Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • حکومتوں کی غفلت نے تعلیم کو صنعت بنادیا ہے     سپریم کورٹ

    حکومتوں کی غفلت نے تعلیم کو صنعت بنادیا ہے سپریم کورٹ

    خیبر پختونخوا: سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ حکومتوں کی غفلت نے تعلیم کو صنعت بنادیا ، پہلے کالج کی فیس 8روپے تھی ، اب بچے کی 30ہزار ہے ۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے خیبرپختونخوا سرکاری اسکولوں کی حالت زار ازخود نوٹس کی سماعت کی،چیف جسٹس کی زیر سربراہی سپریم کورٹ میں دوران سماعت عدالت نے خیبرپختونخوا کے زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیر شدہ سکولوں میں طلبا اور اساتذہ کی تفصیلات طلب کرلیں –

    عدالت نے ایرا کو تمام زیر تعمیر منصوبے جون 2022تک مکمل کرنے کا حکم دےد یا ، عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت سے پیشرفت رپورٹ بھی طلب کرلی۔

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ ایرا افسران صرف تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں ، آپ کے بچے سکول سے محروم ہوتے ہیں توآپ کام کرتے ہیں ۔

    چیئرمین ایرا نے عدالت کو بتایا کہ 14ہزار منصوبے مکمل کرنا تھے جن میں سے صرف تین ہزار رہ گئے ہیں چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جو منصوبے رہ گئے ہیں وہ کون سے ہیں ، چیئرمین ایرا نے جواب دیا کہ تعلیم اور صحت کے منصوبے مکمل ہونا باقی رہ گئے ہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر تعلیم اور صحت آپ کی ترجیح ہوتی تو آج یہ منصوبے مکمل ہوتے ،زلزلہ متاثرہ علاقے تو ایک سال میں ہی بن جانے چاہئے تھے ، جن سکولوں کی تصاویر دی گئیں وہ بھی غیر فعال رکھتے ہیں ۔

    جسٹس قاضی امین نےکہاکہ پہلے8روپے کالج کی فیس ہوتی تھی اب چھوٹے بچے کی30 ہزارروپے ہے ،حکومتوں کی غفلت نے تعلیم کو صنعت بنا دیا ہے، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ مفت تعلیم فراہم کرے ،خیبرپختونخوا حکومت ایرا کے پیچھے چھپنے کی کوشش نہ کرے۔

    ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے عدالت کو بتایا کہ اب تک 540میں سے 238سکول مکمل ہو چکے ہیں ، عدالت نے از خود نوٹس کی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کردی ۔

  • ٹک ٹاک کے مشہور اشارے کی مدد سے اغوا ہونے والی لڑکی بازیاب

    ٹک ٹاک کے مشہور اشارے کی مدد سے اغوا ہونے والی لڑکی بازیاب

    ویڈیو شئیرنگ ایپ ٹک ٹاک سے مشہور ہونے والا مدد کا اشارہ کام آگیا اور اغوا ہونے والی لڑکی اس اشارے کی مدد سے بازیاب ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق ریاست کینٹکی میں ایک کار میں 16 سالہ مغوی لڑکی کو لے جایا جا رہا تھا، گاڑی کا شیشہ بند ہونے اور اغوا کار کے ڈر سے لڑکی چیخ کر مدد کے لیے کسی کو نہیں بلاسکتی تھی اس لیے اس نے خاموشی سے مدد کے لیے ہاتھ کا اشارہ استعمال کیا۔

    لڑکی نے مٹھی کو مخصوص طریقے سے بند کرکے مدد کا اشارہ دینا شروع کیا، یہ طریقہ اس نے ٹک ٹاک سے سیکھا تھا، ٹک ٹاک کی وجہ سے ہاتھ کا یہ اشارہ دنیا بھر میں مدد کی اپیل کی علامت بن گیا ہے۔

    کافی کوششوں کے بعد بالآخر پچھلی گاڑی میں بیٹھے ایک نوجوان نے اس کا اشارہ سمجھ لیا اور پولیس کو فون کردیا۔

    تھوڑی دیر بعد ہی پولیس نے اغواکار کی گاڑی کو روک لیا اور مغوی لڑکی کو بازیاب کرالیا، اس کارروائی کے انچارج پولیس آفیسر کا کہنا تھا کہ وہ پہلے اس اشارے کے متعلق نہیں جانتے تھے تاہم مشکل وقت میں مدد مانگنےکے لیے یہ کافی کارآمد طریقہ ہے۔

    لارل کاؤنٹی کینٹکی کے شیرف جان روٹ کے مطابق،”شکایت کنندہ گاڑی کے پیچھے تھا اور اس نے گاڑی میں ایک خاتون مسافر کو ہاتھ کے اشارے کرتے ہوئے دیکھا جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر گھر میں تشدد کی نمائندگی کرنے کے لیے مشہور ہے – مجھے مدد کی ضرورت ہے – گھریلو تشدد”۔

  • مہنگے پیٹرول سے پریشان دولہا سالوں پرانی ثقافت اپنانے پر مجبور

    مہنگے پیٹرول سے پریشان دولہا سالوں پرانی ثقافت اپنانے پر مجبور

    ہنزہ کے علاقے سوست میں پیٹرول مہنگا ہونےکے باعث دولہا سالوں پرانی ثقافت اپنانے پر مجبور ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطبق ہنزہ کے بالائی علاقےگوجال میں پاک چین سرحد کے قریب واقع گاؤں سوست میں پولیس اہلکارکی شادی تھی جس نے پیٹرول مہنگا ہونےکے باعث دلہن کو رخصتی کے بعد اپنے گھر لانے کے لیے سالوں پرانی ثقافت اپنالی دولہا رخصتی کے بعد گھر آنے کے لیے نہ صرف خود ہمالین بیل پر سوار ہوا بلکہ دلہن کو بھی یاک پر بٹھا دیا۔

    اس موقع پر دولہا کا کہنا تھا کہ پیٹرول مہنگا ہوگیا ہے اور وہ کسی بڑی گاڑی کا خرچہ بھی برداشت نہیں کرسکتا ، اس لیے ہم نے اپنی پرانی ثقات کو دوبارہ سے اپنایا ہے –

    دولہا کاکہنا تھا کہ یاک پر سواری کی ایک وجہ پیٹرول کا مہنگا ہونا ہے اور دوسرا اپنی ثقافت کو دوبارہ زندہ کرنا ہے، بارات لانےکے لیے لوگوں نے نت نئے انداز اپنانا شروع کردیئے ہیں، پر ہم نے اپنی سالوں پرانی ثقافت کے تحت یاک کا انتخاب کیا۔

    دولہا کا مزید کہنا تھا کہ شادی پر خوشی بھی ہو رہی ہے تاہم مہنگائی کی وجہ سے پریشانی بھی ہے۔

  • بھارتی اداکارہ پر شوہر کا تشدد،زخمی حالت میں اسپتال منتقل،  شوہر گرفتار

    بھارتی اداکارہ پر شوہر کا تشدد،زخمی حالت میں اسپتال منتقل، شوہر گرفتار

    بھارتی اداکارہ پونم پانڈے پر شوہر کا تشدد اداکارہ زخمی حالت میں اسپتال منتقل ، پولیس نے ان کے شوہر کو مبینہ تشدد کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا کے مطابق اداکارہ پونم پانڈے نے الزام لگایا ہے کہ ان کے شو ہر سیم بومبے نے ان پر تشدد کیا اداکارہ پونم اس وقت اسپتال میں داخل ہیں کیونکہ ان کا سر، آنکھیں اور چہرہ زخمی ہے جبکہ ان کے شوہر سیم کو گزشتہ روز گرفتار کیا گیا سیم بومبے جن کا پورا نام سیم احمد بومبے ہے ان کا تعلق بھی بالی ووڈ انڈسٹری سے ہے وہ ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور ایڈیٹر ہیں۔

    "ٹائمز آف انڈیا” کے مطابق اداکارہ اور سوشل میڈیا سنسیشن پونم پانڈے کے شوہر سیم بمبئی کو ممبئی پولیس نے 7 نومبر کو ایک بار پھر گرفتار کر لیا جب اداکارہ نے شکایت کی کہ ان کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔ پونم کو سیم کی طرف سے حملہ کے بعد ممبئی کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

    ایک بھارتی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے پونم پانڈے نے اپنی شادی شدہ زندگی کے بارے میں بتایا کہ ان کے شوہر سے تعلقات ہمیشہ ہی خراب رہےاور ایک ایسے شخص کے ساتھ تعلقات جاری رکھنا جس نے انہیں جانوروں کی طرح مارا ہو ایک اچھا خیال نہیں ہے۔

    اس سے قبل، پونم نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ کس طرح وہ سیم بومبے کے ساتھ پچھلے تین سالوں سے بدسلوکی کے ساتھ تعلقات میں تھیں اور اس امید پر ان کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ گئے کہ حالات بہتر ہوں گے۔

    واضح رہے یہ پہلی بار نہیں ہے جب پونم پانڈے نے اپنے شوہر کے خلاف شکایت درج کرائی ہو گزشتہ برس 2020 میں بھی انہوں نے سیم کے خلاف انہیں ہراساں کرنے اور دھمکانے کے لیے پولیس میں شکایت درج کروائی تھی اور کہا تھا کہ انہوں نے سیم سے شادی ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اداکارہ پونم کے شکایت درج کروانے کے بعد ان کے شوہر کو گوا سے گرفتار کیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ اداکارہ پونم پانڈے اور سیم بومبے گزشتہ برس ستمبر میں شادی کے بندھن میں بندھے تھے دونوں شادی سے تین سال قبل سے ایک دوسرے کو جانتے تھے۔

  • جو بائیڈن کی حلف برداری کی تقریب میں لیڈی گاگا نے بلٹ پروف لباس کیوں پہنا تھا؟

    جو بائیڈن کی حلف برداری کی تقریب میں لیڈی گاگا نے بلٹ پروف لباس کیوں پہنا تھا؟

    لیڈی گاگا نے انکشاف کیا کہ انہوں نے 20 جنوری 2020 کو صدر جو بائیڈن کے حلف برداری کے موقع پر گانے کے لیے بلٹ پروف لباس پہنا تھا۔

    باغی ٹی وی : "ڈیلی میل” کے مطابق 35 سالہ سپر اسٹار نے یہ اعتراف برطانوی میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا، ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جو لباس پہنا تھا وہ بلٹ پروف تھا اور اس بارے میں کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔

    12 بار ایمی ایوارڈز جیتنے والی لیڈی گاگا نے بتایا کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ کے دور اقتدار میں وہ خوف محسوس کرتی تھیں، اس لیے انہوں نے تقریب میں خود کو محفوظ رکھنے کے لیے بلٹ پروف لباس پہنا۔

    یاد رہے لیڈی گاگا نے جو بائیڈن کی تقریبِ حلف برداری میں قومی ترانہ گایا تھا، تقریب میں لیڈی گاگا نے سیاہ رنگ کی شرٹ اور سرخ رنگ کا گاؤن پہن رکھا تھا جب کہ ان کی شرٹ پر سنہری رنگ کے امن کے پرندے کا نشان بھی آویزاں تھا۔

    گلوکارہ کا کہنا تھا کہ میں نے یہ شیاپریلی ڈیزائن افتتاح کے لیے پہنا تھا، اور یہ کوئی نہیں جانتا، لیکن یہ بلٹ پروف لباس ہے جب میں نے اس سنہری کبوتر کو دیکھا، میں صرف اتنا جان گئی کہ یہ صحیح ٹکڑا ہے، اور میں جانتی تھی کہ شیاپریلی ایک اطالوی فیشن ہاؤس ہے، یہ وہ چیز تھی جو میں واقعی میں ایک اطالوی نژاد امریکی خاتون کے طور پر اپنے ورثے کے لیے کرنا چاہتی تھی۔ صدر 45 کو رخصت کرنے اور صدر 46 کو دفتر میں مدعو کرنے کے لیے گانا۔’

    یاد رہے امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں 25 ہزار نیشنل گارڈز تعینات تھے، جس میں لیڈی گاگا کے ساتھ جنیفر لوپز نے بھی پرفارم کیا تھا۔

  • بھارت کا اگلا کپتان کون ہو گا ؟ ویرات کوہلی نے بتا دیا

    بھارت کا اگلا کپتان کون ہو گا ؟ ویرات کوہلی نے بتا دیا

    ٹی ٹوئنٹی میں بطور کپتان آخری میچ کھیلنے والے ویرات کوہلی نے بھارت کے اگلے کپتان کا بتادیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں گزشتہ روز نیوزی لینڈ نے افغانستان کو شکست دے کر ایونٹ سے باہر کردیا تھا اورگزشتہ روز بھارت نے سپر 12 مرحلے میں ورلڈ کپ کا اپنا آخری میچ نمیبیا کے خلاف کھیلا اور جیت حاصل کی، لیکن پھر بھی سیمی فائنل میں جگہ نہ بنا سکے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں جہاں بھارتی ٹیم کا سفر ختم ہوا، وہیں ویرات کوہلی کا ٹی 20 میں بطور کپتانی کا سفر بھی ختم ہو گیا ٹاس جیتنے کے بعد جب ویرات کوہلی سے ان کی کپتانی سے متعلق سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بھارتی ٹیم کی کپتانی کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات تھی اور وہ بہت خوش قسمت ہیں کہ انہیں یہ موقع ملا، انہوں نے کہا کہ میں نے اس ذمہ داری کو پوری ایمانداری سے نبھانے کی کوشش کی تاہم اب یہ ذمہ داری کسی اور کو دینے کا وقت آگیا ہے۔

    ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد ویرات کوہلی کا بیان

    انہوں نے سوال کے جواب میں نائب کپتان روہیت شرما کا نام بھی لیا اور کہا کہ بھارت محفوظ ہاتھوں میں ہے اب وقت آگیا ہے کہ میں مختصر فارمیٹ میں اپنی ٹیم کی کارکردگی پر فخر ہے، اب وقت آگیا ہے کہ نئے آنے والے اس ٹیم کو لے کر آگے بڑھیں اور ویسے بھی روہیت شرما یہاں موجود ہیں جو تمام چیزوں کو اچھے سے دیکھ رہے ہیں۔

    واضح رہے ویرات کوہلی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے آغاز سے قبل ہی مختصر فارمیٹ کی کپتانی چھوڑنے کا اعلان کردیا تھا۔

    ویرات کوہلی بطور کپتان اپنے ملک کا بہترین سفیر تھا وقار یونس

  • نظریہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ درحقیقت نظریہ ریاست مدینہ تھا     ازقلم :غنی محمود قصوری

    نظریہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ درحقیقت نظریہ ریاست مدینہ تھا ازقلم :غنی محمود قصوری

    نظریہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ درحقیقت نظریہ ریاست مدینہ تھا –

    ازقلم غنی محمود قصوری

    اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے خواب پاکستان دیکھا اور دو قومی نظریہ پیش کیا کیونکہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ مسلمانوں کی ہندوستان میں خطرناک صورتحال سے بخوبی آگاہ تھے

    قائد اعظم محمد علی جناح کو اقبال نے کہا تھا کہ ایک ایسا ملک حاصل کیا جائےجہاں مسلمان بغیر کسی خوف و خطر اپنی عبادات کر سکیں اور ان کے جان و مال محفوظ ہو

    دو قومی نظریہ کی پیش کی گئی کانفرنس سے پہلے ہی اقبال خالق حقیقی سے جا ملے تھے مگر قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کی ٹیم نے ولی کامل علامہ محمد اقبال کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا اور دو قومی نظریہ دنیا کے سامنے پیش کیا
    جس کی بنیاد پر ارض پاکستان حاصل کیا گیا

    وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکل رہے تھے تو فرما رہے تھے

    وَاللَّهِ، إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ.( رواہ الترمذی:3925 وصححہ الالبانی رحمہ اللہ تعالی )

    اللہ کی قسم (اے مکہ) بے شک تو سب سے بہترین اللہ کی زمین ہے اور اللہ کے ہاں سب سے محبوب ترین ہے اگر تیری قوم مجھے تجھ سے نہیں نکالتی میں کبھی نہیں نکلتا

    چھوڑے گئے وطن کی یاد انسان کو فطری طور پر رلاتی رہتی ہے اسی لئے حضرت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ جب مدینہ منورہ آئے تو اپنے اصلی وطن مکہ کو یاد کرتے اور اشعار پڑھتے تھے

    أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ

    وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ

    اے کاش۔ کیا میں مکہ کی اذخر اور جلیل گھاس والی وادیوں میں رات گزارونگا ؟

    کیا میں کسی دن مکہ میں موجود مجنہ پانیوں کے پاس جاسکوں گا؟ کیا میرے لیے دوبارہ مکہ کے شامہ اور طفیل پہاڑ جلوہ افروز ہونگے؟ (صحیح بخاری حدیث:3926 )وغیرہ۔

    رسول اللہ ﷺ نے جب یہ باتیں سنیں تو فرمایا تھا

    اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ

    اے اللہ جس طرح ہماری ( اپنے وطن مکہ ) کے ساتھ محبت ہے اسی طرح ہماری دلوں میں مدینہ کی محبت کو بھی بٹھا دے-

    یقیناً ہمارے آباؤ اجداد بھی چھوڑے گئے وطن ہندوستان کو یاد کرکے غمگین ہوا کرتے تھے مگر ہجرت کرنا مجبوری تھی کیونکہ ہندوستان میں مسلمانوں کا جان و مال محفوظ نا تھا سو اسی لئے دو قومی نظریہ ضروی تھا جس کیلئے ہجرت کرکے الگ وطن حاصل کرنا لازم تھا تاکہ مسلمان آزادی سے رہ کر زندگیاں گزاریں اور اپنے رب کی عبادت بلا روک ٹوک اور خوف و خطر کر سکیں-

    نیز اس کے علاوہ دو قومی نظریہ کیوں ضروری تھا اس کیلئے تاریخ ہندوستان لازمی پڑھیں کہ کس قدر ہندوؤں نے مسلمانوں پر مظالم ڈھائے اگر تاریخ نہیں پڑھ سکتے تو موجودہ دنوں میں ہی انڈین تری پورہ،حیدر آباد،گجرات و دیگر ہندوستانی علاقوں میں مسلمانوں پر ہندوؤں کی طرف سے کئے گئے مظالم ہی دیکھ لیجئے کہ ہر روز مسلمانوں کی مسجدوں پر حملے کئے جاتے ہیں اور مسلمانوں کو ناحق شہید کیا جاتا ہے اور ان کی املاک پر قبضہ کیا جاتا ہے ان کو گائے کا گوشت کھانے نہیں دیا جاتا اور ایک اچھوت قوم سمجھا جاتا ہے حالانکہ مسلمان دنیا کی سردار قوم ہے جس کی تاریخ فتوحات سے بھری پڑی ہے

    دو قومی نظریہ کیوں ضروری تھا اور پاکستانی اور ہندوستانی مسلمانوں میں کیا فرق ہے اس کی مثال راقم ذاتی طور پر بیان کرتا ہے-

    بطور جرنلسٹ راقم سے انڈین علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان جرنلسٹ نے واٹس ایپ پر رابطہ کیا سلام دعا کے بعد سخت شکایت کی کہ آپ مقبوضہ کشمیر کے حامی اور سخت ہندوستان مخالف ہیں جو کہ اچھی بات نہیں ہم مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں لہذا آپ ہندستان کے خلاف لکھنا چھوڑ دیجئے-

    راقم نے برملا کہا کہ ہاں اس میں کوئی شک نہیں میں اس لئے ہندوستان مخالف ہوں کہ ہندوستان نے ریاست کشمیر پر ناجائز قبضہ کیا اور 75 سالوں سے مظلوم نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے نیز میں نے اپنے بچپن میں گجرات کا مسلم کش فساد بھی بذریعہ میڈیا دیکھا ہے جس میں ہزاروں مسلمانوں کو ہندو پلید نے آگ میں جلا دیا تھا اور اب تک روزانہ کی بنیاد پر یہ سلسلہ جاری و ساری ہے مسلمانوں کی مسجدوں کو مندروں میں بدلا جا رہاہے اور تو اور تاریخی بابری مسجد کو شہید کیا گیا مسلمان عورتوں کی عزتیں محفوظ نہیں جس کا جب جی چاہتا ہے مسلمانوں کو سرعام قتل کر دیا جاتا ہے دنیا کونسا ایسا ظلم نہیں جو ہندوستانی مسلمانوں پر نہیں کیا جاتا ؟

    اس پر انڈین صحافی صاحب لاجواب تو ہوئے اور کہنے لگے ارے صاحب ایسا کچھ بھی نہیں ہم بھی آزاد ہیں اپنے دھرم پر پورے اطمینان سے قائم ہیں اور اپنی عبادات بخوبی کرتے ہیں کوئی ہمیں روکتا نہیں میں آپکو آج شام ایک مسلمانوں کا جلسہ دکھاؤنگا تب دیکھ لیجئے گا کسطرح مسلمان آزاد ہیں ہندوستان میں سو آپ مسلمانوں کو ہندوستان و پاکستان میں یکجا کیجئے نا کہ کشمیر کے نام پر مزید تقسیم کیجئے –

    شام ہوئی حسب وعدہ صاحب نے واٹس ایپ کال کی جس میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمان جلسہ کر رہے تھے اور سارے کا سارا عنوان ہی وطن سے محبت اور عام واجبی سی رسومات کی فرضیت پر تھا اور ہندوستان زندہ باد کے نعرے لگائے جا رہے تھے مگر کشمیر و فلسطین،عراق و افغانستان کے مظلوم مسلمانوں کے وطنوں میں انہی پر قابضین کی کوئی مذمت تک نا تھی نا ہی لفظ جہاد و قتال اور مظلوم کی مدد کی حرمت تھی

    خیر میں نے کہا حضور وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے بشرطیکہ اس وطن میں آپ کو مذہبی آزادی حاصل ہو بصورت دیگر میرے نبی ذیشان نے مکہ چھوڑا اور ہجرت کرکے مدینہ سکونت اختیار کی جس کی احادیث اوپر بیان کی جا چکی ہیں اگر مکہ والے نبی ذیشان کو دکھ نا دیتے ،عبادات سے نا روکتے ،فرمان الہی کو مانتے تو میری نبی اپنا آبائی وطن مکہ کیوں چھوڑتے ؟سو دو قومی نظریہ اور ہجرت ہند ہمارے بڑوں کی ضرورت تھی اور یہی ضرروت اب آپکی بھی ہے آپ غلام ہیں ہندو کے آپ پر ظلم ہوتا ہے مگر حیرت ہے غلامی کی حد کی کہ آپ پھر بھی مطمئن ہیں؟ حالانکہ میرے نبی نے غلامی کو سخت ناپسند کیا ہے میں نے انہیں بتایا کہ ہجرت کے بعد مدینہ میں میرے نبی ذیشان کا وقت گزرا دعوت پیش کی اور کفار کے خلاف خود و اپنے اصحاب کو مضبوط کرکے اپنا وطن مکہ واپس لیا سو آپ بھی مسلمان ہونے کے ناطے ہندو کے ظلم پر سیرت نبوی کا مظاہرہ کریں اور غلام بننے کی بجائے آزاد بنیں –

    انڈین صحافی صاحب یہ بات بھی نا مانے اور ہندوستان کے گن گاتے رہے خیر میں ان کی اصلاح کی خاطر انہیں احادیث نبویہ پیش کرتا رہا مگر صاحب حیل و حجت سے کام لیتے رہے اور مسلمانوں و ہندوؤں کے اکھٹا رہنے کے فوائد پر روز بیان فرماتے اور مجھے کشمیر کاز سے منع کرتے رہتےخیر وہ صاحب اپنے عقیدے پر قائم رہے اور ہم اپنے پر –

    کچھ وقت گزرا راقم نے واٹس ایپ پر روٹین کے مطابق احادیث نبویہ و منہج سلف پر مبنی تحریریں سینڈ کی جس کا بہت دنوں تک نا کوئی جواب آیا اور نا ہی انہیں پڑھا گیا راقم شدید پریشان ہوا کہ زندگی موت اللہ کے اختیار میں ہے شاید ان سے زندگی نے وفا نا کی ہو یا اللہ نا کرکے کچھ اور معاملہ ہو گزرا ہو

    خیر بیس سے بائیس دن بعد انہی صاحب نے خود ہی میسج کیا اور سوال جواب شروع کر دیئے میں نے ان کی خیریت دریافت کی اور غائب رہنے کا پوچھا تو گویا ہوئے کہ مجھے کس ضرروی کام کے سلسلے میں ممبئی جانا پڑا سو آپکا نمبر کانٹیکٹ لسٹ سے کاٹا اور واٹس ایپ کی بلاک لسٹ میں لگا دیا-

    میں حیران ہوا بھئی کیا ہوا میں نے تو آپ کو سوائے حدیث نبویہ کے کوئی غلط بات ہی نہیں سینڈ کی صاحب گویا ہوئے کہ ممبئی میں ہندو انتہاہ پسند جماعتوں کا راج ہے وہ جب چاہیں جس بھی مسلمان کو روکتے ہیں ان کا موبائل چیک کرتے ہیں اگر ہمارا کسی پاکستانی سے رابطہ ہو سوشل میڈیا پر تو ہماری جان کو خطرہ بن جاتا ہے-

    میں شدید ہنسا اور ان صاحب سے بولا جناب میں بھی اپنے وطن کا باشندہ ہوں اور آپ سے اپنے دشمن ملک کا باشندہ ہو کر آپ سے آزادنہ بات کرتا ہوں مجھے تو کسی کا ڈر نہیں تو پھر آپ خود کو کیسے آزاد مسلمان کہتے ہیں ؟حالانکہ ہمارے ملک میں بھی ہندو ،سکھ،عیسائی و دیگر مذاھب کے لوگ بخوبی آزادانہ زندگیاں گزار رہے ہیں اور ہمارے ہاں بھی مذہبی جماعتیں ہیں مگر اس کے باوجود ایسا کبھی نہیں ہوا تو پھر آپ مان لیجئے آپ آزاد نہیں غلام ہیں صاحب اتنی سی بات کا غصہ کر گئے اور مجھے بلاک کر گئے-

    میں سوچنے لگا اور اللہ کا شکر ادا کرنے لگا کہ نظریہ اقبال درحقیقت نظریہ ریاست مدینہ تھا اقبال رحمتہ اللہ علیہ تجھ پر اللہ کی کروڑوں رحمتیں نازل ہو تم نے ہمارے بڑوں کو سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دکھا کر دو قومی نظریہ پیش کرکے وطن پاکستان دلوایا ورنہ آج ہم بھی ہندو کے غلام ہوتے-

  • میچ کے پاور پلے میں توقعات کے مطابق رنز نہیں بنا سکے    بابر اعظم

    میچ کے پاور پلے میں توقعات کے مطابق رنز نہیں بنا سکے بابر اعظم

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ میچ کے پاور پلے میں توقعات کے مطابق رنز نہیں بنا سکے مگر اچھی شراکتوں کی وجہ سے بڑے اسکور کیلیے پْر امید تھے-

    باغی ٹی وی : اسکاٹ لینڈ سے میچ میں فتح کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی کپتان بابر اعظم نے کہا کہ میچ کے پاور پلے میں توقعات کے مطابق رنز نہیں بنا سکے مگر اچھی شراکتوں کی وجہ سے بڑے اسکور کیلیے پْر امید تھے-

    کپتان نے کہا کہ پہلے محمد حفیظ نے میرا اچھا ساتھ نبھایا اور بولرز کی کمزور گیندوں کا بھرپورفائدہ اٹھایا، اس کے بعد شعیب ملک نے اپنے تجربے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کی ضرورت کے مطابق اننگز کا بہترین انداز میں اختتام کیا،سینئر آل راؤنڈر ایسی ہی پرفارمنس کیلیے مشہور ہیں۔

    پی سی بی نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے 18 رکنی سکواڈ کا اعلان کردیا

    انہوں نے کہا کہ بطور کپتان میرے لیے سب سے زیادہ اطمینان بخش بات ٹیم کا ایک یونٹ بن کر کھیلنا ہے،سب ایک دوسرے کی صلاحیت کو جانتے اور اس پر اعتماد کرتے ہیں، ہر میچ میں کوئی نہ کھلاڑی چیلنج قبول کرتے ہوئے اچھی پرفارمنس میں کامیاب ہورہا ہے-

    بابر اعظم نے کہا کہ کارکردگی میں تسلسل کی وجہ بھی یہی ہے، ابھی تک معیاری کرکٹ کھیلنے سے ہمارے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے،آسٹریلیا کیخلاف سیمی فائنل میں بھی اسی کارکردگی کو دہرانے کیلیے پْرعزم ہیں۔

    کپتان نے کہا کہ دبئی کرکٹ اسٹیڈیم کا ماحول شاندار ہے،سارا کراؤڈ جب آپ کی بھرپور حوصلہ افزائی کر رہا ہو تو پرفارمنس کیلئے جوش و خروش اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے۔


    بعد ازاں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بابر اعظم نے قومی ٹیم کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ آگے بڑھتے رہیں، ایک وقت میں ایک قدم آگے-


    شعیب ملک نے گذشتہ روز میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز پوری ٹیم کے نام کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ میں آج کا "مین آف دی میچ” پاکستان اسکواڈ کے تمام ٹیم ممبران کو وقف کرتا ہوں، چلو لڑکوں، ہم یہ کر سکتے ہیں انشاء اللہ!


    شاہین شاہ آفریدی نے پاکستان زندہ باد کے ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا کہ خواب کو زندہ رکھنے اور اسے پورا کرنے کے لیے ہم سے جو کچھ ہو سکا وہ کریں گے-


    آصف علی نے کہا کہ مجھے اس ٹیم کا حصہ ہونے پر فخر ہے، اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

    ورلڈ کپ سے باہرہونے پر پاکستانی فنکاروں کی بھارتی ٹیم پر ٹرولنگ

  • ہم سے زیادہ مایوس کوئی نہیں ہے      ویرات کوہلی

    ہم سے زیادہ مایوس کوئی نہیں ہے ویرات کوہلی

    ورلڈ کپ ٹی ٹوئنٹی سے بھارت کا سفر ختم ہو گیا ہے پہلے ہی دو میچوں میں بدترین شکست کا سامنا کرنے والے بھارتی ٹیم سیمی فائنل میں اپنی جگہ نہ بنا سکی، اور ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز نمیبیا کے خلاف میچ جیتنے کے بعد بھی بھارتی ٹیم افسردہ نظر آئی، جس کے بعد بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے پہلی ٹوئٹ کی۔


    انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں بھارتی ٹیم کی تصاویر شئیر کیں اور لکھا کہ ہم ایک ساتھ مل کر اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے نکلے تھے لیکن بدقسمتی سے پیچھے رہ گئے اور ہم سے زیادہ مایوس کوئی نہیں ہے۔

    بھارتی شائقین کو مخاطب کرتے ہوئےبھارتی کپتان نے لکھا کہ آپ نےہمارا بھر پور ساتھ دیا اس کے لیے شکر گزار ہوں۔ آخر میں انہوں نے یقین دہانی بھی کرائی کہ ہم سب کا اب یہی مقصد ہیں کہ ہم مضبوطی سے واپس آئیں گے۔

    اس سے قبل بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے کہا تھا کہ چیزوں کو ٹھیک طرح سے سامنے رکھنا ہو گا ، یہ میرے لیے اپنا ورک لوڈ کم کرنے کا صحیح وقت ہے چھ سات سال سے بہت زیادہ کرکٹ کھیل رہا ہوں ،جب بھی آپ کھیلنے کے لیے میدان میں جاتے ہیں تو یہ آپ کے اندر سے بہت کچھ نکال لیتا ہے ہم اس ورلڈ کپ میں آگے نہیں جا سکے لیکن ہم نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بہت میچ جیتے ہیں اور ایک ساتھ کھیل کر لطف اندوز ہوئے ہیں ۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم پہلے دو میچوں میں صرف دو اوور اپنی توقعات کے مطابق کھیل لیتے تو چیزیں مختلف ہوتیں جیسے میں پہلے کہہ چکا ہوں ، ہم اتنی بہادری سے نہیں کھیلے،ہم وہ ٹیم نہیں ہیں جو ٹاس کا بہانہ بنائیں-

    یاد رہے ٹی 20 ورلڈ کے پہلے ہی میچ میں بھارت کو پاکستان سے 10 وکٹوں سے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد بھارت کو سنبھلنے میں اتنا وقت لگا کہ ٹورنامنٹ ہاتھ سے نکل گیا-

  • کورونا کے بعد بھارت میں ایک اور وائرس سر اٹھانے لگا،بچوں سمیت 89 کیسز رپورٹ

    کورونا کے بعد بھارت میں ایک اور وائرس سر اٹھانے لگا،بچوں سمیت 89 کیسز رپورٹ

    بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور میں 17 بچوں سمیت 89 افراد میں زکا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق زکا وائرس دیگر بھارتی ریاستوں میں رپورٹ ہو چکا ہے، لیکن اتر پردیش میں یہ پہلی بار اس تیزی سے پھیل رہا ہے، اس ریاست میں زکا وائرس کا پہلا کیس 23 اکتوبر کو رپورٹ ہوا تھا جس کے بعد محکمہ صحت کے افسران کو گھر گھر جا کر سرویلنس اور ٹیسٹنگ کے لیے نمونے لینے کو کہا گیا ہے۔

    ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اہم تشویش حاملہ خواتین اور ان کے بچوں کے لیے ہے جو ‘مائیکرو سیفلی’ کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے دماغ مکمل نشو نما نہیں پا سکتا اور نا مکمل رہ جاتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس بیماری کی علامات سنگین نہیں ہیں یہ بظاہر عام نزلہ زکام کی طرح لگتا ہے زِکا نامی یہ وائرس ايڈيز جیپٹی مچھر کے کاٹنے سے جسم میں منتقل ہوتا ہے اس مچھر کی وجہ سے ڈینگی بخار اور چکنگنیا نامی بیماری بھی پھیلتی ہے اس بیماری کے سنگین نتائج میں مفلوج ہونا بھی ہے۔

    بی بی سی کے مطابق ذکا وائرس افریقہ سے شروع ہوا تھا اور اس کے پھیلنے کی خبر پہلی مرتبہ مئی 2015 میں برازیل سے آئی تھی۔

    زکا وائرس کیا ہے؟

    فروری 2016 میں ، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے صحت ایمرجنسی کے طور پر زکا وائرس کی تصدیق کردی تھی اس وائرس کا ہندوستان نے راجستھان میں اپنا پہلا کیس رپورٹ کیا جہاں 2017 میں 63 حاملہ خواتین میں انفیکشن کی تشخیص ہوئی تھی۔

    زکا وائرس کی بیماری بنیادی طور پر ایڈیس مچھر کے ذریعہ پھیلتی ہے جو دن کی روشنی میں لڑتا ہے۔ ایڈیس مچھر وہی ہیں جو ڈینگی ، چکنگونیا اور پیلا بخار پھیلاتے ہیں۔ یہ ایک مچھر سے پھیلنے والا وائرس ہے جس کی شناخت یوگنڈا میں 1947 میں بندروں اور بعد میں 1952 میں انسانوں میں ہوئی تھی۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق ، زکا وائرس پہلی دفعہ 2007 میں جزیرہ یاپ میں پایا گیا تھا اس کے بعد 2013 میں فرانسیسی پولینیشیا آیا تھا۔ اور برازیل 2015 میں۔

    علامات:
    انکیوبیشن پیریڈ (نمائش اور پہلی علامات کے درمیان وقت) عام طور پر 3-14 دن کے درمیان ہوتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ زکا وائرس سے متاثر ہونے والے زیادہ تر افراد میں علامات پیدا نہیں ہوتی ہیں۔ یہ وہ اہم علامات ہیں جو لوگوں میں پائی گئیں ہیں اور عام طور پر یہ 2-7 دن تک رہتی ہیں۔ ہلکے سے تیز بخار، جلدی آشوب چشم، پٹھوں اور جوڑوں کا درد، سر درد، مالائیس متلی اور قے۔

    تشخیص:
    عام طور پر افراد کی طرف سے تیار کردہ علامات سے اس کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ تاہم ، اس کی تصدیق صرف خون یا جسم کے دیگر رطوبات جیسے پیشاب یا منی کے لیبارٹری ٹیسٹ کرانے سے کی جاسکتی ہے-

    زکا وائرس کی وجہ سے موت واقع ہونا انتہائی کم ہے لیکن اس کے سنگین خطرات ضرور لاحق ہوتے ہیں ان میں سب سے اہم پیدائشی نقائص ہیں اگر حمل کے دوراب عورت اس کا شکار ہو جائے تو پیدا ہونے والے بچوں میں نقائص ہو سکتے ہیں ان میں بچے کا سر غیر معمولی طور پر چھوٹا ہونا اور دماغی خامیاں شامل ہیں سر کے چھوٹا ہونے کی وجہ رحم میں دماغی ٹشوز کی نشونما میں کمی یا ان کی بربادی ہوتی ہے اس سےبچے کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں پر منفی اثر پڑتا ہے اسے سننے دیکھنے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے-

    ضروری نہیں کہ زکا وائرس کی شکار ماں کے ہاں چھوٹے سر والے بچے پیدا ہوں اس وائرس کی شکار ماوں کا حمل گرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے زکا وائرس کی۔شکار ماوں کے ہاں ایسے بچے بھی پیدا ہو سکتے ہیں جو بظاہر صحت مند نظر آئیں لیکن آئندہ سالوں میں انہیں ذہنی نشوونما سے متعلق مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے زکا وائرس سے مردوں کی تولیدی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہونے کے شواہد ملے ہیں زکا وائرس سے "گولین بارے سنڈروم” ہوتا ہے اس بیماری میں جسم کا مدافعتی نظام اعصابی خلیوں پر حملہ آور ہوتا ہے جس سے عضویاتی کمزوری ہوتی ہے اور بعض اوقات جسم حرکت کرنے سے معذور ہو جاتا ہے

    زکا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟
    بنیادی طور پر ، زکا وائرس ایڈیس مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتا ہے جو عام طور پر دن میں ہوتا ہے۔ تاہم ، اسے ماں سے جنین میں بھی منتقل کیا جاسکتا ہے ، کسی متاثرہ شخص سے غیر محفوظ جنسی رابطہ ، خون کی منتقلی اور اعضا کی پیوند کاری بھی اسے پھیلا سکتی ہے۔

    زکا وائرس سے متاثرہ شخص کا علاج کس طرح ہوتا ہے؟

    ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اس وائرس یا اس سے وابستہ / متعلقہ بیماریوں کے لئے کوئی علاج یا ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ تاہم ، جن لوگوں کو بخار ، متلی جیسی ہلکی علامات پیدا ہوتی ہیں ان کو کافی مقدار میں آرام کرنے اور درد اور بخار کا علاج عام دوائیوں سے کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ اگر کسی متاثرہ شخص کی حالت بگڑتی ہے تو پھر اس کو فوری طور پر طبی مشورے اور نگہداشت کی طرف جانا چاہیے۔

    آپ اپنے آپ کو اس وائرس سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

    اپنے آپ کو بچانے کا سب سے پہلا طریقہ یہ ہے کہ ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں مکھیوں اور مچھروں کے داخل ہونے سے بچنے کے لئے اپنی کھڑکیاں اور دروازے بند رکھیں۔ چھوٹے بچوں اور حاملہ خواتین کو مچھروں کے جالوں کے نیچے سونا چاہئے تاکہ ان کو متاثرہ مچھروں سے بچایا جاسکے۔ پانی ذخیرہ کرنے والی جگہوں پرہیز کریں ، کیونکہ یہ مچھر ایسی جگہوں پہ پرورش پاتے ہیں۔ مزید برآں، متاثرہ علاقوں میں جانے والے مسافروں کو مناسب احتیاط برتنی چاہئے۔