Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • مزیدارکوئین آف کلب سینڈوچ بنانے کی ترکیب

    کوئین آف کلب سینڈوچ
    اجزاء:
    اُبلے چکن بریسٹ ایک عدد
    کیچپ آدھا کھانے کا چمچ
    نمک پاو چائے کا۔چمچ
    کالی مرچ پاو چائے کا چمچ
    مسٹرڈ پیسٹ پاو چائے کا۔چمچ
    بریڈ سلائسز تین عدد
    آملیٹ ایک انڈے کا
    چیز سلائس ایک عدد
    ٹماٹر اور کھیرے کے سلائس حسب ضرورت
    مایونیز پاو کپ
    کوسلو سرو کرنے کے لیے
    فرنچ فرائز . سرو کرنے کے لیے
    ترکیب:
    بریڈ سلائز گرل پین پر ٹوس کر لیں اور ان پر مایونیز لگالیں پھر ان پر ابلے چکن بریسٹ ڈال لیں اور بریڈ کا دوسرا سلائس رکھ لیں اب اس پر مایونیز لگا کر ایک عدد چیز سلائس رکھیں پھر اس پر انڈے کا آملیٹ ڈالیں اب اس پر ٹماٹر اور کھیرے کے سلائس رکھیں پھر اس پر سلادپتے رکھیں اب اس پر تیسرا سلائس رکھ کر درمیان سے اس کے سلائسز کاٹ لیں اس کے بعد درمیان سے سینڈوچ کے مزید سلائسز کاٹ کر کولسلو اور فرنچ فرائز کے ساتھ سرو کریں

  • کولیسٹرول لیول کیسے کم کر سکتے ہیں؟

    کولیسٹرول لیول کیسے کم کر سکتے ہیں؟

    کولیسٹرول لیول کیسے کم کر سکتے ہیں؟
    کولیسٹرول کیا ہے ؟
    کولیسٹرول چربی کی ایک قسم ہے جس کی مناسب مقدار کا جسم میں ہونا ضروری ہے ایک نارمل آدمی کے جسم مکں کولیسٹرول کی مقدار تقریباً سو گرام یا اس سے تھوڑی سی زیادہ ہوتی ہے کولیسٹرول جسم میں بنتا اور جمع ہوتا ہے اس کی مناسب مقدار جسم میں ضروری ہارمونز پیدا کر نے کے لیے اور نظام ہضم میں مدد دینے کے لیے ضروری ہے مثلاً گوشت انڈے دودھ مکھن اور گھی وغیرہ میں کولیسٹرول کی خاصی مقدار پائی جاتی ہے اس طرح کی غذا کھانے سے خون میں کولیسٹرول کی مقدار بڑھ جاتی ہے جب خون میں کولیسٹرول کی مقدار حد سے بڑھ جائے تو پھر یہ خون کی نالیوں کے اندرونی حصے میں جمع ہو کر اور چکنائی کہ تہیں بنا کر خون کے نارمل بہاو میں رکاوٹ پیدا کرکے ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتا ہے جس سے فوری موت بھی واقع ہو سکتی ہے
    کولیسٹرول کا لیول:
    جسم میں کولیسٹرول اوت مختلف قسم کے لیپوپروٹینز اور چکنائی کی مقدار معلوم کرنے کے لیے خون کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے اسے لیپڈ پروفائل کا نام دیا جاتا ہے اس ٹیسٹ کو کروانے کے لیے کم از کم بارہ گھنٹے بھوکا رہنا ضروری ہے تبھی خون میں کولیسٹرول کی مقدار کا صحیح پتہ چلتا ہے ایک تندرست انسان کا لیپڈ پروفائل یہ ہوتاہے کولیسٹرول 200-120ملی گرام/ڈیسی لیٹر ایچ ڈی ایل 52-41 ملی گرام/ڈیسی لیٹر ایل ڈی ایل 188-108 ملی گرام/ڈیسی لیٹر ٹرائی گلیسرائیڈز 150 ملی گرام

    ڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر


    کولیسٹرول کی اقسام اور ان کا کام:
    کولیسٹرول خون میں گرش کرتاہے جسم میں موجود چکنائی اور پروٹینز کے چھوٹے چھوٹے مرکبات کولیسٹرول کو اس کے استعمال کی۔جگہ پر لے جاتے ہیں ان مرکبات کو لیپو پرٹینز کہتے ہیں اس کی اقسام وی ڈی وی ایل یعنی ویری لو ڈینسٹی لیپو پروٹینز؛ ایل ڈی ایل یعنی لو ڈینسٹی لیپو پروٹینز؛ ایچ ڈی ایل یعنی ہائی ڈینسٹی لیپو پروٹینز ہیں ایل ڈی ایل اور وی ایل ڈی ایل جسم میں موجود کولیسٹرول کو جسم کے مختلف حصوں تک پہنچاتے ہیں جبکہ ایچ ڈی ایل اصل خون میں موجود کولیسٹرول کو کم کرنے کا کام کرتے ہیں کیونکہ یہ جسم سے زیادہ کولیسٹرول کو جگر تک پہنچاتے ہیں جہاں سے وہ صفرا وغیرہ بنانے کے کا آتا ہے اگر خون میں ایل ڈی ایل اور وی ایل ڈی ایل کی مقدار زیادہ ہو گی تو پھر کولیسٹرول کی۔زیادہ مقدار خون میں شامل ہو کر شریانوں کو تنگ کرنے کا باعث بنے گا مرغن غذائیں یو کولیسٹرول والی زیادہ خوراک کھانے سے جسم میں مختلف قسم کی چربی بھی زیادہ ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے خون کی نالیوں میں کلوٹ آنے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے

    بیسن اور بیسن کی روٹی کے حیران کین طبی فوائد


    خون میں کولیسٹرول کی مقدار بڑھانے والے عوامل:
    خون میں کولیسٹرول کی زیادتی کے باعث دل کے دورے کے امکانات آٹھ سے دس گنا بڑھ جاتے ہیں خون میں کولیسٹرول زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ اگر سگریٹ نوشی یا شراب نوشی کی بھی لت ہو تو پھر ہر وقت دل کے دورے کا خطرہ رہتا ہے زیادہ کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈ دل کو خون پہنچانے والی نالیوں میں کلوٹ بن کر دل کو خون کی سپلائی بند کرنے کا سبب بن سکتے ہیں موٹاپے کے ساتھ اگرذیابیطس بھی ہو تو دل کے دورے کے امکانات اوت بھی بڑھ جاتے ہیں
    خون میں کولیسٹرول۔لیول کم کرنے کی آسان تراکیب:
    کولیسٹرول کی۔خون میں زیادتی خطرناک تو ہوتی ہی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ خون کی۔شریانوں میں کلوٹ یا پلاک بن کر جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ طرز زندگی میں مثبت تبدیلی اور کھانے پینے میں اعتدال کر کے نہ صرف اس پر قابو پایا جا سکتاہے بلکہ نارمل۔زندگی گزاری جا سکتی ہے خون میں کولیسٹرول کی۔زیادتی کی ایک۔وجہ موٹاپا بھی ہے جتنا وزن زیادہ ہوگا اتنا ہی کولیسٹرول بڑھنے گا امکان زیادہ ہو گا ایک اندازے کے مطابق ہر ایک کلو گرام زیادہ وزن کے لیے جسم کو تقریباً بائیس ملی گرام زیادہ کولیسٹرول روزانہ پیدا کرنا پڑتا ہے یعنی اگرکسی کا وزن نارمل وزن سے بیس کلو زیادہ ہے تو اس کا جسم روزانہ چار سو چالیس ملی گرام۔زیادہ کولیسٹرول بنائے گا کولیسٹرول کم کرنے کے لیے سب سے پہلے موٹاپے کو کنٹرول کیا جائے کولیسٹرول کی زیادتی والی غذا ست مکمل پرہیز کرنا چاہیے زیادہ چکنائی والی اور تمام مرغن غذاوں سے مکمل پرہیز کیا جائے کولیسٹرول صرف جانوروں سے حاصل کی جانے والی خوراکوں میں پایا جاتا ہے اچھی صحت کے لیے ایک دن میں ایک شخص کو سو ملی گرام سے زیادہ کولیسٹرول نہیں کھانا چاہیے انڈوں کا استعمال بند کر دیں یا صرف انڈوں کی سفیدی لیں گوشت کا استعمال کم کریں چربی والا گوشت بالکل استعمال نہ کریں کریم مکھن چیز کریم والے دودھ دیسی گھی گردے کلیجی نہاری مغز اور سری پائے وغیرہ سے پرہیز کریں سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں

    سوکھا دھنیا میں چھپے صحت کے خزانے


    مختلف تازہ سبزیاں اور پھل بہترین غذا ہیں اس لیے سبزیوں اور پھلوں کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے کیونکہ سبزیوں اور پھلوں میں کولیسٹرول بالکل نہیں ہوتا سبزیاں کھانے سے انسان۔صحت مند اور سمارٹ رہتا ہے اس لیے تندرست سمارٹ اور چاق و چوبند رہنے کے لیے زیادہ زیادہ پھل۔اور سبزیاں استعمال کریں کھانے میں سادہ سلاداور ریشے والی سبزیاں زیادہ شامل کریں

    چِک پیز سیلیڈ بنانے کا منفرد طریقہ


    مختلف تجربات سے ثابت ہو چکا ہے کہ روزانہ ناشتے میں لہسن اور کچی گاجروں کا استعمال کولیسٹرول کم۔کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے روزانہ کچی گاجریں کھانے سے معدہ بھی ٹھیک رہتا ہے بھوک بھی زیادہ نہیں لگتی اور کولیسٹرول کی مقدار بھی ٹھیک رہتی ہےخون میں کولیسٹرول اور چربی یعنی ٹرائیڈ گلیسٹرائیڈ کی مقدار کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ غذا میں زیادہ چکنائی کی مقدار بالکل ختم کر دی جائے ہر قسم کے گھی اور مکھن سے مکمل پرہیز کیا جائے پورے جسم کو چربی کی ضرورت بہت کم ہوتی ہے اگر جسم میں چربی کی۔مقدار پہلے ہی زیادہ ہو تو اس کی بالکل ضرورت نہیں ہوتی اس لیے ضروری ہے کہ کھانے میں چکنائی کی مقدار بالکل۔کم کر دیں چکنائی کا استعمال کرنے کے لیے ہرقسم کی چکنائی والی اشیاء کھانا بند کر دیں

    الائچی اور سونف کے حیران کن طبی فوائد


    صرف غیر سیرشدہ تیل مثلاً مکئی کا تیل سویا بین کا تیل اور مونگ پھلی کا تیل استعمال کریں زیتون کا تیل بہت فائدہ مند ہے اس کا استعمال کولیسٹرول کم کرنے کے لیے بہت مفید ہے عرب ممالک میں زیادہ لوگ اسے استعمال کرتے ہیں اسی وجہ سے ان علاقوں میں ہارٹ اٹیک بہت کم ہوتے ہیں کولیسٹرول کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بازارطسے کھانے نہ کھائے جائیں اس کے علاوہ مختلف قسم کی کولڈ ڈرنکس کافی اور کیفین والے دوسرے مشروبات لینے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے مختلف قسم کی۔غذا کو اس کی اصلی حالت میں استعمال کرنا چاہیے چھان کے بغیر آٹا استعمال کرنا بھی مفید ہے اس کے علاوہ ریشے دار غذائیں کھانے سے بھی فائدہ ہوتا ہے

    مزیدارہنی ونٹر سیلیڈ بنانے کی آسان ترکیب


    خوراک میں ریشے کی مقدار کولیسٹرول اور چربی کو خون میں جذب ہونے سے روکتی ہے اس طرح خون میں کولیسٹرول کا لیول مناسب حد تک رہتا ہے سگریٹ نوشی بھی ایک طرح سے کولیسٹرول لیول زیادہ کرنے کا سبب بنتی ہے کیونکہ سگریٹ نوشی خون میں شامل ہو کر ایچ ڈی ایل کو کم۔کرنے کا سبب بنتی ہے خون میں شامل۔ایچ ڈی ایل اصل میں خون میں کولیسٹرول کم کرنے کا سبب بنتا ہے اس لیے اس کی موجودگی ضروری ہے اس وجہ سے سگریٹ نوشی سے پرہیز بہت ضروری ہے سگریٹ نوشی کی طرح شراب نوشی بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ خون میں موجود الکوحل خون سے چکنائی دور کرنے کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے خون میں چکنائی اور کولیسٹرول کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ کولیسٹرول کم کرنے کے لیے غذائی احتیاطوں کے ساتھ ساتھ سگریٹ نوشی اور شراب نوشی سے بھی پرہیز کیا جائے

    خون کی کمی کی چند اہم وجوہات اور اقدامات


    ایک تحقیق کے مطابق صرف غذا میں مباسب تبدیلی کر کے دو سے تین ماہ کے اندر تقریباً پچاس سے ساٹھ ملی گرام کولیسٹرول کم کیا۔جا سکتا ہے اس کے علاوہ خوراک میں جو کاآٹا پھلیاں کریم نکلی ہوئی دہی کا استعمال بھی فائدہ مند ہے روزانہ صبح لہسن کا استعمال کولیسٹرول کم کرنے میں۔مدد دیتا ہے روزانہ ایک گاجر کا استعمال بھی انتہائی مفید ہے کولیسٹرول لیول کم۔کرنے کے لیے ضروری ہے کہ طرز زندگی میں بھی تبدیلی کی جائے مستقل مزاجی کے ساتھ کھانے میں تبدیلی اور اس کے ساتھ مثبت سوچ بھی کولیسٹرول کم کرنے میں مددگار ہوتا ہے اللہ پر پورا یقین رکھیں مثبت سوچ اپنائیں مثبت سوچ اور کامل یقین کے ساتھ آپ ہر قسم کے مسائل۔پر قابو پا سکتے ہیں ذہنی انتشار دماغی الجھنوں سے بچنے کی کوشش کی جائے روحانی بالیدگی کے لیے پانچ وقت کی نماز کہ پابندی کی۔جائے خون میں کولیسٹرول کی۔زیادتی کوئی بڑا مسئلہ نہیں اس کو کم کرنے کا حل آپ کے پاس ہے ادویات اور ڈاکٹر سے زیادہ اس کو آپ نے خود کنٹرول کرنا ہے طرز زندگی میں تبدیلی لا کر مثبت سوچ اپنا کر سادہ۔غذا استعمال کر کے آ پ خون میں کولیسٹرول کی مقدار بڑھنے سے روکنے کے علاوہ دوسری بیماریوں سے بھی بچ سکتے ہیں ہمیشہ بھوک رکھ کر کھانا کھائیں کھانا صرف زندہ رہنے کے لیے کھایا جاتا ہے نہ کہ صرف کھانے کے لیے زندہ رہا جاتا ہے موٹاپا کولیسٹرول کی وجہ بنتا ہے اور بھی بہت سی بیماریوں کا۔سبب بن سکتا ہے اس لیے کھانا ہمیشہ کم کھایا جائے خاص کر رات کو سونے سے پہلے تو بہت ہی ہلکا پھلکا کھانا کھا لیا جائے تاکہ معدہ اور نظام انہضام اور دوسرے افعال پر خومخواہ بوجھ نہ پڑے اس سلسلے میں آپؐ نے فرمایا کھانا ہمیشہ بھوک رکھ کر کھائیں جب بھی کھانا کھائیں تو پیٹ کےتین حصے کر لیں ایک کھانے کے لیے ایک ہوا کے لیے اور ایک پانی کے لیے اس حساب سے کھانا کھائیں گے تو موٹاپا بھی نہیں ہو گا اور کولیسٹرول بھی نہیں بڑھے گا اور دوسری بیماریاں بھی نہیں ہوں گی روزانہ ورزش کو معمول بنا لیں ورزش انسان کو صحت مند اور توانا رکھتی ہے ورزش کسی بھی قسم کی ہو اگر یہ باقاعدگی کے ساتھ کی جائے تو موٹاپا کم۔کرنے کے ساتھ ساتھ آدمی کو صحت مند رکھنے کے لیے بھی مددگار ثابت ہوتی ہے اور اس سے یقینی طور پر کولیسٹرول کی مقدار بھی کم ہو سکتی ہے ذیا بیطس بلڈ پریشر اور ہارٹ اٹیک کا چولی۔دامن کا۔ساتھ ہے اگر ان بیماریو۔ کا۔علاج نہ کروایا جائےتو دل کے دورے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں ان کے علاوہ اگر آپ کو کسی۔قسم کی۔بیماری ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں اور ڈاکٹر کے مشورے سے اس کا علاج کریں

  • گوشت دھوئے بغیر پکائیں کیسے؟

    گوشت دھوئے بغیر پکائیں کیسے؟

    گوشت دھوئے بغیر پکائیں کیسے؟
    دراصل گوشت پروٹین اور غذائیت سے بھر پور ہونے کے باعث ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے اپنے بچوں کو انکی خواہش کے مطابق ڈشز پکا کر کھلائے اس کے نقصانات ایک طرف لیکن حقیقت ہے کہ گوشت معیاری ہوتو اس کااستعمال ضروری ہے موجودہ ریسرچ کے مطابق گوشت دھونے سے جو آلودہ پانی کے چھینٹے اڑتے ہیں اس سے کیمپی لو بیکٹیریا پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے گوشت دھونے کے باعث اڑنے والے آلودہ پانی کے چھینٹے کپڑوں اور باورچی خانے میں آتے ہیں ریسرچ کے مطابق ان کے ذریعے کیمی لو بیکٹیریا افزائش پاتا ہے اور تیزی سے پھیلتا ہے جس سے فوڈ پوائزننگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اگر گوشت کو دھویا نہ جائے تو صاف کر کے کیسے پکایا جائے آپ حیران ہوں گی کہ گوشت تو اتنا آلودہ ہوتا ہے اسے دھوئے بغیر پکانا تو ناممکن سی بات ہے یہاں آپ کو گوشت دھونے کا صحیح اور محفوظ طریقہ جس سے آپ کیمپی لو بیکٹیریا سے بھی بچ جائیں گے اور مزیدار پکوان سے بھی لطف اندوز ہو پائیں گے

    قربا نی کا گوشت محفوظ کیسے کیا جائے ؟


    گوشت دھونے کا طریقہ:
    گوشت صاف کیے بغیر کبھی بھی فریز نہ کریں گوشت پرلگا خون اور آلودگی ململ یا کسیبھی نرم۔کپڑے کی مدد سے گیلا کر کے صاف کر لیں کپڑا سفید یا پھر ایسے ہلکے رنگ کا ہو جس کا رنگ نہ نکلتا ہو اس کے بعد نیم گرم پانی میں ایک عدد لیموں کا رس یا ایک چمچ سفید سرکہ ڈال کر گوشت کو پانچ منٹ تک بھگو دیں ہاتھ سے مل کر صاف کریں اور ایک۔دفعہ۔گوشت کو سادہ پانی میں ڈال کر نکال لیں ایسا کرنے سے گوشت تمام جراثیم سے پاک ہو جاتا ہے اس طریقہ کار کو اپنانے کے بعد آپ کو گوشت کے آلودہ ہونے کا کوئی خطرہ نہیں رہے گا اور آپ جراثیم کے پھیلنے کے خوف سے بھی بچ جائیں گے

    ڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر


    کیمپی لو بیکٹیریا انفیکشن کیا ہے؟
    یہ بیکٹیریا ڈائریا اور فوڈ پوائزننگ کا ایک اہم اور بنیادی سبب مانا جاتا ہے یہ بیکٹیریا معدے کی نالی میں انفیکشن پیدا کرکے ڈائریا بخار اور اینٹھن کا۔سبب بنتے ہیں حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کر کے اس سے بچا جا سکتا ہے اکثر یہ علامات خود ہی دور ہو جاتی ہیں اور کبھی اینٹی بائیوٹکس لینے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے
    کیمپی لو بیکٹیریا کے اسباب:
    یہ بیکٹیریا جنگلی اور گھریلو جانوروں کی آنتوں میں رہتے ہیں یہ انسانوں تک گوشت دودھ اور انسانوں کے فضلہ کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں انسان کے نظام انہضام میں داخل ہو کر یہ آنتوں کی چھوٹی بڑی پرتوں کو متاثر کرتے ہیں آنتوں کے ساتھ ساتھ یہ بیکٹیریا جسم کے دیگر اعضاء کو بھی متاثر کر سکتا ہے یہ بڑھتے ہوئے بچوں کو کمزور قوت مدافعت اوردائمی۔امراض میں مبتلا افراد کو زیادہ متاثر کرتا ہے
    کیمپی لو بیکٹیریا انفیکشن کی علامات:
    یہ علامات انفیکشن سے متاثر ہونے کے بعد دو سے پانچ دن کے اندر ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں اور ایک ہفتے تک جاری رہ سکتی ہیں ان علامات میں۔ڈائیریا پیٹ کا درد اینٹھن بخار تھکاوٹ متلی اور قے شامل ہیں غیر معمولی صورتحال میں یہ انفیکشن جوڑوں کے درد یا گیلین بارسنڈروم کا باعث بن سکتا ہے کیمپی لو بیکٹیریا ایک متعددی مرض ہے یہ انفیکشن ایک انسان سے دوسرے انسان تک باآسانی منتقل ہو سکتا ہے متاثرہ فرد کے فضلہ خاص طور پر چھوٹے بچوں کے ڈائپر وغیرہ کے ذریعے یہ بیکٹیریا دیگر افراد میں منتقل ہو سکتا ہے گھر میں موجود پالتو جانوروں کے ذریعے بھی یہ بیکٹیریا آپ تک منتقل ہو سکتا ہےاسکے علاوہ گوشت دھونے کے باعث اڑنے والے آلودہ پانی کے چھینٹے کپڑوں اور باورچی خانے میں آتےہیں ان کے ذریعے بھی کیمپی لو بیکٹیریا افزائش پاتا ہے اور تیزی سے پھیلتا ہے جس سے فوڈ پوائزننگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

  • شہد اور کھجور کی طبی خصوصیات

    شہد اور کھجور کی طبی خصوصیات

    شہد اور کھجور کی طبی خصوصیات
    کھجور وہ پھل ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں متعدد بار آیا ہے اس کو خوشی کا پھل کہا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے سے ہی اسے بطور میٹھے کے استعمال کرنے کا عام رواج تھا باالخصوص اسے اسلام کی آمد کے بعد اس متبرک شے کی خصوصیات یا ثمرات مزید ابھر کر سامنے آئےروایت ہے کہ ایک صحابی کے سینے میں درد اٹھا نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عجوہ کھجور گٹھلی سمیت پیس کر پلانے کی ہدیت فرمائی اس طرح ان صحابی کا دردر دور ہو گیا بعد کی تحقیق سے مزید خصوصایت سامنے آئیں اس ساے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس شے کی قدرومنزلت کس قدر ہے کھجور کھانے سے دل کے امراض دور ہوتے ہین چند کھجوروں کو رات بھر پانی میں بھگو کر صبح نہار منہ کھانے سے دل کو تقویت ملتی ہے یہ انتہائی مقوی غذا ہے حکماء اسے کئی اعتبار سے دیگر پھلوں پر فوقیت دیتے ہیں یوں تو شہد اور کھجور کا مزاج گرم ہے لیکن ان کے بے شمار فوائد بھی ہیں دمے کے مریضوں کے لیے بہترین غذا کا درجہ رکھتی ہیں ہاضمہ درست رکھتی ہے جسم میں تازہ خون پیدا کرتی ہے شہد اور کھجور بلغم کا خاتمہ کرتے ہیں اور پھیپھڑوں کو بھی طاقت بخشتے ہیں دماغ اعصاب قلب معدے اور جسم کے پٹھوں کے لیے بھی انتہائی مفید ہے اس کے معدنی نمکیات دل کی دھڑکن کو منظم رکھتے ہیں کھجور فیٹ سوڈیم اور کولیسٹرون فری ہے یہ خون میں کولیسٹرول کی سطح گھٹاتی ہے اور انجائنا کے مریضوں کو فائدہ پہنچاتی ہے
    بچوں اور بڑوں کو اکثر دائمی نزلہ اور زکام اور کھانسی کی شکایت رہتی ہےیہ بظاہر ایک چھوٹی سی بیماری نظر آتی ہے لیکن یہ مرض بعد میں۔شدت اختیار کر جاتا ہے اس کے انسان کو سر درد جسم میں کمزوری آنکھوں سے پانی بہنا حلق میں خراش ہلکا ہلکا بخار اور تھکاوٹ بھی شروع ہو جاتی ہے جس سے جسم ہر وقت سست روی کا۔شکار رہتا ہے ایسے میں یہ نسخہ استعمال کریں ملٹھی لونگ دار چینی فلفل دراز اور الائچی تمام چیزیں آدھا آدھا تولہ۔لے کر اس کو باریک پیس پر سفوف بنا لیں اور شہد میں ملا۔کر اس کی معجون بنا لیں اس معجون کو رات سونے سے قبل آدھا چمچ کھانے سے کھانسی نزلہ۔زکام اور بخار میں ان شاءاللہ کمی واقع ہو جائے گی
    معدہ جگر مثانہ میں گرمی ورم اور سوزش پیدا ہو جائے اور معدے میں درد ہو تو آپ صبح نہار منہ ایک گلاس میں شہد کے دو چمچ ملا کر پئیں انشاءاللہ افاقہ ہوگا

  • بچوں کی تربیت کیسے کی جائے?

    بچوں کی تربیت کیسے کی جائے?

    اکثر بچے بھری محفل میں ایسی حرکتیں کر دیتے ہیں کہ والدین کو انتہائی شرمندگی ہوتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ والدین بچوں کو ایسی باتیں سکھائیں جن پر عمل کر کے بچے مہذب اور اچھی زندگی گزار سکیں بچپن کی سیکھی ہوئی باتیں تمام عمر ان کے ساتھ رہیں گی مندرجہ ذیل چند باتیں ہیں جو بچوں کو ضرور سکھانی چاہئیں
    نماز اور دُعا: بچوں کو سات سال کی عمر سے ہی باقاعدگی سے نماز ادا کرنے کا کہیں بچوں کو سکھائیں کہ دینے والی خُدا کی ذات ہے اس لیے اُسی سے مانگنے کی عادت اپنائیں اس طرح بچے نماز ادا کرنے کے لیے نہ صرف صاف ستھرے رہیں گے بلکہ ان کا باطن بھی نکھر جائے گا
    صفائی نصف ایمان ہے یہ بات ہمارے مذہب نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی بتا دی تھی لہذا ضروری ہے کہ بچوں کو اس بات کے بارے میں بار بار دُہرائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ آپ کی بات پر عمل کرتے رہیں کھانا کھانے سے پہلے بعد میں ہاتھ دھوئیں کلی کریں ناخن باقاعدگی سے ساتھ کریں اپنے بال کپڑے صاف ستھرے رکھیں

    چراغ کی روشنی اوراجنبی شخص


    بچوں پر نظر رکھنا ایک قدرتی اور اچھا عمل ہے لیکن ہر وقت ساتھ ساتھ رہنے سے ان کی خود اعتمادی میں کمی ہو جاتی ہے بعض اوقات زیادہ روک ٹوک انھیں ضدی اور چڑچڑابنا دیتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کو خوداعتمادی دیں ان پر بھروسہ کریں زیادہ روک ٹوک سے گریز کریں اس طرح بچے آہستہ آہستہ خود مختار ہونے کے ساتھ ساتھ پُر اعتماد بھی ہو جائیں گے
    اچھی غذا کھانے کی عادت بچپن سے ہی بنتی ہے بچوں کو ہمیشہ غذائیت والے کھانوں کی عادت ڈالیں بچپن میں۔جو والدیں اپنے بچوں کی غذائی ضروریات کا خیال نہیں رکھتے اور عادات کو بہتر نہیں بناتے ان بچوں کی عادتیں بقیہ عمر میں پختہ ہو جاتی ہیں جو کہ ان کی صحت پر بُرےاثرات مرتب کرتی ہیں
    بچوں کو بچپن سے ہی سکھائیں کہ صرف بڑے لوگوں سے ہی تمیز سے پیش نہیں آنا بلکہ اپنے ہم جولیوں اور چھوٹوں کی عزت کرنا بھی ان کا فرض ہے انھیں بتائیں کہ بڑوں کے ساتھ ساتھ وہ دوستوں سے بھی تمیز اور عزت سے بات کریں انہیں اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کرنے کی عادت ڈالنا سکھائیں اور بتائیں کہ دوسرے اگر ان سے بُرا سلوک بھی کرتے ہیں تب بھی زبان درازی اور مارپیٹ سےباز رہیں اس کے علاوہ اپنے بچوں کو اوائل عمری میں پیسہ دینا کوئی اچھی عادت نہیں لیکن جب انہیں پیسے دیں تو بھی اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ اس کا بہترین استعمال۔بنائیں اگر وہ اس میں۔لاپرواہی سے کام لیں تو انہیں سمجھائیں کہ پیسے کا استعمال دانش مندی سے کریں

  • خشک جلد کی حفاظت کے لیئے ماسک

    خشک جلد کی حفاظت کے لیئے ماسک

    خشک جلد کے لیے ایک عدد انڈا گلیسرین ایک۔چائے کا چمچ روغن بادام ایک چائے کا چمچ اور شہد ایک چائے کا چمچ لیں اور سب سے پہلے انڈے کو اس طرح پھینٹ لیں کہ جھاگ بن جائے اس کے بعد اس میں گلیسرین روغن بادام اور شہد اچھی طرح ملا لیں پھر اس پیسٹ کو چہرے گردن اور ہاتھوں کی جلد پر لیپ کر لیں اور پندرہ سے بیس منٹ تک لگا رہنے دیں اور اس کے بعد سادہ پانی سے اچھی طرح دھو لیں اور جلد کو تولیہ کے بغیر خشک ہونے دیں اس عمل کومہینے میں۔تین سے چار مرتبہ کریں۔جلد تروتازہ اور نرم و ملائم ہو جائے گی

    انڈے سے چہرے کی جھریاں دور کی۔جا سکتی ہیں انڈا جلد کے مسامات کو نہ۔صرف کس دیتا ہے بلکہ جلد کی۔غذائی ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے انڈے کی۔سفیدی غیر معمولی فوائد کی حامل کلینزر مانی جاتی ہے ایک تھکا دینے والے دن کی تھکن دور کرنے کے لیے مندرجہ ذیل نسخہ نہایت کار آمد ہے ایک انڈے کو اچھی طرح پھینٹ کر اس ماسک کو چہرے اور گردن پر لگائیں اور بیس منٹ تک لگا رہنے دیں پھر پانی سے چہرہ اور گردن اچھی طرح دھو لیں ہفتے میں دو بار استعمال کریں چند ہی ہفتوں میں جھریاں ختم ہو جائیں گے

  • ماں اور بچے کا صحت مند ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ بچے کی پیدائش

    ماں اور بچے کا صحت مند ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ بچے کی پیدائش

    ماں اور بچے کا صحت مند ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ بچے کی پیدائش
    بچے ہر گھر کی رونق اور خاندان کو پروان چڑھانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں تاہم۔صرف بچوں کی پیدائش ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ ماں اور بچے کا صحت مند ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہےجتنا کہ بچے کا دنیا میں آنا بچوںکا صحت و تندرستی کے ساتھ دنیا میں۔آنا والدین کی۔اولین ترجیح ہوتی ہے اورہونی چاہیےبھی عورت جو نو ماہ بچے کو اپنی کوکھ میں۔رکھ کر اسے پروان چڑھاتی ہے اورجنم دیتی ہے پھر اس کی پرورش رضاعت اور نگہداشت بھی اسی کی ذمہ داری ہے تووہ اس بات کی پوری طرح حقدارہےکہ اس سارے عرصے میں اس نے جو تکلیفیں سہی ہیں اور جن کمزوریوں کا وہ شکارہوئی ہے پہلے اسکا ازالہ کرلیا جائے امریکی میڈیکل ایسوسی ایشن کے جریدے جاما میں شائع ہونے والی ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق 2004ء سے 2014ء کے درمیان پیدا ہونے والے بچوں کا وزن اس لیے کم رہا کیونکہ پہلے بچے کی ولادت کے بعد اگلے حمل کے دوران کم۔از کم۔ڈیڑھ یا دو سال کا وقفہ اختیار نہیں کیا گیا تھا

    وٹامن ڈی کی کمی کی چند اہم نشانیاں


    ریسرچ رپورٹ ڈیڑھ لاکھ حاملہ خواتین کے ہاں ولادت کے حوالے سے جمع کیے گئے اعدادوشمار کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ سال سے دوبرس کا وقفہ کسی بھی بالغ عمر کی خاتون میں حمل ٹھہرنے کے لیے ضروری ہے اور معالجین کا۔خیال ہے کہ تیس سے چالیس برس کی خواتین کو بچے کی ولادت میں اتنا وقفہ لانا بہت ضروری اور لازمی ہے کیونکہ دوسری صورت میں حمل کے قیام کے دوران میٹرنل پچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں کینیڈا کی برٹش کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر لارا شومرز نے اس رپورٹ کو مرتب کیا ہے لاراشومرز کے مطابق پینتیس برس یا اس سے زائد عمر کی خواتین بچے کی پیدائش چاہتی ہیں تو اس میں خطرات اور پچیدگیوں کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں جبکہ اس حد سے کم عمر کی خواتین میں بعض میٹرنل پچیدگیوں کا پیدا ہونا کم ہوتا ہے انہوں نے یہ ضرور واضح کیا کہ بیس سے چونتیس برس تک کی خواتین میں حمل کے دوران بچے کی نشوونما اور پیدائش کے عمومی خطرات اپنی جگہ موجود رہتے ہیں لارا شومرز کے مطابق پینتیس یا اس سے زائد کی عمر کی خواتین میں ایک بچے کی ولادت کے بعد اگلے حمل کے تیسرے چھٹے اور نویں مہینے میں میٹرنل پچیدگیوں کا پیدا ہونا ایک یقینی امر قراردیاجاسکتا ہے انہوں نے بیس سے چونتیس برس تک کی خواتین میں حمل کے درمیانی وقفے کو بارہ سے اٹھارہ ماہ تک رکھنے کو بھی مناسب خیال کیا لارا شومرز کی رپورٹ میں۔واضح کیا گیا کہ کسی بھی خاتون میں۔ایک بچے کی۔ولادت کے چھ ماہ بعد جو حمل ٹھہرتا ہے وہ کسی حد تک کمزور ہو سکتا ہے اور 59 فیصد ایسے حمل کا ضائع ہونا ممکن ہے

  • بچے کی افزائش پرورش اور بہتر نشوونما کے لیے ماں کی صحت کا بہتر ہونا انتہائی مفید

    بچے کی افزائش پرورش اور بہتر نشوونما کے لیے ماں کی صحت کا بہتر ہونا انتہائی مفید

    بچے کی افزائش پرورش اور بہتر نشوونما کے لیے ماں کی صحت کا بہتر ہونا انتہائی مفید
    یہ کہنا غلط نہیں کہ ہمارا معاشرہ غذائی قلت کا شکار ہے متوسط طبقے کی آمدنی اتنی کم ہے کہ گھریلو اخراجات ہی پورے نہیں ہوتے تو حاملہ عورت جسے اضافی غذائی اشیاء کی ضرورت ہوتی ہے وہ کہاں سے پوری کریں غذائی قلت ماں کی۔صحت کو تباہ کر دیتی ہے کیونکہ قدرتی طور پر بچے کی افزائش کا عمل کچھ ایسا ہے کہ بچہ تو ماں سے اپنی غذائی ضرورت پوری کر لیتا ہے لیکن ماں کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جاتی ہے بچے کی افزائش پرورش اور بہتر نشوونما کے لیے ماں کی۔صحت کا بہتر ہونا بہت ضروری ہے ہر کوئی یہی چاہتا ہے کہ ان کے بچے صحت مند ہوں تا کہ آنے والا مستقبل مضبوط اور توانا ہاتھوں میں ہو لیکن اگر ماں ہی صحت مند نہیں ہو گی تو بچہ خودبخود کمزور اور خدانخواستہ کسی جسمانی نقص کے ساتھ بھی دنیا میں۔آسکتا ہے آج جو غذائیں۔ہماری خواتین کھاتی ہیں اول تو وہ خالص نہیں ہوتیں دوسرا یہ کہ۔اگر کہیں دستیاب بھی ہوں تو بہت سارے خاندانوں میں انھیں۔خریدنے کی۔سکت نہیں ہوتی بچے کی پیدائش کا عرصہ یعنی پورے نو ماہ ایک ماں ہی اپنے بچے کو غذا مہیا کرتی ہے ماں کو بچے کی پیدائش سے لے کر دو سال کی عمر تک اپنا دودھ پلانا چاہیے اگر ایسی صورت میں عورت دوبارہ حاملہ ہو جائے تو طبعیت کی خرابی اور غذا کی کمی کی وجہ سے معصوم بچے کا دودھ چھڑوادیا جاتا ہے جو ماں کی صحت کے ساتھ ساتھ بچے کی صحت کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے ایک بچے کی پیدائش کے بعد اگر دوسال کے اندر اندر دوبارہ حمل ٹھہر جائےاور ماں اپنے پہلے بچے کو بھی دودھ پلاتی ہو تو ایسی صورت میں ڈاکٹر اسے اضافی غذا لینے کا مشورہ دیتے ہیں تاہم اگر وہ ایسا نہ کرے تو جو بچہ دنیا میں آنیوالا ہے اور خود ماں کی صحت بُری طرج متاثر ہوتی ہے

  • ماں کا دودھ زندگی کی بنیاد

    ماں کا دودھ زندگی کی بنیاد

    ماں کا دودھ زندگی کی بنیاد
    آیت مبارکہ میں ہے کہ مائیں اپنے بچوں کو دوسال تک دودھ پلائیں آج کا سائنسی دور بھی یہی کہتا ہے کہ پیدائش سے لے کردوسال تک مائیں اپنے بچے کو اپنا دودھ ضرورپلائیں کیونکہ۔نوزائیدہ بچے کواس عمر میں ماں کا اپنا ہی دودھ اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ بچے کی غذائی ضرورت یہ ماں کا دودھ پورا کر لیتا ہے ماں کے دودھ کوزندگی کی بنیاد کہا گیا ہے اس سلسلے پروونشنل مینجر ڈاکٹر امین مندو خیل نے کہا کہ بچے کے لیے ماں کا دودھ ہی اولین غذا ہے جو بچے کو تقویت دیتا ہے اورمختلف جان لیوا اور وبائی امراض سےبچوں کومحفوظ رکھتا ہے بلکہ ماں کے دودھ میں اللہ۔تعالی نے وہ قوت بخشی ہےجو کہ بچے میں قوت مدافعت بھی پیدا کرتا ہے اور بہت سی خصوصیات کا حامل ہےاوربچے کی غذائی کی ضرورتیں ماں کے دودھ سے پوری ہوتی ہیں ڈاکٹرامین مندوخیل نے یہ بھی بتایا کہ ماں کے دودھ پلانے کے زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اس بات کے مضبوط شواہد موجود ہیں کہ بچے کو ماں کا دودھ پلانے سے ماں کو درج ذیل فائدے ملتے ہیں جو ماں کی زندگی کے لیے بڑے اہم ترین ہیں پیدائش کے دوران وقفہ چھاتی یا بیضہ دانی کے سرطان کے خطرات کم ہو جاتے ہیں ماں۔صحت مند اور تندرست رہتی ہے جبکہ بچے کے لیے بھی درج ذیل فوائد ہیں کہ بچوں کو ماں کا دودھ وبائی امراض ہیضے دست کی بیماری اور اس کی شدت سے بچاتا ہے

    خون کی کمی کی چند اہم وجوہات اور اقدامات


    ماں کا دودھ بچوں میں سانس کے وبائی امراض کان کے درمیانی حصے کی۔سوزش دانتوں کے گلنے سڑنے اور دانتوں کی بے ترتیبی سے بچانے کا باعث بننے کے علاوہ بچے کی ذہانت میں بھی اضافہ کرتا ہے صوبائی نیوٹریشن ڈائکٹریٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد پانیزئی نے اس حوالے سے بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماں دودھ بچے کی زندگی کی بنیاد ڈالتا ہے اور ماں کا دودھ دو سال تک بچے کی صحت و تندرستی اور اس کے صحت مند مستقبل کے لیے انتہائی لازم ہے بلکہ آیت کریمہ بھی ہے کہ مائیں اپنے بچوں کو اپنا دودھ دو سال تک مسلسل پلائیں ڈاکٹر عابد پانیزئی نے کہا کہ میں ایک بات واضح کروں کہ ہمارے ہاں لوگوں کی ایک سوچ ہے کہ ماں جب بچے کو زیادہ دودھ پلائے گی تو صحت کے حوالے کمزور ہو جائیگی یہ سوچ قطعی غلط ہے بلکہ ماں جتنا دودھ پلائے گی اتنا ہی دودھ ماں کے جسم میں پیدا ہوتا ہے اور ماں کے لیے کوئی کوئی پرابلم نہیں بلکہ اس میں بہتری ہے اور بچہ جب بھی دن میں جتنی بار مانگے ماں بچے کو اپنا دودھ پلائے تاہم ایک بات ضروری ہے کہ ماں جب حاملہ ہو اور بچے کی پیدائش کے بعد دودھ پلاتی ہو تو ماں کی خوراک پر بھی خصوصی توجہ دینی ہو گی کیونکہ یہ توجہ ماں اور بچے دونوں کی۔صحت کے لیے ضروری ہے ڈاکٹر عابد پانیزئی نے کہا بچے کو ایک گھنٹے کے اندر اندر پیدائش کے بعد ماں کا۔دودھ پلانے کا آغاز کر دیا جائے بچے کی زندگی کے پہلے چھ ماہ کے دوران اسے صرف اور صرف ماں کا دودھ دیا جائے اور بچے کو دو سال تک ماں کا دودھ پلانا جاری رکھا جائے

    چھاتی کے ریشے اور کھانسی کے علاج کا انتہائی مجرب نسخہ


    اور اس دوران پہلے چھ ماہ بعد بڑھتے ہوئے بچے کی غذائی ضروریات پورا کرنے کے لیے محفوظ ٹھوس اور نیم ٹھوس غذا کا آغاز کر دیا جائے بچے کو ماں۔کا۔دودھ پلانے کی۔قلیل اور طویل المعیاد قیمت پورے معاشرے کو ادا کرنا پڑتی ہے ماہرین کا۔کہنا ہے کہ۔ہو بچے جو ماں کا دودھ نہیں پیتے کند ذہن ہوتے ہیں اور اس بناء پر وہ اچھی تعلیم اور بعد ازاں مناسب روزگار سے محروم ہو جاتے ہیں ماں کا دودھ صحیح طرح سے نہ پلانا بیماریوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے جس کی وجہ سے علاج معالجے پر ہونے والے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں حاملہ اور دودھ پلانے والی ماوں کی اپنی غذائی ضروریات پوری ہو سکیں مقامی طور پر دستیاب بہترین غذائیں جو دودھ پلانے والی ماوں کی ضرورت ہیں جیسے گوشت مچھلی انڈا دودھ دہی تازہ پھل۔سبزیاں دالیں اور پھلیاں استعمال کریں دن میں کم از کم آٹھ گلاس پانی ضرور پئیں لہذامائیں اپنے بچوں کو اپنا ہی دودھ پلائیں

  • دانتوں کی صفائی کرنے والا روبوٹ

    دانتوں کی صفائی کرنے والا روبوٹ

    دانتوں کی صفائی کرنے والا روبوٹ
    سائنس و ٹیکنالوجی کے اس دور میں۔بھی بہت سے ایسے کام ہیں جنھیں۔انسان اپنے ہاتھوں سے کرنے ہر مجبور ہے بعض ایجادات ایسی اور اتنی دلچسپ ہیں جنہیں جان کر کوئی بھی حیران ہوئے اور مسکرائے بغیر نہیں رہ سکیں گے روبوٹس پر کام کرنے والی سوئس خاتون سائمن گائرڈزے نے ایسے سست افراد جو برش کرنے میں کاہلی کا مظاہرہ کرتے ہیں ان کے لیے ایسا ٹوتھ برش بنا ڈالا ہے جو ان کی مشکل۔آسان بنا دے گا انہوں نے سکیٹ بورڈ ہیلمٹ پر ایک روبوٹک الارم لگا کر اس کے ساتھ ٹوتھ برش کو جوڑ دیا ہے جس کے سامنے کھڑے ہو جائیں وہ خود ہی برش کرے گا اور دانتوں کو چمکا دے گا