Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • موازنہ تو ٹھیک لیکن جب سجل کیساتھ مقابلہ کیا جاتا ہے تو بہت عجیب لگتا ہے    صبور علی

    موازنہ تو ٹھیک لیکن جب سجل کیساتھ مقابلہ کیا جاتا ہے تو بہت عجیب لگتا ہے صبور علی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ صبور علی کا کہنا ہے کہ جب سجل سے شکل و صورت کا موازنہ تو ٹھیک ہے مگر جب کام کا مقابلہ کیا جاتا ہے تو بہت عجیب لگتا ہے-

    باغی ٹی وی : صبور علی نے حال ہی میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنی زندگی، کیریئر اور اپنی بہن سجل علی کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بات کی۔

    صبور علی نے کہا کہ لوگ سوشل میڈیا پر میرا اور سجل کا موازنہ کرتے ہیں۔ شکل و صورت ملانے کی حد تک تو ظاہر ہے بہنوں کا آپس میں موازنہ ہوتا ہی ہے لیکن لوگ بعض اوقات موازنہ کرتے کرتے اسے مقابلے میں بدل دیتے ہیں-

    سجل نے کہا موازنہ برا نہیں ہے یہ تو دنیا بھر میں ہوتا ہے مگر جب لوگ اس طرح کے کمنٹ کرتے ہیں کہ یہ زیادہ پیاری ہے یا وہ، اس کا کام ایسا ہے تو اس کا کام ویسا تو بہت عجیب لگتا ہے۔ میں کہتی ہوں کہ میری الگ شناخت ہے اور سجل کی الگ شناخت اور میرے خیال میں ہم دونوں کی اداکاری کے انداز بھی مختلف ہیں۔

    صبور کے مطابق وہ اور سجل کام کے حوالے سے آپس میں اتنی ہی بات کرتی ہیں کہ ’وہ آج کل کیا کام کر رہی ہیں اور کہاں جا رہی ہیں اور میں کیا کر رہی ہوں تاہم ایک دوسرے کی پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں زیادہ مشاورت نہیں ہوتی شاید اسی لیے میں نے اتنی جگہ بنا لی، اگر میرے اور اس کے کام میں زیادہ مماثلت ہوتی تو ایسا نہیں ہو پاتا۔

    صبور نے بتایا کہ وہ اور سجل اتفاقاً شوبز انڈسٹری میں آئے مگر فرق صرف یہ تھا کہ سجل نے اِس کام کو بخوشی اپنایا لیکن وہ تھوڑے نخرے کر کے اس فیلڈ میں آئیں۔

    صبور نے کہا کہ مجھے یہ کہتے ہوئے تھوڑا عجیب لگتا ہے کیونکہ بہت سارے لوگ یہاں تک پہنچنے کے لیے بہت محنت کرتے ہیں اور اگر میں یہ کہوں کہ میں ایسا نہیں چاہتی تھی مگر مجھے یہ سب مل گیا تو تھوڑا عجیب لگتا ہے کیونکہ صبور انجینیئر بننا چاہتی تھیں مگر اُن کے مطابق کچھ معاملات ویسے ہو نہ سکے جیسا وہ چاہ رہی تھیں۔

    صبور علی کا کہنا ہے کہ شوبز میں آنے کی اُن کی حوصلہ افزائی اُن کی والدہ نے کی وہ اکثر کہا کرتی تھی کہ دیکھو سجل کتنی ترقی کر رہی ہے، میں چاہتی ہوں کہ تم بھی اسی طرح سے ترقی کرو۔ وہ نہ سپورٹ کرتیں تو میں یہاں تک کبھی نہ پہنچتی۔ تاہم میں آگے بڑھنے کے لیے محنت کر رہی ہوں۔

    سجل علی کی بہن صبور علی اور علی انصاری نے منگنی کر لی

    صبور علی نے اپنی منگنی کے حوالے سے بتایا کہ علی انصاری کی بہن مریم میری اچھی سہیلی ہیں اور وہ اکثرمجھ سے کہتی تھیں کہ ’میرے بھائی کے لیے کوئی لڑکی دکھاؤ، اور میں نے انھیں کئی لڑکیاں بتائیں بھی-

    صبور کے مطابق مریم انھیں کئی بار کہہ چکی تھیں کہ تم میرے بھائی سے کیوں نہیں شادی کر لیتیں، وہ بہت نیک ہے، بہت اچھا ہے، تاہم انھوں نے کبھی سنجیدگی سے اس بارے میں نہیں سوچا۔

    اور پھر سجل علی اور علی انصاری کی بہن مریم کے درمیان اس پر بات ہوئی اور انھوں نے اس حوالے سے ہم کو سنجیدگی سے سوچنے کو کہا جس کے بعد صبور علی کے بقول ’میں نے یہ کہہ دیا کہ اگر کرنا ہے تو میں فوراً کروں گی، غور و فکر یا زیادہ لمبی بات چیت نہیں کروں گی۔

    شادی کے‌ھوالے سے صبور علی نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ شادی کے لیے کوئی مخصوص وقت یا عمر ہوتی ہے۔ جب اچھا انسان مل جائے آئے تو وہی وقت ہوتا ہے شادی کرنے کا۔ میں بھی جلد ہی شادی کروں گی۔

    علی انصاری کا صبور علی کے لئے جذباتی پیغام

  • عدالت نے کمال آر خان کو سلمان خان کیخلاف کوئی بھی ہتک آمیز بیان دینے سے روک دیا

    عدالت نے کمال آر خان کو سلمان خان کیخلاف کوئی بھی ہتک آمیز بیان دینے سے روک دیا

    بھارتی عدالت نے بالی ووڈ فلموں کے ناقد کمال آر خان کو دبنگ اداکار سلمان خان کے خلاف کوئی بھی ہتک آمیز بیان دینے سے روک دیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی فلموں کے تجزیہ نگار اور اداکار کمال آر خان نے بالی ووڈ کے چلبل پانڈے سلمان خان کی عیدالفطر پر ریلیز ہونے والی فلم ’’رادھے؛ یور موسٹ وانٹڈ بھائی‘‘ کا ریویو کیا تھا جس میں انہوں نے نہ صرف سلمان خان پر تنقید کی تھی بلکہ ان کے خلاف سخت زبان استعمال کی تھی اور ان کی ذات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ جس کے بعد سلمان خان نے کمال آر خان پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردیا تھا۔

    کمال آر خان نے سلمان خان کو کیا دھمکی دی؟

    سلمان خان کی فلم پر منفی تجزیہ: میکا سنگھ کا کمال آر خان کیخلاف گیت بنانے کا فیصلہ

    بعد ازاں کمال آر خان کی سپراسٹار سلمان خان کی ساکھ کو داغدار کرنے کے لیے متعدد ٹوئٹس اور ویڈیوز سامنے آئیں اب ممبئی کی سول کورٹ نے سلمان خان کو عبوری ریلیف دیتے ہوئے کمال آر خان کو عارضی طور پر سلمان خان، ان کے اہلخانہ، فلم رادھے کے ہدایت کار اور سلومیاں کی پروڈکشن کمپنی کے شیئرہولڈرز کے خلاف کسی بھی طرح کے ہتک آمیز بیانات دینے، ویڈیوز بنانے اور پوسٹس شیئر کرنے سے روک دیا ہے۔

    کمال آر خان نے عدالتی فیصلےپر کہا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی سلمان خان کے بارے میں کوئی ہتک آمیز بیان نہیں دیا بلکہ وہ پوری ایمانداری کے ساتھ فلموں کا ریویو کرتے ہیں۔

    سلمان خان پر تنقید کرنے والے کمال آر خان کی بھارت چھوڑنے کی دھمکی

    میں سلمان خان کو سڑک پر لے آؤں گا اس نے اس بار غلط آدمی سے پنگا لے لیا ہے…

    سلمان خان نے معروف فلمی تجزیہ نگار کیخلاف ہتک عزت کا مقدمہ درج کرا دیا

  • اسٹرابیری مون کیا ہے ؟ جون2021 کا سٹرابیری مون سال کا آخری سُپرمون ہے؟

    اسٹرابیری مون کیا ہے ؟ جون2021 کا سٹرابیری مون سال کا آخری سُپرمون ہے؟

    ناسا کے مطابق ہمارے سیارے کا قدرتی مصنوعی سیارہ – جسے چاند کے نام سے جانا جاتا ہے – سورج کے برخلاف ظاہر ہوگا اور 24 جون 2021 کو 1:40 بجے مکمل طور پر روشن ہوگا ، یہ پورا چاند دو وجوہات کی بناء پر خاص ہے: یہ ایک اسٹرابیری مون ہے اور سال کا آخری سپرمون ہے!

    باغی ٹی وی : “بلیو مون” اور “سپرمون” کی اصطلاحات آج نسبتا عام ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی اسٹرابیری مون ، تھنڈر مون ، یا بیور مون کے بارے میں سنا ہے؟-

    ہر سال جون میں ہونے والا پورا چاند اسٹرابیری مون کو اپنے رنگ کی وجہ سے نہیں کہا جاتا ہے ، بلکہ اس نام کی کنونشن کی وجہ سے ابتدائی مقامی امریکیوں نے تشکیل دیا ہے۔ گریگوریئن اور جولیئن تقویم ان قبائل کو معلوم نہیں تھے ، لہذا ، اس کے بجائے ، وہ چاند کے مراحل کی گنتی کرکے وقت گزرنے کو چارٹ کرتے تھے۔


    چونکہ نام اس موسم کے دوران پیش آنے والے واقعات پر مبنی تھے ، لہذا یہ اصطلاحات قبائل کے مابین ہم آہنگ نہیں رہتیں۔ مثال کے طور پر جون کے چاند کو اسٹرابیری مون کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اسٹرابیری چننے کے موسم کا آغاز تھا ، اس لئے نہیں کہ چاند گلابی ہے۔ چاند کے لئے گلابی یا سرخ رنگت کا ہونا ممکن ہے ، لیکن یہ ایک بے ترتیب واقعہ ہے جس کی وجہ سے گلابی رنگ کے بادل اس کو ڈھکتے ہیں یا طوفان ، آلودگی ، یا آتش فشاں پھٹنے سے دھول یا دھوئیں کی وجہ سے آسمان میں چھلک پڑتی ہے۔ .

    سال 2021 کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو لگے گا ،گرہن کیا ہوتا ہے اس کی کتنی اقسام…

    جولائی کے چاند کو تھنڈر مون کہا جاتا ہے کیونکہ سال کے اس وقت کچھ علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی تھی۔ لیکن اس کو فل بک مون کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ جولائی ہے جب ہرن کے پیسے پوری طرح پختہ ہوجاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک اصطلاح کو دوسرے کی ترجیح میں استعمال کرتے ہیں یہ ہے کہ نوآبادیاتی امریکیوں نے اپنے کیلنڈر کے لئے مخصوص نام اپنایا ، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ کچھ نام محفوظ ہیں جبکہ دوسرے تاریخ سے محروم ہیں۔

    مارچ میں پورا چاند کرم مون کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ ایسا ہی ہوتا ہے جب کیچڑ کی ذاتیں نمودار ہونے لگتی ہیں اور پرندے کھانا لینا شروع کردیتے ہیں۔ اسے سیپ مون ، کرو مون اور لینٹین مون کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ آخری نام اس حقیقت سے متاثر ہے کہ مارچ کے پورے چاند کو ایسٹر کی تاریخ طے کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

    “سپرمون” کی اصطلاح چاند کو بیان کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے جب وہ زمین کے اتنا قریب ہوتا ہے کہ وہ معمول سے بڑا اور روشن دکھائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ، اپریل 2021 میں سپرمون اوسط سے 6٪ بڑا تھا۔ یہ وہ اصطلاح نہیں ہے جو ماہرین فلکیات کے ذریعہ استعمال کی جاتی ہے ، جو اس طرح کے چاند کو “پیریجی فل مون” کہتے ہیں۔ لفظ “پیریجی” سے مراد اس وقت ہوتا ہے جب چاند کا بیضوی مدار اسے زمین کے قریب لاتا ہے۔ جب یہ زمین سے بہت دور ہوتا ہے ، تو اسے “آپجی مون” یا “مائکرو مون” کہا جاتا ہے۔

    زمین کے گرد ہر 27 دن کے مدار میں ، چاند زمین سے تقریبا 2 لاکھ 26 ہزار میل دور ، اور اس کی سب سے دوری ، یا اپوجی ، زمین سے 2 لاکھ 51 ہزار میل دور پر پہنچ جاتا ہے۔

    اگر آپ سپر اسٹرابیری مون کے وقت دن کی روشنی میں ہیں تو ، اس کے طلوع آفتاب کے دوران ایک بہتر نظارہ تلاش کریں ، جو مقامی وقت کے مطابق ، غروب آفتاب کے 20 منٹ بعد ہوتا ہے۔

    سپر اسٹرابیری مون 2021 کے لئے چار سپر مونز میں آخری ہوگا۔ سوپرمونز سال میں صرف تین سے چار بار ہوتا ہے ، اور ہمیشہ لگاتار ظاہر ہوتا ہے۔ آخری تین سپرمونز 26 مئی ، 27 اپریل ، اور 28 مارچ کو واقع ہوئی تھیں۔

    ناسا کے مطابق مغرب میں غروب آفتاب سے لطف اندوز ہوں ، اور اگر آپ مشرق کی طرف دیکھیں تو آپ کو ہمارے سپر اسٹرابیری مون کا ٹھیک ٹھیک گلابی رنگ نظر آئے گا!

  • پنجاب کابینہ کی ٹریفک چالان میں اضافے کی منظوری،قانون شکنی پر کتنا ہوگاجُرمانہ؟

    پنجاب کابینہ کی ٹریفک چالان میں اضافے کی منظوری،قانون شکنی پر کتنا ہوگاجُرمانہ؟

    پنجاب کابینہ نے ٹریفک چالان میں اضافے کی منظوری دے دی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق موٹر سائیکل سوار کے لیے قانون شکنی پر چالان میں 300 سے 400 روپے تک اضافہ ہوگا، موٹر سائیکل بغیر ہیلمٹ کے چلانے پر چالان 200 روپے کی بجائے 600 روپے ہوگا –

    اوورسپیڈ ،نوپارکںنگ ،رانگ وے اور رات کو بغیر لائٹس کے موٹر سائیکل چلانے پر جرمانہ 200 سے 400 روپے کرنے کی منظوری دی گئی جبکہ کم عمر میں موٹر سائیکل چلانے والوں پر بھی چالان 500 روپے کرنے کی منظوری-

    رکشہ چلانے والوں کے جرمانوں میں 250 سے 500 روپے تک اضافہ کیا گیا-

    کار سواروں پر چالان سیٹ بیلٹ ،موبایل کے استعمال پر جرمانہ 500 سے 750 تک کرنے کی منظوری، رش ڈرائیونگ پر ،پریشر ہارن ،رانگ وے گاڑی چلانے پر جرمانہ 1000 روپے کرنے کی منظوری دی گئی-

    جبکہ ڈرائیونگ لائسنس نہ ہونے پر موٹر سائیکل سوار اور رکشہ پر 600 اور گاڑی والے پر 750 کرنے کی منظوری، جعلی نمبر پلیٹ والی موٹر سائیکل پر 1000 اور گاڑی پر 2000 روپے تک جرمانہ بڑھانے کی منظوری دی گئی-

    مسافر گاڑیوں پر ٹریفک چالان 1000 روے سے 2000 روپے تک مقرر کیا گیا ہے-

  • احساس کفالت پروگرام سنٹرمیں عورت کےبچی کوجنم کاواقعہ، توجہ دلاﺅ نوٹس پنجاب اسمبلی میں جمع

    احساس کفالت پروگرام سنٹرمیں عورت کےبچی کوجنم کاواقعہ، توجہ دلاﺅ نوٹس پنجاب اسمبلی میں جمع

    جھنگ احساس کفالت پروگرام سنٹر میں عورت کے بچی کو جنم دینے کے حوالے سے توجہ دلاﺅ نوٹس پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دیا گیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق توجہ دلاﺅ نوٹس رکن پنجاب اسمبلی زہرا نقوی نے جمع کروایا نوٹس کے متن میں تحریر کیا گیا کہ جھنگ احساس کفالت پروگرام سنٹر آئی عورت نے بچی کو جنم دے دیا لیکن بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے نومولود بچی جاں بحق ہو گئی-

    متن کے مطابق جھنگ کی رہائشی 30سالہ زبیدہ بی بی مائی ہیر سٹیڈیم میں قائم احساس کفالت سنٹر پر رقم وصول کرنے آئی تھی جہاں پر حالت غیر ہونے پر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی گئی –

    ریسکیو 1122 سے پہنچنے قبل ہی خاتون نے بچی کو جنم دے دیا جبکہ بروقت طبی امداد نہ ملنے پر بچی موقع پر جاں بحق ہو گئی کفن میسر نہ ہونے پر بچی کی نعش کو شاپنگ بیگ میں ڈال کر ورثاءکے حوالے کی گئی-

    متن میں مطالبہ کیا گیا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے حکومت نے اب تک کیا اقدامات کئے ہیں ایوان کو مکمل تفصیل سے آگاہ کیا جائے؟-

  • مسلح افواج علاقائی سالمیت اورقومی خودمختاری کےدفاع کیلئےہمہ وقت تیارہیں   سربراہ پاک فضائیہ

    مسلح افواج علاقائی سالمیت اورقومی خودمختاری کےدفاع کیلئےہمہ وقت تیارہیں سربراہ پاک فضائیہ

    سربراہ پاک فضائیہ کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی، اسلام آباد کا دورہ کیا اور کورس کے شرکاء سے خطاب کیا۔

    ترجمان پاک فضائیہ کے مابق حاضرین سے خطاب کے دوران ائیر چیف نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں فراہم کردہ تعلیم و تربیت کے معیار کو سراہا۔

    سلامتی کے موجودہ چیلنجز اور تکنیکی جدت پر بات کرتے ہوئے ایئر چیف نے پاکستانی مسلح افواج کی جنگی صلاحیتوں پراعتماد کا اظہار کیا۔

    انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہماری مسلح افواج علاقائی سالمیت اور قومی خودمختاری کے دفاع کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔

    سربراہ پاک فضائیہ نے کہا کہ پاک فضائیہ ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت اور مذموم ارادے کا بروقت جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

    بعد ازاں، سربراہ پاک فضائیہ ایئرچیف مارشل ظہیراحمد بابر سدھو نے کورس کے شرکاء سے تبادلہ خیال بھی کیا۔

  • لاہورجوہر ٹاؤن دھماکہ: 4 زخمیوں کی حالت مزید تشویشناک ہے    جناح  اسپتال انتظامیہ

    لاہورجوہر ٹاؤن دھماکہ: 4 زخمیوں کی حالت مزید تشویشناک ہے جناح اسپتال انتظامیہ

    لاہور: جناح ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق 4 زخمیوں کی حالت مزید تشویشناک ہے –

    باغی ٹی وی : جناح ہسپتال انتظامیہ کے مطابق گزشتہ روزجوہر ٹاوَن دھماکہ،جناح اسپتال میں 24 زخمی لائے گئے تھے دھماکے میں 3 زخمی جاں بحق ہوگئے تھے-

    ہسپتال انتظامیہ کے مطابق 10 زخمیوں کو ڈسچارج کردیا گیا تھا ، 11 زیر علاج ہیں جبکہ 4 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے-

    واضح رہے کہ جوہر ٹاؤن میں دھماکے کے نتیجے میں 23 جون کو دن ساڑھے 11 بجے ہونے والے دھماکے میں 3 افراد جاں بحق اور 24 افراد زخمی ہوگئے تھے، زخمیوں میں خواتین سمیت دو بچے بھی شامل ہیں اسی علاقے میں جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کی رہائش گاہ بھی قائم ہے اور حملے کی جگہ سے صرف چند قدم کے فاصلے پر ہے۔

    دوسری جانب جوہر ٹاؤن دھماکے کی ابتدائی رپورٹ بھی تیار کرلی گئی ہے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق دھماکے میں 10 سے 15 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال ہوا۔ دھماکا خیز مواد غیر ملکی ساختہ کا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق دھماکا خیز مواد گاڑی میں نصب کیا گیا تھا۔ دھماکے کی جگہ 3 فٹ گہرا اور 8 فٹ چوڑا گڑھا پڑا۔ جب کہ استعمال ہونے والی ڈیوائس پلانٹ کرنے سے پہلے علاقے کی ریکی بھی کی گئی تھی۔حملہ آوروں اور سہولت کاروں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کیلئے علاقے کی جيو فينسنگ شروع کر دی گئی ہے۔

    جوہر ٹاوَن دھماکے میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    بالآخرلاہور جوہرٹاون دھماکے کا مقدمہ درج کرلیا گیا:تین دہشت گرد نامزد

     

  • جوہر ٹاوَن دھماکے میں ملوث  عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    جوہر ٹاوَن دھماکے میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ جوہر ٹاوَن دھماکے میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں-

    باغی ٹی وی : وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ بزدلانہ کارروائی کی جتنی بھی مذمت کی جائےکم ہے،جاں بحق افرادکےاہلخانہ کےغم میں برابرکےشریک ہیں-

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ واقعےکےذمہ دارقانون کی گرفت سےنہیں بچ پائیں گے،دہشت گردوں کوامن وامان خراب نہیں کرنےدیں گے-

    واضح رہے کہ جوہر ٹاؤن میں دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق اور 24 افراد زخمی ہوگئے تھے، زخمیوں میں خواتین سمیت دو بچے بھی شامل ہیں۔

    دوسری جانب دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کا ریکارڈ حاصل کر لیا گیا۔ گاڑی چوری کی تھی، مالک کو حراست میں لے لیاگیا ہے جبکہ سکیورٹی اداروں نے جوہر ٹاؤن بم دھماکے میں ملوث سہولت کاروں کی تلاش شروع کردی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جوہرٹاؤن بم دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کا اصل مالک حراست میں لے لیاہے۔

    دھماے میں استعمال گاڑی چوری کی ہے، گاڑی اوپن لیٹر پر چلائی جارہی تھی، کالے رنگ کی گاڑی 2010 ماڈل ٹیوٹا کرولا ہےایکسائز ذرائع کے مطابق گاڑی حافظ آباد کے رہائشی نے دو سال پہلے فروخت کی تھی، گاڑی گوجرانوالہ میں ایک شخص نے اپنے لیٹر پر فروخت کی تھی، تحقیقاتی اداروں نے گاڑی کے انجن کا کچھ حصہ قبضے میں لے لیا۔

    بارود سے بھری گاڑی ناکوں سے ہوکر جائے وقوعہ پر پہنچی، گاڑی کے اصل مالک کا تعلق حافظ آباد سے ہے، گاڑی کے اصل مالک کو حراست میں لے لیا گیا قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پبلک مقامات پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ دھماکے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکے میں دیسی ساختہ20سے 25 کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا جسے گاڑی میں نصب کیا گیا تھا۔

  • مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کا اسٹیٹس بحال کرے       کانگرس رہنما

    مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کا اسٹیٹس بحال کرے کانگرس رہنما

    بھارتی اپوزیشن جماعت کانگرس کے رہنما پی چدم برم نے مطالبہ کیا ہے کہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کا اسٹیٹس بحال کرے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق پوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما پی چدم برم نے مطالبہ کیا ہے کہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کا اسٹیٹس بحال کرے۔

    کانگریس کا کہنا ہے کہ ایکٹ آف پارلیمنٹ سے آئینی اقدام کو ختم نہیں کیا جاسکتا، کشمیر کا اسٹیٹس 5 اگست 2019 سے پہلے کی پوزیشن پر لایا جائے۔

    واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آج نئی دہلی میں مقبوضہ کشمیر کی قیادت سے ملاقات کریں گے،وزیرِ اعظم نریندر مودی من پسند افراد سے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر بات کریں گے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت بدلنے کے بعد فاروق عبد اللّٰہ اور محبوبہ مفتی سے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی یہ پہلی ملاقات ہو گی۔

    مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈرامے کی کوششیں شروع، مودی سرکار نے محبوبہ مفتی سمیت 14 کشمیریوں کو نئی دہلی بلالیا

  • مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈرامے کی کوششیں شروع، مودی سرکار نے محبوبہ مفتی سمیت 14 کشمیریوں کو نئی دہلی بلالیا

    مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈرامے کی کوششیں شروع، مودی سرکار نے محبوبہ مفتی سمیت 14 کشمیریوں کو نئی دہلی بلالیا

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آج مقبوضہ کشمیر کی قیادت سے ملاقات کریں گے،وزیرِ اعظم نریندر مودی من پسند افراد سے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر بات کریں گے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر پر آج بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے زیر قیادت آل پارٹیز کانفرنس ہوگی۔ مودی حکومت کی جانب سے اہم کشمیری سیاسی جماعتوں کی قیادت کو دہلی میں آل پارٹی کانفرنس کی دعوت دی گئی ہے-

    ذرائع کے مطابق مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈرامے کی کوشش شروع کر دی ہے سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم مودی کے ساتھ میٹنگ کے لیے وفاقی داخلہ سکریٹری نے کشمیر اور ہندو اکثریتی خطہ جموں سے تعلق رکھنے والے 14 سیاسی رہنماؤں کو میٹنگ کے لیے مدعو کیا ہے۔ انہیں میٹنگ میں شرکت سے قبل کرونا (کورونا) ٹیسٹ کی منفی رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔

    جن سیاسی رہنماؤں کو میٹنگ میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا ہے، نیشنل کانفرنس سے ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور ان کے فرزند عمر عبداللہ، پی ڈی پی سے محبوبہ مفتی، کانگریس سے غلام نبی آزاد، تارا چند اور غلام احمد میر، پیپلز کانفرنس سے سجاد غنی لون اور مظفر حسین بیگ، اپنی پارٹی سے الطاف بخاری، بی جے پی سے رویندر رینہ، نرمل سنگھ اور کویندر گپتا، سی پی آئی (ایم) سے محمد یوسف تاریگامی اور نیشنل پنتھرس پارٹی سے پروفیسر بھیم سنگھ شامل ہیں۔

    بھارتی حکومت نے کشمیریوں کی نمائندہ کل جماعتی حریت کانفرنس کو نظر انداز کر دیا، نام نہاد اے پی سی میں شرکت کرنے والوں کو ایجنڈہ تک نہیں دیا گیا –

    مقبوضہ کشمیر کی حیثیت بدلنے کے بعد فاروق عبد اللّٰہ اور محبوبہ مفتی سے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی یہ پہلی ملاقات ہو گی۔

    ادھر مقبوضہ کشمیر میں 48 گھنٹوں کے لیے اچانک انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی ہیں۔

    انڈیپینڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق فاروق عبداللہ کا کہنا تھا: ’وزیراعظم نے 24 جون کو دوپہر تین بجے نئی دہلی میں میٹنگ رکھی ہے جس میں ہمیں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ ہم نے اس میٹنگ میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارا موقف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ہم اپنے موقف کو وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے سامنے رکھیں گے۔‘

    فاروق عبداللہ نے کہا: ’ان کی طرف سے کوئی بھی ایجنڈا فکس نہیں ہے۔ وہاں ہم ہر معاملے پر بات کرسکتے ہیں۔‘

    اس موقعے پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا: ’ان کا جو بھی ایجنڈا ہو، ہم اپنا ایجنڈا ان کے سامنے رکھیں گے۔ ہم کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں بند سیاسی اور دیگر قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کریں گے اور جن کی رہائی ممکن نہ ہو، ان کی کشمیر منتقلی کا مطالبہ کریں گے۔‘

    مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ ملاقات میں مودی سے کہیں گے کہ 5 اگست کا اقدام غیر قانونی اور غیر آئینی ہے مقبوضہ کشمیر میں امن اسی وقت بحال ہو گا جب یک طرفہ فیصلہ واپس لیا جائے گا خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کے بغیر جموں و کشمیر اور اس پورے خطے میں امن کی بحالی نا ممکن ہے۔‘

    کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے رہنما اور پی اے جی ڈی کے ترجمان محمد یوسف تاریگامی کا کہنا تھا کہ’ہم بھارتی حکومت کے ایجنڈے پر دستخط کرنے نہیں جا رہے ہیں۔ اگر ان کی تجویز ہمارے حق میں ہوگی تو ہم حمایت کریں گے اور اگر حق میں نہیں ہوگی تو ہم برملا مخالفت کریں گے۔‘

    تاریگامی کا مزید کہنا تھا کہ ’بھارتی حکومت نے میٹنگ کا کوئی ایجنڈا مقرر کیا ہے یا نہیں، ہمیں اس کی کوئی اطلاع نہیں۔ ہم میٹنگ میں اپنے موقف کو دہرائیں گے۔ آپ کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہم آسمان کے تارے نہیں مانگیں گے بلکہ وہی مانگیں گے جو ہمارا تھا۔ ہمیں وہاں اپنے عوام کا وکالت نامہ لے کر جانا ہے۔‘