عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کم ہوکر 100 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آگئی ہے اس کے علاوہ WTI خام تیل کی قیمت 5 فیصد سے زائد گراوٹ کے بعد 97.13 ڈالرپر آ گئی ہے جب کہ برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 100.54 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔
دوسری جانب چین کی معیشت میں ممکنہ سست روی کے خدشات تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ بتا ئے جا رہے ہیں ۔
اس سے قبل روس یوکرین جنگ سے تیل کی قیمتوں میں 14 سال کے بعد بڑا اضافہ ہو گیا تھا برطانوی خام تیل برینٹ کی قیمت ایک سو بیس ڈالر فی بیرل سے زائد تک پہنچ گئی تھی، امریکی صدر نے روسی تیل کی درآمد پر پابندی عائد کرتے ہوئے امریکیوں کو خبردار کیا تھا کہ ملک میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔
روسی تیل اور گیس کی درآمد پر مکمل پابندی کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کو پر لگ گئے تھے بعد ازاں متحدہ عرب امارات کا تیل کی پیداوار میں اضافے کا اعلان کے ساتھ ہی برینٹ خام تیل کی قیمت فی بیرل 112 ڈالر پر آ گئی تھی-
دہشت گردوں کا دوبارہ اکٹھ پاکستانیوں کا نیا امتحان
ازقلم غنی محمود قصوری
اس وقت ملک پاکستان تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے جس کا فائدہ ہمارا ازلی دشمن بھارت اٹھا رہا ہے ،بھارت نے پاکستان کے اندر کئی بار مداخلت کی اور علیحدگی کی تحریکوں کو پروان چڑھایا تاکہ پاکستان کا امن و سکون برباد ہواس وقت پاکستان میں ملک کا امن و سکون برباد کرنے والے کئی گروہ موجود ہیں جن میں سے بیشتر بلکہ زیادہ تر کو بھارت نے بنوایا اور فنڈنگ بھی بھارت،امریکہ اسرائیل مل کر رہے ہیں-
ان گروہوں میں سے ایک معروف گروہ ٹی ٹی پی ہے جو کہ 3 درجن سے زائد گروہوں سے بنا تھا مگر آہستہ آہستہ اندرونی بغاوت کے باعث کم ہوتا چلا گیا تاہم اب ایک بار پھر بھارت اور امریکہ کے آشیر باد سے اس گروہ کو دوبارہ منظم کیا جا رہا ہے اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو ساتھ ملا کر یک جان ہو کر سیکیورٹی فورسز و مملکت پاکستان پر حملے کئے جا رہے ہیں –
ایک نظر ڈالتے ہیں معروف دہشت گرد گروہوں کی تاریخ پر
1964 کو بلوچ لبریشن فرنٹ کی بنیاد جمعہ خان مری نے رکھی تھی تاہم اس تنظیم نے جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں 1980 کی بلوچ بغاوت میں بڑا کردار ادا کیا تھا اس تنظیم نے وقفہ وقفہ سے علاقائی اور لسانی بنیاد پر پاکستان پر حملے جاری رکھے اور 2009 میں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کو اس جماعت کا سربراہ مقرر کیا گیا یہ جماعت اب بھی پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت کر رہی ہے اور کئی معصوم پاکستانیوں سمیت سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی شہید کر چکی ہے-
سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور حکومت میں 1970 میں بلوچستان لبریشن آرمی کی بنیاد رکھی گئی تھی جس نے پاکستان پر مسلح حملے کئے مگر جنرل ضیاء الحق کی کاوش سے بلوچ علیحدگی پسند گروپوں سے مذاکرات کئے گئے جس کے باعث یہ جماعت منظر عام سے غائب ہو گئی-
بہت عرصہ غائب رہنے کے بعد اس جماعت نے دوبارہ 2000 میں بلوچستان ہائیکورٹ کے جج جسٹس نواز مری کے قتل کے الزام میں نواب خیر بخش مری کی گرفتاری کے بعد دوبارہ حملے شروع کر دیئے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے-
انٹرنیشنل لیول کی جماعت القاعدہ کی بنیاد اسامہ بن لادن اور عبداللہ عزام نے 1988 میں رکھی اس جماعت نے شروع میں تو روس کے خلاف جہاد کیا اور پاکستانی فورسز کا ساتھ بھی دیا تھا تاہم افغان امریکہ جنگ میں اس تنظیم نے پاکستان پر بھی حملے کئے-
القاعدہ کے کمانڈر ابو مصعب الزرقاوی نے 1999 میں داعش کی بنیاد رکھی تھی اور اسے 2014 میں اس وقت عالمی شہرت حاصل ہوئی جب اس نے انبار مہم کے دوران عراقی سیکورٹی فورسز کو اہم شہروں سے باہر نکال دیا تھا اور اپنی پاور شو کی تھی اس انٹرنیشنل لیول کی جماعت نے بھی پاکستان پر بہت سے حملے کئے اور یہ جماعت اس وقت دنیا کی تمام خطرناک دہشت پسند جماعتوں میں سے پہلے نمبر پر ہے اس جماعت میں زیادہ تر سلفی ( اہلحدیث) مکتبہ فکر کے لوگ شامل ہیں-
افغانستان پر امریکی حملے کے بعد پاکستان کی پالیسی کو نا سمجھتے ہوئے پاکستان کو امریکہ کا اتحادی سمجھتے ہوئے مفتی نظام الدین شامزئی کے فتوی پر عمل کرتے ہوئے دیوبندی مکتب فکر کے کچھ جید مفتیان کرام کی پشت پناہی میں چھوٹے چھوٹے مسلح قبائلی گروہوں نے پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے تاہم 2004 میں جب پاکستانی فوج نے جب ان کے خلاف آپریشن شروع کیا تو جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک ، جامعہ اشرفیہ لاہور ، جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اوردیگر دیوبندی مکتب فکر کے مراکز کی طرف سے اس آپریشن کے خلاف شدید نوعیت کا فتویٰ جاری ہوا اور عوام کو افواج پاکستان کے خلاف کرنے کی کوشش کی گئی اور پاکستان کے خلاف متحد ہوکر لڑنے کا عزم کرکے دو درجن سے زائد گروپوں نے مل کر دسمبر 2007 میں تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد رکھی اور بیت اللہ محسود کو ٹی ٹی پی کا امیر مقرر کیا گیا-
خفیہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق ان کو 34 گروہوں کے ساتھ اتحاد کرکے بنایا گیا تھا جولائی 2009ء میں سوات اور فاٹا میں گرفتار ہونے والے تحریک طالبان پاکستان کے اہلکاروں( جن میں افغانی طالبان بھی شامل تھے) سے بھارتی کرنسی اور اسلحہ کے علاوہ امریکا کے جاری کردہ آپریشن انڈیورنگ فریڈم کے کارڈ بھی ملے تھے-
اگرچہ بظاہر امریکا اور طالبان ایک دوسرے کے دشمن ہیں مگر حیران کن طریقہ پر پاک فوج کے وزیرستان آپریشن کے شروع ہوتے ہی نیٹو فورسز نے افغانستان کی طرف کی چوکیاں یکدم خالی کر دیں حالانکہ وہاں سے افغانی وزیرستان میں آسانی سے داخل ہو سکتے تھے اس معاملہ پر اس وقت کے پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا تھا اس جماعت نے پاکستان میں آتش و خون کا وہ کھیل کھیلا کہ ہر پاکستانی ان سے نفرت کرنے لگا ہے-
اتنی جماعتوں کے اکٹھ کے بعد ان میں کچھ اختلاف بھی ہوئے جس کے باعث کچھ گروپ تحریک طالبان پاکستان سے الگ بھی ہو گئے
ٹی ٹی پی کمانڈر احسان اللہ احسان نے اگست 2015 میں تحریک طالبان کے کچھ کمانڈروں کی تنظیم سازی کے عمل پر اختلافات کی وجہ سے اگست 2015 کو جماعت الاحرار کی بنیاد ڈالی اور الگ سے پاکستان پر حملے شروع کئے-
کافی عرصہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ان جماعتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کا بڑی حد تک خاتمہ بھی کیا تاہم اب ایک بار سے پھر ان گروہوں نے اتحاد شروع کر دیا ہے جس کے باعث نئے حملوں کا خطرہ ہے اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز و عوام کا ایک نیا امتحان شروع ہو گیا ہے-
پاکستان پر نئے حملوں کی خاطر 7 مارچ 2022 کو قبائلی کمانڈر حافظ احسان اللہ نے اپنے ساتھیوں سمیت تحریک طالبان پاکستان کی بیعت کر لی ہے اور اسی طرح 10 مارچ 2022 کو لکی مروت سے تعلق رکھنے والے مولوی ٹیپو گل کے تین گروپوں نے تحریک طالباں پاکستان کے امیر مفتی نور ولی محسود کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے جس کی تصدیق ترجمان تحریک طالبان محمد خراسانی نے کی ہے-
یقیناً ان گروہوں کے اتحاد سے ایک بار پھر آتش و خون کا بازار گرم ہو گا مگر ان شاءاللہ رب العالمین کی رحمت اور افواج پاکستان کی قربانیوں سے ان کو بہت جلد بڑی شکشت ہو گی اور امید ہے کہ ان کی یہ شکشت ان کو دوبارہ نا اٹھنے دے گی ،ان شاءاللہ
پاکستانی فورسز و عوام پہلے بھی یک جان اور تیار تھی اور اب بھی یک جان و تیار ہیں ،اللہ تعالیٰ مملکت خداداد پاکستان کی حفاظت کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کی حفاظت فرمائے آمین-
کراچی:ائیر پورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) نے کراچی ائیرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے مسافر سے 40 تولہ سونا برآمد کرلیا۔
باغی ٹی وی : ترجمان ائیرپورٹ سکیورٹی فورس کے مطابق اے ایس ایف عملے نے دبئی جانے والے مسافر سے 40 تولہ سونا برآمد کیا، مسافر ذیشان وحید نے سونا جوتوں میں مہارت سے چھپا رکھا تھا تاہم اے ایس ایف نے تلاشی کے دوران سونا برآمد کر کے اسمگلنگ کی کوششں ناکام بنا دی۔
ترجمان نے بتایا کہ عملے نے تلاشی کے دوران سونا برآمد کرکے اسمگلنگ کی کوششں ناکام بنا دی، ملزم اورسونا مزید قانونی کارروائی کے لیے کسٹم حکام کے حوالے کر دیا گیا۔
خیال رہے کہ ملک کے مختلف ایئرپورٹس پر اس سے قبل بھی متعدد ملزمان سونا، رقم یا منشیات اسمگلنگ کی کوشش میں گرفتار ہوچکے ہیں۔ ایئرپورٹ سکیورٹی اور کسٹم حکام اس ضمن میں کافی متحرک ہیں۔
قبل ازیں گزشتہ روزا ینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے مسافر کے ٹرالی بیگ سے 840 گرام ہیروئن برآمد کی تھیپ
حکام کے مطابق چارسدہ کا رہائشی مطہر شاہ نامی مسافر پرواز نمبر کے یو 206 کے ذریعے سعودی عرب کے لیے روانہ ہو رہا تھا ملزم کے خلاف انسدادِ منشیات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا-
نیڈ پرائس نے بھارت میں یورنیم چوری کے واقعے سے اظہار لا علمی کا اظہار کیا ہے، انہوں نے کہا کہ بھارت میں یورنیم چوری کے سلسلے میں گرفتاریوں کا علم نہیں، جوہری ممالک کے ساتھ نیوکلیئر سیفٹی پر گفتگو ہوتی رہتی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے روس یوکرین تنازع پر بات کی، کہا یوکرین پر روسی جارحیت کی 140 ممالک نے مذمت کی، روسی جارحیت پر جنوبی ایشیا میں اتحادیوں سے بھی رابطے میں ہیں۔
دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت 9 مارچ کو پاکستان میں میزائل گرنے کے واقعے کی مشترکہ تحقیقات کرائے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ واقعہ بھارت کے غیر ذمے دار رویے کو ظاہر کرتا ہے تاہم سلامتی کونسل اور عالمی برادری سنجیدگی سے نوٹس لے۔
دریں اثنا جانب شاہ محمود قریشی نے جرمن ہم منصب اینالینا بیئربوک سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہاکہ بھارت میزائل پاکستان میں گرنے کو غلطی تسلیم کرنا کافی نہیں جبکہ انہوں نے یوکرین کی صورت حال پر پاکستان کی تشویش سے بھی آگاہ کیا۔
اس کے علاوہ شاہ محمود قریشی نےایرانی ہم منصب ڈاکٹر حسین امیر عبداللہیان سے بھی گفتگو کی اورمقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف اور کشمیری عوام کی مسلسل حمایت پر ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنون بھارت نے پاکستان میں میزائل داغنے کو فوج کی ’غلطی ‘قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ’انتہائی افسوسناک‘ واقعہ ہے بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ 9 مارچ کومعمول کی دیکھ بھال کے دوران، ایک تکنیکی خرابی کی وجہ سے میزائل حادثاتی طور پر فائر ہوا جو پاکستان کے ایک علاقے میں گرا جس پر حکومت نے سخت نوٹس لیا اور اعلیٰ سطح کی انکوائری کا حکم دیا ہے۔
بعد ازاں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابرافتخار نے میڈیا بریفنگ میں بتایا تھا کہ 9 مارچ کو بھارتی حدود سے ایک اُڑتی ہوئی چيز پاکستانی حدود میں داخل ہوئی ، جو میاں چنوں کے مقام پر گری یہ ایک سوپر سونک پروجیکٹ تھا جو ممکنہ طور پر میزائل تھا اور غیر مسلح تھا ، یہ آبجیکٹ بھارت میں سو کلو میٹر اندر تھا، تبھی ہم نے اسے نوٹس کرلیا۔
پی ڈی ایم کے سربراہ اور چئیرمین جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو غلط فہمی ہے کہ وہ 10 لاکھ لوگ اکھٹے کرلیں گے-
باغی ٹی وی : نجی ٹیو یو چینل کے پروگرام "کھرا سچ” میں میزبان مبشر لقمان کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں مولانا فضل الرحمان نے تحریک عدم اعتماد سمیت معروف ٹاک ٹاکر حریم شاہ اور حکومت کے تعلقات کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات کئے-
پروگرام میں سینئیر صحافی مبشر لقمان نے کہا کہ اگر کسی بھی اپوزیشن جماعت کو کوئی گارنٹی چاہیئے یا کچھ چاہیئے تو سب مولانا فضل الرحمان کے پاس آتے ہیں کو ئی مانے یا نا مانے اس وقت پاکستان میں حقیقی اپوزیشن کے طور پر ابھر کر آگے آئی ہے –
پروگرام میں مولانا نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی مہربانی ہے کہ وہ مجھے عزت دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ہماری کاوشوں کو قبول فرمائے-
میزبان کی طرف سے پوچھے گئے سوال کہ عدم اعتماد کی تحریک کب تک چلے گی؟ پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک کب تک رہنے والی بات تو رہی نہیں جب عدم اعتماد کی تحریک اسپیکر کے پاس جا کر جمع ہو جاتی ہے تو پھر ان کے اپنے قوانین و ضوابط ہیں کہ آپ کتنے دنوں کے اندر اندر نہیں لاسکتے ہیں اور کتنے دنوں کے اندر لانا لازمی ہے اس کا تعین بھی ہمارا آئین ہی کرتا ہے قانون اور رول اینڈ ریگولیشنز بھی کرتے ہیں اور اس وقت ہم نے ریکوزیشن بھی جمع کرائی ہے اس کی مدت کا تعین ہے کتنے دنوں کے اندر ریکوزیشن جمع ہو نے کے بعد اجلاس بلانا ہوتا یے اس حوالے سے فیصلہ اسپیکر نے کرنا ہے وہ کس وقت اجلاس بلاتے ہیں ظاہر ہے یہ تحریک ہم نے پیش کی ہے تو ہماری سو فیصد توانائیاں اس پر صرف ہوں گی کہ وہ ہر قیمت پر کامیاب ہو سکے-
10 لاکھ لوگ حکومت اور اپوزیشن بھی لوگوں کو ڈی چوک پر بلارہے ہیں کیا ہم انارکی کی طرف کسی لڑائی کی طرف جا رہے ہیں ؟
اس سوال کے جواب میں مولانا فضل ا لرحمان نے کہا کہ یہ بات تو ان کو نہیں کہنی چاہیئے تھی لیکن عمران خان کو شائد گھمنڈ ہے کہ شاید میں 10 لاکھ لوگ لا سکوں گا کیا 10 لاکھ لوگوں کے اکٹھے ہونے سے حالات پر اثر انداز ہو سکے گا کیا ٹرمپ نے اپنی ووٹنگ کے دن امریکا میں لاکھوں لوگوں کو اعلان نہیں کیا تھا کیا وہ کامیاب ہو گیا تھا پھر لوگوں کی رائے بدل گی ووٹ گننے والے دباؤ میں آگئے مرعوب ہو گئے ایسی صورتحال نہیں ہے-
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت عمران خان ہر صورت کوئی ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے اگر تو بات رہی پبلک کی تو واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ہم نے بھی عوام کو اور اپنے کارکنوں کومتاثرہ طبقات کو جو اس وقت پاکستان کی نااہل حکومت کی وجہ سے برے حالات بھوک اور مہنگائی کا شکار ہیں اور بچوں کی فیسیں اور بجلی کا بل نہیں ادا کر سکتے یہ ساری چیزیں اس وقت ہمارے ہاں موجود ہیں تو اگر ہم نے بلا لیا لوگوں کو تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہاں پر کوئی کنٹرول کر سکےگا-
مولانا فضل الرحمان نے مبشر لقمان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ کسی طرف سے بھی ہمیں انارکی کی طرف نہیں جانا چاہیئے اگر ہم اس طرف جانا چاہتے تو پھر ظاہر ہے آپ کو پتہ ہے ہماری ترجیح تو یہ تھی کہ ہم استعفے دے کر ایوانوں سے نکل آئیں لیکن پھر بھی چند دوستوں نے کہا کہ ہم ایوان کے اندر ہمارا جمہوری اور آئینی راستہ ہے عدم اعتماد کا اس کو اپنانا چاہتے ہیں جب ہم نے ان کو اپنا لیا ہے تو حکومت بھی اسی محاز پر مقابلہ کریں ا نارکی کی طرف تو انہوں نے اشارات دیئے ہیں اور اگر ملک میں حالات ایسے خراب ہوتے ہیں تو اس سے پہلے بھی کچھ چھوڑا تو نہیں ہے یا پھر کچھ بچا کھچا ہے امکان ہے کہ آنے والے لوگ سنبھال سکیں گے تو اس کا خیال ہے وہ بالکل نہیں سنبھال سکیں گے-
مبشر لقمان نے سول پوچھا کہ یہ نارمل الیکشن نہیں ہیں اس میں ووٹ اسپیکر نے گننے ہیں اسپیکر نیشنل اسمبلی کی باتوں سے لگ رہا ہے کہ وہ تو حکومت ک سا ئڈ لے چکی ہے اور پی ٹی آئی کے لوگوں کے ووٹوں کو گننا نہیں وہ ڈس کوالیفائی کرلیں گے-
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نہیں کرسکتا اس قسم کے جبر سے اسمبلی ختم ہو جائے گی پوری اپوزیشن کے ساتھ آپ نے یہ کھیل کھیل لیا تو پوری اپوزیشن استعفے دے دے گی نہ آپ کی پبنجاب اسمبلی نا وفاق میں قومی اسمبلی رہ سکے گی آپ کے آدھے سے زیادہ لوگ مستعفی ہو جائیں گے ملک کا نظام کیسے چلائیں گے یہ حماقت کبھی بھی اسپیکر نہیں کرے گا –
ایک سوال کے جواب میں سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ ریاست مدینہ کی بات کرنا بھی مذاق ہے باہر کے اشاروں پر اس طرح کے کام کرنا جو ہم کر رہے ہیں یہ بھی کہنا مذاق ہے تو مذاق کے ذریعے سے تو سیاست نہیں کر سکتے غیر سنجیدہ ہو کر جو چاہو کہہ دو کسی کے بارے میں گالیاں دے دو یہ روش ایک نارمل انسان کی نہیں ہوا کرتی عمران خان ایک نارمل حثیثت بھی کھو چکے ہیں اور ایسے ایسے گفتگو ان کی زبان سے نکل رہی ہے جو ایک شریف انسان کی نہیں ہو سکتی-
سوال کہ آپ کو کتنی امید ہے کہ جو اتحادی ہیں حکومت کے وہ آپ لوگوں کے ساتھ عنقریب مل جائیں گے؟ کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دو چیزیں ہیں ایک ہے ان کی اتحادی حکومت کی کرگردگی سے مطمن ہو اور وہ چاہتے ہوں ہم حکومت سے وابستہ رہیں اور دوسرا یہ کہ وہاں سے بالکل اطمینان ختم ہو چکا ہے لیکن نئے اتحاد کی طرف آنا اور اپوزیشن سائیڈ پر ایڈجسٹ کرنا اعتماد حاصل کرنا میرے خیال میں اصل پہلو یہی ہے ادھر سے میرے خیال میں وہ 100 فیصد کٹ چکے ہیں اور کسی قسم کا ان کا وہاں پر اعتماد والی کیفیت نہیں رہی ہے اور مایوسی کی آخری حدود تک پہنچے ہیں –
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت آپ ق لیگ پیر پگاڑا کی جماعت یا ایم کیو یم کی بات کریں یہ سب مجھے مل چکے ہیں ور ان سب کے خیالات و احساسات سے میں واقف ہوں اور اب یہ ہے کہ اگر ہمارے ساتھ آ کر ملیں گے تو ظاہر ہے کہ کچھ نہ کچھ تو بہت سے لوگوں کے تقاضے مطالبات ایڈجسٹمنٹ کے لئے کچھ شرائط چھوٹی موٹی سامنے آتی رہی ہیں میرے سامنے تو ایسی صورتحال نہیں میں کسی کو وزارت دوں اپنے صوبے میں تو میرے پاس اتنی تعداد نہیں کہ کسی کو کہوں منسٹر وزارت دوں گا پنجاب میں مسلم لیگ ن کی اور سندھ میں پی پی کی اپوزیشن ہے اگر ان سے کوئی رابطہ ہو اور ایسی بات یوئی تو میں نہیں کہہ سکتا میرے سامنے ایسا نہیں ہوا .
مشر لقمان نے پوچھا کچھ تو ناراض اراکین کو وعدہ کیا ہو گا نا پی پی نے مسلم لیگ ن نے جے یو آئی نے؟ مولانا نے کہا کہ ظاہر ہے ایک مرتبہ ہم نے نئی حکومت بنانی ہے اس میں ہم شامل ہوں گے نئے لوگ آئیں گے ہم نے بھی تو حکومت میں آنے کے بعد وزارتیں دینی ہیں بغیر وزارتوں کے نظام نہیں چلتا تو کچھ آپ کے نئے آنے والے لوگوں کو بھی ایڈجسٹ کر سکتے ہیں-
مولانا نے ایک سوال کے جواب میں کہا ک جہانگیر خان ترین یا علیم خان ہوں یہ ایک مستقل جماعت نہیں ہیں پی ٹی آئی کا حصہ ہیں ہم نے پی ٹی آئی کی حلیف جماعتوں کی بات کی ہے دونوں میں فرق تو ہے اور اس اعتبار سے اگر کسی اور جماعت سے ان کے روابط ہوں ہماری اپوزیشن کی لیکن میرے ساتھ تو کوئی رابطہ نہیں میں اس پر کوئی تبصریہ نہیں کر سکتا-
اس سوال پر کہ پی ٹی آئی کے لوگوں کو اپنی حکومت پر اعنبار نہیں ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے مولانا نے کہا کہ جو مجھے معلومات ہیں جو مجھے رپورٹ کیا جاتا ہے تو اس لحاظ سے ان کی اپنی صفیں مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہیں بس ایک یا دو وزیر ان کے دفاع کی کوشش کرتے ہیں -مولانا فض الرحمان نے کہا کی جو بھی شکل ہے اس کی بس دو تین ایسے ہیں جو گفتگو کر رہے ہیں انہوں نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جیسی لیڈر کی زبان ہو گی پیرو کاروں کی بھی وہی زبان ہو گی گالیاں دیں گے یہ بوکھلاہٹ ہے اس بوکھلاہٹ کا کوئی فائدہ نہیں-
مبشر لقمان نے پوچھا کی آپ نے کہا عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے کیا اس کا کوئی ثبوت ہے؟
چئیرمین جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا کی ایک سوال جو میں تقریباً دس بارہ سال سے اٹھا رہاہوں آپ اس کے ثبوت آج مجھ سے پوچھ رہے ہیں پہلے تو مجھے آپ جیسے باخبر آدمی سے توقع نہیں تھی ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس پر میں کافی کہہ چکا ہوں اور اب تو ہر مخالف وہ ہی باتیں کر رہا ہے مجھے زیادہ تر نہیں کہنی پڑ رہیں باقی لوگ اب اس کے لئے کافی ہو گئے ہیں کہ کس طریقے سے ان کے جو امریکا کے جے کیسنجتر جس زمانے میں ہمارے خارجہ سے واشنگٹن میں ملاقات کر رہے تھے اس میں گواسمتھ بھی بیٹھا ہوا تھا اس نے کہا کہ ہمارے لونڈے کا خیال رکھا کرو اس زمانے سے ہم جانتے ہیں پھر کہیں کہ یہ سب کچھ کہاں سے آرہا ہے کس کے کہنے پر ہو رہا ہے-
انہوں نے مزید کہا کہ 2013 کے الیکشن کے فورا بعد ایک وفد مجھے ملا اس نے مجھے کہا کہ ہم دو تین سال سے آپ کی تقریر نوٹ کر رہے ہیں آپ عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہتے ہیں کیا ہم نے صحیح نوٹ کیا ؟ میں نے کہا ہاں آپ نے صحیح نوٹ کیا ہے-مولانا کے مطابق میری اس بات پر وفد نے کہا کہ ہم تصدیق کرتے ہیں آپ نے صحیحح نوٹ کیا-اس پر مبشر لقمان نے بھی انکشاف کیا کہ مجھے کچھ لوگوں نے کہا لیکن میں ان کا نام نہیں لوں گا-
مولانا فضل الرحمان نے انٹرویو میں مزید کہا کہ ووٹ دو اور کھڑے ہو جا ؤ یہ ان کا(عمران خان) ایک آئینی حق ہے جس کو ہم روک نہیں سکتے اگر فارن فنڈنگ کیس کی پٔزیشن یہ ہے کہ اگر الیکشن میں اس کے حقائق کی بنیاد پر فیصلہ آتا ہے تو ملک پاک ہو جاتا ہے ایک گند سے ایک ایسی پارٹی سے انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ہمارا الیکشن کمیشن کس مصلحتوں کا شکار ہے کہ اتنے بڑے جرم پانامہ کا کیس ایک دم آتا ہے اور ایک دم آپ حکومت سے شخص کو نااہل کر کے باہر کر دیتے ہیں ایک کیس پڑا ہوا ہے اس کا مدعی دندنا رہا ہے اور کہہ رہا ہے میں گھر کے اندر سے گواہی دے رہاہوں گھر کے اندر سے گواہ تو بڑا زبردست قسم کا ہوتا ہے تو وہاں پر ہمارا ایک بڑا ادارہ جس کے پاس یہ کیس ہے وہ کیوں انصاف کے تقاضوں کو موخر کررہا ہے میرے سمجھ نہیں آ رہا-
ایک سول کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر عمران خان مصالحت کے لئے رابطہ کریں گے تو یا تو بُری چیز ختم کر دی جانے چاہیئے یا پھر مٹ جانا چاہئئے اور یہ بھی ایک بُری چیز ہے اس کا بھی نام و نشان مٹ جانا چاہیئے اس کو فنا ہو جانا چاہیئے-
مبشر لقمان نے کہا کہ اسلامی ریاست ہو نے کے باوجود مولوی لوگ پاپولر ووٹ کیوں نہیں لےسکتے ؟
جس پر مولانا نے کہا کہ یہ ایک لمبی بحث ہے میں علماء کو کہتا ہوں کہ آپ اپنے آپ کو انبیا ء کے وارث سمجھتے ہیں اگر انبیا کی وراثت محراب کا مصلہ ہے تو اس پر آپ کے بغیر قوم کسی کو قبول نہیں کرتی اگر ممبر رسول وہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وراثت ہے تو وہاں پر آپ کے بغیر قوم کسی کو قبول نہیں کرتی تو پھر سیاست بھی منصب انبیا ہے ار اس سیاست کے منصب پر علما اکرام کو کیوں کہا جاتا ہے اگر سیاست شریعہ ہو انبیا کی سیاست ہو آج بھی اس کے اصل وارث علما اکرام ہیں لیکن پھر یہ ہمیں خود عالم کو سوچنا ہو گا کہ ہم نے عام آدمی کو اس حوالے سے مطمن کیوں نہیں کیا –
انہوں نے کہا کی عام آدمی بہتر معشیت مسائل مشکلات کا حل چاہتا ہے ظلم سے نجات حاصل کرنا چہاتا ہے تھانے کچہری کے ظلم سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے کیوں آپ انتخابی سیات کرتے ہیں اور آپ کا ناقابل اجر کام ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی فضیلت بیان کی ہے اس کام کی لیکن شاید ہم اس طرخ سے آگے نہیں بڑھ رہے ہیں آج جمیعت علما اسلام کے ساتھ جو وابستہ علما ہیں 4 سے 5 لاکھ علما اکرام ہیں وہ عوام میں جاتے ہیں اگر جو ن لیگ کی پی پی کی بات کرتا ہے عوامی حوالے سے اس طرض جے یو آئی کی بھی بات کرتا ہے اس پر ہم نے کام کیا ہے بڑی محنت کی ہے پورے پاکستان کے مکاتب فکر کے ساتھ رابطے میبں ہیں ان کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں ہم نے پاکستان کے ساتھ جمہوری نظام کے ساتھ رہنا ہے –
عمران خان کو پیغام میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ عوام کا منتخب نہیں ہے ایک بدترین قسم کی دھاندلی کی گئی 25 جولائی 2018 کوجو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے وہ فوری مسعفی ہوں اور قوم کا مینڈینٹ اور امانت واپس کریں اگر نہیں کریں گے تو اس کے خلاف ہم ڈٹے رہیں گے-
انہوں نے کہا کہ 50 لاکھ لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت پولیس مہیا کر سکتی ہیں؟ اگر میرے رضا کار نہ ہوں تو پھر جھوٹ بولا گیا کہ پارلیمنٹ لاجز میں رضا کار آ گئے 10 رضا کر آئے جن کا گیٹ پاس بنا باقی واپس چلے گئے ان پر اسلام آباد پولیس نے دھاوا بول دیا لاجز کے دو یا تین کمروں کے اندر کتنے لوگ ہوں گے کہ اسلام آباد پولیس اندر گھس کر ان پر حملہ کرے کہ میزیں دراوزے توڑیں پارلیمنٹ کے اندر بغیر اجازت اندر نہیں آ سکتے وہاں شناختی کارڈ جمع کیا جاتا ہے آپ کو فون کیا جاتا ہے آپ کے بندے آئے ہیں اجازت ہے-
لیکن اس کوپراپیگنڈہ کیا گیا کوئی شرم حیا ہی نہیں ان لوگوں کو اس جھوٹ پر مجھے زیادہ افسوس ہے کہ ناجائز کام کیا گیا ایک سویلین آدمی لاجز میں پارلیمنٹ ممبر کی اجازت سے آتا ہے 70 نہیں صرف دس اور اگر پارلیمنٹ میں 165 اراکین ہمارے پاس ہوں اور ہر آدمی کہے مجھے ایک کی دو کی اجازت ہے پورے نہیں آتے وہاں پر کیا ہم قانون کو نہیں جانتے-
انہوں نے حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم اچھا جانتے ہو؟ انہیں قانون کا احترام نہیں ہے مجھے پتہ ہے تم ان لاجز کے کمروں میں کیا کردار ادا کرتے ہو تمہارے گند اور غلاظت تعفن اور بدبو کہاں کہاں تک پھیلتی ہے ہوو ہاں سے وہ خاتون حریم شاہ جو وزیراعظم آفس میں داخل ہو کر دروازے کو ٹھڈے مارتی ہے وہاں تو کوئی کاروائی نہیں ہوتی لیکن وہ پھر بھی حریم و محترم ہے لیکن ہمارے باریش نوجوان صرف اجازت سے اندر آئے ان کو معلوم ہو گیا تھا کہ ہمارے اراکین کو اٹھا نا ہے ان کو تحفظ دینے کے لئے آئے تھے پھر ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ انہوں نے ایسی کاروائی کرنی ہے پھر 70 کے 70 داخل ہو جاتے ہمیں پرواہ نہیں تھی –
انہوں نے مزید کہا کہ پھر آدھے گھنٹے کے اندر اند رمیں پہنچا ار پورا ملک جام ہو گیا پھر جا کر یہ نیچے آئے انہوں نے جو بدمعاشی کی ہے جو قانون توڑا ہے ریاست دہشتگردی کا ارتکاب کیا ہے مجھے اس پر احتجا ج ہے کہ میرے ساتھ بات کس بنیاد پر کرتے ہیں منہ بنا کر بات کر دینا دہشتگرد یہ اور وہ اس قسم کی باتیں ہمارے ساتھ نہ کرو ہم تم سے لاکھ درجے بہتر شریف اور آئین کے تابع اور قانون کا احترام کرنے والے لوگ ہیں تمہیں تو آئین کی سمجھ ہی نہیں قانون کی سمجھ ہی نہیں جہاں ایک بنیادی انسانی شرافت کی جگہ نہیں ہم پر بات کر رہے ہیں-
اسلام آباد: اسلام آباد بھارہ کہوکی حدودمیں مبینہ پھندےسےقتل کئے جانے والے شخص نوازش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی تبدیل کرنےکا انکشاف سامنے آیا ہے-
باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر اسلام آباد بھارہ کہوکی حدودمیں مبینہ پھندے سے قتل کئے جانے والے شخص نوازش کی تصاویر گردش کر رہی ہیں جس پر صارفین کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ نوازش کو قتل کر کے خودکشی کا رنگ دیا جارہا ہے-
اگر اس جوان نے خودکشی کی تو یہ پھنداکیسے نہ کاٹا گیا اس سے اس کا سر کیسے باہر نکالا گیا؟ بہت ساری چیزیں توجہ طلب ہیں اس کیس میں جو امید ہے پولیس تمام ترحقائق سامنے لاے گی۔۔۔ pic.twitter.com/sbDBn9mqUF
علی عمران عباسی نامی کرائم رپورٹر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انکشاف کیا کہ اسلام آباد بھارہ کہوکی حدود میں مبینہ پھندے سےقتل کئے جانے والےنوازش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی تبدیل کرنےکی کوشش کی جارہی ہےڈاکٹرزنےتھانہ،وقت غلط درج کیا ڈاکٹرزبھی مبینہ طورپررپورٹ تبدیل کرنےکی کوشش میں ہیں لواحقین نے پولیس فئیرانوسٹیگیشن سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے-
اسلام آباد@ICT_Policeبھارہ کہوکی حدودمیں مبینہ پھندےسےقتل کئےجانےوالےنوازش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی تبدیل کرنےکی کوشش کی جارہی ہےڈاکٹرزنےتھانہ،وقت غلط درج کیاڈاکٹرزبھی مبینہ طورپررپورٹ تبدیل کرنےکی کوشش میں ہیں پولیس فئیرانوسٹیگیشن کرکےانصاف فراہم کرےلواحقین کا@ahsanpspسےمطالبہ pic.twitter.com/SncCdgbJ1X
کرائم رپورٹرعلی عمران نے سوال اٹھایا کہ اگر اس جوان نے خودکشی کی تو یہ پھنداکیسے نہ کاٹا گیا اس سے اس کا سر کیسے باہر نکالا گیا؟ بہت ساری چیزیں توجہ طلب ہیں اس کیس میں جو امید ہے پولیس تمام ترحقائق سامنے لائے گی-
اگر خودکشی ہے تو گردن کی ہڈی کیسے نہیں ٹوٹی؟ اگراور کس نے اس لڑکے کی لٹکی ہوئی لاش نیچے اتاری؟امید ہے کہ آئی جی اور انکی ٹیم متاثرین کو انصاف ضرور فراہم کرے گی۔۔۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر خودکشی ہے تو گردن کی ہڈی کیسے نہیں ٹوٹی؟ اگراور کس نے اس لڑکے کی لٹکی ہوئی لاش نیچے اتاری؟امید ہے کہ آئی جی اور ان کی ٹیم متاثرین کو انصاف ضرور فراہم کرے گی-
کالم نگار اور بلاگر ریحانہ جدون نے بتایا کہ مقتول کا پوسٹ مارٹم پولی کلینک اسپتال کے ڈاکٹر سعد نے کیا انہوں نے جائے وقوعہ کی ویڈیو شئیر کرتے ہوئے کہا کہ پھندے سے موت ہوئی تو موقع پر یہ خون کے نشانات کیوں ہیں اور 8 تاریخ کی رات کا وقوعہ اور آج کل کرکے رپورٹ لیٹ کرتے رہے آج ڈاکٹر نےکنفرم پوسٹ مارٹم رپورٹ دینی تھی پر چھٹی پہ چلا گیا کئی چیزیں اس چیز کو مشکوک بنا رہی ہیں اسکی فئیر انوسٹیگیشن کرکےانصاف کیا جائے-
https://twitter.com/Rehna_7/status/1503324780115763210?s=20&t=e8n-xEEMpQi1ad_kyf4KzQ
https://twitter.com/Rehna_7/status/1503307593556582405?s=20&t=ZJqM99TshjjkoPpr2yuAMA
https://twitter.com/MBAkramkashmiri/status/1503389805207564288?s=20&t=ZJqM99TshjjkoPpr2yuAMA
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ رپورٹ مرضی کی بھی تو بنوائی جاسکتی ہے؟ کراس چیک کیسے ہوگا؟
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا جرمن ہم منصب اینالینا بیئربوک سے ٹیلیفونک رابطہ کیا-
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق شاہ محمود قریشی نے ٹیلیفونک ملاقات میں بھارتی میزائل پاکستان میں گرنے کا معاملہ اٹھایا کہا کہ بھارتی میزائل پاکستان میں گرنے کو غلطی تسلیم کرنا کافی نہیں، بھارت اس معاملے کی مشترکہ تحقیقات کرائے اور عالمی برادری سنجیدگی سے نوٹس لے۔
شاہ محمود قریشی نے یوکرین کی صورت حال پر پاکستان کی تشویش سے بھی جرمن وزیر خارجہ کو آگاہ کیا اور بتایا کہ وہ اپریل میں جرمن وزیرخارجہ کے دورہ پاکستان کے منتظر ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنون بھارت نے پاکستان میں میزائل داغنے کو فوج کی ’غلطی ‘قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ’انتہائی افسوسناک‘ واقعہ ہے۔
بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ معمول کی دیکھ بھال کے دوران، ایک تکنیکی خرابی کی وجہ سے بدھ کو میزائل حادثاتی طور پر فائر ہوا جو پاکستان کے ایک علاقے میں گرا واقعے میں کسی انسانی جان کے نقصان کا نہ ہونا باعث اطمینان ہے۔
اس حوالے سے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ہنگامی پریس کانفرنس کی تھی اور بتایا تھاکہ 9 مارچ کو 6 بج کر 33 منٹ پر بھارتی حدود سے ایک ‘چیز’ نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی یہ ایک سوپر سونک پروجیکٹ تھا جو ممکنہ طور پر میزائل تھا اور غیر مسلح تھا، یہ آبجیکٹ بھارت میں سو کلو میٹر اندر تھا، تبھی ہم نے اسے نوٹس کرلیا۔
میجر جنرل بابر افتخار نے کہا تھا کہ پاکستانی فضائی حدود میں وہ چیز 3 منٹ اور چند سیکنڈ تک رہی اور 260 کلومیٹر اندر تک سفر کیااس کے خلاف ضروری کارروائی بروقت کرلی گئی، پاک فضائیہ نے اس کی مکمل نگرانی کی اورپتا چلایا کہ وہ بھارتی علاقے سرسا سے آئی تھی پاکستان فضائی حدود کی خلاف ورزی کی مذمت کرتا ہے،بھارت کو اس واقعے کی وضاحت دینی ہوگی، پاکستان نے ہمیشہ ذمہ دار ملک ہونے کا ثبوت دیا ہے، ہم اس واقعے پر کسی قسم کی اشتعال انگیزی نہیں کر رہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریا ت فواد چودھری کا کہنا ہے کہ فضل الرحمان کا اصل ایجنڈا او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس کے خلاف ہے-
باغی ٹی وی : فواد چودھری نے مولانا فضل الرحمان کی اسلام آباد میں کی گئی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فضل الرحمان کا اصل ایجنڈا اسلامی وزرائے خارجہ کانفرنس کے خلاف ہے،15سال بعد اسلامی وزرائے خارجہ کانفرنس ان کو ہضم نہیں ہورہی-
فواد چودھری نے کہا کہ کانفرنس کو ناکام بنانےکیلئے 23مارچ کو اسلام آباد بلاک کرناچاہتےہیں،فسادیوں نے نمٹنا جانتےہیں-
ادھر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور شہبا زگل نے پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکووں کے گلدستے کا مقصد انتشار پھیلانا ہے اسلام آباد میں پوری اسلامی دنیا سے وزرائے خارجہ آرہے ہیں،اپوزیشن کا مقصد انتشار پھیلانا ہے اسے ناکام بنا دیا جائے گا-
شہباز گل نے کہا کہ ان لوگوں کی ہر سازش کا ناکام بنائیں گے،تحریک انصاف ان کی سیاست مکمل طو رپر سمجھتی ہے،قانون توڑنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی،جہاں قانون توڑیں گے قانون کے مطابق ان سے نمٹیں گے-
دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسلام آباد میں او آئی سی کانفرنس ہونے جارہی ہےاب یہ لوگ انتشار کی طرف جارہےہیں یہ لوگ پہلے کہہ رہے تھے ہمارے پاس نمبر پورے ہیں اگر ان کے پاس نمبر پورے ہیں تو دھرنا کیوں دینے جارہےہیں-
واضح رہے کہ اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے 23 مارچ کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا ہے
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ متحدہ اپوزیشن کے قائدین کا مشترکہ اجلاس ہوا،اپوزیشن کے عدم اعتماد کی تحریک قومی امنگوں کی امین ہے-
پریس کانفرنس کرتے ہوئے فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ طے ہوا ہے جعلی وزیراعظم کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد قومی مفقاد کی امین ہے، حکومت آئینی دستوری اور جمہوری دائرے میں رہ کر سامنے کرنے کے بجائے فساد کی راہ اپنا چکی ہے، اور ارکان کو اسمبلی میں آنے سے روکنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں-
انہوں نے کہا تھا کہ 23 مارچ کو پی ڈی ایم نے لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا،وہ ہو گا باضابطہ طور پر تمام جماعتوں کے کارکنوں کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کرتا ہوں پیپلز پارٹی اور عوامی پارٹی کو لانگ مارچ میں شرکت کی دعوت دے رہے ہیں پورے ملک سے بیک وقت لانگ مارچ کے قافلے اسلام آباد کیلئے روانہ ہوں گے،اپوزیشن ارکان تحریک عدم اعتماد تک اسلام آباد رہیں گے،ہمت ہے تو حکومت 172 ارکان پورے کرے-
مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ ڈنڈے کا جواب ڈنڈے سے اور پتھر کا جواب پتھر سے دیں گے، اپوزیشن متحد اور سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے،ہماری اسٹرٹیجی پچھلے لانگ مارچ سے مختلف ہوگی ،لانگ مارچ کے شرکاء 24 مارچ کو اسلام آباد پہنچیں گے،ہم بہت کچھ کرنے جا رہے ہیں، ان کو چھٹی کا دودھ یاد کرا دیں گے-
راولپنڈی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سائبر کرائم ونگ نے 23 سالہ لڑکی کی قابل اعتراض تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرکے بلیک میل کرنے والے ملزم کو گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
باغی ٹی وی : ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے صدر کے علاقے میں چھاپہ مار کر ملزم کو حراست میں لیا جس نے قابل اعتراض تصاویر فیس بک اور واٹس ایپ نمبر پر بھی شیئر کیں
حکام کے مطابق راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے داود شاہ پر الزام تھا کہ اس نے راولپنڈی کی رہاہشی 23 سالہ لڑکی کی قابل اعتراض تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرکے تنہا ملنے کا مطالبہ کررہا تھا۔
انکوائری کے بعد ایس ایچ او ایف ائی اے سائبر کرائم سیل ملک اویس احمد کی سربراہی میں ٹیم نے صدر راولپنڈی میں ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تو ملزم نے مزاحمت کی جس پر ٹیم نے گرفتار کرکے قبضے سے 2 موبائل فونز برآمد کرلیے جو فیس بک آئی ڈی اور واٹس ایپ نمبر سے منسلک پائے گئے۔
حکام کا مزید کہنا تھا کہ ملزم کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کے بعد ملزم کو عدالت پیش کر کے ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔
قبل ازیں سہاگ رات کی ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے لڑکی نے شوہر کو لوٹ لیا تھا اور بلیک میل کرنا بھی شروع کر دیا یہ واقعہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے علاقے بھوپال میں پیش آیا تھا جہاں ایک نرس نے جو شادی شدہ تھی خود کو غیر شادی شدہ بتاتے ہوئے ایک لڑکے سے شادی کر لی جس کا تعلق بھارتی وزیراعظم مودی کے آبائی علاقے گجرات سے تھا-
شادی کے ٹھیک 17 روز بعد نرس نے شوہر پر الزام عائد کیا کہ اس نے مجھ سے جھوٹ بولا،اس نے خود کو آئی اے ایس بتا کر شادی کی تھی تا ہم یہ آئی اے ایس نہیں، خاتون نے دھوکہ دہی کے الزام میں شوہر کو جیل بھجوا دیا اور ساتھ دھمکی بھی دی تھی کہ سہاگ رات کی خاص ویڈیو اس نے بنا رکھی ہے، اگرلڑکے نے بات نہ مانی تو وہ ویڈیو وائرل کر دے گی، دھمکی دے کر نرس نے شوہر کا پاسپورٹ، اہم کاغذات لے لئے جبکہ دس لاکھ روپے کا بھی مطالبہ کیا، بعد ازاں لڑکے کے لواحقین پر پولیس نے نرس سمیت اسکے ساتھیوں پر بھی مقدمہ درج کر لیا ہے-
نائب امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے پیکا آرڈی نینس مسترد کرتے ہوئے حکومت سے اس کالے قانون کو فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
باغی ٹی وی : پنجاب یونین آف جرنلسٹس ( پی یو جے) کے زیر اہتمام مظاہرے میں شرکت کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا کہ جابرانہ طرز حکومت اور میڈیا پر پابندی کسی صورت قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومتیں کالے کرتوتوں کو چھپانے کے لیے کالے قوانین کا سہارا لیتی ہیں۔ پیکا آرڈی نینس غیر اسلامی، غیر آئینی اور غیر اخلاقی ہے صحافت کا معاملہ آئینے کی طرح ہوتا ہےحکومت اپنا چہرہ ٹھیک کرنے کی بجائے اس آئینے کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔
جماعت اسلامی کے رہنما ذکراللہ مجاہد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی اور صحافی برادری کے درمیان قدریں مشترک ہیں جماعت اسلامی ہر پلیٹ فارم پر پیکا آرڈی نینس کے خلاف آواز بلند کرتی رہے گی اور صحافی برادری کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ اور ماضی کی حکومتوں نے غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا۔ موجودہ حکومت نے نااہلی، نالائقی اور صحافیوں سے دشمنی کے ریکارڈ توڑ دیئے۔
دریں اثنا پیکا ترمیمی آرڈی ننس کے خلاف پی بی اے، پی ایف یو جے سمیت دیگر صحافتی تنظیموں اور سینئر صحافیوں کی درخواست پر وکلا نے دلائل مکمل کر لیے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئندہ سماعت پر 21 مارچ کو اٹارنی جنرل سے دلائل طلب کر لیے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف دائر تمام درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت کی پی بی اے کے وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ پیکا ترمیمی آرڈی ننس کے آرٹیکل 44 اے کے تحت عدلیہ اور جج کی آزادی کو متاثر کیا آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت آرڈی نینس صرف ہنگامی حالات میں جاری ہو سکتا ہے، آرڈی نینس کا اجرا ایگزیکٹو پاور ہے جو عدالتی نظرثانی سے مشروط ہے۔
انہوں نے صدر عارف علوی کے ٹویٹ کا اسکرین شاٹ پیش کیا اور بتایا کہ صدر مملکت نے 14 فروری کو 12:32 پر ٹویٹ کیا کہ 18 فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا ہے جبکہ 18 فروری کو صدر پاکستان نے پیکا ترمیمی آرڈی ننس جاری کردیا۔
پنجاب یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے وکیل عادل عزیز قاضی نے کہا کہ 18 فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس شیڈول تھا جسے ملتوی کیا گیا، صرف اسی نکتے سے آرڈیننس کے اجرا میں بدنیتی ظاہر ہوتی ہے۔
پی ایف یو جے کے وکیل ساجد تنولی نے کہا کہ لوگوں کی رائے دبانے کے لیے خصوصی قانون سازی کے ذریعے اس قانون کو لایا گیا، یہ قانون بنیادی حقوق اور آئین کی بعض شقوں سے متصادم ہے لہذا اسے کالعدم قراردیا جائے۔
فرحت اللہ بابر کے وکیل بیرسٹر اسامہ خاور نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19 اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق ہے مگر اس میں کچھ پابندیوں کا بھی ذکر ہے جو قومی مفاد، توہین اسلام، خودمختاری، توہین عدالت یا کسی کو جرم پر اکسانے جیسے معاملات پر ہیں۔