Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • عشرہ ذوالحج کے 10 دنوں میں نیک اعمال میں سب سے افضل عمل

    عشرہ ذوالحج کے 10 دنوں میں نیک اعمال میں سب سے افضل عمل

    ویسے تو ذوالحج کے پہلے شعرے میں ہر عمل کا ہی بیت زیادہ اجر و ثواب ہے تاہم ان نیک اعمال میں سے اللہ تعالیٰ کا ذکر سب سے افضل ہے ان دنوں میں بکثرت تہلیل‘ تکبیر اور تحمیدکرنی چاہیے۔ یید الاضحی کی تکبیرات ذوالحجہ کی ابتدا سے لیکر 13 ذوالحجہ کے آخر تک کہنا شرعی عمل ہے-

    اس بارے میں فرمان باری تعالی ہے:ترجمہ: تا کہ وہ اپنے فائدے کی چیزوں کا مشاہد ہ کریں، اور مقررہ دنوں میں اللہ کے نام کا ذکر کریں[الحج : 28
    ]یہاں ” مقررہ دن” سے مراد عشرہ ذو الحجہ ہے

    اور دوسری جگہ فرمان باری تعالی: ترجمہ: اور گنتی کے چند دنوں میں اللہ کا ذکر کرو [البقرة : 203]
    اور یہاں ” چند دن”سے مراد ایام تشریق ہیں۔

    اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ایام تشریق کھانے پینے، اور ذکر الہی کے دن ہیں،مسلم

    امام بخاری صحیح بخاری میں فرماتے ہیں کہ ابن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما عشرہ ذوالحجہ میں بازار جا کر تکبیرات کہتے، تو لوگ بھی انکی تکبیروں کے ساتھ تکبیرات کہتے اور عمر بن خطاب، آپکے صاحبزادے، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما منی کے دنوں میں مسجد، اور خیمہ ہر جگہ بلند آواز سے تکبیرات کہتے، حتی کہ پورا منی تکبیروں سے گونج اٹھتا۔

    اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ متعدد صحابہ کرام سے مروی ہے کہ وہ عرفہ کے دن [9 ذوالحجہ]کی نماز فجر سے لیکر 13 ذوالحجہ کی عصر تک پانچوں نمازوں کے بعد تکبیرات کہتے تھے، یہ عمل ان لوگوں کیلئے ہے جو حج نہیں کر رہے، جبکہ حجاج کرام اپنے احرام کی حالت میں یوم النحر یعنی 10 ذوالحجہ کو بڑے جمرہ پر رمی کرنے تک تلبیہ کہتے رہیں گے اور اسکے بعد تکبیرات کہیں گے-

    چنانچہ یہ تکبیرات مذکورہ جمرہ کو پہلی کنکری مارنے سے شروع ہوں گی، اور اگر تلبیہ کیساتھ تکبیرات بھی کہتا رہے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ بخاری شریف میں ہے کہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں عرفہ کے دن تلبیہ کہنے والے تلبیہ کہتے، اور انہیں کوئی نہیں ٹوکتا تھا، اور تکبیرات کہنے والے تکبیرات کہتے، انہیں بھی کوئی نہیں ٹوکتا تھا لیکن احرام والے شخص کیلئے افضل تلبیہ ہی ہے، جبکہ مذکورہ دنوں میں احرام کھلنے کے بعد تکبیرات افضل ہیں۔

    پانچ دنوں میں تکبیر مطلق اور تکبیر مقید اکٹھی ہوجاتی ہیں، اور یہ پانچ دن یوم عرفہ، یوم نحر، اور ایام تشریق کے تین دنیعنی: 9 ذوالحجہ سے 13 ذوالحجہ تک اور آٹھ ذو الحجہ اور اس سے پہلے والے ایام میں تکبیرات ابتدائے ذوالحجہ ہی سے مطلق ہیں مقید نہیں ہیں-

    مسند احمد میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی نیک عمل کسی دن میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنا محبوب اور معظم نہیں جتنا ان دس دنوں میں محبوب اور معظم ہے ، چنانچہ ان دنوں میں کثرت کیساتھ "لا الہ الا اللہ”، "اللہ اکبر”اور "الحمد للہ” کہا کرو-

    محمد بن علی نفل نمازوں کے بعد بھی تکبیر کہتے تھے جیسے تہجد ، اشراق ، چاشت کے پڑھے یا اس کے علاوہ اسی طرح عورتیں بھی تکبیرات پڑھتی تھیں –

    دوسرا کام 9 ذالحجہ کا روزہ ہے جس کی خاص فضیلت ہے اس سے گناہ معاف ہوتے ہیں اور اس دن کا روزہ ایک سال گزرے ہوئے اور ایک سال آنے والے دنوں کا کفارہ بنتا ہے اس کے علاوہ باقی دنوں کے رمضان کے چھوڑے روزوں کا بھی ان دنوں میں کفارہ ادا کر سکتے ہیں اجر کا اجر فرض کی ادائیگی بھی ہو جائیگی ان دنوں رمضان کے چھوڑے روزے رکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ شوال میں الگ الگ رکھنے پڑھتے ہیں اس میں اکٹھے 8 رکھے جاسکتے ہیں-

    تیسرا سب سے افضل عمل قربانی ہے ہر شخص الگ الگ قربانی نہیں کر سکتا تو مل کر بھی اکٹھے ہو کر کی جا سکتی ہے-

    ان دنوں جہاں ایک طرف تسبیحات کی کثرت کرنی ہے تو دوسری طرف ان چیزوں سے ہرہیز کرنا ہے جن سے اعمال ضائع ہونے کا خدشہ ہو جھوٹ غیبت چغلی طعنہ ہنسی مذاق فضول میں لغو باتیں اپنے شر سے دوسروں کو محفوظ رکھنا اپنی زبان بے دوسروں کو تکلیف نہ پہنچانا بد گمانی تجسس ٹوہ نہیں لگانا آڑ نہیں دلانا نفرت و بغض نہیں کرنا ظلم نہ کرنا ہے نہ ہونے دینا ہے کسی کو بے عذت نہیں کرنا آڑ دلانا اور طعنہ دینے والی عادتوں کو چھوڑنا ہے غصہ نافذ کرنے کی طاقت رکھنے کے باوجود اسے چھوڑ دینا ہے –

    گالی گلوچ بدزبانی سے بچنا ہے رشتہ داروں سے قطع تعلقی نہیں کرنی ان کو منانا ہے ظالم رشتہ داروں کے ساتھ بھی مہربانی سے پیش آنا ہے ایمان کی تجدید کرنی ہے ہمسایوں کواپنے شر سے بچانا ہے صبر وتحمل اور درگز کرنا ہے اچھا اخلاق کرنا ہے اول وقت پر نماز کرنا ہے قیام لمبا کرنا ہے ہو سکے تو تہجد پڑھنا اور روزہ رکھنا ہے –

    علاوہ ازیں مالی صدقات میں اہل و عیال کی ضرویات پوری کرنا ہے ناراض رشتہ دار کو تحفہ دینا اپنے بہن بھائی دوستوں کی ضرورویات پوری کرنا پانی پلانا ایسا صدقہ دینا کہ خود کو محتاج نہ کرے کسی ناراض لوگوں کو آپس میں صلح کرانا کسی کو خوش کرنا کسی کی پریشانی دور کرنا پھر اپنے نفس اور خواہش کا جہاد کرنا کوگوں کو اپنی برائی سے محفوظ رکھنا شامل ہیں-

  • ایک فلم کا کروڑوں معاوضہ لینے والے بالی ووڈ ادکاروں کے باڈی گارڈز کی تنخواہ کتنی؟

    ایک فلم کا کروڑوں معاوضہ لینے والے بالی ووڈ ادکاروں کے باڈی گارڈز کی تنخواہ کتنی؟

    بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان، سلمان خان، امیتابھ بچن جیسے کئی بڑے ستارے ہمیشہ اپنے ساتھ باڈی گارڈز رکھتے ہیں جو ان اداکاروں کی حفاظت پر مامور ہوتے ہیں۔ تاہم ایک فلم کا کروڑوں معاوضہ لینے والے یہ فنکار اپنے باڈی گارڈز کو کتنا معاوضہ دیتے ہیں جان کر آپ کے بھی ہوش اڑجائیں گے۔

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا کے مطابق وفادار اور قابل اعتماد باڈی گارڈ حاصل کرنا کسی مشہور شخصیت کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں اور اچھی طرح سے ، کچھ مشہور شخصیات اس معاملے میں واقعی خوش قسمت رہیں۔ اگر سلمان خان کے ساتھ ان کا باڈی گارڈ شیرا ہے تو شاہ رخ خان کے پاس روی سنگھ ہیں۔ اگر دیپیکا پڈوکون کے پاس جلال ہے تو انوشکا شرما کے پاس پرکاش سنگھ عرف سونو ہے-

    یہ محافظ کئی سالوں سے متعلقہ مشہور شخصیات کے ساتھ وابستہ ہیں اور ان کی حفاظت کے لئے خدمات انجام دیتے رہتے ہیں۔ جب بھی مشہور شخصیات عوامی سطح پر نکلیں گی آپ نے ہمیشہ ان کو ساتھ دیکھا ہوگا –

    یہاں بالی ووڈ کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے مشہور فنکاروں جو دراصل کروڑوں میں کماتے ہیں۔ اس فہرست میں شیرا ، جلال ، روی سنگھ ، سونو سمیت دیگر شامل ہیں۔

    سلمان خان کا باڈی گارڈ شیرا:
    شیرا گزشتہ 25 سالوں سے سلمان خان کے لئے کام کررہا ہےشیرا نا صرف سلمان خان کا محافظ ہے بلکہ ان کے گھر کے ایک فرد کی طرح ہے۔ سلمان خان چاہے کسی شوٹنگ پر جائیں یا کہیں اور شیرا ہمیشہ سائے کی طرح ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ شیرا نے سلمان خان کے جیل کے دنوں میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑاتھا۔ بالی ووڈ کے سلطان سلمان خان شیرا کو اپنی حفاظت کرنے کا سالانہ ایک سے دو کروڑ معاوضہ دیتے ہیں کہ ممبئی میں شیرا نے مائکے ٹائسن اور جسٹن بیبر کے محافظ کے طور پر بھی کام کیا تھا۔

    شاہ رخ خان کا باڈی گارڈ روی سنگھ:
    شاہ رخ خان کا باڈی گارڈ شیرا جیسا مشہور نام اور چہرہ نہیں ہوسکتا ہے لیکن وہ 10 سال سے اداکار کے ساتھ ہیں شاہ رخ خان کا محافظ روی سنگھ بھارتی فلم انڈسٹری کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے محافظوں میں شامل ہے۔ روی سنگھ بھی سائے کی طرح ہر وقت شاہ رخ خان کے ساتھ رہتا ہے۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق شاہ رخ خان روی سنگھ کو سالانہ 2 سے 3 کروڑ معاوضہ دیتے ہیں۔

    انوشکا شرما کا باڈی گارڈسونو:
    مبینہ طور پر انوشکا کا باڈی گارڈ سونو 1.2 کروڑ روپے سالانہ معاوضہ وصول کرتا ہے۔ وہ ویرات کوہلی سے ملنے سے پہلے ہی انوشکا کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔ آج ، سونو صرف انوشکا ہی نہیں بلکہ ویرات اور ان کی بیٹی ومیکا کی بھی حفاظت کرتے ہیں۔ سونو انوشکا کی فیملی کے بیت قریب ہیں کہ اداکارہ بھی ہر سال سونو سالگرہ مناتی ہیں۔ 2018 میں ، انوشکا کی جانب سے سونو کی سالگرہ کو زیرو کے سیٹ پر منانے کی تصاویر آن لائن منظر عام پر آئیں تھیں-

    دیپیکا کا باڈی گارڈ جلال:
    جلال کئی سالوں سے دیپیکا کے لئے کام کر رہا تھا۔ وہ اسے اپنے بڑے بھائی کی طرح مانتی ہیں اور ہر سال اس سے راکھی بھی باندھتی ہیں۔2019 تک ، جلال کاہر سال تقریبا 80 لاکھ روپے معاوضہ تھا خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی تنخواہ میں ترمیم کرکے 1.2 کروڑ روپے کردی گئی ہے۔

    اکشے کمار کا باڈی گارڈ شریسے تھیلے:
    اکشے کمار کا شمار بھی بالی ووڈ کے سپراسٹارز میں ہوتا ہے جو ایک فلم کا معاوضہ کروڑوں میں لیتے ہیں۔ اکشے کمار کے مداحوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جو انہیں ہر جگہ فالو کرتے ہیں۔ اکشے کمار کے باڈی گارڈ کا نام شریسے تھیلے ہے جو ان کے ساتھ ان کے بیٹے آرو کی بھی حفاظت پر مامور ہے۔ شیریسے کو اکشے کمار کی حفاظت کے لیے سالانہ ایک سے دو کروڑ روپے معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔

    امیتابھ بچن کا باڈی گارڈ جتیندرا شیندے:
    امیتابھ بچن کے باڈی گارڈ کا نام جتیندرا شیندے ہے جو ہر جگہ سائے کی طرح بگ بی کے ساتھ رہتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امیتابھ بچن اپنے محافظ کو سالانہ 90 لاکھ سے 2 کروڑ روپے تک معاوضہ ادا کرتے ہیں۔

    عامر خان کا باڈی گارڈ یووراج :
    بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان کے محافظ کا نام یووراج گھورپڑے ہے جو ہر جگہ عامر خان کے ساتھ نظر آتا ہے اور ان کی حفاظت پر مامور ہے۔ عامر خان اپنے باڈی گارڈ کو ایک سے ڈھائی کروڑ روپے سالانہ معاوضہ دیتے ہیں۔

  • بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا اور وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ورچوئل گفتگو

    بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا اور وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ورچوئل گفتگو

    ٹوکیو اولمپکس 2020میں شرکت سے قبل معروف بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا سے بھارت کے وزیرِاعظم نریندرمودی نے ورچوئل گفتگو کی۔

    باغی ٹی وی : ثانیہ مرزا نے نریندرمودی سے گفتگو کی اپنی ویڈیوز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کی ہیں، جن میں ثانیہ کو ویڈیو کال کے ذریعے بھارتی وزیرِاعظم سے بات کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

    انہوں نے ٹوئٹ میں نریندر مودی سے ہونے والی اپنی گفتگو کی مکمل ویڈیو دیکھنے کے لیے ویڈیو کا لنک بھی شیئر کیا ہے جو کہ ان کے یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کی گئی ہے۔


    اس ویڈیو میں بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی بھارت کی نمبر ون ٹینس اسٹارثانیہ مرزا کی تعریف کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ آپ لوگوں کی ہیرو ہیں اور بڑے بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ آپ نے کھیلا ہے ، آپ کو کیا لگتا ہے کہ ٹینس کا چیمپیئن بننے کے لیے کیا خوبیاں ہونی چاہییں؟

    ثانیہ مرزا نے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ ٹینس ایک ایسا بین الاقوامی کھیل ہےجس میں 25 سال پہلے جب انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تھا تو اس وقت زیادہ لوگ ٹینس نہیں کھیلتے تھے لیکن آج بہت سارے ایسے بچے ہیں جو ٹینس ریکٹ اٹھانا چاہتے ہیں اوراسے اپنا پروفیشن بنانا چاہتے ہیں ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جو اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ وہ بڑے کھلاڑی بن سکتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو ظاہر سی بات ہے کہ محنت ،ٹیلنٹ، لگن اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہےمیرے خیال میں محنت کے ساتھ قسمت کا بھی کافی اہم کردار ہوتا ہے لیکن پھر بھی محنت کے بغیر کوئی کچھ نہیں ہوسکتا چاہے وہ ٹینس ہو یا کوئی بھی کھیل ہو۔

    نریندر مودی نے ثانیہ سے ان کی اورساتھی کھلاڑی انکیتارائنہ کے ساتھ پارٹنرشپ کی اور اولمپکس کے لیے تیاری کے بارے میں بھی پوچھا ، جس پر ثانیہ نے کہا کہ انکیتا ایک نوجوان کھلاڑی ہے اور بہت اچھا کھیل رہی ہے اور وہ انکیتاکے ساتھ اولمپکس میں کھیلنے کے لیے بہت پرجوش ہیں-

    ثانیہ نے کہا کہ اس سے پہلے فروری میں میچز میں ہم بہت اچھا کھیلے تھے اور اب میرا چوتھا اولمپک ہے اس کا پہلا اولمپک ہے میری عمر کے ساتھ نوجوان پیروں کے ضرورت ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ مہیا کر سکتی ہے-

    ثانیہ مرزانے بھارتی حکومت کی جانب سے کھلاڑیوں کی مدد کرنے اورملک میں مختلف کھیلوں کے لیے سہولیات مہیا کرنے پر بھارت کی حکومت کی تعریف بھی کی کہا 25 سال پہلے سے اب تک بہت سے اچھے اسٹیڈیم بن گئے ہیں اچھے ہارڈ بورڈز ہیں-

  • نادیہ حسین کی ملازمہ ہونے کا دعویٰ کرنیوالی ‘رانی’ نامی خاتون جھوٹی نکلیں

    نادیہ حسین کی ملازمہ ہونے کا دعویٰ کرنیوالی ‘رانی’ نامی خاتون جھوٹی نکلیں

    پاکستانی معروف ماڈل و اداکارہ نادیہ حسین کی ملازمہ ہونے کا دعویٰ کرنے والی خاتون جھوٹی نکلیں-

    باغی ٹی وی :گزشتہ دنوں نادیہ حسین کی ایک تشہیری مہم کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں بجلی کے باعث برقی آلات خراب کرنے پر اداکارہ کو ملازمہ سے بدسلوکی کرتے دیکھا گیا سس کے بعد سے کچھ صارفین نے اداکارہ سے معافی کا مطالبہ کیا تھا-

    بعد ازاں وضاحت دیتے ہوئے اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ ویڈیو ایک تشہیری مہم کا حصہ تھی تاہم انہوں نے برانڈ کا نام نہیں بتایا تھا-

    نادیہ حسین کا گھریلو ملازمہ کو ڈانٹنے کی ویڈیو پر وضاحتی بیان

    دوسری جانب رانی نامی ایک خاتون نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ نادیہ حسین کی ملازمہ ہیں، اور وہ اعتراف کرتی ہیں کہ نادیہ حسین کی وائرل ویڈیو میں ملازمہ وہ خود تھیں۔

    سوشل میڈیا پر ’رانی‘ نامی ایک گھریلو ملازمہ کی ویڈیو گردش کی جس میں وہ دعویٰ کرتی دکھائی دیں کہ وہ وہی ملازمہ ہیں، جن پر نادیہ حسین نے غصہ کیا تھا۔

    مختصر ویڈیو میں ’رانی‘ نامی لڑکی نے اپنے مخصوص انداز میں بتایا کہ وہ وہی لڑکی ہیں، جن پر نادیہ حسین نے غصہ کیا تھا اور یہ کہ غلطی اس کی اپنی ہی تھی، جس وجہ سے اداکارہ نے ان پر غصہ نکالا۔

    ملازمہ نے اداکارہ کو ’باجی‘ بلاتے ہوئے کہا کہ نادیہ حسین انہیں چھوٹی بہنوں کی طرح سمجھتی ہیں اور ان سے متعلق جو باتیں کی جا رہی ہیں، وہ غلط ہیں، وہ اچھی خاتون ہیں، ان سے متعلق مزید بری بری باتیں نہ کی جائیں۔

    ’رانی‘ نے بتایا کہ وہ موبائل فون پر ٹک ٹاک دیکھنے لگ گئی تھیں، جس وجہ سے ان کی غلطی پر نادیہ حسین نے انہیں ڈانٹا تھا مگر اب اداکارہ ٹھنڈی ہوگئی ہیں، کیوںکہ انہیں ایک ریفریجریٹر کمپنی نے نیا ٹھنڈا فریج دے دیا۔

    رانی نے بتایا کہ ٹھنڈا فرج ملنے کے بعد اب نہ صرف نادیہ حسین ٹھنڈی ہوگئیں ہیں بلکہ ملازمہ خود بھی ٹھنڈی ہوگئیں۔

    تاہم اس ویڈیو پر کمنٹ کرتے ہوئے نادیہ حسین خاتون کو اپنی ملازمہ ماننے سے انکارکر دیا انہوں نے لکھا کہ یہ میری ملازمہ ہے اور نہ کبھی تھی۔

    نادیہ حسین کی ملازمہ کو ڈانٹنے کی وائرل ویڈیو پرنئی بحث کا آغاز

  • شوہر کیساتھ تصویر پر "آنٹی” کہے جانے کے تبصرے پر عفت عمر بھڑک اٹھیں

    شوہر کیساتھ تصویر پر "آنٹی” کہے جانے کے تبصرے پر عفت عمر بھڑک اٹھیں

    پاکستانی اداکارہ عفت عمر نے طویل مدت بعد شوہر کے ہمراہ سوشل میڈیا پر تصویر شیئر کی –

    باغی ٹی وی : عفت عمر نے شوہر عمر کے ہمراہ سیڑھیوں پر تصویر کیلئے پوز دیتے اپنی ایک دلکش تصویرسماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام ٔپر شیئر کی ، تصویر کے کیپشن میں انہوں نے 2021 لکھا۔

    تصویر پر جہاں اداکار عمیر رانا اور ازفر رحمن سمیت دیگر فنکاروں اور مداحوں نے تعریف کی وہیں ایک صارف کے کمنٹ نے اداکارہ کو سیخ پا کر دیا-

    ایک صارف نے تصویر کے کمنٹ میں اداکارہ کیلئے لکھا کہ وہ لڑکے کی آنٹی لگ رہی ہیں۔

    اداکارہ آنٹی کہے جانے پر غصہ ہوگئیں انہوں نے لکھا کہ آپ جیسے خود دِکھتے ہیں آپ سے کسی اچھی بات کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی۔

    عفت عمر سے سخت جواب ملتے ہی صارف نے اپنی صفائی میں لکھا کہ وہ تو بس ان کی عمر پر تبصرہ کررہے تھے، اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ وہ ان تمام اشیا کا استعمال نہیں کرتے جس کااستعمال اداکارہ اپنی لُکس کو بہتر بنانے کیلئے کرتی ہیں۔

    اداکارہ بھی پیچھے نہ ہٹیں اور جواب میں لکھا کہ آپ پر وہ تمام چیزیں بھی اثر نہیں کریں گی۔

    خیال رہےکہ حال ہی میں اداکارہ نے اپنی اصل عمر بتا کر مداحوں کو خاصی حیرت میں مبتلا کیا تھا عفت عمر کا بتانا تھا کہ ان کی عمر 40 نہیں بلکہ 49 برس ہے اور وہ اسے انجوائے بھی کررہی ہیں۔

  • میراخواب ہے کہ شادی کے بعد شوہر اور بچوں کیساتھ پرسکون زندگی بسر کروں    کترینہ کیف

    میراخواب ہے کہ شادی کے بعد شوہر اور بچوں کیساتھ پرسکون زندگی بسر کروں کترینہ کیف

    بالی ووڈاداکارہ کترینہ کیف کترینہ کیف مبینہ طور پر اپنے بوائے فرینڈ وکی کوشل کے ساتھ مستقل تعلقات میں ہیں۔ تاہم ، اداکارہ ابھی تک اپنے خفیہ عشق کے بارے میں لب کشائی نہیں کی-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ایک انٹرویو کے دوران کترینہ کیف نے شادی سے متعلق خاموشی توڑ دی ہے ایک پرانے انٹرویو میں جب ان سے شادی کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ شادی سے متعلق ہر انسان کے خیالات مختلف ہوتے ہیں لیکن جس گھرانے سے میں تعلق رکھتی ہوں وہاں شادی کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔

    کترینہ کیف نے کہا کہ ہمارے ہاں شوہر اور بچوں کو کافی اہمیت دی جاتی ہے، میرا بھی خواب ہے کہ شادی کے بعد شوہر اور بچوں کے ساتھ پرسکون زندگی بسر کروں۔

    پیار کے حوالے سے اداکارہ کا کہنا تھا کہ پیار اور محبت مل جانا قسمت کی بات ہے، کوئی اسے آسانی سے پالیتا ہے اور کسی کو یہ میسر نہیں آتا۔

    بھارتی اداکارہ نے کہا کہ وہ اپنے پیار کو ذاتی زندگی تک محدود رکھیں گی۔

    خایل رہے کہ وکی کوشل سے قبل کترینہ کیف اور اداکار رنبیر کپور کے درمیان اچھے تعلقات تھے لیکن دونوں الگ ہو گئے اداکار رنبیر کپور کے ساتھ ان کی فلم ’عجب پریم کی غضب کہانی‘ کو مداحوں کی جانب سے کافی پسند کیا گیا تاہم اداکارہ آج کل وکی کوشل کے ساتھ دکھائی دیتی ہیں جب کہ دوسری طرف رنبیر کپور اور عالیہ بھٹ کے درمیان اچھا ریلیشن ہوگیا ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ وہ جلد ہی شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے۔

  • برطانیہ :موسم سرما میں موسمی فلو اور کورونا وائرس این ایچ ایس کیلئے ایک خطرناک ترین چیلنج ثابت ہو سکتا ہے   ماہرین نے خبردار کرد یا

    برطانیہ :موسم سرما میں موسمی فلو اور کورونا وائرس این ایچ ایس کیلئے ایک خطرناک ترین چیلنج ثابت ہو سکتا ہے ماہرین نے خبردار کرد یا

    برطانیہ :سائنسدانوں نے اس آنے والے موسم سرما میں کورونا وائرس موسمی وائرس کے حوالے سے خبردار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے سکائے نیوز نے ایک رپورٹ کا حوالے سے بتایا کہ اس موسم سرما میں 60 ہزار سے زائد افراد فلو سے مر سکتے ہیں اور موسمی وائرسزاور کوویڈ 19 کی اکٹھے حملے کی وجہ سے یو کےکا ادارہ صحت نیشنل ہیلتھ سروسز(این ایچ ایس) بھی ان سے پر قابو پانے میں ناکام رہ سکتا ہے-

    اس سخت انتباہ سائنس دانوں نے کیا تھا جو کہتے ہیں کہ فلو کا موسم خاص طور پر مہلک ثابت ہوسکتا ہے لیکن فلو جاب کے بڑھے ہوئے پروگرام اور فلو کے ٹیسٹوں میں تیزی سے خطرات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

    کوویڈ 19 کی پابندیوں کا مطلب یہ ہے کہ سانس کے بہت سارے وائرس پچھلے موسم سرما میں عام طور پر اس طرح پھیل نہیں سکتے تھے کہ اس کی وجہ سے کچھ وائرلوجسٹ فکر مند ہیں جو کہتے ہیں کہ موسمی سانس کی بیماریوں سے آبادی قوت مدافعت سے سمجھوتہ کیا جاسکتا ہے لوگوں کے ملنے جلنے اور اھتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کی وجہ سےیہ وائرس مزید پھیلتا جائے گا-

    اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلو اور آر ایس وی (ریسپائریٹری سنسٹیئل وائرس) اسپتال میں داخل ہونے اور اموات ایک "معمول” سال میں دو بار ہوسکتی ہیں اور یہ کوویڈ 19 انفیکشن میں اضافے کے موافق ہوسکتی ہے۔

    اس رپورٹ کے مصنف ماہر ایڈوائزری گروپ کے سربراہ ، پروفیسر سر اسٹیفن ہولگیٹ نے کہا چار اہم چیلنجز ہیں: سب سے پہلے سانس کے وائرس میں اضافے سے وسیع پیمانے پر افراد متاثر ہو سکتے ہیں اور این ایچ ایس پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔

    دوسری بات ، کوویڈ 19 کی ایک تیسری لہر پھیل رہی ہے اور این ایچ ایس کو پچھلے 15 ماہ یا اس سے زیادہ عرصے میں کوویڈ کی وجہ سے بہت پریشر کا سامنا رہا ہے اور اب یہ ایک حقیقی چیلنج بننے والا ہے۔

    تیسرا یہ کہ ، این ایچ ایس پہلے ہی دباؤ میں ہے ، لہذا امکان ہے کہ موسم سرما کے ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ ہو آخر کار وبائی بیماری کی وجہ سے برطانیہ کی آبادی کے اندر بدترین جسمانی اور ذہنی صحت متاثر ہوئی ہیں

    انہوں نے مزید کہا مجموعی طور پر سوسائٹی نے پچھلے 15 مہینوں سے یہ سیکھا ہوگا کہ یہ قبول نہیں ہے کہ (ہمارے پاس) تمام ریسپائرئٹری وائرسز سردیوں میں حملہ کر دیں اور قریب قریب ہی ہماری نیشنل ہیلتھ سروس بند ہو جائے-

    "اگر ایسی چیزیں موجود ہیں جو ہمیں ٹرانسمیشن کی روک تھام کرنا چاہئے تو ہمیں وہ کرنا چاہئے ا س کے لئے ہمیں احتیاطی تدابیر کرنی چاہئے جن میں ماسک پہننا اور غیر ضروری میل ملاقاتیں سرفہرست ہیں-

    انہوں نے کہا کہ ہم واقعی اس قابل ہیں کہ ہم ان تمام وائرسز کے ذریعہ پیدا ہونے والی صورتحال پر سالانہ مستقل دباؤ کو روکنے کے لئے احتاطی تدابیر اختیار کریں اوراس کا مطلب صرف رویے میں تبدیلی ہے۔

    اور انفیکشن کی موجودہ لہر کی وجہ سے این ایچ ایس کو دیکھ بھال کی کوشش میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انگلینڈ میں پچاس لاکھ سے زیادہ افراد انتظار کی فہرست میں شامل ہیں۔

    لوگ جو بیماری میں توجہ نہیں دیتے اور مدد کے حصول کو چھوڑ دیتے ہیں وہ بھی اس موسم سرما میں دمہ ، ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے حالات کے لئے درکار امداد میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

    انہوں نے کوویڈ 19 ٹیسٹ میں توسیع کا بھی مطالبہ کیا جس میں فلو اور آر ایس وی کے ٹیسٹ بھی شامل کیے گئے تھے – مثال کے طور پر اگر GPs فوری طور پر اس بات کی تصدیق کر سکے کہ آیا مریض کو فلو ہے یا نہیں تو وہ جلد سے جلد اینٹی وائرل دوائیں لکھ سکتا ہے جس کا مطلب ہے کہ مزکورہ شخص پر بیماری کا حملہ کم ہو گا اور NHS پر بوجھ کم ہوگا۔

    اس رپورٹ میں دیگر مسائل جیسے طبی عملے کی کمی اور بستروں کی کمی کو بھی اجاگر کیا گیا ہے –

    اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کے صدر اور ماہر مشاورتی گروپ کے رکن پروفیسر ڈیم ان جانسن نے مزید کہا: "ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ہاں بدترین سردیوں کا موسم گزرنا ہے ، ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں غیر یقینی چیزوں کا ایک چیلنج مل گیا ہےجو سردیوں میں ہمیں مار سکتا ہے کہ ہمیں اب تخفیف کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے مزید کہا مجھے امید ہے کہ ہم معاشرے کی حیثیت سے ان میں سے کچھ طرز عمل میں تبدیلی لائیں گے۔ جب آپ بیمار ہوں تو سماجی دوری اختیار کریں جب آپ سب سے زیادہ متعدی بیماری کا شکار ہوتے ہیں تو ، اپنا ٹیسٹ کروائیں –

    ڈیم این نے کہا کہ فلو کے اعدادوشمار "غیر یقینی” ہیں اور 60،000 کے اعداد و شمار "غیرمعمولی طور پر بدترین صورت حال” ہیں اور انہوں نے مزید کہا کہ "فلو انتہائی غیر متوقع ہے”۔

    ماہر مشاورتی گروپ کی رکن پروفیسر عذرا غنی نے مزید کہا: "ہم نے اس نوعیت کا کبھی تجربہ نہیں کیا جہاں معاشرے نے واقعتا t اس حد تک منتقلی کو کم کردیا ہے۔ یہ جاننا بہت مشکل ہے کہ اس کا کیا اثر پڑے گا یہ کہنا صرف واقعی ایک انتباہ ہے کہ ‘ہم اس کے بارے میں کچھ کر سکتے ہیں ، یہ ناگزیر نہیں ہے ، ہم اقدامات کو بروئے کار لا سکتے ہیں اور اثر کو کم کرسکتے ہیں’۔

    اس رپورٹ کے مصنفین کا خیال ہے کہ فلو کا سیزن قوت مدافعت کی کمی کی وجہ سے معمول سے پہلے آسکتا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ واقعتا فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ موسم سرما میں این ایچ ایس پر مزید دباؤ ہے۔

    سر پیٹرک والنس نے اس موسم سرما میں این ایچ ایس کو درپیش چیلنجوں کا جائزہ لینے کے لئے رپورٹ جاری کی سردی میں مہلک فلو کے اضافے کے علاوہ ، اس تحقیق کے تحت خبردار کیا گیا ہے کہ این ایچ ایس پہلے ہی دباؤ میں ہے اور موسم سرما کے ان اضافی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے جدوجہد کرے گی کیونکہ اس میں بستروں اور تربیت یافتہ عملے کی کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    لیکن ان مصنفین نے زور دے کر کہا ہے کہ پیش گوئیاں کسی بدترین صورتحال پر مبنی ہیں جس میں کوئی مداخلت نہیں ہوگی ویکسین لگانے کی تعداد میں تیزی ، موسم خزاں میں بوسٹر مہم اور COVID اور فلو کی جانچ صلاحیت میں اضافہ NHS پر ان اضافی دباؤ کے اثرات کو کم کرنے میں نمایاں مددگار ثابت ہوگا۔

  • غیر قانونی اسقاط حمل کے موضوع پر مبنی ویب سیریز ’دائی ‘ کا ٹریلر اردو فلیکس پر جاری

    غیر قانونی اسقاط حمل کے موضوع پر مبنی ویب سیریز ’دائی ‘ کا ٹریلر اردو فلیکس پر جاری

    غیر قانونی اسقاط حمل کے موضوع پربنائی گئی ویب سیریز ’دائی ‘ کا ٹریلر اردو فلیکس پر جاری کردیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : اردو فلیکس پر جاری ٹریلر کے مطابق اداکارہ فریحہ الطاف دائی (باجی )کا کردار ادا کر رہی ہیں دائی غیر قانونی طریقے سے اسقاط حمل کی ماہر ہے اور وہ ایک بے رحم عورت ہے جو کہ تکلیف دہ طریقے سے یہ غیر قانونی دھندہ کرتی ہے اور اس عمل کے دوران اس پر قتل کا الزام بھی ہوتا ہے ۔

    دائی کے ایگزیکٹوپروڈیوسر فرحان گوہر ہیں اس کو پرڈیوس نعمان خان نے کیا ہے اور ڈائریکٹر فرخ فیاض ہیں اس کی کہانی سید محمد احمدنے لکھی ہے جبکہ کاسٹ میں فریحہ الطاف ،سہیل سمیر، سبحان اعوان ،نمرہ شاہد ،اسفند یار ،محسن اعجاز ،زارا اور راجا شاہد شامل ہیں۔

    ویب سیریز کو کرائم تھرلر کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس میں ہر آنے والا سین دوسروں کی توجہ کو اپنی جانب مبذول کرتا ہے یہ ویب سریز جلد ہی اردو فلیکس پردکھائی جائے گی جو کہ ایپل ایپ سٹور،گوگل پلے ،روکو ٹی وی اور انڈرائیڈ ٹی وی پر دستیاب ہے ۔
    https://youtu.be/s4ai1xU4kVA

  • عراقی اسپتال میں آتشزدگی،پاکستان کی جانب سے افسوس کا اظہار

    عراقی اسپتال میں آتشزدگی،پاکستان کی جانب سے افسوس کا اظہار

    عراقی شہر نصریہ کے حسین ہسپتال کے کوویڈ وارڈ میں لگنے والی آگ پر پاکستان کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : دو روز قبل عراق کے شہر نصریہ کے حسین اسپتال میں کوڈ وارڈ میں، جسے صرف تین ماہ پہلے کورونا کے مریضوں کے علاج کے تیار کیا گیا تھا، بظاہر آکسیجن کا سلنڈر پھٹنے سے آگ بھڑک اٹھی تھی جس نے پورے وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا –

    اسی دوران ہسپتال کے باہر مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپیں شروع ہو گئیں جن میں پولیس کی دو گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے آتشزدگی میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    اس موقع پر عراقی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد ال ہلبوسی نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ ہستپال میں آتشزدگی کا واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہم عراقی جانوں کا تحفظ کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں اور وقت آ گیا کہ ہم ان ناکامیوں پر قابو پائیں۔

    تاہم اب پاکستان کے وزارت خارجہ کی جانب عراق کے اسپتال میں آتشزدگی پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے-

    ترجمان وزارت خارجہ کے دفتر سے جاری بیان میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ عراق کے شہر نصریہ میں واقع ایک اسپتال میں آگ کے افسوسناک واقعے پر حکومت اور پاکستان کے عوام غمزدہ ہیں۔ ہم بہت سوں کو قیمتی جانوں کے ضیاع اور زخمی ہونے پر عراق کے حکومت اور برادرانہ عوام سے دلی تعزیت کرتے ہیں اس غم کی گھڑی میں پاکستان اپنے بھائی ملک عراق کے ساتھ کھڑا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ ہم مرحومین کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور واقعے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔ دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی سوگوار خاندانوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

    واضح رہے کہ عراق ميں ہسپتالوں میں آگ لگنے کا اس برس کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل اپریل میں دارالحکومت بغداد کے ابن الخطیب ہسپتال میں آگ لگ گئی تھی، جس میں 82 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس وقت بھی ایک آکسیجن ٹینک کے پھٹنے سے آگ لگی تھی۔

    عراق میں پھیلی بدعنوانی، پابندیاں اور مدت سے جاری جنگ کی وجہ سے ملک کا نظام صحت بری طرح سے متاثر ہوا ہے اور ایک طرح سے ناکارہ ہو چکا ہے۔ ایک طرف جہاں ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے وہیں کئی بار اس لیے بھی ڈاکٹر دستیاب نہیں ہوتے ہیں کیونکہ خراب صورت حال کے سبب ڈاکٹر دوسرے ممالک میں کام کرنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔

    حالیہ کچھ دنوں کے دوران ملک میں کورونا وائرس کے انفیکشن کی شرح میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے اور اس وقت یومیہ تقریباً نو ہزار نئے کیسز درج کیے جا رہے ہیں۔ عراق اس وقت بجلی کے بھی شدید بحران سے دوچار ہے جس کی وجہ سے ملک میں آئے دن بڑے پیمانے پر مظاہرے بھی ہوتے رہتے ہیں۔

  • میٹرک کے امتحانات کب شروع ہوں گےلاہور بورڈ نے حتمی تاریخ کا اعلان کر دیا

    میٹرک کے امتحانات کب شروع ہوں گےلاہور بورڈ نے حتمی تاریخ کا اعلان کر دیا

    لاہور بورڈ نے رواں ماہ 29 جولائی سے دسوی جماعت کے امتحانات لینے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق دسویں جماعت کے امیدواروں کو رول نمبر سلپ جاری کردی گئی ہےترجمان لاہور بورڈ کا کہنا ہے کہ میٹرک کے امتحان میں تین لاکھ 894 امیدوار شرکت کریں گے، امیدواروں میں 1لاکھ 58ہزار 347 لڑکے اور 1لاکھ 42ہزار 547 لڑکیاں شامل ہیں۔

    ترجمان کے مطابق امیدواروں کی سہولت کیلئے 866 امتحانی مراکز قائم کیے گیے ہیں، دانش اسکولوں کے طلبا و طالبات کے لیے مختلف علاقوں میں امتحانی مرکز بنائے گئے ہیں۔


    اس سے قبل لاہور تعلیمی بورڈ نے میٹرک امتحانات کی ڈیٹ شیٹ جاری کی تھی جس کے امتحانات کا آغاز 29 جولائی سے عربی، بزنس سٹڈیز، فوڈ اینڈ نیوٹریشن اور جیومیٹریکل اینڈ ٹیکنیکل ڈرائنگ سے ہوگا۔

    30 جولائی کو کیمسٹری، 31 جولائی سوکس، فارسی، ووڈ ورک کا امتحان ہوگا۔ یکم اگست کو ایجوکیشن، القرآن، تاریخ پاکستان اور بیوٹیشن امتحان ہوگا۔

    3 اگست کو ریاضی، 4 اگست پنجابی، انگلش لٹریچر اور اردو لٹریچر کا امتحان لیا جائے گا اس کے بعد پانچ اگست کو ہوم اکنامکس، ملٹری سائنس اور کمپیوٹر ہارڈ وئیر مضامین کے امتحان ہوں گئے۔ 9 اگست کو بیالوجی اور کمپیوٹر سائنس کے پیپرز ہوں گئے۔