Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • پیشاب کے ٹیسٹ سے لبلبے کے کینسر کی تشخیص

    پیشاب کے ٹیسٹ سے لبلبے کے کینسر کی تشخیص

    پیشاب کے ٹیسٹ سے لبلبے کے کینسر کی تشخیص
    تحقیق کاروں نے پیش گوئی کی ہے کہ لبلبے کے سرطان کا سراغ لگانے والے دنیا کے پہلے پیشاب کے ٹیسٹ سے بڑی تعداد میں مریضوں کی۔جان بچائی جا سکے گی یہ بات قابل ذکر ہے کہ جومریض لبلبے کے کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں دیگرکینسرز کے مقابلے میں ان کے زندہ بچنے کے امکانات کم ہوتے ہیں جن مریضوں میں اس بیماری کی۔تشخیص ہو جاتی ہے ان میں سے تقریباً پانچ فیصد تشخیص کے پانچ سال بعد تک زندہ رہ پاتے ہیں پیشاب کا یہ ٹیسٹ کوئن میری یونیورسٹی آف لندن نے تیار کیا ہے جو بیماری کے ابتدائی مراحل میں اس کی انتباہی علامتوں کو واضح کردیتا ہے سائنسدانوں کو امید ہے کہ اس خاموش قاتل بیماری کا شکار ہونے والے مریضوں کی پانچ فیصدزندہ بچ جانے والی شرح اس ٹیسٹ کے ذریعے ساٹھ فیصد تک لے جائی جا سکے گی جس کی تشخیص عموماً دیر سے ممکن ہوتی ہے
    https://login.baaghitv.comncreas-ko-clean-karney-wali-ghazayen/
    اس ٹیسٹ کے ابتدائی تجربات میں دیکھا گیا کہ نوے فیصد ٹیسٹ کے نتائج بالکل درُست تھے اور اس ٹیسٹ کے ذریعے علامات ظاہر ہونے سے پانچ سال پہلے بیماری کا سراغ لگانا مُمکن ہے ٹیسٹ کے نتائج چوبیس گھنٹوں کے اندر مل جاتے ہیں پروفیسر تاتجانہ جورسیوک پچھلے دس سالوں سے اس ٹیسٹ ٹیوب کو بنانے میں ڈیولپ کرنے میں مصروف تھیں۔جس کا ابھی فی الحال کوئی نام نہیں رکھا گیا انہوں نے بتایا کہ لبلبے کے سرطان کی افزائش میں عموماً دس سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ لگ جاتا ہے اس لیے پیشاب کے اس ٹیسٹ کے ذریعے ہم بہت پہلے اس کا پتہ لگا سکتے ہیں فی الحال اس کینسر کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب یہ آخری مراحل میں ہوتا ہے اور ہم کچھ نہیں کر سکتے اگر ہم اس سرطان کا سرغ پہلے لگا لیں جب اس کا آپریشن ممکن ہو اور رسولیاں دیگر اعضاء تک نہ ہھیل چُکی ہوں تو مریض کے زندہ بچ جانے کے امکان کافی روشن ہو سکتے ہیں جورسولیاں ایک سینٹی میٹر یا اس سے بھی چھوٹی ہوں اگر ان کا نکال کر کاٹ دیا جائے تو پانچ سال تک بچنے کی شرح کو ساٹھ فیصد تک لے جایا جا سکتا ہے پیشاب کے اس ٹیسٹ میں تین پروٹینز کی مقدار کی پیمائش کی جاتی ہے جو لبلبے کا سرطان جسم میں خارج کرتا ہے اوت وہ پیشاب میں موجود ہوتے ہیں ایک الگورتھم استعمال کرتے ہوئے خطرے کے اسکور کا حساب لگایا جاتا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ آیا کہ مریض کے مزید ٹیسٹ لینے کی ضرورت ہے یا نہیں یہ کوئی تشخیصی ٹیسٹ نہیں بلکہ تشخیص میں مدد دینے والا ٹیسٹ ہے

    چالیس سال کے بعد آہستہ چلنا وقت سے پہلے بڑھاپے کی نشانی


    کوئن میری یونیورسٹی کی ٹیم نے انسانی سیمپلز پر ان بایومارکرز کو ٹیسٹ کیا ہے اور اب جن مریضوں کے لبلبے میں سرطان کی مشتبہ علامتیں دیکھی جائیں گی یا جن کے خاندان میں اس سرطان کے مریض پہلے موجوف ہوں گے انہیں اس ٹیسٹ سے گزارا جائے گا اورتین ہزار مریض اس ٹیسٹ سے گُزریں گے جسمیں اندازً چارسال لگ سکتے ہیں اگر یہ ٹیسٹ کامیاب ہوا تو پھر فوری طور پر استعمال کرنا مُمکن ہوگا پروفیسر تاتجانہ نے بتایا کہ لبلبے کے سرطان کے دس فیصد مریضوں میں یہ ایک موروثی مسئلہ پایا گیا ہے اس وقت اس قسم کے مریضوں میں تشخیص کے لیے سی ٹی سکین ایم آر آئی یا انڈوسکوپ الٹرا ساونڈ سکین کے ساتھ بایوسپی سے بھی تشخیص واضح نہیں ہو پاتی ہے ا۔نہوں نے کہا الٹرا ساونڈ سکین بہت نا خوشگوار تجربہ ہوتا ہے اور مریض کو بے ہوش کرنا پڑتا ہے ای یو یس کے دوران ایک پتلی لچکدار نالی منہ کے ذریعے معدے میں تک پہنچائی جاتی ہے اور ان حصوں کی تصاویر حاصل کی جاتی ہیں جہاں ممکنہ طور پر کینسر کا شُبہ ہوتا ہے واضح رہے کہ ہر سال برطانیہ میں نوہزار ایک سو افراد اور امریکا میں پانچ ہزار چھ سو ستر مریض لبلبے کے سرطان کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں اس قسم کے ایک چوتھائی مریض تشخیص کے ایک ماہ کے اندر ہی انتقال کر جاتے ہیں جبکہ تین چوتھائی ایک سال کے اندر دوسری دنیا کوچ کر جاتے ہیں

  • چہرے کی خوبصورتی برقرار رکھنے کے لیے آسان تراکیب

    چہرے کی خوبصورتی برقرار رکھنے کے لیے آسان تراکیب

    چہرے کی خوبصورتی برقرار رکھنے کے لیے آسان تراکیب
    چہرے کی خوبصورتی کے لیے خواتین مختلف طریقے اپناتی ہیں۔اور کئی جتن کرتی ہیں چہرے پر داغ دھبے یا دانے ہوں یا موسم کے اثرانداز ہونے کی وجہ سے جلد کا رنگ خراب ہو تو خواتین مختلف کریموں کا استعمال کرتی نظر آتی ہیں یا بیوٹی پارلر کا رُخ کرتی ہیں جس سے وقتی طور پر تو چہرے پرشگفتگی اور چمک آجاتی ہے لیکن دیرپا اور مستقل طور پر ان پریشانیوں سے نجات نہیں حل کر پاتیں اور پیسوں ضیاع علیحدہ ہوتا ہے اکثر خواتین وقت کی کمی کا رونا روتے ہوئے اور سستی کاہلی کی۔وجہ سے ایسی بازاری اشیاء جلد کی تازگی اور خوبصورتی کے لیے استعمال کرتی ہیں اور اکثر کہتی ہیں کہ قدرتی اشیاء سے استفادہ کرنا ایک محنت اور زحمت طلب کام ہے اگر ہم۔تھوڑی سی محنے کر لیں تو ہم جلد ہی مطلوبہ خوبصورتی اور نتائج حاصل کر سکتے ہیں مندرجہ ذیل۔چند آسان طریقے ہیں جو ہر موسم میں۔ہماری جلد کے لیے بہترین اور مفید ثابت ہوتے ہیں

    ترو تازہ اور حسین چہرہ لیکن کیسے؟


    لیموں گلیسرین اور عرق گلاب ہم۔وزن لے کر مکس کر لیں اور کسی صاف بوتل میں ڈال کر فریج میں رکھ لیں اور صبح اچھے سے ہاتھ منہ دھو کر اس کو اپنے چہرے پر لگائیں اور رات کو سوتے وقت بھی اس کا۔استعمال کریں صرف چہرے کی جلد ہی توجہ طلب نہیں ہوتی بلکہ اس کو آپ اپنے ہاتھوں اور پاوں پر بھی استعمال کرنے کی عادت بنائیں کچھ ہی دنوں میں اس کا نتیجہ نظر آئے گا
    بھاپ کو بھی اپنے چہرے کو خوبصورتی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے چہرے ہر ہونے والی چکناہٹ اور میل کچیل کا خاتمہ آسانی سے کر سکتے ہیں بھاپ سے سارا میل کچیل صاف ہو جاتا ہے اور جلد کے مسام سے بھی میل کے ذرات نکل جاتے ہیں جن خواتین کی جلف چکنی ہو تو وہ روزانہ ہی بھاپ لیں تو ان کے لیے بہت فائدہ مند رہے گی اور جن کی جلد نارمل ہے انہیں بھی ہفتہ میں دو تین دفعہ بھاپ لے لینی چاہیے اس سے ان کی جلد بھی تروتازہ رہے گی بھاپ لینے کے لیے آپ کسی صاف برتن میں پانی اُبالیں اور سر پر تولیہ ڈھانپ کر اپنے بالوں کو بچاتے ہوئے اور آنکھوں کو بند کر کے پانچ سے سات منٹ تک بھاپ لیں اور پھر منہ جو ٹھںڈے پانی سے دھو لیں
    نیند کو بھی اپنے چہرے کی خوبصورتی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اکثر خواتین گھر کے کام۔کاج کی۔وجہ سے یا چھوٹے بچوں کی وجہ سے اور زیادہ تر لڑکیاں پڑھائی کی۔وجہ سے یا موبائل اور ٹی وی کی وجہ سے اپنی نیند پوری نہیں کر پاتی جس کی۔وجہ سےان کے چہرے کی تروتازگی جاتی رہتی ہے چہرہ مُرجھا جاتا ہےاور ہر وقت چہرے پر تھکن کے آثار رہتے ہیں اس لیے بہت ضروری ہے کہ نیند پُوری کریں اور اس کے ساتھ ساتھ متوازن غذا بھی کھائیں ہو سکے تو سبزیوں کا زیادہ استعمال کریں فاسٹ فوڈ اور چکن وغیرہ سے پرہیز کریں

    سردیوں میں جلد کی حفاظت کے لیے عمدہ گھریلو ابٹن


    خشک جلد کے لیے ایک عدد انڈا گلیسرین ایک۔چائے کا چمچ روغن بادام ایک چائے کا چمچ اور شہد ایک چائے کا چمچ لیں اور سب سے پہلے انڈے کو اس طرح پھینٹ لیں کہ جھاگ بن جائے اس کے بعد اس میں گلیسرین روغن بادام اور شہد اچھی طرح ملا لیں پھر اس پیسٹ کو چہرے گردن اور ہاتھوں کی جلد پر لیپ کر لیں اور پندرہ سے بیس منٹ تک لگا رہنے دیں اور اس کے بعد سادہ پانی سے اچھی طرح دھو لیں اور جلد کو تولیہ کے بغیر خشک ہونے دیں اس عمل کومہینے میں۔تین سے چار مرتبہ کریں۔جلد تروتازہ اور نرم و ملائم ہو جائے گی

  • لذیذ اور عمدہ تکہ سموسہ بنانے کی ترکیب

    سموسے کا کور بنانے کے اجزاء:
    میدہ ایک کپ
    تیل دو کھانے کے چمچ
    نمک آدھا چائے کا چمچ یا حسب ذائقہ
    اجوائن پاو چائے کا چمچ
    تیل ایک کپ
    فلنگ کے لیے اجزاء:
    چکن قیمہ سو گرام
    پیاز چھوٹا ایک عدد چوپ کر لیں
    تِکہ مصالحہ آدھا کھانے کا چمچ
    اُبلا آلو ایک عدد چھوٹا اگر بڑا ہو تو آدھا
    ہرا دھنیا تین کھانے کے چمچ
    ہری مرچ دو کھانے کے چمچ
    تیل ایک کھانے کا چمچ
    کوئلہ ایک ٹکڑا
    ترکیب:
    چکن قیمہ میں تکہ مصالحہ اور نمک ملا کر پاو کپ پانی ڈال کر پکنے کے لیے رکھ دیں قیمہ گل جائے تو پانی خشک کرکے بُھون لیں اب اس قیمے میں پیاز ہرا دھنیا ہری مرچ اور اُبلا ڈال کر مکس کر لیں اور کوئلے کا دھواں دے کر ٹھنڈا ہونے کے لیے رکھ دیں اب اس دوران آپ سموسے کا کور بنا لیں تھوڑے سے پانی میں میدہ نمک اجوائن اور تیل ڈال کر مکس کرلیں اور نرم۔ڈو بنا کر کچھ دیر کے لیے چھوڑ دیں پھر پیڑے بناکر بیل لیں اور سموسہ کا کور بنا کر اس میں مکسچر بھر کر اوپر سے پانی ہلکا سا پانی لگا کر بند کر دیں پھر گرم تیل میں ہلکی آنچ پر گولڈن فرائی کر کے گرم گرم سموسے چٹنی کے ساتھ سرو کریں

  • مزیدار اور لذیز برگر گھر میں بنانے کی ترکیب

    برگر
    اجزاء:
    قیمہ اُبلا آدھا کپ
    ساسجز پون کپ
    نمک اور کالی مرچ حسب ضرورت
    انڈا ایک عدد
    بریڈ سلائس آدھا
    برگر بن ایک عدد
    چیڈر چیز سلائس دو عدد
    مکھن ایک چائے کا چمچ
    ترکیب:
    ساسجز سی اسکن نکال کر چوپر میں پیس لیں اور کسی برتن میں نکال کر اس میں قیمہ مکس کر لیں پھر انڈا نمک کالی مرچ اور ڈبل۔روٹی سلائس شامل کر کے اچھی طرح مکس کر لیں پھر اس مکسچر کے کباب بنا کر فرائی کر لیں برگر بن کو مکھن لگا کر سینک لیں اوراس پر کباب اورچیڈر چیز رکھیں پھر ایک فرائی انڈا اس پر رکھ کر بن کا دوسرا حصہ رکھ دیں مزیدار برگر تیار ہے

  • لاہوری سیخ کباب بنانے کر ترکیب

    قیمہ تیار کرنے کے اجزا:
    قیمہ آدھا پاو
    پیاز چوپڈ دو عدد
    ادرک چوپڈ آدھا کھانے کا چمچ
    لہسن چوپڈ آدھا کھانے کا چمچ
    ہری مرچ چوپڈ دو عدد
    ہرا دھنیا چوپڈ ایک کھانے کا چمچ
    انڈے ایک عدد
    چیڈر چیز دو کھانے کے چمچ
    پودینہ چوپڈ آدھا کھانے کا چمچ
    بھنا بیسن ایک کھانے کا چمچ
    لاہوری سیخ مصالحہ کے اجزاء:
    ہری الائچی آدھا چائے کا۔چمچ
    کالی مرچ آدھا چائے کا چمچ
    انار دانہ آدھا چائے کا چمچ
    آئل دو کھانے کے چمچ
    لونگ ایک عدد
    دار چینی ایک ٹکڑا
    جائفل آدھا چائے کا چمچ
    کالا نمک دو چٹکی
    ترکیب:
    قیمہ کو چوپر میں ڈال کر پیس لیں اور باول میں نکال لیں پھر سیخ مصالحے کے تمام اجزاء کو پیس کر کسی دوسرے برتن میں نکال لیں پھر پیاز ادرک لہسن ہری مرچ پودینہ انڈے ہرا دھنیا چیز بیسن اور پسا لاہوری سیخ مصالحہ قیمے میں مکس کریں اور چھوٹے چھوٹے بالز بنا کر آدھے گھنٹے کے لیے فریج میں رکھ دیں اب ٹرے کو آئل سے گریس کر کے فوائل کر لیں پھر سیخ کباب بنا کر سیخ پر لگائیں اور ٹرے میں رکھ کر دس سے پندرہ منٹ بیک کر لیں پھر تیل سے گریس کر کے پانچ منٹ مزید پکائیں گرم گرم لذیذ کباب چٹنی کے ساتھ پیش کریں

  • لذیذ اور مزیدار لذیذ مُغلئی آلو بنانے کی ترکیب

    اجزاء:
    آلو تین عدد
    ادرک لہسن پیسٹ ایک چائے کا چمچ
    نمک حسب ذائقہ
    خشخاش ایک کھانے کا چمچ
    سفید تل ایک چائے کا چمچ
    کاجو بادام 8 عدد
    پسی لال مرچ ایک چائے کا چمچ
    پیاز دو عدد
    پسا گرم مصالحہ ایک چائے کا چمچ
    دہی آدھی پیالی
    فریش کریم تین کھانے کے چمچ
    ہرا دھنیا دو کھانے کے چمچ باریک کٹا
    آئل چار کھانے کے چمچ

    ترکیب:
    خشخاش بادام کاجو اور سفید تل کو بارک پیس کر فریش کریم میں مکس کر کے فریج میں رکھ دیں آلو کو ابال کر چھیل لیں اور چھوٹے ٹکڑے کر لیں پیاز کو چوپ کر لیں اور پتیلی میں تیل گرم کر کے اس میں سنہری فرائی کر لیں اب اس میں نمک ادرک لہسن پیسٹ لال مرچ اور دہی ڈال کر بھون لیں اور ساتھ ہی آلو بھی شامل کر لیں اور مکس کر کے ڈھک لیں اور ہلکی آنچ پردس منٹ پکائیں پھر کریم کا مکسچر ڈال کر ہلکا سا مکس کریں اور گرم مصالحہ چھڑک کر ہلکی آنچ پر دم پر رکھ دیں پھر ڈش میں نکال کر باریک کٹا ہرا دھنیا چھڑک کر پراٹھے یا شیر مال کے ساتھ سرو کریں

  • چالیس سال کے بعد آہستہ چلنا وقت سے پہلے بڑھاپے کی نشانی

    چالیس سال کے بعد آہستہ چلنا وقت سے پہلے بڑھاپے کی نشانی

    چالیس سال کے بعد آہستہ چلنا وقت سے پہلے بڑھاپے کی نشانی
    سائنسدانوں نے کہا ہے کہ عمر کی چالیسویں دہائی میں لوگوں کے چلنے کی رفتار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے دماغ کے ساتھ ساتھ ان کے جسم پر کتنی تیزی سے بڑھاپا طاری ہورہا ہے تحقیق کاروں نے چلنے کی رفتار کے آسان ٹیسٹ کو استعمال کرتے ہوئے یہ اندازہ لگانے میں کامیابی حاصل کی ہے کہ کسی متعلقہ انسان پر بڑھاپا کتنی تیزی سے آ رہا ہے انہوں نے اس تحقیق کے دوران دیکھا کہ آہستہ چلنے والوں کے نہ صرف جسم تیزی سے بُوڑھے لوگوں جیسے ہو رہے تھے بلکہ ان کے چہرے دیکھ کر بھی ان کی عمر اصل سے زیادہ لگ رہی تھی اور ان کے دماغ بھی نسبتاً زیادہ چھوٹے ہوتے ہیں اکثر اوقات ڈاکٹر حضرات کسی بھی شخص کی چلنے کی رفتار سے اس شخص کی مجموعی صحت کا اندازہ لگالیتے ہیں خاص طورپر پیسنٹھ سال سے زائد کی عمر کے لوگوں کا کیونکہ چلنے کی رفتار پٹھوں کی مضبوطی پھیپھڑوں کی کارگردگی توازن ریڑھ کی ہڈی کی مضبوطی اور بصارت کے بارے میں واضح اشارے کرتی ہے

    خراٹے روکنے والا تکیہ


    اس تحقیق کے لیے نیوزی لینڈ میں ایک ہزار افراد کو شامل کیا گیا تھا جو1970ء میں پیدا ہوئے تھے اور ان کی پینتالیس کی عُمر تک نگرانی کی گئی تھی چلنے کا رفتار کا ٹیسٹ اس سے بہت پہلے اُس عمر میں کیا گیا تھا جب وہ ادھیڑ عمر بالغ تھے اس تحقیق میں شامل لوگوں کا جسمانی ٹیسٹ ذہنی کارگردگی کا ٹیسٹ اور دماغ کی سکیننگ بھی کی گئی اور بچپن کے دنوں میں ہردو چار سال بعد ان کہ سوجھ بوجھ کے ادراکی ٹیسٹ بھی لیے گئے تھے کنگز کالج لندن اور ڈیوک یونیورسٹی امریکا سے تعلق رکھنے والے جائزہ رپورٹ کے مصنف پروفیسر ٹیری ای موفیٹ نے بتایا کہ اس جائزے سے ہمیں معلوم ہوا کہ جو لوگ آہستہ چلتے ہیں تو بڑھاپا آنے سے پہلے ہی ان کی یہ عادت بتا دیتی ہے کہ ان کی صحت کن مسائل کا شکار ہو سکتی ہے جبکہ پینتالیس سال کی عُمر میں بھی خاصا فرق دیکھا گیا بہت تیزی سے چلنے والوں کی رفتار فی سیکنڈ دومیٹر تھی عام۔طوت پر یہ دیکھا گیا کہ جو لوگ آہستہ چلتے ہیں ان میں بڑھاپے کے آثار بُہت تیزی سے نمایاں ہونے لگتے ہیں ان کے پھیپھڑے دانت اور جسم کا مدافعتی نظام تیز رفتار لوگوں کے مقابلے میں زیادہ کمزور ہڑ جاتا ہے اس جائزے میں خلاف توقع جو چیز نظر آئی وہ یہ تھی کہ جب ادھیڑ عمر سست افراد کے دماغ کی سکیننگ کی۔گئی تو وہ بوڑھے لوگوں جیسے تھے

    بڑھاپے میں سبز پتوں والی سبزیوں کا استعمال انتہائی فائدہ مند


    تحقیق کاروں نے یہ بتایا کہ جب وہ لوگ تین سال کے تھے اس وقت ان کی ذہانت زبان اور ان کی حرکت کرنے کی صلاحیتوں کو دیکھ کر ہم یہ پیش گوئی کرنے کے قابل تھے کہ پینتالیس سال کہ عُمر میں ان کے چلنے کی رفتار کیا ہوگی وہ بچے جو چالیس سال کے بعد سب سے کم رفتار چلنے والے بنے یعنی جو ایک سیکنڈ میں 1.2میٹر کا فاصلہ طے کر رہے تھے ان کا اوسط آئی کیو لیول بارہ پوائنٹ ان لوگوں سے کم تھا جو سب سے زیادہ تیز چلنے والے یعنی ایک سیکنڈ میں 1.75 میٹر کا فاصلہ طے کررہے تھے تحقیق کاروں کی بین الاقوامی ٹیم نے جاما نیٹ ورک اوپن کے لیے اپنی تحقیقی رپورٹ میں کہا ہے کہ صحت اور آئی کیو میں۔اس فرق کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ان کی زندگی گزارنے کے طور طریقے میں فرق تھا یا زندگی کی ابتداء میں انہوں نے کسی کو اچھی صحت میں دیکھ کر اس کا اثر لیا تھا تحقیق کاروں نے کہا کہ نوجوانی کی عمر میں چلنے کی رفتار کی پیمائش کے ذریعے بڑھاپے کی آمد کو موخر کرنے کے لیے علاج پر توجہ دی جا سکتی ہے۔

  • ایگزیما کا آسان اور مفید گھریلو علاج

    ایگزیما کا آسان اور مفید گھریلو علاج

    ایگزیما کا آسان اور مفید گھریلو علاج
    موسم سرما کی آمد آمد ہے اور سردیوں کے موسم میں جلد کے مسائل بھی بڑھ جاتے ہیں سردیوں میں جلد خشک اور خارش زدہ ہو جاتی ہے خشک جلد بہت جلد سورج کی حدت کا اثر قبول کرتی ہے اس لیے اس موسم میں جلد کی حفاظت کُچھ زیادہ ہی کرنی پڑتی ہے ایگزیما جلد کے خلیوں کی عمر کم ہو جانے کی بیماری ہے یعنی کہ اس بیماری میں جلد کے خلیوں کی عُمر کم ہو جاتی ہے جس کی۔وجہ سے خلیے جٙلد ختم ہونے لگتے ہیں اور نئے خلیے بننے کا عمل تیز ہوجا تا ہے اس وجہ سے جلد پر مُردہ خلیے جمع ہونے لگتے ہیں جو خشکی کی شکل بھی اختیار کر سکتے ہیں اوربعض اوقات تو درد اور تکلیف کا بھی باعث بنتے ہیں ایگزیما جیسے جلدی مسائل اکثر دیکھنے میں آتے ہیں جن لوگوں کو یہ مسائل درپیش ہوتے ہیں ایسے افراد کو بہت احتیاط اور جلد کی پہلے سے زیادہ حفاظت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ان جلدی مسائل کا شکار لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی غذا پر دھیان دیں میٹھا کم۔استعمال کریں اور وٹامن سی کے سیرم جلد پر لگائیں کیونکہ۔وٹامن سی سیرم جلد کے نئے خلیات بنانے میں مددگار ہوتے ہیں اس کے علاوہ نیچے دئیے گئے نُسخے کو استعمال کریں اس سے بھی انشاءاللہ ضرور فرق پڑے گا
    انار کا جوس ایک کپ
    نیم کا جوس دو کھانے کے چمچ
    کالی مرچ ایک چُٹکی
    کریلے کا جوس دو کھانے کے چمچ
    ان تمام اجزاء کو صبح نہار منہ پندرہ سے بیس دن تک پئیں اس مرض سے افاقہ ہو گا اور یہ مکسچر نہایت ہی مفید ہے
    وٹامن سی کا سیرم: ایک کھانے کا چمچ ایلوویرا جیل ایک کھانے کا چمچ وٹامن سی کیپسول کھول کر لے لیں اور ایک چائے کا چمچ بادام کا تیل لے کر تینوں چیزیں مکس کر کے چہرے پر صبح و شام چہرہ دھونے کے بعد لگائیں

  • آنکھوں کے حلقے ختم کرنے کے لیے لاجواب سیرم

    آنکھوں کے حلقے ختم کرنے کے لیے لاجواب سیرم

    آنکھوں کے حلقےختم کرنے کے لیے لاجواب سیرم
    جلد کو نکھارنے میں وٹامن سی اہم کردارادا کرتا ہے اسی لیے مختلف سکن پروڈکٹس میں وٹامن سی کو لازمی شامل کیا جاتا ہے کچھ سکن اسپہشلسٹ کا کہنا ہے کہ وٹامن سی کا استعمال کرنے سے لٹکتی ہوئی جلد ٹھیک ہونے لگتی ہے وٹامن سی جلد کو جلدی بوڑھا ہونے سے بچاتا ہے ساتھ ہی جھریوں اور چھائیوں کا خاتمہ کرتا ہے اگر وٹامن سی کا مستقل استعمال کیا جائے تو خواتین کو چہرے کی جلد کو جھریوں اسے بچانے اور اپنی جلد کو بوڑھا دکھانے سے بچنے کے لیے بوٹوکس مختلف انجیکشنز یا کاسمیٹک سرجری کروانے کی ضرورت نہیں پڑے گی وٹامن سی کا سیرم استعمال کرنے سے جلد سورج کی تیز شعاعوں کے مضر اثرات سے محفوظ رہتی ہے وٹامن سی سیرم جلد کے نئے خلیات بنانے میں مددگار ہوتے ہیں اس سیرم کی وجہ سے جلد کو نمی ملتی ہے اور جلد پر جُھریاں پڑنے کا عمل سست ہو جاتا ہے یہ سیرم خلیات کے اندرونی تہہ تک جاتے ہیں اور سکن کو تروتازہ اور جوان بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے وٹامن سی کے سیرم مارکیٹ میں دستیاب ہیں لیکن وہ اتنے مہنگے ہوتے ہیں کہ بعض خواتین انہیں خرید نہیں سکتیں وہ گھر میں۔نیچے دئیے گئے طریقے سے سیرم بنا کر چہرے کو جُھریوں چھائیوں اور بڑھاپے سے محفوظ رکھ سکیں
    عرق گلاب اور وٹامن ای:
    وٹامن سی کے کیپسول کھول کر دوکھانے کے چمچ وٹامن سی لے لیں اس میں دو کھانے کے چمچ ایلوویرا جیل اور دوکھانے کے چمچ عرق گلاب ڈال کر تینوں چیزوں کو اچھی طرح مکس کر لیں اور کسی شیشی میں ڈال کر فریج میں رکھ لیں اس سیرم کو صبح کے وقت اچھی طرح منہ دھو کر چہرے ہر لگائیں یہ سیرم جلد کی لچک کو قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے آنکھوں کے گرد کالے حلقوں پر یہ سیرم لگانے سے آنکھوں کے گرد حلقوں میں کمی آئے گی اور چہرہ گلو کرنے لگے گا

  • گھر بیٹھے سیرم بنائیں جو جلد کو نکھارے چند ہفتوں میں

    گھر بیٹھے سیرم بنائیں جو جلد کو نکھارے چند ہفتوں میں

    گھر بیٹھے سیرم بنائیں جو جلد کو نکھارے چند ہفتوں میں
    ایلوویرا جیل اور بادام کا تیل:
    وٹامن سی کے کیپسول کھول کر ایک کھانے کا چمچ وٹامن سی لے لیں ایک چائے کا چمچ بادام کا تیل اور ایک کھانے کا چمچ ایلوویرا جیل لے لیں ان تمام چیزوں کو مکس کرلیں کہ یکجان ہو جائیں پھر کسی بوتل میں بھر کر محفوظ کر لیں اور فریج میں رکھ لیں اس سیرم کو دن میں دو یا تین بار چہرے پر لگائیں صبح اور شام چہرہ دھونے کے بعد اس کے چند قطرے چہرے ہر اچھی طرح مل لیں وٹامن سی جلد میں ہائیڈرو آکسی بنانے میں اہم کرداد ادا کرتا ہے اس کی۔وجہ سے ایسے کولاجن کی تعداد بڑھتی ہے جو کہ خلیات بناتے ہیں اوت پُرانے خلیات کو ختم کرتے ہیں جن کہ وجہ سے چہرے پر موجود لائنوں اور جُھریوں میں کمی آجاتی ہے گھر سے باہر نکلنے کی وجہ سے اکثر رنگت خراب ہو جاتی ہے اور چہرہ دو رنگوں کا دکھائی دیتا ہے ایسے میں یہ سیرم استعمال کرنا چاہیے کیونکہ اس کی وجہ سے چہرے کی رنگت ہلکی ہو جاتی ہے اور دھوپ سے خراب ہونے والی رنگت پہلے جیسی ہو جاتی ہے وٹامن سی کا سیرم استعمال کرنے سے جلد سورج کی تیز شعاعوں کے مضر اثرات سے محفوظ رہتی ہے وٹامن سی سیرم جلد کے نئے خلیات بنانے میں مددگار ہوتے ہیں اس سیرم کی وجہ سے جلد کو نمی ملتی ہے اور جلد پر جُھریاں پڑنے کا عمل سست ہو جاتا ہے یہ سیرم خلیات کے اندرونی تہہ تک جاتے ہیں اور سکن کو تروتازہ اور جوان بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں