Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ٹماٹر چکن بنانے کی ترکیب

    ٹماٹر چکن بنانے کی ترکیب

    ٹما ٹر چکن

    وقت :50 سے 60 منٹ

    4 سے 5 افراد کے لئے

    اجزائے ترکیبی مقدار
    پورا چکن ایک کلو
    تیل ½کپ
    پیاز (کٹے ہوئے) 1کپ
    ادرک لہسن کاپیسٹ 1کھانے کا چمچ
    ٹماٹر ایک کلو
    نمک حسب ذائقہ
    سرخ مرچ پاؤڈر 2چائے کے چمچ
    کالی مرچیں ثابت 2سے 10عدد
    موٹی الائچی پوری 2عدد
    دارچینی 2چھوٹی
    زیرہ پاؤڈر 1چائے کا چمچ

    سجاوٹ کے لئے :
    ہرا دھنیا (کٹا ہوا) 1کھانے کا چمچ
    ادرک (لمبائی میں باریک کٹا ہوا) 1کھانے کا چمچ

    طریقہ کار:
    چکن کو 8یا16 ٹکڑوں میں یا جیسا آپ چاہیں کاٹ لیں اور ایک طرف رکھ دیں۔ ٹماٹروں کے چھلکے اتارلیں اور کاٹ کر ایک طرف رکھ دیں۔ برتن میں تیل گرم کریں پیاز شامل کرکے ہلکا براؤن کریں۔ ادرک لہسن کا پیسٹ شامل کرکے ایک سے دو منٹ تک پکائیں۔کٹے ہوئے ٹماٹر، نمک، سرخ مرچ پاؤڈر، کالی مرچ، موٹی الائچی، دارچینی اور زیرہ ڈال کر 10 سے 12 منٹ تک مصالحہ تیار ہو کر گھی چھوڑنے تک پکائیں۔ چکن اور 1½کپ پانی شامل کریں برتن کو ڈھک کر آنچ ہلکی کردیں اور تقریباً 25سے 30 منٹ تک گوشت کے مکمل گلنے تک پکائیں۔ ڈھکن اٹھا کر 5سے 6منٹ تک گھی چھوڑنے تک بھونیں۔ ہرے دھنیے اور ادر ک کے ساتھ سجائیں او ر روٹی یا نان کے ساتھ پیش کریں۔ صرف تازہ ٹماٹر استعمال کریں۔ ڈبے کے ٹماٹر یا ٹماٹر کا پیسٹ استعمال نہ کریں۔

  • ڈہڑکی ٹرین حادثہ ، بوگی میں پھنسی خاتون نے امدادی کاروائی کے لئے گھر کال ملادی

    ڈہڑکی ٹرین حادثہ ، بوگی میں پھنسی خاتون نے امدادی کاروائی کے لئے گھر کال ملادی

    ڈہڑکی ٹرین حادثے کے بعد بوگی میں پھنسی خاتون نے گھر والوں کو کال کرکے مدد کی اپیل کر دی۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثے کا شکار ہوئی ٹرین کی بوگی نمبر 6 میں موجود ایک خاتون نے امدادی کارروائی میں پیشرفت نہ ہونے پر اپنے گھر کال ملادی اور گھر والوں کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے مدد کی اپیل کی۔

    خاتون کی کال کے بعد ان کے اہل خانہ نے گھوٹکی انتظامیہ کے ضلعی افسران سے فوری طور پر رابطہ کیا اور ان کو باہر نکالنے کے لیے امدادی کاروائیاں شروع کردیں۔

    ڈی آئی جی سکھر فدا حسین مستوئی نے بتایا کہ ریسکیو ٹیموں نے بوگی نمبر 6 میں موجود خاتون کو نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ ڈہرکی کے قریب حادثہ آج صبح پیش آیا جب ملت ایکسپریس کی بوگیاں ڈہرکی کے قریب پٹری سے اتر گئیں جبکہ سرسید ایکسپریس آکر ملت ایکسپریس سے ٹکرا گئی ، حادثے میں 40افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے کراچی، سکھر، فیصل آباد اور راولپنڈی میں ہیلپ سینٹر قائم کردیئے گئے ہیں سکھر, گھوٹکی, میرپور ماتھیلو کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے پاک فوج،رینجرز،ریسکیو،پولیس اور ضلعی انتظامیہ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں-

    ریتی کے قریب سرسید ایکسپریس اور ملت ایکسپریس میں تصادم کے باعث 30 افراد جاں بحق اور درجنوں مسافر زخمی

    خطرناک ٹرین حادثہ ، سکھر, گھوٹکی, میرپور ماتھیلو کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ

    وزیراعلیٰ سندھ کا کمشنر سکھرکومسافروں کی عارضی رہائشی اور میتوں کوآبائی علاقےمنتقل کرنےکےانتظام کی ہدایت

    وزیر ٹرانسپورٹ سندھ کا تحقیقاتی اداروں سے ٹرین حادثے کی تحقیقات کا مطالبہ

    ٹرین حادثے میں 2 ریلوے اور 2 پولیس اہلکار بھی جاں بحق

    وزیر اعظم عمران خا ن کا ٹرین حادثے کی تحقیقات کا حکم

    صدر مملکت سمیت دیگر حکومتی شخصیات کا ڈہرکی کے قریب ٹرین حادثے پر اظہار افسوس

    ٹرین حادثہ کیسے ہوا ،ٹرین ڈرائیور نے سب بتا دیا

  • پاک ریلوے کا جاں بحق مسافروں کے لواحقین کو 15 لاکھ روپے امداد کا اعلان

    پاک ریلوے کا جاں بحق مسافروں کے لواحقین کو 15 لاکھ روپے امداد کا اعلان

    پاکستان ریلوے کی جانب سے ٹرین حادثے کے جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے 15 لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان کیا گیا ہے ۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ترجمان پاک ریلوے کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والوں کو ان کی انجریز کے مطابق 50 ہزار سے تین لاکھ روپے ادا کئے جائیں گے انتظامیہ نے حادثے کے متاثرین کے ہنگامی بنیادوں پر کوائف جمع کرنا شروع کر دیے ہیں ۔

    ترجمان پاک ریلوے کے مطابق متاثرین میں جلد امدادی رقوم کی فراہمی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ حادثہ آج صبح پیش آیا جب ملت ایکسپریس کی بوگیاں ڈہرکی کے قریب پٹری سے اتر گئیں جبکہ سرسید ایکسپریس آکر ملت ایکسپریس سے ٹکرا گئی ، حادثے میں 40افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے کراچی، سکھر، فیصل آباد اور راولپنڈی میں ہیلپ سینٹر قائم کردیئے گئے ہیں سکھر, گھوٹکی, میرپور ماتھیلو کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے پاک فوج،رینجرز،ریسکیو،پولیس اور ضلعی انتظامیہ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں-

    ریتی کے قریب سرسید ایکسپریس اور ملت ایکسپریس میں تصادم کے باعث 30 افراد جاں بحق اور درجنوں مسافر زخمی

    خطرناک ٹرین حادثہ ، سکھر, گھوٹکی, میرپور ماتھیلو کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ

    وزیراعلیٰ سندھ کا کمشنر سکھرکومسافروں کی عارضی رہائشی اور میتوں کوآبائی علاقےمنتقل کرنےکےانتظام کی ہدایت

    وزیر ٹرانسپورٹ سندھ کا تحقیقاتی اداروں سے ٹرین حادثے کی تحقیقات کا مطالبہ

    ٹرین حادثے میں 2 ریلوے اور 2 پولیس اہلکار بھی جاں بحق

    وزیر اعظم عمران خا ن کا ٹرین حادثے کی تحقیقات کا حکم

    صدر مملکت سمیت دیگر حکومتی شخصیات کا ڈہرکی کے قریب ٹرین حادثے پر اظہار افسوس

    ٹرین حادثہ کیسے ہوا ،ٹرین ڈرائیور نے سب بتا دیا

  • ماحول دوست سبزی گوار کی پھلی کے حیرت انگیز فوائد

    ماحول دوست سبزی گوار کی پھلی کے حیرت انگیز فوائد

    گوارصدیوں پُرانی ایک پھلی دار فصل ہے اور یہ پاکستان اور انڈیا میں کثرت سے پائی جاتی ہے دنیا میں پیدا ہونے والے گوار کا قریباً 95فیصد حصہ برصغیر پاک و ہند میں پیدا ہوتا ہے۔

    گوار ان علاقوں میں کاشت ہوتی ہے جہاں کا موسم گرم ہو مطلب اس کو گرم آب وہوا کی سخت ضرورت ہوتی ہےاور یہ گرم علاقوں میں ہی کاشت کیجاتی ہے۔

    اس میں لحمیاتی مادہ (پروٹین) قریباً 35 فیصد تک پایا جاتا ہے۔ جو کہ جانوروں کے گوشت میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے گوار کو غیر پھلی دار چارہ جات مثلاً جوار، باجرہ اور مکئی وغیرہ کے ساتھ ملا کر بھی کاشت کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ اس کو سبزی اور دال کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے –

    ماہرین کا کہنا ہے کہ گوار کا پودا کافی سخت ہوتا ہے یعنی یہ اپنی جان کی ساخت کے حوالے سے کافی مضبوط ہوتا ہے،زرعی ماہرین کے مطابق اس فصل کو سبز کھاد کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے زمین کی زرخیزی بھی بڑھائی جا سکتی ہے۔

    دماغی صحت کو بہتر بنانے والی غذائیں

    گوار کی فصل ایک سیزن میں فضا سے 300 پائونڈ نائٹروجن کا زمین میں اضافہ کرتی ہے۔ گوار کی فصل ملک دوست، کسان دوست، زمین دوست اور ماحول دوست ہےاور اس فصل کی خاص بات یہ ہے کہ پانی کی کمی کو بھی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    اگر یہ جانوروں کو چارے کے طور پر دی جائے تو یہ جانوروں کے گوشت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فصل کو زیادہ تر توجہ کی ضرورت نہیں ہوتی گوار کی فصل زیادہ تر کم بارشوں والے علاقے میں کیجاتی ہے اور اسی وجہ سے یہ پاکستان،انڈیا میں کثرت سے کاشت کیجاتی ہے۔

    پاکستان سمیت ایشائی ممالک خصوصاً بھارت، بنگلہ دیش میں گوار کی پھلی کو بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے فائبر سے بھرپور یہ سبزی صحت کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتی ہے طب میں گوار کا استعمال صدیوں سے ہورہا ہے خاص طور پر دل کی بیماریوں ، شوگر اور رات کے اندھے پن کیلئے انتہائی مفید ہے۔

    غذائی ماہرین کے مطابق پھلیاں انسانی صحت کے لیے ناگزیر ہیں، پھلیاں اور ہرے رنگ کی تمام سبزیاں انسانی صحت اور معدے سے جڑی تمام شکایتوں کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

    گوار کی پھلی کا بطور سبزی یا اس کا چاولوں میں استعمال کرنا انسانوں کے لیے صحت مند غذا ثابت ہوتا ہے گوار پھلی کی سبزی انسانی خطرناک بیماریوں مثلاً شریانوں کے تنگ ہو جانے، دل کی متعدد شکایتوں اور شوگر کے مریضوں کے لیے بہترین غذا قرار دی جاتی ہے۔

    گوار پھلی کا استعمال متعدد طریقوں سے کیا جاتا ہے اسے عام روایتی طریقوں سے سبزی بنا کر یا گوشت کے ساتھ پکا کر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے گوار کی پھلی کے استعمال سے قبل اسے ابال کر پانی نکال لیا جاتا ہے تاکہ اس پھلی کی سختی اور تیکھے ذائقے میں کمی لائی جا سکے۔

    نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان کلونجی موت کے سوا ہر بیماری کا علاج ہے

    علاوہ ازیں اس کے بیج میں ایک خاص قسم کا گوند (گوارگم) پایا جاتا ہے۔ جو کہ پوری دنیا میں ٹیکسٹائل، بیکری، گن پائوڈر، پیپر، کاسمیٹکس، تمباکو، بارود، مرغیوں، مچھلیوں اور مویشیوں کی خوراک، ادویات، خوراک اور دیگر بہت سی صنعتوں میں وسیع پیمانے پر کھودے جانے والے کنوئوں میں بہت زیادہ مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے۔

    پنجاب میں گوار کی کاشت زیادہ تر میانوالی، سرگودھا، بھکر، جھنگ، لیہ، بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان کے اضلاع میں کی جاتی ہے۔ اس کی کاشت کیلئے گرم اور خشک آب و ہوا درکار ہوتی ہے۔

    اس کا پودا نہایت سخت جان ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے سخت گرمی اور پانی کی قلت کو کافی حد تک برداشت کرلیتا ہے اور پانی کی زیادتی تو بالکل برداشت نہیں کرتا۔ گوار کی کاشت کیلئے ریتلی میرا زمین جہاں پانی کا نکاس اچھا ہو موزوں ہوتی ہے۔ یہ کلراٹھی زمینوں کے علاوہ باقی تمام زمینوں میں کاشت کیا جاسکتا ہے۔

    اس کی کاشت عموماً ریتلے اور کم بارش والے علاقوں میں کی جاتی ہے لیکن آبپاش علاقوں میں اس کی کاشت کامیابی سے کی جاسکتی ہے۔ بہتر پیداوار کیلئے زمین کا ہموار ہونا نہایت ضروری ہے تاکہ نشیبی جگہوں پر پانی کھڑا نہ ہوسکے اور اگائو بھی بہتر ہو۔

    گرمی کی شدت کم کرنے کے لئے لسی کے مختلف مزیدار اور لذیذ فلیورز

  • احد رضا میر شادی سے پہلے کونسی اداکارہ کے عشق میں پاگل تھے

    احد رضا میر شادی سے پہلے کونسی اداکارہ کے عشق میں پاگل تھے

    معروف اداکار احد رضا میر کا کہنا ہے کہ ایک وقت تھا جب وہ مایا علی کے عشق میں پاگل تھے-

    باغی ٹی وی : معروف اداکار احد رضا میر کا ایک پرانا انٹرویو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے جس میں اداکار کے انکشاف نے مداحون کو حیران کردیا ہے-

    مذکورہ انٹرویو احد رضا میر نے سجل علی سے شادی سے پہلے دیا تھا جس میں جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کو کونسی اداکارہ پسند ہیں، احد رضا میر نے پہلے نام لینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا تھا-

    تاہم بعد میں کہا کہ میں مایا علی کے عشق میں پاگل تھا تاہم جب ان سے ملاقات ہوئی تو مایا سے مل کر بے حد متاثر ہوا۔

    واضح رہے کہ احد رضامیر اور مایا علی مشہور ڈرنک کے اشتہار میں ساتھ نظر آئے تھے جب کہ 2020 میں احد رضامیر اور ادکارہ سجل علی رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے دونوں کی جوڑی مداحوں میں خوب مقبول اور چہیتی جوڑی ہے-

  • شعیب اختر سمیت  شوبز شخصیات ہانیہ عامر کے حق میں بول پڑیں

    شعیب اختر سمیت شوبز شخصیات ہانیہ عامر کے حق میں بول پڑیں

    پاکستان کے سا بق فاسٹ باؤلر شعیب اختر سمیت شوبز شخصیات بھی ہانیہ عامر کا ساتھ دینے میدان میں آگئیں-

    باغی ٹی وی : حال ہی میں اداکارہ ہانیہ عامر کی عاشر وجاہت کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہو ئی تھی جس جہاں صارفین نے غم و غصے کا اظہار کیا وہیں گلوکار عاصم اظہر نے بھی ٹوئٹراکاؤنٹ پر ایک مزاحیہ میم شیئر کی تھی ویڈیو میں انوپم کھیر بھاگتے ہوئے کہتے ہیں کہ بال بال بچ گیا۔

    عاصم اظہر نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں ’الحمداللّہ‘ لکھا تھا اور ساتھ ہی قہقہوں والا ایموجی بھی بنایا تھا۔

    گلوکار کی اس ٹوئٹ پر رد عمل دیتے ہوئے ہانیہ عامر نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’آپ یا تو سیلیبرٹی ہوسکتے ہیں یا تلخ ماضی۔

    عاصم اظہر ی جانب سے جاری پیغام پرجہاں شوبز شخصیات نت گلوکار پر تنقید وہیں شعیب اختر کے سوشل میڈیا ہر مبہم پیغام نے مداحوں کو کشمکش نیں ڈال دیا کہ کیا وہ بھی مبہم الفاظ میں ہانیہ عامر کا ساتھ دینے میدان میں آگئے ہیں۔


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے پیغام میں شعیب اختر نے لکھا کہ ’اس دُنیا میں کافی اہم چیزیں بھی ہو رہی ہیں بھائیوں، بہنوں، بچوں اور انفلوئنسروں، آپ سب ان پر بھی بات کر لیں۔

    مداحوں کی جانب سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ پیغام انہوں نے ہانیہ عامر کا ساتھ دینے کے لئے جاری کیا ہے-


    دوسری جانب فواد مصطفی نے بھی عاصم اظہر کی ٹوئٹ پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انڈسٹری میں اداکاراؤں کو کس اندازمیں لیا جارہا ہے، اگر آپ کسی کو پسند نہیں کرتے تو اس اسٹار کو فالو کرنا بھی چھوڑدیں ، ان پر تنقید نہ کیجیئے اورنہ ہی انہیں پرکھیں۔


    گلوکار و اداکارعلی ظفر بھی ہانیہ عامرکی حمایت میں آگے آئے اور ہانیہ حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اُنہیں مضبوط رہنے کا مشورہ دیا-
    https://twitter.com/shahveerjaay/status/1401588313916686341?s=20
    معروف یوٹیوبرشاہ ویر جعفری نے بھی کہا کہ جب آپ کسی لڑکی کو دیکھیں تو نظریں نیچی کرلیں۔

    ان سب کے ٹوئٹس کے بعد بعد عاصم اظہرنے بھی ٹوئٹرپرکہا کہ یہ سارے لوگ اس وقت کہاں تھے جب مجھ پرڈیڑھ سال تک مسلسل طنزکیا جارہا تھا اورہرجگہ میری باتیں کی جارہی تھی، میں بالکل خاموش رہا۔
    https://twitter.com/AsimAzharr/status/1401556144225546243?s=20
    گلوکار نے کہا کہ آج کے بعد سے یہ ٹاپک ہمیشہ کے لئے بند ہے ویسے بند تو پہلے سے ہی تھا کبھی بھی کچھ نہیں کہا لیکن کچھ لوگوں کو بتانا ضرری ہے کہ سننے کی بھی حد ہوتی ہے، اگر آپ انسان ہیں تو میں بھی ہوں-

    وائرل ویڈیو پر تنقید سے ہانیہ عامر دلبرداشتہ

    الحمداللّہ، بال بال بچ گیا، ہانیہ کی وائرل ویڈٰیو کے بعد عاصم اظہر کا رد عمل

    ہانیہ عامر کے ساتھ وائرل ویڈیو پر عاشر وجاہت کا وضاحتی بیان

    عاصم اظہر کی طنزیہ میم پرہانیہ عامر کا سخت ردعمل

    ہانیہ عامر اور عاشر وجاہت کی وائرل ویڈیو کا معاملہ: ہانیہ نے معافی مانگ لی

  • علیزے شاہ کے ساتھ کام کرکے پچھتانا پڑا    یاسر نواز

    علیزے شاہ کے ساتھ کام کرکے پچھتانا پڑا یاسر نواز

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار و ہدایتکار یاسر نواز نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اداکارہ علیزے شاہ کے ساتھ کام کرکے پریشان ہوگئے تھے۔

    باغی ٹی وی : حال ہی میں ندا یاسر اور اُن کے شوہر یاسر نواز نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں شرکت کی جس کا ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے-

    ویڈیو میں میزبان نے ندا سے سوال کیا کہ یاسر کو کس اداکارہ کے ساتھ کام کرنے میں مشکل ہوئی؟-

    میزبان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ندا نے کہا کہ بطور اداکار یاسر کو علیزے شاہ کے ساتھ کام کرنے میں بہت مشکل ہوئی تھی کیونکہ اُن کے ساتھ یاسر کی کیمسٹری نہیں بن پارہی تھی جبکہ بطور ہدایت کار یاسر کو کبھی کسی اداکار کے ساتھ کام کرنے میں مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

    دوسری جانب یاسر نواز نے کہا کہ میں واقعی علیزے شاہ کے ساتھ کام کرکے پریشان ہوگیا تھا اور میں پچھتانے لگا تھا کہ آخر میں نے اس اداکارہ کے ساتھ کام کیوں کیا۔

    یاسر نواز نے کہا کہ جب ہم کسی فلم یا ڈرامے کے لیے کوئی کردار نبھا رہے ہوتے ہیں تو ہمیں اپنی نجی زندگی کو پیچھے چھوڑ دینا چاہیے اور میں اسی وجہ سے علیزے شاہ کے ساتھ کام کرنے پر خاصا پریشان تھا۔

    یاسر نواز نے مزید کہا کہ مجھے ڈرامے کی اقساط بڑھانے کا مشورہ دیا گیا تھا لیکن میں نے ہاتھ جوڑ کر کہا اگر اقساط کم کرنی ہیں تو بتاؤ، اس میں اضافہ نہیں ہوگا۔‘

    واضح رہے کہ علیزے شاہ نے ڈرامہ سیریل ’میرا دل میرا دشمن‘ میں اداکار یاسر نواز کے ساتھ کام کیا تھا –

  • جہاد کی کتنی اقسام ہیں؟اسلام میں جہاد کے بارے کیا حکم ہے؟   تحریر :ملک عمان سرفراز

    جہاد کی کتنی اقسام ہیں؟اسلام میں جہاد کے بارے کیا حکم ہے؟ تحریر :ملک عمان سرفراز

    لفظ جہاد عربی زبان کے لفظ جہد سے نکلا ہے جس کے معنی کوشش اور مشق کے ہیں _
    یوں تو جہاد کی کی بہت سی اقسام ہیں ہیں جہاد بالسیف، جہاد بالمال ،جہاد باالسان جہاد بالقلم وغیرہ
    جہاد بالقلم سے مراد قلم کے ذریعے حق اور سچ کی اشاعت کرنا ہے
    حق و حقیقت اور سچائی تک پہنچنے کے لئے کتابوقلم بہترین ذریعہ ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علم کو قید کر لیا کرو
    عرض ہواقید سے کیا مراد ہے؟؟
    فرمایا:
    یعنی علم کو لکھو۔
    جہاد بالقلم کی فضیلت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے بڑے بادشاہوں کو قلم کے ذریعے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی
    قلم کی اہمیت کا اندازہ اسی بات سے ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کی ایک سورہ کا نام قلم رکھا اور اس کی قسم کھا کر اسے معتبر بنا دیا
    ن والقلم وما یسطرون

    مدینہ منورہ کے بعد پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جو اسلام کی بنیاد پر آزاد ہوا پاکستان کو وجود میں آئے تقریبا 74 برس گزر چکے ہیں مگر پاکستان اسلام دشمن ممالک کی نظر میں کھٹکتا ہے
    زبان و مال کے علاوہ جہاد قلم سے بھی کیا جاتا ہے وہ لوگ جن کو اللہ تعالی نے اس صلاحیت سے نوازا ہے قلم کے ذریعے اس جہاد میں بھر پور حصہ لے رہے ہیں

    16 دسمبر سانحہ پشاور پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ بات واضح ہے کہ بندوق اٹھائے دشمن کا مقابلہ کتاب و قلم اٹھانے والے معصوم بچوں سے تھا ۔ کیا دشمن کتابوں والے ہاتھوں سے اتنا خوف زدہ تھا؟؟

    جہاں کچھ لوگ حق و سچ کے لیے اپنا قلم استعمال کر رہے ہیں وہی کچھ لوگ جو اپنے قلم کو بیچ رہے ہیں وہ لوگ اس بات کو بھول رہے ہیں کہ جب ضمیر بکتا ہے تو ایک گھر برباد ہوتا ہے ہے مگر جب ایک قلم بکتا ہے تو پورا معاشرہ برباد ہوتا ہے

    یہ وہ لوگ ہیں جو جو اسلام کی تعلیمات کو بھول چکے ہیں ہیں ان کے قلم سے
    سچ کی بجائے پیسے کے بول آنا شروع ہوگئے ہیں
    ملت کی بجائے غفلت کے الفاظ آنا شروع ہو گئے ہیں
    ان کے ہاتھوں میں قلم تو ہے مگر الفاظ غیروں کے ہیں یہ لوگ تو دشمن سے بھی بدتر ہیں کیونکہ دشمن تو سامنے سے وار کرتا ہے کہ لوگ اپنی صفوں میں میں رہ کر اپنی ہی ملت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    قلم کی روشنائی کر رہے ہیں صرفِ آرائش
    صحافت کی دکانوں میں سیاست بیچنے والے

    تحریر :ملک عمان سرفراز

  • ہانیہ عامر اور عاشر وجاہت کی وائرل ویڈیو کا معاملہ: ہانیہ نے معافی مانگ لی

    ہانیہ عامر اور عاشر وجاہت کی وائرل ویڈیو کا معاملہ: ہانیہ نے معافی مانگ لی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ ہانیہ عامر نے کہا ہے کہ اگر ان کی وجہ سے جانے انجانے میں اگر کسی کا دل دُکھا ہو تو وہ معذارت خواہ ہیں۔

    باغی ٹی وی :حال ہی میں ہانیہ عامر کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا تھا جس پر عاصم اظہر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک مزاحیہ میم شیئر کی تھی ویڈیو میں انوپم کھیر بھاگتے ہوئے کہتے ہیں کہ بال بال بچ گیا۔

    عاصم اظہر نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں ’الحمداللّہ‘ لکھا تھا اور ساتھ ہی قہقہوں والا ایموجی بھی بنایا تھا۔

    گلوکار کی اس ٹوئٹ پر رد عمل دیتے ہوئے ہانیہ عامر نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’آپ یا تو سیلیبرٹی ہوسکتے ہیں یا تلخ ماضی۔‘

    جس پر ایک بار پھر سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو گئی جس میں شوبز شخصیات بھی منقسم نظر آئیں-

    تاہم ہانیہ عامر نے اپنی حالیہ پوسٹ میں ان کی ’نامناسب‘ ویڈیو وائرل کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے چند حقائق سب کے سامنے رکھے، اور ساتھ ہی خود بھی کسی کی بھی دل آزاری ہونے پر معافی مانگ لی۔

    انہوں نے لکھا کہ یہ میں آخری مرتبہ سب کے سامنے حقائق رکھ رہی ہوں، یہ کسی سے لفظی جنگ کی بحث نہیں، نہ ہی اصل بحث یہ ہے کہ کسی سابقہ بوائے فرینڈ سے بحث کو طُول دی جائے۔

    اداکارہ نے لکھا کہ میری تمام تر شکایت انٹرنیٹ پر ہراساں کیے جانے کی ہے، کسی بھی عورت کو یوں ہراساں کرنا کسی معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ہے-

    انہوں نے لکھا کہ یہ بطور انسان ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کیلئے راہیں ہموار کرتے ہیں ، اس میں کچھ ایسا نہ جائے جس پر بعد میں انہیں شرمندگی ہو میں اپنی غلطی تسلیم کرنے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گی اور روزانہ بہتر سے بہتر انسان بننے کی کوشش کروں گی۔

    انہوں نے لکھا کہ معافی مانگنے کا مطلب کسی کو نیچا دکھانا نہیں ہوتا اسی وجہ سے مجھے ایسا لگتا ہے کہ مجھے بھی معافی مانگنی چاہیے اگر میں نے کسی کا بھی جانے انجانے میں دل دکھایا ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔

    انہوں نے ڈھکے چھپے الفاظ میں عاصم اظہر کو پیغام دیا کہ براہِ کرم آپ بھی واضح پیغامات شیئر کریں، آپ کے ریمارکس کسی کی شخصیت کو بری طرح متاثر کرسکتے ہیں۔

    آخر میں ہانیہ عامر نے تمام چاہنے والوں کی سپورٹ کا شکریہ ادا کیا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ہانیہ عامر نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ ایک اور دن ایسی دُنیا میں زندہ ہوں جہاں دوہرے معیار کی بے گناہی پر طاقت ہے اور جہاں اختلاف رائے کے ساتھ رہنا کوئی بات نہیں ہے۔

    اُنہوں نے لکھا تھا کہ جہاں اگر مرد عورت سے بدتمیزی کرنے کی کوشش کرے تو اس کی تعریف کی جاتی ہے لیکن اگر کوئی عورت ایسا کرتی ہے تو اس سے نفرت کی جاتی ہے۔

    ہانیہ عامر نے یہ بھی لکھا تھا کہ ’جہاں ایک عورت اپنے پیاروں سے پیار کرتی ہے تو وہ غلط ہے لیکن اگر مرد کسی عورت کی تصویر پر کچھ غلط کرے تو اُسے وائرل مواد بنا دیا جاتا ہے۔

    وائرل ویڈیو پر تنقید سے ہانیہ عامر دلبرداشتہ

    الحمداللّہ، بال بال بچ گیا، ہانیہ کی وائرل ویڈٰیو کے بعد عاصم اظہر کا رد عمل

    ہانیہ عامر کے ساتھ وائرل ویڈیو پر عاشر وجاہت کا وضاحتی بیان

    عاصم اظہر کی طنزیہ میم پرہانیہ عامر کا سخت ردعمل

  • خدمت خلق اور ہمارا کردار     تحریر: ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    خدمت خلق اور ہمارا کردار تحریر: ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    خدمت خلق اور ہمارا کردار

    خدمت خلق ایک جامع لفظ ہے ،یہ لفظ ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے،خدمت خلق کے معنی مخلوق کے کام آنا ہے ،لیکن اسلام میں اس سے مراد اللہ تعالٰی کی رضا و خوش نودی کے لیے بلا کسی اُجرت اور صلے کے خلق خدا کے کام آنا اور امانت پر کمر بستہ رہنا ہے-

    دنیا کے ہر مذہب نے انسانیت کی بلا امتیاز خدمت کی تلقین کی ہے۔ ضروت مند کی حاجت روائی ہر مذہب کی بنیادی تعلیم ہے۔لیکن خدمت انسانیت یہ اسلام کا طرئہ امتیاز اور مسلمانوں کا بنیادی وصف ہے۔ یہی ہماری شان اور ہمارا شعار ہے اور یہ امت خدمت انسانیت کے لیے ہی برپا کی گئی ہےاور اسلام کی حقوق العباد کی تعلیمات معاشرتی ذمےداریوں اور انسانی فلاح وبہبود کی مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہیں-

    یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں

    کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
    یہ پہلا سبق تھا کتابِ ہدیٰ کا
    کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا

    وہی دوست ہے خالقِ دوسرا کا
    خلائق سے ہے جس کو رشتہ ولا کا

    کہا جاتا ہے کہ انسان ایک معاشرتی حیوان ہے وہ معاشرے میں رہنے پر مجبور ہے اسے قدم قدم پر دوسروں کے سہارے کی ضرورت پڑتی ہے،مال و دولت کی وسعتوں کے باوجود انسان ایک دوسرے کا محتاج ہے اور ایک دوسرے کے احتیاج کو دور کرنے کے لئے آپسی تعاون، ہمدردی، خیر خواہی اور محبت کا جذبہ سماجی ضرورت کا جزء لا ینفک ہے اورانسان وہی ہے جو دوسروں کا خیر خواہ اور ہمددر ہو-

    جس معاشرہ میں کمزوروں کو سہارا دینے، گرتے کو تھامنے اور زندگی کی تلخ گھڑیوں میں افراد معاشرہ کے حوصلے بڑھانے کا رواج اور چلن ہو۔ وہ سماج کے کمزور طبقات کی خدمت و تعاون کو مختلف اندازاور حکیمانہ اسلوب میں پیش کرتا ہے-

    اورایک دوسرے کے کام آنا ایک اچھے معاشرے کی تشکیل کا آغاز ہے۔ اور بلاتفریق ایک دوسرے کی مدد کرنا تمام معاشروں کا خاصہ ہے-

    ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
    آتے ہیں جو کام دوسروں کے

    اسلام صرف چند عبادات کے مجموعہ کانام نہیں بلکہ زندگی گزارنے کے ہر پہلو کے بارے میں واضع ہدایات دیتا ہے ۔ ہم نے اسلام کی تعلیمات کو چھوڑ دیا ۔ خاص کر حقوق العباد کو تو ہم عبادت ہی خیال نہیں کرتے ۔اسی وجہ سے ہم میں اتحاد و اتفاق نہیں رہا .یکجہتی اور بھائی چارہ نہیں رہا،اخوت ،محبت، رواداری،اور ایک دوسرے کا احساس نہیں رہا۔ہم اتنے خود غرض ہو چکے ہیں کہ ہمیں اپنی ذات کے سوا کچھ نظر نہیں آ رہا ۔ یہ جو دنیا میں انسانیت سسک رہی ہے-

    آج ضرورت ہے کہ ہم انسانیت کی فکر کریں، ہماری پہچان انسانیت کے بہی خواہ و خیر نواہ کی حیثیت سے ہو، ہمارے اندر خدمات انسانیت کی ایسی ترپ موجود ہو کہ سماج کا وہ فرد ہمیں اپنا مونس و غمخوار سمجھے، اگرہم نے انسانیت کی فکر چھوڑ دی تو ہم خیر امت کہلانے کے مستحق ہر گز نہیں ہوسکتے-

    خود رسالت مآب ﷺ کی پوری زندگی خدمت خلق کا اعلیٰ نمونہ تھی، نبوت سے قبل آپ ﷺ سماج اور معاشرہ میں خدمت خلق ، محتاجوں ومسکینوں کی دادرسی، یتیموں سے ہمدردی، پریشاں حالوں کی مدد اور دیگر بہت سارے رفاہی کاموں کے حوالے سے معروف تھے، اور نبوت سے سرفرز کئے جانے کے بعد تو پوری انسانیت اور تمام نوع انسانی جسطرح آپ کے احسانات کے زیر بار ہے اس کو شمار ہی نہیں کیا جاسکتا اور رسول اقدس ﷺ نے اپنی ساری زندگی انسانیت کے لیے وقف کی تھی، آپ کی بعثت مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ انسانوں کے لیے ہوئی تھی، یہی وجہ ہے کہ آپ کی زندگی بے لوث محبتِ انسانیت، رحم و کرم، عفو و درگزر اور انسانوں کے دنیاوی واخروی نجات کے لیے انتھک جدوجہد اور مساعی پر مشتمل تھی۔اس بنیاد پر ہر مسلمان اور خاص طور پر وارثینِ نبوت کا یہ فرض ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ پر چلتے ہوئے اپنی زندگی کا نصب العین انسان اور انسانیت کی خدمت کو بنائیں-

    قارئين کرام! خدمتِ مخلوقِ خدا کی ذریعہ دوسروں کو نفع پہنچانا اسلام کی روح اور ایمان کا تقاضا ہے۔ایک بہترین مسلمان کی یہ خوبی ہے کہ وہ ایسے کام کریں جو دوسرے انسانوں کیلئے مفید اور نفع بخش ہوں۔ اس نیکی کے ذریعے صرف لوگوں میں عزت واحترام ہی نہیں پاتابلکہ اللہ تبارک تعالیٰ کے ہاں بھی اہم رتبہ حاصل کرلیتا ہے۔ پس شفقت و محبت، رحم و کرم، خوش اخلاقی، غم خواری و غم گساری خیرو بھلائی، ہمدردی، عفو و درگزر، حسن سلوک، امداد و اعانت اور خدمت خلق ایک بہترین انسان کی وہ عظیم صفات ہیں کہ جن کی بدولت وہ دین و دنیا اور آخرت میں کامیاب اور سرخرو ہو سکتا ہے۔

    اس لیے ہمیں اللہ نے جن نعمتوں سے نوازا ہے، ہمیں چاہیے ہم ان نعمتوں میں سے اللہ کی مخلوق کےلئے کچھ حصہ ضرور نکالیں، ڈاکٹر غریب مریضوں کا مفت یا کم فیس میں علاج کریں، استاد غریب بچوں کو مفت یا کم فیس میں تعلیم دیں،اگر آپ کا تعلق پولیس،عدالت یا سیاست سے ہے ، تو آپ اپنا کام ایمان داری سے کر کے خدمت خلق کے لئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ، آپ کا تعلق کسی بھی شعبےسے ہو ،اپنے کام کی نوعیت اور استطاعت کے مطابق خدمت خلق میں خود کو مصروف رکھیں۔

    اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب اور
    پسندیدہ وہ آدمی ہے جو اس کے کنبے (مخلوق) کے ساتھ نیکی کرے۔

    لہذا ہمیں چاہیے اس فرقہ پرستی اوراخلاقی بحران کے اس دور میں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ سماج کے بااثر افراد ، تنظیمیں اور ادارے خدمت خلق کے میدان میں آگے آئیں اور مضبوطی کے ساتھ اپنے قدم جمائیں ،دنیا کو اپنے عمل سے اسلام سکھائیں، لوگ اسلام کو کتابوں کے بجائے ہمارے اخلاق و کردار سے ہی سمجھناچاہتے ہیں، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے کچھ ادارے بہتر کام کررہے ہیں ، لیکن مزید بہتری لانے کی شدید ضرورت ہے، اپنے نجی اسکولوں اور مدارس کے نصابوں میں اخلاقیات کو بنیادی اہمیت دینے کے ساتھ ساتھ عملی مشق کرائیں، تاکہ نئی نسلوں میں بھی خدمت خلق کا جذبہ پروان چڑھے۔ہمیں یادرکھناچاہیے کہ خدمت خلق صرف دلوں کے فتح کرنے کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ اسلام کی ترویج واشاعت کا موثر ہتھیار بھی ہے-

    اللہ تعالی ہمیں اپنے مخلوق کی خدمت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔آمین۔