Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • وظائف کے ضروری آداب اور شرائط

    وظائف کے ضروری آداب اور شرائط

    وظائف شروع کرنے سے قبل سات شرطیں نہایت ہی اہم اور انتہائی ضروری ہیں کہ جن کے بغیر قرآنی اعمال میں تاثیرات کی امید رکھنا نادانی ہے اور وہ سب شرطیں حسب ذیل ہیں ۔

    حلال لقمہ کھانا اور حرام غذاؤں سے بچنا، سچ بولنا اور جھوٹ سے ہمیشہ بچتے رہنا، نیت کو درست اور پاکیزہ رکھنا کہ ہر نیکی اللہ رب العزت ہی کے لئے کرنا، شریعت کے احکام کی پوری پوری پابندی کرنا ، ﷲ رب العزت کے دین کے ستونوں کی تعظیم کرنا، جو وظیفہ بھی پڑھیں دل کی حضوری کے ساتھ پڑھنا اور جو عمل اور وظیفہ پڑھیں اس کی تاثیر پر پورا پورا اور پختہ عقیدہ رکھنا اگر تذبذب یا تردد رہا تو وظیفہ یا عمل میں اثر نہ رہے گا۔

    وظائف کے ضروری آداب

    اعمال و وظائف کے کچھ ضروری آداب بھی ہیں ہر عمل کرنے والے کو لازم ہے کہ ان آداب کا بھی لحاظ خیال رکھے ورنہ دعاؤں اور وظیفوں کی تاثیرات میں کمی ہو جانا لازمی ہے –

    ہر عمل کرنے یا تعویذات لکھنے کے وقت نہایت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ خداوند قدوس کی بارگاہ میں عاجزی و نیاز مندی کا اظہار کرے ہر عمل اور وظیفہ شروع کرنے سے پہلے کچھ صدقہ و خیرات کرے ہرعمل ہر وظیفہ کے اول و آخر درود شریف کا ورد کرے ۔

    وظیفوں کے بعد جب اپنے مقصد کے لئے دعا مانگے تو ایک ہی مرتبہ دعا مانگ کر بس نہ کر دے بلکہ بار بار گڑگڑا کر خدا سے دعا مانگے اور جہاں تک ہو سکے ہر دعا اور وظیفہ وغیرہ عملیات کو تنہائی میں پڑھے جہاں نہ کسی کی آمد و رفت ہو نہ کسی کی کوئی آواز آئے۔

    کسی مسلمان کو نقصان پہنچانے کے لئے ہر گز ہرگز نہ کوئی عمل کرے نہ کوئی وظیفہ پڑھے،جب کوئی عمل کرے یا وظیفہ پڑھے تو اس دوران میں بہت کم کھائے اورسادہ غذا کھائے بھر پیٹ نہ کھائے کیونکہ پیٹ بھرے لوگ دعاؤں کی تاثیر سے اکثر محروم رہتے ہیں ۔

    اعمال اور وظائف پڑھنے کے دوران بدن اور کپڑوں کی پاکی اور صفائی ستھرائی کا خاص طور پر خیال و لحاظ رکھے بلکہ خوشبو بھی استعمال کرے اور ظاہری پاکی و صفائی کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاق و کردار اور باطنی صفائی کا بھی اہتمام رکھےہر عمل اچھی ساعت میں کرے-

  • پاکستانیوں کیجانب سے سجل اور احد رضا میر کی ویب سیریز پر پابندی کا پُرزورمطالبہ

    پاکستانیوں کیجانب سے سجل اور احد رضا میر کی ویب سیریز پر پابندی کا پُرزورمطالبہ

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور وہاں 2019 میں ہونے والے پلوامہ حملے کے تناظر میں بنائی جانے والی ویب سیریز ‘دھوپ کی دیوار’ کا ٹریلربھارتی اسٹریمنگ چینل زی فائیو کے یوٹیوب چینل پر 15 جون کو ریلیز کیا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی : تاہم یہ ویب سیریز 25 جون کو بھارتی اسٹریمنگ پلیٹ فارم زی فائیو پر ریلیز ہورہی ہے معروف ڈراما اور ناول نگار عمیرہ احمد کی تحریر کردہ کہانی پر بنی ویب سیریز ‘دھوپ کی دیوار’ کی ہدایات حسیب حسن نے دی ہیں۔

    جبکہ اس میں پاکستان کی مقبول ترین شوبز جوڑی احد رضا میر اور سجل علی مرکزی کردار ادا کررہے ہیں لوگوں کو احد رضا میر اور سجل علی کے اس پراجیکٹ کا شدت سے انتظار تھا کیونکہ دونوں بہت عرصے بعد کسی پروجیکٹ میں ایک ساتھ نظر آرہے ہیں۔

    تاہم ٹریلر ریلیز ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر اس ویب سیریز کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ یہاں تک کہ ٹوئٹر پر سوشل میڈیا صافین کی جانب سے ’دھوپ کی دیوار‘ پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔

    حقیقی واقعات سے متاثر ہوکر بنائی گئی ویب سیریز کی کہانی پاکستان اور بھارت کے 2 خاندانوں کے گرد گھومتی ہے ویب سیریز میں دراصل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی خلاف ورزیوں پر شہید ہونے والے اہلکاروں کے خاندان کے درد کو سامنے لانے کی ایک کوشش ہے۔

    ویب سیریز میں احد رضامیر ایک ہندو لڑکے کا اور سجل علی ایک مسلمان لڑکی کا کردار ادا کررہی ہیں۔ دونوں کے والد سرحد پر ہونے والی کشیدگی کے نتیجے میں مارے جاتے ہیں۔ جس کے بعد دونوں میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کرتے نظرآتے ہیں۔ تاہم آہستہ آہستہ ان دونوں کرداروں کی دشمنی کو دوستی اور پسندیدگی میں تبدیل ہوتے دکھایا گیا ہے اور وہ یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی ان ممالک میں رہنے والے لوگوں کی باہمی لڑائی نہیں ہے۔

    "عمیرہ احمد، دھوپ کی دیوار، ISPR” ایشو کیا ہے؟؟ محمد عبداللہ

    ٹریلر میں مزید دکھایا گیا ہے کہ دونوں گھنٹوں ایک دوسرے سے انٹرنیٹ اور فون پر بات کرتے ہیں اور اپنے اپنے گھروالوں سے ایک دوسرے کا دفاع بھی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن دونوں کو ہی گھروالوں کی کڑواہٹ کا نشانہ بننا پڑتا ہے تاہم سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس ویب سیریز پر کئی اعتراض اٹھائے ہیں۔


    لوگوں کا کہنا ہے کہ ویب سیریز میں لڑکا ہندو اور لڑکی کو مسلمان کیوں دکھایا گیا ہےعمیرہ احمد نے اس ویب سیریز میں مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں کو فراموش کردیا ہے صارفین کا کہنا ہے کہ اس ویب سیریز میں انہوں نے دو قومی نظریے کو نظر انداز کیا ہے جو کہ دراصل پاکستان کے قیام کی وجہ بنا کچھ سوشل میڈیا صارفین نے’دھوپ کی دیوار’ کو پاکستانی قوم، ملک، مذہب کے خلاف اور اسے لکھنے کو غداری قرار دیا-


    https://twitter.com/Arslan_Sadiq/status/1405848030050390018?s=20


    سوشل مٰیڈیا پر صارفین کی تنقید اور اعتراضات کے بعد عمیرہ احمد نے ایک طویل وضاحتی بیان میں تمام اعتراضات کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔

    عمیرہ احمد نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ویب سیریز ‘دھوپ کی دیوار’ سے متعلق بیان جاری کیا اور اپنی پوسٹس کے کیپشن میں لکھا کہ ٹریلر ریلیز کیے جانے کے بعد سے ‘دھوپ کی دیوار’ کے بارے میں عام طور پر اور بالخصوص عمیرہ احمد کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے۔

    پوسٹ میں کہا گیا کہ ‘عمیرہ احمد نے اس حوالے سے اٹھائے گئے تمام اعتراضات کا جواب دے دیا ہے، امید ہے کہ اس سے بہت سی چیزیں واضح ہوجائیں گی طویل وضاحتی بیان میں عمیرہ احمد نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کسی بھارتی چینل کے لیے نہیں لکھا گیا۔

    انہوں نے بتایا کہ ‘دھوپ کی دیوار’، ‘الف’، ‘ایک جھوٹی لو اسٹوری’ ایک ساتھ 2018 میں گروپ ایم کے ساتھ سائن کیے تھے جو ایک پاکستانی کانٹینٹ کمپنی ہے اور اسی کمپنی کے ساتھ انہوں نے پاک بحریہ کے لیے بنائی جانے والی ٹیلی فلم ‘لعل’ بھی سائن کی تھی۔

    احد رضا اور سجل علی کی ویب سیریز”دھوپ کی دیوار” کا ٹریلر ریلیز

    عمیرہ احمد نے بتایا کہ گروپ ایم نے 2 پراجیکٹس ‘الف’ اور ‘لعل’ نجی ٹی وی چینل جیو جبکہ دیگر 2 پراجیکٹس ‘ایک جھوٹی لو اسٹوری’ اور ‘دھوپ کی دیوار ‘ کو زی فائیو، نیٹ فلیکس سمیت بین الاقوامی پلیٹ فارمز کو بیچنے کی کوشش کی اور زی فائیو کی دلچسپی کی وجہ سے انہیں بیچ دیئے گئے رائٹر کی لکھی ہوئی چیز کہاں نشر ہوگی اس کا فیصلہ پروڈیوسر یا چینل کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر سمجھتی ہوں اس موضوع کے لیے زی کا پلیٹ فارم بالکل صحیح ہے، کیونکہ اگر بھارتی شائقین سے بات کرنی ہے تو بھارتی پلیٹ فارم کے ذریعے ہی کرسکتی ہوں کیونکہ اگر پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر بات کی جارہی ہے تو مقامی چینل پر بات کرکے اس کی آڈینس محدود ہوجاتی۔

    اس کے ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ‘دھوپ کی دیوار’ کی کہانی اس وقت لکھی گئی جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات اتنے خراب نہیں تھے اور نہ ہی کشمیر میں جو آئینی طور پر حالیہ تبدیلیاں کی گئی ہیں، وہ ہوئی تھیں۔

    عمیرہ احمد نے وضاحت کی ہے کہ یہ کوئی پیار محبت کی کہانی نہیں ہے۔ اس ویب سیریز میں موجود دونوں کرداروں کو ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوئے نہیں دکھایا گیا اور میرے خیال میں انڈیا اور پاکستان کے باہمی مسائل کے بارے میں بات کرنے کے لیے ہمیں لو اسٹوری کی ضرورت نہیں ہے۔

    عمیرہ احمد نے کہا ہے کہ ’دھوپ کی دیوار‘ مسئلہ کشمیر کے بارے میں نہیں ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے میرا موقف وہی ہے جو باقی دوسرے پاکستانیوں کا ہے کہ یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے دو قومی نظریے کا تعلق آزادی سے ہے اور کوئی بھی باشعور اور ہوش مند انسان دو قومی نظریے کو جھٹلا نہیں سکتا۔ ورنہ اسے اپنی آزادی کھونی پڑے گی تو میں کیسے دو قومی نظریہ کو جھٹلاسکتی ہوں؟-

    عمیرہ احمد نے بتایا کہ جب انہوں نے اس موضوع پر کام کرنا شروع کیا تو جنوری 2019 میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کو اس کی پوری کہانی بھیجی تھی اور اس وقت کی آئی ایس پی آر کی ٹیم کو کہانی کی جانچ کرنے کا کہا تھا آئی ایس پی آر نے نہ صرف موضوع کو ٹھیک کہا تھا بلکہ انہوں نے راولپنڈی میں ایک ملاقات کی تھی۔

    عمیرہ احمد کے مطابق کے مطابق آئی ایس پی آر نے ان سے کہا تھا کہ ‘ہمارا پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے حوالے سے یہی مؤقف ہے کہ دونوں ممالک آپس میں بات چیت کریں اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے نتیجے میں فوجیوں کے ساتھ ساتھ شہری آبادی کے نشانہ بننے کی صورتحال ختم ہوجائے۔

    عمیرہ احمد نے کہا کہ اگر موضوع غیر مناسب ہوتا تو اس پر لکھنے سے منع کردیا جاتا جبکہ کہانی کے لیے آئی ایس پی آر نے بہت زیادہ سپورٹ کیا اگر آئی ایس پی آر کو دھوپ کی دیوار کے موضوع یا مواد پر اعتراض ہوتا تو وہ خواتین کیڈٹس کے حوالے سے سیریل پر کام کے لیے ان کا انتخاب نہ کرتے۔

    پیسے کے لیے ملک سے غداری اور بھارت کی جانب سے ‘دھوپ کی دیوار’ کی کہانی لکھوانے کے الزامات سے متعلق عمیرہ احمد نے دھوپ کی دیوار بھارت نے نہیں لکھوایا بلکہ انہوں نے ایک بنی ہوئی چیز خریدی ہے۔

    امن کی آشا ‘ کی حامی یا اسے فروغ دینے سے متعلق تبصروں پر عمیرہ احمد نے کہا کہ امن کی بات کرنا غلط نہیں، ہمارا تو دین ہی امن و سلامتی کا دین ہے اور جنگ کی بات کرنا بھی غلط نہیں اگر اس جنگ کا نتیجہ نکلتا ہو۔

    انہوں نے کہا کہ میں سیالکوٹ سے تعلق رکھتی ہوں جہاں 73 سال سے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ ہورہی ہے، فوجی، بچے اور خواتین مارے جارہے ہیں، جنگیں ایک یا 2 دن ہوتی ہیں، 73 سال نہیں نہ پاکستان اس کا متحمل ہوسکتا ہے اور نہ ہی بھارت۔

    انہوں نے کہا کہ چھوٹی سی بات پر کسی کو کافر یا غدار کہنے کا رواج اب ختم ہوجانا چاہیے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ بغیر کسی ثبوت کے ان پر سنگین الزامات لگائیں، اگر رائٹر کسی متنازع موضوع پر لکھ رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غدار ہے جولائی میں نجی چینل ہم ٹی وی پر ان کے ناول ‘ہم کہاں کے سچے تھے’ کو ڈرامائی شکل میں پیش کیا جائے گا۔

    علاوہ ازیں ستمبر میں نجی چینل اے آر وائے سے آئی ایس پی آر کے لیے لکھا جانے والا سیریل نشر ہوگا جبکہ جیو ٹی وی کے لیے لکھا گیا ایک سیریل رواں برس کے اواخر یا آئندہ سال کے اوائل میں نشر ہوگا۔

    اس کے ساتھ ہی عمیرہ احمد نے واضح کیا کہ وہ اب جس قسم کے مواد پر لکھنا چاہتی ہیں اس کا اسکوپ صرف ویب پلیٹ فارم ہے لیکن اس وقت بین الاقوامی معیار کا حامل کوئی پاکستانی پلیٹ فارم نہیں جہاں ایسے پراجیکٹس کیے جاسکیں۔

    ٹریلر میں تو واضح طور پر احد رضامیر اور سجل علی کی ایک دوسرے کے لیے پسندیدگی دکھائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پوسٹر میں بھی جو تصویر موجود ہے وہ ایک لواسٹوری کو بیان کرتی ہے یہ ٹریلر کی بات ہے کہانی آگے کیا موڑ لے گی یہ تو ویب سیریز دیکھ کر ہی پتہ چلے گا –

  • اکشے کمار کی فلم ’پرتھوی راج‘ ریلیز سے قبل ہی تنازع کا شکار

    اکشے کمار کی فلم ’پرتھوی راج‘ ریلیز سے قبل ہی تنازع کا شکار

    بالی ووڈ سُپر استار اکشے کمار کی فلم ’پرتھوی راج‘ کے ریلیز ہونے سے قبل ہی بھارت میں ہنگامے شروع ہوگئے انتہا پسند جماعت کھیل بھارتیہ ہندو مہاسبھا نے فلم کے نام پراپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ریلیز ہونے سے قبل تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : انڈیا ٹو ڈے کے مطابق بھارت کی ہندو انتہا پسند جماعت اکھیل بھارتیہ ہندو مہاسبہا نے اکشے کمار کی فلم ’پروتھوی راج‘ کے خلاف شہرچنڈی گڑھ میں احتجاجی مظاہرے شروع کردیئے۔ مظاہرین نے اداکار اکشے کمار اور فلم ہدایت کار کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ان کے پتلے بھی جلائے۔

    مُودی فلموں میں بھی آزادی کے نعروں سے خوفزہ،بھارت کی فلم انڈسٹری بی جے پی کے…
    معروف بھارتی ہدایتکارعلی عباس ظفرنے ہندو انتہاپسندوں سے معافی مانگ لی
    سیف علی خان اور کرینہ کوانتہا پسند ہندوؤں کیجانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں،پولیس…

    انڈیا ٹو ڈے کے مطابق ہم سب کو جودھا اکبر اور پدماوت سے متعلق تنازعہ یاد ہے اسی طرح کے تنازعہ نے اب اکشے کمار اسٹارر پرتھوی راج کو گھیر لیا ہے۔ فلم یش راج فلمز کی پروڈکشن ہے۔ چندی گڑھ میں ، اکھیل بھارتیہ کشتریہ مہاسبھا کی زیرقیادت فلم پرتھویراج کے بارے میں ایک زبردست مظاہرہ ہوا ، جو فلم کے نام کی تبدیلی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

    تنظیم سے وابستہ لوگوں کا کہنا تھا کہ فلم کا نام صرف پرتھویراج نہیں ہوسکتا ، فلم کا پورا نام ‘ہندو سمراٹ پرتھوی راج چوہان’ یا ‘شہنشاہ پرتھوی راج چوہان’ ہونا چاہئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پرتھویراج چوہان آخری ہندو شہنشاہ تھے اور ایسے منظر نامے میں فلم کے نام کو ان کے نام کو پورا احترام دینا چاہئے صرف ’پرتھوی راج‘ نام رکھنا ہندوؤں کے بہادر حکمراں کی توہین ہے۔

    انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ فلم کی ریلیز سے قبل اس کو کشتریہ اور راجپوت معاشرے کے نمائندوں کو دکھایا جائے تاکہ وہ یہ دیکھ سکیں کہ فلم میں کوئی تنازعہ ہے یا فلم میں تاریخ کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ ہے۔ اگر ایسا ہے تو ، وہ اس کی نشاندہی کرنے کے قابل ہوں گے۔

    اکھیل بھارتیہ کشتریہ مہا سبھا کے ممبروں نے ، چندی گڑھ کے سیکٹر 45 میں مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر پروڈیوسر ہدایتکار فلم سے متعلق تمام تنازعات کو ختم نہیں کرتے ہیں تو فلم کو وہی حشر کا سامنا کرنا پڑے گا جیسا کہ کشتری سماج نے پدماوت اور جودھا اکبر نے فلم کی ریلیز کے دوران کیا تھا۔

    واضح رہے کہ پرتھوی راج چوہان ہندوؤں کے حکمراں گزرے ہیں جن کی بہادری کے کارنامے پورے بھارت میں مشہور ہیں۔ ہندو پرتھوی راج چوہان سے متعلق عزت و احترام کے گہرے جذبات رکھتے ہیں۔

    بھارتیو اپنا برداشت کا لیول بڑھاؤ ، عدنان صدیقی کا بھارتیوں کو پیغام
    بھارتی عدالت نےمسلمان کامیڈین منور فاروقی کی درخواست ضمانت مسترد کردی
    سپریم کورٹ نے بالی ووڈ شہنشاہ سیف علی کی گرفتاری پراپنا ردعمل کیسے دیا؟اہم خبرآگئی
    ہندو انتہا پسندتنظیم کا’تانڈو‘کے فلمسازوں کی زبان کاٹنے والے کیلئے ایک کروڑ روپے…
  • یونیورسٹی میں داخلہ لینے والی دنیا کی پہلی ڈیجیٹل طالبہ

    یونیورسٹی میں داخلہ لینے والی دنیا کی پہلی ڈیجیٹل طالبہ

    بیجنگ: ڈجیٹل یوٹیوبر اور خبرنامہ پڑھنے والے ورچول نیوزکاسٹر کے بعد چین نے تاریخ میں پہلی مرتبہ مصنوعی ذہانت سے ایک ڈیجیٹل طالبہ تخلیق کر لی ہے جو چین ہی میں تیار کیے گئے وسیع سطح کے مصنوعی ذہانت (AI) کے نظام سے چلتی ہےاس طالبہ کا نام ’ہُوا ژائی بِنگ‘ رکھا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : چینی میڈیا کے مطابق اس سسٹم کی نقاب کشانی یکم جون کو بیجنگ اکیڈمی آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس 2021 میں کی گئی تھی اس طالبہ کو سنگہوا یونیورسٹی میں داخل کیا گیا ہے-

    گزشتہ دنوں ہُوا ژائی بِنگ نے چین کی مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ویبو پر اپنی زندگی کی پہلی پوسٹ کی، اور اس میں اس نے اعلان کیا کہ وہ سنگہوا یونیورسٹی کے کمپیوٹر سائنس اور ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ میں پڑھنے جا رہی ہے، تو لوگ سائنس دانوں کی اس تخلیق پر حیران رہ گئے۔

    ویبو پر اپنے پہلے ولاگ میں ہُوا ژائی بِنگ نے کہا کہ جب سے میں ’پیدا‘ ہوئی ہوں، تب سے میں ادب اور فن کی رسیا ہوں س ویڈیو میں ہُوا ژائی بِنگ کی آمد، آواز اور پس پردہ موسیقی، حتیٰ کہ اس کی بنائی پینٹنگز بھی، سب کچھ ایک ریکارڈ بریکنگ آرٹیفیشل انٹیلیجنس ماڈلنگ سسٹم Wudao 2.0 پر تیار کیا گیا تھا۔

    ہُوا ژائی بِنگ اس وقت کمپیوٹر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں پڑھ رہی ہے جدید ترین الگورتھم اور سافٹ ویئر ہے جو اسے مسلسل سیکھنے میں مدد دیتے ہیں 15 جون منگل کو اس نے پہلی کلاس لی ہے اور ان کا پہلا سیمسٹر ڈیٹا ٹیکنالوجی پر مشتمل ہے۔ انہیں پڑھانے کےلیے ماہر پروفیسر کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

    چین مریخ پر کامیابی سے خلائی جہاز لینڈ کرنے والا امریکہ کے بعد دوسرا ملک بن گیا

    اساتذہ کے مطابق ایک سال میں اس کا شعور 12 سالہ بچے جتنا ہوجائے گا اس طرح وہ لوگوں سے گھل مل کر ان سے سیکھے گی اور دن بدن انسان نما ہوتی چلی جائے گی اور انسانوں کے ساتھ مزید تخلیقی امور انجام دے سکے گی۔
    https://www.youtube.com/watch?v=iE3sGOod0lo
    اس سے پہلے بیجنگ اکادمی برائے مصنوعی ذہانت اور ایک کمپنی زائپو اے آئی نے اس ڈجیٹل طالبہ کی تربیت کی ہے لیکن اسے پڑھانے اور اتنی رقم خرچ کرنے کی اصل وجہ اب بھی سامنے نہیں آسکی ہے۔

    ایک پریس ریلیز کے مطابق چین اے آئی شعبے کو بڑھانا چاہتا ہے 2025 تک وہ مصنوعی ذہانت(اے آئی) میں ’غیرمعمولی اہم سنگِ میل‘ حاصل کرنا چاہتا ہے چین کا خیال ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجینس ملک کی معاشی ترقی اور صنعتی فروغ کے لیے بہت ضروری ہے۔

    چینی خلائی اسٹیشن ’تیانگونگ 3‘ کا کورموڈیول کامیابی سے مدار میں پہنچا دیا گیا

    کمپیوٹرسائنس کے پروفیسر ٹانگ جائی نے کہا کہ ہوا اب لکھ سکتی ہیں، وہ پینٹنگ اور شاعری کرتی ہیں اور موسیقی کا رحجان رکھتی ہیں انہوں نے بتایا کہ یہ سسٹم گفتگو کی نقل کرنے، نظمیں لکھنے اور تصاویر کو سمجھنے کے لیے 17 کھرب 50 ارب پیرامیٹرز استعمال کرتا ہے۔ اور اس نے گوگل سوئچ ٹرانسفر کے ترتیب دیے 16 کھرب پیرامیٹرز کا ریکارڈ توڑا تھا۔

    تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ طالبہ کچھ سادے جذبات رکھتی ہیں اور منطقی فکر بھی پیش کرتی ہیں۔ اس طرح یہ دیگر ورچول کرداروں سے بہت مختلف ہے۔ اس کی تیاری میں پہلے سے ہی دیگر کمپیوٹرماڈلوں سے فائدہ اٹھایا گیا ہے۔

    نئے خلائی اسٹیشن کی تعمیر،چین نے اپنا خلائی مشن روانہ کردیا

     

  • کرسٹیانو رونالڈو انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالوورز رکھنے والی شخصیت بن گئے

    کرسٹیانو رونالڈو انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالوورز رکھنے والی شخصیت بن گئے

    پرتگال کے نامور فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو نے انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالوورز رکھنے والی شخصیت کا اعزاز حاصل کر لیا ہے جن کے فالوورز کی تعداد 300ملین سے زائد ہو گئی ہے۔

    باغی ٹی وی :فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو نے نا صرف فٹ بال کی دنیا میں اپنا نام بنایا بلکہ اب انہوں نے انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالوورز رکھنے والی شخصیت کا اعزاز بھی حاصل کر لیا ہے جن کے فالوورز کی تعداد 301 ملین ہو گئی ہے۔

    امریکی جریدے فوربز کے مطابق فٹ بال سٹار کرسٹیانو رونالڈ انسٹاگرام پر ایک سپانسر پوسٹ شیئر کرنے کا 10 لاکھ امریکی ڈالر معاوضہ لیتے ہیں۔ انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالوورز رکھنے والی شخصیت میں کرسٹیانو رونالڈو کے بعد دوسرے نمبر پر گلوکارہ آریانا گرانڈے آتی ہیں جن کے 214 ملین فالوورز ہیں۔ علاوہ ازیں انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالوورز رکھنے والی تیسری شخصیت ڈوین جانسن ہیں جنہیں انسٹاگرام پر 210 ملین صارفین نے فالو کیا ہوا ہے۔

    اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے ایک اور گول کر کے اہم سنگ میل عبور کر لیا

    اس سے قبل فٹ بالر نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر 250 ملین فلاوورز ہونے پر ایک پوسٹ شیئر کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’کیا حیرت انگیز نمبر ہے، آپ سب کا بہت شکریہ، آپ لوگ میرے اس سفر کا حصہ ہیں‘۔

    واضح رہے کہ ہنگری کے دارالحکومت بوداپست میں یورو کپ فٹبال ٹورنامنٹ کے ہنگری کیخلاف میچ سے قبل پرتگال کے اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو جب پریس کانفرنس کرنے کیلئے آئے تو ان کے سامنے کاربونیٹڈ ڈرنگ کوکاکولا کی دو بوتلیں رکھی ہوئی تھیں۔


    رونالڈو نے کچھ لمحے ان بوتلوں کو دیکھا اور پھر دونوں کو اٹھاکر ایک طرف رکھ دیا۔ پھر فٹبالر نے نیچے سے پانی کی بوتل اٹھائی اور سامنے رکھ لی اور یہ بھی کہا کہ ’کوکا کولا نہیں پانی‘۔

    اس پریس کانفرنس می رونالڈو کے معمولی سے عمل سےکوکا کولا کے شیئرز کی قیمت گر گئی اور کمپنی کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا-

    رونالڈو نے کوک کی بوتلیں پریس کانفرنس کے میز سے ہٹائیں تو کمپنی کو کتنے اربوں کا نقصان ہوگیا

    کوکاکولا یورو کپ 2020 کا آفیشل اسپانسر پارٹنر ہے اور فٹبال کے تقریباً تمام ٹورنامنٹس میں بڑا اسپانسر ہوتا ہے۔ اس حوالے سے یورو کپ 2020 کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو پریس کانفرنس کے موقع پر کوکا کولا اور پانی دونوں فراہم کیے جاتے ہیں اب یہ کھلاڑیوں کی مرضی ہے کہ وہ کسے پسند کرتے ہیں۔

    یاد رہے کہ کرسٹیانو رونالڈو کے اس عمل کے بعد فرانسیسی مسلم فٹبالر پال پوگبا نے بھی یوروکپ فٹبال ٹورنامنٹ کے میچ کی پریس کانفرنس میں بئیر کی بوتل کو کیمرے کے سامنے سے ہٹا دیا تھا۔

  • بحریہ نہیں سندھ بچاؤ ، لاہور میں بھی سندھیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے مظاہرہ

    بحریہ نہیں سندھ بچاؤ ، لاہور میں بھی سندھیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے مظاہرہ

    گزشتہ روز لاہور میں بھی سندھیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے بحریہ ٹاؤن کے خلاف احتجاج کیا گیا احتجا میں بچاؤ بچاؤ سندھ بچاؤ کے سلوگن لگائے گئے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز 18 جون جمعہ کو پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو، حقوقِ خلق موومنٹ اور عورت مارچ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے سندھیوں کی زمینوں پر قبضے، گجر نالہ اور اوورنگی نالہ کاروائی میں عوام کی گھروں سے بے دخلی اور ہزاروں سندھی سیاسی و سماجی کارکنان پر مقدمات کے خلاف جبکہ جانی خیل دھرنے کے لواحقین کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لئے پریس کلب لاہور کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    مظاہرے میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی مظاہرے میں سندھ ایکشن کمیٹی کے وفد نے سندھ سے لاھور آ کر خصوصی شرکت کی یہ احتجاجی مظاہرہ دو گھنٹے تک جاری رہا جبکہ پریس کلب لاہور کے اطراف میں ریلی بھی نکالی گئی-

    ریلی کے دوران سندھی عوام کی زمینوں پر قبضے کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ یہ ریلی شملہ پہاڑی کے اطراف میں نکالی گئی جس میں بحریہ ٹاؤن، سندھ حکومت کی سندھی عوام کے خلاف انتقامی کاروائیوں اور سندھ میں سیاسی کارکنان کے خلاف مقدمات درج کرنے کے خلاف شدید نعرے بازی کی جاتی رہی۔

    مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ سندھ میں سیاسی و سماجی کارکنان کے خلاف جاری کریک ڈاون کو فی الفور بند کیا جائے جبکہ تمام اسیر کارکنان کو رہا کیا جائے مزید یہ کہ گجر نالے اور بحریہ ٹاون قبضہ کے متاثرین کو نہ صرف ان کی زمینیں واپس کی جائیں بلکہ بحریہ ٹاون انتظامیہ اور دیگر ملوث ارکان اور اداروں کے خلاف بھی سخت کاروائی کی جائے۔

    ٔٔپاک سرزمین پارٹی نے بحریہ ٹاون پرپیش آنے والے واقعہ پرکس کوذمہ دارقراردیا،اہم خبرآگئی

    ریلی سے خطاب کرنے والوں میں سندھ ایکشن کمیٹی کے رہنماء اور سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے مرکزی نائب صدر جگدیش آہوجا، حقوق خلق موومنٹ کے رہنماء فاروق طارق، ثنا اللہ امان، مزمل خان، حیدر بٹ، بلال ظہور، عائشہ احمد، پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کے صدر محسن ابدالی اور سندھ کونسل پنجاب یونیورسٹی کے رہنماء ظفر بگٹی نے خطاب کیا۔

    فاروق طارق نے کہا پنجاب کے ترقی پسند عوام نے آج لاھور میں سندھیوں سے یک جہتی مظاہرہ کر کے پاکستان کے مظلوم عوام کے اتحاد کو فروغ دیا ہے، ہم سندھ کے عوام کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے پنجاب اپنے سندھیوں بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ہمیشہ کھڑا رہے گا۔

    جگدیش آہوجا نے کہا کہ سندھی عوام کے پرامن لاکھوں کے مجمعے پر آنسو گیس کے شیل چلا کر سندھ کی بیٹیوں، قوم پرست رہنماؤں اور کارکنوں کو پیغام دیا کہ ملک ریاض اور زرداری کے خلاف مزاحمتی تحریک برداشت نہیں کی جائے گی، سندھ کے عوام نے 6 جون کو بحریہ ٹاؤن پر واضع کر دیا کہ ان کی زمینوں پر قبضے اور دہشت گردی کے سامنے سندھی قوم کبھی نہیں جھکے گی۔

    سندھ کے وسائل سے مقامی آبادی کو بے دخل کرنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور بحریہ ٹاؤن قبضہ اس کی ایک واضح مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہروں میں شہریوں سے زمینں خالی کروا کر پراپرٹی ڈیلروں کو دی جا رہی ہیں جبکہ اندرونی علاقوں میں سندھ کی ندیوں اور پہاڑوں پر قبضہ کر کے انہیں ٹھیکے پر دیا جارہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مصنوعی طریقہ سے پانی کا رخ تبدیل کر کے لوگوں کی زمینیں بنجر کی جا رہیں ہیں۔ ہم اس ظلم پر کسی صورت چپ نہیں بیٹھیں گے اور آخری سانس تک مزاحمت کریں گے۔ مقررین نے کہا کہ اگر زیادتیوں کا یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو ان احتجاجی مظاہروں کو ملک گیر سطح پر بھی منظم کیا جائے گا۔

    بحریہ ٹاؤن واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرانے کیلئے درخواست دائر

    ‎پروگریسیو سٹوڈنٹس کولیکٹو کے صدر محسن ابدالی نے بحریہ ٹاون کے خلاف احتجاج کرنے والے کارکنان کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی کاروائیوں کی مزمت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام پر دوہرا ظلم جاری ہے، ایک طرف ان کو گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب مقدمات بھی انھیں کے خلاف بنائے جا رہے ہیں۔ جو ایک انتہائی شرمناک قدم ہے۔

    انہوں نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے سیاسی کارکنان پر جاری کریک ڈاؤن نے پیپلز پارٹی کے ترقی پسند اور عوامی پارٹی ہونے کے دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ یہ صرف ملک ریاض جیسے سرمایہ داروں کے سہولت کار ہیں۔

    ‎عورت مارچ کی ترجمان شمائلہ کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹاؤن اور سندھ گورنمنٹ کے رویہ کی مزمت کرتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ رویہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ لوگوں کو ان کی زمینیں واپس کی جائیں اور تمام سیاسی کارکنان کو فی الفور رہا کیا جائے۔ سندھ سے آنے والے وفد میں سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے مرکزی فنانس سیکرٹری مختار میمن اور منیر نائچ بھی شامل تھے احتجاج میں سندھ گریجویٹس ایسوی ایشن لاھور برانچ کے کارکنان نے بھی شرکت کی۔

    احتجاج میں لاہور کی کچی آبادیوں سے بڑی تعداد میں مزدوروں اور خواتین نے شرکت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ غریب لوگ ہر جگہ پس رہے ہیں چاہے پنجاب میں راوی ریور پروجیکٹ کے نام پر ان کا استحصال کیا جائے یا سندھ میں ترقی کے نام ہر غریبوں کے گھر مسمار کئے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دکھ سانجھے ہیں اور ہمیں مل کر اس استحصالی نظام کے خلاف لڑنا ہے۔

    واضح رہے کہ 17 جون کو بحریہ ٹاؤن واقعے پر جوڈیشل انکوائری کرانے کیلئے درخواست دائر کر دی گئی تھیدرخواست عوامی تحریک کے رہنما ایڈووکیٹ سجاد چانڈیو کی جانب سے دائر کی گئی تھی لیکن عدالت نے فوری سماعت کیلئے استدعا کی درخواست مسترد کردی تھی ایڈووکیٹ سجاد چانڈیو نے الزام لگایا تھا کہ اس واقعے میں پیپلز پارٹی خود شامل ہے لوگوں کے خلاف دھڑا دھڑ مقدمات ہو رہے ہیں، پورے واقعے پر جوڈیشل انکوائری کرائی جائے-

    درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ بے گناہ لوگوں کو جس طرح گرفتار کیا جا رہا ہے یہ غیر قانونی عمل ہے-

    اس سے قبل رواں ماہ کے شروع میں بحریہ ٹاؤن کی جانب سے مبینہ طور پر مقامی گوٹھوں کو مسمار کرنے کے خلاف سندھ کی قوم پرست جماعتوں، مزدور و کسان تنظیموں اور متاثرین کی جانب سے ’غیر قانونی قبضے چھڑوانے کے لیے‘ ہونے والے احتجاج کے دوران متعدد عمارتیں اور گاڑیاں نذرِ آتش کر دی گئی تھیں۔

    سرکار کی مدعیت میں دائر ایف آئی آر میں ایس ایچ او گڈاپ پولیس سٹیشن انسپکٹر اشرف جان نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ کی قوم پرست جماعتوں سندھ یونائیٹڈ پارٹی، سندھ ترقی پسند پارٹی، جئے سندھ محاذ، جئے سندھ قوم پرست پارٹی، قومی عوامی تحریک و دیگر قوم پرست تنظیموں نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا اور 6 جون کو پارٹی رہنما اور کارکن گاڑیوں میں ٹولیوں کی صورت میں بحریہ ٹاؤن کے سامنے ایم نائن پر دن ساڑھے بارہ بجے کے قریب پہنچا شروع ہوئے تھے-

    مدعی کے مطابق مقررین نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت پاکستان اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف ’پاکستان نہ کھپے‘ کے نعرے لگوائے اور سرکاری اداروں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کیں، جو قابل گرفت جرم ہے۔

    پولیس نے ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی کی سیکشن سات، تعزیرات پاکستان کی دفعہ 123 بی (پاکستان کے قومی جھنڈے کو نذر آتش کرنا) اور کارِ سرکار میں مداخلت ڈالنے کے الزامات کے تحت یہ مقدمہ دائر کیا ہے۔

    جس کے بعد کراچی پولیس نے 80 سے زائد افراد کو گرفتار کیا تھا جن میں قوم پرست جماعتوں کے کارکن بھی تھے بعد ازاں پولیس نے انھیں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ان کارکنوں کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا-

    بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے بھی پولیس کے موقف سے ملتے جلتے الزامات کے تحت مقدمہ دائر کروایا گیا تھا بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے دی گئی درخواست میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ وہ بحریہ میں بحیثیت سکیورٹی مینیجر تعینات ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ سندھی قوم پرست جماعتوں کے احتجاج میں قادر مگسی، مشتاق سرکی، جلال محمود شاہ، صنعان قریشی، جان محمد جونیجو اور دیگر رہنما اپنے آٹھ سے دس ہزار کارکنوں کے ساتھ پہنچے اور اپنی تقاریر میں بحریہ کی زمین پر قبضہ کی دھمکیاں اور اپنے کارکنوں کو مسلسل اشتعال دلاتے رہے۔

    مدعی کے مطابق مشتعل لوگوں نے بحریہ کے مین گیٹ کے باہر کنٹینروں کی توڑ پھوڑ شروع کر دی اور خار دار تاروں کو کاٹ کر سکیورٹی سٹاف کو زد وکوب کیا اور آتش گیر مادہ پھینک کر مین گیٹ کو آگ لگا دی، اس دوران ہوائی فائرنگ کر کے دہشت پھیلائی گئی۔

    درخواست کے مطابق 400 سے 500 کے قریب لوگ اندر داخل ہو گئے جن میں قادر مگسی، مشتاق سرکی، شیر لاشاری، جان شیر جوکھیو، مراد گبول، علی حسن جوکھیو، داد کریم، گل حسن کلمتی( کراچی کی تاریخ پر کئی کتابوں کے مصنف) ،جھانزیب کلمتی، جلال محمود شاہ، ریاض چانڈیو، سجاد چانڈیو، اسلم خیرپوری، ظفر حسین، زین شاہ، صنعان قریشی، یعقوب خاصخیلی، سلام سولنگی قدوس شیخ اندر داخل ہوئے اور کمرشل ایریا میں توحید اسکوائر کے نزدیک توڑ پھوڑ کی، آتش گیر مادہ پھینک کر آگ لگا دی اور سٹور روم اور اس کے اندر موجود گاڑیوں کو کیمیکل چھڑک کر آگ لگائی۔

  • بھارتی ٹی وی شوز کرائم پیٹرول اور ساودھن انڈیا کی دو اداکارئیں ڈکیتی کے الزام میں گرفتار

    بھارتی ٹی وی شوز کرائم پیٹرول اور ساودھن انڈیا کی دو اداکارئیں ڈکیتی کے الزام میں گرفتار

    ممبئی پولیس نے ڈکیتی کے ایک مقدمے میں ٹیلی ویژن کی دو اداکاراؤں کو گرفتارکیا ہے-

    باغی ٹی وی : انڈیا ٹو ڈے کی رپورٹ کے مطابق دونوں اداکارائیں ٹی وی کے مشہور شو کرائم پیٹرول اور کئی دیگر کرائم شو میں چھوٹے موٹے کردار ادا کرتی ہیں۔ کورونا بحران میں لاک ڈاؤن کےباعث ٹی وی شوز کی شوٹنگ بند ہونے کے بعد دونوں اداکارائیں مالی پریشانی مشکلات کا شکار تھیں۔

    ان پر الزام ہے کہ یہ کیس اس وقت کا ہے جب آرے کالونی کے رائل پام علاقے میں واقع ایک پاش عمارت میں رہنے والے شخص کے گھر میں 18 مئی کو یہ دونوں اداکارائیں پیئنگ گیسٹ بن کر گئی اسی دوران اس گھر میں پہلے سے موجود پیئنگ گیسٹ کے لاکر میں رکھے 3 لاکھ س زائد روپے لےکر وہاں سے فرار ہو گئی تھیں۔

    کرینہ کپور کوہندو دیوی "سیتا” کے کردار کی پیشکش پر ہندو مشتعل

    چوری کی اطلاع پولیس کو دی گئ خاتون نے آرے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی اور شبہ کیا کہ اداکارہ سورابی سریندر لال سریواستو اور موسینہ مختار شیخ نے ان کی رقم چوری کی ہے تفتیش کے دوران ، پولیس نے دونوں اداکاراؤں کو پیسوں کے بنڈل کے ساتھ روانہ ہوتے دیکھا۔ جب پولیس نے انہیں سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی تو انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا۔

    آرے پولیس اسٹیشن کی سینئر افسر نوتن پاور نے بتایا کہ دونوں ٹی وی کی مشہور کرائم شو اور ساودھن انڈیا کی ایکٹرز ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ویب سیریز میں بھی کام کر چکی ہیں۔

    پولیس نے چوری کی گئی رقم سے 50 ہزارروپے برآمد کرلئے ہیں۔ سورابی اور موسینہ دونوں کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے دونوں کو 23 جون تک پولیس تحویل میں بھیج دیا۔

    سابقہ اہلیہ کے شلپا شیٹھی پر الزامات، راج کندرا نے خاموشی توڑ دی
  • پاکستانی فیشن برانڈ پر ہندو مذہب کی توہین کا الزام ، برانڈ نے معافی مانگ لی

    پاکستانی فیشن برانڈ پر ہندو مذہب کی توہین کا الزام ، برانڈ نے معافی مانگ لی

    فیشن برانڈ جنریشن کو سوشل میڈیا پوسٹ میں شیئر کی گئی ایک ایڈیٹڈ تصویر میں ہندو دیوی کی توہین پر تنقید کا سامنا ہے جسے بعد ازاں ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق جنریشن برانڈ کی جانب سے ایک ملازم کی فیئرویل کی تصویر شیئر کی گئی تھی جس میں دیوی کے سر کی جگہ خاتون کی تصویر لگائی گئی تھی اور دیوی کے ہر ہاتھ میں مختلف سامان جیسا کہ لیپ ٹاپ، موبائل، ہینگر میں لٹکے کپڑے اور کیمرا شامل تھے۔

    تصویر میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی تھی کہ ان کی ٹیم چھوڑ کر جانے والی خاتون بیک وقت کئی امور سرانجام دیتی تھیں۔تاہم برانڈ کی جانب سے شیئر کی گئی تصویر کو ہندو برادری کی جانب سے توہین قرار دیا گیا ۔
    https://twitter.com/GENERATION_PK/status/1405887364933820417?s=20
    جس کے بعد جنریشن برانڈ کی جانب سے تصویر ڈیلیٹ کرتے ہوئے واقعے پر معذرت کی گئی جنریشن کی جانب سےٹوئٹر پوسٹ میں کہا گیا کہ ʼ ہم اپنے ناظرین کے متنوع عقائد کا احترام کرتے ہیں، گزشتہ روز ایک ایسی تصویر پوسٹ کی گئی تھی جو ہندو برادری کے لیے تکلیف کا باعث بنی لیکن ہمارا کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

    برانڈ نے کہا کہ ہم اس واقعے پر دل سے ہر اس فرد سے معذرت کرتے ہیں جن کے جذبات اس پوسٹ سے مجروح ہوئے، یہ پوسٹ بطور انسان یا برانڈ کی حیثیت سے ہمارا نمائندگی نہیں کرتی۔

    جنریشن برانڈ کی پوسٹ میں کہا گیا کہ ہم ہر روز مزید احترام کرنا اور خیال کرنا سیکھ رہے ہیں۔ٹوئٹر صارفین کی جانب سے اس تصویر کی وجہ سے جنریشن برانڈ پر شدید تنقید کی گئی۔


    راٹھور نامی صارف نے لکھا کہ ʼہماری دیوی ماں کی تصویر میں غلط طریقے سے ایڈیٹنگ کرنا اس برانڈ کی ایک شرمناک حرکت ہے۔


    انسانی حقوق کے کارکن کپل دیو نے کہا کہ معذرت ناکافی تھی، انہوں نے لکھا کہ ʼ میں حیران ہوں کہ کیا صرف ایک معافی کافی ہے؟۔

  • فیصل قریشی نے ڈرامہ سیریل "فتور” کو اصل نام کیساتھ آن ائیر نہ کر نے کی وجہ بتادی

    فیصل قریشی نے ڈرامہ سیریل "فتور” کو اصل نام کیساتھ آن ائیر نہ کر نے کی وجہ بتادی

    پاکستان شوبزانڈسٹری کے سینئیر اداکار فیصل قریشی نے نجی ٹی وی چینل پر نشر کیے جانے والے اپنے ڈرامے "فتور” کے اصل نام کے ساتھ آن ائیر نہ کیے جانے کی وجہ بتادی۔

    باغی ٹی وی : اداکار فیصل قریشی حال ہی میں ایک ویب شو میں جلوہ گر ہوئے جہاں انہوں نے اپنے کیرئیر ذاتی زندگی کے حوالے سیمت نجی ٹی وی چینل پر آن آئیر ہونے والے ڈرامے: فتور” کے بارے میں بھی بات کی-

    میزبان کے سوال پر کہ ڈرامہ سیریل کا نام افئیر سے فتور کس نے اور کیوں تبدیل کیا؟کے سول پر فیصل قریشی نے کہا کہ عبداللہ کادوانی اور اسد قریشی نے ڈرامے کا نام تبدیل کیا-

    فیصل قریشی نے بتایا کہ ذاتی طور پر ڈرامے کے لیے افئیر نام مجھے بہت پسند آیا تھا لیکن ڈرامے کے پروڈیوسرزعبداللہ کادوانی اور اسد قریشی نے کہا انہیں ہمیں ڈرامے کا نام تبدیل کرنا چاہیے۔

    فیصل قریشی نے ترک ڈرامہ "ارطغرل غازی” کیوں نہیں دیکھا؟

    انہوں نے کہا کہ افئیر لفظ سے لوگ ایک ہی جگہ پھنس جاتے ہیں جب کہ ذہن میں فتور مختلف طرح کے پائے جاسکتے ہیں اس ڈرامے میں شامل ہر کردار کا اپنا فتور ہے۔

    خیال رہے کہ ڈرامہ سیریل ’فتور‘ کو سیونتھ سکائے کے بینر تلے پرو ڈیوسر عبداللہ کادوانی اور اسد قریشی نے پروڈیوس کیاہے ہدایتکار سراج الحق ہیں اس کہانی کو ڈرامہ نگار زنجبیل عاصم نے تحریر کیا ہے جبکہ فیصل قریشی کے ساتھ حبہ بخاری مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں-

    فیصل قریشی کا ملالہ یوسفزئی کو شادی کے بیان پر اہم مشورہ

  • نمرہ خان کے فردوس عاشق اور نواز شریف پر تبصرے نے میزبان کو لاجواب کر دیا

    نمرہ خان کے فردوس عاشق اور نواز شریف پر تبصرے نے میزبان کو لاجواب کر دیا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ نمرہ خان کا کہنا ہےکہ وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی اور پی ٹی آئی رہنما فردوس عاشق رشتے کرانے والی آنٹی لگتی ہیں۔

    باغی ٹی وی :اداکارہ نمرہ خان حال ہی میں نجی ٹی وی چینل کے پرو گرام ’جشن کرکٹ ‘ کی مہمان بنیں اور دوران شو میزبان کے سوالات کے دلچسپ جواب دیئے-

    شو کےمیزبان نے ان سے ملک کے تین بڑے سیاستدانوں مسلم لیگ (ن) کے نواز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاستدان آصف زرداری اور وزیراعظم عمران خان کا نام لے کر پوچھا کہ ان میں سے کون سے سیاستدان آپ کے پسندیدہ ہیں؟
    https://twitter.com/geonews_urdu/status/1405626355752980481?s=20
    میزبان کے سوال کے جواب میں اداکارہ نمرہ خان نے آصف زرداری اور عمران خان کے مقابلے میں نواز شریف کو اپنا پسندیدہ سیاستدان قرار دیا اور اس کی وجہ بتائی کہ لاہور بہت خوبصورت ہے۔

    اداکارہ نمرہ خان نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما فردوس عاشق اعوان کے بارے میں کہا کہ یہ مجھے رشتے کرانے والی آنٹی لگتی ہیں۔ میزبان نے پوچھا آپ کو فردوس عاشق اعوان رشتہ کرانے والی آنٹی کیوں لگتی ہیں؟ جس کے جواب میں نمرہ خان نے کہا مجھے یہ شکل سے بڑی تیز لگتی ہیں۔ اور ابھی جو ان کی حال ہی میں ویڈیو آئی ہے اس کے بعد تو میں کچھ بول بھی نہیں سکتی۔
    https://twitter.com/geonews_urdu/status/1405633018887352333?s=20
    نمرہ خان نے انکشاف کیا کہ میری پہلی جاب نیوز ایڈیٹر کی تھی، والدین کی خواہش تھی کہ میں کسی بھی طرح میڈیا جوائن کرلوں دوسری جانب تعلیم بھی فلم اینڈ ٹیلی ویژن تھی تو ملازمت قبول کرلی۔، پہلے ڈرامہ میں سین کی ریکارڈنگ پر 40 ٹیک تھے۔

    نمرہ خان نے کہا کہ مجھے ایکٹنگ کا اے بھی نہیں آتا تھا میرے والدین چاہتے تھے کہ میں میڈیا میں کام کروں، پہلے ڈرامہ میں کامیابی کے بعد میں نے ڈرامہ انڈسٹری میں کیریئر بنانے کا فیصلہ کیا۔

    اداکارہ نمرہ خان نے فلموں میں کام کرنے کے حوالے سے بتایا کہ میرے کچھ اصول ہیں۔ میں بولڈ سینز نہیں کرسکتی بغیر آستینوں والے کپڑے نہیں پہن سکتی اس لیے میں نے فلموں میں کام کرنے کی ہامی نہیں بھری۔

    نمرہ خان نے کہا کہ ابتداء میں میڈیا میں کامیاب نہیں ہوئی تو اسکوائش کھیلنے لگی، جہانگیر خان کے ماموں میرے کوچ تھے۔انہوں نے کہا کہ میں نے جہانگیر خان کے ساتھ بھی کچھ میچ کھیلے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اسی پروگرام میں اداکارعلی عباس نے سیاستدانوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’مجھے ہمیشہ سے ہی شہباز شریف بہت پسند ہیں کیونکہ مجھے اُن کا تقاریر کرنے کا انداز بہت پسند ہے۔ جبکہ آصف زرداری ایک اسمارٹ سیاستدان ہیں لہٰذا اگر کبھی موقع ملا تو میں ضرور اُن کے حق میں مقدمہ لڑوں گا۔‘

    شہباز شریف ہمیشہ سےہی میرے پسندیدہ سیاستدان ہیں علی عباس