوں انہوں نے کہا کہ اس کو وقت طے کرے گا جب آپ دسورے رائٹرز ے بارے میں یورپ کے امریکہ رائٹرز کے بارے میں لکھتے ہیں تو کسی دن بیٹھ کر میرے ہاں بھی خلیل الرحمن قمر کو لکھا جائے گا تو پتہچلے گا کہ خلیل الرحمن اور خلیل الرحمن قمر دو الگ لوگ تھے

    انہوں نے کہا خلیل الرحمن اور خلیل الرحمن قمر دو الگ لوگ ہیں میرے اوپر خلیل الرحمن قمر وارد ہوتا ہے جب میں لکھنے بیٹھتا ہوں ورنہ تو ایک عام آدمی ہے خلیل الرحمن انہوں نے کہا میں مکالموں سے اور بئی بنتوں سے پہچانا جاؤں گا کل آپ کے بچوں نے پڑھنا ہے خلیل الرحمن قمر کا ڈرامہ آپ کے پاس چارہ ہی کوئی نہیں ہے وہ خدا کی ودیت کردہ چیز ہے اس سے آپ نکل ہی نہیں سکتے باہر

    انہوں نے عورت کی آزدی سے اختلاف کے بارے میں جواب دیتے ہوئے بتایا کہ مجھے عورت کی آزدی سے کوئی اختلاف نہیں ہے میں خود بہت بڑو داعی ہوں عورت کی آزادی کا لیکن میں مادر پدر آزاد آزادی ے لئے کسی صورت میں سفارش نہیں کر سکتا انہوں نے کہا کہ میں عورت کو بہت سالوں سے جاننے کی کوشش کرتا رہا ہوں چونکہ میں لکھتا ہی عورت کو ہوں کیونکہ میرا ماننا ہے کہ معاشرہ چلانے میں مرد کا کردار بہت تھوڑا ہے اور عورت کا کردار معاشرہ چلانے میں بہت زیادہ ہے ہمارا انحصار عورت پر زیادہ ہے عورت کا رتبہ زیادہ ہے مرد کی نسبت کیونکہ بچے کی شناخت عروت بتاتی ہے مرد نہیں بتاتا

    خلیل الرحمن کے مطابق اگر عورت کے اندر وفا اور حیا نہیں ہےتو میں خوبصورت نہیں مانتا اسے اور اگر مرد کے اندر غیرت نہیں ہےتو میں اسے مرد نہیں مانتا

    انہوں ے کہا میرا اعتراض عورت سے بس یہی ہے کہ آپ اپنے حقوق کی بات کریں مردوں کے حقوق میں سے حصہ نہ مانگیں

    فنکاروں کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ جو ڈانٹ ڈپٹ ہے یہ خدانخواستہ انا کی ڈانٹ ڈپٹ نہیں ہے ان کو سکھانے کے لئے ہے کیونکہ میں کئی لوگوں سے تجربے میں اور کئی سے عمر میں بڑا ہوں اگر وہ اپنے کام کو کام سمھتے ہوئے ایمانداری سے کریں تو میں ان کے پیروں میں بیٹھتا ہوں لیکن جو لوگ اپنے کام سے ایماندار نہیں کرت ان کے ساتھ پھر میں صحیح نہیں ہوں

    اپنے آبائی محلے کی بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ آپ کا اصلی عشق کیا ہےتو وہ شاد باد کی مٹی سے ہے بہت پہلے سے میں کہا جرتا ہوں کہ میں کہیں بھی ہوں مجھے دفن شاد باد کی مٹی میں کیا جائے

    خلیل الرحمن نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں آنکھیں اٹریکٹ کرتی ہیں آنکھوں میں ہی تو ایکسپریشنز ہوتے ہیں آنکھیں ہی تو بات کرتی ہیں انہوں نے کہا کہ جس فیلڈ میں وہ ہیں اس میں ہم لوگوں پرالزام تو لگتے رہتے ہیں افئیرز وغیرہ سےمتعلق لیکن اس چیز سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا

    لاہور کو لالی وڈ کا مرکز مانا جاتا لیکن اس کے زوال کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کو ان کی اپنی نظر کھا گئی ہے ا سکی وجہ جہاں کونٹینٹ کو کمزور سمجھا جاتا ہے تو وہاں پر پروڈکشن کوئی ویلیو نہیں رکھتی انہوں نے کہا اس کا مطلب یہ نہیں کہ رائٹرز اچھے نہیں تھے مسئلہ ان کا کم۔معاوضہ تھا

    انہوں نے کہا کہ ایکٹر کا چہرہ دیکھانے سے آپ کو کامیابی تو مل جائے گی لیکن ویخہاں آپ کسی غلط راست پر چل نکلتے ہیں اور بھٹک رہے ہوتے ہیں انہوں نے کہا لاہور لالی وڈ کا ایک فطری ہب ہے جو کبھی نہیں مٹ سکتا

    اپنے مستقبل میں کام کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ شاید زیادہ کام۔میرا جیو کی طرف چلا جائے گا وہ چار ڈرامے جیو کے ساتھ اس سال عبداللہ صاحب اور اسد قریشی کے ساتھ کرنے کا فائنل کر چکے ہیں

    سیاست کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ۔سیاست میں آنے کا کبھی ارادہ نہیں رکھتے انہیں کسی سے اختلاف نہیں لیکن اگر آپ کسی بات پر ببانگ دہل۔اعلان کرتے ہیں یہ ہو جائےگا لیکن باہر آکر کہتے ہیں کہ۔یہ سیاسی بیان تھا تو یہ جھوٹ بولنا میرے ہاں جائز نہیں ہے میں کون ہوتا ہوں میرے مذہب میں جائز نہیں ہے

    ان کی ساری کہانیاں عورت کے گرد گھومتی ہیں اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں کوئی ایک خاص عورت ماں یا بیوی بلکل میرا تخیل نہیں ہے میری آئیڈیل۔عورت باوفا اور باحیا ہے اور جو بے حیا عورت ہو میں اسے قریب پھٹکنے بھی نہیں دیتا میں اس کو ولن بھی نہیں مانتا میرے نزدیک عورت ہی نہیں ہے وہ اورمیں اس بات پر یقین رکھتاہوں کہ عورت فطری طور پر۔باوفا ہوتی ہے اور جو بے وفا ہوتی ہے وہ فطرتاً عورت نہیں ہوتی اور ایسی عورت ان کے ڈرامے میں نیگیٹیو جگہ پاتی ہیں اور انھیں دکھ ہوتا ہے جب وہ عورت کو نیگیٹیو لکھتے ہیں انہوں نے کہا میں عورت کی سب سے زیادہ عزت کرتا ہوں عورت کی آزادی کا سب سے بڑا داعی ہوں مرد کو تو میں کسی کھاتے لاتا ہی نہیں ہوں اگر مرد چیٹ کرےتو میں اسے بھی دو ٹکے کا بولتا ہوں بلکہ اسےتو دو ٹکے کا بھی نہیں بولتا اسے میں مانتا ہی نہیں اس سے کوئی توقع ہی نہیں ہے میری

  • جسمانی تبدیلیوں کو نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے

    جسمانی تبدیلیوں کو نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے

    انسانی جسم میں رونما ہونے والی ہر ایک نئی تبدیلی صحت سے متعلق کوئی نہ کوئی پیغام لاتی ہے ان تبدیلیوں کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان پر توجہ دینی چاہیے ماہرین جسمانی امراض کے مطابق جب ہم چھوٹی چھوٹی تکلیفوں یا کسی نئی جسمانی علامت کو نظر انداز کرتے ہیں تو یہی بظاہر چھوٹی نظر آنے والی تکلیف یا علامت بعد میں بڑی بیماری کی شکل میں سامنے آتی ہے ، جس کے نتیجے میں ہمارا خود کے ساتھ یہ رویہ پچھتاوے کا سبب بنتا ہے مگر وقت ہمارے ہاتھ سے اور بیماری علاج سے باہر نکل چکی ہوتی ہے

    چند مصالحہ جات جو معدے کی تیزابیت ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں


    روز مرہ کی زندگی کی بھاگ دوڑمیں خود پر کڑی نظر رکھنی چاہیے اور مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہوتے ہی معالج سے رابطہ کرنا چاہیے

    سینے میں درد کی شکایت:
    ماہرین کے مطابق سینے کے درد کی 30 وجوہات ہو سکتی ہیں، ان میں سے کچھ معمولی ہوتی ہیں جیسے کہ مضر صحت غذا کے نتیجے میں سینے کا جلنا وغیرہ، مگر ہر بارغذا کو ہی وجہ نہیں سمجھنا چاہیے یہ ایک چھوٹا ہارٹ اٹیک بھی ہو سکتا ہے ایسی صورت میں درد کو برداشت نہ کریں اگر سینے میں درد کے ساتھ سانس کا پھولنا، ٹھنڈے پسینے کا آنا اور دل کا تیز دھڑکنا بھی شامل ہے تو فوراًاپنے معالج سے رجوع کریں

    سر درد کا شکایت:
    جب آپ کو سر درد محسوس ہو تو سمجھ جائیں آپ کا جسم آپ سے کچھ کہہ رہا ہے، بیشتر افراد اس صورت میں پین کلرز کے ذریعے درد کو دبا لیتے ہیں اور کام جاری رکھتے ہیں، اگر آپ صحیح مقدار میں پانی پی رہے ہیں اور پھر بھی سر سے درد نہیں جا رہا تو اس پر ایکشن لینا ضروری ہے سر درد کی بہت سی وجوہات میں سے چند اسباب غذائیت کی کمی کم نیند لینا یا ذہنی دباؤ کا شکار ہونا شامل ہو سکتا ہے

    جسم میں درد کا محسوس ہونا:
    اگر آپ صحت مند ، چاک و چوبند ہیں اور غذا بھی بہتر لے رہے ہیں تو جسم میں درد کا رہنا مناسب علا مت نہیں ، چاہے آپ نے سارا دن بہت مصروف گزارا ہو، اگر آپ بہتر غذا کا استعمال کر رہے ہیں صحت بھی بظاہر اچھی ہے اور پھر بھی جسم میں تھکاوٹ یا درد کی مسلسل شکایت ہے تو معالج سے رابطہ کریں اور اپنے مکمل ٹیسٹ کروائیں
    https://login.baaghitv.com/vitamin-a-ki-kami-ki-chand-nishanian/
    وزن کا بڑھنا یا کم ہونا:
    وزن میں کمی کے خواہشمند افراد اگر اس کے لیے ڈاکٹر کے بتائے ہوئے ڈائیٹ پلان یا ورزش کے بغیر ہی وزن میں کمی آنے لگے تو یہ منا سب علامت نہیں، مگر اس کے نتائج غیر معمولی ہو سکتے ہیں ، بغیرعادات کے بدلنے یا ورزش کے وزن میں کمی آنے لگے تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں آپ ٹی بی، ذیابطیس، وائرل انفیکشن، معدے کی بیماری، ذہنی دباؤ یا کسی اور خاموش بیماری کا شکار بھی ہو سکتے ہیں

    جلد پر تل یا داغ دھبوں کا بننا:
    اگر آپ کے جلد پر اچانک بغیر کسی چوٹ، زخم، ایکنی یا پھنسی پھوڑوں کے داغ دھبے بننے لگیں تو انہیں نظر انداز نہ کریں، چند نشانات یا تلوں کا بننا ایک عام بات ہے مگر ان تلوں میں اضافہ یا داغ دھبوں کا سائز اور رنگ بدل رہا ہے تو ماہر جلدی امراض سے فوری رجوع کریں

    بالوں کا باریک ہونا:
    مردوں کا گنجا ہونا ایک عام سی بات ہے، اگر آپ خاتون ہیں اور گنجی ہو رہی ہیں یا روٹین سے ہٹ کر اپنے بال گرنے لگے ہیں یا بال باریک ہو رہے ہیں تو یہ فکر مند ہونے کی بات ہے بالوں کے باریک ہونے کی وجہ غذائیت ، وٹامنز کی کمی یا کیمکلز کا زیادہ استعمال اور سختی سے باندھ کر رکھنا بھی ہو سکتا ہے

    جلد اور ہونٹوں کا پھٹنا:
    اگر آپ کے ہونٹ اور جلد خشک موسم کے ساتھ گرم موسم میں بھی پھٹ ر ہے ہیں تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں، جسم کا سب سےزیادہ حصہ ہماری جلد پر مشتمل ہے اور اگر یہ خشک ہونے لگے تو یہ فکر مندی کی بات ہے جلد اور ہونٹوں کی پھٹنے کی وجہ وٹامن بی اور بی 12 کی کمی بھی ہو سکتی ہے جوبے خوابی کی وجہ بھی بنتا ہے

  • کینیڈا کی معروف ٹریول بلاگر نے اسلام قبول کر لیا

    کینیڈا کی معروف ٹریول بلاگر نے اسلام قبول کر لیا

    کینیڈا کی معروف موٹر سائیکلسٹ اور ٹریول بلاگر روزی گیبریل نے اسلام قبول کرلیا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر روزی گیبریل نے اپنے تصدیق شدہ اکاؤنٹ سے ہاتھ میں قرآن مجید تھامے تصویریں شئیرکیں اور مذہب تبدیل کرنے کا اعلان کیا



    روزی نے اپنی تصویریں شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ 2019 ان کی زندگی کا سب سے مشکل ترین سال تھا جس میں انہوں نے بہت سے مشکل فیصلے لیے انہوں نے لکھا کہ انہیں اپنی زندگی میں بہت سے چیلنجز اور مشکلات کا سامنا تھا انہوں نے لکھا کہ میں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ تکلیف اور غم و غصے کی حالت میں ہمیشہ خدا سے شکایت کی کہ آزمائش کے لیے میں ہی کیوں؟

    انہوں نے لکھا کہ میں نے روحانیت میں اپنے خوف کا حل تلاش کیا اور اپنے مذہب سے 4 سال قبل دوری اختیار کی انہوں نے مزید لکھا کہ میں اپنی زندگی میں غصے اور تکلیف سے نجات چاہتی تھی اور سکون چاہتی تھی میں تکلیفوں سے نجات چاہتی تھی اور دلی طور پر سکون چاہتی تھی کہ قدرت نے مجھے پاکستان بھیجا جہاں مجھے اپنی منزل مل گئی

    بلاگرز کے مطابق گزشتہ 10 سال میں نے مسلم دنیا میں گزارے اور یہاں مجھے جو چیز سب سے زیادہ ملی وہ سکون تھا بدقسمتی سے اسلام کو دنیا میں غلط معنوں میں پیش کیا جاتا ہے جبکہ اسلام کے اصل معنی امن، انسانیت اور یکسانیت و برابری کے ہیں

    انہوں نے کہا کہ میں اب باضابطہ طور پر مسلمان ہوگئی ہوں اپنی پوسٹ کے آخر میں انہوں نے اپنے مداحوں سے کہا کہ اگر ان کے ذہن میں اس حوالے سے کوئی سوال ہو تو وہ کمنٹ کر کے پوچھ سکتے ہیں

  • چائلڈ پروٹیکشن اینڈ و یلفئر بیورو پنجاب نے نادیہ جمیل کو خیر سگالی سفیر مقرر کر دیا

    چائلڈ پروٹیکشن اینڈ و یلفئر بیورو پنجاب نے نادیہ جمیل کو خیر سگالی سفیر مقرر کر دیا

    نادیہ جمیل چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفئیر بیورو پناجب کی خیر سگالی سفیر مقرر

    نادیہ مقبول عوام میں بہت مقبول ہیں۔لوگ ان کی بات سنتے ہیں : چئیر پرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سائرہ احمد

    لاہور: چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفئیر بیورو پنجاب نے نامور اداکارہ نادیہ جمیل کو خیر سگالی سفیر مقرر کر دیا چیئر پرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد نے کہا کہ نادیہ جمیل انہیں برطانیہ میں بچوں کے بارے میں کئے جانے والے اقدامات سے آگاہ کریں گی ان اقدامات سے بھر پور فائدی حاصل۔کیا جائے گا انہوں نے ان کو خیر سگالی سفیر مقرر کرنے کی وجہ۔بتاتے ہوئے کہا کہ نادیہ جمیل۔عوام میں بہت مقبول ہیں اور لوگ ان کی بات سنتے ہیں ان کے ذریعے چائلڈ پروٹیکشن کے خیر سگالی پیغام اور ادارے کے کام۔کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے میں مدد ملے گی

  • متنازع بھارتی شہریت پر سٹارز کی خاموشی کی وجہ خوف ہے بھارتی فلمساز

    متنازع بھارتی شہریت پر سٹارز کی خاموشی کی وجہ خوف ہے بھارتی فلمساز

    متنازع شہریت قانون کے خلاف چپ رہنے والے بالی وڈ سٹار خوف کا شکار ہیں : کبیر خان

    ماضی میں جن لوگوں نے لب کشائی کی ان پر حملے کئے گئے:بھارتی فلمساز

    کسی کو بھی لب کشائی پر مجبور نہیں کیا جا سکتا : فلمساز

    ممبئی: بھارتی نامور فلم ساز کبیر خان نےمتنازع شہریت ترمیمی قانون کے بارے میں بدستور خاموش رہنے والے با لی وڈ اسٹارز کے بارے میں کہا ہے کہ یہ اُن کی اپنی مرضی ہے ہیں وہ اس معاملے میں بولیں یا نہ بولیں تاہم ان کی اس خاموشی پر اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ انہیں کسی بات کا خوف ہے جس کی وجہ سے وہ کچھ بھی بولنے سے گریز کر رہے ہیں ماضی میں جن لوگوں نے لب کشائی کی ہے اُن پر حملے کئے گئے اور کسی نے بھی ان کا دفاع نہیں کیا کبیر خان نے کہا کہ اگر آپ حق کیلئے لب کشائی کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیں گے تو انہیں لب کشائی پرمجبور نہیں کرسکتے شاید اسی لئے کئی نامور اسٹارزنے ابھی تک سی اے اے یا این پی آر یا این آر سی کے بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے

  • ماں تجھے سلام گیت ماں کے لئے بنایا نہ کہ ملک کے لئے اے آر رحمن

    ماں تجھے سلام گیت ماں کے لئے بنایا نہ کہ ملک کے لئے اے آر رحمن

    وندے ماترم میں شامل ماں تجھے سلام کا گیت شخصی نوعیت کا ہے : اے آر رحمن

    میں نے یہ گیت ملک کو ملحوظ رکھتے ہوئے نہیں گایا یہ میرا شخصی جذبہ رہا ہے کسی بھی دوسرے فرد کی طرح :گلوکار

    ممبئی :آسکر ایوارڈ یافتہ گلوکار اور کمپوزر اے آررحمن نے ماں تجھے سلام گیت کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہا ہے کہ 1997ء کے البم ’وندے ماترم ‘ میں ماں تجھے سلام کا جو گیت شامل کیا گیا تھا وہ شخصی نوعیت کا ہے جیسا کہ کوئی بھی فرد اپنی ماں کیلئے گاتا ہے میں نے بھی ایسا ہی کیا ۔یہ ملک کیلئے یا حب الوطنی کیلئے ریکارڈ نہیں کیا گیا میرا منشا ماں کو سلام کرنے اور اُسے خراج تحسین پیش کرنا رہا انہوں نے کہا میں نے یہ کام یا یہ گیت ملک کو ملحوظ رکھتے ہوئے نہیں گایا بلکہ یہ میرا شخصی جذبہ رہا جیسا کہ کسی بھی دیگر فرد کا ہوسکتا ہے اس گیت کو ملک یا حب الوطنی سے جوڑنا صحیح نہیں ہے اے آر رحمن اپنی فیملی خاص طور پر والدہ سے بہت پیار کرتے ہیں