Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • انشاءاللہ پاک انگلینڈ ٹی ٹوئنٹی ون سیریز جیتنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے      بابر اعظم

    انشاءاللہ پاک انگلینڈ ٹی ٹوئنٹی ون سیریز جیتنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے بابر اعظم

    پاکستان کے قومی کرکٹر اور کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ابتدائی چند گیندیں احتیاط سے کھیلیں گے-

    باغی ٹی وی :پاک انگلینڈ ٹی ٹوئنٹی ون سیریز کے میچ میں محمد رضوان کے ساتھ پارٹنر شپ پر 150 رنز بنانے پر بابر اعظم نے کہا کہ اننگز کے آغاز میں محمد رضوان کے لیے مشکل ہوئی تو خود چارج لیا تاکہ پریشر نہ آئے،شروع میں ہر اوور میں دس یا آٹھ رنز بنانے کی حکمت عملی پر کاربند تھے-

    بابر اعظم کا کہنا تھا کی شروع میں ڈیوڈ ویلے کو پچ سے مدد مل رہی تھی انشاءاللہ سیریز جیتنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے-

    قومی کرکٹر محمد رضوان کا کہنا تھا کہ ہم دونوں کی کامیابی میں سب سے اہم بات ہماری کریز پر مشاورت ہوتی ہے دوسرے اینڈ پر کھڑے ہوکر آپس میں مشاورت کرتے رہتے ہیں-

    محمد رضوان نے کہا کہ میری رننگ بہتر بنانے میں بابر اعظم کا کردار اہم ہے میں تو کیرئیر کے آغاز میں بہت مرتبہ رن آؤٹ ہوا مگر کپتان کے ساتھ کریز پر رننگ شاندار رہتی ہے-

    انہوں نے کہا کہ پارکنسن آیا تو کپتان نے سیدھے بیٹ سے کھیلنے کا مشورہ دیا اب ہمارا مومنٹم بن گیا ہے، سیریز جیت سکتے ہیں-

  • لاہور میں رپورٹ ہونے والے 70 فیصد کیسز کورونا کی بھارتی قسم کے ہیں    محکمہ صحت پنجاب

    لاہور میں رپورٹ ہونے والے 70 فیصد کیسز کورونا کی بھارتی قسم کے ہیں محکمہ صحت پنجاب

    محکمہ صحت پنجاب کا کہنا ہے کہ بھارتی ڈیلٹا ویرینٹ کورونا کی دیگر اقسام سے زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے لاہور میں رپورٹ ہونے والے 70 فیصد کیسز ڈیلٹا وائرس کے ہیں –

    باغی ٹی وی : محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے جاری تازہ رپورٹ کے مطابق لاہور میں کورونا وائرس کے 73 نمونوں کا تجزیہ کیا گیا گزشتہ 15 روز میں رپورٹ ہونے والے کیسز پر تجزیہ کیا گیا۔ لاہور میں ڈیلٹا کے 50 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    محکمہ صحت پنجاب کے مطابق کورونا کے ڈیلٹا قسم کا پھیلاوَ 100 فیصد زیادہ ہے لاہور میں رپورٹ ہونے والے 70 فیصد کیسز ڈیلٹا وائرس کے ہیں۔

    ترجمان محکمہ صحت کے مطابق لاہور میں کورونا کیسز کی مثبت شرح 3 اعشاریہ 7 فیصد پہنچ گئی ہے ڈیلٹا ویرینٹ سے بچاوَ کا واحد راستہ ویکسینیشن ہے۔

  • سیف علی خان اور کرینہ کپور کے چھوٹے بیٹے کے نام پر بھارتی سوشل میڈیا پر نئی بحث کا آغاز

    سیف علی خان اور کرینہ کپور کے چھوٹے بیٹے کے نام پر بھارتی سوشل میڈیا پر نئی بحث کا آغاز

    بھارتی اداکار جوڑی کرینہ کپور اور سیف علی خان کے بچوں کے ناموں پر ایک بار پھر بھارتی سوشل میڈیا پر نئی بحث کا آغاز پو گیا ہے-

    باغی ٹی وی : کرینہ کپور اور سیف علی خان کے ہاں رواں سال فروری میں دوسرے بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے اپنے پہلے بیٹے تیمور علی خان کے نام پر ہونے والے ہنگامے کے پیشِ نظر انہوں نے اپنے دوسرے بیٹے کا نام رکھنے میں بہت وقت لیا۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس ہفتے کرینہ کپور کے والد رندھیر کپور نے ایک بھارتی روزنامے کو انٹرویو میں بتایا کہ ان کے نواسے کا نام "جیہہ” رکھا ہے-

    جس کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے پھر سے نفرت آمیز گفتگو کا سلسلہ شروع کر دیا کسی نے جہادی کہا تو کسی نے چنگیز خان، کسی نے کہا کہ یہ مغل بادشاہ جہانگیر کے نام پر رکھا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ چند روز قبل کرینہ کپور اور اداکار سیف علی خان نے اپنے دوسرے بیٹے کا نام تمام خاندان والوں کی مشاورت سے "جیہہ’ رکھا ہے "جیہہ "ایک پارسی لفظ ہے جس کا مطلب نیلے رنگ کا پرندہ ہے اور آنا بھی ہے

    واضح رہے کہ اس سے قبل کرینہ کپور اور اداکارسیف علی خان سے متعلق یہ خبریں زیرِ گردش تھیں کہ اُنہوں نے اپنے چھوٹے بیٹے کا نام ’جے‘ رکھ دیا ہے۔
    بھارتی میڈیا کا کہنا تھا کہ کرینہ کپور اور سیف علی خان نے اپنے دوسرے بیٹے کا نام ’جے‘ رکھا ہے تاہم اُنہوں نے اپنے بیٹے کے اس نام کو ابھی تک سرکاری دستاویزات کے لیے حتمی شکل نہیں دی ہے۔

    بھارتی میڈیا کا کہنا تھا کہ سیف علی خان اور کرینہ کپور گھر میں اپنے چھوٹے بیٹے کو ’جے‘ کے نام سے ہی پکارتے ہیں۔

    یاد رہے کہ بھارتی فلمی جوڑے کا ایک بڑا بیٹا تیمورعلی خان ہے جس کی عمر اس وقت 4 سال ہے۔

    سیف علی خان اور کرینہ نے دوسرے بیٹے کا نام "جے” رکھا ہے؟

  • واٹس ایپ کا بھارت میں کریک ڈاؤن،20 لاکھ بھارتی اکاؤنٹس بند کر دیئے

    واٹس ایپ کا بھارت میں کریک ڈاؤن،20 لاکھ بھارتی اکاؤنٹس بند کر دیئے

    کیلی فورنیا ،سلیکون ویلی: فیس بۃک کی زیر ملکیت سماجی رابطے کی ویب سائٹ واٹس ایپ نے بھارت کے 20 لاکھ اکاؤنٹس بند کر دیئے۔

    باغی ٹی وی :واٹس ایپ جعلی خبروں اور غلط معلومات کی روک تھام کے لیے اقدامات کر رہا ہے تاہم اپنی اسی مہم کے مدنظر واٹس ایپ نے نقصان دہ اور غلط معلومات دینے پر بھارتی صارفین کے 20 لاکھ اکاؤنٹس بند کیے۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے نئے انفارمیشن ٹیکنالوجی قوانین کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے ایک ماہ میں ان 20 لاکھ اکاؤنٹس کو بند کیا جن کے ذریعے غلط اور نقصان دہ معلومات شیئر کی گئی تھیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ ناقص معلومات پر اکاؤنٹس بلاک نہیں کیے جاتے بلکہ ٹھوس وجوہات پر کارروائی کی جاتی ہے ان صارفین نے رواں سال 15 مئی سے 15 جون تک واٹس ایپ کے قوانین کی خلاف ورزی کی تھی۔

    کمپنی کا کہنا تھا کہ نقصان دہ اور غیر مطلوبہ پیغامات کے پھیلاؤ کو روکنا اہم ٹارگٹ ہے اور کمپنی ہر ماہ 80 لاکھ اکاؤنٹس کو بلاک کرتی ہے۔

    واضح رہے کہ معروف میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ کے بھارت میں 400 ملین سے زائد صارفین ہیں اور واٹس ایپ نے بھارت کے نئے متنازع سوشل میڈیا قوانین کے تحت پہلی رپورٹ جاری کی ہے۔

  • جرمنی اور بیلجئیم میں بارشوں کے باعث سیلاب ، 120 افراد جاں بحق اورسیکڑوں لاپتہ ہوگئے

    جرمنی اور بیلجئیم میں بارشوں کے باعث سیلاب ، 120 افراد جاں بحق اورسیکڑوں لاپتہ ہوگئے

    مغربی یورپ :جرمنی اور بیلجئیم میں طوفانی بارشوں کے باعث شدید سیلاب آنے کے بعد 120 افراد جاں بحق اور سیکڑوں افراد لاپتہ ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ریسکیو عملہ نے سیلاب سے ممکنہ طور پر بچ جانے والے افراد کی تلاش شروع کردی ہےشدید بارش اور سیلاب نے سوئٹزرلینڈ، لکسمبرگ اور نیدرلینڈ میں بھی تباہی مچائی ہے۔

    سیلاب سے جرمنی میں ہلاکتوں کی تعداد 100 سے زائد ہوگئی ہے جرمن صدر فرینک والٹر اسٹین میئر نے ہفتے کے روز سیلاب سے متاثرہ ایک علاقے کے دورے کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ سیلاب کی تباہی دیکھ کر”ششدر” رہ گئے ہیں۔

    مسٹر اسٹین میئر نے کہا کہ سیلاب نے ہر جگہ تباہی مچائی ہے بہت سے لوگوں نے وہی کھو دیا ہے جو انہوں نے ساری زندگی میں تعمیر کیا تھاجگہ جگہ سیلابی پانی کھڑا ہونے کے سبب جرمنی میں ریسکیو ٹیموں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کے بارے میں جاننے کے لیے بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔

    سیلاب کے باعث جرمنی میں فون نیٹ ورک شدید متاثر ہوا ہے، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہیں اور ایک لاکھ سے زائد گھروں کی بجلی کٹ گئی ہےجرمنی میں سیلاب سے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا، رائن لینڈ، پیلاٹیٹائن اور سارلینڈ کی ریاستیں سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔

    پیلاٹیٹائن کے ضلع احرویلر میں عہدیداروں نے کہا کہ تقریبا 1300 افراد لاپتہ ہوئے ہیںرائن لینڈ-پیلاٹیٹائن کے وزیر داخلہ راجر لیونٹز نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ لوگوں کو اتنے لمبے عرصے تک نہیں سن سکتے تو آپ کو بدترین نتیجے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

    دوسری جانب بیلجیئم میں سیلاب سے 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں چار صوبوں میں ریسکیو آپریشن کے لیے فوج کی مدد حاصل کی ہے بیلجیئم کے وزیر اعظم الیگزینڈر ڈی کرو نے 20 جولائی کو یوم سوگ کا قومی دن منانے کا اعلان کردیا ہےانہوں نے کہا کہ یہ سیلاب ہمارے ملک میں اب تک کا سب سے زیادہ تباہ کن واقع ہے۔

    جبکہ سوئٹزرلینڈ میں بھی تیز بارشوں کے بعد جھیلوں اور دریا میںپانی کا بہاؤ بڑھ گیا ہے۔

  • علی ظفرعیدالاضحیٰ پر کیا پیش کرنے والے ہیں؟

    علی ظفرعیدالاضحیٰ پر کیا پیش کرنے والے ہیں؟

    پاکستان کے معروف اور عالمی شہرت یافتہ گلو کار اور اداکار علی ظفر نے عید الاضحیٰ کے موقع پر اپنے نئے پراجیکٹ کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلا ت کے مطابق معروف گلوکار علی ظفر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر پراجیکٹ کی تیاری کے دوران لی گئی تصیور شئیر کی –

    گلوکار و اداکار نے اپنی پوسٹ کے کیپشن میں مداحوں کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ سب تیار ہوجاؤ کیونکہ ایک اور دھماکے دار آئٹم آنے والا ہے۔

    انسٹاگر ام پر شیئر کی گئی پوسٹ کا مطابق علی ظفر کا نیا گانا عید الاضحیٰ نے موقع پر ریلیز کیا جائے گا۔

    Ali Zafar, علی ظفرعیدالاضحیٰ پر کیا پیش کرنے والے ہیں؟ #baaghi #alizafar

  • خاتون کی ٹریفک اہلکار کی جانب سے روکنے اور چالان کرنے پر بدتمیزی اور ہاتھا پائی، ویڈیو وائرل

    خاتون کی ٹریفک اہلکار کی جانب سے روکنے اور چالان کرنے پر بدتمیزی اور ہاتھا پائی، ویڈیو وائرل

    لاہور: ایک خاتون کی ٹریفک اہلکار سے بدتمیزی اور ہاتھا پائی کی ویڈیو انٹرنیٹ پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی :ٹریفک وارڈنز اور عام شہریوں کے درمیان چالان پر تلخ کلامی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو تی رہتی ہیں لیکن اب ایک خاتون کی ٹریفک اہلکار سے بدتمیزی اور ہاتھا پائی کی ویڈیو سامنے آئی ہے –

    تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہو نے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون مہنگی اور لگژری گاڑی ’ مرسیڈیز ‘ میں بیٹھی ہوئی ہے اور مزے سے ڈرائیو کرتے ہوئے آ رہی ہے ، نمبر پلیٹ جعلی ہونے پر وارڈن انہیں رکنے کیلئے اشارہ کرتاہے۔


    گاڑی رکنے پر ٹریفک اہلکار خاتون سے ڈرائیونگ لائسنس یا گاڑی کی بک کا مطالبہ کرتا ہے اور کہتاہے کہ کچھ دن پہلے بھی آپ کو تنبیہ کی تھی کہ اپنی نمبر پلیٹ تبدیل کریں اور اصلی لگائیں لیکن جب آپ کو آج دوبارہ روکا گیا تو آپ نے گاڑی بھی نہیں روکی ۔

    ویڈیو میں وارڈن خاتون سے پوچھتا ہے کہ گاڑی کی اصلی پلیٹس کہاں پر ہیں جو ایکسائز سے جاری ہوتی ہیں ؟ خاتون جواب دیتی ہے کہ وہ بننے کیلئے گئی ہیں

    ٹریفک اہلکار خاتون سے ڈرائیونگ لائسنس لینے کے بعد دوسرے اہلکار کو چالان کرنے کیلئے دیتا ہے اور خود گاڑی کی جعلی نمبر پر توڑ کر اتار لیتا ہے ، خاتون یہ دیکھ کر گاڑی سے باہر نکلتی ہے اور چلانے لگتی ہے-

    وارڈن خاتون سے ہاتھا پائی نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہتاہے کہ یہ مت کریں آپ خاتون ہیں اس لیے حد میں رہیں ، لیکن خاتون باز نہیں آتی اور مسلسل ٹریفک اہلکار پر ہاتھ اٹھاتی دکھائی دیتی ہے یہاں تک کہ وہ وارڈن سے موبائل فون بھی چھین کر نیچے پھینک دیتی ہے ۔

  • سمندری بلی کو تنگ کرنے پر نوبیاہتا جوڑے کو بھاری جرمانہ عائد

    سمندری بلی کو تنگ کرنے پر نوبیاہتا جوڑے کو بھاری جرمانہ عائد

    امریکی ریاست ہوائی میں سمندری بلی (مونک سیل) کو تنگ کرنے پر نوبیاہتا جوڑے پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست ہوائی میں ہنی مون منانے آنے والی خاتو ن جزیرے پر موجود سمندری بلی کو ہاتھ لگایا اور ویڈیو بھی بنائی خاتون نے سمندری کے ساتھ بنائی گئی ویڈیو ٹک ٹاک پر شیئر کی لیکن وہاں سے ایک صارف نے اسے ڈاؤن لوڈ کرکے انسٹاگرام پر شیئر کیا جو وائرل ہو گئی جس سے متعلقہ حکام کی توجہ اس مسئلے کی طرف مبذول ہوتی ہے۔

    وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے ویڈیو میں خاتون کو سمندری بلی کے ساتھ تصویر لیتی ہیں اور اسے ہاتھ لگاتی ہیں جس پر بلی نے ان پر حملہ کرنے کی بھی کوشش کی اور میاں بیوی کے پیچھے ہٹ جانے پر سمندری بلی دوبارہ اپنی جگہ پر چلی گئی اور آرام کرنے لگی ویڈیو کو 60 ہزار سے زیادہ افراد نے دیکھا تھا۔

    سمندر اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے نے سمندری بلی کو پریشان کرنے والے جوڑے پر جرمانہ عائد کر دیا لوزیانا سے آنے والا نوبیاہتا جوڑا حکام کی جانب سے لیے گئے نوٹس اور جرمانے پر انتہائی پریشان ہے-

    امریکی میڈیا کے مطابق امریکی میڈیا کے مطابق ، جوڑے کو ہوائی ریاست کے قانون کے تحت 50 ڈالر تک جرمانہ اور پانچ سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

    سمندری بلی کوچھیڑنےوالی خاتون کے شوہر نے مقامی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جزیرے پر کوئی انتباہی بورڈ موجود نہیں تھا اسی وجہ سے اہلیہ اُس کے ساتھ کھیل رہیں تھی، ہمارا کسی کو تنگ کرنے یا قانون کی خلاف ورزی کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

    این او اے اے کے مطابق ، ہوائی مانک کا سیل سیارے کی سب سے خطرے میں مبتلا نوع میں سے ایک ہے اور اس کی تقریبا 14 سو سپی شیز ہیں وہ ہوائی کے تمام جزیروں پر پائے جاتے ہیں۔

  • سوشل میڈیا پرعالمی وبا کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات دی جارہی ہیں     امریکی صدر

    سوشل میڈیا پرعالمی وبا کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات دی جارہی ہیں امریکی صدر

    امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا سے عالمی وبا کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات دی جارہی ہیں۔

    باغی ٹی وی : وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جوبائیڈن نے کہا ہے کہ غلط معلومات دینے والے لوگوں کو مار رہے ہیں، کورونا اب صرف غیر ویکسین شدہ افراد کے درمیان رہ گیا ہےفیس بک کو اپنا طرز عمل بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

    غیر ملکی نشریاتی ادارے "رائٹرز” کے مطابق جمعرات کو وائٹ ہائوس کے پریس سیکرٹری جین ساکی کا کہنا ہے کہ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا ادارے ان غلط معلومات کی روک تھام کیلئے مناسب اقدامات نہیں کر رہے ہیں۔ اور ہر کسی کو کردار ادا کرنا چاہیے کہ جو بھی معلومات دی جارہی ہیں وہ سچ پر مبنی ہوں۔

    ساکی نے کہا کہ فیس بک ، جو انسٹاگرام اور واٹس ایپ کا مالک ہے ، کو اپنے پلیٹ فارم سے ویکسین کی غلط معلومات کو دور کرنے کے لئے زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انسداد ویکسین کی 65 فیصد غلط معلومات کے لئے 12 افراد ذمہ دار ہیں۔ اس کا پتہ سینٹر فار کاؤنٹر ڈیجیٹل ہیٹ نے مئی میں کیا تھا ، لیکن فیس بک نے اس طریقہ کار کو متنازع کردیا ہے۔

    ساکی نے کہا ، "یہ سبھی فیس بک پر سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیس بک کو بھی "نقصان دہ خلاف ورزی پوسٹوں کو دور کرنے کے لئے زیادہ تیزی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔”

    امریکی سرجن جنرل وویک مورتی نے بھی کووڈ 19 اور اس سے متعلق ویکسینزکے بارے میں غلط معلومات کی بڑھتی لہر پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ، اور کہا کہ یہ وبائی امراض کا مقابلہ کرنا اور جان بچانا مشکل بنا رہا ہےانہوں نے ایک بیان میں کہا ، "امریکی جانوں کو خطرہ ہے۔

    صدر جو بائیڈن کی سربراہی میں ملک کے اعلی ڈاکٹر کی حیثیت سے اپنے پہلے مشورے میں ، مورتی نے ٹیک کمپنیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے الگورتھم کو موڑ دیں تاکہ غلط معلومات کو مزید تخفیف کی جاسکے اور محققین اور حکومت کے ساتھ مزید ڈیٹا شیئر کریں تاکہ اساتذہ ، صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں اور میڈیا کو غلط معلومات سے لڑنے میں مدد ملے۔

    یشنل پبلک ریڈیو کے ذریعہ اطلاع دی گئی کہ”صحت سے متعلق غلط معلومات عوامی صحت کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔ اس سے الجھن پیدا ہوسکتی ہے ، عدم اعتماد کو بویا جاسکتا ہے ، لوگوں کی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور صحت عامہ کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ صحت سے متعلق غلط معلومات کے پھیلاؤ کو محدود رکھنا اخلاقی اور معاشرتی طور پرلازمی امر ہے-

    دوسری جانب فیس بک نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حقائق کے برخلاف الزامات سے پریشان نہیں ہوں گے۔

    فیس بک کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی نے "کمپنی نے کوویڈ 19 کے بارے میں غلط معلومات اور عوامی صحت کی حفاظت کے لئے ویکسین کے خلاف جارحانہ اقدام اٹھانے” کے لئے سرکاری ماہرین ، صحت کے حکام اور محققین کے ساتھ شراکت کی ہے۔

    ترجمان نے مزید کہا ، "اب تک ہم نے کوویڈ کی غلط معلومات کے 18 ملین سے زائد اکاؤنٹس بلاک کر دیئے ہیں ان قوانین کو بار بار توڑنے والے اکاؤنٹس کو ہٹا دیا ہے ، اور 2 ارب سے زائد افراد کو ہمارے ایپس میں کووید 19 اور ویکسین کے بارے میں قابل اعتماد معلومات سے مربوط کیا ہے۔”

    فیس بک نے وبا اور اس کی ویکسین کے بارے میں کچھ غلط دعوے کرنے کے خلاف قوانین متعارف کرائے ہیں۔ پھر بھی ، محققین اور قانون سازوں نے طویل عرصے سے سائٹ پر مواد کی سست روی کے بارے میں شکایت کی ہے۔

    مورتی نے وائٹ ہاؤس کی پریس بریفنگ میں کہا کہ وبا کی غلط معلومات زیادہ تر ان افراد کی طرف سے آتی ہیں جو شاید یہ نہیں جانتے ہیں کہ وہ جھوٹے دعوے پھیلارہے ہیں –

    ان کی ایڈوائزری لوگوں سے یہ بھی درخواست کرتی ہے کہ وہ آن لائن آن لائن مشکوک معلومات کو نہ پھیلائیں۔ سینٹر فار کاؤنٹر ڈیجیٹل ہیٹ کے سربراہ ، ایک گروپ جو وبا کے بارے غلط معلومات پر آن لائن پر نظر رکھتا ہے ، نے کہا کہ یہ ناکافی ہے۔

  • حیدر آباد سے اغوا ہونے والی کم سن بچی بلوچستان سےعین نکاح کے وقت بازیاب

    حیدر آباد سے اغوا ہونے والی کم سن بچی بلوچستان سےعین نکاح کے وقت بازیاب

    سندھ کے ضلع حیدر آباد سے اغوا ہونے والی کم سن بچی کو پولیس نےعین نکاح کے وقت بازیاب کرالیا سندھ پولیس کے مطابق بچی کو پہلے اغوا کیا گیا اور بعد میں اس کی شادی تین گنا بڑی عمر کے مرد کے ساتھ کروائی جا رہی تھی

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق سندھ پولیس نے بچی کو بلوچستان کے علاقے جعفرآباد سے بازیاب کرایا بی بی سی نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ بچی کو عین اس وقت بازیاب کروایا گیا جب نکاح کی تقریب جاری تھی اور کمسن بچی سے زبردستی دو بار رضا مندی لے لی گئی تھی جبکہ تیسری بار ہاں کرنے سے پہلے ہی اسے بازیاب کروا لیا گیا۔

    سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدر آباد میں تعینات سب ڈویژنل پولیس آفیسر سٹی سرکل اسسٹنٹ سپرنٹینڈنٹ آف پولیس علینہ راجپر نے بی بی سی کواس واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حیدر آباد کے علاقے نسیم نگر کی 13 سالہ کمسن بچی نگینہ (فرضی نام) مقامی سکول میں چھٹی جماعت کی طالبہ ہے اور اس کے والد کچھ عرصہ پہلے وفات پا چکے تھے۔

    پولیس کے مطابق ان کے ہمسائے میں ایک خاندان جو کہ کچھ عرصہ پہلے ہی اس علاقے میں منتقل ہوا تھا اور اس گھر میں رہنے والی خاتون کا ان کے گھر کبھی کھبار آنا جانا تھا۔

    اے ایس پی علینہ کے مطابق بازیاب بچی کے بیان کے بقول گذشتہ ماہ کی 18 تاریخ کو وہ تیار ہو کر سکول جارہی تھی کہ اس خاتون نے بچی کو پیدل سکول جاتے دیکھ کر کہا کہ وہ پیدل سکول کیوں جارہی ہے؟ اس خاتون نے ایک رکشہ کرائے پر لیا اور اسے اس رکشے میں سوار کروایا اور خود بھی اس رکشے میں بیٹھ گئیں۔

    بچی کے بیان کے مطابق سکول کی عمارت قریب آنے سے پہلے رکشے والے کو اشارہ کرکے دوسری سڑک پر جانے کو کہا جہاں پر پہلے ہی سے ایک گاڑی کھڑی ہوئی تھی جس میں اس خاتون کا بیٹا عبدالشکور پہلے سے ہی موجود تھا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ بچی نے مزید بتایا کہ اس خاتون نے اسے رکشے سے اتار کر زبردستی گاڑی میں سوار کروایا اور اسے نامعلوم مقام پر لے گئے۔

    بچی نے پولیس کو بتایا کہ جب اسے زبردستی گاڑی میں سوار کیا جا رہا تھا تو اس نے شور مچانا شروع کردیا لیکن اس خاتون نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا پھر اس کے بعد اسے بے ہوش کردیا گیا۔

    بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اے ایس پی علینہ راجپر کے مطابق پولیس نے پہلے دو تین دن تو اس واقعہ کا مقدمہ درج نہیں کیا اور پولیس اور ان کے گھر والے اپنے تئیں اس کو تلاش کرتے رہے۔

    انہوں نے کہا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ بچی کے والدین کی تو کسی سے دشمنی بھی نہیں تھی اور نہ ہی وہ اتنے امیر تھے تو پھر اس بچی کو کون اغوا کرسکتا ہے؟ جب کمسن بچی کا سراغ نہ ملا تو پولیس نے علاقے کی ریکی کرنا شروع کردی تو معلوم ہوا کہ ان کی گلی میں کچھ لوگ حال ہی میں شفٹ ہوئے تھے اور اس واقعہ کے بعد وہ پورا خاندان غائب تھا۔

    انھوں نے کہا کہ کمسن بچی کی والدہ کے بقول اس خاتون کا کبھی کبھار ان کے گھر آنا جانا ہوتا تھا اور اس خاتون کے بیٹے عبدالشکور کے زیر استعمال جو موبائل نمبر تھا وہ مغوی بچی کی والدہ کو معلوم تھا۔

    اے ایس پی علینہ کے مطابق پولیس نے اس نمبر پر جب بھی رابطہ کیا تو وہ بند ملا تاہم جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے پولیس کو یہ معلوم ہوا کہ پورے دن میں یہ موبائل صرف پانچ منٹ کے لیے آن ہوتا ہے جس کے بعد وہ بند ہو جاتا ہے اور اس موبائل کی لوکیشن سکھر کی بتائی جاتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پولیس کی متعدد ٹیمیں وہاں پہنچیں اور یہ موبائل رات کے پچھلے پہر کچھ دیر کے لیے آن ہوتا تھا اور پھر بند ہوجاتا تھا تو ایسے حالات میں ملزمان کا سراغ لگانا بہت مشکل تھا اس عرصے کے دوران اغوا ہونے والی کمسن بچی کا اپنی والدہ کو فون آیا اور اس نے اپنی والدہ کو بتایا کہ اسے اغوا کیا گیا ہے اور وہ اس وقت سکھر میں ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ جس نمبر سے ٹیلی فون آیا تھا جب اس کی لوکیشن معلوم کی گئی تو وہ بلوچستان کے علاقے جعفر آباد کی آرہی تھی۔سندھ پولیس نے بلوچستان پولیس سے رابطہ کیا اور اجازت ملنے کے بعد پولیس کی دو ٹیمیں جعفرآباد میں اس علاقے میں گئیں جہاں سے یہ موبائل استعمال ہوا تھا۔

    علینہ راجپر کے مطابق پولیس حکام نے علاقے کے با اثر لوگوں سے بھی رابطہ کیا اور انھیں اس واقعہ کے بارے میں بتایا علاقے کے لوگوں نے ملزمان کے گھر تک پہنچانے میں پولیس کی مدد کی۔

    انہوں نے کہا کہ پولیس نے جب کمسن بچی کی بازیابی کے لیے چھاپہ مارا تو اس وقت نکاح کی تقریب ہو رہی تھی اور محلے کا مولوی کمسن بچی کا نکاح چالیس سالہ شخص ارشار عرف معشوق سے پڑھوا رہا تھا اس نکاح سے متعلق اس کمسن بچی کی رضامندی حاصل کی جارہی تھی اگر پولیس تھوڑی سی بھی لیٹ ہوجاتی تو اس کمسن بچی کا نکاح ملزم ارشاد سے ہو جانا تھا۔

    ملزم ارشاد کے بارے میں اے ایس پی کا کہنا تھا کہ وہ قتل کے دو مقدمات میں اشتہاری ہے اور وہ اس مقدمے میں نامزد دوسرے ملزم عبدالشکور کا رشتہ دار ہےپولیس نے جب بچی کی بازیابی کے لیے گھر پر چھاپہ مارا تو اس وقت ملزم کی والدہ اور اس کا رشتہ دار عبدالشکور گھر پر موجود نہیں تھے۔

    علینہ راجپر کے مطابق بازیابی کے بعد کمسن بچی نے پولیس کو بتایا کہ اس گھر میں چار خواتین موجود تھیں جو اس سے گھر کی صفائی اور برتن دھونے کا کام کرواتی تھیں اگر کہیں غلطی ہوجاتی تو اسے تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا۔

    اے ایس پی کے مطابق بازیاب ہونے والی بچی کا کہنا تھا کہ ایک دن گھر کی صفائی کے دوران ایک کمرے میں موجود موبائل، جو کہ گھر میں موجود خواتین کے زیر استعمال تھا، کو پکڑا اور باتھ روم میں جا کر اپنی والدہ کو اس نمبر سے کال کی تھی جب وہ اپنی والدہ کو فون کر رہی تھی تو اس نے باتھ روم میں پانی کا نل چلا دیا تھا تاکہ باہر آواز نہ جائے اگر لڑکی اس موبائل سے اپنی والدہ کو فون نہ کرتی تو شاید اس بچی کا سراغ لگانا ناممکن ہو جاتا۔

    کمسن بچی کو بازیاب کروانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے بارے میں علینہ راجپر کا کہنا تھا کہ پولیس نے سب سے پہلے ملزم کے بھائی کے زیر استعمال موبائل کا ڈیٹا متعلقہ موبائل کمپنی سے حاصل کیا اور اس کے بعد جہاں پر یہ فون استعمال ہو رہا ہے اس کے قریبی موبائل ٹاور کی لوکیشن معلوم کرکے ملزم کو پکڑنے کی کوشش کی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ اس موبائل نمبر پر جنتی کالیں موصول ہوئیں اور جتنی کالیں کی گئیں اس کا ڈیٹا حاصل کرلیا گیا اور جن نمبروں سے زیادہ مرتبہ کالیں آئی ہوں یا کالیں کی گئی ہوں تو اس نمبر پر کال کر کے ملزم کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔