Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور ژالہ باری

    ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور ژالہ باری

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں تیز آندھی کے ساتھ بارش اور ژالہ باری جاری ہے-

    باغی ٹی وی :اسلام آباد اور گردونواح میں بارش اور ژالہ باری، لاہور اور گردونواح میں بھی رات سے بارش،لاہور میںآج دن بھر وقفہ وقفہ سے بارش جاری رہنے کا امکان ہے، کاہنہ،قصوراورگردونواح میں بارش،موسم خوشگوار-

    جڑانوالہ،میانوالی اور چنیوٹ میں تیزہواوَں اور گرج چمک کے ساتھ بارش،حافظ آباد اور گردونواح میں موسلا دھار بارش،موسم خوش گوار،حافظ آباد بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے-

    میرپور آزاد کشمیر اور گردونواح میں گرج چمک کے ساتھ بارش، ظفروال اور گردونواح میں موسلادھار بارش،شاہ کوٹ ، سانگلہ ہل اور گردونواح میں بارش، ڈسکہ ،نارووال اورگردونواح میں بھی بارش ہوئی –

    میرپور،چیچیاں، جاتلاں، خالق آباد، منگلا میں بھی بارش ،بارش شروع ہوتے ہی متعدد سیکٹرز اور دیہاتوں میں بجلی غائب ہو گئی-

    بارکھان اور گردونواح میں موسلادھار بارش سے مقامی ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔

    کوہلو میں آسمانی بجلی گرنے سے خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں گزشتہ رات بوندا باندی ہوئی-

  • ملک میں کورونا سے مزید 56 اموات ،مثبت کیسز کی شرح میں کمی

    ملک میں کورونا سے مزید 56 اموات ،مثبت کیسز کی شرح میں کمی

    پاکستان میں کورونا کی لہر میں شدت،24 گھنٹوں میں 56 اموات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر جاری ہے، کورونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے


    نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور ملک بھر میں کورونا سے اموات کا سلسلہ جاری ہے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا سے مزید 56 اموات ہوئی ہیں-

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز کورونا کے 36 ہزار 368 نئے ٹیسٹ کئے گئے1 ہزار239 نئے کیس سامنے آ گئے۔ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریباً3.40 فی صد رہی۔

    پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 21 ہزار 689 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 9 لاکھ 41 ہزار 170 ہو چکی ہے۔

    این سی اوسی کے مطابق اسلام آباد میں82 ہزار99 اورآزادکشمیرمیں19ہزار756 افراد متاثر، خیبرپختونخوامیں ایک لاکھ35ہزار877،بلوچستان میں26 ہزار201 افرادمتا ثر ہوئے جبکہ سندھ میں متاثرین کی تعداد3لاکھ27 ہزار604 ہوگئی،پنجاب میں کوروناسے3 لاکھ43ہزار926 افرادمتاثرہوئے ،گلگت بلتستان میں مریضوں کی تعداد5707 ہوگئی

  • مغرب میں پنپتے الحادی رجحانات ایک جائزہ        تحریر: نعیم اللہ

    مغرب میں پنپتے الحادی رجحانات ایک جائزہ تحریر: نعیم اللہ

    تحریر: نعیم اللہ
    "مغرب میں پنپتے الحادی رجحانات ایک جائزہ”
    لفظ "الحاد” عربی زبان میں مادہ "لحد” سے ماخوذ ہے،جو "راہ راست،میانہ روی سے ہٹنے اور منحرف ہونے”کی معنی میں استعمال ہوتا ہے،اور مذہب بیزار روش کو اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اس(مذہب و دین) میں طعن کشی کرنا الحاد فی الدین کہلاتا ہے۔
    (المعجم الوسیط مادہ -لحد)
    اور اصطلاحاً "الحاد”کا مفہوم انکار اعتقاد وجود الہ پر مبنی ہے یعنی آسان الفاظ میں یہ کہ اس کون کل کا کوئی موجد و مدبر ہے ہی نہیں۔
    مغرب میں الحاد کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی ؟
    یہ ایک اہم سوال ہے، جب ہم اسے منصب نگاہ رکھتے ہوۓ اس تاریخی لمحے کے کو تلاش کرنے کی سعی کرتے ہیں،جس میں فکر مغرب کے اندر الحاد کی آمیزش اور اسے نمو حاصل ہوا تو اٹھارویں صدی ہمیں مغربی الحاد کی تاریخ کا سنگ میل ثابت ہوتی نظر آتی ہے۔
    یہ صدی نہ صرف اہل مغرب کے لیے الحادی اور دینی افکار کے مابین تصادم کی صدی ثابت ہوئی،بلکہ اس میں بے دینی اور الحاد کی ایک ایسی زبردست یلغار مشاہدہ کرنے کو ملی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے مغربی تہذیب و ثقافت کو پوری طرح اپنے لپیٹ میں لے لیا۔
    الحاد کے ظہور کے وقت مغربی حالات کا جائزہ لیتے ہوۓ معلوم ہوتاہے کہ عین اسی وقت فلسفہ اپنے انحطاط و انحسار کے دور میں قدم رکھ چکا تھا،ایک جانب الحاد اپنی پوری تابناکیوں کے ساتھ انسانی عقل کو جذب کر رہا تھا ،تو دوسری جانب فلسفہ اپنی بقا کے لیے معرکہ آرائی کے آخری مراحل میں داخل ہونے کی استعداد میں تھا۔
    ایک جانب جس دور میں سقراط اور افلاطون جیسے فلاسفرز نے نشو و نما پائی وہ دور ایمانیات و اعتقادات کا دور تھا(چاہے پھر ان ایمانیات و اعتقادات کی نوعیت مختلف ہی کیوں نہ ہو )،تو دوسری جانب ایپکورس جیسے(یونانی فلاسفر)نے اپنے دور میں دنیا کے اندر پاۓ جانے والے شر کے وجود پر بہت سے ایسے ایسے مشہور الحادی سوالات و اشکالات کو فروغ دیا جس نے آگے چل کر انکار الہ کے اعتقاد کو خوب تقویت بخشی۔

    مغرب پر فلسفیانہ فکر کے غلبے کا دور:
    مصادر و مراجع کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یورپ میں سترہویں صدی اپنے ساتھ فلسفیانہ افکار کی بہتات لائی یہ ایک ایسا دور تھا،جس میں فلسفیانہ افکار نے مغرب کو اپنی غالبیت کے شکنجے میں جکڑے رکھا ہوا تھا،جس میں رینے ڈیکارٹ(رینے ڈیکارٹ فرانسیسی ریاضی دان اور جدید فلسفے کا بانی تھا۔ تورین میں پیدا ہوا۔ پیرس میں ریاضی، طبعیات اور الہیات کی تعلیم حاصل کی۔)
    نکولس مالبرانش
    (نکولس مالبرانش -6 اگست 1638 – 13 اکتوبر 1715- فرانسیسی عقلی فلسفی تھا)
    اور باروخ اسپینوزا (1632–1677)( سترہویں صدی کا ایک ممتاز ولندیزی فلسفی تھا۔ اس کا پورا نام بارخ سپینوزا ہے۔اس کے آباؤ اجداد اصلا یہودی تھے وہ اندلس سے ترک وطن کر کے ہالینڈ آکر آباد ہوگئےتھے۔اسپینوزا عقلیت پسند تھا۔ اس کے نزدیک خدا اور فطرت کے قوانین ایک ہی چیز ہیں،اخلاقیات اس کی اہم تصنیف ہے)
    جیسے بڑے بڑے فلاسفرز پیدا ہوۓ جنہوں نے مغربی تہذیب و معاشرے میں نہایت گہرے اثرات مرتب کیے یہ فلاسفرز اپنی نوعیت کی ایمانیات اور اعتقادات سے متصف تھے حتی کہ اسپینوزا جیسے بڑے فلاسفر کے فکری رجحانات کی بنیادیں بھی دینی اعتقاد سے متصف ہوتی نظر آتی ہیں۔

    الحاد کے ابتدائی آثار:
    اصولی طور پہ تو الحادی افکار اتنے ہی قدیم ہیں جتنی کے انسانی ذات قدیم ہے،البتہ مصادر و مراجع کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ الحاد کے ابتدائی آثار آج سے ایک ہزار سال قبل مسیح میں ہندکے اندر ”رگ ویدا”کے نص مکتوب میں شکوک و شبہات کی صورت میں ظاہر ہوچکے تھے،اور تقریباً 500 سال قبل مسیح کے دورانیے میں گوتم بدھ(گوتم بدھ کو بدھا اور بدھ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ ان کا اصل نام سدھارتھ تھا۔ یہ563قبل مسیح یا 480 قبل مسیح میں پیدا ہوئے۔ ان کا باپ ایک ریاست، جو علاقہ اب موجودہ نیپال میں شامل ہے، کا راجا تھا اس ریاست کو کپل وستو کہا جاتا تھا۔ گوتم بدھ، بدھ مت مذہب کے بانی ہیں)نے انسانی فکر کو الاہیات کے بجاے انسانی تکالیف کی جانب مائل کرنے کی کوشش کی۔

    دوسری جانب یونانی فلسفانیہ فکر میں مادیت کی اتنی آمیزش ظاہر ہوچکی تھی کہ دیموقراطیس
    یونانی فلسفی جسے بابائے طبیعیات بھی کہا جاتا ہے۔ تھریس کے شہر ابدیرا میں پیدا ہوا۔)

    جیسے فلاسفر نے یہ نظریہ پیش کیا کہ اجزا یا مادہ ازل سے موجود ہے اور غیر فانی ہے۔ جسامت اور شکل و صورت میں تو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ماہیت کے لحاظ سے یہ ایک ہی ہیں اور اس نے پتھر سے تراشے گئے خدا کی حقیقت کو سرے سے لغو قرار دے ڈالا۔

    اور چوتھی صدی قبل مسیح کے حلول کے ساتھ ہی ایپکورس نے دنیا میں پاۓ جانے والے”وجود شر”کی بحث کو چھیڑ کر الہ کے وجود پر طرح طرح کے اعتراضات اٹھاۓ جس نے آگے چل کر قرون وسطی میں ایمان پر حملہ آوری کی صورت اختیار کر لی اور ذات باری تعالی خالق کون کل کے وجودی فکر پر عقلی اعتراضات لگاۓ گئے حتی کہ "ولیم اوکامی”(ولیم اوکامی مسیحی علم عقائد کے عالم ہونے کے ساتھ ساتھ منطقی،طبیعیات دان اور فلاسفر بھی تھے)نے صراحتا "امکان وجود الہ” کا انکار کیا، پھر آگے چل کر عقلیت،فطرت پسندی اور امپیرزم کے فلسفے نے الحادی فلسفے کے فروغ میں تعمیری و اساسی کردار ادا کیا۔ اور جہاں تک روشن خیالی کے زمانے کی بات کا تعلق ہے،تو اس دور کی موجودہ خصوصیت مذہب پر کڑی تنقید تھی جو آج تک چلی آ رہی ہے،دوسری جانب اگر موجودہ دور کے فلسفے کی بات کی جاۓ تو الحاد اپنے وجود میں ایک نیا منظرنامہ پیش کر رہا ہے،جس نے سائنس کو غالبیت عطا کرکے کائنات و انسان کو اس کا ما تحت بناکر رکھ دیا ہے اور یوں کہا جاۓ کہ مادہ پرستانہ افکار اور الحاد کے ما بین ایک بہت بڑا گہرا ربط و تعلق ہے تو اس میں کسی بھی نوعیت کے شک کا شائبہ نہ ہوگا۔

    مغرب کے اندر الحادی لہر اور دین مسیح کے ما بین پیدا ہونے والی معارضت نے ایک ایسی صورتحال اختیار کردی ہے کہ بہت سے لوگ دین مسیح پر عقل و سائنس کو فوقیت دینے لگے ہیں۔

    مغرب میں اس وقت سائنسدانوں کے دو گروہ ہیں ایک گروہ تو وہ ہے جو الحادی فکر سے متاثر اور انکار وجود الہ کا قائل ہے لیکن اس کے مد مقابل ایک ایسا گروہ بھی موجود ہے،جو ملحدانہ فکر کی شدید تنقید کرتے نظر آتا ہے تاکہ وہ یہ ثابت کر سکیں کہ الحاد کا یہ طوفان مغرب کا پیداوار نہیں ہے،بلکہ خود بخود وجود میں آ گیا ہے،جو وقت کے ساتھ انسانی فکر میں کھپ چکا ہے،بہر حال اس کی درست حقیقت اب دنیا کے سامنے آشکار ہوچکی ہے،اس لیے اس بحث میں ہم نہیں پڑتے۔

  • کسان زبوں حالی کا شکار کیوں؟      تحریر: احسن ننکانوی

    کسان زبوں حالی کا شکار کیوں؟ تحریر: احسن ننکانوی

    کسان زبوں حالی کا شکار کیوں؟

    انسان ایک معاشرتی حیوان ہے انسان اکیلا نہیں رہ سکتا اگر انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کو جنگل میں چھوڑ آئیں تو وہ پہلی بات حالات کا مقابلہ نہیں کرسکے گا اگر وہ زندہ بچ بھی گیا تو وہ انسانوں کی طرح نہیں ہوگا نہ اس کو بولنا آتا ہوگا بہت سارے لوگ اکٹھے رہ کر ایک معاشرہ بناتے ہیں۔ اسی طرح ہر کامیاب کاروبار جو ملک کی ترقی کا باعث بنتا ہے۔ جو ملک کو معاشی طور پر مضبوط کرتا ہے۔

    ایک ملک ایک چیز پر انحصار نہیں کر سکتا اس کو مختلف شعبوں میں ترقی کرنا ہوتی ہے میرے ملک پاکستان کا جو سب سے بڑا سیکٹر جس کو پاکستان کہا جاتا ہے وہ بہت ہی کمزور ہے اور کسان زبوں حالی کا شکار ہے حالانکہ پاکستان میں سب سے زیادہ جو ترقی ہوتی ہے اس میں زراعت کا بہت زیادہ ہاتھ ہے ۔

    پاکستان کی معیشت کو چلانے کے لیے زراعت کا بہت بڑا ہاتھ ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اس پر توجہ نہیں دی جاتی نہ تو کوئی گورنمنٹ پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔

    کچھ گورنمنٹ ہے جو اس سیکٹر میں اس پیشے میں توجہ دیتی ہیں تو آئیے ہم بات کرتے ہیں کہ پاکستان میں کسان زبوں حالی کا شکار کیوں ہیں اور ان کو کس کس مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے بھاگتے ہیں۔

    موجودہ حکومت نے تھوڑی بہت ہی اس پر توجہ دی ہے جس کی وجہ سے حالات کافی بہتر ہوگئے ہیں لیکن میں بہت زیادہ جو اہم معاملات ہیں اس پر گورنمنٹ کی توجہ کروانا چاہوں گا۔

    کچھ ایسے حالات ہیں جس کی وجہ سے کچھ سال زبوں حالی کا شکار ہیں بجلی والے ٹیوب ویل کی بات کر لیتے ہیں ابھی حالیہ دل میں بجلی والوں نے ضرورت سے زیادہ یونٹ ڈال دیے ہیں جس پر کسان پریشان ہیں اگر ان کے دفتر میں جائیں تو وہ آگے سے کوئی بات ہی نہیں سننے کو تیار نہیں کہ وہ تو افسر شاہی ہی عوام کی بات بلا کیوں سنیں گے۔

    حکومت نے جو بل کا نظام بنایا ہے کہ بل کے ساتھ تصویر بھی کھینچی جاتی ہے تاکہ بل زیادہ نہ آئے اور ساتھ عوام کو کوئی پریشانی نہ ہو۔
    لیکن واپڈا کے اہلکار بھی فراڈ میں بہت زیادہ آگے نکل چکے ہیں انہوں نے ایک ایسا طریقہ بنایا ہے کہ جو تصویر اصل ہوتی ہے اس کو بدل کے اپنی مرضی کی تصویر لگا دیتے ہیں اور اپنی من مانی کرتے ہیں کسانوں کو ان کے دفتر کے چکر لگانا پڑتے ہیں جس کی وجہ سے یہ صحیح طریقے سے اپنی فصل کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے۔

    جتنی بجلی کسانوں نے استعمال کی ہوتی ہے اس سے زیادہ بل ڈالا جاتا ہے۔ آج چاچا جان سے بات ہو رہی تھی تو انہوں نے بتایا کہ میں نے کل یا پرسوں کو واپڈا آفس جانا ہے جب وجہ پوچھی گئی تو یہی بتایا گیا کہ بل اس بار پھر زیادہ آگیا ہے ٹیوب ویل کا تو میں نے کہا کہ آپ ہیلپ لائن 118پر کال کریں مسئلہ حل ہوجائے گا انہوں نے آگے سے کہا (پتر اوہ وی اوناں دے نال رل گئے نے )
    مطلب کہ وہ بھی ان کے ساتھ مل گئی ہیں پتہ نہیں کتنی بار ان کو بھی کال کرکے دیکھی ہے پہلے تو وہ مسئلہ حل کر دیتے تھے لیکن اب وہ بھی بات نہیں سنتے ہیں۔

    اگر واپڈا آفس جائیں تو وہاں پر کرپٹ سے کرپٹ کرپٹ افسر بیٹھا ہوا ہے جو پیسے لئے بنا بات ہی نہیں سنتے۔

    پیسے دے دوں تو مسئلہ حل ہو جائے گا ان کا بھی یہی جواب ہوتا ہے ایک اور مزے کی بات بتاؤں شاید بہت سارے لوگوں کو نہ پتا ہو بلکہ پتا ہی نہیں ہوگا واپڈا کے جو کرپٹ افسر ہیں وہ دھان کی فصل کے موسم کے وقت کیونکہ ان دنوں میں ٹیوب ویل دن رات چلتے ہیں اور بل کافی زیادہ آتا ہے انہوں نے اپنی جعلی میٹر بنائے ہوتے ہیں وہ کسانوں کو کہتے ہیں کہ یہ میٹر لگا لو اور سیزن کے اتنے پیسے دے دینا۔

    اور آپ کو بل وغیرہ نہیں آئے گا جب سیزن گزر جائے گا تو آپ اپنا اصلی میٹر لگا لینا اگر ایسا کوئی نہ کرے تو اس کو پھر اپنی مرضی کے یونٹ ڈالتے ہیں اور اپنی مرضی کا بل بھیجا جاتا ہے۔

    اللہ اللہ یہ کیسے لوگ ہیں جو میرے ملک کو کھا رہے ہیں یہاں پر مجھے عہد حاضر کے ایک شاعر علی زریون صاحب کا شعر یاد آ گیا ہے۔

    ‘اے میرے وطن تیرے چہرے کو نوچنے والے۔۔
    یہ کون لوگ ہیں یہ گھرانے کہاں سے آگئے۔۔’

    حکومت پاکستان کو ایسے مسائل کا حل نکالنا ہوگا اگر کسان پریشان ہوں گے اور وہ فصل نہیں کاشت پائیں گے تو پاکستان کی جی ڈی پی کیسے بڑھے گی۔اور پاکستان ترقی کیسے کرے گا کیونکہ زراعت کا شعبہ پاکستان کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    کبھی تو واپڈا والوں کا خلاصہ ہی بیان کیا گیا ہے اگر ان پر پوری کہانی لکھنے بیٹھ جائیں اور ان کی کرپشن کے بارے میں بتانا شروع کر دیا جائے کہ یہ کن کن طریقوں سے کرپشن کرتے ہیں تو کاغذ کم پڑ جائیں گے اور سیاہی ختم ہو جائے گی۔

    کسانوں کو دوسرا سب سے بڑا مسئلہ پیسے کا ہے ان کے پاس پیسے بہت کم ہوتے ہیں اور ان کو فصل کی بوائی کاشت ہل چلانے کے لئے روپوں کی ضرورت ہوتی ہے تو پھر وہ آڑھتیوں کے پاس جاتے ہیں تو وہ ان کو سود پر قرضے دیتے ہیں اور بہت بھاری سود واپس ادا کرنا ہوتا ہے۔

    سود کے ساتھ ساتھ جب ان کی فصل پک کر تیار ہوجاتی ہے تو ان کو مجبوری کے طور پر فصل بھی ان ساہو کاروں کو دینی پڑتی ہے اور وہ اپنی مرضی کا ریٹ لگاتے ہیں۔ ہیرا پھیری بھی کرتے ہیں۔ اسے کاٹ کر اور سود بھی کاٹ کر جب آخر میں حساب کیا جاتا ہے تو کسان خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور وہ افسردہ دل منڈیوں سے واپس آتا ہے۔

    جب انسان ہی افسردہ دل ہوگا تو پاکستان کی جی ڈی پی کیسے گروتھ کرے گی اس لیے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ کسانوں کو ایک سال یا چھ ماہ کے لیے فری قرضے دیں۔

    جب فصل پک کر تیار ہو جائے تو ان سے حکومت پاکستان ہی فصل خریدے اور خود اپنی مرضی سے ایک اچھا ریٹ تجویز کریں اس طرح کسان خوش ہوجائے گا جب کسان خوشحال ہوگا تو پاکستان خوشحال ہوگا۔

    جب حکومت اس کے ساتھ اچھا تعاون کرے گی تو وہ تو میں دلجمعی سے کام کرے گا اور وہ بھی حکومت کے ساتھ اچھا تعاون کرے گا اور اس طرح سے ہماری فصلوں کی پیداوار بڑھے گی جب پیداوار بڑھے گی تو ہمارے ایکسپورٹ بھی بڑھے گی اس طرح عالمی منڈیوں میں پاکستان کے ساکھ بیٹھےگی۔

    ایک اور بڑا مسئلہ کسانوں کو بیج کھادیں اسپرے بھی بہت مہنگی ملتی ہیں اتنا زیادہ منافع نہیں ہوتا جتنا زیادہ فصل پر خرچہ ہو جاتا ہے اس طرح سے پھر لوگ بدل ہو جاتے کسانوں کو پوری سبسیڈی دینی چاہیے کسانوں کو زرعی آلات مشینری دینی چاہیے کہ وہ روایتی طریقے سے ہٹ کر کھیتی کریں اور زراعت میں جدت لانی چاہیے۔

    بہت سارے اہم مسائل کی طرح ایک اور بھی مسئلہ ہے ہمارے 80 پرسنٹ کسانوں کو کھیتی باڑی کے بارے میں علم نہیں ہے وہی پرانا روایتی طریقہ استعمال کرتے ہیں۔اس طرح فصل کی پیداوار بہت ہی زیادہ کم ہوتی ہے پاکستان میں زراعت کا محکمہ نام کی بھی ایک چیز ہے۔

    صاحب بہادر کی تنخواہ چل رہی ہے لیکن آج تک جب سے میں نے اپنی ہوش سنبھالی ہے کبھی بھی کسی زراعت کے افسر کو یا کسی ویسے زراعت کے بندے کو اپنے گاؤں یا علاقے میں نہیں دیکھا وہ بس سرکاری مال کھا کر خواب خرگوش کیے مزے لے رہے ہیں۔
    حالانکہ کے ان کا اصل کام گاؤں لوگوں کو جاکر شعور دینا لوگوں کو بتانا کی فصل کیسے کاشت کی جاتی ہے۔

    دھان کی فصل کیسے کاشت کی جاتی ہے اور گنے کی فصل کو کس کس چیز کی ضرورت ہوتی ہے گندم کو کیسی زمین میں کاشت کرنا چاہیے اور کپاس کو کیا ادویات ڈالنی چاہیے۔

    لیکن وہ صاحب بہادر اپنے دفتروں سے نکلنا بھی گوارا نہیں کرتے ہان ان کی شان کے خلاف بھی ہے اگر کسی کو ان سے فائدہ ہو گیا تو ان کا نقصان ہو جائے گا۔

    مجھے یہاں پر تہذیب حافی کا ایک شعر یاد آ گیا
    ‘تم کو دور سے دیکھتے دیکھتے گزر رہی ہے۔۔
    مر جانا پر کسی غریب کے کام نہ آنا ۔’

    حالانکہ ہر تحصیل لیول پر لیباٹری ہونی چاہیے جہاں پر یہ دیکھا جائے کہ کس فصل کو کیسے کاشت کرنا ہے اور کون سی زمین کس فصل کے لیے موزوں ہے۔

    ایک سب سے بڑا مسئلہ اور پاکستان کے جسم کے ساتھ ناسور کرپٹ پٹواری بھی ہیں اگر زمین کی نشاندہی کروانی ہو یا کچھ اور ہو تو لاکھوں روپے مانگتے ہیں۔ اس پاکستان کو بہت سے ناسور لگے ہوئے ہیں ان کو الگ کرنا ہوگا ورنہ تب تک پاکستان ترقی نہیں کر پائے گا اور پٹواریوں کی شان میں پھر کسی دن لکھوں گا۔
    تحریر: احسن ننکانوی
    Ahsannankanvi@gmail.com

  • زینب عباس ایک اور اعزاز اپنے نام کرنے میں کامیاب

    زینب عباس ایک اور اعزاز اپنے نام کرنے میں کامیاب

    پاکستانی ٹیلی ویژن اینکر اور اسپورٹس پریزینٹر زینب عباس نے متحدہ عرب امارات کے لائف اسٹائل میگزین ’خلیج ٹائمز‘ کے سر ورق کی زینت بننے پر خوشی کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی :اس حوالے سے اسپورٹس پریزینٹر زینب عباس نے سماجی رابطےکی ویب سائٹ انسٹاگرام پر لائف اسٹائل میگزین ’خلیج ٹائمز‘ کے سر ورق کی تصویر شیئر کی ہے-

    زینب عباس نے اپنی پوسٹ کے کیپشن میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’ لائف اسٹائل میگزین ’’خلیج ٹائمز‘‘ کےاس ہفتے کے شمارے کے سر ورق پر میں نظر آرہی ہوں۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے اخبارخلیج ٹائمز نے اپنے ہفتہ وار میگزین کے لیے زینب عباس کا انٹرویو لیا اور ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا خلیج ٹائمز نے زینب عباس کو پاکستان کی سب سے مشہور اسپورٹس پریزینٹر کے طور پر متعارف کرایا۔

    خلیج ٹائمز نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنے اس ہفتے کے شمارے کے بارے میں ایک ویڈیو شیئر کی، اس پوسٹ کے کیپشن میں خلیج ٹائمز نے زینب عباس کے بارے میں لکھا کہ ’ہم نے اس ہفتے پاکستان کی سب سے مشہور خاتون اسپورٹس پریزینٹر زینب عباس سے انٹرویو لیا ہے جوکہ پاکستان سُپر لیگ کے لیے متحدہ عرب امارات میں ہیں۔

    خیال رہے کہ زینب عباس اس وقت پاکستان سُپر لیگ کے چھٹے ایڈیشن کے بقیہ میچز کے لیے ابوظہبی میں ہیں۔ اس کے علاوہ، زینب انگلینڈ میں اپنے آنے والے بڑے پروجیکٹ کے لیے بھی بہت پُرجوش ہیں۔

    یاد رہے کہ پاکستان کی معروف اسپورٹس پریزنٹر زینب عباس نامور برطانوی ٹی وی چینل اسکائی اسپورٹس پر پاکستان کی نمائندگی کریں گی جبکہ زینب عباس پہلی پاکستانی اسپورٹس پریزنٹر ہیں جنہیں غیر ملکی ٹی وی چینل پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا ہے۔

    اس حوالے سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے زینب عباس کا کہنا تھا کہ میں یہ شئیر کرتے ہوئے بہت پرجوش ہوں کہ میں پاکستان بمقابلہ انگلینڈ سیریز اور اس کے بعد ہونے والے ’دی ہنڈریڈ ٹورنامنٹ‘ کے لیے اسکائی اسپورٹس پر ڈیبیو کروں گی۔‘

    ساتھ ہی زینب نے کہا تھا کہ وہ ایک شاندار ٹیم کے ساتھ کام کرنے کی منتظر ہیں۔ اس فارمیٹ میں، ہر ٹیم 100 گیندیں کھیلے گی-

    عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملنے پر شنیرا اکرم کا زینب عباس کیلئے خصوصی پیغام

  • حالیہ بیان پر تنقیدکا سامنا: متھیرا ایمان علی کی حما یت میں بول پڑیں

    حالیہ بیان پر تنقیدکا سامنا: متھیرا ایمان علی کی حما یت میں بول پڑیں

    میزبان اور اداکارہ متھیرا نے ایمان علی کے حالیہ بیان پر ردّعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایمان علی کو ذہنی طور پر مدد کی ضرورت ہے-

    باغی ٹی وی: اداکارہ و میزبان متھیرا سوشل میڈیا پر کافی سرگرم ہیں اور سوشل میڈیا پر ہونے والی ہر بحث میں اپنا رد عمل شئیر کرتی ہیں تاہم اب بھی انہوں نے سوشل میڈیا سائٹ انسٹاگرام کا رُخ کرتے ہوئے اداکارہ ایمان علی کے لیے خصوصی پیغام جاری کیا۔

    ایمان علی نے چند دن قبل واسع چوہدری کے پروگرام ’گھبرانا منع ہے‘ میں شرکت کی تھی انہوں نے پروگرام میں بتایا تھا کہ انہوں نے محب وطن ہونے کی وجہ سے ماضی میں بھارت میں کام کرنے سے انکار کیا جب کہ مرد حضرات کے کرداروں کو اہم کرنے پر انہوں نے متعدد پاکستانی فلموں میں بھی کام سے معذرت کی۔

    مذکورہ پروگرام میں ایمان علی نے اپنے کیریئر اور ازدواجی زندگی پر بھی کھل کر بات کی تھی جب کہ انہوں نے اپنی خوبصورتی سے متعلق دوسرے لوگوں کی جانب سے تعریفیں کیے جانے پر بھی بات کی تھی۔

    ایک سوال کے جواب میں اداکارہ ایمان علی کا کہنا تھا کہ میں یہ کافی انٹریوز میں کہہ چکی ہوں کہ مجھے اپنا ظاہر بالکل بھی پسند نہیں حالانکہ لوگ مجھے بے حد پسند کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ آپ بہت خوبصورت ہیں لیکن جب میں خود کو شیشے میں دیکھتی ہوں تو مجھے لگتا ہے لوگ جھوٹ بول رہے ہیں اور صرف یہی نہیں میں جب موبائل میں سیلفیاں لیتی ہوں تو مختلف زاویوں سے لینے کی کوشش کرتی ہوں کہ شاید اچھی آجائے لیکن پھر خود کو دیکھتی ہوں تو لگتا ہے کوئی خواجہ سرا کھڑا ہے۔

    خود کو دیکھتی ہوں تو لگتا ہے جیسے کوئی خواجہ سرا کھڑا ہے ایمان علی

    ایمان علی کے اس بیان پر جہاں خواجہ سراؤں کی جانب سے اداکارہ کو خواب کرارے جواب دیے گئے تو وہیں سوشل میڈیا صارفین نے بھی اُنہیں تنقید کا نشانہ بنانے میں کسر نہ چھوڑی اور اب میزبان متھیرا کا بھی ردعمل سامنے آیا ہے-

    متھیرا نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں کہا کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ’خُسرہ‘ یا ’ماسی‘ جیسے الفاظ کسی کی توہین کرنے کے لیے کیوں استعمال ہوتے ہیں۔

    اُنہوں نے کہا کہ ’ایمان علی ایک بہت ہی خوبصورت خاتون ہے اور اسے ذہنی طور پر مدد کی ضرورت ہے لیکن براہِ کرم! اس طرح کے الفاظ استعمال نہ کریں جس سے کسی کی توہین ہو۔

    رابعہ انعم نے ایمان علی کو خود کو ’خواجہ سرا‘ جیسا قرار دینے پربیوقوف قراردیا

    متھیرا نے ایمان علی کا ساتھ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں دماغی صحت ایک بہت بڑی تشویش ہے اور وہ لوگ جو کمنٹ سیکشن میں ایمان کو ٹرول کررہے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جو دوسروں کی توہین کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔

    اُنہوں نے مزید کہا کہ ’براہ کرم! اس بیان کو مزید اُجاگر کرنا بند کریں، ایسا کرنے سے ایمان جیسے تنقید کا شکار لوگ مزید ذہنی اذیت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

    خواجہ سرا ماڈل کامی سد کا ایمان علی کے بیان پر شدید ردعمل

  • سعودی عرب میں خواتین کو تنہا اور آزادانہ زندگی گزارنے کا حق مل گیا

    سعودی عرب میں خواتین کو تنہا اور آزادانہ زندگی گزارنے کا حق مل گیا

    سعودی عرب میں پہلی بار خواتین کو اپنے مرد سرپرست یعنی والد، بھائی یا شوہر کے بغیر تنہا رہنے اور آزاد زندگی گزارنے کا پروانہ مل گیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے گلف نیوز کے مطابق سعودی عرب میں ہونے والی نئی قانون سازی میں خواتین کو لازمی طور پر اپنے مرد سرپرست کے ساتھ رہنے کے قانون کے آرٹیکل 169 سے پیراگراف (ب) حذف کردیا گیا ہے جس کے بعد مملکت میں خواتین کو والد، بھائی یا شوہر کے ساتھ رہنے کے بجائے تنہا رہنے کا حق حاصل ہوگیا۔

    قانون میں اس ترمیم کے بعد سعودی عرب میں خواتین کو اب طلاق یا کسی جرم میں سزا مکمل کرنے کے بعد ان کے مرد سرپرستوں میں سے کسی ایک کے حوالے کرنے کے بجائے تنہا رہنے کی اجازت حاصل ہوگئی۔اسی طرح خواتین کو اب کئی معاملات میں مرد سرپرستوں کی اجازت لینا بھی ضروری نہیں ہوگا۔

    نئے قانون کے تحت خاتون کے تنہا رہنے پر خاندان کے مرد سربراہ کی جانب سے مقدمہ کے انداراج کو ممنوع قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بالغ عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کہاں رہنا چاہے۔

    علاوہ ازیں سرپرست، آزاد اور تنہا رہنے والی خاتون سے متعلق صرف اسی وقت شکایت درج کرا سکتے ہیں جب وہ خاتون کسی جرم کی مرتکب ہوئی ہوں اور جرم کا ثبوت بھی موجود ہو۔

    خیال رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کے سرپرست کے حوالے سے قانون کے بڑھتے ہوئے ناجائز استعمال پر کافی عرصے سے غور و خوص جاری تھا تاہم فروری 2019 میں 18 سالہ لڑکی کے کسی طرح تھائی لینڈ پہنچنے اور والدین پر زبردستی فیصلے مسلط کرنے کے الزامات پر اس معاملے کو عالمی توجہ ملی تھی۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب میں خاتون کو اپنے کسی مرد رشتہ دار کے ساتھ رہنا لازمی تھا۔ اسی طرح باپ یا شوہر، چچا، بھائی یہاں تک کہ بیٹا کی اجازت کے بغیر شادی، پاسپورٹ کے حصول یا بیرون ملک سفر کرنا ناممکن تھا۔

    ولی عہد محمد بن سلمان نے منصب سنبھالتے ہی کئی تاریخی اور غیر معمولی نوعیت کے اقدامات کئے ہیں جن میں وژن 2023 کے تحت خواتین کو خود مختار بنانا بھی شامل ہے جس کے بعد سے خواتین کو گاڑی چلانے، ملازمت کرنے، کھیل میں حصہ لینا اور بیرون ملک کے اکیلے سفر کی اجازت ملی ہے۔

  • سلمان خان کا جلد ہی دو میگا بجٹ پراجیکٹ کا اعلان کرنے کا فیصلہ

    سلمان خان کا جلد ہی دو میگا بجٹ پراجیکٹ کا اعلان کرنے کا فیصلہ

    بالی ووڈ سُپر اسٹار سلمان خان جلد ہی دوبڑے پراجیکٹ کا اعلان کریں گے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق سلمان خان اپنی فلم ’رادھے‘ کے فلاپ ہونے کے باعث خبروں کی زینت بنے ہوئے تھے، نہ صرف یہ بلکہ اپنی نئی آنے والی فلم ’ٹائیگر3‘ کوریلیزسے قبل ہی پہنچنے والے 9 کروڑکے نقصان کی خبرین بھی کوب وائرل ہوئیں لیکن ان خبروں پر اداکار کی جانب سے کوئی ردعمل توسامنے نہیں آیا-

    کمال آر خان کے بعد صوفیہ حیات بھی سلمان خان کے خلاف میدان میں آگئیں

    میں نے اکیلے ہی سلمان خان کا پورا کیریئر ختم کردیا کمال آر خان کا دعویٰ

    تاہم اب ان کے حوالے سے مزید خبریں گردش میں ہیں کہ وہ اگلے ماہ بڑے بجٹ کے دوبڑے پراجیکٹ کا اعلان کریں گے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں کورونا وبا کے باعث لگنے والے لاک ڈاؤن سے قبل اداکارنے فیصلہ کرلیا تھا کہ تامل فلم ’ماسٹر‘ کے ہندی ری میک میں جلوہ گرہوں گے تاہم کورونا کی وجہ سے اس کو ملتوی کر دیا گیا تھا اب ایک بارپھراس متعلق خبریں گرم ہیں-

    جبکہ دوسری فلم سے متعلق بھی سلمان خان جلد ہی اعلان کریں گے جو ایک تھرلرفلم ہوگی۔

    دھوم”4″ میں سلمان خان اور اکشے کمار کی انٹری ہوگی؟

    سلمان خان کو ہر کوئی سازشی نظر آتا ہے ہریتھک روشن

  • منال خان اور احسن محسن کو ساتھی فنکاروں کی جانب سے منگنی کی مبارکباد

    منال خان اور احسن محسن کو ساتھی فنکاروں کی جانب سے منگنی کی مبارکباد

    شوبز انڈسٹری کی نئی جوڑی منال خان اور احسن محسن اکرام کی منگنی کی تقریب کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں جبکہ شوبز ستاروں کی جانب سے بھی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز منال خان اور احسن محسن اکرام کی منگنی کی باقاعدہ تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں چند شوبز ستاروں سمیت عزیز و اقارب نے شرکت کی۔

    اپنی زندگی کے اس خاص موقع پر منال خان نے پستہ رنگ کا خوبصورت عروسی لباس زیب تن کیا جبکہ اُن کے منگیتر احسن محسن نے آف وائٹ رنگ کے لباس کا انتخاب کیا۔

    منال خان نے اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر کچھ تصویریں شیئر کیں جن میں سے ایک تصویر میں احسن محسن نے منال کا ہاتھ پکڑا ہوا ہے۔

    منال خان نے اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا کہ ’میرا۔‘

    ایک تصویر میں احسن محسن اور منال لال رنگ کی گاڑی کے پاس کھڑے ہیں اور اس تصویر کے کیپشن میں اداکارہ نے لکھا کہ ’منال احسن-

    دوسری جانب احسن محسن اکرام نے بھی اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنی منگنی کی تقریب کی تصویریں شیئر کیں۔

    منال خان اور احسن محسن اکرام کی منگنی کی تصویروں اور ویڈیوز کو مداحوں نے فین پیجز پ بھی شئیر کیا-

    اس جوڑی کو جہاں کروڑوں مداحوں کی جانب سے منگنی کی مبارکبادیں موصول ہو رہی ہیں وہیں پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف شخصیات کی جانب سے دونوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔

    یاسر حسین نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ کی اسٹوی پر منال خان اور احسن محسن اکرام کی ایک خوبصورت تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بہت بہت مبارک ہو، اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے۔


    اداکارہ صنم بلوچ نے اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اسٹوری میں منال خان اور احسن محسن اکرام کی منگنی کی تقریب کی تصویر شیئر کی جس میں یہ جوڑی بہت خوش نظر آرہی ہے۔

    اداکارہ نے تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ماشاءاللہ! یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے ہی بنے ہیں۔

    اُنہوں نے مزید لکھا کہ ’منال خان اور احسن محسن کو منگنی کی بہت مبارک ہو، اللہ تعالیٰ تُم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔

    خیال رہے کہ گہری دوستی رکھنے والی شوبز انڈسٹری کی معروف جوڑی منال خان اور احسن محسن نے حال ہی میں اپنی بات پکی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

  • دینا نیر کے بعد بھارت میں ایک اور پاکستانی لڑکی کی سادگی اور کوکنگ کے چرچے

    دینا نیر کے بعد بھارت میں ایک اور پاکستانی لڑکی کی سادگی اور کوکنگ کے چرچے

    سوشل میڈیا پر راتوں رات شہرت حاصل کرنے والی سوشل میڈیا انفلوئینسز دینا نیر مبین کے بعد آج کل پاکستان سمیت پڑوسی ملک بھارت میں آمنہ نامی لڑکی کی سادگی، معصومیت، دلکش مسکراہٹ اور ہاتھ میں پکڑی گول روٹی کی تصاویر و ویڈیوز نے تہلکہ مچایا ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : پُرکشش نقوش رکھنے والی اس لڑکی نے سوشل میڈیا پر سب کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے، آمنہ کی ویڈیوز میں اکثر وہ روٹی اور کھانا پکاتے ہی دکھائی دیتی ہیں۔

    آمنہ نامی اس لڑکی کی ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس پر ویڈیوز پر سب ہی لطف اندوز ہو رہے ہیں ویڈیوز نے آمنہ کو راتوں رات ایک سوشل میڈیا اسٹار بنا دیا ہے۔

    آمنہ نامی لڑکی کے نام سے منسوب انسٹاگرام اکاؤنٹ کے ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد فالوورز ہیں جبکہ اس اکاؤنٹ پر صرف 15 ویڈیوز شیئر کی گئی ہیں جس میں نہ تو آمنہ نے برانڈڈ کپڑے پہن رکھے ہیں اور نہ ہی میک اپ کیا ہے پھر بھی لوگوں کو اپنا دیوانہ بنایا ہوا ہے-

    آمنہ کی ایک ویڈیو کو دیکھنے والوں کی تعداد 19 ملین سے تجاوز کر گئی ہے جو سوشل میڈیا پر ایک ریکارڈ ہے۔