وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہبازگل نے کہا ہے کہ اگر ہیلی کاپٹر کے استعمال پر کسی نے جیل جانا ہے تو وہ شریفوں کا پورا ٹبر ہے۔
باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق شہباز گل نے کہا کہ مریم نواز ایسی باجی ہیں جو ویڈیوز بنا کر فارورڈ کرنے میں ماہر ہیں ن لیگ کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب کی پریس کانفرنس پر اپنے ردعمل میں انہوں ںے کہا ہے کہ مریم نواز ایسی باجی ہیں جو ٹوئٹ نہ کریں تو انہیں کھانا ہضم نہیں ہوتا ہے ایک لفظ حرام ہے جو انہوں نے انگلینڈ ٹیم پر کہا ہو۔
شہباز گل نے کہا کہ پاکستان کسی قسم کا کوئی دباؤ برداشت نہیں کرے گا اور اپنے وقار پر آنچ نہیں آنے دے گا پاکستان کی کمان اس وقت عمران خان کے ہاتھ میں ہے پاکستان ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سودا نہیں کرے گا۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ پاک فوج نے پاکستان کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں پاکستان ایسی چھوٹی باتوں پر پریشر میں آنے والا نہیں ہے۔
شہباز گل نے کہا کہ ن لیگ کے دور میں کھانے ہیلی کاپٹر میں جاتے تھے شریف خاندان کا کھانا بھی پی آئی اے کے 777 طیارے کے ذریعے دوسرے ممالک میں بھجوایا گیا ن لیگ والوں نے جو چوری کی ہے وہ اس کا جواب نہیں دے رہے ہیں۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جوعدالتوں میں اپنی آمدنی کی رسیدیں دینے کی بجائے قطری خط پیش کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیب کی جانب سے پریس ریلیز جاری ہوئی ہے لیکن اصل میں یہ پریس ریلیز نہیں بلکہ نیب نیازی گٹھ جوڑ ہے اور اصل میں یہ نیب لاہور نہیں وزیر اعظم ہاؤس کی پریس ریلیز ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ نیب لاہور نے کہا ہم نے 578 ارب روپے کی ریکوری کی ہے اور مسلم لیگ ن کا مطالبہ ہے کہ بتایا جائے ریکوری پر کتنے پیسے خرچ ہوئے ؟ نواز شریف کی جائیداد کی ریکوری کی جا رہی ہے لیکن 3 سال میں دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں کر سکے۔
مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ نواز شریف نے ملک کو ایٹمی قوت بنایا، موٹر ویز بنائیں ن لیگ کے دور میں اسپتال، اسکول اور بجلی کے منصوبے لگائے گئے۔
نیب سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ نیب کی ریکوری کی تفصیلات کو پبلک کیا جائے اور پریس ریلیز عمران خان کے حکم پر جاری کی گئی۔ چیئرمین نیب کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔
انہوں ںے کہا تھا کہ نیب لاہور کی پریس ریلیز چیئرمین نیب کی ایکسٹینشن کی درخواست ہے اور حزب اختلاف کے خلاف بے بنیاد الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ براڈشیٹ کا تمام ریکارڈ بھی پبلک کیا جائے۔
مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ آٹا، چینی، ادویات، ایل این جی اور ہیلی کاپٹر کی پریس ریلیز جاری کی جائے، وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کا ریفرنس دائر کیا جائے اور آٹے کی 450 ارب کی چوری پر پریس ریلیز کیوں نہیں جاری ہوتی ؟ بنی گالہ کے غیرقانونی محل کو قانونی کرایا گیا، پریس ریلیز نہیں آئی ؟
نیب پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ایل این جی کی 400 ارب روپے کی چوری نیب کو نظر نہیں آتی۔ چینی چوری، بلین ٹری سونامی، فارن فنڈنگ پر پریس ریلیز جاری کی جائے۔ براڈ شیٹ میں عمران خان نے نیب کو اپنا فرنٹ مین بنایا براڈشیٹ کا تمام ریکارڈ پبلک کیا جائے
مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ کبھی ای وی ایم اور کبھی میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کا تماشا لگایا جاتا ہے۔ دھمکی، غنڈا گردی سے ریفارمز نہیں ہوتیں ان کا مقصد دھاندلی ہے۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل حل کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔
باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہمارے مثبت کردار کا فیصلہ بھارت اور پاکستان نے کرنا ہے اور درست وقت میں ہم دونوں ممالک کے مسائل حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
مقبوضہ کشمیر پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین ’تنازع‘ جاری رہے گا تاہم ہم جس چیز کی حوصلہ افزائی کریں گے وہ یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رہے تاکہ مسائل کو مستقل طور پر حل کیا جاسکے۔
افغانستان سے متعلق بات کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ نئی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اچھے فیصلے اور اچھی حکمرانی کریں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کریں اور ایک ایسا راستہ اپنائیں جو استحکام، سلامتی اور خوشحالی کا باعث بن سکے۔
انہوں نے جنگ زدہ ملک کو امداد اور مدد فراہم کرنے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں بین الاقوامی امداد بنیادی طور پر افغان عوام کے فائدے کے لیے ہے اور اس لیے ہمارا مؤقف یہ ہے کہ امداد جاری رہنی چاہیے اور ان حالات سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل چین نے کہا تھا کہ افغانستان میں انسانی بحران کے ذمہ دار امریکا اور اتحادی ممالک ہیں،پیغام ہےآئندہ احتیاط سے کام لیں چین کے صدر شی جن پنگ نے افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام اور عالمی برادری کے اعتراضات سے پیدا ہونے والے بحران کے حل کے لیے 3 نکاتی ایجنڈا پیش کردیا۔
تاجکستان میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر نے افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد پیدا ہونے والے عدم استحکام کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے 3 نکاتی ایجنڈا پیش کیا تھا۔
رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں چائنا میڈیا گروپ کے ایک مضمون کے حوالے سے لکھا تھا کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرنے، افغان سربراہی میں امن عمل کو جاری رکھنے اور افغان عوام کو خود اپنے ملک کا مستقبل طے کرنے کا موقع دینے کا سہہ نکاتی ایجنڈا پیش کیا۔
صدر جن پنگ نے مزید کہا تھا کہ افغانستان میں صورت حال افراتفری سے استحکام کی جانب رواں دواں ہے اور قریبی ہمسائے ہونے کی وجہ سے ہم افغانستان سے لاتعلق نہیں رہ سکتےشنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک بھی اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔
چینی صدر نے مطالبہ کیا تھا کہ افغان تنازعے کو تمام ڈھروں سے بات چیت کرکے اور وہاں کی عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے جلد سے جلد سیاسی حل کے ذریعے ختم کیا جائے۔
صدر شی جن پنگ نے مزید کہا تھا کہ اسی طرح عالمی برادری میں واپسی کے لیے طالبان حکومت سے بھی بات چیت کی جائے تاکہ ایک ایسا کثیر النسلی حکومتی اور سیاسی ڈھانچہ قائم ہو جو اعتدال پسند اور مثبت خارجہ پالیسیاں اپنائے۔
اس موقع پر چینی صدر نے بحران کے شکار افغان عوام کی مالی امداد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ چین افغانستان کی انسانی بنیادوں پر امداد اور پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہنے کی ہامی بھر چکا ہے جب کہ وہ ممالک جن کی وجہ سے افغانستان کا آج یہ حال ہے انھیں بھی قدم بڑھانا چاہیئے۔
چینی صدر نے افغانستان کی موجودہ صوت حال کا ذمہ دار امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کو قرار دیا تھا-
ترجمان ایف بی آر اسد طاہر نے کہا ہے کہ کسی بھی عام پاکستانی پر ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے۔
باغی ٹی وی :ترجمان ایف بی آر اسد طاہر ںے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ جو پروفیشنلز نان فائلر ہیں اور گھروں میں کاروبار کرتے ہیں ان کے بجلی کے بلوں پر ٹیکس لگایا گیا ہے یہ ٹیکس گھروں و دکانوں پر نہیں لگایا گیا ہے۔
انہوں ںے کہا کہ پاکستان کا ٹیکس بلحاظ جی ڈی پی 10.5 ہے جو خطے میں افغانستان کے بعد سب سے کم ہے۔
ترجمان ایف بی آر اسد طاہر نے اس ضمن میں مثال دیتے ہوئے کہا کہ نیپال میں ٹیکس بلحاظ جی ڈی پی 19 فیصد اور افریقہ میں 16 فیصد سے زائد ہےمعیشت کو رسمی دستاویزی معیشت بنانا ہے کاروباری لوگ اپنا کاروبار وسیع کرتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے ہیں۔
ترجمان ایف بی آراسد طاہر نے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ اب تک 7 لاکھ 52 ہزار 174 افراد نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرائے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں اسد طاہر نے کہا کہ جو لوگ اضافی آمدن کماتے ہیں اور پروفیشنلز ہیں ان کے بجلی کے بلوں پر ٹیکس لگا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ کسی بھی عام پاکستانی پر ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے-
قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت نے ایک دھیلے کا بھی منصوبہ نہیں لگایا 50 لاکھ لوگ روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور لوگوں پر زندگی تنگ ہو چکی ہے۔
باغی ٹی وی : قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 50 لاکھ لوگ روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور لوگوں پر زندگی تنگ ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بتایا جائے وہ ایک کروڑ نوکریاں کہاں گئیں ؟ غریب کا چولہا ٹھنڈا ہو چکا ہے اور پاکستانی معیشت تباہ ہوچکی ہے۔ بجٹ میں وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اس طرح کا مہنگائی کا طوفان نہیں آیا جبکہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ مسلم لیگ ن کے دور میں ہو گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے قرضے لے کر لوگوں کو مار دیا ہے اور ایک دھیلے کا بھی منصوبہ نہیں لگایا۔
شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف کو سزا پانامہ میں نہیں بلکہ اقامہ میں ہوئی تھی۔
بعد ازاں شہباز شریف نے کہا کہ اسلام آبا چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع پر مشاورت جاری ہے لیکن چیئرمین نیب سے متعلق مجھ سے کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ اراکین الیکشن کمیشن کی تقرری پر وزیر اعظم کو خط لکھ دیا ہے جبکہ نواز شریف کی جائیداد ضبطگی نیب نیازی کی ایک اور سازش ہے۔
واضح رہے کہ سلم لیگ ن کے آج ہونے والے اہم اجلاس میں پارٹی صدر شہباز شریف اور حمزہ شہباز پھر شریک نہ ہوئےلاہور میں مسلم لیگ نون بہاولپور ڈویژن کے اجلاس میں مریم نواز، خرم دستگیر اور رانا ثنا اللہ سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی تھی شہباز شریف اور حمزہ شہباز اجلاس میں موجود نہیں تھے۔ دونوں رہنماوں نے گزشتہ روز بھی پارٹی اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔
شہباز شریف کی عدم شرکت پر مسلم لیگ ن کے رہنما اویس لغاری نے کہا تھا کہ پارٹی میں بائیکاٹ کی کوئی گنجائش نہیں، شہبازشریف کسی مصروفیت کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہو رہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ اجلاس میں تنظیم کو گراس روٹ لیول پر منظم کرنے کیلئے پلان مرتب کیا گیا ہے۔ تحصیل کی سطح پر تنظیم کو منظم کرنے کا ٹاسک سونپ دیا گیا ہے-
صدر بائیڈن اقتدار سنبھالنے کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنی پہلی تقریر کی، جہاں وہ عالمی برادری کے لیے اپنا طویل مدتی وژن پیش کرنے ، افغانستان سے انخلاء کا دفاع کرنے اور اتحادوں کی بحالی کی اہمیت پر زور دینے کی توقع رکھتے ہیں۔
باغی ٹی وی : امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق نیو یارک میں اسمبلی میں بائیڈن کی پیشی اس وقت ہوئی جب وہ متعدد خارجہ پالیسی کے بحرانوں سے نمٹ رہے ہیں ، جس میں فرانس سے آسٹریلیا کو ایٹمی طاقت سے چلنے والی آبدوزیں دینے کا حالیہ معاہدہ ، افغانستان سے افراتفری سے امریکی انخلا اور امریکی ڈرون شامل ہیں۔ کابل میں ہڑتال جس میں افغان شہری ہلاک ہوئے۔
انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے کوویڈ 19 ، موسمیاتی تبدیلی ، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز ، تجارت اور معاشیات ، صاف انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور انسداد دہشت گردی کو ان علاقوں کے طور پر درج کیا ہے جہاں صدر دنیا کی توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جین ساکی نے پیر کو یہ بھی کہا کہ بائیڈن اپنے تبصرے کے دوران "یہ معاملہ پیش کریں گے کہ اگلی دہائی ہمارے مستقبل کا تعین کیوں کرے گی ، نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی برادری کے لیے اور وہ بات کریں گے اور یہ ان کے ریمارکس کا مرکزی حصہ ہوگا پچھلے کئی سالوں سے ہمارے اتحادوں کو دوبارہ قائم کرنے کی اہمیت کے بارے میں بات کریں گے-
صدر بائیڈن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کا آغاز کوویڈ 19 وبائی امراض سے دنیا بھر میں ہونے والے بڑے نقصانات کو تسلیم کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ "ہم اس سال بڑی عالمی وبا سے نمٹ رہے ہیں ہم نے اس تباہ کن وبائی بیماری سے بہت کچھ کھو دیا ہے جو دنیا بھر میں زندگیوں کا دعویٰ کرتا رہتا ہے اور ہمارے وجود پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ ہم سوگ منا رہے ہیں لاکھوں لوگ ، ہر قوم کے لوگ ، ہر پس منظر سے۔ ہر موت ایک انفرادی دل کی دھڑکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ "ہماری دنیا کے لیے ایک فیصلہ کن دہائی ہے” جو "ہمارے مستقبل کا لفظی تعین کرے گی۔”
وبائی مرض پر ، بائیڈن نے پوچھا: "کیا ہم جان بچانے کے لیے مل کر کام کریں گے ، کوویڈ 19 کو ہر جگہ شکست دیں گے ، اور اگلی وبا کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنے کے لیے ضروری تناؤ لیں گے ، کیونکہ وہاں کوئی اور ہوگا۔ ہمارے اختیار میں جب زیادہ خطرناک قسمیں پکڑ لیتی ہیں؟ ”
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکہ ماضی کی جنگیں جاری رکھنے کے بجائے آگے کی طرف دیکھے گا۔
بائیڈن نے کہا کہ دنیا تاریخ کے ایک موڑ پر ہے۔
"ماضی کی جنگوں کو جاری رکھنے کے بجائے ، ہم اپنے وسائل کو ان چیلنجوں میں لگانے پر توجہ دے رہے ہیں جو ہمارے اجتماعی مستقبل کی کنجی ہیں۔ اس وبائی مرض کا خاتمہ ، آب و ہوا کے بحران سے نمٹنے ، عالمی طاقت کی حرکیات میں تبدیلیوں کا انتظام ، بائیڈن نے عالمی رہنماؤں سے کہا کہ تجارت ، سائبر اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز جیسے اہم مسائل پر دنیا کے قوانین کو تشکیل دینا اور دہشت گردی کے خطرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بائیڈن کہا کہ "ہم نے افغانستان میں 20 سال سے جاری تنازع کو ختم کر دیا ہے ، اور جب ہم مسلسل جنگ کے اس دور کو ختم کر رہے ہیں ، ہم اپنی ترقیاتی امداد کی طاقت کو لوگوں کو اٹھانے کے نئے طریقوں میں سرمایہ کاری کے لیے بے پناہ سفارت کاری کا ایک نیا دور کھول رہے ہیں۔ دنیا بھر میں ، جمہوریت کی تجدید اور دفاع کرنے ، یہ ثابت کرنے سے کہ ہم چاہے کتنے ہی مشکل یا پیچیدہ مسائل کا سامنا کر رہے ہوں ، حکومت کی طرف سے اور لوگوں کے لیے حکومت اب بھی ہمارے تمام لوگوں کو فراہم کرنے کا بہترین طریقہ ہے-
آخری امریکی فوجی اگست کے آخر میں افغانستان سے نکل گئے۔
صدر نے کہا کہ توجہ ہند بحرالکاہل خطے کی طرف ہو گی ، اور انہوں نے اتحادیوں اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عہد کیا۔
"اور جیسا کہ امریکہ ہماری توجہ کو ترجیحات اور دنیا کے خطوں جیسے انڈو پیسفک پر مرکوز کرتا ہے جو آج اور کل سب سے زیادہ نتیجہ خیز ہیں ، ہم اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ تعاون اور کثیر الجہتی اداروں جیسے اقوام متحدہ کے ذریعے ایسا کریں گے ہماری اجتماعی طاقت اور رفتار کو بڑھانے کے لیے ، ان عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہماری پیش رفتار تیز ترین ہو گی-
صدر بائیڈن نے دوبارہ کہا کہ امریکہ بین الاقوامی مسائل جیسے موسمیاتی تبدیلی ، عالمی صحت اور وبائی امراض پر اپنا قائدانہ کردار واپس لے رہا ہے۔
انہوں نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بتایا ، "ہم بین الاقوامی فورمز ، خاص طور پر اقوام متحدہ میں میز پر واپس آئے ہیں ، تاکہ توجہ مرکوز کریں اور مشترکہ چیلنجز پر عالمی کارروائی کی حوصلہ افزائی کریں۔”
انہوں نے اپنے خطاب میں اس اتحاد پر زور دیا جو اس نے اس سال نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن ، یورپی یونین ، ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشین نیشنز اور ہندوستان ، آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ "آج اور کل” کے چیلنجوں اور خطرات سے نمٹنے کے لیے "کواڈ” شراکت داری پر زور دیا ہے۔ ”
"ہم ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن میں دوبارہ شامل ہیں ، اور دنیا بھر میں زندگی بچانے والی ویکسین کی فراہمی کے لیے کوویکس کے ساتھ قریبی شراکت میں کام کر رہے ہیں۔ ہم پیرس آب و ہوا کے معاہدے میں دوبارہ شامل ہوئے ، اور ہم اگلے سال انسانی حقوق کونسل میں دوبارہ نشست لینے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ میں۔ ”
انہوں نے مزید کہا کہ”جیسا کہ امریکہ دنیا کو عمل کی طرف راغب کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، ہم نہ صرف اپنی طاقت کی مثال لے کر آگے بڑھیں گے بلکہ انشاءاللہ اپنی مثال کی طاقت سے کام کریں گے-
صدر بائیڈن نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں سے لڑنے کے لیے متحد ہوں ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں موجود لوگوں کو یہ بتائیں کہ یہ بحران "سرحد کے بغیر” ہے۔
‘ بائیڈن نے عالمی رہنماؤں کو بتایا کہ "یہ سال سرحدوں کے بغیر آب و ہوا کے بحران سے وسیع پیمانے پر موت اور تباہی بھی لے کر آیا ہے۔ موسم کے انتہائی واقعات جو ہم نے دنیا کے ہر حصے میں دیکھے ہیں-اور آپ سب اسے جانتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں-اس کی نمائندگی کرتے ہیں جسے سیکرٹری جنرل نے صحیح کہا ہے ‘ کوویڈ ریڈ برائے انسانیت –
بائیڈن نے اس بات کو دہرایا کہ سائنس دان اور ماہرین دنیا کو بتا رہے ہیں کہ "ہم تیزی سے لفظی معنوں میں واپسی کے نقطہ پر پہنچ رہے ہیں۔”
بائیڈن نے کہا ، "گلوبل وارمنگ کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے اہم ہدف کو اپنے اندر رکھنے کے لیے ، جب ہم COP26 کے لیے گلاسگو میں ملیں گے تو ہر قوم کو اپنے ممکنہ عزائم کو میز پر لانا ہوگا۔” "اور پھر ہمیں وقت کے ساتھ اپنے اجتماعی عزائم کو بلند کرتے رہنا ہے۔”
امریکی صدر نے آب و ہوا کی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اپنی انتظامیہ کے اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اپریل میں ، انہوں نے پیرس معاہدے کے تحت اپنے ملک کے نئے ہدف کا اعلان کیا کہ "امریکہ سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو 50 فیصد سے 52 فیصد تک 2005 کی سطح سے 2030 تک کم کریں۔”
انہوں نے مزید کہا ، "اور میری انتظامیہ ہماری کانگریس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ گرین انفراسٹرکچر اور الیکٹرک گاڑیوں میں اہم سرمایہ کاری کی جاسکے جو ہمارے آب و ہوا کے اہداف کی طرف گھر میں ترقی کو بند کرنے میں ہماری مدد کرے گی۔”
صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکی فوج "اپنے ، اپنے اتحادیوں اور حملے کے خلاف ہماری دلچسپی” کا دفاع جاری رکھے گی ، انہوں نے مزید کہا کہ مشن "واضح اور قابل حصول ہونا چاہیے۔”
انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سامنے ایک ریمارکس میں کہا ، "امریکی فوجی طاقت ہمارا آخری حربہ بننا چاہیے نہ کہ ہمارا پہلا اور نہ ہی اسے ہر اس مسئلے کے جواب کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے جو ہم دنیا بھر میں دیکھتے ہیں۔”
بائیڈن نے مزید کہا: "درحقیقت ، آج ہمارے بہت سے بڑے خدشات کو ہتھیاروں کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ان کا ازالہ کیا جا سکتا ہے کوویڈ 19 یا اس کے مستقبل کی مختلف حالتوں کے خلاف دفاع نہیں کر سکتیں۔ اس وبا سے لڑنے کے لیے ہمیں سائنس کے اجتماعی عمل کی ضرورت ہے۔ ہمیں جتنی جلدی ممکن ہو بازوؤں میں شاٹس لینے اور دنیا بھر میں جان بچانے کے لیے آکسیجن ، ٹیسٹ ، علاج تک رسائی کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے امریکی ویکسین بانٹنے کی کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا بھر کی کمیونٹیز میں "امید کی تھوڑی مقدار” فراہم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے عالمی کوویڈ 19 کے جواب میں 15 بلین ڈالر سے زیادہ کا تعاون کیا ہے ، "کوویڈ 19 ویکسین کی 160 ملین سے زیادہ خوراکیں دوسرے ممالک کو بھیجیں۔”
انہوں نے کہا کہ اس میں ہماری اپنی سپلائی سے 130 ملین خوراکیں اور فائزر ویکسین کی ڈیڑھ ارب خوراک کی پہلی قسطیں شامل ہیں جو ہم نے کوویکس کے ذریعے عطیہ کرنے کے لیے خریدی ہیں۔
بائیڈن نے کہا کہ کل امریکہ کی میزبانی میں عالمی کوویڈ 19 سربراہی اجلاس میں ، وہ امریکہ کی جانب سے کوویڈ 19 کے خلاف پوری دنیا میں لڑنے کے لیے اضافی وعدوں کا اعلان کریں گے تاکہ "کوویڈ 19 کے خلاف جنگ کو آگے بڑھایا جاسکے اور اپنے آپ کو مخصوص اہداف کے بارے میں جوابدہ ٹھہرائیں۔ تین اہم چیلنجز – اب جان بچانا ، دنیا کو ویکسین لگانا ، اور بہتر تعمیر کرنا۔
منگل کو اقوام متحدہ سے اپنے خطاب میں امریکی صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکہ عالمی تجارت اور اقتصادی ترقی کے نئے قوانین پر عمل کرے گا۔
صدر نے کہا ، "ہم عالمی تجارت اور معاشی ترقی کے نئے قوانین پر عمل کریں گے ، کھیل کے میدان کو برابر کریں گے تاکہ یہ کسی ایک ملک میں دوسروں کی قیمت پر مصنوعی طور پر نہ دیا جائے اور ہر قوم کو منصفانہ مقابلہ کرنے کا حق اور موقع ملے۔”
جوبائیڈن نے کہا کہ "ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ مزدوروں کے بنیادی حقوق ، ماحولیاتی محافظ اور دانشورانہ املاک محفوظ رہیں اور عالمگیریت کے فوائد ہمارے تمام معاشروں میں وسیع پیمانے پر مشترکہ ہوں۔
جوبائیڈن نے مزید کہا کہ کئی دہائیوں سے بین الاقوامی مصروفیات کی حفاظت جو کہ دنیا بھر کی قوموں کی ترقی کے لیے ضروری ہے نیویگیشن کی آزادی ، بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی پابندی ، خطرے کو کم کرنے اور شفافیت بڑھانے کے لیے ہتھیاروں کے کنٹرول کے اقدامات کی حمایت جیسے بنیادی وعدے یہ سب بہت ضروری ہیں-
بائیڈن نے کہا کہ”جیسا کہ ہم ان فوری چیلنجوں سے نمٹنے کی کوشش کرتے ہیں ، چاہے وہ دیرینہ ہوں یا نئے ابھرتے ہوئے ، ہمیں ایک دوسرے سے بھی نمٹنا چاہیے۔ دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کا فرض ہے کہ وہ میرے تعلقات کو احتیاط سے سنبھالیں۔ لہذا وہ ذمہ دار مقابلے سے تنازعہ کی طرف اشارہ نہیں کرتے-
ان کے تبصرے اس وقت آئے جب یورپی رہنماؤں اور وائٹ ہاؤس کے درمیان خراب آبدوز کے معاہدے پر کشیدگی پیدا ہوئی۔ فرانسیسی حکومت پچھلے ہفتے سے پریشان ہے ، جب آسٹریلیا نے فرانس سے روایتی آبدوزیں خریدنے کے لیے ایک بہت بڑا معاہدہ ترک کردیا۔ اس کے بجائے ، امریکہ اور برطانیہ نے اعلان کیا کہ وہ آسٹریلیا کو نیو سیکورٹی معاہدے کے ایک حصے کے طور پر جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں حاصل کرنے میں مدد کریں گے۔ NEW YORK, NEW YORK – SEPTEMBER 21: U.S. President Joe Biden addresses the 76th Session of the U.N. General Assembly on September 21, 2021 at U.N. headquarters in New York City. More than 100 heads of state or government are attending the session in person, although the size of delegations is smaller due to the Covid-19 pandemic. (Photo by Timothy A. Clary-Pool/Getty Images)
اس اقدام نے مغربی اتحاد میں ایک نئی دراڑ کھولی ہے اور دیگر یورپی عہدیداروں کی جانب سے بڑھتی ہوئی عوامی تنقید کو جنم دیا ہے۔
بائیڈن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران اعلان کیا کہ امریکہ بھوک ختم کرنے اور اندرون و بیرون ملک کھانے کے نظام میں سرمایہ کاری کی کوشش کے لیے 10 ارب ڈالر کا وعدہ کرے گا۔
بائیڈن نے کہا کہ”ایک ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر تقریبا 3 میں سے 1 افراد کو مناسب خوراک تک رسائی حاصل نہیں ہے ، صرف پچھلے سال ، امریکہ نے اپنے شراکت داروں کو فوری غذائیت سے نمٹنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم کیا ہے کہ ہم آنے والی دہائیوں تک دنیا کو پائیدار خوراک فراہم کر سکیں۔
ایک آزاد یہودی ریاست کے لیے امریکہ کی ’’ واضح ‘‘ حمایت کا اظہار کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا کہ وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دیرینہ تنازعے کے دو ریاستی حل پر یقین رکھتے ہیں۔
بائیڈن نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ دو ریاستی حل اسرائیل کے مستقبل کو یہودی جمہوری ریاست کے طور پر یقینی بنانے کا ایک بہترین طریقہ ہے ، ایک قابل عمل ، خودمختار اور جمہوری فلسطینی ریاست کے ساتھ امن میں رہنا۔ ہم اس مقصد سے بہت دور ہیں۔ انہوں نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کبھی بھی اپنے آپ کو ترقی کا امکان ترک نہیں کرنے دینا چاہیے۔
فی الوقت اسرائیل کو اقوام متحدہ نے رکن ملک کے طور پر تسلیم کیا ہے اور فلسطینیوں کو "غیر رکن مبصر ریاست” کا درجہ حاصل ہے۔
صدر بائیڈن نے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے "وسیع پیمانے پر موت اور تباہی” کا حوالہ دیتے ہوئے منگل کو اعلان کیا کہ وہ کانگریس کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ ترقی پذیر ممالک کو بحران سے نمٹنے میں مدد ملے۔
انہوں نے کہا کہ نجی سرمائے کی کوششوں کے ساتھ ، یہ قدم ترقی پذیر ممالک میں آب و ہوا کے عمل کو سپورٹ کرنے کے لیے 100 بلین ڈالر جمع کرنے کے ہدف کو پورا کرے گا۔
یہ اقدامات اس وقت سامنے آئے جب بائیڈن نے کہا کہ دنیا آب و ہوا کے بحران میں "واپسی کے نقطہ نظر” کے قریب پہنچ رہی ہے۔
انہوں نے قوموں پر زور دیا کہ وہ اپنے بلند ترین ممکنہ عزائم کو میز پر لائیں ، جب عالمی رہنما چھ ہفتوں میں اسکاٹ لینڈ میں موسمیاتی سربراہی اجلاس میں بلائیں۔
صدر بائیڈن نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں امریکہ کو عالمی اور گھریلو دہشت گردی کے خلاف چوکس رہنا چاہیے۔
بائیڈن نے عالمی رہنماؤں کے سامنے کہا ، "ہمیں دہشت گردی کے خطرے سے بھی چوکس رہنا چاہیے ، جو دہشت گردی ہماری تمام قوموں کے لیے ہے ، چاہے وہ دنیا کے دور دراز علاقوں سے ہو یا ہمارے اپنے گھر کے پچھواڑے میں۔
جو بائیڈن دہشت گردی کا تلخ ڈنک حقیقی ہے ہم نے تقریبا اس کا تجربہ کیا ہے پچھلے مہینے ، ہم نے کابل کے ہوائی اڈے پر ایک دہشت گردانہ حملے میں 13 امریکی ہیروز اور تقریبا 200 معصوم افغان شہریوں کو کھو دیا۔ امریکہ میں ایک پرعزم دشمن ڈھونڈنا جاری رکھیں۔ اگرچہ دنیا آج 2001 کی دنیا نہیں ہے ، اور امریکہ وہی ملک نہیں ہے جب ہم 20 سال پہلے 9/11 پر حملہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خطرات کا پتہ لگانے اور ان کو روکنے کے لیے بہتر طور پر لیس ہیں اور ہم ان کو پسپا کرنے اور جواب دینے کی صلاحیت میں زیادہ لچکدار ہیں۔
بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ امریکہ مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر بڑی فوجی تعیناتی کی ضرورت کو کم کرے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہم آج اور مستقبل میں پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرات سے نمٹیں گے ، جو ہمارے لیے دستیاب ٹولز کی مکمل رینج کے ساتھ ہیں ، بشمول مقامی شراکت داروں کے تعاون سے کام کرنا ، تاکہ ہمیں بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتیوں پر اتنے انحصار کرنے کی ضرورت نہ رہے۔
انہوں نے کہا کہ سب سے اہم طریقے جو ہم مؤثر طریقے سے سیکورٹی بڑھا سکتے ہیں اور تشدد کو کم کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ پوری دنیا کے لوگوں کی زندگی کو بہتر بنایا جائے جو دیکھتے ہیں کہ ان کی حکومتیں ان کی ضروریات پوری نہیں کر رہی ہیں۔
صدر بائیڈن نے عالمی رہنماؤں کو بتایا کہ ان کا ملک مستقبل پر مرکوز ہے ، اس بات کو نوٹ کرتے ہوئے کہ افغانستان میں جنگ کا خاتمہ اس سمت میں آگے بڑھنے کا ایک قدم ہے۔
"یہ وہ چیلنجز ہیں جن کا ہم تعین کریں گے کہ دنیا ہمارے بچوں اور پوتے پوتیوں کے لیے کیسی ہے اور وہ وراثت میں کیا حاصل کریں گے ہم صرف مستقبل کو دیکھ کر ان سے مل سکتے ہیں میں 20 سالوں میں پہلی بار یہاں کھڑا ہوں۔ بائیڈن نے کہا کہ امریکہ جنگ میں نہیں ہے ہم نے صفحہ پلٹ دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا ، "ہماری قوم کی تمام بے مثال طاقت ، توانائی اور عزم ، مرضی اور وسائل اب پوری طرح اور مرکوز ہیں کہ ہمارے آگے کیا ہے ، پیچھے کیا نہیں۔”
بائیڈن نے کہا کہ امریکہ عالمی سطح پر قیادت کرنا چاہتا ہے ، لیکن اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کی مدد سے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کو بتایا ، "جیسا کہ ہم آگے دیکھتے ہیں ، ہم قیادت کریں گے ، ہم کوویڈ سے لے کر آب و ہوا ، امن و سلامتی ، انسانی وقار اور انسانی حقوق تک اپنے تمام بڑے چیلنجوں کی قیادت کریں گے ، لیکن ہم اکیلے نہیں جائیں گے۔” . "ہم اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اور ان تمام لوگوں کے ساتھ تعاون کریں گے جو یقین کرتے ہیں جیسا کہ ہم کرتے ہیں ، کہ یہ ان چیلنجوں سے نمٹنے ، مستقبل کی تعمیر ، اپنے تمام لوگوں کو اٹھانے اور اس سیارے کو محفوظ رکھنے کے ہمارے اختیار میں ہے۔ لیکن اس میں سے کوئی بھی ناگزیر نہیں ہے۔ یہ ایک انتخاب ہے۔
انہوں نے مزید کہا ، "میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ امریکہ کہاں کھڑا ہے ، ہم بہتر مستقبل کی تعمیر کا انتخاب کریں گے ، ہم ، آپ اور میں۔ ہمارے پاس اسے بہتر بنانے کی مرضی اور صلاحیت ہے۔” "خواتین و حضرات ، ہم مزید وقت ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ آئیے کام کریں۔ آئیے اب اپنا بہتر مستقبل بنائیں۔ یہ ہماری طاقت اور ہماری صلاحیت کے اندر ہے۔”
اس سے قبل اپنی تقریر میں: امریکی صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بطور صدر اپنے پہلے ریمارکس میں اپنے ’’ انتھک ڈپلومیسی کے نئے دور ‘‘ کے عالمی نقطہ نظر کو بیان کیا ، اور دنیا سے مشترکہ چیلنجز پر مل کر کام کرنے کا مطالبہ کیا۔
کوویڈ 19 وبائی امراض کے درمیان اسے "انتہائی درد اور غیرمعمولی امکانات کے ساتھ ملنے والا لمحہ” قرار دیتے ہوئے ، بائیڈن نے کہا کہ "مشترکہ غم ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ ہمارا اجتماعی مستقبل ہماری مشترکہ انسانیت کو پہچاننے ، اور مل کر کام کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہوگا۔”
بائیڈن نے اپنے اس عقیدے کو دہرایا کہ یہ ایک "تاریخ کا موڑ نقطہ” ہے اور "دنیا کے لیے فیصلہ کن عشرہ ہونا چاہیے” کا طلوع فجر ہے۔
انہوں نے اس لمحے کو دنیا کی جمہوریتوں کے لیے ایک موقع کے طور پر مرتب کیا ، اور اس وقت تاریخ میں جذبات کی بازگشت کرتے ہوئے ایک سوال کے طور پر کہ کیا جمہوریت آمریت پر غالب آ سکتی ہے؟
"کیا ہم اس انسانی وقار اور انسانی حقوق کی تصدیق کریں گے اور ان کی پاسداری کریں گے جن کے تحت سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ قبل قوموں اور مشترکہ کاز نے یہ ادارہ بنایا تھا؟” بائیڈن نے پوچھا۔ انہوں نے مزید کہا ، "یا ، ننگے سیاسی طاقت کے حصول میں ان آفاقی اصولوں کو روندنے اور مروڑنے کی اجازت دیں؟ میرے خیال میں ، ہم اس لمحے ان سوالات کے جواب کیسے دیں گے ، چاہے ہم اپنے مشترکہ مستقبل کے لیے لڑنے کا انتخاب کریں یا نہ کریں ، آنے والی نسلوں کے لیے پھر سے گونجیں گے۔
صدر نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ وبائی بیماری کو شکست دینے کے لیے مل کر کام کریں اور اگلی وبا کو روکنے کے لیے اقدامات کریں ، موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کریں ، اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کو عالمی سطح پر مضبوط کریں ، اور تجارت ، سائبر ، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور دہشت گردی کے خطرے پر تعاون کریں۔ .
صدر بائیڈن نے چین کا نام لیے بغیر کہا کہ امریکہ سوویت یونین کے ساتھ کئی دہائیوں سے جاری تعطل کی طرح تنازعات کے عالمی دور میں دوبارہ داخل ہونے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔
بائیڈن نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں کہا ، "امریکہ مقابلہ کرے گا ، اور بھرپور انداز میں مقابلہ کرے گا ، اور ہماری اقدار اور ہماری طاقت کے ساتھ قیادت کرے گا۔”
انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں اور دوستوں کے لیے کھڑا ہوگا اور کمزور ممالک پر غلبہ حاصل کرنے والے مضبوط ممالک کی کوششوں کی مخالفت کرے گا۔ انہوں نے طاقت ، اقتصادی جبر اور غلط معلومات کے ذریعے علاقے کو تبدیل کرنے کی کوششوں کا حوالہ دیا جو کہ امریکہ کی مذموم سرگرمیوں کی مثال ہے۔ پھر بھی ، انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کو جارحیت سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا ، "ہم تلاش نہیں کر رہے ہیں – اسے دوبارہ کہیں ہم نئی سرد جنگ یا سخت بلاکس میں بٹی ہوئی دنیا کے خواہاں نہیں ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ امریکہ کسی بھی ایسی قوم کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے جو مشترکہ چیلنجز کے لیے پرامن حل کی طرف قدم بڑھائے اور اس کا پیچھا کرے ، یہاں تک کہ اگر ہم دوسرے علاقوں میں شدید اختلاف رکھتے ہیں ، کیونکہ ہم سب اپنی ناکامی کے نتائج بھگتیں گے۔
صدر بائیڈن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے 30 منٹ سے زیادہ کے تبصرے کو سمیٹتے ہوئے عالمی برادری کو ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کے پیچھے ایک پرامید اپیل کے ساتھ چیلنجوں کی فہرست سے ملاقات کی جو انہوں نے بطور صدر اپنے پہلے خطاب میں پیش کی تھی۔
بائیڈن نے کہا ، "مجھے واضح ہونے دو ، میں اس مستقبل کے بارے میں ناگوار نہیں ہوں جو ہم دنیا کے لیے چاہتے ہیں۔” "مستقبل ان لوگوں کا ہوگا جو انسانی وقار کو اپناتے ہیں۔ اسے روندنا نہیں۔ مستقبل ان لوگوں کا ہے جو اپنے لوگوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں ، نہ کہ ان کو روکنے والے۔
بائیڈن نے کہا کہ جمہوریت پرامن مظاہرین ، انسانی حقوق کے علمبرداروں ، صحافیوں ، بیلاروس ، زیمبیا ، شام اور کیوبا جیسے ممالک میں آزادی کے لیے لڑنے والی خواتین میں رہتی ہے ، جبکہ جمہوریت میں امریکہ کی اپنی جدوجہد کو سراہ رہے ہیں۔
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نوازنے کہا ہے کہ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ چل رہا ہے، آئندہ ووٹ چوری کرناممکن نہیں ہوگا۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ کنٹونمنٹ بورڈ میں شاندارکامیابی ملی،ن لیگ کتنی بڑی طاقت ہے اس کا اندازہ حکومت کو بخوبی ہے لیکن خود ن لیگ کو نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی ن لیگ کو ہرانے کیلئے دھاندلی اور ووٹ چوری کرنا پڑتے ہیں، ہمیں بیانیوں کے تضاد کا شکارنہیں ہونا چاہیے اور نہ اس پر توجہ دینی چاہیے۔
مریم نواز نے کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں یہ دھاندلی کرکے دوبارہ آنا چاہتے ہیں،میں ان کو بتا دوں اب دوبارہ ووٹ چوری کرنا ممکن نہیں ہوگا،پورے ملک میں ووٹ کو عزت دوکا بیانیہ چل رہا ہے اور یہی بیانیہ ہماری پہچان ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ آج ہر ادارہ اپنی بقاکی جنگ لڑ رہا ہے،ان کے پول کھل رہے ہیں اس لیے الیکشن کمیشن پر حملہ آور ہیں،اگلا الیکشن ہمارا ہے اس لیے ہمیں مضبوطی اور اتحاد سے الیکشن لڑنا ہوگا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا تھا کہ 20 سال سے شریف خاندان کے خلاف دشمن کا پراپیگنڈا ہو رہا ہے، کارکن اس پر دھیان نہ دھریں۔ شہباز شریف اور نواز شریف ایک ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا تھا کہ ن لیگ ایک جمہوری جماعت ہے۔ کسی کے اندر جو بھی اختلاف ہوں اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ اٹھ کر قیادت پر سوال اٹھائے گا جب قیادت کی بات آتی ہے تو سب نواز شریف اور شہباز شریف پر اکھٹے ہیں۔
مسلم لیگ ن کے آج ہونے والے اہم اجلاس میں پارٹی صدر شہباز شریف اور حمزہ شہباز پھر شریک نہ ہوئےلاہور میں مسلم لیگ نون بہاولپور ڈویژن کے اجلاس میں مریم نواز، خرم دستگیر اور رانا ثنا اللہ سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی تھی شہباز شریف اور حمزہ شہباز اجلاس میں موجود نہیں تھے۔ دونوں رہنماوں نے گزشتہ روز بھی پارٹی اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔
شہباز شریف کی عدم شرکت پر مسلم لیگ ن کے رہنما اویس لغاری نے کہا تھا کہ پارٹی میں بائیکاٹ کی کوئی گنجائش نہیں، شہبازشریف کسی مصروفیت کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہو رہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ اجلاس میں تنظیم کو گراس روٹ لیول پر منظم کرنے کیلئے پلان مرتب کیا گیا ہے۔ تحصیل کی سطح پر تنظیم کو منظم کرنے کا ٹاسک سونپ دیا گیا ہے-
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آج اپنی 33 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔
باغی ٹی وی : پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر ان کی بڑی بہن بختاور بھٹو نے انہیں ایک یادگار تحفہ دیا ہے ویڈیو اینڈ فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام اسٹوریز پر بختاور بھٹو نے بلاول بھٹو کو نایاب تصاویر کا تحفہ دیا ہے۔
بختاور بھٹو نے بلاول بھٹو زرداری کے بچپن کی تصویریں اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ کی اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ’میں روزانہ تمہاری سالگرہ کا کیک کھا ر ہی ہوں۔‘
واضح رہے کہ بلاول بھٹو21ستمبر 1988کو کراچی میں پیدا ہوئے، ان کی پیدائش کے تین ماہ بعد ہی ان کی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔
بلاول بھٹو کی سالگرہ کی مناسبت سے پاکستان کے ٹوئٹر ٹرینڈ پینل پر ’ہیپی برتھ ڈے بی بی زیڈ‘ سرفہرست ٹرینڈز میں موجود ہے۔
اس ٹرینڈ کا استعمال کرتے ہوئے صارفین، پیپلز پارٹی کے ارکان، اور بلال بھٹو کے مداح انہیں سالگرہ کی مبارکباد دے رہے ہیں اور ساتھ ہی بینظیر کی یاد بھی تازہ کر رہے ہیں۔
سالگرہ کی مبارکباد دینے والے زیادہ تر صارفین ان کی بچپن کی تصاویر شیئر کر رہے ہیں جس میں انہیں والد نے گود میں اٹھایا ہوا ہے جبکہ تصویر میں سابقہ وزیراعظم بینظیر بھٹو بھی دکھائی دے رہی ہیں۔
مسلم لیگ ن کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز اصل میں وزیر اعظم ہاؤس کی پریس ریلیز ہے۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیب کی جانب سے پریس ریلیز جاری ہوئی ہے لیکن اصل میں یہ پریس ریلیز نہیں بلکہ نیب نیازی گٹھ جوڑ ہے اور اصل میں یہ نیب لاہور نہیں وزیر اعظم ہاؤس کی پریس ریلیز ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیب لاہور نے کہا ہم نے 578 ارب روپے کی ریکوری کی ہے اور مسلم لیگ ن کا مطالبہ ہے کہ بتایا جائے ریکوری پر کتنے پیسے خرچ ہوئے ؟ نواز شریف کی جائیداد کی ریکوری کی جا رہی ہے لیکن 3 سال میں دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں کر سکے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ نواز شریف نے ملک کو ایٹمی قوت بنایا، موٹر ویز بنائیں ن لیگ کے دور میں اسپتال، اسکول اور بجلی کے منصوبے لگائے گئے۔
نیب سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیب کی ریکوری کی تفصیلات کو پبلک کیا جائے اور پریس ریلیز عمران خان کے حکم پر جاری کی گئی۔ چیئرمین نیب کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔
انہوں ںے کہا کہ نیب لاہور کی پریس ریلیز چیئرمین نیب کی ایکسٹینشن کی درخواست ہے اور حزب اختلاف کے خلاف بے بنیاد الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ براڈشیٹ کا تمام ریکارڈ بھی پبلک کیا جائے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ آٹا، چینی، ادویات، ایل این جی اور ہیلی کاپٹر کی پریس ریلیز جاری کی جائے، وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کا ریفرنس دائر کیا جائے اور آٹے کی 450 ارب کی چوری پر پریس ریلیز کیوں نہیں جاری ہوتی ؟ بنی گالہ کے غیرقانونی محل کو قانونی کرایا گیا، پریس ریلیز نہیں آئی ؟
نیب پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایل این جی کی 400 ارب روپے کی چوری نیب کو نظر نہیں آتی۔ چینی چوری، بلین ٹری سونامی، فارن فنڈنگ پر پریس ریلیز جاری کی جائے۔ براڈ شیٹ میں عمران خان نے نیب کو اپنا فرنٹ مین بنایا براڈشیٹ کا تمام ریکارڈ پبلک کیا جائے
مریم اورنگزیب نے کہا کہ کبھی ای وی ایم اور کبھی میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کا تماشا لگایا جاتا ہے۔ دھمکی، غنڈا گردی سے ریفارمز نہیں ہوتیں ان کا مقصد دھاندلی ہے۔
ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز بلے بازکرس گیل نے گلوکاری کے میدان میں بھی قدم رکھ لیا۔
باغی ٹی وی : اپنے چھکوں، چوکوں سے بولرز کے چھکے چھڑا دینے والے ویسٹ انڈین بیٹس مین کرس گیل نے اپنی 42 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنا نیا گانا ’’پنجابی ڈیڈی‘ جاری کیا ہے۔
کرس گیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر اپنے اکاؤنٹ سے نیا گانا ریلیز کرنے کا اعلان کیا۔
واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز کے جارحانہ بلے باز کرس گیل نے کہاتھا کہ وہ پاکستان جا رہے ہیں اور کون کون ان کے ساتھ جا رہا ہےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کرس گیل نے لکھا تھا کہ میں آج پاکستان جا رہا ہوں، انہوں نے سوال پوچھا کہ کون کون میرے ساتھ آ رہا ہے؟-
جس کے بعد قومی کرکٹرز کی جانب سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا گیا تھا –
ہ کرس گیل کا بیان ایک ایسے وقت میں آیا تھا جب نیوزی لینڈ کی ٹیم نے سکیورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر پاکستان کا دورہ ختم کر دیا کرس گیل کا بیان اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان میں سکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ، پاکستان ایک پرامن اور محفوظ ملک ہے۔
وفاقی وزیر اسد عمر کی زیرصدارت این سی او سی کا اجلاس ہوا جس میں کورونا کے باعث نافذ تمام پابندیاں 23ستمبر سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
باغی ٹی وی : این سی او سی کی جانب سے اجلاس میں لاہور، فیصل آباد، ملتان، سرگودھا، گجرات اور بنوں سے اضافی پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ملک بھر کے لیے این پی آئیز 30 ستمبر تک نافذ رہیں گی نافذ العمل این پی ایز کا جائزہ 28 ستمبر کولیا جائے گا۔
وزارت صحت نے قومی سطح پر کورونا مثبت تناسب کے اعداد و شمار بھی جاری کیے ہیں ملک بھر میں 13 ستمبر سے 19 ستمبر تک کورونا مثبت کیسز کی شرح4 فیصد سے 6 فیصد کے درمیان رہی ملک بھر میں 35 فیصد وینٹیلیٹر کورونا مریضوں کے زیر استعمال ہیں پاکستان کے پانچ شہر کورونا کے باعث ہائی الرٹ ہیں۔
فیصل آباد میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 10 اشاریہ 70 فیصد ہے میرپور میں10 اشاریہ 19، حیدرآباد9 اشاریہ 90، مردان8 اشاریہ 42 اور مظفرآباد میں مثبت کیسز کی شرح 8 فیصد ہے وزارت صحت نے پاکستان میں تصدیق شدہ کورونا ویکسین کی فہرست بھی جاری کر دی ہے۔
وزارت صحت کے مطابق پاکستان میں آٹھ قسم کی کورونا ویکسین استعمال کی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں استعمال ہونے والی کورونا ویکسین میں سائنو ویک، سائنو فارم، ایسٹرازنکا اور موڈرنا شامل ہیں فائزر، سپوتنک، پاک ویک اور کین سائنو کورونا ویکسین بھی پاکستان میں لوگوں کو لگائی جا رہی ہے۔
پاکستان میں استعمال ہونے والی 8 کورونا ویکسین میں سے چھ ڈبل ڈوز اور دو سنگل ڈوز ہیں۔ وزارت صحت کی جانب سے ڈبل ڈوز ویکسین کا دورانیہ 28 دن مختص کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کورونا کے خلاف موڈرنا ویکسین فائزر اور جانسن اینڈ جانسن کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ،اطلاعات کے مطابق موڈرنا کی کووڈ ویکسین بیماری سے متاثر افراد میں ہسپتال کے داخلے کی روک تھام کے لیے مؤثر ترین ہے۔
یہ بات امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کی جانب سے جاری نئی تحقیق میں سامنے آئی۔اس تحقیق میں 5 ماہ کے عرصے کے دوران موڈرنا، فائزر/بائیو این ٹیک اور جانسن اینڈ جانسن ویکسینز کی افادیت کا موازنہ کیا گیا تھا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ موڈرنا ویکسین کے استعمال سے ہسپتال میں داخلے کا خطرہ 93 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔
فائزر ویکسین میں یہ شرح 88 فیصد اور جانسن اینڈ جانسن ویکسین میں 71 فیصد دریافت کی گئی۔تحقیق میں مارچ سے اگست 2021 کے دوران 18 امریکی ریاستوں کے 21 ہسپتالوں میں زیرعلاج رہنے والے 36 سو سے زیادہ کووڈ مریضوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔