Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • تھانہ لوہی بھیر کی حوالات میں ملزم کی خود کشی کا معاملہ ،ابتدائی انکوائری کے بعد ایس ایچ او لوہی بھیر اور محررمعطل

    تھانہ لوہی بھیر کی حوالات میں ملزم کی خود کشی کا معاملہ ،ابتدائی انکوائری کے بعد ایس ایچ او لوہی بھیر اور محررمعطل

    تھانہ لوہی بھیر کی حوالات میں ملزم کی خود کشی کا معاملہ

    باغی ٹی وی : ملزم تھانہ لوہی بھیر پولیس کے پاس لیگل کسٹڈی میں تھاملزم کو گزشتہ روزپی ڈبلیو ڈی میں سنیچنگ کی واردات کے دوران رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا تھا ملزم شیرین خان ولد جان محمد پشاور کا عارضی اور افغانستان کا مستقل رہائشی ہے۔

    ملزم کے خلاف تھانہ لوہی بھیر میں 392ت پ کے تحت مقدمہ درج ہے ملزم نے حوالات میں گلے میں پھندا ڈال کرخود کشی کرلی ابتدائی انکوائری کے بعد ایس ایچ او لوہی بھیر اور محرر کو معطل کردیا گیا ہے۔

    ایس ایس پی انویسٹیگیشن معاملے کی مکمل انکوائری کررہے ہیں معاملے کی جوڈیشل انکوائری کے لئے بھی درخواست بھیج دی گئی ہے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے۔

    سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس اور جوڈیشل انکوائری کا حصہ بنے گی ڈیڈباڈی لواحقین کے حوالے کردی گئی ہے جو اپنے آبائی گاوں کی طرف روانہ ہیں۔

  • اکبر الہ آبادی کی صدسالہ یوم وفات کی تقریب منعقد کی جائے گی

    اکبر الہ آبادی کی صدسالہ یوم وفات کی تقریب منعقد کی جائے گی

    اردو کے عظیم شاعر اکبر الہ آبادی کے صدسالہ یوم وفات کی تقریب اس ماہ کی پچیس تاریخ کو ادارہ علم دوست پاکستان کرے گا ۔ یہ تقریب کراچی میں بہادر یار جنگ اکیڈمی میں ہوگی ۔

    باغی تی وی : تفصیلات کے مطابق ہآن لائن جریدے ماہنامہ علم دوست کے ستمبر کے شمارے "اکبر الہ آبادی نمبر” کو پرنٹ کرایا جائے گا یہ فیصلے اتوار (5 ستمبر) کی شام یونین کلب کراچی میں ادارہ علم دوست پاکستان کی ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس میں کئے گئے ۔

    ادارے کے صدر شبیر ابن عادل نے صدارت کی ۔اجلاس میں علم دوست کی چیئرپرسن فرحانہ اویس، جنرل سیکرٹری میر حسین علی امام، صدیق راز، محمد احمد صدیقی، اکبر علی، م ص ایمن اور حنا شاہ نے شرکت کی ۔

    اس موقع پر اکبر علی نے ماہنامہ علم دوست کے دسمبر 2020 سے اگست 2021 تک کے شماروں کے مجلد پرنٹ آوٹ شبیر ابن عادل کو پیش کئے ۔

    اکبر الٰہ آبادی 16 نومبر 1846ء کو الٰہ آباد کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید اکبر حسین تھا اور تخلص اکبر تھا۔ابتدائی تعلیم سرکاری مدارس میں پائی اور محکمہ تعمیرات میں ملازم ہوگئے۔ 1869ء میں مختاری کا امتحان پاس کرکے نائب تحصیلدار ہوئے۔ 1870ء میں ہائی کورٹ کی مسل خوانی کی جگہ ملی۔ 1872ء میں‌وکالت کا امتحان پاس کیا۔ 1880ء تک وکالت کرتے رہے۔ پھر منصف مقرر ہوئے، 1894ء میں عدالت خفیفہ کے جج ہوگئے، 1898ء میں خان بہادر کا خطاب ملا۔

    وہ اردو شاعری میں ایک نئی طرز کے موجب بھی تھے اور اس کے خاتم بھی، انہوں نے ہندوستان میں مغربی تہذیب کے اولین اثرات کی تنقید میں اپنی طنزیہ شاعری سے خوب کام لیا۔ ان کے متعدد اشعار اردو شاعری میں ضرب المثل کا درجہ رکھتے ہیں۔

    مشرقیت کے دلدادہ اور مغربی تہذیب کی اندھا دھند تقلید کے سخت خلاف تھے۔ اُن کے کُچھ مشہور شعر جو زبان زد عام ہیں۔ مثلاََ

    ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں کہ

    جن کو پڑھ کے بیٹے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں

    فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں

    ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں

    ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

    وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

    مخزن لاہور نے انھیں لسان العصر خطاب دیا، مبطوعہ کلام تین کلیات پر مشتمل ہے۔ دو ان کی زندگی میں شائع ہوگئے تھے۔ تیسرا انتقال کے بعد شائع ہوا، اکبر الٰہ آبادی کی تصانیف میں چار جلدوں پر مشتمل کلیاتِ اکبر ، گاندھی نامہ، بزمِ اکبر اور گنج پنہاں کے نام سرِفہرست ہیں آپ کا انتقال 9 ستمبر 1921ء کو الہٰ آباد میں ہوا۔

  • بلاول کے اعزاز میں سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار خان کھوسہ کی جانب سے عشائیہ

    بلاول کے اعزاز میں سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار خان کھوسہ کی جانب سے عشائیہ

    ڈیرہ غازی خان: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اعزاز میں سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار خان کھوسہ کی جانب سے عشائیہ دیا گیا-

    باغی ٹی وی : چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اعزاز میں عشائیے کے موقع پر سابق وزیراعلی پنجاب دوست محمد کھوسہ بھی موجود تھے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو کھوسہ خاندان کی قدیم روایتی تلوار کا تحفہ بھی پیش کیا گیا-

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ یوسف رضا گیلانی، مخدوم احمد محمود، نتاشہ دولتانہ، نواب افتخار خان بابر، فیصل کریم کنڈی، رضا کھر، مہر ارشاد سیال اور حیدر زمان قریشی عشائیے میں شریک تھے-

    لاول بھٹوکے جنوبی پنجاب میں ڈیرے:صحافیوں سے تفصیلی گفتگونے عزائم سے پردہ ہٹا دیا

    واضح رہے کہ ڈیرہ غازی خان میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس علاقے سے ہمارا تین نسل پرانا رشتہ ہے،عمران خان نے آپ کے ووٹ، آپ کی جیب، آپ کے پیٹ اور آپ کے حقِ روزگار پر ڈاکا مارا ہے، ملک کا ہر شہری اس وقت تکلیف میں ہے،سب پریشان ہیں کہ یہ کون سے نیا پاکستان ہے جہاں تاریخی مہنگائی، غربت اور بیروزگاری ہے؟

    بلاول نے کہا کہ نئے پاکستان کےنام سے ملک پرمسلط ہونےوالاعذاب ہرشہری کے لئے پریشانی کا باعث بن چکا ہے،اس کٹھ پتلی کو گھر بھیج کر ملک میں عوامی راج قائم کرنے کیلئے اس جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں،مجھے جدوجہد میں عوام کی مدد کی ضرورت ہے-

    چئیرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے جانے کے بعد عوام لاوارث ہوگئے ہیں اور کوئی عوام کے لیے بولتا بھی نہیں ہے، کارکن تیاری کریں، آنے والی حکومت پیپلزپارٹی کی ہو گی، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب جیالا ہوگا، سرائیکی عوام کے لیے وسیب بنا کر رہوں گا-

    کارکن تیاری کریں، آنے والی حکومت پیپلزپارٹی کی ہو گی بلاول بھٹو

  • یوم دفاع: پاک فوج نے دفاعی محاذ پر پاکستان کو ناقابل تسخیر بنا دیا      سید مصطفیٰ کمال

    یوم دفاع: پاک فوج نے دفاعی محاذ پر پاکستان کو ناقابل تسخیر بنا دیا سید مصطفیٰ کمال

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے یوم دفاع کے موقع پر اپنا پیغام جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یوم دفاع پاکستان ثبوت ہے کہ پاکستان کا بچہ بچہ وقت پڑنے پر ملکی سلامتی کی خاطر پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہوکر ملک و قوم کی حفاظت کے لیے اپنے خون کا آخری قطرہ تک قربان کرنے کو تیار ہے، یہی جذبہ ایمانی افواج پاکستان اور پاکستانی قوم کو دنیا میں دیگر افواج اور قوموں سے ممتاز بناتا ہے۔

    یوم دفاع 6 ستمبر: شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

    انہوں نے کہا کہ 6 ستمبر کے روز پاک افواج اور قوم نے ملکر ملکِ خداداد کی جانب میلی نظر اٹھانے والے دشمنوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیا۔ وسائل کی کمی اور عددی کمزوری کے باوجود پاک فوج اور عوام نے جذبہ ایمانی کے ساتھ اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دے کر تاریخ رقم کر دی۔

    سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یوم دفاع کے موقع پر پاکستان ہاؤس سے جاری بیان میں سید مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ہم افواج پاکستان کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ پاک فوج نے دفاعی محاذ پر پاکستان کو ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ افواج پاکستان کی بے تحاشہ جوانوں نے اپنی زندگیوں کی قربانی دے کر اس وطن عزیز کی حفاظت کی ہے۔ اس لیے پوری قوم کو پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے اپنے ملک کے شہداء کے خون کا احترام کرنا ہے۔

  • گورنر بلوچستان کا یوم دفاع کے موقع پر پیغام

    گورنر بلوچستان کا یوم دفاع کے موقع پر پیغام

    کوئٹہ: گورنر بلوچستان کا یوم دفاع کے موقع پر پیغام جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا نے یوم دفاع پاکستان کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں 6 ستمبر کا دن انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس دن کو ہماری بہادر اور جرات مند مسلح افواج نے اپنے سے کئی گنا طاقتور دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دےکر وطن عزیز کا پوری کامیابی سے دفاع کر کے یہ تاریخ رقم کی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ آج پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور پہلے کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہے. انہوں نے کہا کہ یہ وہی دن ہے جب ہماری مُٹھی بھر افواج نے جوان مردی، جرات اور بہادری کا عظیم الشان مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیا اور مادر وطن کے دفاع کیلئے سیسہ پلائی دیوار بن گئیں۔

    گورنر بلوچستان نے کہا کہ نہ صرف ہماری مسلح افواج بلکہ پوری قوم نے متحد ہو کر یہ ثابت کر دیا کہ اتحاد، اتفاق اور ایمان کی طاقت کے سامنے ہتھیاروں یا تعداد کی کثرت کوئی معنی نہیں رکھتی۔

    گورنر ظہور احمد آغا نے اس بات پر زور دیا کہ آج کے دن ہمیں اس عہد کی تجدید کرنی چائیے کہ ہم اپنے عظیم شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور اپنے پیارے وطن کے تحفظ، سالمیت اور دفاع کیلئے اسی جذبہ اور عزم کو ہمیشہ قائم رکھیں گے جس کا مظاہرہ پوری قوم نے 6 ستمبر 1965ء کی جنگ کے دوران کیا تھا۔ آج بھی ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کیلئے ہمارا عزائم مضبوط و مستحکم ہیں

  • یوم دفاع 6 ستمبر: شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

    یوم دفاع 6 ستمبر: شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

    یومِ دفاع ہر سال 6 ستمبر کو پاکستان میں بطور ایک قومی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن پاک بھارت جنگ 1965ء میں افواج کی دفاعی کارکردگی اور قربانیوں کی یاد میں منایا جاتا ہےاس کا مقصد پاکستان کے دفاع اور عسکری طاقت کو مضبوط کرنے کی یاددہانی ہے تا کہ ہر آنے والے دن میں کسی بھی حملے سے بطریق ءاحسن نمٹا جا سکےاس دن سکول کالجز اور جامعات کے علاوہ سرکاری دفاتر میں6ستمبر 1965کی پاک بھارت جنگ کے شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے اور بھارت کے اس حملے کی پسپائی کا تذکرہ کیا جاتا ہے جس میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا-

    دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت
    میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی

    6 ستمبر مسلم امہ کی فتح کا جنم دن ہےجب رات کے گھپ اَندھیرے میں طاقت کے نشے میں چور ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر دشمن ناپاک عزائم کے ساتھ سر زمین مقدس پہ مسلم قوم کے شیر دل جوانوں کے ساتھ نبردآزما ہوا۔

    آج 6 ستمبر کا دن ہے۔ جب بھارت نے مسلم فوج کو للکارا۔کون جانتا تھا کہ صبح کا سورج اس ملک کے لیے آزمائش کا سبب بنے گا ماؤں کے لال ان سے جدا ہو جائے گئے۔ بچوں کے سروں سے سائبان آٹھ جائیں گئے۔عورتوں کے سہاگ اجڑ جائے گئے۔ لیکن مسلم امہ نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور دوشمن کے ناپاک عزائم کو خاک کر دیا۔اور آنے والی نسل کے لئے مشعل راہ کا سبب بنےہر پاکستانی اپنی فوج کے دفاع پر فخر کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ پاک فوج ہر محاذ پر سرخرو ہے،

    6ستمبر 1965ء کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کبھی نہ بھولنے والا قابلِ فخردن ہے جب کئی گنا بڑے ملک نے افرادی تعداد میں کئی گنا زیادہ لشکر اور دفاعی وسائل کے ساتھ اپنے چھوٹے سے پڑوسی ملک پر کسی اعلان کے بغیر رات کے اندھیرے میں فوجی حملہ کر دیا۔ اس چھوٹے مگر غیور اور متحد ملک نے اپنے دشمن کے جنگی حملہ کا اس پامردی اور جانثاری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اسے شرمندگی اٹھانا پڑی۔ جارحیت کرنے والا وہ بڑا ملک ہندوستان اور غیور و متحد چھوٹا ملک پاکستان ہے-

    اے دشمن دیکھ تو نے کس قوم کو ہے للکارا
    ہم بھی ہیں صف آرا ہم بھی ہیں صف آرا

    1965ء کی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی اس جنگ میں ثابت ہوا کہ جنگیں ریاستی عوام اور فوج متحد ہو کر ہی لڑتی اور جیت سکتی ہیں۔ پاکستانی قوم نے اپنے ملک سے محبت اور مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت اورجانثاری کے جرأت مندانہ جذبے نے ملکر نا ممکن کو ممکن بنا کر دکھایا،

    پاکستان پر1965ء میں ہندوستان کی طرف سے جنگ کا تھوپا جانا پاکستانی قوم کے ریاستی نصب العین دوقومی نظریہ،قومی اتحاد اور حب الوطنی کو بہت بڑا چیلنج تھا۔ جسے جری قوم نے کمال و قار اور بے مثال جذبہ حریت سے قبول کیا اور لازوال قربانیوں کی مثال پیش کر کے زندہ قوم ہونے کاثبوت دیا۔ دوران جنگ ہر پاکستانی کو ایک ہی فکر تھی کہ اُسے دشمن کا سامنا کرنا اور کامیابی پانا ہے۔

    جنگ کے دوران نہ تو جوانوں کی نظریں دشمن کی نفری اور عسکریت طاقت پر تھی اور نہ پاکستانی عوام کا دشمن کو شکت دینے کے سوا کوئی اورمقصد تھا۔ تمام پاکستانی میدان جنگ میں کود پڑے تھے۔اساتذہ، طلبہ، شاعر، ادیب، فنکار، گلوکار ، ڈاکٹرز، سول ڈیفنس کے رضا کار ،مزدور،کسان اور ذرائع ابلاغ سب کی ایک ہی دھن اور آواز تھی کہ’’ اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا‘‘ستمبر 1965ء کی جنگ کا ہمہ پہلو جائز لینے سے ایک حقیقی اور گہری خوشی محسوس ہوتی ہے کہ وسائل نہ ہونے کے باوجود اتنے بڑے اور ہر لحاظ سے مضبوط ہندوستان کے مقابلے میں چھوٹے سے پاکستان نے وہ کون سا عنصر اورجذبہ تھا، جس نے پوری قوم کو ایک سیسہ پلائی ہوئی نا قابل عبور دیوار میں بدل دیا تھا۔

    مثلاً ہندوستان اور پاکستان کی مشترکہ سرحد’’رن آف کچھ‘‘ پر طے شدہ قضیہ کو ہندوستان نے بلا جواز زندہ کیا فوجی تصادم کے نتیجہ میں ہزیمت اٹھائی تو یہ اعلان کر دیا کہ آئندہ ہندوستان پاکستان کے ساتھ جنگ کے لیے اپنی پسند کا محاذ منتخب کرے گا اس کے باوجود پاکستان نے ہندوستان سے ملحقہ سرحدوں پر کوئی جارحانہ اقدام نہ کیے تھے۔ صرف اپنی مسلح افواج کومعمول سے زیادہ الرٹ کررکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ 6 ستمبر کی صبح جب ہندوستان نے حملہ کیا تو آناً فاناً ساری قوم، فوجی جوان اور افسر سارے سرکاری ملازمین جاگ کر اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف گئے۔

    صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے ایمان فروز اور جذبۂ مرد حجاہد سے لبریزقوم سے خطاب کی وجہ سے ملک اللہ اکبر پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اُٹھا۔فیلڈ مارشل ایوب خان کے اس جملے’’پاکستانیو! اٹھو لا الہ الا اللہ کا ورد کرتے ہوئے آگے بڑھو اوردشمن کو بتا دو کہ اس نے کس قوم کو للکارا‘‘ان کے اس خطاب نے قوم کے اندر گویا بجلیاں بھردی تھیں۔

    پاکستان آرمی نے ہر محاذ پر دشمن کی جارحیت اور پیش قدمی کو حب الوطنی کے جذبے اورپیشہ وارانہ مہارتوں سے روکا ہی نہیں، انہیں پسپا ہونے پر بھی مجبور کر دیا تھا۔ ہندوستانی فوج کے کمانڈر انچیف نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ وہ لاہور کے جم خانہ میں شام کو شراب کی محفل سجائیں گے۔ ہماری مسلح افواج نے جواب میں کمانڈر انچیف کے منہ پر وہ طمانچے جڑے کہ وہ مرتے دم تک منہ چھپاتا پھرا۔ لاہور کے سیکٹر کو میجر عزیز بھٹی جیسے سپوتوں نے سنبھالا، جان دے دی مگر وطن کی زمین پر دشمن کا ناپاک قدم قبول نہ کیا

    چونڈہ کے سیکٹر پر(ہندوستان کا پسندیدہ اور اہم محاذ تھا)کو پاکستانی فوج کے جوانوں نے اسلحہ وبارود سے نہیں اپنے جسموں کے ساتھ بم باندھ کر ہندوستان فوج اور ٹینکوں کا قبرستان بنادیا۔ ہندوستان کی اس سطح پر نقصان اور تباہی کو دیکھ کر بیرون ممالک سے آئے ہوئے صحافی بھی حیران اور پریشان ہوئے پاکستانی مسلح افواج کو دلیری دی-

    پاکستان نیوی:۔ستمبر1965ء میں نیوی کی جنگی سرگرمیاں بھی دیگر دفاعی اداروں کی طرح قابل فخر رہیں۔ اعلان جنگ ہونے کے ساتھ بحری یونٹس کو متحرک و فنکشنل کر کے اپنے اپنے اہداف کی طرف روانہ کیا گیا۔ کراچی بندرگاہ کے دفاع کے ساتھ ساتھ ساحلی پٹی پر پٹرولنگ شروع کرائی گئی۔پاکستان کے بحری،تجارتی روٹس کی حفاظت بھی پاکستان بحریہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اس لیے سمندری تجارت کو بحال رکھنے کے لیے گہرے سمندروں میں بھی یونٹس بھجوائے گئے۔

    یہ امر تسلی بخش ہے کہ پوری جنگ کے دورن پاکستان کا سامان تجارت لانے لے جانے والے بحری جہاز بلا روک ٹوک اپنا سفر کرتے رہے۔ اس کے علاوہ ہندوستانی بحریہ کو بندرگاہوں سے باہر تک نہ آنے دیا۔ پاکستان نیوی کی کامیابی کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ ہے۔ ہندوستان کے تجارتی جہاز’’سرسوتی‘‘اوردیگر تو کتنے عرصہ تک پاکستان میں زیر حراست وحفاظت کراچی کی بندرگاہ میں رہے۔ 7ستمبر کا دن پاکستان کی فتح اور کامیابیوں کا دن تھا۔

    پاکستان نیوی کا بحری بیڑا، جس میں پاکستان کی واحد آبدوزپی این ایس غازی بھی شامل تھی۔ ہندوستان کے ساحلی مستقر’’دوارکا‘‘پرحملہ کے لیے روانہ ہوئی۔اس قلعہ پر نصب ریڈار ہمارے پاک فضائیہ کے آپریشنز میں ایک رکاوٹ تھی۔ مذکورہ فلیٹ صرف 20منٹ تک اس دوار کا پر حملہ آور رہا۔ توپوں کے دھانے کھلے اور چند منٹ میں دوار کا تباہ ہو چکا تھا۔ پی این ایس غازی کا خوف ہندوستان کی نیوی پر اس طرح غالب تھا کہ ہندوستانی فلیٹ بندرگاہ سے باہر آنے کی جرأت نہ کرسکا۔ ہندوستانی جہاز’’تلوار‘‘کو پاکستانی بیڑے کا سراغ لگانے کے لیے بھیجا گیا مگر وہ بھی’’غازی‘‘ کے خوف سے کسی اور طرف نکل گیا۔

    کِس کی ہمت ہے ہماری پرواز میں لائے کمی

    ہم پروازوں سے نہیں حوصلوں سے اُڑا کرتے ہیں

    پاک فضائیہ:۔ائیر مارشل اصغر خان اور ائیر مارشل نور خان جیسے قابل فخرسپوتوں اور کمانڈروں کی جنگی حکمت عملی اور فوجی ضرورتوں کے پیش نظر تجویز کردہ نصاب کے مطابق پاک فضائیہ نے اپنے دشمن کے خلاف’’ہوا باز گھوڑوں کو تیار کر رکھا تھا‘‘جیسا کہ مسلمانوں کو اپنے دشمن کے خلاف تیاررہنے کا حکم ہے۔ یہ ہمارے ہوا باز7ستمبر کو اپنے اپنے مجوزہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دشمن پر جھپٹ پڑے۔

    ایک طرف سکوارڈرن لیڈر ایم ایم عالم جیسے سپوت نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے پانچ جہازوں کومار گرایا۔ تو دوسری طرف سکوارڈرن لیڈر سر فراز رفیقی اور سکوارڈرن لیڈر منیر الدین اور علاؤالد ین جیسے شہیدوں نے بھی ثابت کر دیا کہ حرمت وطن کی خاطر ان کی جانوں کا نذرانہ کوئی مہنگا سودا نہیں ۔

    پاکستان کے غازی اور مجاہد ہوا بازوں نے ہندوستان کے جنگی ہوائی اڈوں کو اس طرح نقصان پہنچایا کہ ’’ہلواڑا‘‘بنادیا۔پاک فضائیہ نے میدان جنگ میں اپنی کارکردگی سے ثابت کر دیا کہ وہ فرمان قائد اعظم کے مطابق دوسرا کوئی نہیں ہے۔

    پاکستانی شہری:۔1965ء کی جنگ کا غیر جانبداری سے اور غیر جذباتی جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ بڑے سرکش اورخونخوار شکار کوپاکستان میں چھوٹے سے جال میں آسانی سے قید کر لیا۔ سب کچھ قائد اعظم کے بتائے اصول( ایمان، اتحاد،نظم) پر عمل کرنے سے حاصل ہوا۔کسی بھی زاویۂ نگاہ سے دیکھیں تو یہی اصول1965ء کی جنگ میں پاکستان کی کامیابی کامرکز اور محور تھے۔ پاکستانی قوم کی طرف سے ملی یکجہتی ،نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کی خاطر ہر طرح کا فرق مٹا کر اختلاف بھلا کرمتحد ہو کر دشمن کوناکوں چنے چبوانے کا بے مثال عملی مظاہرہ تھا۔

    "اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ‘انہیں ہرگزمردہ مت کہو وہ زندہ ہیں مگر تم اُن کی زندگی کا شعور نہیں رکھتے”

    میجر راجہ عزیز بھٹی شہید.
    29 اگست 1965 کی بات ہے جب عزیز بھٹی اپنے اہل وعیال کے ساتھ چھٹیاں گزار رہے تھے تو انہیں یونٹ واپس بلا لیا گیا جنگی حالات سر پر منڈلا رہے تھے وہ یونٹ آنے کی تیاری کرنے لگے جب کھانے کے میز پر ان کی بیوی نے افسردہ لہجے میں پوچھا کہ جنگ ختم ہو گئی تو وہ واپس آ جائیں گے عزیز بھٹی نے مسکرا کر جواب دیا:پریشان کیوں ہوتی ہو تمہیں معلوم تو ہے ایک فوجی کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ان کا چھوٹا بیٹا ذوالفقار معصومیت سے بولا ابا جان کیا جنگ ہونے لگی ہے؟عزیز بھٹی نے جواب دیا ہاں۔ شاید حالات کچھ زیادہ اچھے نہیں لگ رہے تو وہ معصومیت سے مکا ہوا میں لہراتے ہوئے بولا پھر کبھی دشمن کو پیٹھ نہ دکھانا میجر نے اس کا ماتھا چوما اور اس سے کہا کہ پھر یہ بھی وعدہ کرو کہ میں شہید ہوجاؤں تو میری لاش پر نہیں رونا اور پھر اپنی بیوی اور بیٹے سے کیا گیا وعدہ وفا کرنے میدان جنگ میں پہنچ گئے۔جب دشمن لاہور پر حملہ آور ہوا تو اس وقت میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر کے علاقے برکی میں کمپنی کمانڈر تعینات تھے. میجر عزیز بھٹی مسلسل پانچ (5) دن تک بھارتی ٹینکوں کے سامنے سیسہ پلائ دیوار کی طرح ڈٹے رہے، 12 ستمبر 1965 کو بھارتی ٹینک کا گولہ چھاتی پر کھایا اور جام شہادت نوش کیا۔

    شہید کی جو موت ہے،
    وہ قوم کی حیات ہے۔

    اللہ تعالی تمام شہداء کی شہادت کو قبول و منظور فرمائے اور اس اسلام کے قلعہ پاکستان کو محفوظ اور مستحکم بنائے۔ اور دشمنوں سے بچا کر رکھے۔(آمین)

    اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے
    تو لبدی پھریں بازار کڑے
    اے شیر بہادر غازی نیں
    اے کسے کولوں وی ہر دے نہیں
    ایہناں دشمناں کولوں کی ڈرنا
    اے موت کولوں وی ڈر دے نہیں
    اے اپنے دیس دی عزت توں
    جان اپنی دیندے وار کڑے

  • طالبان نے طالبات کو پورے نقاب کے ساتھ تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کی اجازت دے دی

    طالبان نے طالبات کو پورے نقاب کے ساتھ تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کی اجازت دے دی

    طالبان نے یونیورسٹی اور کالجز کی طالبات کو پورے نقاب کے ساتھ تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کی اجازت دے دی تاہم خواتین پر شٹل کاک برقعہ پہننا لازم قرار نہیں دیا گیا-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق طالبان نے نجی کالجوں اور جامعات کوآج پیر سے کھولنے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے حکم جاری کیا کہ یونیورسٹیز میں لڑکے اور لڑکیوں کی علیحدہ کلاسز یا کم از کم انہیں ایک پردے سے الگ کیا جائے، جب کہ طالبات کے لیے عبایا اور ایسا نقاب کرنا لازم ہوگا جن سے آنکھوں کے علاوہ ان کا پورا چہرہ چھپ جائے۔

    طالبان کی وزارت تعلیم کی جانب سے نوٹیفیکیشن کے مطابق طالبات کو صرف خواتین ہی پڑھا سکتی ہیں تاہم اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھر اچھے کردار کے حامل کسی بوڑھے شخص کو اس کام کے لیے رکھا جائے یہ حکم نامہ ان تمام نجی کالجز اور جامعات پر لاگو ہوتا ہے جن کی تعداد میں 2001 کے بعد طالبان کا پہلا دور اقتدار ختم ہونے کے بعد بہت تیزی سے اضافہ ہوا اور کل سے انہیں دوبارہ کھولنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔

    گزشتہ روز جاری ہونے والے احکامات کے مطابق خواتین پر شٹل کاک برقعہ ( سر کے بال سے پیر کے ناخن تک کو ڈھاپنے والا برقعہ) پہننا لازم قرار نہیں دیا گیا تاہم گھر سے باہر نکلنے والی خواتین کے لیے ایسا نقاب کرنا لازم ہوگا جس میں صرف ان کی آنکھیں دکھائی دیں۔

  • کشمیر میڈیا سروس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شیخ تجمل الاسلام وفات پا گئے

    کشمیر میڈیا سروس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شیخ تجمل الاسلام وفات پا گئے

    کشمیر میڈیا سروس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، کشمیر کاز کے علمبردار ، بزرگ صحافی اور دانشور شیخ تجمل الاسلام اسلام آباد میں مختصر علالت کے بعد 67برس کی عمر میں وفات پا گئے۔

    باغی ٹی وی : کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شیخ تجمل الاسلام گزشتہ ایک ماہ سے اسلام آبادکے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے شیخ تجمل الاسلام کا تعلق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر سے تھا،اُنہوں نے 1975ء میں کشمیر یونیورسٹی سرینگر سے ایل ایل بی اور 1980ء میں اسی یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا وہ طالب علمی کے دوران 1979ء سے 1984ء تک مقبوضہ علاقے میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ رہے ۔

    وکی پیڈیا سے لی گئی معلومات کے مطابق انہوں نے1973ءتا 1980ء تک سرینگر سے شائع ہونے والے اخبار اذان کے چیف ایڈیٹر اور کئی روزناموں اورہفتہ وار اخبارات اور جرائدبطور مدیر کام کیا۔وہ 1975ء تا1984ء تک سرینگر میں وکالت کرتے رہے،شیخ تجمل الاسلام نے غیر قانونی بھارتی تسلط سے مقبوضہ جموںوکشمیر کی آزادی کے ایک پرجوش حامی ہونے کی پاداش میں شدید سختیاں برداشت کیں اور 1974ء اور 1984ء کے درمیان کئی بار گرفتار کیے گئے-

    70کی دہائی میں دو اہم واقعات یعنی1971ءمیں سقوط ڈھاکہ اور 1975ءمیں اندرا عبداللہ معاہدے کے بعد بھارت نے یہ پروپیگنڈہ تیز کر دیا کہ اب پاکستان کشمیریوں کی بھر پور حمایت کے قابل نہیں رہا ۔ بھارت کے اس پروپیگنڈے نے کشمیریوںکے حوصلوں پر قدرے منفی اثرات مرتب کیے اور اس سے مقبوضہ علاقے میں جمود کی کیفیت طاری ہو گئی جسے توڑنے کیلئے شیخ تجمل الاسلام نے 1982ءمیں سرینگرمیں بین الاقوامی کشمیر کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا ، اگرچہ بھارت نے بعد میں یہ کانفرنس نہ ہونے دی مگر اس کی تیاریوں نے اہل کشمیر خاص طور پر نوجوانوں میں آزادی کی ایک نئی تڑپ بیدار کر دی ۔

    جس کے بعد شیخ تجمل الاسلام بھارت کی نظرو ں میں کھٹکنے لگے ، جب ان کے گرد شکنجہ کسا جانے لگا تو و ہ نیپال منتقل ہو گئے ، نیپال میں انہوں نے کشمیرکاز کیلئے بھر پور کام کیا،کھٹمنڈو میں قیام کے دوران اسلامک سیوک سنگھ نامی تنظیم کی بنیاد رکھی جو اس وقت نیپال کی سب سے بڑی مسلم تنظیم ہے،نیپال میں قیام کے دوران انہوں نے انٹرنیشنل اسلامک فیڈریشن آف اسٹوڈنٹ آرگنائزیشنز (آئی آئی ایف ایس او) کے تحت جنوبی ایشیا میں مسلم سٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے کوآرڈی نیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

    شیخ تجمل الاسلام پاکستان ہجرت کے بعد 1998ء سے 1999ء تک پاکستان ٹیلی ویژن کے نیوز سیکشن کے وابستہ رہے۔ انہوں نے 1992ء سے 2000ء تک انسٹی ٹیوٹ آف کشمیر افیرئرز کی سربراہی کی ۔بعد ازاں وہ 1999ءمیں ” کشمیر میڈیا سروس “ کے ساتھ بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر وابستہ ہو گئے اور اپنی آخری سانس تک اس ادارے کے ساتھ منسلک رہے، وہ ’ کشمیر انسائیٹ ‘ کے نام سے شائع ہونے والے انگریزی جریدے کے چیف ایڈیٹر بھی رہے۔

    شیخ تجمل الاسلام نے بین الاقوامی سطح پر اور پاکستان میں کشمیر پر مختلف کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شرکت کی اور اپنی تقاریر میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی ریشہ دوانیوں ، مذموم منصوبوں ، شاطرانہ چالوں کاپردہ چاک کرتے رہے ، انہوں نے کشمیر پر انگریزی اور اردو میں مضامین اور تجزیے تحریر کیے۔ وہ ہمیشہ تنازعہ کشمیر کے انصاف پر مبنی حل کی حمایت کرتے رہے۔ان کی دیانتداری اور دانشورانہ مہارت کی وجہ سے صحافتی حلقوں میں ان کی بہت عزت وتوقیر کی جاتی تھی۔

  • طالبان نے افغانستان کا آخری صوبہ پنجشیر فتح کر لیا

    طالبان نے افغانستان کا آخری صوبہ پنجشیر فتح کر لیا

    طالبان نے افغانستان کے آخری صوبے وادی پنج شیر کو فتح کرلیا۔

    باغی ٹی وی : افغان میڈیا کے مطابق طالبان نے اتوار کی شب پنج شیر کے صوبائی دارالحکومت بازارک پر اپنا قبضہ مکمل کرلیا۔اس وقت گورنر ہاؤس، پولیس ہیڈکوارٹرز اور پنج شیر ایئر پورٹ طالبان کے قبضے میں آچکے ہیں۔


    اس سے قبل طالبان پنج شیر کے تمام اضلاع کو فتح کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم بازارک میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری تھا جو طالبان کی فتح کے ساتھ ختم ہوگیا ہے۔


    طالبان اور قومی مزاحمتی فرنٹ میں پنج شیر کے آخری محاذ پر جھڑپوں کے دوران قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے بھانجے اور مزاحتمی فرنٹ کے ترجمان فہیم دشتی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ وہ مزاحمتی قوتوں کے ترجمان تھے اور ویڈیو پیغامات کے ذریعے اپنا نقطہ نظر بیان کرتے تھے۔


    اس کے علاوہ مزاحمتی قوتوں کے اہم ترین کمانڈر جنرل عبدالودود کی ہلاکت کی بھی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ وہ اشرف غنی کی فوج میں جرنیل تھے۔

    طالبان کی جانب سے تاحال پنج شیر کی مکمل فتح کا اعلان نہیں کیا گیا تاہم بعض جگہوں پر ہوائی فائرنگ کی گئی ہے۔ طالبان کے حامی بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے مطابق پنج شیر میں باضابطہ فتح کا اعلان صبح کے وقت کیا جائے گا۔طالبان

    آزادی اور انصاف کے لئے شروع کی گئی جنگ سےکنارہ کشی اختیار نہیں کریں گے احمد مسعود

  • پنجشیر جنگ میں  قومی مزاحمتی فرنٹ کا اہم ترین رہنما  اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا بھانجا ہلاک

    پنجشیر جنگ میں قومی مزاحمتی فرنٹ کا اہم ترین رہنما اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا بھانجا ہلاک

    پنج شیر پر قبضے کی جنگ کے دوران قومی مزاحمتی فرنٹ کا ترجمان مارا گیا جس کی تصدیق افغانستان کی وزارت اطلاعات کے سابق ترجمان طارق آرین نےکی ہے-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق افغانستان کی وزارت اطلاعات کے سابق ترجمان طارق آرین نے تصدیق کی ہے کہ قومی مزاحمتی فرنٹ کے ترجمان فہیم دشتی طالبان سے جنگ کے دوران ہلاک ہوگئے۔

    طالبان اور مزاحمتی فرنٹ کے جنگ کے دوران فہیم دشتی کافی متحرک رہے اور گاہے ویڈیو پیغامات کے ذریعے زمینی حالات کی خبریں دیا کرتے تھے وہ افغانستان کے سابق چیف ایگزیکٹو اور قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے بھانجے تھے۔

    کاؤنٹر ٹیرارزم تھنک ٹینک کے ڈپٹی ڈائریکٹر فاران جعفری نے قومی مزاحمتی فرنٹ کے ذرائع کے حوالے سے ایک ٹویٹ میں تصدیق کی کہ فہیم دشتی ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ آماج نیوز، افغان اینکر پرسن مسلم شہزاد اور صحافی بشیر احمد قسانی نے بھی فہیم دشتی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    خیال رہے کہ طالبان اور قومی مزاحمتی فرنٹ کے درمیان پنج شیر پر قبضے کی جنگ جاری ہے طالبان اب تک پنج شیر کے تمام اضلاع پر قبضہ کرچکے ہیں تاہم صوبائی دارالحکومت کے کچھ علاقوں میں تاحال جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ مزاحمتی فرنٹ کے رہنما احمد مسعود نے طالبان کو مشروط مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر طالبان اپنے حملے روک دیں تو شمالی اتحاد بھی لڑائی بند کردے گا۔

    وادی پنجشیر سے تعلق رکھنے والے سابق جہادی کمانڈر احمد شاہ مسعود کے صاحبزادے احمد مسعود وادی پنجشیر میں مزاحمتی فوس کی قیادت کر رہے ہیں جب کہ اطلاعات کے مطابق مفرور نائب صدر امر اللہ صالح بھی وہیں موجود ہیں۔

    آزادی اور انصاف کے لئے شروع کی گئی جنگ سےکنارہ کشی اختیار نہیں کریں گے احمد مسعود