Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • حکومت مہنگائی کا الزام آئی ایم ایف پر لگا کر اپنی نااہلی پر پردہ نہیں ڈال سکتی   بلاول بھٹو

    حکومت مہنگائی کا الزام آئی ایم ایف پر لگا کر اپنی نااہلی پر پردہ نہیں ڈال سکتی بلاول بھٹو

    پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت مہنگائی کا الزام آئی ایم ایف پر لگاکر اپنی نااہلی پر پردہ نہیں ڈال سکتی-

    باغی ٹی وی : بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت نے سخت شرائط پر آئی ایم ایف سے معاہدہ کرکے قوم کی خوداری کو داؤ پر لگادیا –

    چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ مافیا نے صرف 3 ماہ میں مرغی کے گوشت کی قیمتیں 110 فیصد تک بڑھائیں-

    انہوں نے کہا کہ مرغی کے گوشت کی قیمتیں بڑھا کر پی ٹی آئی اشرافیہ نے اربوں روپے کمالیے، اب افسوسناک طور پر قیمتیں کم کر کے اس کا کریڈٹ بھی وہ خود لے گا-

    چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ اب افسوسناک طور پر قیمتیں کم کر کے اس کا کریڈٹ بھی لے گا ،عمران خان پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کو اربوں روپوں سے نوازنے کا منصوبہ بنارہے ہیں-

  • پاکستان میں کورونا سے مزید 76 اموات

    پاکستان میں کورونا سے مزید 76 اموات

    پاکستان میں کورونا کی لہر میں شدت،24 گھنٹوں میں 76 اموات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر جاری ہے، کورونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور ملک بھر میں کورونا سے اموات کا سلسلہ جاری ہے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا سے مزید 76 اموات ہوئی ہیں-


    این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز کورونا کے 52 ہزار427 ٹیسٹ کئے گئے1 ہزار629 نئے کیس سامنے آ گئے۔ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریبا 3.10 فی صد رہی۔

    پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 21 ہزار 265 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 9 لاکھ32 ہزار 140 ہو چکی ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا کی ویکسینیشن جاری ہے اور اب 18 سال سے زائد لوگوں کو ویکسین لگا ئی جا رہی ہے-

  • میری افواج میرا فخر    ازقلم: محمد عبداللہ گِل

    میری افواج میرا فخر ازقلم: محمد عبداللہ گِل

    میری افواج میرا فخر
    ازقلم:-
    محمد عبداللہ گِل
    پاکستان اسلامی ممالک کی فہرست میں ایک خاص اہمیت رکھتا ھے بلکہ آپ اگر یہ کہ لے کی اسلامی ممالک کے دفاع کے لیے کوشاں ہے اور ہر اس ملک کا ساتھی ہے جو مظلوم ہو اور مسلمان ہو۔البتہ چند مشکلات کی بنا پر اس طرح مدد نہیں کر سکتے جس طرح حق ہے لیکن باقی ممالک سے بہتر طور پر نظریہ اسلام اور نظریہ جہاد کا داعی ہے۔پاکستان کا مسلم امہ کے حوالے سے مضبوط موقف صرف و صرف ہماری بہترین فوج اور اول درجہ کی دفاعی ایجنسی آئی ایس آئی کی بدولت  ہیں۔

    اب اگر آپ تاریخ کو اٹھا کر دیکھ لے تو ایک زمانہ تھا جب اسلامی ممالک میں طاقتور افواج مصر،شام،لیبیا،عراق،پاکستان اور ترکی تھی۔لیکن ہمارے دشمن نے حربہ إستعمال کرتے ہوئے مصر،شام، لیبیا اور عراق کی افواج کی افادیت کو ختم کروا دیا۔اس کی وجہ ایک ہی تھی جو کہ پروپیگنڈہ ہے۔اس کے بعد اب آج کی تاریخ میں اسلامی ممالک میں دو ہی فوجیں ہیں ایک ترکی کی اور دوسری پاکستان کی۔دشمن کی یہ چال ہے کہ کسی نہ کسی طرح افواج پاکستان اور عوام پاکستان کو ایک دوسرے کے مخالف کیا جائے کیونکہ ہمارے بزدل دشمن مغرب اور اسرائیل کو پتہ ہے کہ جب بھی جنگ ہوئی تو عوام پاکستان نے بغیر کوئی تاخیر کیے اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جانا ہے جو کہ ملکوں کی فتح کا راز ہے۔

    ہر ملک کو جنگ میں فتح ایک ہی صورت میں ہوتی جب عوام اس کے سپہ کے ساتھ ہوتی ہے۔قارئین کرام! ہمارے بنیادی دشمن امریکہ،اسرائیل،انڈیا ہے۔امریکہ اور اسرائیل کا بھی نور نظر بھارت ہے۔بھارت کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل ہماری بنیادوں کو کمزور کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔بھارت ہماری بنیادوں کو کمزور کیسے کر رہا تو اس کا جواب ایک ہی ہے وہ ہمارے ملک میں لوگوں کو پیسہ دے کر اپنے خبری اور کٹھ پتلی بنا رہا ہے۔بھارت نے اب جو حربہ إستعمال کیا وہ یہ ہے کہ حامد میر صاحب جیسے اینکرز کو پیسہ دئیے تاکہ افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرے اور عوام اور افواج کے درمیان ایک خلیج کو قائم کر دے۔

    اب آپ کے ذہن میں آ رہا ہو گا کہ میرے پاس ثبوت کیا ہے تو جناب ثبوت تو بہت سارے ہیں لیکن بنیادی ثبوت یہ ہے کہ جب حامد میر کو جیو نیوز نے اپنے مفاد کے لئے نکالا کہ کہی ایسا نہ ہو کہ جیسے 2014 میں عوام نے افواج کے مخالف بیان دینے پر جیو کی گاڑیاں اخبارات کو جلا دیا تھا اب بھی نہ جلا دے تو انڈین میڈیا 24 گھنٹے حامد میر کا دفاع کر رہے۔اب آپ کہے گے کہ وہ صحافت کو بچا رہے تو پھر میرا سوال یہ ہے کہ کیا خاتون شفا یوسفزئی صحافی نہیں جسے ایک یوٹیوبر نے گالیاں دی اور الزامات لگائے اس کے لیے تو یہ بھارتی چینلز نہیں سامنے آئے۔میرے پاکستانیوں اپنے درمیان موجود غداروں کو پہچانو۔

    دوسرا ثبوت وہ یہ ہے کہ جب مخدوم شہاب الدین نامی نامور یوٹیوبر اور صحافی نے حامد میر کے فیس بک پیج کو اپنے چینل کے ذریعے دکھایا کہ ان کا اکاؤنٹ بھی انڈیا سے مینج ہوتا ہے تو حامد میر صاحب کی طرف سے اس پیج خو ڈیلیٹ کر دیا گیا۔لیکن اس کی سکرین ریکارڈنگ موجود جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حامد میر کو بھارت سے فنڈنگ ہوتی ھے۔

    یہ تو میرے ملک کے خلاف دشمن کی چال ہے لیکن رب تعالی نے اس ثمر کا اعلان فرما دیا ھے کہ:-
    "وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ”
    "اورانہوں نے خفیہ تدبیرکی اوراللہ تعالیٰ نے بھی خفیہ تدبیرکی اوراللہ تعالیٰ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں میں سے بہترہے۔”

    بے شک یہ دشمن ممالک میرے ملک پاکستان میں بھلے کلبھوشن کے ذریعے بدامنی پیدا کرے تو اللہ تدبیر فرما کر میرے ملک کو بچا لیتا۔کبھی یہ اپنے اعلی سطحی اجلاسوں میں 24 مقامات پر حملے کی بات سوچتے ہیں تو اللہ تعالی میری ایجنسی کو خبر کر دیتا ہے اور ملک محفوظ رہتا ہے۔
    بے شک اللہ خفیہ تدبیریں فرمانے والا ہے۔

    میں ادھر اس نوجوان صحافی مخدوم شہاب الدین کو بھی مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ جس کی بدولت آج پاکستانی عوام اس کالی بھیڑ کو پہچان سکے جس نے صحافت کو بھی بدنام کیا ہوا ہے اور ملک کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے تھے۔

    میری آپ سب سے بھی ایک درخواست ہے کہ اپنے ملک کے دفاعی اداروں کا ساتھ دے اس ملک کا وجود اگر ہے تو وہ ان اداروں کی بدولت ہے۔یہ دفاعی ادارے وہی ہے جنھوں نے پاکستان کا دفاعی میدان میں اعلی سے اعلی میزائل سے لے کر ایٹمی قوت تک بنایا۔وہی ایٹمی طاقت جب پاکستان بنا تو فلسطینی ہاتھ میں پتھر پکڑ کر اسرائیلی یہودی کو للکار رہا تھا اور کہ رہا

    "میرے ہاتھ میں اس پتھر کو نہ دیکھو پاکستان میں موجود ایٹم بم کو دیکھو”

    اسی پاکستانی فوج کے خلاف یہ حامد میر جیسے دو ٹکے کے صحافی پروپیگنڈہ کرتے ہیں جس کے خلاف ہم سب نوجوانوں کو کھڑا ہونا ھے اور اپنے اداروں کا ساتھ دینا ھے۔

  • عالمی یوم ِماحولیات:’ ایکوسسٹم کی بحالی کا عالمی مقصد   تحریر: علی باسط

    عالمی یوم ِماحولیات:’ ایکوسسٹم کی بحالی کا عالمی مقصد تحریر: علی باسط

    عالمی یوم ِماحولیات:’ ایکوسسٹم کی بحالی کا عالمی مقصد
    علی باسط

    اقوام متحدہ کے زیراہتمام ہر سال 5 جون عالمی یوم ماحولیات کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ عالمی سطح پرماحول کے تحفظ کا فروغ ہو اور ریاستوں کو عملی اقدامات کی ترغیب دی جا سکے۔ 1974 سے اس دن کو ہر سال باقاعدگی سے منایا جارہا ہے اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے مطابق ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ترغیب میں ایک اہم مقام کا حامل ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کے تحت دنیا بھر سے تقریبا 150 ممالک، اہم کارپوریشنز، غیر سرکاری تنظیمیں اور سول سوسائٹیز اس دن کو منانے میں حصہ لیتی ہیں تاکہ ماحولیاتی مسائل کے خاتمے کے لیے کام کیا جاسکے۔ رواں سال’ایکو سسٹم کی بحالی’ عالمی یوم ماحولیات کا عنوان ہے جس کا مقصد تنزلی کے شکار ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لیے عالمی سطح پر کی جانے والی کوششوں کو ہم آہنگ کر نے کے لیے اقدامات کرنا ہے۔

    ماحولیاتی نظام کے انحطاطی عوامل سے پہلے اور یہ انسانی ماحول پر ان کے اثرات کو زیر بحث لانے سے پہلے، اس امر پر روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے کہ اصل میں ماحولیاتی نظام(ایکو سسٹم) کیا ہے۔ یہ اپنی قدرتی رہائش گاہ اور اپنے ماحول کے غیر جاندار اجزاء کے ساتھ جاندار اور غیر جاندار حیاتیات کی ایک کمیونٹی ہے۔ اس میں دو بڑے اجزاء شامل ہیں: جاندار اور غیرجاندار۔ غیر جاندار اشیاء میں ہوا، پانی، سورج کی روشنی، غذائی اجزاء اور درجہ حرارت شامل ہیں۔ جبکہ جاندار اجزاء نظام میں موجود تمام حیاتیات جیسے کہ پودے، جانور،کائی، مائکرو حیاتیات اور انسان شامل ہیں۔

    ماحولیاتی نظام کا انحطاط ایک ماحولیاتی مسئلہ ہے جو مختلف انواع کے زندہ رہنے کی صلاحیت کو کم کرتا ہے۔ گزشتہ 50 سالوں میں ماحولیات اور ماحولیاتی تنزلی کی شرح تاریخ کی بلند ترین سطح پر رہی ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب زمین کے قدرتی وسائل جیسا کہ پانی، ہوا اور مٹی، قدرتی عوامل (طوفان، سیلاب اور جنگل کی آگ)، جیو تنوع میں کمی، زراعت کے غلط طریقوں، زمین کا ناقص استعمال، اور انسانوں کی جانب سے پھیلائی جانے والی آلودگی کا شکار ہوجاتے ہیں جس سے ہمارے جنگلات کی زندگی، پودوں، جانوروں اور مائیکرو حیاتیات پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ مزید یہ کہ غیر مؤثر بین الاقوامی پالیسیاں ماحول کے مستقبل کو ایک نازک صورتحال میں چھوڑ دیتی ہیں جس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح قابو سے باہر ہوجاتی ہے۔ پیش گوئی کی گئی ہے کہ صدی کے آخر تک زمین کا درجہ حرارت میں 11 ° فار ن ہائیٹ تک بڑھ جائے گا۔

    اگر ہم ایکو سسٹم کو اسی طرح آلودہ کرتے رہے تو نہ صرف جانور بلکہ انسان بھی جلد ہی ناپید ہوجائیں گے اور زمین کبھی بھی قابل رہائش ماحولیاتی نظام نہیں بن سکے گی۔ انسانی سرگرمیوں سے سمندری اور دیگر آبی ماحول سے حاصل ہونے والے فوائد کونظر انداز کرتے ہوئے ان کو تباہ کیا گیا ہے اور انحطاط کے ذریعے دنیا کا بیشتر ماحولیاتی نظام کو تبدیل ہو گیا ہے۔ لہذا، حیاتیاتی کمیونٹی اور لوگوں کے معاشی فوائد کے لئے ماحولیاتی نظام کی بحالی لازمی ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو ماحولیاتی سالمیت کی بحالی (ماحولیاتی عمل اور ڈھانچے میں تغیر، پائیدار ثقافتی طریقوں اوربائیو ڈائیورسٹی)میں مدد کرتا ہے۔ ماحولیات کی بحالی کے لیے استعمال کیے جانے والے طریقوں میں بازیافت (انحطاط کے عمل کو کم سے کم کرنا)، بحالی (تباہ شدہ ماحولیاتی نظام کو دوبارہ بہتر شکل میں لانا)، افزائش(گھاس لگانا، جھاڑیوں اور زوال پذیرجگہوں پر جڑی بوٹیوں کو اُگانا)اور ماحولیاتی انجینئرنگ (ماحول دوست طریقے استعمال کرتے ہوئے ماحولیاتی نظام کی دوبارہ تعمیر)شامل ہیں۔

    بین الحکومتی سائنس پالیسی پلیٹ فارم برائے بایوڈائیورسٹی اینڈ ایکو سسٹم سروسز (IPBES) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق تقریباََ 10 لاکھ پودوں اور جانوروں کی انواع کو معدومیت کا سامنا ہے۔ اس معدومیت کے نتیجے میں حیاتیاتی تنوع میں ہونے والے نقصانات میں اضافہ ہوسکتا ہے جس سے متعدی بیماریوں اور وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔ آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ (OECD) کی 2019 کی ایک رپورٹ کے مطابق” 2010 سے 2015 کے درمیان قدرتی جنگلات میں سالانہ 6.5 ملین ہیکٹر رقبہ (مجموعی طور پر برطانیہ سے بڑا علاقہ) تک کمی جبکہ 1970 سے 2015 تک قدرتی آبی علاقوں میں 35 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔”

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ” 30 فیصد سے زائد کورل کو بلیچنگ سے خطرہ ہے اور 1970 کے بعد سے ریڑھ کی ہڈی والے60 فیصد جاندار ختم ہو چکے ہیں”۔ ان اہم تبدیلیوں کی وجوہات میں زمینی استعمال سے اس کی ساخت میں تبدیلی، قدرتی وسائل بشمول پودوں اور جانوروں کا زیادہ استحصال، آلودگی، نامناسب انواع کی افزائش (مقامی پرجاتیوں کے ساتھ کراس بریڈنگ اور بیماریوں کے پھیلاؤ سے حیاتیاتی تنوع کو خطرہ) اور آب و ہوا میں تبدیلی کارفرما ہیں۔ OECD کے ایک اندازے کے مطابق، ایک سال میں حیاتیاتی تنوع کے فوائد 125تا140 ٹریلین امریکی ڈالر ہیں، جو عالمی جی ڈی پی کے حجم کے ڈیڑھ گنا سے بھی زیادہ ہیں۔ تاہم، ایکو سسٹم کے مستقل زوال کے باعث فطرت کی انسانی فلاح و بہبود میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔

    رواں سال کے یوم ماحولیات پر، پاکستان نے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی شراکت سے عالمی یوم ماحولیات 2021 کی میزبانی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ رواں سال کے عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر اقوام متحدہ کی ماحولیاتی نظام کی بحالی کی دہائی 2021 – 2030 کا باضابطہ آغاز ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرِقیادت، حکومتِ پاکستان ملک میں جنگلات کی توسیع اور بحالی کے لیے5 سال کے عرصہ میں 10 بلین درخت کاشت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس مہم میں مینگرووز اور جنگلات کی بحالی کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں میں شجرکاری بھی شامل ہے جس میں اسکول، کالج، عوامی پارکس اور گرین بیلٹس شامل ہیں۔ پاکستان نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے قدرتی حل کی نشونما، جنگلات کی کٹائی سے بچاؤ اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے ماحولیاتی نظام کی بحالی فنڈ کا آغاز کیا ہے۔ حال ہی میں، وزیراعظم پاکستان نے 5500 ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ملک بھر میں 15 ماڈل پروٹیکٹڈ علاقوں پر مشتمل 7300 مربع کلومیٹر زمینی علاقے کے تحفظ کے لیے پروٹیکٹڈ ایریا انیشیٹو کا آغاز کیا ہے۔ عالمی یوم ِماحولیات کے میزبان کی حیثیت سے پاکستان ماحولیاتی مسائل کو اجاگر کرے گا اور عالمی کوششوں میں اپنے اقدامات اور کردار کو پیش کرے گا۔

    امید اس امکان پر قائم ہے کہ ہم قدرت کے ساتھ اپنے تعلق کی تشکیل نو اور ماحولیاتی انفراسٹرکچر کو تبدیل کرکے ماحولیاتی نظام کے بدلتے رجحانات کوپلٹ سکتے ہیں۔ اس مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر پاک بحریہ ماحولیاتی نظام کے انحطاط کو روکنے اور ملکی مستقبل کے لیے قدرت کے تحفظ میں اپنی کوششیں تیز کرکے مزیدسنگِ میل عبور کر رہی ہے۔ پاکستان بحریہ ہر سال عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پرملک میں ماحولیات کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کے لیے متعدد سرگرمیوں کا اہتمام کرتی ہے۔ ان سرگرمیوں میں عوامی آگاہی کو فروغ دینے کے لیے لیکچرز اور سیمینارز کا انعقاد، ہاربرز اور ساحلی پٹیوں میں صفائی مہم، ماحولیاتی آگاہی واک، سوشل میڈیا مہم اور مختلف عوامی مقامات پر ماحولیاتی تحفظ سے متعلق بینرز آویزاں کرنا شامل ہے۔ وزیراعظم کے اقدام ’گرین پاکستان‘ کے تحت پاکستان بحریہ نے ماحولیات کے تحفظ اور بحالی کے لئے درختوں اور مینگروز کی شجرکاری مہم سمیت بیشتر اقدامات بھی شروع کیے ہیں۔

  • مزیدار مرغ چنا بنانے کی آسان ترکیب

    مزیدار مرغ چنا بنانے کی آسان ترکیب

    مرغ چنا

    وقت :50 سے 60 منٹ

    6 سے 8 افراد کے لئے

    اجزائے ترکیبی (الف) مقدار
    سفید چنے 2کپ
    ادرک لہسن کا پیسٹ 1کھانے کا چمچ
    نمک حسب ذائقہ
    کالی مرچ پاؤڈر ½چائے کا چمچ
    سرخ مرچ پاؤڈر 1چائے کاچمچ
    زیرہ پاؤڈر 1چائے کاچمچ
    سوڈا بائی کاربونیٹ ½چائے کا چمچ

    اجزائے ترکیبی (ب) مقدار
    چکن ایک کلو
    تیل ½کپ
    ادرک لہسن ک پیسٹ 2چائے کے چمچ
    نمک حسب ذائقہ
    کالی مرچ (کٹی ہوئی) 1چائے کا چمچ
    سرخ مرچ پاؤڈر 1چائے کا چمچ
    کشمیری سرخ مرچ پاؤڈر 1چائے کا چمچ
    زیرہ پاؤڈر ½چائے کا چمچ

    سجاوٹ کے لئے:
    گرم مصالحہ پاؤڈر 1چائے کا چمچ

    طریقہ کار:

    چنوں کو سوڈا بائی کاربونیٹ اور بہت سا پانی شامل کرکے ساری رات کے لئے بھگو دیں۔ اسی پانی میں چنوں سمیت حصہ الف کے اجزائے ترکیبی شامل کرکے پکائیں۔ گلنے تک پکائیں اور پانی اتار کر چنے ایک طرف رکھ دیں۔

    طریقہ کار (دوسرا مرحلہ)
    چکن کو درمیانے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ برتن میں تیل گرم کرکے ادرک لہسن کا پیسٹ شامل کریں۔ براؤن ہونے تک کچھ منٹ تک پکائیں۔

    اب حصہ (ب) کے اجزائے ترکیبی شامل کرکے اسے ایک سے دو منٹ تک پکائیں۔ اب چکن کے ٹکڑے شامل کریں تینسے چار منٹ تک چکن کو پکائیں۔ آدھا کپ پانی شامل کرکے 25سے 30 منٹ تک گوشت کے مکمل پکنے تک پکائیں۔ اب پکے ہوئے چنے شامل کرکے 6سے 8منٹ تک ہلکی آنچ پر تیار ہونے تک پکائیں۔ گرم مصالحہ چھڑک کر نان یا روٹی کے ساتھ پیش کریں۔ اچھے ذائقے کے لئے دیسی چنے استعمال کریں۔

  • ملالہ کا شادی سے متعلق بیان ، وینا ملک اور آغا علی کا شدید ردعمل

    ملالہ کا شادی سے متعلق بیان ، وینا ملک اور آغا علی کا شدید ردعمل

    پاکستان کی کم عمر ترین نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے حال ہی میں دیئے گئے شادی سے متعلق بیان پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے-

    باغی ٹی وی : : گزشتہ دنوں ملالہ یوسفزئی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر برطانوی فیشن میگزین ووگ کے سرورق کی تصویر شیئر کرائی تھی۔ ووگ میگزین نے آئندہ ماہ کے شمارے کے سرورق کے لیے ملالہ یوسفزئی کو منتخب کیا ہے۔

    فیشن میگزین ووگ کی ویب سائٹ پر ملالہ یوسفزئی کا انٹرویو بھی شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے اپنے بارے میں کئی باتیں کرتے ہوئے شادی کے حوالے سے بھی گفتگو کی تھی۔

    انٹرویو میں جب تیئیس سالہ کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ ملالہ سے شادی اور محبت کے حوالے سے پوچھا گیا تو پہلے انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔

    کسی کواپنی زندگی میں رکھنےکےلیےنکاح نامے پردستخط کی کیاضرورت:پارٹنر کیوں نہیں رہاجاسکتا؟ملالہ یوسفزئی

    دوسری بار شادی اور محبت کے حوالے سے سوال پوچھے جانے پر ملالہ یوسفزئی نے، اپنی سوچ اور دل کی بات عیاں کردی، ملالہ نے کہا کہ مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آتا کہ لوگوں کو شادی کیوں کرنا ہے؟ اگر آپ اپنی زندگی میں کسی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو نکاح نامے پر دستخط کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ صرف پارٹنر بن کر کیوں نہیں رہ سکتے؟-

    ملالہ نے بتایا کہ ان کی والدہ ہمیشہ انہیں شادی کی خوبصورت رشتے کے حوالے سے بتاتی رہتی ہیں، اور ان کے والد کے پاس ایسے لوگوں کی ای میلز آتی ہیں جو انہیں اپنی جائیداد اور پیسوں کے بارے میں بتاکر مجھ سے شادی کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔

    ملالہ کا مزید کہنا تھا میں یونیورسٹی میں سوچتی تھی کہ میں کبھی شادی نہیں کروں گی، اور نہ ہی بچے پیدا کروں گی صرف اپنا کام کروں گی۔ میں ہمیشہ اپنی فیملی کے ساتھ رہوں گی اور خوش رہوں گی۔ مجھے احساس نہیں تھا کہ آپ ہر وقت ایک شخص نہیں ہوتے جب آپ بڑھتے ہیں آپ میں بدلاؤ آتے ہیں۔

    ملالہ کے شادی سے متعلق بیان پر متھیرا کا شدید رد عمل

    ملالہ یوسفزئی کے شادی سے متعلق اس بیان پر لوگ آگ بگولہ ہو گئے اور شدید تنقید کا نشانہ بنایا نہ صرف عوام نے بلکہ کئی معروف شخصیات نے بھی ملالہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے نکاح کی اہمیت بتائی جن میں اداکارہ متھیرا آغا علی خان اور وینا ملک شامل ہیں-

    آغا علی نے ملالہ کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انسٹاگرام پر ایک اسٹوری شئیر کی جس میں اداکار نے مادر ملت فاطمہ جناح اور ملالہ کی تصویر کا ایک کولاج شئیر کیا-

    تصویر شئیر کرتے ہوئے آغا علی نے فاطمہ جناح کی تصویر کو ہیڈنگ دیتے ہوئے لکھا کہ مادر ملت جبکہ ملالہ کی تصویر کو ہیڈنگ دیتے ہوئے لکھا کہ مادر ذلت-

    دوسری جانب وینا ملک نے بھی ملالہ کے بیان پر شدید ردعمل دیا اور اپنے ٹوئٹ میں ملالہ کی بات کو طنزاً لکھا کہ نکاح کرنے کی ضرورت ہے جب زنا کی سہولت موجود ہے ملالہ؛ ساتھ ہی ملالہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ بیٹا آپ کی پیدائش پر لعنت-

  • ماڈل و اداکارہ یمی گوتم نے شادی کر لی

    ماڈل و اداکارہ یمی گوتم نے شادی کر لی

    فئیر اینڈ لولی کاسمیٹک برانڈ کی مشہور ماڈل اور اداکارہ یمی گوتم نے خاموشی سے اپنے دوست اور فلم ساز ادیتیا دھارسے شادی کرلی۔

    باغی ٹی وی : یمی گوتم اگرچہ چند با لی وڈ فلموں اور ڈراموں میں بھی کام کیا اور ساتھ ہی انہوں نے پنجابی، تامل، کنڈا اور تیلگو سمیت دیگر زبانوں کی فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائےتاہم یمی گوتم کو زیادہ شہرت ان کے گوری رنگت کے اشتہاروں کی وجہ سے ملی-

    بھارتی میڈیا کے مطابق یمی گوتم کی شادی کی خبریں گزشتہ تین سال سے جاری تھیں کہ وہ جلد رشتہ ازدواج میں بندھ جائیں گی، تاہم اب انہوں نے کورونا کی وبا کے باعث سادگی سے دیرینہ ساتھی فلم ساز ادیتیا دھار سے شادی کرلی۔

    یمی گوتم اور ادیتیا دھار نےگزشتہ رات انسٹاگرام پر اپنی شادی کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے مداحوں کو بتایا کہ دونوں نے خاندان کی رضامندی اور موجودگی میں سا دگی سے شادی کرلی۔

    انہوں نے بتایا کہ 4 جون کو ہی شادی کی اور تقریب کو انتہائی ذاتی اور مختصر رکھا گیا تھا۔

    جوڑی کی جانب سے شادی کی تصدیق کیے جانے کے بعد مداحوں سمیت شوبز شخصیات نے انہیں مبارک باد پیش کی اور ان کی نئی زندگی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا-

    واضح رہے کہ جوڑی کے درمیان 2019 میں ریلیز ہونے والی فلم اڑی کی شوٹنگ کے دوران تعلقات استوار ہوئے تھے، مذکورہ فلم میں یمی گوتم نے بھی اداکاری کی تھی۔

  • معروف گلوکار سنی بینجمن المعروف ایس بی جان انتقال کر گئے

    معروف گلوکار سنی بینجمن المعروف ایس بی جان انتقال کر گئے

    صدارتی ایوارڈ یافتہ معروف گلوکار و غزل گائک سنی بینجمن جان المعروف ایس بی جان87 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

    باغی ٹی وی : اہل خانہ نے گلوکار کے فوت ہونے کی تصدیق کی اہل خان کے مطابق ایس بی جان بیمار تھے اور زیادہ علیل ہونے پر وہ گزشتہ دو ہفتوں سے کراچی کے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے جہاں وہ دوران علاج ہی چل بسے-

    ایس بی جان کی موت پر شوبز شخصیات اور خصوصی طور پر موسیقی سے وابستہ افراد نے گہرے دکھ کا اظہار کیا جب کہ سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے بھی شدید افسوس کا اظہار کہا جا رہا ہے-

    واضح رہے کہ ایس بی جان قیام پاکستان سے قبل ہی صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پیدا ہوئے تھے اور وہ وہیں پلے بڑھے، انہوں نے یہیں سے ہی تعلیم حاصل کی ایس بی جان کے دادا بھی موسیقی سے وابستہ تھے اور انہیں بچپن سےہی موسیقی سے خصوصی لگاؤ تھا۔

    قیام پاکستان کے فوری بعد انہوں نے گلوکاری کا آغاز کیا اور پہلی بار 1950 کے بعد کم عمری میں ہی انہوں نے ریڈیو پاکستان سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا-

    ایس بی جان کو ان کی مختلف انداز میں غزل گائکی کی وجہ سے شہرت ملی، ان کا شمار پاکستان کے 1960 سے 1975 کے معروف علامی شہرت یافتہ گلوکاروں اور غزل گائکوں میں ہوتا ہے ایس بی جان پاکستان کے چند مسیحی گلوکاروں میں سے ایک تھے انہوں نے پی ٹی وی اور فلموں کے لیے بھی گیت گائے-

    ایس بی جان کو ان کی گلوکاری کی خدمات کے عوض حکومت پاکستان نے 2011 میں اس وقت کے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے کراچی میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا تھا –

    طویل العمری کے باعث ایس بی جان گزشتہ دو دہائیوں سے موسیقی کی دنیا سے دور تھے، تاہم انہیں موسیقی کی محفلوں میں بطور مہمان دیکھا جاتا تھا۔
    https://youtu.be/MQD7EsbRep4

  • درجنوں پاکستانی فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس مشکوک سرگرمیوں کے الزام میں بند کر دیئے گئے

    درجنوں پاکستانی فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس مشکوک سرگرمیوں کے الزام میں بند کر دیئے گئے

    دنیا کے سب سے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک نے مشتبہ اکاؤنٹس کے حوالے سے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے-

    باغی ٹی وی : فیس بک کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق فیس بک نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے 40 فیس بک اکاؤنٹ، 25 فیس بک صفحات، چھ فیس بک گروپ اور 28 انسٹاگرام اکاؤنٹ ہٹا دیے گئے ہے-

    ان اکاؤنٹس کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ فیس بک پر ‘منظم اور غیر مصدقہ رویے’ اپنانے جیسی مشکوک سرگرمیوں میں ملوث تھے۔


    تین جون کو شائع ہونے والی رپورٹ میں فیس بک نے کہا ہے کہ ہٹائے گئے نیٹ ورک میں ملوث افراد کا تعلق اسلام آباد اور راولپنڈی میں قائم ایک تعلقات عامہ یعنی پبلک ریلیشنز کمپنی ‘الفا پرو’ سے ہے۔

    فیس بک کا اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہنا ہے کہ ان کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس نیٹ ورک میں سے ’چند کا تعلق اُسی نیٹ ورک سے ہے جن کو فیس بک نے اپریل 2019 میں ہٹایا تھا’ اور اُس وقت الزام عائد کیا تھا کہ ‘ان صفحات اور اکاؤنٹ کا تعلق پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پر آر کے اہلکاروں سے پایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ فیس بک ‘کووآرڈینیٹڈ ان آتھینٹک بیہیوئر'(سی آئی بی) کی اصطلا ح کی تعریف ایسے اکاؤنٹس کے طور پر کرتا ہے جو منظم طریقے سے چلائے جاتے ہیں اور ایک حکمت عملی کے تحت غیر مصدقہ رویے اپنا کر عوامی بحث و مباحثے کا رخ ایک مخصوص بیانیے کی جانب موڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    بی بی سی کے مطابق فیس بک نے جن مشتبہ اکاؤنٹس اور پیجز کی نشاندہی کی ہے ان کے درمیان روابط اور کوآرڈینیشن کے واضح اشارے ملے ہیں اور انھوں نے جعلی شناختوں اور عیاری سے صارفین کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے۔

  • نائجیریا: حکومت نے ٹوئٹر کو غیر معینہ مدت کے لئے معطل کر دیا

    نائجیریا: حکومت نے ٹوئٹر کو غیر معینہ مدت کے لئے معطل کر دیا

    نائیجیریا میں سماجی رابطے کی معروف و مقبول ویب سائٹ ٹوئٹر کو غیر معینہ مدت کے لئے معطل کر دیا گیا ہے –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نائیجیریا کے وزیرِ اطلاعات نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں ٹوئٹر کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔

    بی بی سی کے مطابق حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی اس لیے لگائی گئی ہے کہ اس پلیٹ فارم کو بار بار ایسے کاموں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے کہ جس سے نائیجیریا کی کارپوریٹ ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ حکومت نےاپنے بیان میں قومی براڈ کاسٹنگ کے نگراں ادارے این بی سی سے کہا ہے کہ وہ تمام او ٹی ٹی سروسز اور سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے لائسنسنگ کا عمل شروع کرے۔

    تاہم حکومت نے اس حوالے سے کوئی تفصیلات نہیں دی ہیں کہ ٹوئٹر پر پابندی عملی طور پر کیسے کام کرے گی یا ٹوئٹر کو نائیجیریا کی کارپوریٹ ساکھ خراب کرنے کے لیے کیسے استعمال کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ٹوئٹرنے یہ اعلان انتہائی پریشان کن قرار دیا ہے کہا ہے کہ وہ نائیجیریا کی جانب سے پابندی کی تفتیش کی رہی ہے اور مزید معلومات ملنے پر لوگوں کو آگاہ کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل ہی ٹوئٹر نے صدر محمدو بوہاری کی ایک ٹوئٹ کو یہ کہہ کر حذف کر دیا تھا کہ اس ٹوئٹ نے ٹوئٹر کے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔

    نائیجیریا کی حکومت کے پلیٹ فارم پر پابندی لگانے کے اعلان میں اس تنازع کا ذکر تو نہیں کیا گیا تاہم ماضی میں ملک کے وزیر اطلاعات لائی محمد نے امریکی سول میڈیا کمپنی پر تنقید کی اور ان پر دوہرے معیار کا الزام لگایا ہے۔

    ٹوئٹر نے یکم جون کو نائیجیریا کے 78 سالہ صدر کی ٹوئٹ ہٹائی تھی اس میں 1967 سے 1970 تک ہونے والی نائیجیرین خانہ جنگی کا حوالہ دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ جو لوگ آج ٹھیک نہیں ہیں ان سے ایسی زبان میں بات کی جائے جو انھیں سمجھ آئے گی۔

    اس وقت ٹوئٹر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ٹوئٹ ٹوئٹر کے قواعد کے خلاف ہے۔