Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • فلسطینی و پاکستانی نوجوان صحافیوں کا کشمیر یوتھ الائنس کے زیراہتمام خصوصی نشست کا انعقاد

    فلسطینی و پاکستانی نوجوان صحافیوں کا کشمیر یوتھ الائنس کے زیراہتمام خصوصی نشست کا انعقاد

    مقبوضہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے آزادی کیلئے جدوجہد میں مصروف عمل ہیں، اسرائیلی وبھارتی بربریت کا سامنا کرنے والے فلسطینی و کشمیری منزل کے حصول کیلئے پرامید ہیں، لاکھوں قربانیاں دینے کے باوجود جذبہ حریت زندہ ہے، ان خیالات کا اظہارکشمیری ، فلسطینی و پاکستانی نوجوان صحافیوں نے کشمیر یوتھ الائنس کے زیراہتمام خصوصی نشست میں کیا-

    غزہ، فلسطین سے تعلق رکھنے والے نوجوان صحافی بلال ایلاستال ، جو پاکستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے ٹھہرے ہیں کا کہنا تھا کہ فلسطین میں کم از کم دو دہائیوں سے کٹھ پتلی انتظامیہ نے اسرائیلی مفادات کا تحفظ کیا جس کا نقصان یہ ہوا کہ اسرائیلی کو بربریت کرنے کی آزادی مل گئی-

    بلال ایلاستال کا کہنا تھا کہ فلسطینی مایوس نہیں ہیں بلکہ اپنے بچوں کو آزادی دلانے اور اسرائیل سے اپنی زمینیں واپس لینے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں، اسرائیل دہشتگرد ملک ہے جو انسانی حقوق کو بھی روندتے ہوئے بربریت سے باز نہیں آتا،-

    پاکستان سے متعلق فلسطینی کیا سوچتے ہیں اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فلسطینی سمجھتے ہیں کہ پاکستان ان کی پشت پر ہے، وہ پاکستان سے محبت رکھتے ہیں اور انہیں علم ہے کہ پاکستان ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا ہے-

    مقبوضہ جموں کشمیر سے جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے نوجوان عمر بٹ کا کہنا تھا کہ کشمیرکے اندر بھارتی غاصبانہ قبضے کے بعد سے آج تک ہر گھر کی ایک نہیں بے شمار درد بھری کہانیاں ہیں، ہزاروں آدھی بیوائیں اپنی شوہروں کی خبر تک جاننے سے محروم ہیں، پیلٹ گن سے ہزاروں بچے ، جوان اور بوڑھے بینائی کھوچکے ہیں، مگر جذبہ حریت سرد نہیں ہوا-

    سیدہ آسیہ اندرابی کے بھانجے ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی جدوجہد حق خودارادیت کیلئے ہے، پاکستان کا نام لے کر کشمیری اپنی جان دے رہے ہیں، پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی واضح کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیر کیلئے عملی اقدامات کی جانب آنا ہوگا-

    نوجوان صحافی رضی طاہر کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام کشمیر و فلسطین کیلئے بے چین ہیں ، وہ ہمیشہ اپنے حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں-

    ڈاکٹر عبداللہ خلیل کا کہنا تھا کہ مسلم امہ کے اتحاد کے بغیر مقبوضہ فلسطین و کشمیر کا حل ممکن نہیں ہے، میڈیا فورم سے محمد عدنان اسحاق، شمس حسین فاروقی، محمد ابوبکر صدیق، محمد آصف سیف نے بھی گفتگو کی اور امید ظاہر کی کہ امت مسلمہ کے نوجوان فلسطین اور کشمیر کیلئے سفارت کاری کریں گے اور مظلوموں کی آواز بنیں گے۔

  • لاہور:سیشن کورٹ کا جوڈیشل کمپلیکس سے احتساب عدالتیں خالی کرنے کا حکم

    لاہور:سیشن کورٹ کا جوڈیشل کمپلیکس سے احتساب عدالتیں خالی کرنے کا حکم

    لاہور:سیشن کورٹ نے جوڈیشل کمپلیکس سے احتساب عدالتیں خالی کرنے کا حکم دے دیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق احتساب عدالتوں میں ریکارڈ منتقل کرنے کی تیاریاں شروع ہوگئیں،احتساب عدالتوں میں شہبازشریف ،حمزہ شہباز خواجہ سعد رفیق سمیت دیگر کیسز زیر سماعت ہیں-

    ذرائع کے مطابق احتساب عدالتوں کو وفاقی کالونی منتقل کرنے پر غور کیا جارہا ہے-

    اس حوالے سے وکلا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ احتساب عدالتیں وفاقی کالونی منتقل ہوتی ہیں تو کام زیادہ متاثر ہوگا-

    وکلا کا کہنا ہے کہ احتساب عدالتوں کو ہائیکورٹ یا سیشن کورٹ کےقریب منتقل کیا جائے-

    رجسٹرار احتساب عدالت نے وزارت قانون کو ساری صورتحال سے آگاہ کردیا کہ تینوں احتساب عدالتوں میں اہم سیاسی شخصیات کے کیسز کا ریکارڈ موجود ہے –

  • شہید بے نظیر یونیورسٹی لاڑکانہ ریسرچ سنٹر کے لیے ایک ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

    شہید بے نظیر یونیورسٹی لاڑکانہ ریسرچ سنٹر کے لیے ایک ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

    شہید بے نظیر یونیورسٹی لاڑکانہ میں ریسرچ سنٹر کے لیے ایک ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

    باغی ٹی وی : بجٹ دستاویز کے مطابق شہید بے نظیر یونیورسٹی لاڑکانہ میں ریسرچ سنٹر کے لیے ایک ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے –

    جبکہ دیگر جامعات میں وویمن یونیورسٹی ملتان کے لیے 30 کروڑ روپےمختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی-

    وٹ ادو میں کام سیٹس یونیورسٹی کے قیام کے لیے 40 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویزبہاوَالدین یونیورسٹی میں صوفی سنٹر کے قیام کے لیے 10 کروڑ روپےمختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی-

    یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے لیے 37 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد کے قیام کے لیے 60 کروڑ روپےمختص کرنے کی تجویز جبکہ خوشحال خان یونیورسٹی کرک کے مین کیمپس کی تعمیر کے لیے 30 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی-

    وزیر اعظم آفس کے اخراجات میں اضافہ

    اسپورٹس کملپیکس اورجامعات کے لئے 3 ارب 3 کروڑ روپے مختص

  • وزیر اعظم آفس کے اخراجات میں اضافہ

    وزیر اعظم آفس کے اخراجات میں اضافہ

    وزیر اعظم آفس کے اخراجات میں بھی 18کروڑ 40 لاکھ کا اضافہ کردیا گیا-

    باغی ٹی وی : بجٹ دستاویز کے مطابق وزیر اعظم آفس انٹرنل کیلئے 38 کروڑ 90 لاکھ روپے کا بجٹ بڑھا کر 40کروڑ10لاکھ روپے کردیاگیا ۔

    وزیر اعظم آفس پبلک کیلئے نظرثانی شدہ بجٹ34کروڑ80 لاکھ کے مقابلے میں بڑھ کر نئے مالی سال میں 52کروڑ20لاکھ روپے ہوگیا۔

    جبکہ رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم آفس کی لفٹس کی تبدیلیوں کے لئے 17 کروڑ روپے جبکہ آفس کی تزین کے لئے 5 کروڑ روپے مختص کئے گئے-

    اسپورٹس کملپیکس اورجامعات  کے لئے 3 ارب 3 کروڑ روپے مختص   

  • اسپورٹس کملپیکس اورجامعات  کے لئے 3 ارب 3 کروڑ روپے مختص

    اسپورٹس کملپیکس اورجامعات کے لئے 3 ارب 3 کروڑ روپے مختص

    اسپورٹس کملپیکس اور جامعات کے لئے فنڈز کی تجویز پیش کر دی گئی –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اسپورٹس کمپلیکسز کے لئے 96 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز جو کہ مندرجہ ذیل ہے-

    انگھڑ میں اسپورٹس کمپلیکس کے قیام کے لیے 15 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز، ٹنڈو باگو میں اسپورٹس کمپلیکس کے قیام کے لیے 18 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی-

    بدین میں اسپورٹس کمپلیکس کے قیام کے لیے 16 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ، تھر میں اسپورٹس کمپلیکس کے لیے 11 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ،میرپور خاص میں اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی-

    گھوٹکی میں اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کے لیے 11 کروڑروپےمختص کرنے کی تجویز،حیدر آباد میں جمنزیم کے لیے 15 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویزپیش کی گئی-

    یونیورسٹیز اور ریسرچ سینٹرز کے لئے فنڈ:

    وویمن یونیورسٹی ملتان کے لیے 30 کروڑ روپےمختص کرنے کی تجویز،شہید بے نظیر یونیورسٹی لاڑکانہ میں ریسرچ سنٹر کے لیے ایک ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی-

    وٹ ادو میں کام سیٹس یونیورسٹی کے قیام کے لیے 40 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویزبہاوَالدین یونیورسٹی میں صوفی سنٹر کے قیام کے لیے 10 کروڑ روپےمختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی-

    یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے لیے 37 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد کے قیام کے لیے 60 کروڑ روپےمختص کرنے کی تجویز جبکہ خوشحال خان یونیورسٹی کرک کے مین کیمپس کی تعمیر کے لیے 30 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی-

  • ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان    محکمہ موسمیات

    ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان محکمہ موسمیات

    ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکن ، محکمہ موسمیات

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب، خیبر پختونخوااور کشمیر میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان،اسلام آباد میں مطلع جزوی ابرآلودرہے گا جبکہ آندھی ،گرج چمک ، ژالہ باری اورموسلادھار بارش کا بھی امکان ہے-

    قصورمیں آندھی اور گرج چمک موسلادھار بارش اور ژالہ باری متوقع ، منڈی بہاوَالدین، لاہور ، میانوالی ،سرگودھا، بھکر، لیہ اورفیصل آباد میں بھی بارش متوقع ہے جبکہ خطۂ پوٹھوہار، نارووال، سیالکوٹ، گوجرانوالہ،گجرات اور شیخوپورہ میں بارش کاامکان ہے-

    آزاد کشمیر میں تیز ہواوَں، گرج چمک اور موسلادھار بارش کاامکان گلگت بلتستان میں مطلع جزوی ابرآلود رہنے کا امکان سوات، مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں بھی چند مقامات پر آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے-

    کوہاٹ، پشاور، مردان، بنوں،سیدوشریف، مالم جبہ، بالاکوٹ اور دیرمیں بھی بارش کاامکان ہے-

    سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اورخشک رہےگا،شہید بینظیر آباد،میر پور خاص، عمر کوٹ، تھر پارکر اورخیر پورمیں گرمی کی شدت برقرار رہے گی –

    سانگھڑ،دادو، جیکب آباد، پڈعیدن ، موہنجو داڑو،روہڑی سکھراور لاڑکانہ میں موسم گرم رہے گا جبکہ کراچی سمیت ساحلی علاقوں میں رات اور صبح کے اوقات بوندا باندی متوقع ہے-

    بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہے گا بلوچستان کی ساحلی پٹی پر بارش کا امکان ہے جبکہ تربت، پنجگور، چاغی، سبی اور کوہلو میں گرمی کی شدت برقرار رہے گی-

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے دیگر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہے گا-

  • پاکستان میں کورونا سے مزید 57 افراد جاں بحق

    پاکستان میں کورونا سے مزید 57 افراد جاں بحق

    پاکستان میں کورونا کی لہر میں شدت،24 گھنٹوں میں 57 اموات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر جاری ہے، کورونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور ملک بھر میں کورونا سے اموات کا سلسلہ جاری ہے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا سے مزید 57 اموات ہوئی ہیں-

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز کورونا کے 35 ہزار 695 نئے ٹیسٹ کئے گئے1 ہزار194 نئے کیس سامنے آ گئے۔ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریباً 3.34 فی صد رہی۔

    پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 21 ہزار 633 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 9 لاکھ 39 ہزار 931 ہو چکی ہے۔

  • تو ا چکن مکھنی بنانے کی ترکیب

    تو ا چکن مکھنی بنانے کی ترکیب

    تو ا چکن مکھنی

    وقت 35 سے 40 منٹ

    4 افراد کے لئے

    اجزائے ترکیبی مقدار
    پورا چکن ایک کلو
    گھی 2کھانے کے چمچ
    دہی 3کھانے کے چمچ
    ادرک لہسن پیسٹ 2کھانے کے چمچ
    نمک حسب ذائقہ
    سرخ مرچ پاؤڈر 2کھانے کا چمچ
    ثابت سرخ مرچ (کٹی ہوئی) 1چائے کا چمچ
    ہلدی پاؤڈر 1چائے کا چمچ
    زیرہ (بھنا اور کٹا ہوا) 2چائے کے چمچ
    سفیدسرکہ 2کھانے کے چمچ

    اجزائے ترکیبی (ب) مقدار
    مکھن(عام) 100گرام
    دہی ¼کپ
    ادرک (لمبائی میں باریک کٹا ہوا) 1کھانے کا چمچ
    ہری مرچیں (آدھی کٹی ہوئی) 3عدد
    ہرا دھنیا 1کھانے کا چمچ

    چھڑکاؤ کے لئے :
    لیموں کا جوس 1کھانے کا چمچ
    SNPگر م مصالحہ پاؤڈر 1چائے کاچمچ

    طریقہ کار :
    چکن کو چار ٹکڑوں میں کاٹ کر کٹ لگالیں۔ ایک پیالے میں گھی کے علاوہ دہی او ر حصہ الف کے تمام مصالحے شامل کرکے مکس کریں۔ چکن شامل کرکے اچھی طرح مکس کریں اور کچھ گھنٹوں کے لئے فریج میں رکھ دیں۔ عام تکوں کی طرح کوئلوں کی انگیٹھی پر چکن کو بھی پکائیں برش کی مد د سے گھی لگاتے جائیں پکنے کے بعد انہیں سیخوں سے اتار لیں اور ایک طرف رکھ دیں۔

    حصہ (ب) کے مصالحوں سے مکھن کو توے پر گرم کریں ہری مرچیں اور ادرک شامل کرکے ایک منٹ تک پکائیں۔ پکی ہوئی چکن اور دہی شامل کریں ہلکی آنچ پر پانچ سے چھ منٹ تک مکھن کے الگ ہونے تک پکائیں اب ہرا دھنیا شامل کرکے ایک سے دو منٹ تک مزید پکائیں لیموں کا رس اور گرم مصالحہ چھڑک کر نان اور رائتے کے ساتھ پیش کریں۔

  • نازک لڑکیاں       تحریر: ماریہ ملک

    نازک لڑکیاں تحریر: ماریہ ملک

    موضوع: نازک لڑکیاں

    اسلام سے پہلے زمانۂ جہالیت میں لڑکی کی پیدائش اس قدر قبیح عیب سمجھا جاتا تھا کہ الله کی پناہ۔ لڑکیوں کو زندہ حالت میں درگور کر دیا جاتا تھا۔ لیکن اسلام نے لڑکی کو وہ عزت و تکریم عطا کی جِس کی مثال نہی ملتی۔ اسلام نے لڑکی چاہے وہ ماں ہو یا بیٹی، بیوی ہو یا بہن، کو اہمیت اور تکریم کی جگہہ پر بٹھایا۔

    والدین کے لئے بیٹی کو رحمت، شوہر کے لئے بیوی کو عزت کا لباس، بھائیوں کے لئے بہن دعاؤں کا سایہ اور اولاد کے لئے ماں الله کی رِضا اور جنت میں داخلے کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے علاوہ کسی مذہب میں خواتین کو اس طرح کے مقامات اور شرف سے نہی نوازا گیا۔

    لڑکیوں کو لے کر مختلف لوگوں کی مختلف سوچ ہوتی ہے۔ بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ لڑکیاں خود غرض اور لالچی ہوتی ہیں۔ لڑکیوں کے بارے میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ وہ باتونی ہوتی ہیں اور اپنا سارا وقت گاسپ میں ضائع کر دیتی ہیں
    یوں لڑکیوں کے حوالے سے مختلف تاثرات قائم کیے جاتے ہیں اِن تاثرات میں کسی حد تک سچائی ہو بھی سکتی ہے لیکن یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ سب لڑکیاں ایسی نہی ہوتیں۔ بلکل اُسی طرح جیسے سب مرد سخت طبیعت اور خواتین پر ظلم کرنے والے نہی ہوتے۔

    ایک کامیاب شادی شدہ زندگی کے لئے ضروری ہے کہ میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کی خصوصیات اور کمزوریوں سے واقف ہوں اور خصوصیات و کمزوریوں پر مشتمل ان دونوں عوامل کو سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کی خصوصیات سے فائدہ اور کمزوریوں پر پردہ ڈالتے ہوئے اپنی زندگی کو حسین اور راحت و محبت سے گزاریں۔ دنیا میں کوئی بھی انسان حتمی طور پر کامل و اکمل نہی۔ انسان خوبیوں اور خامیوں کا مرکب ہے۔ چنانچہ مرد و زن کو چاہئیے کہ خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ ایک دوسرے کے لئیے محبت کا ہاتھ بڑھاتے رہیں اور خامیوں کو اس نظریے کے ساتھ در گزر کرتے رہیں کہ ہماری خامیاں بھی تو قابلِ گرفت ہو سکتی ہیں لیکن اِس کے باوجود ہم لوگوں سے توقع کرتے ہیں کہ ہماری غلطیوں سے درگزر کیا جائے۔

    آئیے اب لڑکیوں کی چند اُن خصوصیات کا ذکر کرتے ہیں جو بڑی حد تک لڑکیوں کی عادات میں شامل ہوتی ہیں۔

    معصومیت
    لڑکی قدرتی طور پر موصومیت جیسے خوبصورت وصف سے مزین ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کو دِل پر لے لیتی ہے اور ذرا برابر خوف، درد یا خوشی اُس کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سبب بن جایا کرتی ہیں۔ لال بیگ جیسے چھوٹے کیڑے سے ڈر کر آسمان سر پہ اُٹھا لینا بھی لڑکی کی معصومیت کی ایک نشانی ہے۔

    حساسیت
    لڑکیاں کافی چیزیں جلدی دل پے لے لیتی ہیں۔ حساس ہونے کی وجہ سے کسی بھی بھلی چیز سے انہیں لگاؤ بھی جلدی ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جلدی مایوس ہو جانا، جلد ناراض ہو جانا اور پھر جلد مان بھی جانا لڑکیوں کے حساس دل کی ایک بہترین مثال ہے۔

    چِٹ چاٹ
    گاسپنگ اور طویل گفتگو کی نشستیں بھی لڑکیوں کا ایک قدرتی خاصہ ہے۔ (یقیناً اس گفتگو میں غیبت، چغلی اور بہتان تراشی جیسے قبیح افعال سے جس حد تک ممکن ہو بچنا چاہئیے۔) لڑکیوں کو یہ بات پسند ہوتی ہے کہ ان کا کوئی دوست یا محبت کرنے والا بغیر کسی وجہ کے ان سے لمبی اور پیاری بات کرے۔ اور اُن کی کہی بات کو پوری دلچسپی سےسنے اور اُس کو اہم جانے۔

    تعریف سننا
    بلا شُبہ یہ بات ہر شخص بلا تفریقِ مرد و زن پاند کرتا ہے اُس کی تعریف کی جائے۔ لیکن لڑکیوں میں یہ خصوصیت کثرت سے پائی جاتی ہے۔ اِس کی اصل وجہ لڑکیوں میں اس بات کا خوبصورت احساس ہے کہ وہ آپ کے لئے ایک خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ اور وہ آپکی توجہ کی حامل ہے۔

    بناؤ سنگھار
    لڑکیوں کو یہ بات پسند ہے کہ وہ بن سنور کر رہیں۔ اِس کے لئے ضروری نہی کہ ہر لڑکی اجکل کے مروجہ میک اپ کی ہی شوقین ہو بلکہ ایک بہت بڑی تعداد سادگی میں بھی خود کا بنا سنوار کے رکھنے کا ہُنر جانتی ہیں۔ لیکن اِس بات پر کوئی دو رائے نہیں کہ ہر لڑکی کو اچھا لگنے کا شوق ہوتا ہے۔

    قوت برداشت
    جہاں لڑکیاں نازک اور حساس دِل رکھنے والی ہوتی ہیں وہیں پر کڑے سے کڑا وقت پڑنے پر پورے برداشت اور صبر کا مظاہرہ بھی کرتی ہیں بلکہ کئی موقعوں پر جہاں مرد کا صبر جواب دے جاتا ہے وہاں خواتین صبر و استقلال کا استعارہ ثابت ہوتی ہیں۔

    اچھائیاں اور برائیاں ہر کسی میں ہوتی ہیں۔ لیکن ایک اسلامی معاشرے میں مرد اور عورت کو اپنی اپنی جگہہ ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ دونوں ایک اچھے اور صحت مند معاشرے کی اہم ترین اکائیاں ہیں۔ اگر دونوں ایک دوسرے کی عادات اور قدرتی خواص کو سمجھنے اور خامیوں خوبیوں پر پردہ ڈالتے ہوئے اپنا اپنا کردار ادا کریں تو یقیناً اس کے نتیجے میں ایک مضبوط اور صحتمند معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔

  • حادثے کا اصل ذمہ دار کون ؟    تحریر: احسن ننکانوی

    حادثے کا اصل ذمہ دار کون ؟ تحریر: احسن ننکانوی

    حادثے کا اصل ذمہ دار کون ؟؟-

    سندھ میں پیر کے روز ایک ٹرین حادثہ ہوا ملت ایکسپریس اور سر سید ایکسپریس کا تصادم ہوگیا جس کے نتیجے میں کافی جانی و مالی نقصان ہوا ٹرین کی 3 بوگیاں ٹرین سے الگ ہو کر دوسرے ٹریک پر گر گئیں۔ جس کے نتیجے میں یہ حادثہ پیش آیا اب میرا پہلا سوال یہ ہے کہ اس جدید دور میں بھی ایسے حادثات روز کا معمول بن گئے ہیں جب ٹرین سے اس کی بوگیاں الگ ہو کر گریں تو کیا ڈرائیور کو معلوم نہیں ہوا ڈرائیور یا کوئی دوسرا فرد کال کرکے نہیں بتا سکتا تھا کہ ٹرین کی بوگیاں الگ ہو کر دوسرے ٹریک پر گر گئی ہیں اور دوسری طرف سے آنے والی ٹرین کو مطلع کیا جا سکتا پھر کیوں ایسا ہوا حالانکہ جب اتنی بوگیاں الگ ہو کر گریں تو کوئی جھٹکا سا لگا ہوگا یا کوئی اور چیز تو محسوس ہوئی ہو گی اور دوسری طرف سے آنے والی ٹرین کو مطلع کر دیا جاتا تو شاید اتنے بڑے سانحے سے بچا جاتا موجودہ حکومت جب اپوزیشن میں تھی تو وہ پچھلی حکومت کو اکثر کہا کرتی تھی کہ جب کوئی ٹرین حادثہ ہو تو وزیر کو استعفی دینا چاہیے یا کوئی اور حادثہ ہو جائے تو ان کا بس یہی مقصد ہوتا تھا کہ ان کو استعفی دینا چاہیے اب جب یہ خود اقتدار میں آگئے ہیں تو ان کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کیا ہماری عوام کا خون اتنا سستا ہوچکا ہے کہ آئے روز حادثات ہوتے رہتے ہیں ایک صاحب فرما رہے تھے کہ اس حادثے کا ذمہ دار پچھلی حکومت ہے مجھے اس کی یہ بات بڑی مضحکہ خیز لگی کے حکومت کو تین سال ہو گئے ہیں لیکن اب بھی وہ ہر کام پچھلی حکومت پر ڈال دیتے ہیں۔ حالانکہ ان کو چاہئے کہ اگر ان کی حکومت میں کوئی کمی ہے تو اس کو دیکھیں اور درست کریں کب تک وہ پچھلی حکومتوں پر الزام لگاتے رہیں گے۔ اور محترمہ فردوس عاشق اعوان صاحبہ فرما رہی تھی کہ اللہ کے فضل سے یہ سال میں پہلا واقعہ ہے۔ ریلوے حکام ایک دوسرے کو ذمہ ٹھہرا رہے ہیں چیف انجینئر کا 4 جون کو جو انہوں نے ڈپٹی سپریڈنٹ کو خط لکھا وہ بھی سامنے آ گیا جس میں انھوں نے لکھا کہ آپ کو بجٹ سے زیادہ تمام وسائل اور مشینری فراہم کر دی گئی ہے اس کا کام جلد از جلد شروع کرے کیونکہ یہ بہت ہی بری حالت میں ہے اگر کام جلد از جلد نہ شروع کیا گیا تو کوئی بڑا حادثہ ہو سکتا ہے تو جی بڑا حادثہ ہو گیا کام بھی شروع ہو جائے گا لیکن جو لوگ مر گئے ہیں ان کا ذمہ دار کون جو بچے یتیم ہو گئے ہیں ان کا کیا ریلوے حکام ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں حکومت پچھلی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے میرے خیال سے ان کو مل کر انگریز جس نے یہ منصوبہ بنایا جس نے یہ پروجیکٹ شروع کیا اس کو ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے کیونکہ وہ ایک اچھا کام کر گیا

    ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮔﻠﺴﺘﺎﮞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺍﻟﻮ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﮭﺎ
    ﮨﺮ ﺷﺎﺥ ﭘﮧ ﺍُﻟﻮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﻧﺠﺎﻡِ ﮔﻠﺴﺘﺎﮞ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ
    ﺷﻮﻕ ﺑﮩﺮﺍﺋﭽﯽ

    تحریر: احسن ننکانوی
    Ahsannankanvi@gmail.com