Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ہم سٹائل ایوارڈ شو: پاکستانی اداکاراؤں پر مغربی طرز کے لباس کے انتخاب پرشدید تنقید

    ہم سٹائل ایوارڈ شو: پاکستانی اداکاراؤں پر مغربی طرز کے لباس کے انتخاب پرشدید تنقید

    لاہور کے مقامی ہوٹل میں حال ہی میں ہونے والے ہم سٹائل ایوارڈز شو میں پاکستانی اداکارائیں مغربی طرز کے لباس کے انتخاب پر تنقید کی زد میں ہیں۔

    باغی ٹی وی :سوشل میڈیا پر اداکاراؤں کے انتخاب سے جہاں ان کے مداح سخت ناراض ہیں وہیں کچھ فنکاروں نے بھی اس تنقید میں حصہ لیا ہے اور کھل کر اظہارِ خیال کیا۔

    اداکار بلال قریشی نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر اداکاراؤں کے ملبوسات کے انتخاب پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہ خواتین آپ سب بہت باصلاحیت اور خوبصورت ہیں یقین مانیے آپ کو خوبصورت دِکھنے کیلئے مختصر اور مغربی طرز کا لباس زیب تن کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

    سابقہ اداکارہ نور بخاری نے کچھ معروف اداکاراؤں کی تصویریں شیئر کیں جن میں ان کے چہرے واضح نہیں تھے، مختصر پیغام میں لکھا کہ ’کیا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔

    اداکار فیضان شیخ نے کہا کہ سادگی کے ساتھ بھی آپ اپنے ایک واضح اسٹائل میں سامنے آسکتی تھیں کیونکہ مہنگے کپڑے ہی آپ کے اسٹائلش ہونے کی ضمانت نہیں ہوتے۔

    اداکارہ عفت عمر بھی تنقید کرنے والوں میں شامل ہوگئی ہیں، انہوں نے اداکاراؤں کے اسٹائل کو فیشن کی موت قرار دیا۔

    نوجوان اداکارہ نازش جہانگیر نے بھی ایوارڈ اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں پاکستانی اداکاراؤں کے فیشن اسٹائل پر تنقید کرتے ہوئے افسوس لکھا-

    علیزے شاہ ٹوئٹرپر ٹاپ ٹرینڈ پر کیوں؟

  • علیزے شاہ ٹوئٹرپر ٹاپ ٹرینڈ پر کیوں؟

    علیزے شاہ ٹوئٹرپر ٹاپ ٹرینڈ پر کیوں؟

    اداکارہ علیزے شاہ اپنے لباس کی وجہ سے صارفین کے نشان پر رہتی ہیں جس کے باعث وہ آئے دن پاکستان کے ٹوئٹر ٹرینڈ پینل کے سرِ فہرست ٹرینڈ کا حصہ بنتی رہتی ہیں۔

    باغی ٹی وی : تاہم آج بھی وہ پاکستان کے ٹوئٹر ٹرینڈ پینل میں پہلے نمبر پر موجود ہیں جس کی وجہ ان کا ایوارڈ شو کی تقریب میں کالے رنگ کا مغربی طرز کا لباس ہے۔

    سوشل میڈیا پر کچھ صارفین علیزے شاہ کے مغربی طرز کے لباس کے انتخاب پر تنقید کرتے نظر آرہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اداکارائیں شہرت کی تلاش میں اپنی معصومیت اور اپنے لباس سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔


    https://twitter.com/ArslanR70413271/status/1411876322763235329?s=20
    ایک صارف نے مشورہ دیا کہ علیزے شاہ دنیا میں ثنا خان بننے کی کوشش کریں کچھ صارفین عمران خان کے حالیہ بیان سے بھی اتفاق کرتے نظر آئے، صارفین نے کہا کہ بے شک وہ عمران خان کے بیان سے متفق نہیں تھے ، اس ایوارڈ شو کی تقریب نے عمران خان کے بیان کو صحیح ثابت کردیا ہے۔
    https://twitter.com/i_alisarwar/status/1411881790185291778?s=20


    علیزے شاہ کے حوالے سے سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ایک وقت میں علیزے اپنی معصومیت کی وجہ سے ان کی پسندیدہ اداکارہ تھیں لیکن اب انہیں علیزے سے نفرت محسوس ہورہی ہے۔


    https://twitter.com/NearDesert/status/1411947697733521408?s=20


    ایک صارف نے لکھا کہ ’مغرب سے متاثر خواتین کو مغرب میں ہی پھینک دینا چاہئے۔‘
    https://twitter.com/charisma14310/status/1411804244991262721?s=20

    واضح رہے کہ لاہور کے مقامی ہوٹل میں حال ہی میں منعقدہ ایوارڈز کی تقریب میں پاکستانی اداکارائیں مغربی طرز کا لباس زیب تن کرنے پر تنقید کی زد میں ہیں سوشل میڈیا پر اداکاراؤں کے انتخاب سے جہاں ان کے مداح سخت ناراض ہیں وہیں کچھ فنکاروں نے بھی اس تنقید میں حصہ لیا ہے اور کھل کر اظہارِ خیال کیا۔

    اداکار بلال قریشی نے کہا آپ تمام خواتین خوبصورت اور ٹیلنٹڈ ہیں میری بات پر یقین کریں آپ لوگوں کو کسی بھی ایوارڈ شو میں دیوا دکھنے کے لئے مغربی طرز کا لباس پہننے کی ضورورت نہیں-

    جو انسان جیسا رویہ اختیار کرے گا میں بھی اس کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کروں گی…

  • سکولوں سے سینکڑوں بچوں کی باقیات برآمد، کینیڈا میں مظاہرین نے ملکہ وکٹوریہ اورالزبتھ 2 کے مجسمے توڑ دیئے

    سکولوں سے سینکڑوں بچوں کی باقیات برآمد، کینیڈا میں مظاہرین نے ملکہ وکٹوریہ اورالزبتھ 2 کے مجسمے توڑ دیئے

    کینیڈا میں دو سابق بورڈنگ اسکولوں سے مقامی قدیم نسل کے سینکڑوں بچوں کی باقیات برآمد ہونے پر مشتعل مظاہرین نے ملکہ وکٹوریہ اور ملکہ الزبتھ دوم کے مجسموں کو گرا دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے ڈیلی میل کے مطابق یکم جولائی کو کینیڈا کا قومی دن منایا جاتا ہے تاہم رواں سال ملک کے دو سابق بورڈنگ اسکولوں سے مقامی قدیم نسل کے سینکڑوں بچوں کی باقیات برآمد ہونے کے باعث رنگا رنگ تقریبات کا انتظام نہیں کیا گیا۔

    یہ ہلاکتیں دہائیوں قبل بورڈنگ اسکول میں مقامی قدیم نسل کے بچوں کو نئی تہذیب سے روشناس کرانے کے دوران تشدد سے ہوئیں جس پر ملک کے طول و ارض میں مظاہرے جاری ہیں جس میں مایوس کن نوآبادیاتی تاریخ پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور نسل کشی پر فخر نہیں کے نعرے لگائے گئے۔

    مظاہرے کے دوران مشتعل افراد نے برطانیہ کی سابق ملکہ وکٹوریہ اور موجودہ کوئن ایلزبتھ کے مجسمے کو توڑ کر زمین پر گرادیا، کئی بادشاہوں کے مجسمے بھی گرائے گئے اور ان پر لال رنگ سے نشان لگادیا اور شدید نعرے بازی کی گئی ملکہ وکٹوریہ کے مجسمہ کے سر کو بعد میں ہٹا کر دریائے آسینیبوین میں پھینک دیا گیا۔

    18 ویں صدی سے 1970 کے درمیان ، کینیڈک اسکولوں میں بھیجے جانے کے بعد ڈیڑھ لاکھ دیسی کینیڈین بچوں کو عیسائیت قبول کرنے پر مجبور کیا گیا اور انہیں اپنی مادری زبان بولنے کی اجازت نہیں تھی۔

    بہت سوں کو مارا پیٹا گیا اور زبانی طور پر بدسلوکی کی گئی ، اور کہا جاتا ہے کہ ان کی موت 6000 تک ہوچکی ہے ، لیکن کینیڈا کی حکومت کی اس پالیسی کا برطانوی شاہی خاندان کے ساتھ بہت کم تعلق ہے ، جو رسمی سربراہان مملکت ہیں۔

    کل کینیڈا میں ہونے والے مظاہروں سے ان کا امریکہ میں پھیل جانے کا امکان بڑھ گیا ہے اور نظرانداز ، بدسلوکی اور موت کے دعوؤں کے بعد وہاں اجتماعی قبروں میں بھی اسی طرح کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

    دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے ملکاؤن اور بادشاہوں کے مجسموں کو گرانے اور بے حرمتی پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں لوگوں کے جذبات کا احساس ہے تاہم مجسموں کی بے حرمتی بھی قابل مذمت ہے۔

    قبل ازیں یوم کینیڈا پر وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا تھا کہ اسکولوں میں بچوں کی باقیات کی دریافت سے ہمیں اپنی تاریخ کی ناکامیوں پر غور کرنے کا موقع ملا ہے۔ بدقسمتی سے کینیڈا میں اب بھی کچھ لوگ مقامی افراد اور بہت سے دوسری اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی پر مبنی رویہ رکھتے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کینیڈا کے علاقوں برٹش کولمبیا اور ساسکیچوان کے سابق بورڈنگ اسکولوں جو حکومت کے تعاون سے کیتھولک چرچ کے زیر انتظام تھے سے ایک ہزار کے قریب غیر نشان زدہ قبریں ملی تھیں۔

    کینیڈا میں سابق سکول سے مزید 182 بچوں کی اجتماعی قبریں دریافت

    کینیڈا کے ایک سکول کے احاطہ سے 215 بچوں کی باقیات برآمد

  • انٹارکٹیکا میں گرمی کی شدت میں اضافہ بھیانک حد تک پہنچ سکتا ہے، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    انٹارکٹیکا میں گرمی کی شدت میں اضافہ بھیانک حد تک پہنچ سکتا ہے، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    جنیوا:کینیڈا سے لے کر روس تک درجہ حرارت بڑھتا ہی جارہا ہے اور اس سے ماہرین اور عوام میں تشویش پھیلانے والے پودوں اور جانوروں کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اور ، اب ، یہ خبریں آرہی ہیں کہ انٹارٹیکا میں بھی گرجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا –

    باغی ٹی وی :یکم جولائی کو قطب جنوبی پر 18.3 ڈگری سینٹی گریڈ کے ریکارڈ درجہ حرارت کی تصدیق کے بعد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ انٹارکٹیکا میں گرمی کی شدت میں مزید متوقع اضافہ ’بھیانک حد تک‘ پہنچ سکتا ہے جو مارچ 2015 میں پچھلی اعلی 17.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک چڑھ گیا تھا۔

    حالیہ تحقیقات سے بھی یہی بات سامنے آئی ہے کہ برفانی براعظم قطب جنوبی (انٹارکٹیکا) اور گرین لینڈ کے اوسط درجہ حرارت میں صرف 2 ڈگری سینٹی گریڈ کے اضافے سے بھی وہاں جمی ہوئی کھربوں ٹن برف پگھل سکتی ہے جس کے نتیجے میں سمندروں کی سطح 43 فٹ تک بلند ہوسکتی ہے۔

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر درجہ حرارت میں اضافہ اس مقام تک پہنچ گیا تو پھر شاید ہمارے پاس ماحول کو دوبارہ درست کرنے کا کوئی راستہ باقی نہیں بچے گا۔

    انٹارکٹیکا کا اوسط درجہ حرارت ساحلی علاقوں میں منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ براعظم کے درمیان بلند ترین مقامات پر منفی 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔

    گرمیوں میں انٹارکٹیکا کا اوسط ساحلی درجہ حرارت گرمیوں میں 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے کچھ زیادہ، اور سردیوں میں منفی 40 ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے جبکہ جمعہ کے روز انٹارکٹیکا میں 18.3 ڈگری سینٹی گریڈ کے ریکارڈ درجہ حرارت کی تصدیق، اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے ’’عالمی موسمیاتی تنظیم‘‘ (ڈبلیو ایم او) نے کی تھی۔

    سائنسدانوں کا زمین پر سمندر سے بھی بڑی جھیل دریافت کرنے کا انکشاف

    یہ درجہ حرارت انٹارکٹیکا میں ارجنٹائن کے تحقیقی مرکز ایسپیرینزا نے 6 فروری 2020 کے روز ریکارڈ کیا تھا۔ البتہ انٹارکٹیکا میں بلند ترین درجہ حرارت 30 جنوری 1982 کے روز، 19.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    اس سال 9 فروری کو انٹارکٹیکا میں برازیل کے تحقیقی مرکز نے بھی وہاں 20.75 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت معلوم کرنے کا دعوی کیا تھا لیکن ڈبلیو ایم او نے تجزیئے کے بعد اس ریکارڈ کو مسترد کردیا ہے۔

    پاکستان میں عالمی حدت کے اثرات .تحریر:حمزہ احمد صدیقی

    عالمی موسمیاتی تنظیم کے اوّل نائب صدر اور ارجنٹائن میں محکمہ موسمیات کے سربراہ ڈاکٹر سیلیستو ساؤلو نے کہااس نئے ریکارڈ سے ایک بار پھر یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کو روکنے کےلیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے-

    دوسری جانب عالمی موسمیاتی تنظیم کے سیکریٹری جنرل، پیٹیرے تالاس نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ برفانی براعظم انٹارکٹیکا، دنیا میں سب سے تیزی سے گرم ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں کا اوسط درجہ حرارت پچھلے پچاس سال میں 3 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔

    گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل ، شمشال جھیل

  • کورونا وائرس کی نئی اقسام کا پھیلاؤ تیزی سے جاری، ڈبلیو ایچ او نے دنیا کو خبردار کر دیا

    کورونا وائرس کی نئی اقسام کا پھیلاؤ تیزی سے جاری، ڈبلیو ایچ او نے دنیا کو خبردار کر دیا

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی مختلف اقسام عالمی ویکسین رول آؤٹ سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں ، اور رہنماؤں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ویکسین لگانے کی رفتار میں اضافہ کریں یا خطرے سے دوچار ہوں۔

    باغی ٹی وی : بزنس انسائیڈر نے گارجئین کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ، ڈاکٹر ٹیڈروس اذانوم گریبیسس نے نوٹ کیا کہ انتہائی متعدی ڈیلٹا مختلف قسم ، جس کی ہندوستان میں پہلی بار نشاندہی کی گئی تھی ، اسکے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ویکسین لگائی گئی-

    گریبیس نے کہا ، "ڈیلٹا کی مختلف حالت خطرناک ہے اور اس کا ارتقاء اور تغیر بدستور جاری ہے ، جس کے لئے صحت عامہ کے ردعمل میں مستقل جانچ پڑتال اور محتاط ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت ہے "کم از کم 98 ممالک میں ڈیلٹا کا پتہ چلا ہے اور وہ ان ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے جو کم اور زیادہ ٹیکے لگانے کی کوریج رکھتے ہیں۔”

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ جولائی 2022 تک ہر ملک میں 70٪ لوگوں کو اس سے بچاؤ کی ویکیسین لگائی جائے گی-

    کچھ ترقی یافتہ ممالک پہلے ہی اس شرح کے نزدیک ہیں ، لیکن دنیا کا بیشتر حصے میں ابھی تک ویکسین لگائی جانے کی شرح کہیں کم ہے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر لوگوں کو جلد اور وقت پر ویکسین نہیں لگائی تو ، اس وائرس کے بدتر بدلے جانے کا زیادہ امکان ہے۔

    گیبریبیسس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وسیع پیمانے پر ویکسی نیشن "وبائی امراض کو سست کرنے ، زندگیوں کو بچانے اور واقعی عالمی معاشی بحالی کا بہترین طریقہ ہے ، اور اس راستے میں مزید خطرناک شکلوں کو بالائی دستی حاصل ہونے سے روکنا ہے –

    ڈبلیو ایچ او نے اس وقت خبردار کیا جب ڈیلٹا کی مختلف حالت پوری دنیا میں تیزی سے پھیل رہی ہے پرتگال ، روس ، اور برطانیہ جیسے ممالک میں روزانہ نئی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    بزنس انسائیڈر نے نے اپنی رپورٹ میں اسکائی نیوز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ، برطانوی محکمہ صحت کے عہدیداروں نے رواں ہفتے کہا تھا کہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں ڈیلٹا کے مختلف معاملوں میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ ہفتے جمعہ کے روز تصدیق شدہ معاملات 46 فیصد بڑھ گئے تھے۔

    بزنس انسائیڈر کے مطابق سی این این کے مطابق ، ڈیلٹا کے مختلف حصے امریکہ میں بھی بڑے پیمانے پر پھیل چکے ہیں اور تمام 50 ریاستوں میں اس کے کیسز سامنے آئے ہیں ۔ خبروں کے مطابق ، آرکنساس ، کولوراڈو ، میسوری ، نیواڈا اور یوٹا وہ ریاستیں ہیں جو مختلف حالتوں کا سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔

    جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق ، وبائی امراض کے آغاز سے ہی 6 لاکھ 5 ہزار سے زیادہ امریکی وبا مر چکے ہیں۔ جے ایچ یو کے اعداد و شمار میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی ریاست کی کل آبادی کا تقریبا 47 فیصد مکمل طور پر ویکسین سے بچایا گیا ہے۔

    دوسری جانب بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق کسفورڈ یونیورسٹی میں وائرل ارتقا کا مطالعہ کرنے والے ڈاکٹر ایریس کتزوراکس کہتے ہیں ’اس وائرس نے ہمیں بہت حیرت میں ڈالا ہے۔ یہ ہمارے کسی بھی خوف سے بڑھ کر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ 18 مہینوں میں دو بار ہوا ہے، اس کی دو اقسام (الفا اور پھر ڈیلٹا) جو ہر ایک دوسری سے 50 فیصد زیادہ منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے جو انتہائی غیر معمولی ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ یہ وائرس کس حد تک بڑھ سکتا ہے، اس کی پیشگوئی کرنے کا خیال ’احمقانہ‘ ہے لیکن ان کا اندازہ ہے اگلے دو سالوں میں یہ باآسانی بہت بڑی چھلانگ لگا سکتا ہے یعنی اس کی کچھ اور مختلف خطرناک قسمیں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔

    تاہم کچھ وائرس ایسے ہیں جن کے انفیکشن کی شرح کووڈ وائرس سے کہیں زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر خسرہ یا چیچک کا وائرس اس معاملے میں ’ریکارڈ ہولڈر‘ ہے جس کے انفیکشن کی شرح بڑھ کر سنگین صورتحال اختیار کر سکتی ہے۔

    پروفیسر بارکلے کا کہنا ہے ’خسرہ میں پھیلنے کی شرح 14 سے 30 کے درمیان ہے لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ’کورونا وائرس میں مزید اضافہ (خطرناک ہونے) کی گنجائش موجود ہے لیکن اس کے بارے میں واضح طور پر کچھ کہنا درست نہیں ہو گا۔‘

    کورونا وائرس میں ہم نے جس طرح کی تبدیلی ‘الفا’ سے لے کر ‘ڈیلٹا’ میں دیکھی ہے، کیا ہمیں اسی طرح اومیگا یا دیگر مختلف حالتوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور کیا یہ مختلف حالتیں بد سے بدتر ہوتی جائیں گی؟

    اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر ایرس کتزوراکیس کہتے ہیں ’آخرکار اس کی بھی ایک حد ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ایک انتہائی الٹرا وائرس ہو گا جس میں تغیر پزیر ہونے کے تمام برے امتزاج شامل ہوں گے اور یہ ایسا وائرس ہو گا جس پر قابو نہ پایا جا سکے۔‘

    انھوں نے اس سیاق و سباق میں ایک مشہور تصور کا بھی حوالہ دیا کہ ’جب آپ کچھ چیزوں میں بہتر ہو رہے ہوں تب آپ کچھ چیزوں میں بری کارکردگی بھی دکھانے لگتے ہیں۔اسی کے ساتھ، کچھ ماہرین کی رائے ہے کہ تاریخ میں سب سے تیز رفتار ویکسینیشن مہم اس وائرس کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔

    ڈاکٹر کتزوراکیس کہتے ہیں ’یہ بالکل ممکن ہے کہ وائرس میں وہ تبدیلیاں جو ویکسین سے بچنے کے عمل کو بہتر بناتی ہیں، بالآخر اس کی منتقلی کی صلاحیت کو بالکل ہی کم کر دے گی۔‘

    انھوں نے اس کے لیے بیٹا اور ڈیلٹا ایڈیشن کے مابین ہونے والی تبدیلی کا حوالہ دیا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’ڈیلٹا کی مختلف حالتوں (جن میں E484K بھی شامل ہے) میں ہم نے دیکھا کہ نہ صرف یہ تیزی سے پھیلتا ہے، بلکہ یہ قوتِ مدافعت کو بھی دھوکہ دے سکتا ہے۔‘

    ایسی صورتحال میں ابھی یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ کووڈ سے نمٹنے کے لیے بہترین حکمت عملی کیا ہے۔ مختلف وائرس مختلف طریقے سے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔ جیسے چیچک (خسرہ) وائرس انتہائی خطرناک ہے لیکن یہ زندگی بھر کے لیے قوتِ مدافعت چھوڑ جاتا ہے لہذا اسے ہر بار ایک نیا ہدف ڈھونڈنا پڑتا ہے۔

    امپیریل کالج لندن میں بیماری کے ماہر ماڈل کے مطابق جب ووہان میں وبائی بیماری شروع ہوئی تھی تب یہ کووڈ کی یہ صلاحیت 2.5 کے آس پاس تھی اور ڈیلٹا اقسام کے لیے یہ 8.0 تک جا سکتی ہے۔

    لیکن اس غیر متوقع مرحلے میں ویکسینیشن کی تیز رفتار مہمات امید کی کرن ہیں سائنس دانوں کو امید ہے کہ امیر اور ترقی یافتہ ممالک میں جہاں ویکسینیشن مہم تیزی سے چلائی جا رہی ہے کورونا وائرس کی اگلی شکل مدافعت کی وجہ سے اتنی پریشانی کا باعث نہیں ہو گی۔

    لیکن یہ مختلف حالتیں زیادہ متعدی ہونے والی ہیں اور ان کا خطرناک رجحان باقی دنیا کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہے۔

  • کراچی: فزکس کا پیپر امتحان شروع ہونے کے 4 منٹ بعد ہی آؤٹ ہو گیا

    کراچی: فزکس کا پیپر امتحان شروع ہونے کے 4 منٹ بعد ہی آؤٹ ہو گیا

    کراچی میں میٹرک کا پہلا پرچہ امتحان شروع ہونے کے چند منٹ بعد ہی آؤٹ ہوگیا-

    باغی ٹی وی : باخبر ذرائع کے مطابق فزکس کا پیپر ساڑھے 9 بجے شروع ہوا اور 9بجکر 34 منٹ پر فوٹوکاپی کی دکانوں پر دستیاب تھا میٹرک کے سالانہ امتحانات کا کراچی میں آج سے آغاز ہوگیا ہے –

    تاہم پہلے روز ہی بدانتظامی کا واقعہ اس وقت رپورٹ ہوا جب فزکس کا پیپر شروع ہوجانے کے 4 منٹ بعد فوٹو کاپی کی دکانوں پر تو پہنچ گیا مگر الآصف گورنمنٹ اسکول ملیر تک نہ پہنچ سکا۔

    اسکول میں 10 بجے تک بھی پیپر شروع نہیں ہوسکا جبکہ اسکول انتظامیہ کا اس صورتحال پر کہنا ہے کہ طلبہ کو پیپر کرنے کے لئے 2 گھنٹے کا اضافی وقت دیا جائے گا۔

    دوسری جانب امتحان کے آغاز کے 4 منٹ بعد آؤٹ ہونے والا پرچہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا، جبکہ کچھ مراکز پر طلباء امتحانی کاپی لئے پیپر شروع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں اور وہاں موجود ان کے والدین پریشان ہیں۔

    کراچی: نویں اور دسویں کے سالانہ امتحانات کا آج سے آغاز

  • آمر مٹ جاتے ہیں تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرتی      آصف علی زرداری

    آمر مٹ جاتے ہیں تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرتی آصف علی زرداری

    پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ آمر مٹ جاتے ہیں تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرتی-

    باغی ٹی وی :سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ آمر مٹ جاتے ہیں تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرتی۔ پارلیمنٹ کو بے توقیر کرنا جمہوریت سے انتقام ہے جمہوریت کے لیے ہماری جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی ہم جمہوریت کے لئے لڑتے رہیں گے-

    دوسری جانب پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ 5 جولائی 1977 کو ضیاء الحق نے عوامی اور جمہوری حکومت ختم کی۔ 44 سال پہلے ہوئے سانحہ کے اثرات سے ملک آج تک نہیں نکل سکا۔

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ 5 جولائی 1977 کو عوامی حکومت کا خاتمہ نہ ہوتا تو آج ملک کی سمت مختلف ہوتی۔

    بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ہم آج بھی پاکستان کی جمہوری بقا کے لیے لڑ رہے ہیں-ذوالفقاربھٹوکواذیتیں دینے والے ملامت جھیلنے کے لیے کوڑے دان میں پڑے ہیں جمہوری اور آمریت پسند قوتوں کے درمیان جنگ آج بھی جاری ہے-

    بلاول کا کہنا تھا کہ ذوالفقار بھٹو نے ملک و قوم کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیااور جان نچھاور کرنے کو ترجیح دی ذوالفقار بھٹو نے کہا تھا کہ اقتدار عوام کو دیا جائے،ورنہ سب کچھ ختم ہو جائے گا ذوالفقار بھٹو کے حامی اور پیروکاروں کو بھی ہر قسم کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا-

    ذوالفقار بھٹو نے اتفاقِ رائے سے آئین کی منظوری کی سرپرستی کی اور سقوط ڈھاکہ کے بعد ٹکروں میں بٹی ہوئی قوم کو متحد کیا 5جولائی 1977کی بغاوت نے دہشت گردی کے بیج بوئے 5جولائی کو ملکی تاریخ میں ہمیشہ سیاہ ترین دن کے طور پر یاد کیا جائے گا-

    5جولائی 1977کی بغاوت نے دہشت گردی کے بیج بوئے،یہ ملکی تاریخ میں ہمیشہ سیاہ ترین دن کے طور پر یاد کیا جائے گا بلاول بھٹو

  • 5جولائی 1977کی بغاوت نے دہشت گردی کے بیج بوئے،یہ ملکی تاریخ میں ہمیشہ سیاہ ترین دن کے طور پر یاد کیا جائے گا    بلاول بھٹو

    5جولائی 1977کی بغاوت نے دہشت گردی کے بیج بوئے،یہ ملکی تاریخ میں ہمیشہ سیاہ ترین دن کے طور پر یاد کیا جائے گا بلاول بھٹو

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ہم آج بھی پاکستان کی جمہوری بقا کے لیے لڑ رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : بلاول بھٹو نے 5 جولائی کے‌حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ ذوالفقاربھٹوکواذیتیں دینے والے ملامت جھیلنے کے لیے کوڑے دان میں پڑے ہیں جمہوری اور آمریت پسند قوتوں کے درمیان جنگ آج بھی جاری ہے-

    بلاول کا کہنا تھا کہ ذوالفقار بھٹو نے ملک و قوم کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیااور جان نچھاور کرنے کو ترجیح دی ذوالفقار بھٹو نے کہا تھا کہ اقتدار عوام کو دیا جائے،ورنہ سب کچھ ختم ہو جائے گا ذوالفقار بھٹو کے حامی اور پیروکاروں کو بھی ہر قسم کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا-

    چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے آمریت کے خلاف بھرپور اور دلیرانہ جدوجہد کی،ذوالفقار بھٹو نے بڑی بہادری کے ساتھ عوام کے حقوق کے لیے جنگ لڑی اورادوراندیش سیاسی تدبر سے عالم اسلام کی قیادت کی-

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ قائد نے چند سلیکٹڈ افراد تک محدود اقتدار کو چھین کر عوام کو اختیارات منتقل کیے،ذوالفقار بھٹو نے اتفاقِ رائے سے آئین کی منظوری کی سرپرستی کی اور سقوط ڈھاکہ کے بعد ٹکروں میں بٹی ہوئی قوم کو متحد کیا –

    بلاول نے کہا کہ 5جولائی 1977کی بغاوت نے دہشت گردی کے بیج بوئے 5جولائی کو ملکی تاریخ میں ہمیشہ سیاہ ترین دن کے طور پر یاد کیا جائے گا-

  • چین سے سائنو فارم کی 14 لاکھ خوراکیں پاکستان میں پہنچ گئیں ،مزید خوراکیں آج لائی جائیں گی

    چین سے سائنو فارم کی 14 لاکھ خوراکیں پاکستان میں پہنچ گئیں ،مزید خوراکیں آج لائی جائیں گی

    چین سے سائنو فارم ویکسین کی 14 لاکھ خوراکیں پاکستان پہنچا دی گئیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق چین سے چوبیس گھنٹوں میں 14 لاکھ سائنوفارم کی خوراکیں پاکستان میں پہنچا دی گئیں مزید 6 لاکھ خوراکیں آج لائی جائیں گی۔

    سائنو ویک کی 20 لاکھ خوراکیں دو روز میں پاکستان پہنچائی جائیں گی۔

    ادھر این سی او سی کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے تمام سیاحتی مقامات پر رجسٹرڈ آبادیوں کی سو فیصد ویکسی نیشن کی جائے گی۔

    کورونا وائرس کی صورتِ حال اور ویکسینیشن کا جائزہ لینے کیلئے ڈی جی این سی او سی نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا تھا ان کے ساتھ جانے والے وفد نے گلگت، شگر اور ہنزہ کے ویکسینیشن سینٹرز کا معائنہ کیا۔

    اس موقع پر این سی او سی کی جانب سے تمام سیاحتی مقامات پر رجسٹرڈ آبادیوں کی 100 فیصد ویکسینیشن کا فیصلہ کیا گیا تھا اور گلگت بلتستان میں ویکسینیشن کا عمل بہتر کرنے کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے-

    این سی او سی نے عید قربان کے لئے ہدایات جاری کردیں

  • کراچی: نویں اور دسویں کے سالانہ امتحانات کا آج سے آغاز

    کراچی: نویں اور دسویں کے سالانہ امتحانات کا آج سے آغاز

    کراچی میں میٹرک بورڈ کے تحت نویں اور دسویں کے سالانہ امتحانات کا آج سے آغاز ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :ترجمان میٹرک بورڈ کے مطابق نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات میں 3لاکھ 48ہزار 249طلبا شریک ہوں گے اور صرف اختیاری مضامین کے پرچے لیے جائیں گے۔

    بورڈ ترجمان نے بتایا کہ امتحانات کیلئے شہر بھر میں 438امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے طالبات کیلئے 201 اور طلباء کیلئے 237 امتحانی مراکز بنائے گئے ہیں امتحانات میں کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ کورونا کی وجہ سے تعلیم کا بہت نقصان ہوا ہے، اسکولز کھل کر تعلیم کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔

    شفقت محمود نے کہا تھا کہ بچوں کی صحت کو نقصان پہنچائے بغیر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جاسکتا ہے، رواں سال امتحان کے بغیر بچوں کو اگلی کلاسوں میں نہیں بھیجا جائے گا۔وزیر تعلیم نے کہا تھا کہ اب امتحانات ملتوی ہوں گے اور نہ ہی منسوخ ہوں گے، امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے، بچوں کو کہوں گا کہ کسی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں۔

    میرے بچو زد نہ کریں امتحانات دینے میں‌ تمہارا ہی فائدہ ہے:اسی لیے امتحانات ضرور ہوں گے :وفاقی وزیرتعلیم