Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • سائنو ویک ویکسین کی 30 لاکھ خوراکیں آج چین سے پاکستان آئیں گی

    سائنو ویک ویکسین کی 30 لاکھ خوراکیں آج چین سے پاکستان آئیں گی

    سائنو ویک ویکسین کی 30 لاکھ خوراکیں آج چین سے پاکستان آئیں گی۔

    باغی ٹی وی : حکوت پاکستان کی جانب سے خریدی گئی سائنو ویک ویکسین کی 30 لاکھ خوراکیں آج چین سے پاکستان آئیں گی اس کے علاوہ این آئی ایچ میں تیار پاک ویک ویکسین کی دوسری کھیپ حکومت کے حوالے کردی گئی-

    آئندہ ماہ سے این آئی ایچ میں یومیہ ایک لاکھ پاک ویک ویکسین کی تیاری متوقع ہے۔

    دوسری جانب این سی او سی کے فیصلے کے مطابق یکم جولائی سے اکتیس جولائی تک ملک بھر کے سنیما اور شادی ہال کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    تاہم ویکسین نہ لگوانے والے سنیما جاسکیں گے نہ شادی میں شرکت کرسکیں گے کاروباری مراکز اب آٹھ کی بجائے رات دس بجے تک کھل سکیں گے۔

    علاوہ ازیں پنجاب کے تعلیمی اداروں میں بھی5 جولائی سے 22 اگست تک موسم گرما کی تعطیلات کرنے کی تجویز دی گئی ہے-

    این سی اوسی نے شادی ہال ، مزارات اور سینما بارے اجازت دے دی مگر کس کو

  • پاکستان میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 2 فیصد سے کم

    پاکستان میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 2 فیصد سے کم

    پاکستان میں کورونا کی لہر کی شرح میں کمی،24 گھنٹوں میں 23 اموات-

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر جاری ہے، کورونا مریضوں اور اموات میں کی شرح میں کمی ہو رہی ہے-


    نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس پر پاکستان میں کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے اور ملک بھر میں کورونا سے اموات اور مثبت کیسز کی شرح میں کسی حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا سے مزید 23 اموات ہوئی ہیں-

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز کورونا کے 41 ہزار133 نئے ٹیسٹ کئے گئے735 نئے کیسز سامنے آ گئے۔ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریباً 1.78 فی صد رہی۔

    پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 22ہزار254 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 9لاکھ 56 ہزار392 ہو چکی ہے۔

  • مٹن کنّا بنانے کی ترکیب

    مٹن کنّا بنانے کی ترکیب

    مٹن کنّا

    وقت :1¼سے 1½گھنٹے

    8 سے10 افراد کے لئے

    اجزائے ترکیبی ………… مقدار …………

    مٹن ………… دو کلو
    گھی ………… 1کپ
    پیاز (کٹے ہوئے) ………… 1½ کپ
    ادرک لہسن کا پیسٹ ………… 2کھانے کے چمچ
    نمک ………… حسب ذائقہ
    سرخ مرچ پاؤڈر ………… 1½کھانے کا چمچ
    خشک دھنیا پاؤڈر ………… 1½کھانے کا چمچ
    کالا زیرہ ………… 1½کھانے کا چمچ
    آٹا ………… 1½کھانے کا چمچ
    گندھا ہوا آٹا (برتن کو بند کرنے کے لئے) ………… حسب ضرورت

    طریقہ کا ر:
    مٹن کو تقریباً 200گرام کے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ایک مٹی کا مٹکا لے کر کھلی انگیٹھی پر رکھیں۔ اس میں گھی اور پیاز لے کر ہلکا سے گولڈن براؤن ہونے تک تلیں۔ ادرک لہسن کا پیسٹ شامل کرکے ایک سے دو منٹ تک پکائیں۔ اب نمک، سرخ مرچ اور دھنیا پاؤڈر شامل کریں مٹن ڈال کر 6سے 8منٹ تک بھونیں۔ 4کپ پانی اور زیرہ شامل کرکے ایک سے دو منٹ بھونیں، تھوڑا سا پانی ڈال کر آٹے کا قتل پیسٹ بنائیں اور مٹن کے مکسچر میں ڈال دیں۔ مٹکے پر ڈھکن دیں اور اسے آئل سے سیل کردیں۔ 50 سے 60 منٹ مکمل تیارہونے تک پکائیں۔ نان یا کشمیری روٹی کے ساتھ اسی مٹکے میں پیش کریں۔ اگر مٹکاموجود نہ ہو تو چھوٹی دیگ یا موٹے پیندے کا برتن بھی استعمال کیاجاسکتا ہے۔

  • الٹرا پروسیسڈ کھانے کیا ہیں؟ان کے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں  ؟

    الٹرا پروسیسڈ کھانے کیا ہیں؟ان کے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟

    الٹرا پروسیسڈ کھانے ہم بہت پسند کرتے ہیں لیکن ان کا استعمال ہماری صحت کے لئے نہایت ہی نقصان دہ ہے اس کے استعمال سے کم نیند، سینے اور معدے میں جلن، سستی، قبض، پائلز اور وزن میں اضافے جیسے مسائل جنم لیتے ہیں-

    پکلنگ، کیننگ، پیسچورائزنگ، فرمنٹنگ، ری کونسٹیٹیوٹنگ ۔ یہ سب فوڈ پروسیسنگ کی شکلیں ہیں، اور حتمی نتائج اکثر کافی مزیدار ہوتے ہیں۔

    لیکن جو چیز ’الٹرا پروسیسڈ‘ فوڈز (یوپی ایف) کو منفرد کرتی ہے وہ یہ ہے کہ انھیں پہچان سے کہیں زیادہ اور کیمیائی طور پر تبدیل کر دیا جاتا ہے اور اس میں ایسے مختلف طریقے اور اجزا استعمال کیے جاتے ہیں جو ہم گھر پر کھانا پکاتے وقت عام طور پر استعمال نہیں کرتے۔

    الٹرا پروسیس کھانا کھانے سے بھوک کے لیے ذمہ دار ہارمونز میں اضافہ ہوتا ہے اور اس ہارمون میں کمی ہوتی ہے جس سے ہمیں پیٹ بھرنے یا سیری کا احساس ہوتا ہے، جس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بہت سے لوگوں نے کیوں زیادہ کھانا کھایا اور وزن بڑھا لیا۔

    لیکن وزن میں اضافہ زیادہ یو پی ایف والی غذا سے وابستہ مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے۔ کئی دیگر مطالعات میں دیکھا گیا ہے کہ یو پی ایف غذا کے طویل عرصے تک کھانے اور دل کی بیماری، موٹاپا، ذیابیطس کی دونوں اقسام، کچھ طرح کے کینسروں اور حتیٰ کہ ڈپریشن میں بھی ایک طرح کا تعلق ہے۔

    بی بی سی کے مطابق ماہرین کے مطابق یو پی ایف ایک مکینیزم پیدا کر دیتے ہیں جسے کو ’امید پرستی‘ کہا جاتا ہے جنک فوڈ کے لیے مثبت جذبات ہمیں فوری طور پر متاثر کرتے ہیں۔ لیکن منفی اثرات میں اضافہ ہونے میں وقت لگتا ہے۔ ہمارے لیے یہ یقین کرنا آسان ہے کہ ہمارے پاس بعد میں (اپنی کھانے کی عادات) کو تبدیل کرنے کا وقت ہو گا، یا اس کا نتیجہ بہرحال ناگزیر ہے آسان زبان میں: اب آپ اسے پسند کریں گے، لیکن بعد میں آپ کو پچھتاوا ہو گا۔

    آسٹریلین گائیڈ ٹو ہیلتھی ایٹنگ‘ میں ان کھانے کو ’صوابدیدی کھانیں‘ کہتے ہیں، کیونکہ یہ ضرورت نہیں، انتخاب ہیں۔‘

    ماہرین کے مطابق جن کے پاس انتخاب کی سہولت ہے انھیں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ’ہر ایک صحت کے لیے کھانے کے انتخاب کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ الٹرا پروسیسڈ کھانے طویل عرصے تک چلتے ہیں، آسانی سے سفر کرتے ہیں، اور ان کی تیاری میں بہت کم وقت لگتا ہے۔ جب ہمارے پاس وقت یا کیش کم ہو تو یہ توازن کے لیے اچھا آپشن ہو سکتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق ڈرانے والی اصل قوتیں وہ ہیں جو لوگوں کو صحت مند کھانے کے بجائے الٹرا پروسیسڈ کھانوں کے انتخاب کی طرف راغب کرتی ہیں مثال کے طور پر دائمی تناؤ، میٹھا، چربی اور نمکین کھانوں کے لیے ہماری بھوک بڑھا سکتا ہے۔ اور تناؤ اس وقت اور طاقت کو متاثر کر سکتا ہے جو ہم صحت مند خوراک کو دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

    اس کے علاوہ سب الٹرا پروسیسڈ کھانے لازمی طور پر جنک نہیں ہوتے پراسسڈ کھانوں میں کچھ اہم اور صحت مند کھانے بھی شامل ہیں، جیسے ڈبہ بند سبزیاں، پاستا، چاول، روٹی اور فائبر سے بھرپور ناشتے کے سیریئلز۔لیکن سب سے بڑھ کر، یہ مت بھولیے کہ کھانا اپنے مجموعی اجزاء سے کہیں زیادہ چیز ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانا ضرورت سے زیادہ بڑی چیز ہے، یہ ہماری خوشی، ثقافت، معاشرہ، سماجی میل جول اور بہت زیادہ چیزوں کا ایک حصہ ہے ہمیں صرف لوگوں کی مدد کرنی ہے کہ وہ خوشی اور صحت میں توازن پیدا کریں۔

    دوسری جانب فرانس میں کی جانے والی ایک تحقیق میں ، محققین نے پتہ چلا کہ جن افراد نے روزانہ الٹرا پروسس شدہ کھانے کی مقدار میں 10 فیصد اضافہ کیا ہے انھیں جلد موت کا 14 فیصد زیادہ خطرہ درپیش ہے۔ تحقیق کے لئے ، 45،51 سال کی عمر کے فرانسیسیو ں نے دو سال تک اپنی غذا ، صحت اور جسمانی سرگرمی کے بارے میں معلومات پیش کیں۔ الٹرا پروسیسڈ کھانوں کا استعمال شدہ کھانوں کے وزن میں سے تقریبا 14، 14 فیصد وزن اور کل کیلوری کی مقدار کا تقریبا 29 فیصد حصہ ہے۔

    بی ایم جے جریدے میں ایک مطالعہ شائع کیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے انتہائی روزانہ کھانے کی روزانہ کی مقدار میں 10 فیصد اضافہ کیا ہے ان کے مجموعی کینسر کے خطرے میں 12 فیصد اور چھاتی کے کینسر میں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    اگرچہ مطالعہ میں قطعی وجہ کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ الٹرا پروسس شدہ کھانے کی وجہ سے کینسر کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے ، محققین نے کئی نظریات پائے ایک نظریہ یہ ہے کہ کھانے میں نمک ، چینی اور چربی کی اونچی مقدار ہوتی ہے۔ ان اجزاء کو موٹاپا سے جوڑا گیا ہے ، جس سے کینسر کا زیادہ خطرہ بھی ہوسکتا ہے۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ کچھ الٹرا پروسس شدہ کھانے میں کچھ اضافی چیزیں ہوتی ہیں جن میں کارسنجینک خصوصیات ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ، کھانے کی ساخت کو بہتر بنانے کے لئے ٹائٹینیم ڈائی آکسائیڈ کو سفید کرنے والے ایجنٹ کے طور پر یا فوڈ پیکیجنگ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عضلہ بڑی آنت یا معدے کی سوزش پر گھاووں کا سبب بن سکتا ہے۔

    اس کے علاوہ ، ایک اور نظریہ اعلی درجہ حرارت ہے جو کھانے پر عملدرآمد کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جس سے نو تشکیل شدہ آلودگی پیدا ہوسکتی ہے۔ آخر میں ، بی پی اے (بیسفینول اے) عام طور پر فوڈ پیکیجنگ میں استعمال ہوتا ہے اور وہ کھانے میں جنک سکتے ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ صحت کے قومی انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے محققین کے ذریعہ کی جانے والی ایک تحقیق اور سیل میٹابولزم جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انتہائی پروسیسرڈ فوڈوں پر مشتمل ڈائیٹ کھانے سے لوگوں کو ضرورت سے زیادہ کھانے اور وزن بڑھنے کا اشارہ ملتا ہے۔ محققین نے پایا کہ انتہائی پروسیسر شدہ غذا پر رضاکاروں نے ہر دن 508 مزید کیلوری کھائی اور دو ہفتوں میں اوسطا دو پونڈ حاصل کرلیا۔ مطالعہ کے شرکاء جنہوں نے پوری یا کم سے کم پروسیس شدہ کھانوں کو کھایا اسی مدت کے دوران تقریبا دو پاؤنڈ کھوئے۔

    اگرچہ الٹرا پروسیسرڈ کھانے کی صحت پر اس طرح کے اثرات مرتب ہونے کی صحیح وجوہات جاننے کے لئے مزید مطالعات کی ضرورت ہے ، تاہم ، یہ کہنا محفوظ ہے کہ ان کو کھانے کے نتائج فوائد سے زیادہ ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر کی پہلی خواجہ سرا میک اپ آرٹسٹ کے انٹرنیٹ پر چرچے

    مقبوضہ کشمیر کی پہلی خواجہ سرا میک اپ آرٹسٹ کے انٹرنیٹ پر چرچے

    مقبوضہ کشمیر کے خواجہ سرا کے سوشل میڈیا پر خوب چرچے ہیں اور ہر دن اُن کے مداحوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

    باغی ٹی وی : ماضی میں اہلخانہ اور معاشرے کے ظلم و ستم اور طعنے سُننے والی مقبوضہ کشمیر کی پہلی خواجہ سرا مانو بیبو نے بااختیار میک اپ آرٹسٹ بن کر دُنیا بھر کی خواجہ سرا برادری کے لیے مثال قائم کردی۔

    نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے مانو بیبو نے بتایا کہ ہر شخص میرے کام کی تعریف کرتا ہے۔ اس سے مجھے بہت خوشی اور فخر محسوس ہوتا ہے-

    20 سالہ مانو مقبوضہ کشمیر کے علاقے سری نگر سے تعلق رکھتی ہیں وہ ایک مڈل کلاس فیملی میں پیدا ہوئیں جہاں اُن کی پرورش لڑکوں کی طرح کی گئی لیکن 13 سال کی عُمر میں اُنہیں اپنے اندر کچھ تبدیلی محسوس ہونے لگی۔

    میک اپ آرٹسٹ خواجہ سرا کے مطابق جب اُن کی بہن کی شادی ہوئی تو وہ خود کو تنہا محسوس کرنے لگیں اور”مجھے حیرت ہونے لگی کہ خدا نے مجھے لڑکی کیوں نہیں بنایا؟کیونکہ اُن کی دوستی لڑکیوں سے ہی تھی۔

    اس نے کہا وقت کے ساتھ ساتھ وہ سمجھ گئی کہ اس میں ایک لڑکی کی "روح” ہے۔

    مانو نے بتایا کہ جب اُنہوں نے اپنی سوچ اپنے اہلخانہ کے سامنے رکھی تو اُس وقت اُنہیں اہلخانہ اور معاشرے کی طرف بہت بُرا بھلا کہا گیا، اُن کا مذاق بنایا گیا انہیں خاندانی محفلوں میں نہیں بُلایا جاتا تھا –

    "مخنث” افراد کیلئے سب انسپکٹراورکانسٹیبلز لیول کی آسامیوں پردرخواستیں جمع کرانے کا اعلان

    میرے ہائی اسکول کے دنوں میں مجھے بری طرح سے بد تمیزی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور مجھے اس حد تک ذہنی طور پر اذیت ملی کہ میں نے اپنی تعلیم چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور وہ صرف 12 جماعت تک ہی تعلیم حاصل کرسکیں، بعد میں ، مجھے اس کی عادت پڑ گئی ، اور آخر کار ، مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوئی۔

    انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ اس کی وجہ سے ان کے کنبہ کا بھی مذاق اڑایا گیا ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ، انہوں نے بھی دوسروں کی باتوں کی پرواہ کرنا چھوڑ دیا اُس کے بعد اُنہوں نے اپنی ایک الگ پہچان بنانے کا سوچا۔

    مانو نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں زیادہ خواجہ سرا برادری کو شادی بیاہ کی تقاریب میں ناچنے گانے کا کام ہی ملتا ہے لیکن وہ اس سے کچھ الگ کرنا چاہتی تھیں اور پھر اُنہوں نے میک اپ آرٹسٹ بننے کا سوچا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سے ہی میک اپ کرنے میں دلچسپ رکھتی تھیں اور اسی وجہ سے اُنہوں نے اسی میں اپنا کیرئیر بنانے کا فیصلہ کیا۔

    مانو نے چار سال قبل اپنے منصوبے کا آغاز کیا تھا اور اپنی محنت اور لگن کے ساتھ ہی اس نے کشمیر میں ہر جگہ اپنے لئے ایک نام کمایا تھا۔ سوشل میڈیا پر اس کے ہزاروں فالوورز ہیں اور یہ تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مانو نے کہا کہ ’میں وہ کام کرنے میں یقین رکھتی ہوں جس سے آپ کو عزت ملتی ہے، میں شادیوں میں کیوں ناچوں اور کیوں لوگوں کی بے شرمی، ذلت آمیز ہنسی کو برداشت کروں؟

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’میں اپنی والدہ، استاد کا شکریہ ادا کرتی ہوں کیونکہ میرے اس سفر میں اُنہوں نے میری بہت مدد کی۔

    پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ماڈل پر تشدد

    مانو نے کہا کہ ’میں اپنی زندگی سے خوش ہوں، مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ کون کیا سوچتا ہے یا ان کا کیا ردّعمل ہے، میں خود ہی اپنی کمائی کرتی ہوں اور میں جو بھی کام کرتی ہوں اس سے میرے اہلخانہ بھی خوش ہیں۔‘

    انہوں نے کہا کہ کشمیر میں اقلیتی ٹرانسجینڈر برادری کی حمایت عروج پر ہے اور لوگ ان کا زیادہ خیرمقدم اور احترام کررہے ہیں۔

    خود کو دیکھتی ہوں تو لگتا ہے جیسے کوئی خواجہ سرا کھڑا ہے ایمان علی

    خواجہ سرا نے کہا کہ وہاں موجود سارے ٹرانسجینڈروں کو یا یہاں تک کہ ان لوگوں کو جو چھپانے پر مجبور ہیں: خود ہی رہو ، کیوں کہ زندگی بہت ہی مختصر ہے جس کی وجہ سے لوگوں کا خیال ہے۔ چاہے آپ اچھا کریں یا برا ، لوگوں کے پاس ہمیشہ کچھ منفی بات کہنی ہوگی۔ تو بس ایسے لوگوں کی طرف توجہ ہی نہ دو اور اپنی زندگی میں کچھ بہترین کرو-

    رابعہ انعم نے ایمان علی کو خود کو ’خواجہ سرا‘ جیسا قرار دینے پربیوقوف قراردیا

  • نینا گپتا بالی ووڈ میں 40 سالہ کیرئیر میں پہلی مرتبہ امیتابھ بچن کے ساتھ اسکرین پر نظر آئیں گی

    نینا گپتا بالی ووڈ میں 40 سالہ کیرئیر میں پہلی مرتبہ امیتابھ بچن کے ساتھ اسکرین پر نظر آئیں گی

    بالی ووڈ کی سینئر اور لیجنڈری اداکارہ نینا گپت ابالی ووڈ میں 40 سالہ کیرئیر میں پہلی مرتبہ فلم ” گڈ بائی ” میں امیتابھ بچن کے ساتھ کام کریں گی-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق فلم” گڈ بائی” کی شوٹنگ کورونا وائرس کیسز میں اضافے کے بعد نافذ کیے گئے لاک ڈائون کی وجہ سے روک دی گئی تھی تاہم اب لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد شوتنگ دوبارہ شروع کر دی گئی ہے-

    رپورٹ کے مطابق اداکارہ کے لئے یہ بہت خاص موقع ہے کیونکہ آئندہ برس بالی ووڈ میں انھیں چالیس برس مکمل ہوجائیں گے اور وہ امیتابھ بچن کے ساتھ پہلی مرتبہ اسکرین پر کام کرتے ہوئے نظر آئیں گی۔

    ایشوریا کے ساتھ بطور ہیرو کاسٹ ہونے پر یقین نہیں آرہا تھا رجنی کانت

    نینا گپتا کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ہر کوئی حیران ہے کہ یہ میری امیتابھ بچن کے ساتھ پہلی فلم ہے، لیکن یہ حقیقت ہے، چلو بالآخر مجھے ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع تو ملا۔

    ان کا کہنا ہے کہ بہت سال پہلے ایک پروجیکٹ پر ہماری بات چیت ہوئی تھی لیکن وہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔ مجھے نہیں معلوم ایسا کیوں ہوا؟اب وہ فلم گڈ بائی میں امیتابھ کی بیوی کا کردار ادا کریں گی-

    واضح رہے کہ نینا کی بچن خاندان سے بہت اچھی دوستی ہے، اور نینا کے مطابق جیا بچن انھیں اپنے گھر ہونے والی دیوالی پارٹی میں ہر برس مدعو کرتی ہیں-

    ہمارے یہاں بھارت سے زیادہ باصلاحیت فنکار موجود ہیں فیصل جاوید خان

  • امریکہ میں چوروں کے لئے نیا قانون نافذ ،چوروں کے وارے نیارے ہوگئے، پولیس بےبس عوام پریشان

    امریکہ میں چوروں کے لئے نیا قانون نافذ ،چوروں کے وارے نیارے ہوگئے، پولیس بےبس عوام پریشان

    سان فرانسسکو: ریاست کیلیفورنیا میں نیا قانون منظور ہوا کہ اگر کوئی 950 ڈالر کے نیچے کوئی چیز چوری کرتا ہے تو پولیس چور کو روک نہیں یا اسے گرفتار نہیں کر سکتی –

    باغی ٹی وی : امریکہ میں کمیونزم اور سرمایہ داری ناکام ہوگئی ، اب جمہوریت کے ناکام ہونے کی باری ہے غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق کیلی فورنیا میں 950 ڈالر سے کم کی چیزیں چوری کرنے پر پولیس چور کو نہ تو پکڑ سکتی یے اور نہ ہی روک سکتی ہے کیونکہ یہ غربت کو مجرم قرار دے رہا ہے کیلیفورنیا میں بہت سے دکانیں اس احمقانہ قانون کی وجہ سے بند ہورہی ہیں

    سان فرانسسکو میں وال گرین پرچون چین اسٹور سے سامان چوری کرتے ہوئے ایک شخص پکڑا گیا جب اسٹور پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے دیکھا اور اسے جانے دیا۔ ویڈیو میں ایک شخص دکھایا گیا ہے جس کا چہرہ چھپا ہوا ہے اور وہ ایک بڑے تھیلے میں سامان اٹھا رہا ہے اور اپنے سائیکل پر بھاگ رہا ہے۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے ، اور اس قانون کے غلط استعمال پر مباحثہ شروع ہوا ہے جس نے شمالی کیلیفورنیا کے شہر میں اس طرح کے واقعات کو جنم دیا ہے۔

    سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں چوری کی وارداتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے ، خاص طور پر 2014 کے بعد جب اس شہر نے پروپوزیشن 47 نامی ایک متنازعہ قانون پاس کیا۔

    تجویز 47 کے تحت 950 ڈالر سے کم مالیت کا سامان چوری کرنا جرم نہیں بلکہ بدانتظامی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سان فرانسسکو میں یہ ایک عام سی نظر بن گئی ہے ، کیونکہ نئے قانون نے جرائم پیشہ افراد کو عام لوگوں کے لئے محفوظ بنانے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

    پولیس اہلکاروں کے مطابق ، اگر کوئی 950 ڈالر سے کم مالیت کی چیزیں چوری کرتا ہے تو ، پولیس کے پاس حوالے کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہوتا ہے اور ملزم وہاں سے چلے جاتے ہیں۔ اگر ملزم عدالت میں پیش نہیں ہوتا ہے تو ، شاید اسے بینچ کا وارنٹ مل جائے گا۔

    چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے بڑی تعداد میں اسٹور بند ہوگئے ہیں۔ اے بی سی نیوز کی خبر کے مطابق ، "شہر کے نگران اہشا صفائے نے کہا ،” پچھلے پانچ سالوں میں سترہ وال گرینز ، تقریبا ہر گیپ کے خوردہ فروشوں کی دکان ختم ہوچکی ہے ، سی وی ایس پر حملہ آور ہے۔

    وال گرین کے عہدے داروں نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ سان فرانسسکو اسٹورز میں شاپ لفٹنگ کے واقعات میں دوسرے شہروں کے اسٹوروں کے مقابلے میں چوری کے چار گنا زیادہ واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔

    صافائی نے کہا کہ بہت سارے واقعات میں ، یہ کیمروں کے ذریعے دیکھا گیا ہے کہ چور ایک دن میں متعدد مقامات پر حملہ کرتے ہیں۔ شہر میں اسٹورز بھی امریکہ کی جگہوں پر سیکیورٹی پر 35 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔ سان فرانسسکو میں نہ صرف اسٹور کرائم بلکہ پراپرٹی کے جرائم بھی سب سے زیادہ ہیں۔ صورتحال اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں اب منظم گروپس شاپ لفٹنگ کا دھندہ چلا رہے ہیں۔

    دی نیویارک پوسٹکے مطابق شہر کے پولیس نے استغاثہ کو مورد الزام ٹھہرایا ہے جبکہ ڈسٹرکٹ اٹارنی چیسہ بیوڈین نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    اعدادوشمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ پروجیکشن 47 منظور ہونے کے بعد سے گرفتاریوں کی تعداد پر مربوط قوانین کا مجموعی اثر پڑتا ہے۔ گرفتاری کے لئے صاف ہونے والے لاریسی کیسز کی تعداد 2018 میں 4.5 فیصد سے گھٹ کر 2020 میں 2.8 فیصد ہوگئی۔ تاہم ، نیویارک پولیس نے ، معاملات میں چار گنا زیادہ گرفتاری عمل میں لائی۔ سن 2018 میں ، سان فرانسسکو میں لارسی کیسز کی تعداد 18،363 رہی ، جبکہ 2020 میں یہ تعداد 11،062 ہوگئی۔
    https://www.youtube.com/watch?v=S6GcJ7sj7IY

  • بیگم خورشید شاہد ہماری انڈسٹری میں ٹیلنٹ کا پاور ہاؤس تھیں     ثمینہ پیرزادہ

    بیگم خورشید شاہد ہماری انڈسٹری میں ٹیلنٹ کا پاور ہاؤس تھیں ثمینہ پیرزادہ

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ و میزبان ثمینہ پیرزادہ نے اداکارہ بیگم خورشید شاہد کے انتقال پر شدید دُکھ کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :ثمینہ پیرزادہ نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے خصوصی پیغام میں سینئیر اداکارہ کی موت پر شدید دُکھ کا اظہار کیا –


    اداکارہ نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ بیگم خورشید شاہد ہماری انڈسٹری میں ٹیلنٹ کا پاور ہاؤس تھیں۔

    اُنہوں نے لکھا کہ ’بیگم خورشید شاہد ایک گرینڈ لیڈی تھیں جن کی ہم سب نے تعریف کی اور اُنہیں خوب پسند کیا وہ ٹی وی اور تھیٹر میں اپنے سارے کرداروں اور منفرد انداز کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے یاد رہیں گی۔

    اداکارہ نے بیگم خورشید شاہد کی مغفرت کے لیے دُعا بھی کی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ماضی کی فلم، ریڈیو، ٹی وی اور اسٹیج کی مقبول اداکارہ اور اداکار سلمان شاہد کی والدہ بیگم خورشید شاہد انتقال کر گئی تھیں۔

    علی ظفرکا مرحوم نانا کے لئے جذباتی پیغام

    بیگم خورشید شاہد نے کیریئر کا آغاز آل انڈیا ریڈیو سے کیا، وہ دہلی سے ہجرت کر کے پاکستان آئی تھیں، کیریئر کی ابتداء میں لاہور تھیٹر پر بھی کام کیا، انہوں نے پی ٹی وی پر پہلی مرتبہ کامیڈی ڈرامے رس ملائی میں کام کیا انہیں کلاسیکی موسیقی پر بھی عبور حاصل تھا-

    ان کے یادگار ڈراموں میں فہمیدہ کی کہانی استانی راحت کی زبانی، وادیِ پرخار، من چلے کا سودا، چابی اور چابیاں سمیت فشار شامل ہیں۔

    بیگم خورشید شاہد کو حکومت پاکستان کی جانب سے پرائڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا تھا-

    ماضی کی مقبول اداکارہ انتقال کرگئیں

  • ریمبو نے صاحبہ سے دوسی شادی کی اجازت مانگ لی اور پھر

    ریمبو نے صاحبہ سے دوسی شادی کی اجازت مانگ لی اور پھر

    شوبز انڈسٹری کی مقبول ترین جوڑی افضل خان المعروف ریمبو اور صاحبہ کا شمار شوبز کی کامیاب ترین جوڑیوں میں ہوتا ہے جوڑی اپنی کامیاب ازدواجی زندگی کے باعث بہت سی شوبز جوڑیوں کیلئے متاثرکُن شخصیت ہیں اور ان کا شمار

    باغی ٹی وی: صاحبہ نے اپنے حالیہ وی لاگ میں اپنے نکاح، بارات اور ولیمے کے عروسی جوڑے مداحوں کو دکھائے اور اپنے اس بڑے دن کے حوالے سے یادیں مداحوں کو بتائیں۔

    صاحبہ نے بتایا کہ ہمارا نکاح جمعہ کے دن ہوا تھا ریمبو نے بتایا کہ 16 اکتوبرکو ہوا تھا اور نکاح داتا دربار میں ہوا تھا۔ علامہ محمود احمد صاحب نے نکاح کا اعلان کیا تھا اور جمعہ میں شامل تمام لوگوں نکاح میں شریک ہوئے تھے نکاح کے بعد بہت تیز بارش بھی ہوئی تھی-

    صاحبہ نے بارات کا جوڑا دکھاتے ہوئے بتایا کہ اس وقت کسی اخبار میں خبر آئی تھی کہ صاحبہ کا جوڑا سونے کی تار سے بنا ہے جس پر میں اس اخبار سے ناراض بھی ہوئی تھی انہوں نےکہا خبر والے چاہتے ہیں کہ کوئی تھرل ہو خبر میں-

    جوڑے دکھاتے دکھاتے ریمبو صاحبہ سے کہتے ہیں کہ آپ اتنی اچھی ہیں کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں ایک اور شادی کرلوں۔

    ریمبو اہلیہ کے سامنے اس خواہش کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ ’میری خواہش ہے کہ میں اپنی دوسری اہلیہ کو بھی یہی آپ کی بارات کا جوڑا پہناؤں۔‘

    صاحبہ کہتی ہیں کہ ’آپ میرا جوڑا دیکھ کر یہ سوچ رہے ہیں کہ اس جوڑے کی چمک دمک ختم نہیں ہوئی تو کیوں نہ ایک اور شادی کرلی جائے ۔‘

    ریمبو صاحبہ سے دوسری شادی کے حوالے سے سوال کرتی ہیں کہ اگر میں آپ کو دوسری شادی کی اجازت دے دوں تو آپ کیا کرلیں گے؟لیکن شرط ہے کہ کوئی دوسری میرے سے اچھی ہونی چاہیئے-

    ریمبو اس مذاق میں کیے گئے سوال میں سنجیدگی سے جواب دیتے ہیں کہ ’نہیں میں نہیں کروں گا۔‘

    جان ریمبو نے کہا کہ اتنے مہنگے جوڑے آتے ہیں یہ اور بعد میں ویسے پڑے رہتے ہیں یہ رینٹ پرہونے چاہیئے اور ہماری بہت ساری بچیاں ایسی بھی ہیں جو افورڈ نہیں کر سکتیں جوڑا بھی اسی لئےرینٹ پر ہونا چاہیئے یہ فیشن اب ختم ہو نا چاہیئے اب تو دس دس پندرہ لاکھ کا بھی جوڑا ہوتا ہے وہ کون لوگ پہنتے ہیں ایک دن کے لئے دس لاکھ بیس لاکھ روپیہ لگاتے ہیں اس سے اچھا گاڑی لیں-

    اور دس پندرہ ،بیس لاکھ کا رینٹ پر جوڑا لیں اور جو نہیں افورڈ کر سکتے وہ رینٹ پر لےکر پہنیں اور والدین پر بوجھ نہ بنیں-

  • ماضی میں نہیا ککڑ نے خودکشی کرنے کا کیوں سوچا تھا ؟

    ماضی میں نہیا ککڑ نے خودکشی کرنے کا کیوں سوچا تھا ؟

    معروف بھارتی گلوکارہ نیہا ککڑ نے ماضی میں خودکشی کرنے کے بارے میں کیوں سوچا تھا گلوکارہ نے اس راز سے پردہ اٹھا دیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سال 2018 میں جب گلوکارہ نیہا ککڑ اور ان کے بوائے فرینڈ ہیمانش کوہلی کے درمیان بریک اپ ہوا تو یہ وقت گلوکارہ کے لیے انتہائی سخت تھا۔

    اس کے بعد 2019 میں نیہا ککڑ نے اپنے گلوکار دوست وی بور پرشا کے ساتھ کام شروع کیا، لیکن بریک اپ کے بعد نیہا ککڑ بہت اداس تھیں اور انہیں افواہوں کے طوفان نے گھیر رکھا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق سال 2019 میں نیہا ککڑ نے افواہوں سے تنگ آکر انسٹاگرام پر ایک تفصیلی نوٹ لکھا اور اپنی پریشانی کا اظہار کیا۔ گلوکارہ نے لکھا ’میں اس وقت شدید مشکلات سے دو چار ہوں، نہ جسمانی طور پر سکون ہے اور نہ ہی ذہنی طور پر، میرے متعلق افواہیں پھیلانے والے یہ نہیں سوچتے کہ میں بھی کسی کی بہن اور بیٹی ہوں، میں نے اپنے کیریئر کے لیے سخت محنت کی اور اہل خانہ کا سر فخر سے بلند کیا‘۔

    ایشوریا کے ساتھ بطور ہیرو کاسٹ ہونے پر یقین نہیں آرہا تھا رجنی کانت

    نیہا ککڑ نے لکھا کہ ’لوگ ایسی افواہیں کیوں پھیلاتے ہیں کہ کوئی اپنی زندگی سے تنگ آجائے؟ میں گلوکارہ ہونے سے پہلے ایک انسان ہوں، اتنے بےرحم نہ بنیں، کسی کی ذاتی زندگی کے بارے میں باتیں کرنا چھوڑ دیں، کسی کو اتنی اذیت نہ دیں کہ وہ ڈپریشن کا شکار ہو جائے، اگر آپ کسی کے باپ یا بھائی ہیں تو کیا آپ اپنی بیٹی یا بہن کے ساتھ بھی ایسا کریں گے؟ کسی کو اتنا تنگ نہ کریں کہ وہ اپنی زندگی کا خاتمہ ہی کرلے‘۔

    گلوکارہ کی اس پوسٹ نے مداحوں کو بے چین کردیا اور ہر کوئی نیہا ککڑ کی فکر کرنے لگا۔ اس کے کچھ دنوں بعد گلوکارہ نے پریشان ہونے والے مداحوں کے لیے انسٹاگرام پر پوسٹ کی کہ ’میں بالکل ٹھیک ہوں، جو لوگ مجھے پسند کرتے ہیں وہ پریشان نہ ہوں، یہ ایک برا وقت ہے جو جلد ہی گزر جائے گا، مجھ سے محبت کرنے والے مداح ایسے لوگوں کو روکیں جو ہر کسی کو پریشان کرنے والے کام کرتے ہیں، ایسی خبروں کو روکیں جو زندگیوں کو مصیبت زدہ کرتی ہیں۔

    دوسری جانب ایک بھارتی انٹرٹینمنٹ پورٹل کے ساتھ ایک انٹرویو میں ، وی بھور نے ان افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ "آپ اسے افواہ کے طور پر لیں۔ لوگوں میں ذہنیت ہے * اگر کوئی آپ کو اپنا کیریئر بنانے میں مدد فراہم کررہا ہے تو ، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ میں کچھ پرتیبھا دیکھیں۔ صرف اس وجہ سے کہ میں نیہا کو انسٹاگرام پر دیدی (بڑی بہن) کے طور پر ٹیگ نہیں کرتا ہوں ، ہر کوئی یہ سوچنا شروع کر دیتا ہے کہ وہ میری گرل فرینڈ ہے۔

    میں واقعتا ان کا احترام کرتا ہوں اور لوگ مجھے جانتے ہیں کیونکہ ان کی بات اور ظاہر ہے کہ یہ میری سخت محنت کی وجہ سے بھی ہے۔ لہذا ، میں ان افواہوں کا جواب دینے میں بھی محسوس نہیں کرتا ہوں۔ جب میں ان چیزوں کو سنتا ہوں تو میرا دماغ خراب ہوتا ہے-

    بھارت میں جانوروں پر تشدد کے بڑھتے واقعات نے جان ابراہم کی نیندیں اڑادیں