Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • دُنیا کے مہنگے ترین کھانے

    دُنیا کے مہنگے ترین کھانے

    خوراک انسان کی بُنیادی ضرورت ہے اور پاکستان جیسے مُلک میں عام طور پر ایک آدمی کا پیٹ بھرنے کے لیے 2 روٹیاں کافی ہوتی ہیں جو 10 روپے میں خریدی جا سکتی ہیں اور کئی بیچارے غُربت کی وجہ سے وہ بھی نہیں خرید پاتے لیکن جن لوگوں کو اللہ چھپڑ پھاڑ کر دیتا ہے اُن کے ایک وقت کے کھانے کی قیمت بعض اوقات اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اُتنے پیسے میں ہزاروں آدمی کھانا کھا سکتے ہیں دنیا کےمہنگے ترین کھانےدرج ذیل ہیں جن کی قیمت جہاں آپ کو حیران و پریشان کر دے گی وہاں آپ سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ آج کے دور میں وہ کون لوگ ہیں جو اتنا مہنگا کھانا کھاتے ہیں

    سفید اور کالی ٹرفل:
    سفید ٹرفل دُنیا کی مہنگی ترین ٹرفل ہے جسکی وجہ اس کو پیدا کرنے اور محفوظ کرنے کے لیے خاص ماحول کا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ عام طور پر فرانس میں پیدا ہوتی ہے جس کی یورپ میں قیمت تقریبا 2100 ڈالر فی کلو ہے اور کالی ٹرفل تقریباً 1700 ڈالر فی کلو میں فروخت ہوتی ہے
    وگ یُو بیف:
    بیف سٹیک کھانے کے شوقین حضرات وگ یُو بیف کھانے کے لیے دُنیا بھر سے جاپان کا رُخ کرتے ہیں اور اس جاپانی گائے کا گوشت دُنیا بھر میں گائے کے گوشت میں سب سے زیادہ لذیز مانا جاتا ہے وگ یُو گائے کو خاص خواراک کھلائی جاتی ہے اور روزانہ گائے کی مالش کی جاتی ہے اور اسے ایک خاص قسم کا میوزک سُنایا جاتا ہے اس گائے کا گوشت کی قیمت 450 ڈالر فی کلو ہے، یعنی اتنا مہنگا کے آپ اتنے پیسوں میں پاکستان میں پُوری گائے خرید لیں
    بلوفن ٹیونا مچھلی:
    انتہائی نایاب ٹیونا مچھلی کی اس نسل کا گوشت سُرخ رنگ کا ہے جس کی نسل اب تقریباً ختم ہونے والی ہے اس بلوفن ٹیونا مچھلی کا گوشت تقریباً 4000 ڈالر فی پاونڈ ہے

    پپیتا کھانے کے زبردست اور حیران کُن فائدے


    لابنوتی آلو:
    پاکستان میں عام آلو آجکل 50 سے 100 روپئے کلو ملتا ہے لیکن لابونوتی آلو کوئی عام آلو نہیں ہے اور یہ دُنیا میں صرف فرانس میں اُگایا جاتا ہے اس آلو کی نہ صرف شکل عام آلو سے مختلف ہے بلکے اس کا ذائقہ بھی عام آلو سے بلکل مختلف ہے اور اسے یورپ کے مہنگے ریسٹورینٹس اپنے امیر کسٹمرز کے لیے خریدتے ہیں اس آلو کی فی کلو قیمت تقریباً 1600 ڈالر ہے
    زعفران:
    زعفران کا شُمار دُنیا کے مہنگے ترین کھانوں میں ہوتا ہے اور اسے بادشاہوں کی خوراک سمجھا جاتا ہے دُنیا میں سب سے بہترین کوالٹی کا زعفران ایران میں اُگایا جاتا ہے جسے بیجنے کے بعد تقریباً 3 سال تک اس پودے کی خدمت کرنی پڑتی ہے تب ایک پودے سے باریک دھاگے کی شکل کا تھوڑا سا زعفران حاصل ہوتا ہے جسے نہ صرف مہنگی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے بلکہ بہت سے کھانوں میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے، انٹرنیشنل مارکیٹ میں زعفران کی قیمت 400 ڈالر سے لیکر 1000 ڈالر فی کلو ہے مگر کُچھ اعلٰی کوالٹی کے زعفران ہزاروں ڈالر فی کلو قیمت رکھتے ہیں
    سوالو نیسٹ سُوپ:
    چین میں بنایا جانا والا یہ سُوپ ایک خاص پرندے کے تُھوک سے بنایا جاتا ہے اور اس میں عام طور پر اور کوئی چیز استعمال نہیں ہوتی اس سُوپ کے مہنگے ہونے کی سب سے بڑی وجہ اس کا تُھوک حاصل کرنا ہے اور یہ ایک خطرناک کام ہے کیونکہ یہ پرندہ اپنا گھونسلا اونچی چٹانوں پر بناتا ہے اس سُوپ کی فی کلو قیمت 3000 ڈالر ہے

    گھر کو ہیٹر کے بغیر گرم رکھنے کی آسان تراکیب


    ڈن سُوکی تربوز:
    انتہائی نایاب نسل اور کالے رنگ کا یہ تربوز جاپان میں پیدا ہوتا ہے اوراسے عام طور پر بولی پر بیچا جاتا ہے جس میں اس کی بولی 6100 ڈالر فی تربوز تک چلی جاتی ہے
    موز ملک چیز:
    دُنیا کی سب سے مہنگی چیز جو دُنیا میں سوائے سویڈن کے مُوز فارم ہاوس کے علاوہ اور کہیں نہیں بنتی اسے دُنیا کی سب سے مزیدار چیز بھی مانا جاتا ہے جو کھانے کا ذائقہ ڈرامائی طریقے سے انتہائی شاندار کر دیتی ہے اس چیز کی فی کلو قیمت 1074 ڈالر ہے
    یُبراکی کنگ تربوز:
    ن سُوکی تربوز کے بعد یہ دُنیا کا دُوسرا مہنگا ترین تربوز ہے جو اندر سے مالٹے جیسا ہوتا ہے اور اس کا ذائقہ عام تربوز سےکہیں مختلف ہوتا ہے، اپنی بڑی ڈیمانڈ کی وجہ سے یہ تربوز بھی بولی پر فروخت کیا جاتا ہے اور عام طور پر اس کی فی تربوز قیمت 5000 ڈالر ہے
    کلوگا کیوئر:
    انتہائی نایاب قسم کی مچھلی کے یہ انڈے دُنیا کے مہنگے ترین کھانوں میں شُمار ہوتے ہیں جن کی فی کلو قیمت 7 ہزار ڈالر سے لیکر 12 ہزار ڈالر تک ہے

  • گردوں کے فیل ہونے کے اسباب اور علاج

    گردوں کے فیل ہونے کے اسباب اور علاج

    اللہ تعالی نے انسان کو گو گُردوں سے نوازا ہے یہ اصل میں غدود ہوتے ہیں پسلیوں کے نیچے پیٹ کی طرف کمر میں دائیں اور بائیں طرف واقع ہوتے ہیں گردہ 11 سینٹی میٹر لمبا کم و بیش سات سینٹی میٹر چوڑا اور دو یا تین سینٹی میٹر موٹا ہوتا ہے ہر گردے میں دس لاکھ سے زائد ناکی دار غدود نیفران یا فلٹر ہوتے ہیں گردوں میں ایک اندازے کے مطابق 24 گھنٹوں میں پندرہ سو لیٹر خون گزرتا ہے گُردے انسانی جسم کے انتہائی اہم عضو ہیں جو جسم سےزہریلے مادے خارج کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور جسم میں باڈی فلوئڈ کا بیلنس رکھتے ہیں اور الیکٹرولائٹس کی مقدار کو پُورا رکھتے ہیں ہمارے جسم میں موجود خون دن میں کئی دفعہ گُردوں سے پاس ہوتا ہے اور گُردے اُسے ہر وقت صاف کرنے میں مصروف رہتے ہیں اورخون میں موجود نمک اور پانی اور منرلز کو ایڈجسٹ کرتے ہیں ہماری خوراک اگر ٹھیک نہ ہو تو خون میں موجود فاضل گندگی گُردوں میں جمع ہونی شروع ہوجاتی ہے اور ان کے کام کرنے کی صلاحیت کو سُست کر دیتی ہے اور اگر یہ کسی بیماری کا شکار ہوجائیں تو یہ کام کرنا بند بھی کر دیتے ہیں اور ایسے میں ان کا علاج جہاں کافی مہنگا ہے وہاں مریض کو انتہائی تکلیف سے گُزرنا پڑتا ہےانٹرنیشنل کڈنی فاوندیشن کے مُطابق دُنیا میں کئی ملین افراد گُردوں کی بیماری کا شکار ہیں اور ہمارے مُلک پاکستان میں مریضوں کی ایک بڑی تعداد اس بیماری میں مُبتلا ہےپانی زندگی ہے اور اسے زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے مگر حد سے نہیں بڑھنا چاہیے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ایک مرد کو دن میں کم از کم 13گلاس پانی ضرور پینا چاہیے اور خواتین کو کم از کم 8 گلاس پانی روزانہ پینا چاہیےپانی گُردوں سے فاضل مادوں کی صفائی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور Waste کو گُردوں سے نکال کر پیشاب کے ذریعے جسم سے خارج کردیتا ہے

    گُردوں کے امراض جدید تحقیق کی روشنی میں


    پیاز:
    پیاز بہت سی بیماریوں کا دُشمن ہے اس کے اندر موجود فلیوونوئڈزاور کیروسٹین خون کی نالیوں میں چربی کو جمنے نہیں دیتے اور یہ گُردوں کی دوست سبزی ہے جس میں پوٹاشیم کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اور پیاز کا استعمال گُردوں کی اوورآل کارکردگی کو بہتر بناتا ہے
    بند گوبھی:
    بندگوبھی ایک انتہائی مُفید سبزی ہے جو وٹامنز سے بھر پُور ہونے کیساتھ ساتھ اپنے اندرفیٹو کیمیکلز کی ایک بڑی مقدار کیساتھ اینٹی آکسیڈینٹ خوبیوں کی حامل ہے یہ اینٹی آکسائیڈینٹ خوبیاں گُردوں کے ڈیڈ سیلز کو مرمت کرتی ہیں اور گُردوں کے افعال کو دُرست کرتی ہیں
    سُرخ شملہ مرچ:
    سُرخ شملہ مرچ جہاں کھانوں کو مزے دار بناتی ہے وہاں اس کے اندر موجود وٹامنز سی بی 6 اے گُردوں کے لیے انتہائی مُفید ہے اور وٹامن سی گُردوں کی صفائی کردیتا ہےسُرخ شملہ مرچ میں فائبر کی بھی ایک بڑی مقدار ہوتی ہے جو نظام انہظام کے ساتھ گُردوں میں موجود Waste کو فلٹر ہونے میں مدد کرتی ہے سُرخ شملہ مرچ اینٹی آکسائیڈینٹ بھی ہوتی ہے جو گُردوں کے ساتھ ساتھ جگر کے لیے بھی انتہائی مُفید ہے

    وٹامن سی کی کمی کی چند اہم نشانیاں


    لہسن:
    لہنس بیماریوں کے خلاف کسی میڈیکل سٹور سے کم نہیں جو خون کو صاف کرنے میں انتہائی معاون سبزی ہے اس کی اہنٹی آکسائیدینٹ خوبیاں گُردوں اور جگر کی مرمت کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی صفائی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں
    مچھلی:
    مچھلی پروٹین حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے جس میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈ گُردوں اور جگر میں جمی گندگی کو صاف کرنے میں انتہائی مدد گار ثابت ہوتا ہے
    گوبھی:
    گوبھی وٹامن سی فولیٹ اور فائبر سے بھرپُور سبزی ہے جو گُردوں کی دوست ہے جو اسے خون کو صاف کرنے میں فعال بناتی ہے
    سیب:
    روزانہ ایک سیب کھانا آپ کو ڈاکٹر سے محفوظ رکھتا ہے یہ جسم سے کولیسٹرال کا خاتمہ کرتا ہے اور گُردوں اور جگر کو فعال رکھتا ہے
    لیمن جُوس:
    وٹامن سی سے بھرپُور لیموں گُردوں اور جگر کی صفائی کے علاوہ نظام انہظام کو بہتر بنانے میں انتہائی مدد گار ہے
    تربوز، سُرخ انگور، چیری، سٹابری، بلو بیری:
    یہ فروٹس وٹامنز منرلز سے بھرپور ہونے کیساتھ ساتھ پانی سے بھی بھر پُور ہوتے ہیں اور جسم میں پانی کی کمی کو پُورا کرتے ہیں اور گُردوں کی سستی کو دور کرتے ہیں

    سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈر (SAD) کی علامات علاج اور احتیاطی تدابیر


    کیل:
    یہ ایک انتہائی کارآمد سبزی ہے جو جسم میں بلڈ شوگر کے لیے انتہائی مُفید ہے شوگر کی زیادتی گُردوں کو انتہائی نقصان پہنچاتی ہے اگر آپ گُردوں کی کسی بیماری میں مُبتلا ہیں تو اس سبزی کے استعمال سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں اور اُس جانیں کے آپ اس کی کتنی مقدار استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ اس کی زیادہ مقدار نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہے
    گردے فیل ہونے کی وجوہات:
    گردے فیل ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں چند اہم درج ذیل ہیں گردے کی جھلی کی سوزش جھلی فلٹر یا نیفران کی ایک طرف فاسد مادے ہوتے ہیں دوسری طرف شفاف مادے جھلی کا کام فاسد مادوں کو فلٹر کرنا ہے یہ جھلی اگر کام نہ کرے کسی وجہ سے خراب ہو جائے تو اس کے ساتھ والی جھلیاں بھی خراب ہونا شروع ہو جاتی ہیں جس سے گردہ کام کرناچھوڑ دیتے ہیں اس سے پیشاب کے اندر خون یا چربی آنا شروع ہو جاتی ہے گردہ فیل ہونے کی سب سے زیادہ وجہ جھلی کی سوزش ہی بنتی ہے دوسری وجہ شوگر اور ہائی بلڈ پریشر ہے اگر شوگر کا مرض ہو تو اس کے عموماً دس تا پندرہ سال کی مدت کے بعد گردوں کی خرابی کا شکار ہو جاتا ہے اس لئے شوگر کے مریضوں کو بہت احتیاط کرنی چاہئیے اور شوگر کنٹرول رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیئے اسی طرح بلڈ پریشر کی زیادتی کی وجہ سے گردے خراب ہو جاتے ہیں بلڈ پریشر کے مریضوں کو اپنا بلڈ پریشر کنٹرول رکھنا بے حد ضروری ہے ایسا نہ کرنے سے گردوں کے ساتھ ساتھ دل کا دورہ اور فالج بھی ہو سکتا ہے

  • شہد سے جلد کو خوبصورت بنانے کے بہترین طریقے

    شہد سے جلد کو خوبصورت بنانے کے بہترین طریقے

    شہد کی افادیت:
    شہد کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اس کو کھانے سے جہاں ہر بیماری کے لیے شفا ہے وہاں اسے جلد پر لگانے سے بیشمار فائدے حاصل ہوتے ہیںں جلد کی خوبصورتی کو نرقرار رکھنے میں شہد اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ شید میں قدرت نے ایسی خصوصیات رکھی ہیں کہ وہ ہر قسم کے بیکٹیریا کو زائل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے شہد کھانسی بند ناک کو کھولنے اور خراب گلے کے لئے بھی بے حد مفید ہے اسے کھانے سے نہ صرف بیماریاں دور ہوتی ہیں بلکہ چہرے پر لگانے سے بے رونق اور خشک جلد بھی تازہ دم ہو جاتی ہے اس کے علاوہ چہرے پر خالص شہد کا لیپ دینے سے خراب جلد بھی نرم ہو جاتی ہے ایسی خواتین جن کی جلد خشک ہوتی ہے انہیں چاہیے کہ ایک چمچ شہد میں ایک چمچ دودھ ایک چمچ بادام روغن ملا کر ماسک بنا لیں اور اس کو دس منٹ چہرے پر لگائیں اس سے جلد تازہ دم اور نرم و ملائم ہو جائے گی اگر بہت تیز میک اپ سے آپ کا چیرہ خراب ہو گیا ہو تو شہد اس کے لئے بھی مفید ثابت ہوتا ہے روازنہ دس منٹ خالی شہد کا ماسک لگانے سے بھی جلد ٹھیک ہو جاتی ہے اگر آپ کے ہاتھ کھردرے ہیں تو روزانہ شہد کا مساج کرنے سے ہاتھ نرم ہو جائیں گے دو چائے کے چمچ کھیرے کا رس اور ایک ایک چمچ دودھ اور شہد کا لےکر مکس کر کے ماسک بنا لیں دس منٹ لگانے کے بعد ٹھنھڈے پانی سے منہ دھو لیں اس کے علاوہ شہد بادام روغن اور انڈا لے کر ماسک بنا لیں اور اسے چہرے پر لگائیں آئلی جلد کے لئے یہ ایک بہترین ماسک ہے شہد سے جلد کو خُوبصورت بنانے کے چند ایسے ٹوٹکے مندرجہ ذیل ہیں جنہیں جلد کو خُوبصورت بنانے کے لیے صدیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے

    چہرے کے کیل مہاسوں اور دانوں سے نجات کے لئے تراکیب


    چہرے کی جھریوں کے لیے:
    چہرے کی جھریاں ختم کرنے کے لیے ایک چمچ شہد میں ایک چمچ لیموں کا رس شامل کر کے مکسچر بنا لیں اور پھر اسے چہرے پر مل لیں اور پندراں منٹ تک لگا رہنے دیں 15 منٹ کے بعد چہرے کو پانی سے دھو دیں اور اس عمل کو جھریاں ختم ہونے تک روزانہ جاری رکھیں، یہ چہرے کی جھریاں ختم کرنے کا بہترین ٹوٹکا ہے جو بازار کی مہنگی کریموں سے بہت سستا ہے یہ مرہم صدیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے اور اس سےانتہائی مُفید نتائج حاصل ہوتے ہیں پیاز کا پانی دو چمچ لے کر ایک چمچ شہد میں مکس کر لیں اور اسے چہرے پر لگائیں اور 15 منٹ بعد چہرہ نیم گرم پانی سے دھو کر آئینہ دیکھیں آپکا دل خُوش ہوجائے گا

    کلینزنگ کا بہترین طریقہ


    چکناہٹ سے پاک صاف چہرے کے لئے ماسک:
    چکنی جلد کے لئے ماسک ایک ایسی حفاظتی تہہ ہے جس کو لگانے سے چہرہ نہ صرف غیر ضروری چکناہٹ سے پاک رہتا ہے بلکہ چہرے کی قدرتی نمی کو بحال رکھتا ہے اس مقصد کے لئے ملتانی مٹی اور شہد سے تیار کردہ ماسک بہتر نتائج اخذ کرتا ہے
    اجزاء:
    ملتانی مٹی ایک کھانے کا چمچ
    شہد ایک کھانے کا چمچ
    ہلدی ایک چٹکی
    بنانےکا طریقہ:
    تقریباً دو چمچ پانی میں سب چیزوں کو ملا کر ماسک تیار کر لیں اور دس سے پندرہ منٹ تک چہرے پر لگا رہنے دیں یہ جلد میں موجود چکناہٹ کو جذب کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے ماسک اتارنے کے بعد چہرے پرچند قطرے عرق گلاب لگالیں اس سے چہرہ خشکی کا شکار نہیں ہوتا

    شہد اور کھجور کی طبی خصوصیات


    داغ دھبوں سے چہرے کی صفائی اور جھریوں کے لیے:
    ایک انڈے کو توڑ کر اچھی طرح پھینٹ لیں اور پھر اُس میں ایک چمچ شہد شامل کر کے مکس کر لیں اور اُسے چہرے پر لگائیں اور 15 منٹ کے بعد نیم گرم پانی سے دھو دیں اور پھر چہرے کو ٹھنڈے پانی سے دھوئیں یہ عمل چہرے پر بڑھتی عمر کے اثرات کو ختم کردے گا اور آپ کی جلد کو چمکدار اور توانا کردے گا
    ہاتھوں کی جلد کو ملائم کرنے کے لیے:
    سنگترے کا رس اور شہد ہم وزن مکس کر لیں اور اسے ہاتھوں پر آہستہ آہستہ ملیں اور کُچھ دیر کے بعد اسے سادہ پانی کیساتھ دھو دیں آپ مہنگی کریموں کو بھول جائیں گے
    شہد اور کیلے کا ماسک:
    شہد میں کیلے کا گودا اور تھوڑا سا لیموں کا عرق ڈال کر مکس کر لیں اس ماسک کو سورج طلوع ہونے سے پیلے چہرے پر لگا لیں اور سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی پانی سے دھو لیں چہرہ صاف اور چمکنے لگے گا اس کے علاوہ انڈے کی زردی اور لیموں کا رس اور شہد میں ملا کر چہرے پر لگائیں تو اس سے چہرے کی خشک جلد نرم و ملائم ہو جائے گی
    خُشک جلد کے لیے:
    جلد کی خُشکی ایک عام بیماری ہے جو خاص طور پر خُشک موسم میں جلد پر اثر انداز ہوتی ہے عام طور پر اس خُشکی کو دُور کرنے کے لیے جو کریمیں اور لوشن وغیرہ استعمال کیے جاتے ہیں وہ عارضی طور پر آپ کی جلد کو تندرست کر دیتے ہیں مگر جیسے ہی لوشن اُترتا ہے جلد پھر سے خُشک ہو جاتی ہےجلد کی خشکی سے مکمل نجات کے لیے شہد میں عرق گُلاب شامل کرکے اُسے چہرے اور ہاتھوں پر ملیں اور کُچھ دیر بعد دھو دیں یہ جلد سے خُشکی کو جڑ سے اُکھاڑ دے گا اور آپ کی جلد خُوبصورت اور توانا کر دے گا اس کے علاوہ روزانہ دو سے تین چمچ شہد کو نیم گرم پانی میں ڈال کر پینا بھی جلد کی خشکی کے لیے انتہائی مُفید ہے

    چہرے کے نکھارکے لیے نہایت آزمودہ ماسک


    بلیک ہیڈ ختم کرنے کے لیے:
    شہد کو تھوڑا گرم کرلیں اور اسے چہرے پر بلیک ہیڈ پر مل دیں اور کُچھ دیر بعد چہرے کو نیم گرم پانی کے ساتھ دھو ڈالیں، آپکو حیرت انگیز فوائد حاصل ہوں گے
    شہد کا ماسک:
    دُودھ اور شہد ہم وزن لیکر اس میں دس سے پندراں بادام ڈال کر اچھی طرح پیسٹ بنا لیں اور اس ماسک کو چہرے پر لگائیں اور کم از کم اسے ایک گھنٹہ تک چہرے پر لگا رہنے دیں اور پھر تازہ پانی کیساتھ چہرہ دھو لیں یہ چہرے کی جلد کو خُشکی سے نجات دلا کر چمکدار اور صحت مند بنا دے گا اگر چہرے کی جلد چکنی ہے تو اس ماسک کا استعمال مت کریں
    خالص شہد کی پہچان:
    شہد کے چند قطرے پانی کے گلاس میں ٹپکائیں اگر شہد اصلی ہو گا خالص ہو گا تو وہ قطرے اسی حالت میں گلاس کے پیندے میں پڑیں رہیں گے کیونکہ شہد آسانی کے ساتھ پانی میں حل نہیں ہوتا روٹی پر شہد لگا کر کتے کو ڈالیں اگر کتا شہد والی روٹی نہ کھائے تو شہد اصلی ہے کیونکہ کتا شہد نہیں کھاتا

  • بڑی آنت کو صاف ستھرا اور صحت مند رکھنے کے طریقے

    بڑی آنت کو صاف ستھرا اور صحت مند رکھنے کے طریقے

    انسان کی بڑی آنت تقریباً 5 فٹ لمبی ہوتی ہے اور ہماری صحت کو برقرار رکھنے میں اس کا انتہائی اہم کردار ہے اور اگر اسےنظر انداز کردیا جائے تو ہم بہت ساری تکلیف دہ بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں بڑی آنت کو صاف ستھرا اور صحت مند رکھنے کے جن پر عمل کر کے آپ صحت مند اور توانا رہ سکتے ہیں
    وٹامن سی:
    اپنی خوراک میں وٹامن سی کی مقدار کو بڑھائیں یہ وٹامن ہمیں بہت سارے فروٹس اور سبزیوں سے حاصل ہو سکتا ہے اور یہ وٹامن بڑی آنت میں سے گندگی کی صفائی کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے
    ورزش:
    انسانی جسم کو چاک و چوبند رکھنے کے لیے ورزش بہت ضروری ہے اس لیے اسے اپنی روزنہ کی روٹین کا حصہ بنائیں تاکہ جسم کا ایمیون سسٹم ٹھیک ہو اور آپ کے جسم کے سارے اعضا ٹھیک سے کام کریں
    پانی:
    کم پانی پینے سے قبض جیسی بیماریوں کے علاوہ اور بہت سی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں، اس لیے روزانہ کم از کم ڈیڑھ سے دو لیٹر پانی کو اپنی خوراک حصہ بنائیں اس کے علاوہ ایسی پھل اور سبزیاں جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہو اُسے اپنی خوراک میں شامل کریں جیسے کھیرا تربوز ٹماٹر اور اسٹرابریز وغیرہ
    ہائی فائبر کھانے:
    فائبر سے بھرپوُر کھانے خوراک کو ہضم کر کے خارج کرنے میں انتہائی مدد گار ثابت ہوتے ہیں اور فائبر سے بھرپُور کھانے بڑی آنت کو گندگی سے صاف کر دیتے ہیں سبز پتوں والی سبزیاں دالیں بروکلی وغیرہ میں فائبر کی ایک بڑی مقدار شامل ہوتی ہے لہذا ان کھانوں کو روزانہ کی خوراک میں شامل کریں
    نمک:
    نمک بھی بڑی آنت کی صفائی کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے نہار مُنہ گرم پانی میں تھوڑا نمک شامل کر کے پی لینے سے بڑی آنت کی صفائی ہو جاتی ہے اور کوشیش کریں کے پنک سالٹ جسے ہمالیہ کا نمک بھی کہتے ہیں وہ استعمال کریں
    قہوے:
    ادرک کا قہوہ، سبز چائے کا قہوہ اور دیگر قہوے بڑی آنت کی صفائی کرنے میں مددگار ہیں اور یہ خوراک کو ہضم کرنے اور جُز بدن بنانے میں بھی انتہائی مُفید ہیں یہ خوراک میں شامل چکنائی کو جمنے نہیں دیتے اور نظام انہظام کو بہتر بناتے ہیں
    سٹارچ کو خوراک کا حصہ بنائیں:
    سٹارچ آپ کو بہت سی سبزیوں اور پھلوں سے حاصل ہو سکتی ہے خاص طور پر آلو، چاول ، سبز کیلے وغیرہ اس سے بھرپُور ہوتے ہیں اور یہ جسم میں گٹ مائیکرو فلورا کی تعداد کو بڑھاتی ہے جو بڑی آنت کے لیے انتہائی مفید ہے اور بڑی آنت کے کینسر سے بچاتا ہے
    پروبائیوٹیک کا استعمال:
    دہی پروبائیوٹیک حاصل کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ ہے جس میں شامل دوست بیکٹریا بڑی آنت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے، جدید تحقیق کے مُطابق یہ بڑی آنت کے کینسر سے بچاتا ہے اور بائل موومنٹ کو بہتر بناتا ہے دہی کے علاوہ آپ پروبائیوٹیکس سیب کے سرکہ سے حاصل کر سکتے ہیں اور پنیر کی کُچھ قسمیں بھی پروبائیوٹیکس سے بھر پور ہوتی ہیں

  • کیڑوں مکوڑوں اور چھپکلیوں کو گھر سے بھگانے کے گھریلو طریقے

    کیڑوں مکوڑوں اور چھپکلیوں کو گھر سے بھگانے کے گھریلو طریقے

    کیڑے مکوڑے اور چھپکلیاں جہاں کراہت پیدا کرتے ہیں وہاں گھر کی خوبصورتی کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں اور ان کو مارنے والے زہریلے سپرے گھر میں موجود ہمارے چھوٹے بچوں سمیت ہمارے لیے بھی نقصان دہ ہوتے ہیں اور ماحول دوست نہیں ہوتے مندرجہ ذیل چند طریقے اپنانے سے جو جہاں آپکی اور آپکے بچوں کی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہیں وہاں حشرات کو آپ کے گھر سے دُور رہنے پر مجبور کر دیں گے
    پودینے کا تیل:
    پودینے کا تیل اور اس کی خوشبو حشرات کو انتہائی نا پسند ہے مگر یہ تیل کُچھ لوگوں میں جلد پر جلن پیدا کرتا ہے لہذا اس کو سپرے کرنے سے پہلے اس میں پانی شامل کر لیں اور اسے گھر کی اُن جگہوں پر سپرے کریں جہاں حشرات موجود ہوں خاص طور پر گھر کی کھڑکیوں روشن دانوں اور دروازوں کے اردگرد اس سپرے کو چھڑکیں تاکہ گھر کے اندر حشرات داخل نہ ہوں
    کینو مالٹے اور لیموں کے چھلکے:
    تازہ سٹرس فروٹس کے چھلکے کی خُشبو حشرات کو انتہائی ناگوار گُزرتی ہے لہذا اپنے گھر کے اردگرد اس کے چھلکے رکھ دیں خاص طور پر گھر کے داخلی راستوں میں روشن دانوں اور کھڑکیوں کے پیچھے تاکہ حشرات ایسے مقامات پر اپنا بسیرا ختم کریں اور دُور بھاگیں
    اینٹی حشرات پینٹ:
    مچھروں کو مارنے والا پینٹ ملیریا اور ڈینگی کے خلاف ایک انتہائی زبردست ایجاد ہے مگر یہ ابھی پاکستان میں عام دستیاب نہیں ہے اور مہنگا بھی ہے مگر اگر ایک بار گھر کو اس پینٹ سے پینٹ کر لیا جائے تو پھر سکون ہی سکون ہے
    شاہ بلوط :
    شاہ بلوط حیرت انگیز طور پر حشرات کو ناپسند ہیں اور ان کی خوشبو اُنہیں دُور سے ہی دُور رکھتی ہے اس لیے آپ ان کا استعمال حشرات کو بھگانے کے لیے کر سکتے ہیں اور ذہانت سے انہیں گھر کے ایسے حصوں میں رکھیں جہاں سے حشرات گھر میں داخل ہوتے ہیں یعنی دروازے کھڑکیاں اور روشن دان وغیرہ

    ڈراونے خواب کیوں آتے ہیں ان سے بچنے کے چند طریقے


    حشرات کو بھگانے والا سپرے خود بنائیں:
    حشرات اور چھپکلیوں کو بھگانے کے لیے سیب کا سرکہ کوئی بھی کوکنگ آئل سُرخ مرچ اور برتن دھونے والا لیکوڈ سوپ (لیموں کی خوشبو والا بہترین ہوگا) پانی میں اچھی طرح حل کر کے گھر میں روزانہ سپرے کریں خاص طور پر گھر کے داخلی راستوں اور دروازے کھڑکیوں پر یہ سپرے روزانہ کریں
    لیڈی بگ:
    گھر کے باہر اور گھر کے صحن میں پودے لگائیں اور لیڈی بگ کو اُن پودوں پر جگہ دیں، لیڈی بگ اگرچہ خود حشرات میں شُمار ہوتی ہے مگر جہاں یہ ہو وہاں دُوسرے حشرات نہیں آتے اسکے ساتھ ساتھ یہ اپنے ماحول کے اردگرد حشرات کا سارا کھانا کھا جاتی ہے چنانچہ حشرات جہاں یہ موجود ہو وہاں فاقے کی حالت میں زیادہ عرصہ گُزارا نہیں کر پاتے اور جہاں حشرات نہ ہوں وہاں چھکلی بھی نہیں رہتی
    دیودار کی لکڑی:
    دیودار کی لکڑی کی خُوشبو بھی حشرات کو انتہائی ناپسند ہے اور اگر اس لکڑی کا بُورہ گھر میں حشرات کی موجودگی والے مقامات پر رکھ دیا جائے اور گھر کے داخلی راستوں کے قریب اسے پھیلا دیا جائے تو یہ حشرات کو گھر سے دُور رہنے پر مجبور کر دیتا ہے
    پالتو بلی:
    بلی پالتو جانوروں میں شمار ہوتی ہے جو گھر کے بچے کُچھے کھانے پر گُزارا کر لیتی ہے اور گھر کے بچوں کیساتھ کھیلتی بھی ہے بلی حشرات کی دُشمن ہے اور اُن کا پیچھا کر کے اُنہیں ٹھکانے لگا دیتی ہے اورحشرات کے ساتھ ساتھ چھکلیاں کھا جاتی ہے اور چوہوں کی آتما کی شانتی کے لیے بھی تن تنہا کام کرتی رہتی ہے

    سونے کے زیورات چمکائیں اب گھر میں


    پودینے کے پتے اور کالی مرچ:
    پودینے کے پتے اور کالی مرچ کے پاوڈر کو کسی ملک شیک کرنے والے جگ میں ڈال کر اچھی طرح شیک کر کے بوتل میں ڈال کر گھر میں روزانہ سپرے کریں خاص طور پر پردوں کے پیچھے اور دروازے کھڑکیوں پر حشرات بھاگ جائیں گے اور اس سپرے کو وہاں بھی چھڑکیں جہاں چھکلیوں کا بسیرا ہو
    گھر کے اندر اور باہر صفائی کا خیال رکھیں:
    کیڑے مکوڑے مچھر وغیرہ عام طور پر وہیں ڈیرے ڈالتے ہیں جہاں گندگی ہو اور چھکلیاں بھی وہیں پروان چڑھتی ہیں جہاں اُسے کھانے کے لیے وافر مقدار میں کیڑے مکوڑے ملیں لہذا اپنے گھر کے اندر اور باہر صفائی رکھیں اور گھر کے فرش کو ہفتے میں کم از کم 3 سے 4 دفعہ فنائل سے صاف کریں

  • پپیتا کھانے کے زبردست اور حیران کُن فائدے

    پپیتا کھانے کے زبردست اور حیران کُن فائدے

    پپیتا گرم علاقوں میں پیدا ہونے والا پھل ہے اور اپنے ذائقے خوبصورت رنگ اور صحت کے لیے بے پناہ فائدوں کی وجہ سے ساری دُنیا میں مقبول ہے اس کے بیج نہایت سخت ہیں جو کہ تقریباً شہ گوشہ ہوتے ہیں اور پھل زرد آلو کے برابر ہوتا ہے رنگ باہر سے بھورا سیاہ اور اندر سے نیم شفاف ذائقہ تلخ مزاج گرم درجہ سوم و خشک درجہ سوم مقدار خوراک دو چاول سے چار چاول تک مقام پیدائش جزائر فلپائن اور چین پپیتا کھانے کے فائدے اور نقصانات درج یل ہیں نہیں پڑھ کر آپ جان پائیں گے کہ یہ مفید پھل آپ کی صحت پر کیا مثبت اثرات مرتب کرتا ہے اور کس وقت اس پھل کو نہیں کھانا چاہیے
    آنکھوں کی بینائی کے لئے:
    اس میں موجود بیٹا کروٹین اور وٹامن اے کی وجہ سے بینائی تیز رہتی ہے پپیتا اینٹی آکسائیڈینٹ سے بھرپُور پھل ہے خاص طور پر اس میں موجود زیازینتھن اینٹی آکسائیڈینٹ نقصان دہ نیلی شعاؤں کو آنکھوں کو متاثر نہیں کرنے دیتا اور آنکھوں کی صحت کے لیے انہتائی مفید ہے پپیتا اور دیگر پھلوں کا زیادہ استعمال عُمر کے بڑھنے کے ساتھ زوال پزیر زوال پزیر آنکھوںکو تقویت دیتے ہیں اور زوال کے اس عمل کو سُست کرتے ہیں جن لوگوں کو کمزور نظر کا مسئلہ درپیش ہو انہیں چاہیے کہ وہ اس کا باقاعدگی سے استعمال کریں

    گُڑ کے حیران کن طبی فوائد


    ہڈیوں کے لئے:
    ہمارے جسم میں وٹامن K کی کمی ہماری ہڈیوں کو کمزور بناتی ہے اور اس کمی کی صورت میں معمولی چوٹ سے بھی ہڈی ٹُوٹ جانے کا خدشہ ہوتا ہے وٹامن K ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے اور ہمارے جسم کو کیلشیم جذب کرنے میں مدد دیتا ہے اور وہ افراد جو وٹامنKکی کمی کا شکار ہیں پپیتا اُن کے لیے انتہائی مُفید غذا ہے
    ذیابیطس کے لئے:
    میڈیکل سائنس کی تحقیقات کے مُطابق ذیابطیس ٹائپ 1 میں مُبتلا افراد جب ڈائٹری فائبر کا زیادہ استعمال کرتے ہیں تو اُن کے خون کی شوگر کا لیول بڑھتا نہیں ہے اور ذیابطیس ٹائپ 2 میں مبتلا افراد میں فائبر کا زیادہ استعمال اُن کے خُون میں شوگر کو نارمل رکھتا ہے ایک چھوٹے سائز کا پپیتا 3 گرام جلد ہل ہوجانے والی ڈائٹری فائبر پر مشتعمل ہوتا ہے جو اسے ذیابطیس کے مریضوں کے لیے انتہائی مُفید غذا بناتا ہے
    https://login.baaghitv.com/health-benefits-of-onions/
    نظام انہضام کے لئے:
    پپیتے میں موجود قدرتی کیمیائی خمیرہ “پاپین” ایک طاقتور اور مُفید کیمیا ہے جو جہاں گوشت کوبغیر پکائے گلا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے وہاں نظام انہظام کے لیے بھی انتہائی مُفید چیز ہے اس کیمیا کے ساتھ پپیتے میں موجود فائبر اور پانی کی بڑی مقدار نظام انہظام کو فعال کرتی ہے اور قبض جیسی بیماری کو پیدا نہیں ہونے دیتی جن لوگوں کو سینے میں جلن یا چبھن کی شکایت ہو تو انہیں چاہئے کہ وہ پپیتے کا استعمال کریں ان میں موجود انزائمز کی وجہ سے معدہ صحیح طرح سے کام کرتا ہے اور آپ اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں
    دمہ کی بیماری میں مُفید :
    دمہ کی بیماری جہاں تکلیف دہ ہے وہاں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے اور وہ لوگ جو ایسے پھلوں او رسبزیوں کا استعمال کرتے ہیں جس میں بیٹا کیروٹین جیسے کیمیا موجود ہوں اُن لوگوں میں دمہ کی بیماری کے چانسز بہت کم ہو جاتے ہیں اور پپیتا بیٹا کیروٹین سے بھرپُور پھل ہے جو نظام تنفس کو تقویت دیتا ہے اور سانس کی نالیوں کی بندش کو ختم کرتا ہے

    امرود قدرت کی ایک خاص نعمت امرود کے کرشماتی فوائد


    پپیتا دل کے لیے مفید :
    پپیتے میں شامل فائبر وٹامنزاور پوٹاشیم دل کی بہت سی بیماریوں کو دُرست کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں خاص طور پر دل کی بیماری کی صورت میں پوٹاشیم کا زیادہ استعمال اور سوڈیم کا کم استعمال دل کو تقویت دینے کے لیے انتہائی مُفید ثابت ہوتا ہے
    کینسرکے خلاف مدافعت:
    پپیتا آینٹی آکسائیڈینٹ سے بھرپور پھل ہے اور یہ اینٹی آکسائیڈینٹس ہمارے جسم کو بہت سے کینسر کے امراض سے بچانے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں خاص طور پر بیٹا کیروٹین مردوں کے پروسٹیٹ کینسر میں انتہائی مُفید اور راحت کا سبب بنتا ہے جبکہ خواتین کو چھاتی کے کینسر سے بچاتا ہے اس کی وجہ سے خون کا کینسر ہونے کا خدشہ بھی کم ہوتا ہے ساتھ ہی کولون کینسر سے بچاتا ہے
    اعضا کی سوزش میں مُفید:
    پپیتا صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند کیمیا چولین سے بھر پُور ہے اور چولین سونے کے دوران ہمارے جسم کو تقویت دیتا ہے یہ ہمارے پٹھوں کو مضبوط بناتا ہے اور یاداشت اور پڑھنے کی صلاحیت کو بہتر کرتا ہے یہ ہمارے نروس سسٹم کے لیے بھی انتہائی مُفید چیز ہے اور فاضل چربی کو پگھلاتا ہے اور اعضا کی دائمی سوزش کو آرام دیتا ہے
    https://login.baaghitv.com/benefits-of-mint/
    زخموں کو جلد بھر دیتا ہے:
    قُدرت نے پپیتے میں ایسے کیمیا رکھے ہیں جو زخموں کو جلد بھرنے اور جلی ہُوئی جلد کو ٹھیک کرنے میں کسی اکسیر سے کم نہیں ہیں
    بالوں کے لئے مفید:
    پپیتے میں شامل وٹامن اے ہمارے بالوں کے لیے انتہائی مفید چیز ہے وٹامن اے بالوں کی جڑوں کو خُشک نہیں ہونے دیتا اور بالوں میں موسچرائزر قائم رکھتا ہے جسکی وجہ سے بال گرنے سے بچ جاتے ہیں، پپیتے میں شامل وٹامن اے اور سی جہاں بالوں کو گرنے سے بچاتےہے وہاں یہ بالوں کو لمبا کرتے ہیں اور جلد کے ٹشوز کی نگہداشت کرتے ہیں
    انزایمز کی بدولت خون کی صفائی:
    ہمارا خون مختلف کھانوں اور آب و ہوا کہ وجہ سے سوزش کا شکار ہوتا رہتا ہے لیکن اگر آپ پپیتا کھائیں گے تو خون کی صفائی ہونے کے ساتھ اس میں انفیکشن نہیں ہو گی
    خون پتلا کرتا ہے:
    عمر گزرنے کے ساتھ انسان کا خون گاڑھا ہونے لگتا ہے جس کی وجہ سے کئی صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں جن میں دل کی بیماری اور برین ہیمو ریج شامل ہیں آپ کو چاہیے کہ ہر صبح ناشتے میں پپیتے کا استعمال کریں تا کہ خون پتلا رہے اور آپ کی صحت بیماریوں سے محفوظ رہے
    https://login.baaghitv.com/benefits-of-aolvera/
    وٹامن اور منرلز سے بھر پور:
    اس پھل میں وٹامن اے سی اور بی کمپلیکس پایا جاتا ہے یہ وٹامنز طاقتور اینٹی آکسیڈینٹس ہیں اور انسان کے مدافعتی نظام مضبوط کرتی ہیں اور کینسر جیسے موذی مرض سے بچاتی ہیں اس کے علاوہ اس میں موجود میگنیشئم کاپر اور پوٹاشیئم جسم کو ضروری منرلز فراہم کرتے ہیں
    کولیسٹرول کے لئے مفید:
    پپیتے میں یہ صلاحیت ہے کہ یہ برے کولیسٹرول کو کم کرتا ہے اور دل کی شریانوں کو کولیسٹرول سے خراب نہیں ہونے دیتا
    مدافعتی نظام کی مضبوطی:
    وٹامن اے اور چی سے بھر پور ہونے کی وجہ سے انفیکشن کے ساتھ بہتر طریقے سے لڑتا ہے اور ہمارے مدافعتی نظام کو تقویت دیتا ہے
    پپیتا کیسے کھانا چاہیئے:
    پیتا خریدتے وقت خیال رکھیں کے پکا ہُوا پپیتا خریدیں پکے ہُوئے پپیتے کے چھلکے پر سُرخ اور مالٹا رنگ نمایاں ہوتا ہے اور وہ تھوڑا نرم ہوتا ہے پپیتے کو خربوزے کی طرح کاٹ کر اسے کھائیں اور لُطف اندوز ہوں پپیتے کے بیج کڑوے ہوتے ہیں لیکن کھائے جا سکتے ہیں اسکے علاوہ پپیتے کو دوسرے پھلوں کے سلاد میں شامل کرکے کھانا بھی انہتائی مُفید اور مزیدار ہے
    پپیتا کھانے کے نقصانات:
    ایسے افراد جو نباتاتی الرجی میں مُبتلا ہوں پپیتا اُن کے لیے کھانا ٹھیک نہیں ہے کیوں کے اس میں موجود ایک کیمیا چیٹاناسس اُن میں الرجی پیدا کرسکتا ہے اسکے علاوہ پکے ہُوئے پپیتے کی بُو کُچھ لوگوں کو ناگوار ہوتی ہے مگر اس بُو کو پپیتا کاٹ کر اُس پر لیموں کا رس لگانے سے ختم کیا جا سکتا ہے پپیتے کے بیجوں کا ذائقہ بھی مزیدار نہیں ہوتا مگر پپیتے کے بیج کھائے جا سکتے ہیں کُچھ طبیب حضرات کا کہنا ہے کہ پپیتا نہار مُنہ اور خالی پیٹ نہیں کھانا چاہیے مگر میڈیکل سائنس اس بارے میں کُچھ نہیں کہتی

  • لذیذ اور ذائقہ دار رائل چکن روسٹ بنانے کی ترکیب

    لذیذ اور ذائقہ دار رائل چکن روسٹ بنانے کی ترکیب

    رائل چکن روسٹ
    اجزاء:
    مرغی ایک عدد
    لیموں کارس ایک کھانےکا چمچ وارسسٹرسوس ایک کھانے کا چمچچ
    پسی ہوئی رائی ایک چائے کا چمچ
    کالی مرچ ڈیڑھ چائے کا چمچ
    ادرک لہسن ڈیڑھ چائے کا چمچ
    مکھن دو کھانے کا چمچ
    چائینز نمک ایک چائے کاچمچ
    کیچپ دو کھانے کا چمچ
    نمک ایک چائے کا چمچ
    ترکیب:
    تمام اشیاء کو اچھی طرح مکس کر کے مصالحہ بنا لیں پھر مرغی پر چھری سے کٹ لگا کر اس پر مکس مصالحوں کا لیپ کر دیں اور دوگھنٹوں کے لیے میرینیٹ کر لیں پھر کڑاہی میں گھی ڈال کر گرم کریں اور اس میں مرغی ڈال کر پکائیں تیار ہونے پر سلاد کے ساتھ سرو کریں

  • چکن تاجن بنانے کی ترکیب

    چکن تاجن
    اجزاء:
    چکن چھوٹی بوٹیاں آدھا کلو
    لہسن ادرک پیسٹ ایک کھانے کا چمچ
    سبز مرچ ایک کھانے کا چمچ
    کالی مرچ پاوڈر حسب ذائقہ
    دہی پاو کپ
    سویا سوس ایک کھانے کا چمچ
    سرکہ آدھا کھانے کا چمچ
    پیاز ایک عدد چھوٹی باریک کاٹ لیں
    ٹماٹو کیچپ دوکھانے کے چمچ
    ابلے سفید چنے آدھا کپ
    نمک حسب ذائقہ
    کوکنگ آئل حسب ضرورت
    ترکیب:
    ایک پتیلی میں آئل ڈال کر گرم کریں پھر اس میں لہسن ادرک۔اور پیاز ڈال کر فرائی کریں اور خوب اچھی طرح بھون لیں پھر اس میں چکن شامل کرکے ہلکا سا فرائی کر کے تمام مصالحے شامل کر لیں اعر ڈھکن دے کر پکنے دیں یہاں تک کہ چکن گل جائے تو تیزی سے بھون لیں اب ابلے ہوے چنے ڈش میں نکال لیں اس پر چکن مصالحہ ڈال کر گرم گرم سرو کریں

  • جگر کی حفاظت کے چند ضامن اصول

    جگر کی حفاظت کے چند ضامن اصول

    جگر انسانی جسم کا سب سے بڑا اور انتہائی اہم عضو ہے جس کاکام خُون کو صاف کرنا ہوتا ہے یہ خون سے کمیمکلز، الکوحل، منشیات وغیرہ کی صفائی کرتا ہے اور انسانی زندگی کو قائم رکھنے والے 2 انتہائی اہم اجزا گلوکوز اور بائل پیدا کرتا ہے جو زندہ رہنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں

    جگر جسم میں مسلسل کام کرتا رہتا ہے اور اگر ہم اپنی خوراک کو درست نہ رکھیں اور منشیات اور الکوحل کا زیادہ استعمال شروع کر دیں تو ہمارا جگر اسے صاف کرنے کے دوران خود آلودہ ہوجاتا ہے اور ایسی صورت میں اس کے کام کرنے کی رفتار سُست ہو جاتی ہے
    ایسے کھانے جوپروسیسڈ ہوں اور فاسٹ فوڈز جنہیں اگر زیادہ مقدار میں کھایا جانے لگے وہ بھی جگر کو آلودہ کر دیتے ہیں جس سے جگر کمزور ہوجاتا ہے اور اپنے افعال سرانجام دینے کے لیے اُسے زیادہ وقت کام کرنا پڑتا ہے جس سے صحت پر بُرے اثرات پیدا ہوتے ہیں۔

    ہماری خوش قسمتی ہے کے اللہ نے ایسے بہت سے کھانے بنائے ہیں جو ہمارے جگر کی صفائی کرتے ہیں اور اُسے آلودگی سے پاک کرتے ہیں اور فعال طریقے سے کام کرنے میں مدد کرتے ہیں جو جگر کو قُدرتی طریقے سے صاف کر دیتے ہیں اور اُس کی خون سے ٹوکسن کی صفائی کرنے کے عمل کو تیز کر دیتے ہیں

    پھیپھڑوں کے کینسر کی بنیادی وجوہات

    لیموں:
    جگر کو صاف رکھنے لے لئے لیموںپانی ایک اہم ذریعہ ہے کیونکہ لیموں اور پانی کے ساتھ ملنے سے جگر جو انزائم بناتا ہے اتنی وافر مقدار میں جگر کسی اور غذا کے پانی سے ملنے پر نہیں بنا سکتا

    ہرا دھنیا:
    ہرا دھنیا تقریباً ہر جگہ باآسانی دستیاب ہے یہ جسم سے بھاری دھاتیں خارج کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے جگر کو بہتر طریقے سے کام کرنے کا موقع ملتا ہے

    لہسن:
    لہسن کے اندر سیلینئیم اور ایللیسین کی ایک بڑی مقدار شامل ہوتی ہے اور یہ منرل جگر کی صفائی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے اور جگر کی حفاظت کے لئے بہت معاون ہیں لہسن میں سلفر کے مرکبات شامل ہوترے ہیں جو جگر کے اندر موجود اینزائمز کو بحال کرتا ہے اور یہ اینزائمز جسم کو فاضل مادہ سے پاک کرنے میں مددگار ہوتے ہیں

    پتے کی پتھری سے بچاؤ کی چند تدابیر


    سٹرس فروٹس:
    کینو، مالٹا، لیموں، میٹھے، مسمی وغیرہ ایسے پھل ہیں جو جگر کی خون صاف کرنے کی صلاحیت کو قُدرتی طور پر بڑھاتے ہیں، یہ پھل جگر میں ڈی توکسیفائنڈ اینزائمز کو پیدا کرتے ہیں جو خون سے فاضل مادوں کو صاف کر دیتے ہیں
    سبزیاں:
    سبزیاں خاص طور پر بروکلی، بند گوبھی، گوبھی وغیرہ کے اندرگلوکو سائنولیٹ موجود ہوتا ہے جو جگر کے اندر خُون کو صاف کرنے کی صلاحیت بڑھاتا ہے، سبز پتوں والی سبزیاں ، سلاد کے پتے، پالک، ساگ وغیرہ کے اندر سلفر کی بڑی مقدار ہوتی ہے جو جگر کو طاقتور کرتی ہے، ان سبزیوں میں کلوروفل کی بھی بڑی مقدار شامل ہوتی ہے جو خون سے کیمیکلز کو صاف کرتی ہے اورجگر کے اندر موجود دھاتوں کی بڑی مقدار کو نیوٹرلائز کرنے میں بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے

    دماغی کمزوری کی وجوہات


    ایواکیڈو:
    ایواکیڈو ایک زبردست فروٹ ہے جو آنتوں کی صفائی کرتا ہے اور جسم میں قُدرتی طور پر glutathione پیدا کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے اور جگر کی صفائی کرنے کے ساتھ ساتھ جگر کو فعال کرتا ہے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ انسان جگر کے کام کرنے کے بغیر 24 گھنٹے بھی زندہ نہیں رہ سکتا اور اگر جگر ٹھیک کام کر رہا ہو تو جسم کے باقی سارے اعضا بھی تندرست رکھتا ہے اور اُنہیں صاف خون مہیا کرتا ہے تاکہ وہ بھی ٹھیک کام کر سکیں ، اس لیے اپنی خوراک کا خاص خیال رکھیں اور فاسٹ فوڈز اور دوسرے ایسے کھانے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہیں خاص طور پر چکنائی والے کھانے استعمال نہ کریں اور ورزش کو اپنی روزانہ کی روٹین کا حصہ بنائیں تاکہ آپ اللہ کی دی ہُوئی نعمت زندگی کو صحت مند طریقے سے گُزار سکیں اور بیماریوں سے محفوظ رہیں
    ہلدی:
    ہلدی سارے جسم کے لیے انتہائی مُفید ہے اور خاص طور پر جگر کو تندرست کرنے میں انتہائی فعال ہے یہ جگر کو خراب ہونے سے بچاتی ہے جگر میں خون صاف کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتی ہے اور اس کی اینٹی آکسائیڈینٹ خوبیاں جگر کے مردہ سیلز کو مرمت کر کے دوبارہ کام کرنے کے قابل بناتی ہیں اور جسم سے فاسد مواد کے اخراج میں مفید ہے ہلدی جگر کی Metals فلٹر کرنے کی صلاحیت کو تیز کرتی ہے اور جگر سے پیدا ہونے والی بائل کی مقدار کو بھی بڑھاتی ہے

    حمل کے دوران چند احتیاطی تدابیر


    اخروٹ:
    اخروٹ انتہائی مُفید ڈرائی فروٹ ہے جس کے اندر ایسے امائنو ایسڈ ہوتے ہیں جو جگر کو ایمونیا کی صفائی میں مدد دیتے ہیں اخروٹ کے اندر glutathione اور اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کی بھی بڑی مقدار ہوتی ہے جو جگر کی قدرتی طور پر صفائی کر دیتے ہیں اور وہ فاضل مادے جو جگر فلٹر نہیں کر پاتا فلٹر ہو جاتے ہیں
    چقندر:
    چقندر ایک انتہائی فائدہ مند سبزی ہے جو خون میں آکسیجن کی مقدار کو بڑھا کر اُسے صاف ہونے میں مدد کرتی ہے چوقندر خون میں شامل فاضل مادوں کو توڑ کر چھوٹے ذرات میں منتقل کرتی ہے جس سے خون کو فلٹر ہونے میں آسانی ہوتی ہےچقندر جگر میں موجود اینزائمز کوسٹیمولائٹ کر دیتی ہے اور اس کے موجود وٹامن سی اور فائبر جگر کے اندر جمے ہُوئے فاضل مادوں کو فلٹر ہو کر خارج کرنے میں انتہائی مدد گار ہیں
    گاجر:
    گاجر میں پلانٹ فلیوونوئیڈز اور بیٹا کیروٹین جگر کی سُستی کو ختم کرتے ہیں اور جگر کے کام کرنے کی صلاحیت کو تیز کرتے ہیں گاجر میں قدرتی وٹامن اے جگر میں پیدا ہونے والی بیماریوں کی روک تھام کرتا ہے اور جگر کو فعال رکھتا ہے
    سیب:
    سیب بہت سی بیماریوں میں شفا ہے، سیب کے اندر ایک ایسا کیمیکل جسے پیکٹن کہتے ہیں موجود ہوتا ہے جو خُون سے فاضل مادوں کو صاف کرنے میں انتہائی مددگار ہے یہ فاضل مادوں کو توڑ کر باریک سے باریک ذرات میں منتقل کرتا ہے جس سے جگر کو خون صاف کرنے میں مدد ملتی ہے
    سبز چائے:
    سبز چائے ایک اکسیر ہے جو سارے جسم کے لیے ہی انتہائی مُفید ہے مگر یہ جگر کے لیے انتہائی مُفید ہے کیونکہ اس کے اندر موجود قُدرتی اینٹی آکسائیڈینٹ جگر کو طاقتور بناتے ہیں اور اس کے کام کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں سبز چائے کو صرف قہوے کی صورت میں استعمال کریں اور سبز چائے کے ایکسٹریکٹس نہ استعمال کریں کیوں کے یہ جگر کو نقصان پہنچاتے ہیں

  • گھر کو ہیٹر کے بغیر گرم رکھنے کی آسان تراکیب

    گھر کو ہیٹر کے بغیر گرم رکھنے کی آسان تراکیب

    بغیر ہیٹر کے گرم رکھنے کے چند آسان طریقے درج ذیل ہیں جنھیں استعمال کر کے نہ صرف آپ اپنے گھر کو جہاں قدرتی طور پر گرم رکھ سکیں گے وہاں گیس اور بجلی کی بچت بھی کر پائیں گے
    کھڑکیوں پر پلاسٹک کے پردے لگائیں گھر کی ایسی کھڑکیاں جہاں سے سُورج کی روشنی گھر میں داخل ہوتی ہے وہاں پلاسٹک کے شاور کرٹن لگائیں تاکہ سوُرج کی روشنی ان پردوں پر پڑ سکے یہ جہاں سُورج کی روشنی کو گھر یا کمرے میں داخل ہونے دیں گے وہاں دھوپ کی حدت کو اپنے اندر جذب کر کے گرم ہوجائیں گے اور گھر اورکمروں کو گرم رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گے دن کے وقت کھڑکیوں پر سے پردے ہٹا دیں کپڑے کے بھاری پردے جو دھوپ کی روشنی کو کمرے میں داخل ہونے سے روکتے ہیں اُنہیں دن کے وقت ہٹا دیا کریں تاکہ سُورج کی روشنی کمرے میں داخل ہو سکے گھر میں زیادہ سے زیادہ دھوپ آنے دیں دن کے وقت جب سُورج کی روشنی گھر پر پڑتی ہے تو کوشش کریں کے اُسکے راستے میں آنے والی چیزوں جیسے پودے پردے یا شیڈ وغیرہ ہٹا دیں تاکہ سُورج کی روشنی گھر کو زیادہ سے زیادہ گرم کر سکے گھر کی کھڑکیاں اور روشندان اچھی طرح بند کریں

    پائن ایپل بیف منفرد لذیذ اور آسان ریسیپی


    گھر میں سرد ہوا کے داخلے کو روکنے کے لیے کھڑکیاں اور روشن دان اچھی طرح ایسے بند کریں کے اُن میں سے ہوا کا داخلہ ناممکن ہوجائے، عام طور پر ہمارے گھروں کی کھڑکیاں اور روشن دان بند ہونے کے باوجود ہوا کو پوری طرح روکنے میں ناکام ہوتے ہیں لہذا ضروری ہے کے ایسے موقع پر پلاسٹک کور کے ساتھ ایسی درزوں کو بند کیا جائے جہاں سے ہوا گھر میں داخل ہو سکتی ہے درواوں کے فریمز کو اچھی طرح چیک کریں اور جہاں درزیں موجود ہوں وہاں کسی ٹیپ کے ساتھ اُنہیں بند کر دیں تاکہ سرد ہوا اندر داخل نہ ہو سکے اور خاص طور پر دروازے کے نیچے والی جگہ پر کوئی کپڑایا پُرانا تولیہ وغیرہ اس طرح رکھیں کے باہر کی ہوا دروازے کے نیچے سے اندر داخل نہ ہو پائے گھر میں زیادہ سے زیادہ دھوپ آنے دیں دن کے وقت جب سُورج کی روشنی گھر پر پڑتی ہے تو کوشش کریں کے اُسکے راستے میں آنے والی چیزوں جیسے پودے پردے یا شیڈ وغیرہ ہٹا دیں تاکہ سُورج کی روشنی گھر کو زیادہ سے زیادہ گرم کر سکے غیر استعمال شُدہ کمروں کے دروازے بند رکھیں گھر کے ایسے کمرے جو استعمال میں نہیں آتے اُن کے دروازے اور کھڑکیاں اچھی طرح بند کر دیں اور انہیں بلا وجہ نہ کھولیں اس سے گھر میں موجود ہیٹ ٖضائع نہیں ہوگی فرج کو لیونگ روم میں رکھیں کوشش کریں کہ گھر کی فرج کو ایسی جگہ پر رکھیں جہاں آپکی موجودگی زیادہ ہوتی ہے فرج سے خارج ہونے والی حدت آپکے کمرے کے ماحول کو گرم کر دے گی کمرے میں کارپٹ یا رگ کا استعمال کریں سردی کے موسم میں کمروں کے فرش ٹھنڈے ہوجاتے ہیں

    لائٹ سپائسڈ پلاؤ ریسیپی


    اور ہیٹر چلانے کے باوجود کمرہ ٹھنڈا ہی رہتا ہے اس لیے کوشش کریں کے کمرے کے فرش پر کوئی رگ یا موٹا کپڑا جیسے دری یا کارپٹ وغیرہ کا استعمال کریں یہ فرش کی ٹھنڈک کو کمرے میں داخل ہونے سے روکے گا اور کمرے کی ہیٹ کو ضائع نہیں ہونے دے گا کمرے میں موم بتی جلائیں موم بتی جہاں سستی روشنی ہے وہاں یہ کمرے کو کافی گرم کر دیتی ہے اس لیے کمرے میں رات کو موم بتی جلائیں اور یاد رکھیں کہ موم بتی جلانے کے بعد اُس کی مکمل نگرانی کریں گھر کی کُچھ لائٹس جلا کر رکھیں کمرے میں لگے بلب اور ٹیوب لائٹس بھی حدت پیدا کرتی ہیں اس لیے کُچھ لائٹس جلا کر رکھیں تاکہ ماحول کو گرم کر سکیں بند کمرے میں کوئلے والی انگیٹھی یا ہیٹر ہرگز چلتا چھوڑ کر مت سوئیں وگرنہ یہ کمرے کی آکسیجن ختم کردے گا اور دم گھٹنے کا باعث بنے گا گھر میں انگیٹھی بنائیں ہلے گھروں میں عام طور پر انگٹھیاں بنائی جاتی تھیں مگر اب میدانی علاقوں میں اس کا رواج ختم ہو گیا ہے اگر آپ کے گھرمیں انگھیٹی ہے تو اُس میں آگ جلائیں اور اگر نہیں ہے تو بنا لیں اور اُس میں سستا ایندھن جو آپ گھر کی کاٹھ کباڑ سے بھی حاصل کر سکتے ہیں جلائیں مگر یاد رکھیں جب انگھیٹی جل رہی ہو تو اُس کی نگرانی کرتے رہیں

    خوش ذائقہ اور لذیذ سپیشل سویاں ریسیسپی


    کھانا پکائیں گھر میں کھانا پکانے کے دوران چولہا جلتا ہے اور گھر کو گرم کرتا ہے لہذا گھر میں کھانا پکائیں اور اگر آپ کا کچن گھر کے کمروں سے دُور ہے تو کوئی چولہا پلاسٹک پائپ کیساتھ گھر کے کمروں کے قریب رکھ لیں اور چائے وغیرہ اُس پر پکائیں اس سے بھی گھر گرم ہو گا اور کوکر میں پانی کی ہیٹ بنا کر اُس کو کمرے میں لا کر کھولیں تاکہ سٹیم سے کمرے کی ہوا گرم ہو اور ہوا میں نمی کا تناسب بڑھے کمروں کی چھت کی انسولیشن کروائیں ہمارے گھر عام طور پر موسم کی سختی سے لڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور یہ گرمیوں میں شدید گرم اور سردیوں میں شدید سرد ہوجاتے ہیں اس کی ایک بڑی وجہ گھر کی چھتوں کی انسولیشن نہ ہونا ہے، گھر کی چھتوں کی انسولیشن کروائیں یہ گرمی اور سردی دونوں موسموں میں آپکے کام آئے گی