Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • دانتوں کی پیلاہٹ ختم کرنے کی آسان گھریلو ٹپس

    دانتوں کی پیلاہٹ ختم کرنے کی آسان گھریلو ٹپس

    دانت شخصیت کی نمائندگی کرتے ہیں اور اگر یہ پیلے ہوں تو جہاں خود اعتمادی میں کمی کا باعث بنتے ہیں وہاں دُوسروں پر آپ کی شخصیت کا بُرا تاثر پیدا کرتے ہیں اور ان کے پیلے ہونے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ بیماری پیدا کرنے والے جراثیم مُنہ میں اپنی افزائش کرتے ہیں اور مُنہ کے راستے پیٹ میں جاکر صحت خراب کرتے ہیں انتوں کو موتیے جیسا سفید رکھنے کے چند آسان گھریلو ٹوٹکےمندرجہ ذیل ہیں جنھیں ااستعمال کر کے آپ بھی پُر کشش مسکراہٹ حاصل کر سکتے ہیں اور صاف سُتھرے دانتوں کیساتھ اچھی صحت قائم رکھ سکتے ہیں گھریلو ٹوتھ پیسٹ دانتوں کو سفید بنانے کے علاوہ مسوڑھوں سے خون آنے اور اور سوجن ختم کرنے کے لئے بھی بے حد مفید ہے اس گھریلو ٹوٹکے میں آپ کو مندرجہ ذیل اشیاء کی ضرورت ہو گی
    اجزاء:
    میٹھا سوڈا پانچ چائے کے چمچ
    پودینے کا تیل پانچ چائے کے چمچ
    ویجیٹیبل گلیسرین دو قطرے
    نمک ایک چائے کا چمچ

    ترکیب:
    پانچ چائے کے چمچ میٹھا سوڈا پانچ چائے کے چمچ پودینے کا تیل دو قطرے ویجیٹیب گلیسرین اور ایک چائے کا چمچ نمک ان سب کو مکس کر کے ایک بوتل میں مفوظ کر لیں روزانی اس پیسٹ سے دانت صاف کریں دانتوں سے تمام مسائل سے چھٹکارا مل جائے گا

    دانتوں کی صفائی کرنے والا روبوٹ


    تیل کی کلی کریں:
    طب ایوردیک اور طب یونان میں دانتوں کی صفائی اور دانتوں سے پیلاہٹ ختم کرنے کے لیے یہ طریقہ صدیوں سے استعمال کیا جارہا ہے اور اس سےمُنہ کے جراثیم ختم ہوجاتے ہیں، منہ کے جراثیم ہی دانتوں کو پیلا کرنے کا اور مُنہ میں بدبو کا باعث ہوتے ہیں لہذا کسی بھی آئل کو ایک کھانے کا چمچ لیکر(گری کا تیل زیادہ مُفید ہے) منہ میں اچھی طرح کلی کریں اور دانتوں پر ملیں اور 10 سے 15 منٹ اسے منہ اور مسوڑھوں پر لگا رہنے دیں اور بعد میں کلی کرکے ٹوٹھ پیسٹ کے ساتھ برش کر لیں چند ہی دنوں کے اس عمل سے آپ کے دانت موتیے کی طرح سفید ہوجائیں گے اور مُنہ کی باس ختم ہو جائے گی
    کچی سبزیاں سلاد اور پھل کھائیں:
    کچی سبزیاں جیسے سلاد وغیرہ میں استعمال ہونے والی سبزیاں اور پھل جیسے سیب کینو مالٹا سٹرابری وغیرہ چبا چبا کر کھانے سے جہاں مُنہ کے جراثیموں سے نجات ملتی ہے وہاں انہیں کھانا دانتوں کے داغوں کو ختم کرنے کا باعث بنتا ہے
    ریگولر دانتوں کا خلا کریں:
    روازنہ بُرش کرنا اور دانتوں کا خلا کرنا ایسے ہی ضروری ہے جیسے روزانہ کھانا کھانا، دھاگے کیساتھ دانتوں کا خلا کریں تاکہ دانتوں کے درمیان پھنسے ہُوئے خوراک کے ذرات صاف ہوجائیں

    دانتوں کی چمک برقرار رکھنے کے لئے چند آسان ٹپس


    درخت کی چھال اور مسواک سے دانت صاف کریں:
    یہ طریقہ بھی صدیوں پُرانا ہے اور انتہائی آزمودہ ہے درخت کی نرم چھال دانتوں کے داغ اور پیلاہٹ ختم کرنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتی اور روزانہ دو سے تین دفعہ اس چھال سے دانت صاٖف کرنے سے دانت سفید موتیے کی طرح چمکنے لگتے ہیں
    مسواک کرنے کے فائدے گنتی میں نہیں لائے جاسکتے اور مسواک کی افادیت انسان نے اپنی ابتدا میں ہی دریافت کر لی تھی اور روزانہ ہر نماز سے پہلے مسواک کرنا جہاں مُنہ کے تمام جراثیموں کا خاتمہ کرنے کا باعث بنتا ہے وہاں مُنہ میں مہک پیدا کرتا ہے اور دانتوں کی پیلاہٹ کو چند ہی دنوں میں ختم کر دیتا ہے
    بیکنگ سوڈے یا میٹھے سوڈے سے بُرش کریں:
    بیکنگ سوڈا جراثیم کا خاتمہ کر دیتا ہے اور بیکنگ سوڈے والے ٹوتھ پیسٹ یا صرف بیکنگ سوڈے کیساتھ بُرش کرنا دانتوں کی چمک اور سفیدی واپس لے آتا ہے لہذا دن میں کم از کم دو دفعہ بیکنگ سوڈے کیساتھ بُرش کریں
    سیب کا سرکہ:
    سیب کا سرکہ جراثیم کو ختم کرنے کے لیے انتہائی کارآمد چیز ہے سیب کے سرکے کے ساتھ کلی کرنا مُنہ کے جراثیم کو ختم کردیتا ہے اور دانتوں کی پیلاہٹ صاف کر دیتا ہے مگر یاد رکھیں کے اسے ہفتے میں دو تین بار سے زیادہ استعمال نہ کریں کیونکہ سرکے کا زیادہ استعمال دانتوں کی پالش خراب کرنے کا باعث بن سکتا ہے

    وزن کم کرنے کے آسان طریقے


    کیلشیم سے بھرپور کھانے کھائیں:
    صحت مند غذا جس میں کیلشیم کی مقدار زیادہ ہو جہاں دانتوں کو پیلاہٹ سے محفوظ رکھتی ہے وہاں یہ ہماری صحت پر انتہائی مثبت اثرات پیدا کرتی ہے لہذا کیلشیم سے بھرپُور کھانوں کا استعمال زیادہ کریں
    ہائیڈروجن پر آکسائیڈ:
    ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کسی بھی میڈیکل سٹور سے آسانی سے مل جاتی ہے اور ہائیڈروجن پر آکسائیڈ صدیوں سے بلیچینگ کے لیے استعمال ہو رہی ہے آپ اسے بطور ماوتھ واش استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ یہ بیکٹریا کا خاتمہ کر دیتی ہے اور اسے بیکینگ سوڈے میں شامل کر کے اپنی ٹوٹھ پیسٹ بنا سکتے ہیں جس سے دانتوں کے داغ کُچھ ہی دنوں میں غائب ہوجائیں گے اور دانت سفید موتیے کی طرح چمکنے لگیں گے
    لیموں کے عرق سے کلی کریں:
    لیموں کا رس نکال کر پانی میں اچھی طرح حل کر لیں دن میں دو بار برش کر لیں آخر میں لیموں کے پانی کی کلی کر لیں لیموں کے چھلکے کا سفوف بنالیں پھر اسر پانی میں مکس کر کے اس پیسٹ دانتوں کی مالش کر کے کلی کریں چند ہی دنوں میں دانت موتیوں کی طرح سفید ہو جائیں گے

  • وٹامن سی کی کمی کی چند اہم نشانیاں

    وٹامن سی کی کمی کی چند اہم نشانیاں

    وٹامن سی ہمارے جسم میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے یہ ہارمونز کو درست رکھتا ہے پروٹین بناتا ہے، جسم کے لیے ضروری امائنو ایسڈ بناتا ہے ہماری ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے خون لیجانے والی شریانوں کو تندرست رکھتا ہے، زخموں کو بھرتا ہے، جلی ہُوئی جلد کو ٹھیک کرتا ہے، وٹامن سی آینٹی آکسائیڈینٹ ہے جو ہماری قوت مدافعت کو مضبوط بناتا ہے اور جسم کو آئرن جذب کرنے میں مدد دیتا ہے وغیرہ وغیرہ ہمارے مُلک پاکستان کا شُمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد غذائی قلت کا شکار ہے اور مناسب خوراک نہ کھانے کی وجہ سے پاکستان میں لوگوں کی جسمانی نشوونما تکمیل نہیں پاتی اور خوراک اور وٹامنز کی کمی انہیں بہت سے بیماریوں کا شکار بنا دیتی ہے

    اسلامی اصولوں کی روشنی میں بچوں کی تربیت کے چند سنہرے اصول


    وٹامن سی کا استعمال کافی پرانا ہے اوراب تو بہت عام ہو گیا ہے مغربی ماہرین جلد کا کہنا ہے خون میں جو پانی والا حصہ ہے اس کے لیے وٹامن سی بہت مفید ہے چونکہ وٹامن سی کو انسانی جسم میں سٹور نہیں کیا جا سکتا ہے اس لیے اد کا استعمال براہ راست جلد پر ہی مفید ہے اس وقت میں اسے سب سے پہلے وائٹننگ کریم میں استعمال کیا گیا ہے تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ جلد کی عمر کو تیزی سے بڑھنے سے روکتا ہے سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں سے محفوظ رکھتا ہے آلودگی اور دھوئیں سے جلد پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں اس سے بھی بچاتا ہے اس کے باوجود کچھ اندیشے بھی ہیں ڈاکٹر انگ کا کہنا ہے کہ وٹامن سی کے تمام تجربات جو چوہوں پر کیے گئے اس سے یہ تو پتہ چل گیا کہ یہ جلد کی عمر کو بڑھنے سے روکتا ہے مگر اس کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کی کتنی مقدار لی۔جائے ڈاکٹر لم نے کہا اگر وٹامن سی کو انسانی جلد پر کارآمد بنانا ہے تو اس میں۔زیادہ سے زیادہ تیزابیت ہونا ضروری ہے اگر ایسا نہیں ہو گا تو یہ کام نہیں کرے گا اس کی وجہ سے رنگت سرخ۔اور خارش زدہ بھی ہو سکتی ہے اب کے باوجود بہت سے مصنوعات تیار کرنے والی کمپنیاں اس بات پر بضد ہیں کہ ان سے بہر حال قابل ذکر فائدہ ہو رہا ہے میڈیکل یونیورسٹی نے ایک فیس لفٹ بنائی جس میں وٹامن سی سیرم استعمال کیا گیا ہے اس فیس لفٹ کے استعمال کا یہ نتیجہ نکلا کہ یہ خواتین کے چہرے کی جلد پر اچھے اثرات چھوڑتی ہے اور ستر فیصد خواتین کے معاملےمیں مثبت پیش رفت ہو ئی ہے

    مہمان اللہ کی رحمت ، جس گھر میں مہمان ہو اس گھر میں اللہ کی رحمت برستی ہے


    وٹامن سی کی کمی کی چند اہم نشانیاں درج ذیل ہیں
    کھردری اور ناہموای جلد:
    وٹامن سی ہمارے جسم میں کولاجن (جلد کو تندرست رکھنے والی پروٹین) پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، کولاجن ہماری جلد، بالوں، ہڈیوں، جوڑوں، خون کی نالیوں کو تندرست رکھتی ہے وٹامن سی کی کمی ہمارے جسم کی جلد کو شدید نقصان پہنچاتی ہے اور اسے کھردرا اور ناہموار کر دیتی ہے خاص طور پر جب جسم کو یہ وٹامن 4 سے 5 ماہ تک مناسب مقدار میں نہ ملے تو بازوں کے اوپر کی جلد، رانوں کی جلد اور پیٹھ کی جلد پر دھدری پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے جسے وٹامن سی کے سپلیمنٹ کھانے سے دُور کیا جاسکتا ہے

    ایک سال اور اس سے چھوٹی عمر کے بچوں میں اچانک موت کی بڑی وجہ


    بالوں کی جڑوں میں سرخ نشان
    جلد پر بالوں کی جڑوں کے ساتھ خون کی باریک نالیاں ہوتی ہیں جو جلد کے اُس حصے کو خون اور نیوٹرنٹس مہیا کرتی ہیں اور جب جسم وٹامن سی کی کمی کا شکار ہوتا ہے تو یہ باریک نالیاں لیک کر جاتی ہیں اور ٹوٹ جاتی ہیں اور بالوں کی جڑوں پر باریک سُرخ نشان نمایاں ہو جاتے ہیں اور یہ وٹامن سی کی کمی کی بڑی نشانی ہے جسے متواتر 2 ہفتے تک وٹامن سی کے سپلیمنٹس کھانے سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے

    چند اہم روز مرہ گھریلو چیزیں اور ان کا مدت استعمال


    دل کی بیماریاں:
    وٹامن سی جسم کا اہم پانی میں حل پزیر اینٹی آکسائیڈینٹ ہے جو جسم کے سیلز کو خراب ہونے سے بچاتا ہے اور تکسیدی تناؤ سے پیدا ہونے والے ریڈکلز کو اعضا خراب نہیں کرنے دیتا اور جسم کو سوزش سے بچاتا ہے وٹامن سی کی کمی دل کی بیماریوں کا باعث بنتی ہے اور ایک تحقیق کے مطابق ایسے افراد جو اس وٹامن کا کم استعمال کرتے ہیں اُن میں 40 فیصد ہارٹ فیل ہونے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں
    تھکاوٹ اور موڈ کا خراب ہونا:
    یہ وٹامن سی کی کمی کی دو ایسی علامات ہیں جو اس وٹامن کی کمی کی صورت میں فوراً ظاہر ہوتی ہیں اور ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ چڑاچڑا پن اور تھکاؤٹ وٹامن سی کی کمی کی ابتدائی علامات ہیں جنہیں فوراً پیچان کر اس کمی کو دُور کرلینا چاہیے تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے وٹامن سی اور آئرن کی کمی ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور اس کمی سے چہرہ پیلا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اُس کی سُرخی غائب ہو جاتی ہے، ورزش کے دوران سانس پھولتا ہے اور جسم جلد تھکاؤٹ کا شکار ہو جاتا ہے، اور اکثر سردرد کی شکائت رہتی ہے
    وٹامن سی ایک طاقتور اینٹی آکسائیڈینٹ ہے جو قوت مدافعت کو طاقتور بناتا ہے اور جسم کو بیماریوں سے لڑنے کی قوت فراہم کرتا ہے اور اس وٹامن کی کمی قوت مدافعت کو کمزور کر دیتی ہے اور وٹامن سی کی کمی کے شکار لوگ انفیکشنز اور جراثیموں سے پیدا ہونے والی دُوسری بیماریوں کا جلد شکار ہو جاتے ہیں اور قوت مدافعت کی کمزوری کی وجہ سے خُود بخود ٹھیک نہیں ہوتے

    بچوں کی عزت کریں بلاوجہ سختی بچوں کی اخلاقی تربیت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے


    وٹامن سی جسم میں چربی کو پگھلاتا ہے ذہنی تناؤ پیدا کرنے والے ہارمونز کو کنٹرول کرتا ہے اور جسم میں سوزش پیدا نہیں ہونے دیتا ماہرین کی تحقیقات کے نتائج کے مطابق وٹامن سی کی کمی جسم میں چربی پیدا کرتی ہے خاص طور پر پیٹ کے اوپر
    جلد پر الرجی اور داغ اُس وقت پڑتے ہیں جب جلد کے نیچے خون فراہم کرنے والی نالیاں لیک کر جاتی ہیں اور یہ وٹامن سی کی کمی کی ایک بڑی نشانی ہے، جلد پر یہ الرجی سارے جسم پر بھی ظاہر ہو سکتی ہے اور جسم کے کسی خاص حصے پر بھی ظاہر ہوتی ہے جلد کی اس خرابی کی صورت میں وٹامن سی سے بھرپور کھانے کھانا جیسے سٹرس فروٹس وغیرہ اور وٹامن سی کے سپلیمنٹس کا استعمال جسم کی اس کمی کو پُورا کر دیتا ہے وٹامن سی ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کی کمی ہڈیوں کی کمزوری کا باعث بنتی ہے اور معمولی چوٹ سے ہڈی ٹُوٹ سکتی ہے وٹامن سی کی کمی کولاجن کی پیداوار کو کم کرتی ہے اور کولاجن جلد پر زخموں کو جلد ٹھیک کرنے میں انتہائی مدد گار ہوتا ہے اور اس کی کمی زخموں کے بھرنے کا عمل سُست کر دیتی ہے وٹامن سی کی شدید کمی پُرانے زخموں کو پھر سے ہرا کر دیتی ہے اورعام طور پر ایسا کئی مہینے وٹامن سی کی مناسب مقدار نہ کھانے سے ہوتا ہے کولاجن پروٹین جوڑوں کو تندرست رکھنے میں قلیدی کردار ادا کرتی ہے اور کولاجن اور وٹامن سی کی کمی جوڑوں میں درد کا باعث بنتے ہیں

    چہل قدمی خواتین کے لیے انتہائی ضروری چہل قدمی ڈپریشن ختم کرتی ہے اور ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے


    اور اس کمی سے چلنےپھرنے سے بھی جوڑوں میں تکلیف پیدا ہوتی ہے اور بغض دفعہ جوڑوں میں بلیڈینگ کی وجہ سے تکلیف میں مزید اضافہ ہوتا ہےا ور سوزش پیدا ہوتی ہےعام طور پر اس بیماری میں متواتر ایک ہفتے تک وٹامن سی کا زیادہ استعمال اس بیماری کو ختم کر دیتا ہے مسوڑھوں کی سوزش اور مسوڑھوں سے خون کا آنا وٹامن سی کی کمی کی بڑی نشانی ہے اور اس وٹامن کی زیادہ کمی مسوڑھوں کو جامنی اوربوسیدہ کر دیتی ہے جس سے دانت مسوڑھوں میں ٹک نہیں پاتے اور کمزور ہو کر گر جاتے ہیں صحت مند جلد میں وٹامن سی کی ایک بڑی مقدار موجود ہوتی ہے اور وٹامن سی جلد کو سُورج کی روشنی اور دُوسری جلد کو متاثر کرنے والی چیزوں سے بچا کر رکھتا ہے اور جلد پر ایک فائر وال کی طرح کام کرتا ہے وٹامن سی کی کمی جلد کو خُشک اور ڈیمج کرتی ہے اور اس کمی سے جلد کی صحت کے لیے ضروری پروٹین کولاجن کی پیداوار میں بھی کمی واقع ہوتی ہے اور جلد خراب ہونا شروع ہو جاتی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن سی کا زیادہ استعمال جلد کو تروتازہ اور جوان رکھنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتا ہےجلد کی خُشکی وٹامن سی کی کمی کی بڑی نشانی ہے

    انگلیوں کی حرکات کے دماغ پر براہ راست اثرات


    مگر یہ کئی اور وجوہات کی وجہ سے بھی پیدا ہوسکتی ہے لہذا جلد کے ڈیمج اور خُشک ہونے کو صرف وٹامن سی کی کمی کے ساتھ منسلک نہیں کیا جاسکتا وٹامن سی کی کمی کولاجن کی پیداوار کو کم کرتی ہے اور کولاجن جلد پر زخموں کو جلد ٹھیک کرنے میں انتہائی مدد گار ہوتا ہے اور اس کی کمی زخموں کے بھرنے کا عمل سُست کر دیتی ہے وٹامن سی کی شدید کمی پُرانے زخموں کو پھر سے ہرا کر دیتی ہے اورعام طور پر ایسا کئی مہینے وٹامن سی کی مناسب مقدار نہ کھانے سے ہوتا ہے وٹامن سی ہمارے جسم میں کولاجن (جلد کو تندرست رکھنے والی پروٹین) پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، کولاجن ہماری جلد، بالوں، ہڈیوں، جوڑوں، خون کی نالیوں کو تندرست رکھتی ہےوٹامن سی کی کمی ہمارے جسم کی جلد کو شدید نقصان پہنچاتی ہے اور اسے کھردرا اور ناہموار کر دیتی ہے خاص طور پر جب جسم کو یہ وٹامن 4 سے 5 ماہ تک مناسب مقدار میں نہ ملے تو بازوں کے اوپر کی جلد، رانوں کی جلد اور پیٹھ کی جلد پر دھدری پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے جسے وٹامن سی کے سپلیمنٹ کھانے سے دُور کیا جاسکتا ہے وٹامن سی جسم کو آئرن جذب کرنے میں مدد دیتا ہے اور اس کی کمی آئرن کی کمی کا بھی باعث بنتی ہے اور ان دونوں کی کمی ناخنوں کو کمزور کر دیتی ہے، ناخن ٹُوٹنا شروع ہو جاتے ہیں اور ناخنوں پر سفید اور سُرخ رنگ کی لکیریں نمایاں ہونی شروع ہو جاتی ہیں ناخنوں کی ساخت میں تبدیلی وٹامن سی اور آئرن کی کمی کے علاوہ اور بھی کئی وجوہات سے پیدا ہو سکتی ہیں اور اس مرض کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے وٹامن سی کی کمی سے جسم پر اُگنے والے بالوں سیدھے نہیں رہتے اور بالوں میں الجھنیں پڑنی شروع ہو جاتی ہیں کیونکہ بالوں کی صحت کو قائم رکھنے والی پروٹین کی ساخت وٹامن سی کی کمی سے تبدیل ہو جاتی ہے بالوں کی ساخت میں یہ تبدیلی وٹامن سی کی کمی کی بڑی نشانی ہے اس سے بال رُوکھے اور کمزور ہوکر گرنا شروع کر دیتے ہیں بالوں کی یہ کمزوری مسلسل ایک مہینے تک وٹامن سی کے سپلیمنٹ کھانے سے دُور ہو جاتی ہے

  • ڈراونے خواب کیوں آتے ہیں ان سے بچنے کے چند طریقے

    ڈراونے خواب کیوں آتے ہیں ان سے بچنے کے چند طریقے

    ڈراونے خواب کیوں آتے ہیں ان سے بچنے کے چند طریقے
    سونے کے دوران خواب ہمارے دماغ میں پیدا ہونے والے ایسے خیالات ہیں جنہیں ہم نیند کے دوران دیکھ بھی سکتے ہیں یہ خیالات عام طور پر ہماری مرضی کے بغیر پیدا ہوتے ہیں اور ان پرعام طور پرانسان کا کنٹرول نہیں ہوتا اسی لیے ہمیں جہاں اچھے خواب نظر آتے ہیں وہاں اکثر اوقات بُرے خواب ہمیں خوفزدہ بھی کر دیتے ہیں آج کی ماڈرن سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ ہم نیند کے دوران بُرے خوابوں سے کیسے بچ سکتے ہیں

    شادی کس عمر میں کرنی چاہیے؟


    خواب کی اقسام:
    امام محمدبن سیرین رحمة اللہ علیہ نے فرمایا خواب تین طرح کے ہوتے ہیں ایک حدیث نفس ( دلی خیالات کا انعقاس) دوسرے تخویف شیطان تیسرے مبشرات خداوندی اس تقسیم سے ظاہر ہے کہ خواب کی۔تمام اقسام صحیح قابل تعبیر اور درخور التفاف نہیں ہوتے لکہ تعبیر و اعتبارکے لائق خواب کی وہی قسم ہے جو حق تعالی کی۔طرف سے بشارت و علام ہو حدیث نفس کی مثال یہ ہے کہ کوئی۔شخص ہر کام یا حرفہ کرتا ہے وہ خواب میں محروم الوصال جو ہر وقت اپنے محبوب کی یاد میں اور خیال میں مستغرق رہتا ہے وہ خواب میں بھی عموماً وہی چیز دیکھے گا جس میں دن بھر منہمک رہتا ہے یا کوئہ عاشق محروم الوصال جو ہر وقت اپنے محبوب کی یاد میں اور خیال میں مسغرق رہتا ہے وہ خواب مکں بھی عموماً اسی کو دیکھتا ہے سچا لواب اس لیے دکھایا جاتا ہے کہ بندہ محفوظ اورطلب حق اور محبت الہی میں زیادہ سرگرم کار ہو ایسا خواب قابل تعبیر ہے اوراسی پر بڑے بڑے نتائج مرتب ہوتے ہیں

    قدرت کے عجوبے اور دلچسپ حقائق


    اچھے و برے خواب:
    گو خواب کی پیدائش و رویت دونوں امور منجانب اللہ سرزد ہوتے ہیں تاہم علماء نے لکھا ہے کہ اچھا خواب حضرت احدیث کی طرف سے بشارت ہوتی ہے تاکہ بندہ اپنے مولا کریم کے ساتھ حسن ظن میں راسخ الاعتقاد ہو جائے اور یہ بشارت مزید شکر و امتنان کا باعث ہو جھوٹا اور مکروہ خواب شیطانی القاء سے ہوتا ہے اس القاء سے شیطان کی غرض مومن کو ملول و محزون کرنا ہے چنانچہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہے اور برا خواب شیطان کی جانب سے پس جب کو شخص پسندیدہ خواب دیکھے تو اسے صرف اس شخص سے بیان کرے جس سےمحبت اور اعتقاد ہے اور جب مکروہ خواب دیکھے تو حق تعالی سے اس خواب کے شر اور شیطان کے فتنے سے پناہ مانگے اور یہ بھی ممکن ہے کہ بقصد دفع شیطان اپنےبائیں طرف تین بار تھتکارے اور ایسا خواب کسی سے بیان نہ کرے اس حالت میں برا خواب کوئی ضرر نہ دے گا ضرر کرنے کا یہ مطلب ہے کہ حق تعالی نے افعال مذکورہ کو رنج و غم سے محفوظ رہنے کا سبب گردانا ہے جیسا کہ صدقہ کو تحفظ مالی اور دفع بلیات کا ذریعہ بنایا ہے

    ہُد ہُد کی خوبی


    خوشبو:
    ماہرین کی ایک تحقیق کے مُطابق نیند کے دوران اچھی خُوشبو سونگھنا اچھے اور پازیٹیو خواب دیکھنے میں مددگار ہوتا ہے اور اسی طرح نیند کے دوران سلفر کی بُو آپ کو بُرے خواب دیکھا سکتی ہےماہرین کا کہنا ہے کہ اچھی خُوشبو جو آپ سونے سے پہلے کمرے میں سپرے کر دیتے ہیں آپ کے خوابوں کو متاثر نہیں کرتی بلکہ وہ خوشبو جو سونے کے دوران اچانک پیدا ہو جیسے کچن میں کسی کھانے کی خُوشبو اچانک آپ کے کمرے میں داخل ہو یا سونے کے دوران کوئی آپ کے پاس ہلکی خُوشبو والے پھول رکھ دے تو ایسی خُوشبو جہاں آپ کی نیند کو متاثر نہیں کرے گی وہاں ایسی خُوشبو صلاحیت رکھتی ہے کہ آپ کے خواب میں داخل ہوجائے اور آپکے خواب کو خوبصورت بنا دے
    آوازیں :
    آپکا خواب اتنی دیر تک ہی قائم رہتا ہے جتنی دیرتک آپ نیند میں ہوتے ہیں اور نیند سے بیدار ہوتے ہی خواب ٹوٹ جاتا ہے جو لوگ گھڑی پر آلارم لگا کر سوتے ہیں اُنہیں تیز الارم کی آواز نیند میں سُنائی دیتی ہے اور اگر وہ اس دوران کوئی خواب دیکھ رہے ہوں تو آلارم کی آواز اُن کے خواب کو متاثر کرتی ہے اور اگر وہ اس آواز سے بیدار نہیں ہوپاتے تو یہ آواز بُرے خواب دیکھنے کی وجہ بن سکتی ہے اور اُنہیں نیند میں بے چین کر سکتی ہےدھیمی خُوشگوار اور مدھم آوازیں آپ کے خواب اور نیند کو بہتر بناتی ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ خاص فریکونسی کی آوازیں آپکو مختلف طرح کے خواب دیکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں جن میں 528 Hz میوزک کی لہریں آپکو خواب میں خوبصورت جگہوں پر لیجاتی ہیں اور 8Hz آپکو لوسیڈ خواب دیکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں

    پیار عزت اور کیئر ایک اچھے اور صحت مند معاشرے اور نسلوں کی اچھی تربیت کی بنیاد


    تمباکو نوشی اور کفین:
    زیادہ سیگرٹ پینے والے حضرات اور وہ لوگ جو رات کو چائے یا کافی پیتے ہیں یا کوئی اور ایسے ڈرنکس پیتے ہیں جن میں کیفین کی مقدار شامل ہوتی ہے اچھی نیند حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور سونے کے دوران اکثر خوفزدہ کرنے والے خواب دیکھتے ہیں اچھے خواب دیکھنے کے لیے آپکو فوراً تمباکو نوشی چھوڑ دینی چاہیے اور دوپہر 2 بجے کے بعد چائے کافی وغیرہ سے پرہیز کرنی چاہیے
    ڈراونی فلمیں دیکھ کر سونا:
    ڈروانی فلمیں کہانیاں اور ناؤل وغیرہ آپکے دماغ کو متاثر کرتی ہیں خاص طور پر ایسی فلمیں جن میں زور دار قسم کے ساونڈ ایفکٹس استعمال کیے جاتے ہیں آپ کی نیند اور خوابوں کو پریشان کر سکتی ہیں
    تیز مرچ اور مصالحے:
    تیز مرچ اور مصالحے آپ کے معدے میں ہلچل پیدا کرتے ہیں اور معدے کی یہ ہلچل نیند میں بُرے خواب آنے کا باعث بنتی ہے اور اگر بُرا خواب دیکھنے کے بعد پانچ منٹ کے اندر آپ کو جاگ آجائے جو عام طور پررات کو تیز مرچ مصالحے کھانے والوں کو آ ہی جاتی ہے تو ایسی صورت میں آپکو وہ بُرا خواب یاد ہوجاتا ہے اور کئی دنوں تک ذہن نشین رہتا ہے اور پریشان کرتا ہے رات کا کھانا سونے سے 2 گھنٹے پہلے کھا لینا چاہیے اور رات کے کھانے میں ہلکا پھلکا کھانا یعنی جلد ہضم ہونے والا کھانا آپ کو اچھا خواب دیکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے

    ہر کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھناچاہئے


    وٹامن بی 6 کے سپلیمنٹ استعمال کرنے والوں کو زیادہ اُجاگر خواب آتے ہیں اور اُن کے خواب شوخ بھی ہوتے ہیںاگرچہ اس چیز کو ثابت کرنے کے لیے میڈیکل سائنس کے پاس زیادہ ثبوت نہیں ہیں مگر وٹامن بی 6 ہمارے جسم کے اندر امائینو ایسڈ کو نیورو ٹرانس میٹرز میں تبدیل کرتا ہے جو ہمارے خوابوں کو رنگین بنانے کا باعث بنتے ہیں وٹامن بی 6 کی زیادہ مقدار اعصاب کو متاثر کر سکتی ہے
    بھوکے پیٹ سونا:
    بھوکے پیٹ سونا آپ کی نیند کو متاثر کرتا ہے پھوکے پیٹ آپ کی بلڈ شوگر کم ہوتی ہے جو آپ کو جگائے رکھتی ہے اور چند لمحے اگر آپ سوتے ہیں تو جو خواب آپ دیکھیں گے وہ جاگنے کے بعد آپکو یاد ہوجاتے ہیں اور اس دوران اگر بُرا سپنا دیکھ لیں تو وہ زیادہ دیر تک یاد رہتا ہے بھوکے پیٹ سونے سے کھانوں کے خواب بھی زیادہ آتے ہیں، طبیب حضرات خالی پیٹ سونے سے منع کرتے ہیں اور اکثر ہدایت کرتے ہیں کہ ہلکا پھلکا کھانا کھا کر سونا چاہیے
    نہا کر سونا:
    رات کو سونے سے پہلے غُسل کرنے سے آپ پاک صاف ہوجاتے ہیں اور سونے کے لیے آرام دہ لباس پہننے سے اچھی نیند آنے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں اور پاک صاف ہونے کی وجہ سے شیطانی قوتیں آپ پر اثر انداز نہیں ہوتیں اور آپ کے خوابوں کو خراب نہیں کرتیں چنانچہ آپ کو اچھے خواب آنے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں

    تحریک پاکستان میں مسلم خواتین کا کردار بہادری اور جذبہ آج کی عورتوں کے لیے مثالی نمونہ


    اینٹی ڈپریشن میڈیسن کے اثرات:
    ڈیپریشن آجکل ایک عام مرض ہے جو بہت سے لوگوں کو لاحق ہو رہا ہے ایسی صورت میں ڈاکٹرز ڈیپریشن دُور کرنے کے لیے جو ادویات تجویز کرتے ہیں تحقیق کے مُطابق یہ ادویات جہاں دُوسرے سائیڈ ایفیکٹس رکتھی ہیں وہاں ان کا ایک سائیڈ ایفیکٹ یہ بھی ہے کہ اس سے بُرے خواب آتے ہیں رات کو سونے سے پہلے مناسب ورزش کرنے سے بھی ڈیپریشن پر قابو پایا جاسکتا ہے اور یہ ورزش جہاں آپ کے جسم کے لیے مُفید ہے وہاں اس سے دوران خون نارمل ہوتا ہے جو اچھے خواب لانے کا باعث بنتا ہے
    اُلٹا سونا:
    اُلٹا سونے سے معدے پر بوجھ پڑتا ہے اور اُلٹا سونے سے سانس لینے کے لیے زور لگانا پڑتا ہے اور ایسی صورت میں آپ کے خواب پریشان کُن ثابت ہو سکتے ہیں۔ دائیں یا بائیں طرف کروٹ لیکر سونے اور سیدھے سونے والوں کو اچھے خواب آنے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں

  • ایسی غذائیں جو عمر سے پہلے بوڑھا کرتی ہیں

    ایسی غذائیں جو عمر سے پہلے بوڑھا کرتی ہیں

    ایسی غذائیں جو عمر سے پہلے بوڑھا کرتی ہیں
    جسم پر بڑھاپے کے اثرات وقت کے ساتھ ساتھ ایک نہ ایک دن ظاہر ہو جاتے ہیں لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کو ہم کئی سالوں سے دیکھ رہے ہوتے ہم نوٹس کرتے ہیں کہ عمر کا بڑھنا ان لوگوں پر اثر انداز نہیں ہورہا ہوتا اور ہمارے اردگرد بہت سارے لوگ ایسے ہیں جنہیں ہم نوٹس کرتے ہیں کہ وہ اپنی عمر سے بہت پہلے بوڑھے ہو جاتے ہیں ہماری صحت کا دارومدار ہماری خوراک اور ورزش پر ہے ایسے کھانے جو ہمارے جسم کو جلدی بوڑھا کر دیتے ہیں اور ہماری جلد پر عمر سے بہت پہلے جھریاں پیدا کر دیتے ہیں

    یہ ہلکا ہلکا میک اپ اور سُندر سا رُوپ


    چینی اور میٹھے کھانے
    میٹھا کھانا مزیدار تو ضرور ہوتا ہے مگر صحت کے لیے نقصان دہ ہے چینی ہمارے جسم میں پروٹین اور لپڈز کا خاتمہ کرتی ہے چناچہ زیادہ چینی کھانے سے جہاں ہم موٹے ہوتے جاتے ہیں وہاں ہمارا جسم کمزور ہوتا جاتا ہے خاص طور پر وہ لوگ جو روزانہ تین کپ سے زیادہ چائے پیتے ہیں اور اس میں چینی بھی استعمال کرتے ہیں تو یہ چینی ان کے جسم سے پروٹین کو ختم کرتی ہے پروٹین کی کمی جلد کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے کیونکہ پروٹین جلد کو ترو تازہ رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے زیادہ میٹھا کھانا اور باقاعدگی سے کھانا ذیا بیطس جیسی بیماری کا باعث بھی بنتا ہے اور ذیا بیطس اور بہت سے خطرناک بیماریوں کو جسم میں پروان چڑھنے میں مدد دیتی ہے اپنی روزمرہ کی خوراک سے ایسی تمام چیزیں نکال دیں جن میں چینی استعمال ہوتی ہے اور میٹھا کھانے کے لیے تازہ پھل استعمال کریں تاکہ صحت مند اور جوان رہیں
    زیادہ چکنائی والی چیزیں
    زیادہ چکنائی والے کھانے نہ کھانے سے بھی جلد پر جھریاں پڑنے کا۔عمل تیز ہو جاتا ہے صحت مند چکنائی والے کھانے جیسے مچھلی ڈرائی فروٹ خاص طور پر بادام اور اخروٹ تخم بالنگا السی سبز پتوں والی سبزیاں وغیرہ کے اندر موجود چکنائی ہماری۔صحت کے لیے انتہائی مفید ہے یہ جلد سوجن کو ختم کرتی ہے اور جلد کے مردہ سیلز کو درست کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے
    تیز مصالحوں والے کھانے
    تیز مصالحے مزیدار تو ہوتے ہیں مگر صحت مند نہیں یہ جلد پر الرجی پیدا کر سکتے ہیں اور انہیں کھانےسے جلد سرخی مائل ہوتی ہے اور خشک ہو جاتی ہے جس سے عمر کے اثرات اس پر جلد ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں اگر آپ ایسے کھانے کے شوقین ہیں تو ایسے کھانوں کے ساتھ زیادہ۔سے زیادہ پانی کا استعمال کریں
    https://login.baaghitv.com/stomach-k-masayel-sy-nijaat-kesy-payen-%d8%9f/
    کم پانی پینا
    پانی کی کمی جلد پر جھریاں پڑنے کا۔سب سے بڑا سبب ہے اور یہ جسم کو ڈی ہائیڈریٹ کر کے اور بہت سے بیماریوں کا باعث بھی بن سکتی ہے اس لیے پانی کا استعمال زیادہ کریں دن میں کم۔از کم۔دو لیٹر پانی۔پئیں
    چائے پانی اور کیفین والے کھانے
    چائے کافی وغیرہ میں شامل کیفین ہمارے جسم کی جلد کو خشک کرتی ہے ہے جلد سے موئسچرائزر کا خاتمہ کرتی ہے اگر آپ چائے اور کافی کے شوقین ہیں تو اس پریشانی سے بچنے کے لیے چائے اور کافی وغیرہ کے ہر کپ کے ساتھ پانی کا ایک گلاس پی لیں تو آپ جلد خشک ہونے کی پریشانی سے بچ جائیں گے
    نمک کا استعمال
    مچھلی کے گوشت کو فرائی کرنے سے پہلے نمک لگا دیا جاتا ہے نمک مچھلی کے گوشت میں سے پانی جذب کر لیتا ہے اسی طرح ہماری روزمرہ کی۔خوراک میں شامل نمک ہمارے جسم میں پانی کی مقدار کو کم کرتا ہے اور زیادہ نمک کھانے سے جہاں دیگر کئی طرح کی بیماریاں جیسے ہائی بلڈ پریشر وغیرہ لاحق ہو سکتی ہیں وہاں یہ جسم کا پانی۔جذب کرکے ہماری جلد کو جلدی۔بوڑھا کر دیتا ہے
    جلا ہوا کھانا
    ایسے کھانے جو تیز آگ پر جل جائیں جیسے گوشت وغیرہ اور زیادہ فرائی ہونے والے کھانے جو فرائی ہونے کے بعد کالے ہو جاتے ہیں ہماری صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں یہ۔ہماری جلد کو توانا رکھنے والے کلوجنز کو ختم کرتے ہیں اور ہمارے جسم کو عمر سے پہلے بوڑھا کر دیتے ہیں
    پروسیسڈ فوڈز
    بازار سے ملنے والی بہت سی پروسیسڈ فوڈز ٹرانس فیٹ پر مشتمل ہوتے ہیں جو انتہائی نقصان دہ ہیں جو انتہائی نقصان دہ ہے یہ ہمارے جسم کو ڈی ہائیڈریٹ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ڈی ہائیڈریشن جلد کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے اور جلد پر جھریاں پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے

    آنکھیں روح کا دریچہ


    تلی ہوئی غذا فاسٹ فوڈ اور جنک فوڈ
    گھی اور آئل میں تلے ہوئے کھانے فاسٹ فوً وغیرہ ہمارے جسم میں خون کی۔روانگی کو سست کرتے ہیں یہ دل کی۔بیماریوں کا۔باعث بنتے ہیں اور جسم میں خون لے جانے والی۔نالیوں کے سُکڑنے اور انھیں بلاک کرنے کا۔بھی باعث بنتے ہیں اور اگر ہمارے جسم میں خون کی ترسیل کا۔ناظام ٹھیک کام نہ کرے تو جلد پر عمر سے پہلے جھریاں پیدا ہونی۔شروع ہو جاتی ہیں لہذا ہمیں اپنی خوراک سے ایسے کھانوں کو نکالنا بہت ضروری ہے تاکہ صحت مند اور جوان رہ۔سکیں
    آلو کی چپس
    آلو کھائے جانے کے فوراً بعد جسم کے اندر گلوکوز میں بدل جاتا ہے اور تیز آنچ پر فرائی ہونے کے بعد آلو اور دیگر کھانے ہماری سکن کے سیلولر ڈیمج کرنے کا باعث بنتے ہیں اگر آپ آلو کھانے کے شوقین ہیں تو فرائی کرنے کی بجائے انہیں بیک کر کے کھائیں جھریوں سے بچنے کے لیے سادہ غذا کا۔استعمال کریں پانی۔زیادہ سے زیادہ پینا چاہیے دن میں دو لیٹر یا کم از کم آٹھ گلاس پانی۔ضرور پینا چاہیے

  • خون کی کمی پورا کرنے کے قدرتی طریقے

    خون کی کمی پورا کرنے کے قدرتی طریقے

    خون کی کمی پورا کرنے کے قدرتی طریقے
    خون انسانی جسم میں ٹرانسپورٹ پروٹیکشن اور ریگولیشن جیسے تین اہم کام سرانجام دیتا ہے اور جسم میں خون کی کمی انسانی جن کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے ہیموگلوبن ایک پروٹین ہے جو خون کے سرخ ذرات میں پائی جاتی ہے اور خون کے سرخ ذرات کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ جسم کے تمام اعضا تک آکسیجن کو پہنچائے اور جسم سے سرخ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو وصول کر کے خارج کرے
    ہیمو گلوبن کی کمی کی علامات
    اگر جسم میں ہیموگلوبن کی کمی ہے تو مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہوتی ہیں جس میں دل کی دھڑکن کا تیز ہو جانا مسوڑھوں اور جلد کا پھیکا پڑ جانا شدید تھکاوٹ محسوس ہونا اور سُستی اور کاہلی کا چھائے رہنا پٹھوں کا کمزور پڑ جانا سر میں بار بار درد کا ہونا وغیرہ
    ہیموگلوبن کی کمی پورا کرنے کے طریقے
    ہم اپنے جسم میں ہیموگلوبن کی کمی کو مندرجہ ذیل طریقوں سے پورا کر سکتے ہیں
    زیادہ آئرن والے کھانے
    ہیمو گلوبن کی کمی کےشکار افراد زیادہ آئرن والے کھانے کھانے سے اس کمی کو پورا کر سکتے ہیں آئرن ہمارے جسم میں ہیموگلوبن کی مقدار بڑھانے کے ساتھ ساتھ خون کے سرخ ذرات میں بھی اضافہ کرتا ہے گوشت مچھلی انڈے خشک میوہ جات خاص طور پر کھجور اور انجیر بروکلی سبز پتوں والے کھانے جیسے ساگ اور پالک سبز لوبیا السی اور مونگ پھلی کا مکھن وغیرہ ایسے کھانے ہیں جو آئرن سے بھر پور ہوتے ہیں

    گُردوں کے امراض جدید تحقیق کی روشنی میں


    فولیٹ والے کھانے
    فولیٹ وٹامن بی کی ایک قسم ہے جو ہمارے جسم میں ہیموگلوبن کی۔مقدار بڑھانے میں انتہائی اہم کردار سر انجام دیتی ہے اور اگر ہم اپنے کھانوں میں ایسے کھانے نہیں کھا رہے جو فولہٹ سے بھر پور ہوں تو جہاں اینیمیا جیسی بیماری کا شکار ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں وہاں فولیٹ کی کمی خون کے سرخ ذرات کو میچور نہیں ہونے دیتی گائے کا گوشت پالک چاول مونگ پھلی سرخ لوبیا وغیرہ ایسے کھانے ہیں جو فولیٹ سے بھر پور ہوتے ہیں ان کھانوں کے علاوہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے فولیٹ سپلیمنٹ بھی استعمال کر سکتے ہیں
    آئرن جذب کرنے کی صلاحیت بڑھانے والی غذائیں
    خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے جہاں زیادہ آئرن کھانے کھانا ضروری ہے وہاں ایسے کھانے بھی ضروری ہیں جو جسم میں آئرن کوجذب کرنے کی۔صلاحیت کو بڑھاتے ہیں وٹامن سی سے بھر پور کھانے جیسے کینو مالٹا مسمی امرود سبز پتوں والی سبزیاں وغیرہ ہمارے جسم میں آئرن جذ ب کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ایسے کھانے جو وٹامن اے اور پیٹا کیروٹین سے بھر پور ہوتے ہیں وہ بھی جسم کے اندر آئرن کو جذب کرنے اور استعمال کرنے کی۔صلاحیت پیدا کرتے ہیں وٹامن اے مچھلی گردوں کدو شکر قندی اور کیلے وغیرہ کھانے سے حاصل کر سکتے ہیں اور ایسی سبزیاں اور پھل جن کا رنگ سرخ پیلا اور مالٹا ہو ان سے بیٹا کیروٹین حاصل کی جاسکتی ہے جیسے گاجر حلوہ کدو شکر قندی آم وغیرہ اس کے علاوہ وٹامن اے کی کمی وٹامن اے کے سپلیمنٹ کھانے سے بھی پوری کی جا سکتی ہے یاد رکھیں وٹامن اے کی زیادہ مقدار استعمال کرنا خطرناک ہو سکتا ہے

    کھانسی کے علاج کا انتہائی مجرب گھریلو نسخہ


    ہیمو گلوبن کی کمی کی وجوہات
    ایسے افراد جن کے خون میں ہیمو گلوبن کی کمی پیدا ہوتی ہے وہ اینیمیا کا شکار ہو جاتے ہیں اورعام طور پر اینیمیا پیدا ہونے کی کی مندرجہ۔ذیل۔وجوہات ہوتی ہیں جن میں آئرن وٹامن بی بارہ اور فولیٹ کی کمی چوٹ لگنے یا کسی دوسری وجہ سے زیادہ خون کا بہہ جانا کہنسر گردوں میں خرابی جگر میں خرابی ہارمونز کی کمی تھیلسیما جو خون میں ہیمو گلوبن پیدا ہونے سے روکتی ہے اور ایسی بیماریاں جو خون کے سرخ ذرات اور ہیموگلوبن پیدانہیں ہونے دیتی ہیمو گلوبن کی کمی تمباکو نوشی پھیپھڑوں میں خرابی جلد کے جل جانےاور بہت زیادہ ورزش کرنے سےبھی پیدا ہو سکتی ہے خون کی کمی کھانوں کے علاوہ سپلیمنٹ کھانے سے بھی پوری کی۔جا سکتی ہے جس کے لیے کسی ڈاکٹر س

  • روزمرہ زندگی میں کھائی جانے والی غذائیں جو دماغ کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں

    روزمرہ زندگی میں کھائی جانے والی غذائیں جو دماغ کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں

    روزمرہ زندگی میں کھائی جانے والی غذائیں جو دماغ کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں
    دماغ انسانی جسم کا سب سے اہم عضو ہے جسکے بغیر زندگی نا ممکن ہے دماغ جسم کے تمام اعضا کو حرکت میں رکھتا ہے اسی لیے ضروری ہے کہ دماغ کو صحت مند کھانوں کے ساتھ صحت مند رکھا جائے ہماری روزمروہ لوفاک میں کچھ ایسے بھی کھانے ہیں جو دماغ کی صحت پر انتہائی برے اثرات ڈالتے ہیں یہ ہماریادداشت کو متاثر کرتے ہیں اور ہمارے موڈ کو خراب کرنے کا باعث بنتے ہیں
    مندرجہ ذیل کھانے جو ہماری دماغ کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں

    خون میں کولیسٹرول۔لیول کیسے کم کر سکتے ہیں?


    بازاری اور جنک فوڈ
    بازاری کھانوں اور جنک فوڈ وغیرہ میں جہاں شوگر کا۔استعمال کیا جاتا ہے وہاں ان کھانوں میں بہت زیادہ ریفائن آٹا یعنی میدہ بھی استعمال کہا جاتا ہے اور ایسے کھانے ہمارے جسم۔کا گلیسمیک انڈیکس کو بڑھاتے ہیں یعنی یہ کھانے جلدی ہضم ہو کر خون میں۔شوگر اور انسولین کو بڑھانے کا باعث بنتے ہیں اور جب ایسے کھانے زیادہ مقدار میں کھائے جائیں تو یہ ہمارے جسم میں گلیسمیک لوڈ کو بڑھانے کا باعث بنتے ہیں یعنی کھانے کی ایک مقدار خون میں کتنے شوگر لیول کا اضافہ کرتے ہیں سائنسی تحقیق کے مطابق گلیسمیک لوڈ کی۔زیادہ مقدار والے کھانےبڑوں۔سمیت بچوں کی یاداشت کو بھی متاثر کرنے کا سبب بنتے ہیں اور ان کے پڑھنے لکھنے اور سیکھنے کی صلاحیتوں کو متاثر کرتے ہیں
    پراسیسڈ فوڈز
    ایسے بازاری کھانے جو پہلے سے پراسیسڈ ہوتے ہیں اور گھر میں لا کر انہیں تیل یا گھی میں فرائی کر کے کھایا جاتا ہے جیسے نگٹس سموسے چکن ونگز رول وغیرہ اور آلو کی چپس سلانٹیاں بسکٹس وغیرہ ہماری صحت پر بہت زیادہ بُرے اثرات مرتب کرتے ہیں ان کھانوں میں شوگر کا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ غذائیت سے محروم اور کیلوریز سے بھر پور ہوتے ہیں اور ہماری دماغی صلاحیتوں کو بُری طرح متاثر کرنے کا باعث بنتے ہیں

    ڈائٹنگ کے دوران کی جانے والی غلطیاں


    میٹھے پکوان اور ڈرنکس
    میٹھے کھانے اور میٹھے ڈرنکس سوڈا انرجی ڈرنکس فروٹ جوسسز وغیرہ کا زیادہ استعمال جہاں موٹاپے جیسی بیماریوں کو پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے وہاں ہماری دماغی صلاحیتوں کو بھی خطرناک حد تک متاثر کرتا ہے کھانے میں میٹھے کا زیادہ استعمال ٹائپ ٹو ذیابیطس کو ہمارے جسم میں دعوت دیتا ہے اور یہ ذیا بیطس خطرناک دماغی بیماری الزائمر کا باعث بنتی ہے میٹھے کھانے جہاں موٹاپا پیدا کرتے ہیں وہاں ہائی بلڈ پریشر پیدا کرتے ہیں خون میں چربی بڑھاتے ہیں اور خون کے نظام ترسیل کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ خطرناک دماغی بیماری ڈیمینٹیا کا باعث بنتے ہیں
    مصنوعی شوگر
    بازار میں ملنے والی شوگر فری مٹھاس اور شوگر فری ڈرنکس میں استعمال۔ہونے والی یہ مٹھاس جسے عام۔طور پر ذیابیطس کے مریض یہ سمجھ کر استعمال کرتے ہیں کہ اس سے شوگر نہیں ہوگی ہماری صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ چیز ہے یہ دماغ کو کمزور کرتی ہے اور ہمارے اندر چڑ چڑا پن پیدا کرتی ہے
    ٹرانس فیٹ
    ٹرانس فیٹ دماغی صلاحیتوں کو بری طرح متاثر کرتی ہے اور یہ فیٹ عام طور پر ہمارے کوکنگ آئل اور بناسپتی گھی وغیرہ میں بڑی مقدار میں پائی جاتی ہے اور کئی۔سائنسی تحقیقات کے مطابق یہ مصنوعی چکنائی جہاں الزائمر جیسی دماغی بیماری کا باعث بنتی ہے وہاں یاداشت کو کمزور بناتی ہے اور جسم میں دیگر کئی طرح کی دائمی بیماریوں کو دعوت دیتی ہے جس میں دل کی بیماریاں ہائی بلڈ پریشر کولیسٹرول اور موٹاپا وغیرہ شامل ہیں
    نمکین اشیاء:
    نمک میں سوڈیم کی ایک بڑی مقدار شامل ہوتی ہے اور زیادہ سوڈیم والے کھانے جہاں ہائی بلڈ پریشر اور دل کی خطرناک بیماریوں کے علاوہ اور کئی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں وہاں میڈیکل۔سائنس کی جدید تحقیقات کے مطابق یہ دماغی افعال اور سوچنے سمجھنے کی۔صلاحیت کو بھی متاثر کرنے کا باعث بنتے ہیں
    صحت مند زندگی کے لیے صحت مند خوراک استعمال کرنا بہت ضروری ہے اپنی خوراک پر دھیان دیں اور ایسے تمام کھانوں سے گریز کریں جو صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں

  • نظر بد کیاہے اور یہ انسان کے جسم پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے ؟

    نظر بد کیاہے اور یہ انسان کے جسم پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے ؟

    نظر بد کیاہے اور یہ انسان کے جسم پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے ؟
    کہتے ہیں بری نظر انسان کو قبر اور اونٹ کو ہانڈی تک لے جاتی ہے بری نظر پہاڑ کو کھا جاتی ہے اور نظر بد انسان کو ہلاک کر دیتی ہے مگر بہت سے لوگ اس بات پر یقین نہیں رکھتے ان کا کہنا ہے کہ یہ سب توہم پرستی اور من گھڑت باتیں ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں مشہور امریکی رائٹر رابرٹ فلگھم اپنی کتاب آئی ریلی نِیڈ ٹو نو آئی لرن ان کنڈر گارٹن میں لکھتے ہیں کہ افریکہ کے سولومون آئی لینڈ پر رہنے والے قبائل جب کسی درخت کی لکڑی کو استعمال کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو وہ ہرے بھرے درخت کو نہیں کاٹتے سولومون قبائل کے لوگ اکٹھے ہوکر اُس درخت کو گھیر لیتے ہیں اور اُسے بد دعائیں دینا شروع کر دیتے ہیں اور پھر کچھ ہی دنوں میں وہ۔درخت سوکھ جاتا ہے تب وہ اُسے کاٹ کر اُس کی لکڑی استعمال کر لیتے ہیں کیا نظر بد انسان کے جسم پر اثر انداز ہوتی ہے ؟ سائنس بھی اس بات کو نہیں مانتی کیوں کہ سائنس ہر اُس چیز سے انکار کر دیتی ہے جسے وہ لیبارٹری میں ٹیسٹ نہیں کر سکتےمگر میٹ فزکس کو پڑھنے والے اس بات کو جانتے ہیں کہ نظر بد کے انسانی جسم پر اثرات پیدا ہوتے ہیں اور وہ نظر نہ آنے والی لہروں کی صورت میں جسم کو نقصان پہنچاتی ہے

    ٹائیفائیڈ بخار کی علامات اور اقدامات


    نظر بد معلوم کرنے کا۔طریقہ
    یہ بات اکثر دیکھنے میں آئی ہے کہ بعض اوقات انسان کسی ایسے مرض کا شکار ہو جاتا ہے جس کی نہ تو تشخیص ہی ممکن ہوتی ہے اور نہ ہی اس مرض کا ازالہ ممکن ہوتا ہے روحانیات سے دلچسپی رکھنے والے احباب کے نزدیک ایسے مرض کا سبب نہ ہی تو جسمانی ہوتا ہے اور نہ ہی آسیبی و سفلی بلکہ ایسا مریض نظر بد کا۔شکار ہو جاتا ہے جس کا جلد اور صحیح علاج نہ ہونے کے باعث مرض علاج معالجہ کے باوجود شدت اختیار کر جاتا ہے اس مرض کا شکار ہر شخص ہو سکتا ہے خصوصاً بچے اور عورتیں اس مرض کا اثر فوراً قبول کر لیتے ہیں
    ںظر بد جسم پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟
    بُری نظر شیطان کی نظر ہوتی ہے اور بُری نظر کے پہچھے حسد چھپا ہوتا ہے اللہ خود اپنی کتاب قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ حسد کرنے والوں کے شر سے اللہ کی۔پناہ مانگو

    سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈر (SAD) کی علامات علاج اور احتیاطی تدابیر


    جب کوئی شخص بری نظر میں گھر جاتا ہے تو اُس کے جسم پر مندرجہ ذیل نشانیاں ظاہر ہوتی ہیں
    وہ اچانک بغیر کسی وجہ سے جسمانی کمزوری محسوس کرتاہے آنکھوں سے پانی نکلنا شروع ہو جاتا ہے اُسے بغیر کسی وجہ سے بھوک لگنا ختم ہو جاتی ہے اُس کے چہرے کا رنگ پیلا یا زرد ہونا شروع ہو جاتا ہے چھوٹی اور معمولی باتوں پربھی پریشانی اسے گھیر لیتی ہے اور اُس کی ہمت کو شدید نقصان پہنچاتی ہے اُسے سینے میں جکڑن اور بھاری پن محسوس ہوتا ہے جسم پر سُستی طاری ہو جاتی ہے اور کام کرنے کی صلاحیت ختم ہو۔جاتی ہے سر میں مستقل درد رہنا شروع ہو۔جاتا ہے یا وہ درد شقیقہ میں مبتلا ہو جاتا ہے ایے سر کو بھاری محسوس کرتا ہے نظر لگنے کی۔صورت میں آدمی اپنے دوست احباب اور رشتہ داروں سح ملنا پسند نہیں کرتا کاروبار یا املاک میں نقصان ہونا شروع ہو جاتا ہے
    نظر بد سے بچنے کے طریقے
    انسان عام طور پر بُری نظر کو خود دعوت دیتا ہے کہ وہ اُسے کھا جائے آپکا اچھا لباس آپکا اچھا کھانا نیک اولاد آپ کی ترقی آپ کی خوبصورتی ماں باپ سے فرماں برداری آپ کی سخاوت آپ کا اچھا اخلاق آپ کا خوبصورت سخن لوگوں میں آپ کی قبولیت وغیرہ یہ تمام خوبیاں حسد کرنے والوں کو حسد کرنے پر مجبور کرتی ہیں اور آج کل آپکی ترقی سوشل میڈیا پر سب کو نظر آتی ہے آپ جب کسی خوبصورت ڈریس جیولری گھر کی سجاوٹ خوبصورت تصویر یا اچھے کھانے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں تو بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے دلوں کا حسد اُن تصاویر کو دیکھ کر بیدار ہو جاتا ہے اور آپکے نقصان کا باعث بنتا ہے قرآن پاک میں سورة یوسفؑ میں دو واقعات ہمیں نظر بد سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں ایک جب حضرت یوسفؑ کا خواب سُن کر ان کے والدنے انہیں کہا تھا کہ اپنا خواب اپنے بھائیوں کو مت سنانا وہ تُم سے حسد کرنے لگیں گے اور دُوسرا جب قحط کے وقت حضرے یوسفؑ کے بھائی مصر سے غلہ لینے کے لیے جانے لگے تو اُن کے باپ نے تلقین کی کہ محل میں داخل اکٹھے مت ہونا علیحدہ علیحدہ داخل ہونا (تا کہ نظر بد سے بچ سکو)
    ان مثالوان سے ثابت ہوتا ہے کہ لوگوں کی نظروں سے بچنا ضروری ہے آپؐ کے ارشاد کا مفہوم ہے اپنی ضروریات کو پورا کرنے سے پہلے رازداری سے کام لیا کرو کیوں کہ ہر نعمت والے سے حسد کیا جاتا ہے

    یہ پینڈورا باکس ہے کیا? حقیقت یا افسانہ?


    نظر اُتارنے کا۔طریقہ
    نظر اُتارنے کا سب سے اچھا طریقہ ہے کہ چاروں قُل اول آخر درود پاک پڑھ کر ہاتھوں پر پھونک مار کر ہاتھ پورے جسم پر پھیر لو اور اللہ سے حاسدین کے شر سے پناہ مانگ لو اور اگر ممکن ہو تو ساتھ میں کسی مسکین کو کھانا کھلا دو

  • لذیذ اور خوش ذائقہ  رس گُلے بنانے کا طریقہ

    لذیذ اور خوش ذائقہ رس گُلے بنانے کا طریقہ

    رس گُلے
    اجزاء:
    دودھ آدھا کلو
    لیموں کا رس ڈیڑھ کھانے کا چمچ
    میدہ ایک کھانے کا چمچ
    چینی ایک کپ
    پانی۔ڈیڑھ کپ
    ترکیب:
    دودھ گرم کریں جب ابال۔آنے لگے تو لیموں کا رس ڈال کر ہلائیں پانچ منٹ پکنے دیں کہ۔دودھ اچھی طرح پھٹ جائے اس چولہے سے اتار کر دس منٹ ٹھنڈا ہونے کے لیے رکھ دیں اس دوران چینی اور پانی پتیلی میں ڈال کر پکائیں کہ شیرہ تیار ہو جائے اب پھٹے دودھ کو ململ کے کپڑے میں ڈال کر اوپر پانی۔ڈالیں تا کہ لیموں کا کھٹا پن نکل جائے اور پھر اچھی طرح نچوڑ لیں پنیر کو پیالے میں ڈال کر اس میں میدہ مکس کر کے ہاتھ سے سات آٹھ منٹ مسلیں اب چھوٹے بالز بنا لیں بالز میں کوئی کریک نہ ہو ورنہ رس گلے پھٹ جائیں گے اور ان کو شیرے میں ڈال کر ڈھک کر دس منٹ تیز آنچ پر پکائیں اور پھر پانچ منٹ ہلکی آنچ پر پکنے دیں شیرے سے نکال کر ٹھنڈا کر کے پیش کریں

  • لکھنوی قیمہ پیاز بنانے کا طریقہ

    لکھنوی قیمہ پیاز بنانے کا طریقہ

    لکھنوی قیمہ پیاز
    اجزاء:
    گائے کا قیمہ ایک پاو
    پیاز ایک عدد
    دہی آدھا کھانے کا چمچ
    ہری مرچیں دو عدد
    ہرا دھنیا تین کھانے کی چمچ
    ادرک لہسن پیسٹ ایک چائے کا چمچ
    پپیتا ایک چائے کا چمچ
    پسی لال مرچ ایک چائے کا چمچ
    زیرہ آدھا کھانے کا چمچ
    پسا گرم مصالحہ ایک چائے کا چمچ
    چھوٹی الائچی ایک عدد
    ہلدی دو چٹکی
    پسا ناریل آدھا کھانے کا چمچ
    نمک حسب ذائقہ
    ترکیب:
    قیمے میں پسی لال مرچ نمک ادرک لہسن کا پیسٹ ہلدی پپیتا اور دہی شامل کر کے اچھی طرح مکس کر کے تیس منٹ میری نیٹ کر لیں اب ایک پین میں تیل گرم کر کے پیاز براون کریں اب ایک پین میں تیل گرم کر کے پیاز براون کر لیں پھر پیاز میں قیمہ ڈال کر دس منٹ ڈھک کر پکائیں اس کے بعد تیز آنچ پر بھون لیں اب ایک پین میں زیرہ پسا ناریل اور الائچی بھون کر شامل۔کر دیں آخر میں ہری مرچیں اور ہرا دھنیا ڈال کر کوئلے کا دھواں دیں اور پسا گرم۔مصالہ چھڑک کر مزیدار ڈش سرو کریں

  • چکن چٹنی کڑاہی بنانے کی ترکیب

    چکن چٹنی کڑاہی بنانے کی ترکیب

    چکن چٹنی کڑاہی
    اجزاء:
    چکن آدھا کلو
    نمک آدھا چائے کا چمچ
    ٹماٹر سلائس دو عدد
    پسی لال مرچ آدھا چائے کا چمچ
    کٹی لال مرچ آدھا چائے کا چمچ
    بھنا کٹا زیرہ ایک چائے کا چمچ
    ادرک لہسن پیسٹ آدھا کھانے کا چمچ
    تیل پاو کپ
    چٹنی کے لیے اجزاء:
    ہرا دھنیا آدھا کپ
    پودینے کے پتے دو کھانے کے چمچ
    ہری مرچیں تین عدد
    نمک حسب ذائقہ
    ترکیب:
    ہرا دھنیا پودینہ ہری مرچیں اور نمک ڈال کر گرائنڈ کر کے چٹنی بنا لیں پھر کڑاہی میں تیل گرم۔کر کے اس میں ادرک لہسن کا پیسٹ اور چکن ڈال کر دس منٹ اتنا فرائی کریں کہ چکن براون ہو جائے اب اس میں ٹماٹر ڈال۔کر ڈھکیں اور دس منٹ پکا لیں پھر اس میں نمک پسی۔لال مرچ بھنا کٹا زیرہ اور تیار چٹنی ڈال۔کت ڈھکیں اور دس منٹ پکائیں جب تیل اوپر آجائے تو چولہا بند کر دیں مزیدات چکن چٹنی۔کڑاہی تیار ہے