Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • یوکرین جنگ: روس نے چین سے فوجی مدد مانگ لی ،امریکا کا دعوٰی

    یوکرین جنگ: روس نے چین سے فوجی مدد مانگ لی ،امریکا کا دعوٰی

    واشنگٹن: امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے یوکرین کے خلاف جنگ کیلئے چین سے ہتھیار مانگے ہیں۔

    باغی ٹی وی :عرب نیوز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے مشیر قومی سلامتی جیک سلیوان نے چین کو وارننگ دی ہے کہ وہ روس کی عالمی پابندیوں سے بچنے میں مدد کرنا بند کرے، امریکہ اس چیز کو بالکل برداشت نہیں کرے گا۔

    روس کا امریکا پر یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنانے کا الزام

    جوبائیڈن انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حالیہ دنوں میں روس نے چین سے مدد مانگی ہے، یہ مدد فوجی آلات کی شکل میں طلب کی گئی ہے۔

    جوبائیڈن انتظامیہ نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ چین جھوٹی خبریں پھیلانے میں روس کی مدد کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ یہ الزام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی اور چینی حکام روم میں ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔

    یوکرین تنازع: ایلون مسک کا روسی صدر کو فائٹ کا چیلنج

    قبل ازیں روس نےامریکا پر یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنانے کا الزام لگایا تھا روسی وزارت خارجہ ماریہ زخارووا نے دعویٰ کیا تھا کہ دستاویزی ثبوت ہیں کہ امریکہ یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنارہا ہے-

    ترجمان روسی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ماسکو زیلنسکی کا تختہ الٹنے کے لیے یہ کام نہیں کر رہا،امریکہ عالمی برادری کے سامنے یوکرین میں اپنے اس پروگرام کی وضاحت دینے کا پابند ہے

    دوسری جانب امریکہ نے روس کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ روس کی جانب سے لگائے گئے یہ الزامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماسکو جلد ہی یہ ہتھیار یوکرین میں استعمال کر سکتا ہے۔

  • سارا پنڈ مرجائے میراثی کی باری نہیں آنی،لیگی رہنما کا حمزہ شہباز کے وزیر اعلیٰ بننے کے سوال پر ردعمل

    سارا پنڈ مرجائے میراثی کی باری نہیں آنی،لیگی رہنما کا حمزہ شہباز کے وزیر اعلیٰ بننے کے سوال پر ردعمل

    لاہور: مسلم لیگ ن کے رہنما محسن شاہ نواز رانجھا نے حمزہ شہباز شریف کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کو دلچسپ مثال دیتے ہوئے خارج از امکان قرار دیا-

    باغی ٹی وی : نجی ٹی وی کے پروگرام میں اینکر نےمحسن شاہ نواز رانجھا سے سوال کیا کہ کیا حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ پنجاب بن رہے ہیں؟ اس پر محسن شاہ نواز نے پنجابی کی مثال دیتے ہوئے کہا سارا پنڈ مرجائے میراثی کی باری نہیں آنی-

    محسن شاہ نواز کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے حوالے سے فیصلہ پارٹی کے سیکریٹری جنرل بتائیں گے۔

    واضح رہے کہ قبل ازیں حمزہ شہباز ماڈل ٹاؤن لاہور میں جہانگیرترین کی رہائش گاہ پر وفد کے ہمراہ پہنچے اور ترین گروپ کے اراکین سے سیاسی مستقبل پرگفتگو کی۔

    حمزہ شہباز شریف اور جہانگیر خان ترین گروپ کے ایم پی ایزکی ملاقات کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اورباہمی مشاورت کی گئی شرکاء نے وزیر اعلیٰ کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا-

    اعلامیے کے مطابق ترین گروپ کے اراکین کا کہنا تھا کہ وہ ذہنی طور پر حکومت سے علیحدگی کے لیے تیار ہیں، ہمیں آئندہ انتخابات میں ٹکٹوں کی یقین دہانی کرائی جائے، جہانگیر ترین جوفیصلہ کریں گے منظور ہوگا، مائنس بزدار میں ہم آپ کے ساتھ ہیں، تعاون طویل ہونا چاہیے۔

    اعلامیے کے مطابق ترین گروپ کے اراکین نے پنجاب کے معاملات پر مایوسی کا اظہارکیا اور عثمان بزدار کو وزارت اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے پر اتفاق کیا حمزہ شہباز نے جہانگیر ترین کی صحت کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا-

    اعلامیے کے مطابق ترین گروپ اور ن لیگ کے وفد کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق ہوا؛

    تحریک انصاف حکومت کے خلاف کوئی بیرونی سازش نہیں ہورہی،مریم اورنگزیب

    ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین گروپ کی جانب سے حمزہ شہباز اور ان کے وفد کا پرتپاک استقبال کیا وفد میں سردار اویس لغاری، عطاءاللہ تارڑ، خواجہ سلمان رفیق اور ذیشان رفیق شامل تھے-

    ماڈل ٹاؤن لاہور میں ترین گروپ سے ملاقات کے بعد میڈیا سےگفتگو میں حمزہ شہباز کے ترجمان عمران گورایہ کا کہنا تھا کہ ترین گروپ سے بڑی اچھی ملاقات رہی ہے، اللہ خیر کرےگا۔

    مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز ہی اگلے وزیراعلیٰ پنجاب ہوں گے۔

    بھارت نے واہگہ بارڈر سے پاکستان جانیوالوں کیلئے اسپیشل اجازت نامہ کی پابندی ختم کردی

  • شہباز شریف کی جانب سے عشائیہ، اپوزیشن قیادت کی آمد کا سلسلہ جاری

    شہباز شریف کی جانب سے عشائیہ، اپوزیشن قیادت کی آمد کا سلسلہ جاری

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی جانب سے اپوزیشن کی اعلیٰ قیادت کے اعزاز میں عشائیہ دیا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : پیپلز پارٹی کا وفد اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کے عشائیہ میں پہنچ گیا جس میں آصف زرداری، بلاول بھٹو ، یوسف گیلانی، شیری رحمان اور دیگرشامل ہیں۔

    سربراہ پی ڈی ایم مولانافضل الرحمان بھی عشائیے میں پہنچ گئے ہیں جبکہ مولانا عبدالغفور حیدری، اکرم درانی و دیگر بھی ان کے ہمراہ ہیں۔

    شہباز شریف نے مہمانوں کا خود استقبال کیا-

    مسلم لیگ ن رہنماؤں میں شاہد خاقان، مریم اورنگزیب، ایاز صادق، رانا ثنا اللہ اوررانا تنویر بھی عشائیہ میں موجود ہیں خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال، احمد ملک شریک ہیں اس کے علاوہ بھی اپوزیشن قیادت کی جانب سے عشائیے میں آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

    ذرائع کے مطابق عشائیے میں تحریک عدم اعتماد پر اپوزیشن کی حکمت عملی اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

  • بھارت خطےمیں چین اورپاکستان کےمقابلےکیلئےروسی ہتھیاروں کی فراہمی پربے یقینی کا شکار

    بھارت خطےمیں چین اورپاکستان کےمقابلےکیلئےروسی ہتھیاروں کی فراہمی پربے یقینی کا شکار

    روس کے یوکرین پر حملے کے نتیجے میں امریکا کی جانب سے پابندیاں عائد ہونے کے بعد بھارت روسی ہتھیاروں کی فراہمی میں بڑی رکاوٹوں سے بچنے کے لیے مختلف راستے تلاش کرنے لگا ہے تاکہ وزیراعظم نریندر مودی کو سرحد میں چین کے ساتھ درپیش مشکلات میں مزید اضافہ نہ ہو۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے بتایا کہ بھارت کے 60 فیصد دفاعی ہتھیار روس سے آتے ہیں، اور بیک وقت بھارت چین سے ایک علاقائی تنازع پرمشرقی لداخ میں دو سال سے سرحدی تناؤ کا سامنا ہے جہاں ہزاروں فوجی ہمہ وقت تیار ہیں۔

    81 افراد کو سزائے موت: ایران نے سعودی عرب کیساتھ مذاکرات ملتوی کر دیئے

    قبل ازیں 2020 میں اس تنازع میں فائرنگ کے نتیجے میں بھارت کے 20 جبکہ چین کے 4 فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

    بھارت کے سابق سیکریٹری خارجہ شیام سارن نے حال ہی میں اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ اگر امریکا اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اسے روس کی طرف سے بڑے خطرے کا سامنا ہے اور یہ چین کے ساتھ اسٹریٹجک سہولیات کا جواز پیش کرے اور ایشیا میں چینی تسلط کے پیش نظر اپنے یورپی حصے کی حفاظت کرے گا تو یہ بھارت کے لیے یہ ڈراؤنا خواب ہوگا۔

    کیا چین یوکرین سے سبق حاصل کرتے ہوئے متنازع لداخ یا تائیوان میں جارحیت کرے گا؟

    بھارت کے سابق سفارت کار اور جندال اسکول آف انٹرنیشل افئیرز کے فیلو جیتندر ناتھ مشرا نے اس سوال کا جواب دیا کہ بالکل یہ ممکن ہے کہ وہ ایسا کرسکتا ہے۔

    صدر جو بائیڈن نے یوکرین میں روسی جارحیت کے خلاف اقوام متحدہ کی قراردادوں پر ووٹنگ سے باز رہنے کے بعد ہندوستان کے ساتھ حل نہ ہونے والے اختلافات کے بارے میں بات کی ہےبھارتی وزیر اعظم مودی کی جانب سے تاحال روس کی یوکرین میں جارحیت پر اقوام متحدہ میں پیش ہونے والی قرارداد میں روس کے خلاف ووٹ ڈالنے یا روسی صدر پر تنقید کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔

    ہم دنیا کوتیسری عالمی سےبچانا چاہتے،لیکن روس تیسری عالمی جنگ کی طرف جارہا…

    1990 کی دہائی کے اوائل میں، تقریباً 70% ہندوستانی فوج کے ہتھیار، 80% فضائیہ کے نظام اور 85% بحریہ کے پلیٹ فارم سوویت نژاد تھے تاہم ہندوستان اب روسی ہتھیاروں پر اپنا انحصار کم کر رہا ہے اور اپنی دفاعی خریداری میں تنوع پیدا کر رہا ہے، امریکہ، اسرائیل، فرانس اور اٹلی جیسے ممالک سے زیادہ خریداری کر رہا ہے۔

    انٹرنیشنل پیس رسرچ انسٹیٹیوٹ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق،2016 سے 2020 تک روس سے بھارت کو تقریباً 49% تک دفاعی ہتھیاروں کی برآمدات ہوئیں جب کہ فرانس سے 18% اور اسرائیلی سے 13% دفائی ہتھیاروں کی برآمدات ہوئیں۔

    بھارت کے سابق فوجی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس ہڈا نے کہا کہ ہندوستان نہ صرف روسی ہتھیاروں پر انحصار کرتا ہے بلکہ وہ اپنے دفاعی شعبے میں خود انحصاری کی طرف بڑھتے ہوئے فوجی اپ گریڈیشن اور جدت کے حوالے سے ماسکو پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

    گیند لگنے پر انتہا پسند ہندوؤں نے 17 سالہ مسلم نوجوان کو قتل کر دیا

    انہوں نے کہا کہ روس وہ واحد ملک ہے جس نے بھارت کے لیے ایک جوہری آبدوز لیز پر دی، کیا کوئی دوسرا ملک بھارت کو جوہری آبدوز لیز پر دے گا ؟

    سنٹر فار پالیسی ریسرچ کے ایک سینئر فیلو سوشانت سنگھ نے کہا کہ بھارت کی بحریہ کے پاس ایک طیارہ بردار بحری جہاز ہے۔ یہ روسی ہے صرف یہی نہیں بلکہ بھارت کے لڑاکا طیارے اور اس کے تقریباً 90 فیصد جنگی ٹینک روسی ہیں۔

    1987 میں، بھارتی بحریہ نے تربیت کے لیے سابق سوویت یونین سے ایک چارلی کلاس جوہری کروز میزائل آبدوز چیکرا ون لیز پر لی تھی اور اس کے بعد اس کی جگہ ایک اور آبدوز میزائل چیکرا ٹو حاصل کی تھی۔

    بھارت نے 2019 میں نے 3 ارب ڈالر کا معاہدہ کرکے 10 سال کی لیز پر جوہری طاقت سے حملہ کرنے والی آبدوز اکولاون بھی حاصل کی تھی جو ممکنہ طور پر 2025 تک فراہم کی جائے گی۔

    بھارت نے اپنا واحد طیارہ بردار بحری جہاز آئی این ایس وکرمادتیہ 2004 میں روس سے خرید کیا تھا اور پہلا 40 ہزار ٹن بحری طیارہ اگلے سال تک بیڑے میں شامل ہونے سے پہلے سمندری مشقوں سے گزر رہا ہے۔

    بھارت کے پاس چار جوہری طاقت سے چلنے والی بیلسٹک میزائل آبدوزیں بھی زیر مراحل ہیں۔

    مودی اورمودی نوازوں نےاقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کو دھمکیاں دینی شروع کردیں

    بھارت کی فضائیہ کے پاس اس وقت 410 سے زیادہ سوویت یونین ساختہ اور روسی لڑاکا طیارے ہیں، جس میں درآمد اور لائسنس شدہ پلیٹ فارم بھی شامل ہیں ہندوستان کی روسی ساختہ فوجی ساز و سامان کی فہرست میں آبدوزیں، ٹینک، ہیلی کاپٹر، آبدوزیں، فریگیٹس اور میزائل بھی شامل ہیں۔

    جیتندر ناتھ مشرا نے کہا کہ امریکا نے بھارت کو ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے کوئی امادگی ظاہر نہیں کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ میں اپنے امریکی دوستوں سے پوچھنا چاہوں گا کہ آپ نے ہمیں کس قسم کی دفاعی ٹیکنالوجی دی ہے؟ امریکا ایف-16 طیاروں کو دوبارہ تیار کرکے ایف-21 کے طور پر پیش کر رہا ہے بھارت کے نکتہ نظر میں ایف-16 طیارہ پرانا ہو چکا ہے، ہم نے 1960 میں ایم آئی جی-21 لیا تھا کیونکہ بھارت کو ایف- 104 سے انکار کیا گیا تھا اور ہمیں چیزیں ویسی ہی نظر آرہی ہیں۔

    امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والے سیکیورٹی معاہدے AUKUS کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا آبدوز کی تیاری کے لیے جوہری ٹیکنالوجی آسٹریلیا کو تو دے رہا ہے مگر بھارت کو دینے کے لیے آمادہ نہیں ہے۔

    آسٹریلیا نے گزشتہ برس ستمبر میں فرانس سے ڈیزل الیکٹرک آبدوز خریدنے کے لیے اپنا اربوں ڈالرز کا معاہدہ منسوخ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب ہم انڈو پیسفک دفاعی معاہدے کے تحت امریکا سے جوہری طاقت رکھنے والے ہتھیار خریدیں گے۔

    بھارت میں اوباش نوجوانوں کے گروہ کا دو خواتین کا سرعام جنسی استحصال

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران، امریکہ اور بھارت نے 3 بلین ڈالر سے زائد کے دفاعی معاہدے کیے تھے۔ دو طرفہ دفاعی تجارت 2008 میں صفر کے قریب سے بڑھ کر 2019 میں 15 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔

    بھارت کی امریکا سے اہم خریداری میں ہتھیاروں میں دور تک مار کرنے والا سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ، سی-130 ٹرانسپورٹ ایئر کرافٹ، میزائل اور ڈرون شامل تھے۔

    جیسے جیسے یوکرین کا بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے، ہندوستان کے لیے چیلنج یہ ہے کہ روس کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کو کیسے روکا جائے۔

    امریکا کی جانب سے اپنے شراکت داروں کو روسی فوجی ساز وسامان کی خریدار سے گریز کرنے کے مطالبے کے بعد بھارت کو ماسکو کے ساتھ روسی ایس-400 میزائل سسٹم کے معاہدے نے امریکی پابندیوں کے خطرات میں ڈال دیا ہے۔

    ایس-400 ایک جدید ترین فضائی دفاعی نظام ہے اور اس سے بھارت اپنے حریفوں چین اور پاکستان کے خلاف اسٹریٹجک برتری حاصل ہونے کی امیدلگائے بیٹھا ہے۔

    نئی دہلی خطے میں چین کا مقابلہ کرنے کے لیے واشنگٹن اور ‘کواڈ’ کے طور پر قائم انڈو-پیسفک سیکیورٹی اتحاد میں شامل اپنے اتحادیوں سے مدد مانگ چکا ہے، جس میں آسٹریلیا اور جاپان بھی شامل ہیں۔

    بھارتی بحریہ کے ایک ریٹائر ایڈمرل ایس سی ایس بنگارا نے بھارت کی سوویت ہتھیاروں کے حصول کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 1962 میں چین کے ساتھ جنگ کے بعد ہتھیاروں اور گولہ بارود کی خریداری شروع کی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ سرد جنگ کے نتیجے میں امریکا نے چین کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی، پاکستان کے پاس ایک سہولت کار کے طور پر ترپ کا پتہ ہے جس کو پاک-بھارت تنازع کی صورت میں امریکی حکومت کی مکمل حمایت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان دسمبر1971 میں ہونے والی جنگ کے دوران امریکا نے پاکستان کی حمایت میں خلیج بنگال میں یو ایس ایس انٹرپرائز کی سربراہی میں ایک ٹاسک فورس تعینات کی تھی جبکہ اسی طرح کی تعیناتی سوویت یونین کی بحریہ نے بھی بھارت کی حمایت میں کی تھی۔

    دونوں طرف سے تعینات کی جانے والی فورسز کا جنگ کے دوران مداخلت کرنا یا نتائج پر اثر انداز ہونا نہیں تھا لیکن دونوں طاقتوں کی طرف سے اپنا سفارتی مؤقف پیش کردیا گیا۔

    بنگارا کا کہنا تھا کہ 1960 میں بھارت نے ہتھیاروں کی خریداری کے لیے سوویت یونین سے متعدد معاہدے کیے جو 40 سال تک جاری رہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ اتنا آسان نہیں تھا، خاص طورپر جب سوویت یونین ٹوٹ گیا تھا، جب سوویت یونین متعدد چھوٹی ریاستوں کی صورت میں بکھر گیا تو امداد کی فراہمی کے ساتھ ساتھ تربیتی سہولیات کا سلسلہ بھی ٹوٹ گیا تھا۔

    بنگارا نے کہا کہ یہاں تک کہ اگر بھارت اپنے دفاعی ضرورت کے لیے امریکا، اسرائیل، فرانس اور دیگر ممالک سے راہ ہموار کرتا بھی ہے تو اس کو روسی سازوسامان اور آلات پر اپنا انحصار ختم کرنے میں 20 سال لگ سکتے ہیں۔

    شدید مالی مشکلات کا سامنا:امریکا میں افغان سفارت خانہ ایک ہفتے میں بند ہوجائے گا

  • یوکرین تنازع: ایلون مسک کا روسی صدر کو فائٹ کا چیلنج

    یوکرین تنازع: ایلون مسک کا روسی صدر کو فائٹ کا چیلنج

    یوکرین تنازع: دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو یوکرین کے معاملے پر ون ٹو ون فائٹ کا چیلنج دے دیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایلون مسک نے روسی صدر کو چیلنج دیتے ہوئے لکھا کہ میں ولادیمیر پیوٹن کو لڑائی کا چیلنج کرتا ہوں اور داؤ پر یوکرین ہوگا ۔

    یو کرین کی اپیل پرایلون مسک کی جانب سے مدد

    ٹوئٹ میں ایلون مسک نے ٹوئٹ میں ولادیمیر پیوٹن اور یوکرین کا نام روسی زبان میں تحریر کیا ایک اور ٹوئٹ میں ایلون مسک نے پورا پیغام روسی زبان میں تحریر کیا۔


    اس پیغام میں انہوں نے لکھا کیا آپ فائٹ کے لیے متفق ہیں؟ ٹوئٹ میں ایلون مسک نے روسی صدارتی محل کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کو بھی ٹیگ کیا۔

    ایلون مسک کی ٹوئٹ پر ایک صارف نے کہا کہ روسی صدر آسانی سے فائٹ جیت جائیں گے تو انہوں نے ایک اور پوسٹ کی۔

    ان کا کہنا تھا ‘اگر پیوٹن آسانی سے مغرب کو شکست دے سکتے ہیں تو پھر انہیں چیلنج قبول کرنا چاہیے، مگر وہ نہیں کریں گے’۔

    خیال رہے کہ ایلون مسک یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ پر ٹوئٹر اور اپنی کمپنیوں کے ذریعے کافی متحرک کردار ادا کررہے ہیں انہوں نے یوکرین کو اسٹار لنک اسپیس انٹرنیٹ آلات بھی فراہم کیے تھے تاکہ جنگ کے دوران انٹرنیٹ سروسز کو بحال رکھا جاسکے۔

    وکرینی فوج کا 4 روسی طیارے اور 3 ہیلی کاپٹرز کو مارگرانے کا دعوٰی

  • روس نے انسٹاگرام  تک رسائی کو محدود کر دیا

    روس نے انسٹاگرام تک رسائی کو محدود کر دیا

    ماسکو: روس نے اپنے ملک میں میٹا کی زیرملکیت فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام تک رسائی کو محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ٹیکنالوجی کی ویب سائٹ کے مطابق یہ روسی حکومت کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد سے غیرملکی ٹیک پلیٹ فارمز پر پابندیوں میں نیا اضافہ ہے روس کی جانب سے انسٹاگرام پر پابندی کی وجہ میٹا کی جانب سے نفرت انگیز مواد کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی کو قرار دیا ہے۔

    ہم نے پابندیاں لگائیں تو مغرب کو مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا،روس کا…

    روسی حکومت کی جانب سے انسٹاگرام پر پابندی کے حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ریاستی انٹرنیٹ ریگولیٹر روسکومناڈزور کی جانب سے میٹا کی زیرملکیت فوٹو شیئرنگ ایپ تک رسائی کو محدود کی جائے گی اس پلیٹ فارم پر شائع مواد میں روسی شہریوں بشمول فوجیوں کے خلاف پرتشدد اقدامات کے لیے اکسانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

    بیان کے مطابق پراسیکیوٹر جنرلز آف رشین فیڈریشن کی شرائط کے تحت روس کے انر انسٹاگرام تک رسائی کو محدود کیا جارہا ہے تاہم ابھی تک روس میں انسٹاگرام تک رسائی موجود ہے مگر بتدریج تمام موبائل آپریٹرز اور انٹرنیٹ پرووائڈرز کی جانب سے اسے بلاک کردیا جائے گا۔

    فیس بک اور ٹوئٹر کو پہلے ہی روس کے اندر پابندیوں کا سامنا ہے مگر انسٹاگرام جو وہاں بہت زیادہ مقبول ہے، کو اب تک پابندیوں کا ہدف نہیں بنایا گیا تھا ایک اندازے کے مطابق روس میں انسٹاگرام کے 6 کروڑ صارفین ہیں۔

    روس سے تیل کی درآمد پر پابندی :امریکی ایوان میں بھاری اکثریت سے منظور

    اس سے قبل 25 فروری کو روس کے اندر فیس بک تک رسائی پر جزوی پابندی لگائی گئی تھی اور یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب سوشل میڈیا نیٹ ورک نے روسی ریاستی خبررساں اداروں کی رسائی کو محدود کردیا تھا۔

    ٹوئٹر نے بھی تصدیق کی کہ روس میں اس کے صارفین کو سروس تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کے بعد وہ کمپنی نے توراونین سروس کو متعارف کرایا تھا تاکہ ہر ایک ریاستی نگرانی کو بائی پاس کرکے نیٹ ورک تک رسائی حاصل کرسکے۔

    اب روس کی جانب سے انسٹاگرام کے خلاف کارروائی اس وقت کی گئی جب میٹا نے پالیسی میں تبدیلی کی گئی۔

    ٹک ٹاک نے بھی روس میں اپنی سروس معطل کر دی

    کمپنی نے سیاسی تقریر کے لیے اپنے قوانین میں عارضی طور پر نرمی کی ہے، قوانین میں نرمی کے بعد "روسی حملہ آوروں کی موت جیسی پوسٹس کی اجازت دی گئی ہے جبکہ روسی شہریوں کے خلاف پرتشدد مطالبوں کی اجازت نہیں دی گئی۔

    میٹا کا کہنا ہے کہ عارضی تبدیلی کا مقصد سیاسی اظہار کی ایسے پہلوؤں کی اجازت دینا ہے جو عام طور پر اس کے قوانین کی خلاف ورزی تصور ہوتے ہیں ابھی یہ واضح نہیں کہ میٹا کی زیرملکیٹ واٹس ایپ کو بھی اس طرح کی پابندیوں کا سامنا ہوگا یا نہیں۔

    پابندیوں کے ساتھ ساتھ فیس بک کی جانب سے پالیسی تبدیل کیے جانے پر روسی حکومت نے سخت رد عمل دیتے ہوئے اس کی مالک کمپنی ’میٹا‘ کے خلاف مجرمانہ مقدمات کے تحت تفتیش شروع کی تھی روسی حکومت نے اپنے ملک کی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ کی مالک کمپنی کو ’انتہاپسند تنظیم‘ قرار دینے کی درخواست کی تھی۔

    یوکرین جنگ: میک ڈونلڈز، کوکا کولا اور سٹاربکس نے روس میں کاروبای سرگرمیاں معطل کر دیں

  • 172 کی بجائے 182 ووٹ بھی دے دیں تو وزیراعظم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے،فیصل واوڈا

    172 کی بجائے 182 ووٹ بھی دے دیں تو وزیراعظم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے،فیصل واوڈا

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ نہ وزیراعظم جارہا ہے اور نہ ہی وزیراعلیٰ۔

    باغی ٹی وی: سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ172 تو کیا، 182 ووٹ دے دیں تو بھی وزیراعظم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہیں نہ وزیراعظم جارہا ہے اور نہ ہی وزیراعلیٰ۔

    کپتان کے لیے مولانا کا خصوصی پیغام ۔ آج رات دس بجکر تین منٹ پر ۔صرف پی این این نیوز پر

    https://twitter.com/FaisalVawdaPTI/status/1503328042747318274?s=20&t=H4DULSK512i9meCOUYQHAA

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 27 مارچ کے بعد ہوگی۔


    انہوں نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ’انشا اللہ پاکستان کی تاریخ کا ’سب سے بڑا جلسہ‘ آزادی چوک اسلام آباد میں27 مارچ بروز اتوار کو ہوگا جس کے دوران وزیر اعظم عمران خان تاریخی خطاب کریں گے،عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ 27 مارچ کے بعد ہو گی، اپوزیشن کو تحریک عدم اعتماد میں بھرپور ناکامی ہوگی، وزیراعظم عمران خان پر اعتماد پلس ہوجائے گا۔

    تحریک انصاف حکومت کے خلاف کوئی بیرونی سازش نہیں ہورہی،مریم اورنگزیب

    کئی ہفتوں تک مشاورت اور مسلسل اجلاس منعقد کرنے کے بعد اپوزیشن نے 8 مارچ کو تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت قرارداد جمع کرانے کے علاوہ اپوزیشن نے آئین کے آرٹیکل 54 (3) کے تحت قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کرائی تھی۔

    آئین کے تحت اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر ریکوزیشن نوٹس جمع کرانے کے بعد 14 دن کے اندر اسمبلی کا اجلاس بلانے کے پابند ہیں، جس کا مطلب ہے کہ انہیں 22 مارچ تک قومی اسمبلی کا اجلاس بلانا ہوگا اور تین سے سات دن کے اندر تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانا ہوگی۔

    حکومت اگلی حکومت کیلئے ایٹم بم بچھا رہی ہے،مفتاح اسماعیل

  • 81 افراد کو سزائے موت: ایران نے سعودی عرب کیساتھ مذاکرات ملتوی کر دیئے

    81 افراد کو سزائے موت: ایران نے سعودی عرب کیساتھ مذاکرات ملتوی کر دیئے

    تہران: سعودی عرب میں حوثی باغیوں کے سہولت کاروں سمیت 81 افراد کو ایک ہی دن میں سزائے موت دینے کے فوری بعد ایران نے براہ راست مذاکرات کے پانچویں دور کو ملتوی کردیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے سعودی عرب کے ساتھ ہفتے کے روز سے شروع ہونے والے براہ راست مذاکرات کے پانچویں دور کو بغیر کوئی وجہ بتائے ملتوی کردیا اور نئی تاریخ کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔

    ایک ہی دن میں دہشتگردی میں ملوث 81 مجرمان کو سزائے موت دیدی گئی

    خیال رہے کہ ویانا میں جوہری معاہدے کی بحالی سے متعلق ہونے والے امریکا اور ایران کے مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہوگئے ہیں دونوں ممالک پر جوہری معاہدے 2015 کی بحالی کے لیے دیگر رکن ممالک نے دباؤ ڈالا تھا۔

    مذاکرات کے ملتوی ہونے کی وجہ تو نہیں بتائی گئی ہے تاہم ایران نے یہ اقدام اُس وقت اُٹھایا ہے جب سعودی عرب میں 81 افراد کو ایک ہی دن میں عدالتی حکم پر سزائے موت دی گئی۔

    جن 81 ملزمان کے سر قلم کیے گئے ان میں سے 43 افراد اہل توشیع تھے اور ان پر حوثی باغیوں کی سہولت کاری کا الزام تھا اور یہ اہل توشیع کے اکثریتی علاقے قطیف کے رہائشی تھے جہاں سے سعودی حکومت کے خلاف متعدد بار مہم چلائی گئی ہے۔

    روس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ رضاکاریوکرین پہنچ گئے:روس بھی تیار

    2016 میں بھی شیعہ عالم کا سر قلم ہونے پر ایران میں سعودی سفارت خانے پر حملہ کیا گیا تھا جس کے بعد سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے جس کی بحالی کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

    اس کے بعد سن 2019ء میں ایک ساتھ 37 افراد کو پھانسیاں دی گئیں تھیں۔ تب ان افراد پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے تھے اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق سعودی عرب کی اقلیتی شیعہ کمیونٹی سے تھا۔

    ایران کے براہ راست مذاکرات کے پانچویں دور کو ملتوی کرنے پر سعودی حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

    یوکرین میں موجود مغربی ہتھیاروں کو روس نے نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی:امریکہ بھی…

  • یوکرینی فوج کا 4 روسی طیارے اور 3 ہیلی کاپٹرز کو مارگرانے کا دعوٰی

    یوکرینی فوج کا 4 روسی طیارے اور 3 ہیلی کاپٹرز کو مارگرانے کا دعوٰی

    کیف: یوکرین کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ 24 گھنٹے میں 4 روسی طیاروں اور 3 ہیلی کاپٹرز کو مار گرایا ہے-

    باغی ٹی وی : اسکائی نیوز کے مطابق یوکرین کی فوج نے سوشل میڈیا پر اپنی تازہ پوسٹ میں روسی فوج کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے یوکرینی فوج نے یہ کارروائیاں روس کی جانب سے یوکرین میں فوجی اڈے پر حملے میں 35 اہلکاروں کی ہلاکت اور تقریباً 150 اہلکاروں کے زخمی ہونے کے جواب میں کی گئیں۔

    یوکرینی فوج نے دعویٰ کیا کہ روس کے کئی اڈوں، گوداموں اور اسلحہ ڈپو کو تباہ کردیا گیا جب کہ 24 گھنٹوں میں 4 روسی طیارے، 3 ہیلی کاپٹرز اور متعدد ڈرونز کو مار گرایا-

    یوکرینی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ روسی فوج ان کارروائیوں کے باعث دفاعی پوزیشن پر چلی گئی اور 24 گھنٹوں میں روس کو کوئی ایک بھی کامیابی نہیں مل سکی تاہم روس نے یوکرین کے اس دعوے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

    روسی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ روس نے کئی عمارتوں اور انفرا اسٹرکچرز کو فوجی گودام کے طور پر استعمال کر رہا ہے جنہیں ہم نے تازہ کارروائی میں تباہ کرکے شہریوں کو بڑے نقصان سے بچالیا۔

    یوکرین روس جنگ:ماریوپول میں 16 سو ہلاکتوں کا دعویٰ:روسی پیشقدمی جاری:نیٹوپرخوف…

    یاد رہے کہ روس کے یوکرین پر حملے کو 19 دن ہوگئے ہیں اور اس دوران دونوں جانب سے مالی اور جانی نقصانات سے متعلق متضاد دعوے کئے جا رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ یوکرین کے مفتی اعظم سعید اسماگیلوو اپنے وطن کے دفاع میں روس سے جنگ لڑنے کے لیے فوج میں شامل ہوگئے ہیں یوکرین کے مفتی اعظم نے صدر ولودو میر زیلنسکی کے عوام سے ملک چھوڑنے کے بجائے روس کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے ہر ایک شہری کو باہر نکلنے کے مطالبے کو قبول کرتے ہوئے فوجی وردی پہن کر یوکرینی فوج کا حصہ بن گئے-

    عالم دین سعید اسماگیلوو نے مسلمان شہریوں سے بھی درخواست کی کہ اپنی سرزمین کی دفاع کے لیے باہر نکلیں اور فوج کے ہاتھ مضبوط کریں روسی جارحیت کا جواب دینا ہم سب پر لازم ہے۔

    "توہاڈے منہ تےتوہاڈیاں ہی چپیٹاں:روس نے مغربی ممالک کووارننگ دے دی

  • پاکستانی انجینئرزکا استعمال شدہ کوکنگ آئل سے ماحول دوست بائیو ڈیزل تیار کرنیکا کامیاب تجربہ

    پاکستانی انجینئرزکا استعمال شدہ کوکنگ آئل سے ماحول دوست بائیو ڈیزل تیار کرنیکا کامیاب تجربہ

    کراچی کےانجینئرز نے استعمال شدہ خوردنی تیل سے ماحول دوست بائیو ڈیزل تیار کرنے کا آسان اور سستا طریقہ تلاش کرلیا۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے مطابق این ای ڈی اور داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی میں بائیو ڈیزل پر تحقیق کرنے والے ملک کے نامور اساتذہ کی تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے نوجوان انجینئرز نے استعمال شدہ خوردنی تیل کو 93 فیصد تک ری فائن کرکے بائیو ڈیزل بنانے کا طریقہ تلاش کیا اس طریقے سے تیار ہونے والے بائیو ڈیزل کو پاور جنریٹرز اور ہیوی ڈیوٹی وہیکلز میں استعمال کیا جاسکتا ہے-

    سعودی عرب اور چین کے درمیان ڈرون فیکٹری بنانے کا معاہدہ

    نجی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے بائیو بینگ (Bio-Being) کے نام سے متعارف کرائے جانے والے اسٹارٹ اپ کے بانی اور سی ای او علی ریاض نے بتایا کہ استعمال شدہ خوردنی تیل Transesterification کے پراسیس سے گزار کر اس میں سے ہائیڈروکاربن کو چکنائی کےعناصر (گلیسرین) سے الگ کیا جاتا ہے اس طرح بائیو ڈیزل کے ساتھ کاسمیٹکس انڈسٹری کے صنعتی استعمال کی گلیسرین بھی پیدا ہوتی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ عموماً اس عمل میں 24گھنٹے لگتے ہیں لیکن نوجوانوں کی ٹیم نے اپنے اساتذہ کی رہنمائی کے ساتھ ایسا طریقہ تلاش کیا جس کی مدد سے صرف ایک گھنٹہ میں خوردنی تیل کو بائیوڈیزل میں تبدیل کیا جاسکتا ہےیہ عام ڈیزل کے مقابلے میں بائیو بینگ کا تیار کردہ بائیو ڈیزل زیادہ حرارت اور توانائی کا حامل ہے-

    جاپان نے ہائبرِڈ اور ریچارجیبل ٹرین متعارف کرادی

    علی ریاض نے بتایا کہ خوردنی تیل کو ایک مرتبہ فرائنگ کے لیے استعمال کرنے کے بعد اس میں کارسینو جینک مادے پیدا ہونے لگتے ہیں بار بار استعمال ہونے والے تیل میں کارسینو جینک مادوں کی مقدار بڑھتی جاتی ہے یہ مضر مادہ کینسر کے مرض کا سبب بنتا ہے-

    فوٹو بشکریہ: ایکسپریس
    ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر ٹھیلوں اور چھوٹی دکانوں پر بڑے ریسٹورنٹس کا استعمال شدہ خوردنی تیل ہی استعمال کیا جاتا ہے جو عوام کی صحت کے لیے خطرہ ہے، اب تک آزمائشی پلانٹ پران کی ٹیم نے اپنے وسائل سے 15لاکھ روپے خرچ کیے اور منصوبہ کو فروغ دینے کے لیے مزید 10لاکھ روپے کے فنڈز جمع کرلیے ہیں تاہم اراضی کے علاوہ بڑا پلانٹ نصب کرنے کے لیے انہیں مزید 50لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ نہ صرف خوردنی تیل سے تیار کردہ بائیو ڈیزل عام ڈیزل کے مقابلے میں ماحول دوست ہے جس سے کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج 78 فیصد تک کم جبکہ نائیٹروجن گیس کا اخراج 84 فیصد تک کم ہوگا بلکہ خوردنی تیل کو بائیو ڈیزل میں تبدیل کرکے ڈیزل کی درآمد پر خرچ ہونے والے کثیر زرمبادلہ کی بچت کے ساتھ ماحول کے تحفظ میں بھی بھرپور مدد ملے گی۔

    پاکستانی سائنسدان کے تیارہ کردہ سولر سیل نے دو عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لئے