Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • شاہ محمود قریشی کی ترک صدر سے ملاقات

    شاہ محمود قریشی کی ترک صدر سے ملاقات

    وزیر خارجہ مخد وم شاہ محمود قریشی نے انقرہ میں ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ترک صدر رجب طیب اردگان سے ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور فلسطین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ مظلوم فلسطینیوں کے حق میں پاکستان کے موقف اور کاوشوں کے معترف ہیں۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی ملاقات میں مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین پر ترک صدر کے واضح اور دو ٹوک موقف کی تعریف کی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سفارتی مشن پر ترکی گئے شاہ محمود قریشی سوڈان، فلسطین، ترک وزرائے خارجہ کے ہمراہ نیویارک جائیں گے۔

    وزیر خارجہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مظلوم فلسطینیوں پر ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں گے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی فلسطین کی صورتحال پر پاکستان کا نکتہ نظر پیش کریں گے۔

    کردار کو سراہا گیا-

    فلسطینی سفیر نے پاکستان کا شکریہ ادا کردیا

    اسپیکر قومی اسمبلی کا ترک ہم منصب سے رابطہ، فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم

    اہل فلسطین پاکستان کے بارے میں کیا سوچ رہے ، وزیر خارجہ نے بتادیا

    وزیر خارجہ سفارتی مشن پر ترکی روانہ

  • وزیراعظم عمران خان آج پشاور میں مزدوروں کے لئے لیبر کالونی کا افتتاح کریں گے

    وزیراعظم عمران خان آج پشاور میں مزدوروں کے لئے لیبر کالونی کا افتتاح کریں گے

    وزیر اعظم عمران خان آج پشاور میں مزدوروں کے لئے بنائے گئے فلیٹس کا افتتاح کریں گے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان پشاور میں مزدوروں کے لئے بنائے گئے دو ہزار سے زیادہ فلیٹس پر مشتمل لیبر کالونی کا افتتاح کریں گے۔

    500 کنال پر مشتمل لیبر کالونی میں مستحق افراد کو آسان اقساط پر فلیٹس فراہم کیے جائیں گے۔

    خیال رہے کہ پشاور کے علاقے شاہی بالا میں صنعتی مزدوروں کے لیے جدید طرز کے دو ہزار 56 فلیٹس تعمیر کیے گئے ہیں۔ لیبر کالونی میں مساجد، اسکول، پارکس، لائبریری اور دیگر بہترین سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

  • پاکستان میں کورونا سے 104 اموات مزید  3 ہزار256 نئے کیسز

    پاکستان میں کورونا سے 104 اموات مزید 3 ہزار256 نئے کیسز

    پاکستان میں کرونا کی لہر میں شدت،24 گھنٹوں میں104 اموات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر جاری ہے، کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے ملک بھر میں کورونا سے اموات کا اموات کا سلسلہ جاری ہے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا سے مزید 104 اموات ہوئی ہیں-


    این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز کورونا کے 41 ہزار771 ٹیسٹ کئے گئے3 ہزار256 نئے کیس سامنے آ گئے۔ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریبا 7.79 فی صد رہی۔

    پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 19 ہزار647 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 8 لاکھ 80 ہزار374ہو چکی ہے۔

    کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے پاکستان کے 26 اضلاع ہائی رسک قرار دیئے گئے ہیں-

    خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا کی ویکسینیشن جاری ہے اور چوتھے مرحلے میں40 تا 49 سال کے درمیان عمر والے افراد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے جبکہ 18 سال سے زائد عمر کے افراد کی ویکسین کی رجسٹریشن جاری ہے-

  • گرمی کی شدت کم کرنے والے مشروبات

    گرمی کی شدت کم کرنے والے مشروبات

    ملک بھر میں گرمی کی شدّت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لیے جسم میں پانی کی مقدار کا برقرار رہنا نہایت ضروری ہے، سال کے گرم مہینوں کے آتے ہی تیز دھوپ، تپتی دوپہر، گرمی اور لو کی وجہ سے جسم کے درجہ حرارت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں جسم میں پانی کی کمی کے سبب دیگر مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

    غذائی ماہرین کی جانب سے تجویز کیے گئے چند ایسے مشروبات مندرجہ ذیل ہیں جن کے استعمال سے شدید گرمی کے دوران بھی خود کو تروتازہ اور توانا رکھا جا سکتا ہے۔

    1: طبی ماہرین کے مطابق جسم میں نمکیات اور پانی کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ہر انسان کو خواہ بچہ ہو یا بوڑھا، مرد ہو یا عورت گرمیوں کے آغاز سے ہی سادہ پانی کا استعمال بڑھا دینا چاہیے، اس دوران زیادہ میٹھے اور پروسیسڈ، ڈبے کے مشروبات سے پرہیز کریں۔

    2: گرمیوں میں لسی کا استعمال بھی لُو اور ہیٹ اسٹروک سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، لسی تاثیر میں ٹھنڈی اور ذود و ہضم مشروب ہے، دہی اور دودھ کی مدد سے میٹھی یا نمکین لسی بنا کر باہر سے آنے والے ہر فرد کو پیش کریں اور بچوں کو بھی وقتاً فوقتاً پلائیں۔

    کچی لسی نہایت مفید مشروب ہے، کچی لسی بنانے کے لیے ایک کپ دودھ کو ڈیڑھ یا دو لیٹر پانی میں شامل کریں اور ہلکا نمک شامل کر کے سارا دن اس مشروب کو پیئں، لو اور ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ ممکن ہوگا۔

    3: گرمیوں کے موسم میں لیموں پانی کا استعمال بھی بے حد مفید ہے لیموں پانی کے ساتھ استعمال سے جسم نا صرف ہیٹ اسٹروک سے بچ جاتا ہے بلکہ گلوکوز کا لیول بھی برقرار رہتا ہے، گرمیوں میں روزانہ 2 گلاس لیموں پانی کا استعمال لازمی کریں۔

    4: گرمیوں میں روزانہ دن میں 2 سے 3 مرتبہ ناریل پانی پینا چاہیے، اس سے نا صرف جسم کا درجہ حرارت کم رہتا ہے بلکہ بھرپور مقدار میں وٹامنز اور منرلز بھی حاصل ہوتے ہیں ناریل پانی میں کینسر کے خلاف لڑنے اور بڑھتی عمر کے اثرات روکنے کی بھی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

    5: موسمی پھل کیری کے شربت کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے گرمیوں کے موسم میں کیری کا شربت جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے انتہائی مفید قرار دیا جاتا ہے، کیری میں موجود اجزا جسم کے درجہ حرارت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں گرمیوں میں کیری کا استعمال بطور سلاد یا اس کی چٹنیاں بنا کر بھی کیا جاتا ہے-

    گرمی کی شدت کم کرنے کے لئے لسی کے مختلف مزیدار اور لذیذ فلیورز

    گرما کھانے کے حیران کن فوائد

  • زعفران اور سونف چکن بوٹی آسان ریسیپی

    زعفران اور سونف چکن بوٹی آسان ریسیپی

    زعفران اور سونف چکن بوٹی
    وقت …………25سے 35منٹ
    6سے 8افراد کے لئے

    جزائے ترکیبی مقدار
    ہڈی کے بغیر چکن 1کلو
    تیل 3کھانے کے چمچ
    ہرا دھنیہ (باریک کٹا ہوا) 2کھانے کے چمچ
    ہری مرچیں (باریک کٹی ہوئی) 4کھانے کے چمچ
    زعفران ½ چائے کا چمچ
    نمک حسب ذائقہ
    سفید مرچ پاؤڈر 2چائے کے چمچ
    ہلدی پاؤڈر 1چائے کا چمچ

    زیرہ پاؤڈر ½چائے کا چمچ
    سونف پاؤڈر 1چائے کا چمچ
    کریم 1کپ
    لیموں کا رس 2کھانے کے چمچ
    گھی ¼ کپ

    سجاوٹ کے لئے:
    لیموں کے قتلے 4سے 6ٹکڑے
    ٹماٹر اور پیاز کے قتلے 8سے 10ٹکڑے
    سلاد کے پتے 1چھوٹی گٹھی
    لیموں کا رس 2کھانے کے چمچ

    طریقہ کار :
    چکن کو 30سے 35گرام کے چوکور ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ چکن کیوبز کو گھی کے علاوہ تمام مصالحے ڈل کر میری نیٹ کریں اور 2سے 3گھنٹے کے لئے فریج میں رکھ دیں۔ چکن کیوبز کو سادھی سلاخوں پر پرو کر کوئلوں کی انگیٹھی پر پکائیں۔ جب یہ 80فیصد پک جائے تو برش کی مدد سے گھی لگاتے جائیں۔ 1یا2 منٹ مزید پکائیں تاکہ چکن اچھی طرح تیار ہوجائے۔ لیموں ٹماٹر اور پیاز کے قتلوں اور سلاد کے پتوں سے سجائیں۔ لیموں کا جوس چھڑک کر دہی پودینے کی چٹنی کے ساتھ پیش کریں۔ اچھے ذائقے کے لئے چکن کو ساری رات میری نیٹ کرکے فریج میں رکھیں۔

  • ماہرہ خا ن نے فرانس کے معروف برانڈ کو ان فالو کر دیا

    ماہرہ خا ن نے فرانس کے معروف برانڈ کو ان فالو کر دیا

    پاکستان کی عالمی شہرت یافتہ صف اول کی اداکارہ ماہرہ خان نے نامور برانڈ لوریل کو ان فالو کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : ماہرہ خان کو فرانس کے میک اپ کے نامور برانڈ لوریل کی برانڈ ایمبیسڈر ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور وہ یہ اعزاز پانے والی پہلی پاکستانی اداکارہ ہیں۔

    تاہم اب حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ماہرہ خان نے سماجی رابطے کے مقبول ترین پلیٹ فارم انسٹاگرام پر لوریل کو ان فولو کردیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ماہرہ نے یہ قدم اسرائیل کے جنگی حملوں کے خلاف اور فلسطین سے اظہار یکجہتی کے طور پر اٹھایا ہے۔

    دوسری جانب اداکارہ نے ٹوئٹر پر ری ٹوئٹ کرتے ہوئے فلسطین سے اظہار یکجہتی کے لیے کراچی پریس کلب میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کے لیے مداحوں پر زور دیا۔

    واضح رہے کہ اداکارہ اس سے قبل بھی پاکستان کی دیگر شوبز شخصیات کی طرح فلسطین سے اظہار یکجہتی کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہیں –

    اس سے قبل ماہرہ خان نے انسٹا پوسٹ میں کہا تھا کہ اگر ہم خاموش رہے تو پھر ہمارے ہاتھ بھی اس خون سے رنگین ہیں۔

    فلسطین پراسرائیلی مظالم: اگر ہم خاموش رہےتو پھرہمارے ہاتھ بھی اس خون سے رنگین ہیں…

  • سب سے زیادہ مزمت ترکی نے کی یا عربوں نے ؟ سوشل میڈیا پر نئی متوقع جنگ       تحریر کاشف علی ہاشمی

    سب سے زیادہ مزمت ترکی نے کی یا عربوں نے ؟ سوشل میڈیا پر نئی متوقع جنگ تحریر کاشف علی ہاشمی

    سب سے زیادہ مزمت ترکی نے کی یا عربوں نے ؟ سوشل میڈیا پر نئی متوقع جنگ
    تحریر کاشف علی ہاشمی
    کشف الاسرار

    سوشل میڈیا پر توپوں کا رخ اک دوسرے پر کئے اور سارا ملبہ دوسرے پر خود کو بری الذمہ قرار دیتے بزر جمہر اک دفعہ پھر متحرک ہوں گے-

    آپ OIC کی طرف سے اسرائیلی دہشت گردی نہایت بہادری دیدہ دلیری اور واشگاف الفاظ میں بھرپور مزمت پر کون سا تمغہ دینا پسند کریں گے ان کے بہادری پر عش عش کر اٹھیں یقینًا ترک حمائتیوں کے نزدیک سب سے بڑا بیان ترکی نے دیا اور طیب اردگان کے وزیر خارجہ نےاسٹیج کو ہلا دیا ہوگا البتہ دنیا اپنی جگہ قائم ہے تو اس کو معجزہ سمجھیں ورنہ ان-وں نے کوئی کثر نہیں چھوڑی اور دوسری طرف عرب حمائتوں کے نزدیک عربوں نے کانفرنس بلا کر کمال کر دیا اور اس سب کا کریڈٹ بمع طیب ارگان کے بیان اور پھر عربوں کے بھی بیان اس سب کا کریڈٹ عربوں کو جاتا ہے-

    یقینًا عرب ہی عالمی اسلامی قیادت کے حقدار ہیں جبکہ ساری جنگ لڑ ہی پاکستانی مارخور رہا ہے بقول پالشی برادران ۔ لہذا ہمارا دعوی ان سے بھی اوپر ہے البتہ بلوچستان میں میزائل نصب کرنے یا فوج بھیجنے کی ضرورت ہی نہیں ویسے بھی ہمیں ان کی اخلاقی حمائت کرنی چاہیے البتہ باقی مسلمان ممالک بھی پیچھے نہیں رہے انہوں نے بھی ببانگ دہل اس قتل عام سرعام اک عالمی فورم پر مزمت کر کے تاریخی کارنامہ سر انجام دیا ہے-

    البتہ اب سوشل میڈیا پر متوقع طور یہ سب لوگ کچھ اس طرح کہتے نظر آئیں گے ترک تیار ہیں اور انہوں نے یلغار کا خفیہ منصوبہ بنایا ہے ارطغرل بے کی طرح جس کی بھنک بھی کسی کو نہیں ملے گی نا پتہ چلے گا کہ حملہ کب اور کہاں ہوا ہے یہ اک خفیہ منصوبہ ہے لہذا آپ جلد دیکھو گے البتہ عرب صرف باتیں بنائیں گے اور یہ تو ہیں ہی منافق اور عیاش لہذا ترکی زندہ بن سلمان یخودی ایجنٹ ہے ہو سکتا ہے کہ منصوبہ کو لیک کر دے جس کی وجہ سے یہ لشکر نا جاسکے-

    تمام جہادی تنظیمیں یا کوئی بھی مزاحمت ہو گی پیسہ اور جوان عرب کے ہی استعمال ہوں گے خلیفہ کہاں ہے خالی باتیں بنا رہا ہےاس نے کچھ نہیں کرنا اس کا بت ٹوٹ چکا ہے عرب زندہ باد اردگان پلاسٹک کا خلیفہ اب کہاں ہیں فوجیں خالی باتیں ہیں اور حزب اللہ یمن میں عرب پر حملے کرے گی لیکن اسرائیل نہیں جائے گی-

    ایران عرب و عجم کو چھوڑیں ایران اک اسلامی انقلاب لارہا ہے اور یہ انقلاب اسرائیل میں آپ دیکھیں گے اور حزب اللہ کے میزائل تیار ہیں عرب منافق اور عیاش ہیں جبکہ ایرانی گارڈز ہی فلسطین فتح کریں گے البتہ اس سے پہلے منافقین و عیاش عربوں کا خاتمہ ضروری ہے لہذا آپ دیکھ لو عرب عیاش ہیں کچھ نہیں کریں اور ہم تو ویسے ہی دور ہیں کیا کریں-

    پاکستان کیسے جنگ کرے ہم بہت دور ہیں ہماری تو سرحد ہی نہیں لگتی البتہ جنگ ساری کر ہی ہم رہے ہیں ورنہ عرب عیاش ہیں ایران کی طاقت نہیں ترک ویسے ہی اکیلے ہیں البتہ ہم مانیں گے نہیں البتہ پاکستان عمران خان ساری امت کو اکٹھا کر رہے ہیں اور باجوہ صاحب بھی فوج کی کمان کے لیے تیار ہیں-

    یوں یہاں مختلف طبقات اسرائیل سے زیادہ اک دوسرے پر میڈیائی حملہ اور توجہ دوسرے کی جانب مبذول کروا کر خود کو بری الذمہ سمجھتے مسلمانو ہم سب اس میں ملوث ہیں ہم سب کا قصور ہے بیانات سے بڑھ کر کسی نے بھی تیر نہیں مارا ہمارا کام اب پاکستانی ایرانی یا ترک یا عرب بننا نہیں بلکہ امت ملت وحدت اسلام کی بات کرنی ہے چاہے اس کے لیے اپنے پسندیدہ لیڈر سے اختلاف کر نا پڑے ہمیں شخصیت پرستی کے یہ بت اب توڑنے ہوں گے انکے اچھے کام پر تحسین اور ذمہ داری نا ادا کرنے پر غیرت دلانا اور مثبت تنقید کرنا ہوگی-

    لہذا آپسی طعن و تشنیع کی بجائے ہم مشترکہ طور پر اپنے حکمرانوں پر دباو ڈالیں اور ان کو غیرت دلائیں کسی تنظیم فرقے اور خاص ملک کو جوں ہی آپ ہٹ کریں گے تو اس کے حمائتی سامنے آئیں یوں اک بے نتیجہ اور موضوع سے ہٹ کر بحث شروع ہوجائے گی اور اصل مقصد پس پشت چلا جائے گا اور آپسی سر پھٹول شروع ہوجائے گی اور ہم ان حکمرانوں کو خود ہی ریلیکس کر دیں گے اس وقت شیعہ سنی ایران عرب ترکی اور پاکستان سے اوپر اٹھ کر امت ملت اسلام قوم کی طرح بات کریں کہ مسلمان اک جسد کی مانند ہیں یہیں سارے جذبات کا رخ کفار کی طرف اور غیرت دلانا مسلمانوں کے لیے ہو-

    اس کے ساتھ ساتھ اللہ سے تعلق واسطہ مضبوط کریں اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اس سے توفیق طلب کریں کہ معاملات سارے اللہ کے اختیار میں ہیں-

  • اے غزنوی کے بیٹے تجھے اقصی ڈھونڈھ رہی ہے     بقلم: ڈاکٹر ماریہ نقاش

    اے غزنوی کے بیٹے تجھے اقصی ڈھونڈھ رہی ہے بقلم: ڈاکٹر ماریہ نقاش

    اے غزنوی کے بیٹے تجھے اقصی ڈھونڈھ رہی ہے-

    بقلم: ڈاکٹر ماریہ نقاش

    مسجد اقصی، مسلمانوں کا قبلہ اول، اسلام کی پہچان، مومنوں کی شان، دین کی عمارت آج بے حال و پریشان بے بسی کی دیوار بنے کھڑی اپنے حال زار پر رو رہی ہے۔۔۔اقصی کے سرخ آنسو مسجد کے صحن میں فلسطینی مسلمانوں کے خون کے قطروں کی صورت میں مسجد کے فرش کو لال کر رہے ہیں۔۔۔فلسطینیوں کے ساتھ مسجد اقصی کا جسم بھی چھلنی ہو رہا ہے۔۔۔۔اسکے درو دیوار بھی زخمی ہو رہے ہیں ۔۔اور زبان حال سے پکار رہے ہیں۔۔۔

    اے فلطینی مسلمان میں تمہیں اپنی بانہوں میں کب تک پناہ دے پائوں کی۔۔؟؟ آخر کار میں بھی شہید کر دی جائوں گی۔۔۔
    جائو۔۔۔! اٹھو۔۔۔! ہمت کرو۔۔۔! اپنے مسلمان بھائیوں کو مدد کیلئے پکارو۔۔۔کہ جنکا فرض اول انکے بیت المقدس کو محفوظ کرنا ہے۔۔۔
    جنکو اپنی تاریخ کو شرمندہ ہونے سے بچانا ہے۔۔۔۔اقصی کی فضاء کو اس داغ سے پاک کرنا ہے کہ امت محمدی اپنی مقدس عبادت گاہ کو یہودیوں سے محفوظ نہ کر سکی ۔۔۔۔ایک ایسی عبادت گاہ جو انکے آبائو اجداد کیلئے شان و شوکت عظمت اور بہادری کا ورثہ ہے۔۔۔جو اسلام کے رکھوالوں کی غیرت ہے۔۔۔جسے القدس فتح کر کے انہوں نے مسلمانوں کے نصیب میں لکھا تھا ۔۔

    جاؤ۔۔۔! کہ تلاش کرو آج بھی عمر جیسے خوددار، مسلمان جوان اسلام موجود ہوں گے۔۔۔جو میری آخری سانس سے پہلے میری زندگی کی ضنمانت بن کر آئیں گے ۔۔۔۔ پکارو ۔۔! کہ شاید کوئ طارق، کوئ قاسم، کوئ محمود غزنوی، کوئ خالد بن ولید آج بھی زندہ ہو۔۔۔جو شجاعت کے گھوڑے پر سوار ہو کر فتح مقدس کا پروانہ لے کر اقصی کے آنگن میں داخل ہو۔۔۔اور اقصی کے آنسوئوں کو بے بسی کے کشکول سے نکال کر نوید خوشی میں بدل دے۔۔۔

    _تم ڈھونڈھتی ہو آج بھی اے اقصی_
    _ماضی میں جو تھے صاحب ایمان کہاں ہیں_
    _مسجد ہی تھی جن کیلئے تسکین دل وجاں_
    _اس دور میں یارب وہ مسلمان کہاں ہیں_

    تلاشو تو سہی کوئ مسلمان کوئ ایمان والا کوئ نبی کی وراثت سے محبت کرنے والا شاید جاگ جائے۔۔۔۔ مسجد کی زینت نمازیوں کو شہید ہونے سے بچا لے۔۔۔

    دیکھو تو سہی میڈیا کی پاور کو آزما کر۔۔۔شاید کوئ میڈیا چینل تمہاری آواز کو مسلمان عوام تک پہنچا دے۔۔۔

    شاید کوئ کیمرہ کی آنکھ کسی مسلمانی آنکھ کو نم کرنے اور جذبہ جہاد ابھارنے میں کامیاب ہو جائے۔۔۔۔ اور یہودیوں کی اس سازش کو ناکام کر دیں ۔۔۔۔ جیسا کہ یہودیوں نے بیت المقدس پر حملہ کیا تا کہ مسلمانوں کے گہرے پرسکون اطمینان کے سمندر میں ایک ارتعاش کی لہر پیدا کر سکیں۔۔۔۔مسلمانوں کا سکوت توڑ سکیں۔۔۔

    لیکن افسوس۔۔۔!! کے پوری دنیا کے ستر اسلامی ممالک میں سے ایک بھی ایسا ملک نہیں جسکی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہو ۔۔۔
    __وہ جو سمجھے تھے تماشا ہو گا___
    __ہم نے چپ رہ کر پلٹ دی بازی__

    قارئین۔۔۔!!! مسجد اقصی میں مسلمانوں کا نہیں انسانیت کا خون ہو رہا ہے۔۔۔۔اخلاقیات کا خون ہو رہا ہے۔۔۔۔اسلام کا، ہمارے مذہب کا،ہمارے دین کا، ہمارے تہذیب و تمدن کا خون ہو رہا ہے۔۔۔۔

    ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔۔۔ہمیں اس مسجد کیلئے آہنی دیوار ڈھال بننا ہے۔۔۔ہمیں اس مسجد کی ایک ایک اینٹ کو محفوظ کرنا ہے۔۔۔۔
    اے مسلمان اسلام۔۔۔!!! ذرا ہوش کے ناخن لے۔۔۔القدس ہمارا وہ عظیم ورثہ ہے۔۔۔جسکی حفاظت کا منسب ہمیں خود خالق کائنات نے بخشا ہے۔۔۔۔خدا کا دیا ہوا تحفہ تم یوں اتنی آسانی سے تباہ ہونے نہیں دے سکتے۔۔۔۔

    تم اقصی کی پاک فضائوں کو یہودیوں کے آلودہ وجود اور شیلینگ سے گولہ بارود سے زہر آلود نہیں ہونے دے سکتے۔۔۔یہ مسجد ہمارے پاس امانت ہے اس دن سے جب صحابہ کرام نے اسے نصرت خداوندی سے فتح کیا تھا۔۔۔اور اسکی حفاظت کا ذمہ ہمیں سونپہ تھا۔۔۔یہ ہماری غیرت کا امتحان ہے۔۔۔

    ہمارے ایمان کو پرکھنے کی کسوٹی ہے۔۔۔اسکے تحفظ میں ہماری بقا کا راز پوشیدہ ہے۔۔۔ا سکے تقدس پر حرف آیا تو ہم سے اسکی اجتنابیت کا منصب چھن جانے کا خطرہ ہے۔۔۔ہم یہ خطرہ امت مسلمہ کو لاحق ہونے نہیں دیں گے۔۔۔ہمیں دیکھنے سننے بولنے کی طاقتیں اللہ تعالی نے دی ہیں۔۔۔ہم ان نعمتوں کا استعمال کرتے ہو مسجد کی بے حرمتی اور فلسطینیوں کے خون کا بدلہ لیں گے۔۔۔۔ہم اقصی کے سب شکوے شکایتیں دور کریں گے۔۔۔

    ہم اقصی کی پکار سن رہے ہیں۔۔۔ہاں دیکھ رہے ہیں۔۔۔ہم گونگے، بہرے اندھے نہیں ہیں۔۔۔اے اقصی۔۔۔!!! ہم تیری مدد کو آئیں گے۔۔۔ ہم تیری ناراضگی دور کریں گے۔۔۔۔

    عام طور پر تحریر سیاہی سے لکھی جاتی ہے۔۔۔۔لیکن۔۔۔!!! اے بیت المقدس۔۔۔!!! میں یہ تحریر تیرے خون سے لکھ رہی ہوں۔۔۔تحریر کا یہ ٹکرہ جو آپ اس وقت پڑھ رہے ہیں ۔۔۔قلم کو سیاہی میں ڈبو کر نہیں بیت المقدس کے خون سے تر کر کے لکھا گیا ہے۔۔۔میں بیت المقدس کی پکار کو سنوانا اور دکھا نا چاہتی ہوں۔۔۔ ان تمام مسلمانوں کو جو قوت گویائ اور بینائ رکھتے ہیں۔۔۔ آئو سنو۔۔۔!!! آئو دیکھو۔۔۔!!! اقصی چیخ چیخ کر کیا کہ رہی ہے۔۔۔؟؟؟

    محبت کا یہ تحفہ بہت ہے۔۔۔
    میرے پہلو میں اک شعلہ بہت ہے۔۔۔
    امر کر لوں اگر آج میں اسکو۔۔۔
    صدی کے بیچ اک لمحہ بہت ہے۔۔۔
    ہزاروں کارواں ہیں راستے میں۔۔۔۔
    جو منزل پر ہیں وہ تنہا بہت ہیں۔۔۔
    ہوس رکھتی نہیں میں مال وذر کی۔۔۔
    مجھے درد و احساس کا اک سکہ بہت ہے۔۔۔

    قارئین۔۔۔!!! مسجد اقصی کے پچھلی صدی سے اس صدی تک کے سفر کو ہم نے محفوظ کرنا ہے۔۔۔ کہ اسکے زخموں کے گواہ ماہ و آفتاب سب ہیں۔۔۔ کہ اس صدی کے سفر میں اس نے کیا کیا نہی سہا ۔۔؟؟؟ لیکن تمام تر بے حرمتیوں کے باوجود اسکے ساتھ یقین کی فضاء جڑی ہے ۔۔کہ جب تک مسلمانوں میں مومن زندہ ہیں۔۔۔تب تک اسکے یقین کا سفر بھی ساتھ ساتھ جاری ہے ۔۔۔۔ یہ زمیں اور زماں یہ سورج اور جہاں۔۔۔گواہ ہیں کہ یہ مسجد آج بھی سوگوار ہے ۔۔۔۔ آج بھی نوحہ خواں ہے ۔۔اسکے درو دیوار جو کل بھی لہو میں تھے۔۔۔آج بھی خون میں ڈوبے ہوئے ہیں۔۔۔لیکن اسکے باوجود اسکے خواب آج بھی سانس لے رہے ہیں ۔۔۔۔۔کہ اسکی امید کا دیہ ابھی بجھا نہیں۔۔۔کہ مسجد ابھی تھکی نہیں۔۔۔اس صدی سے اگلی صدی تک کا سفر سکا جاری ہے۔۔۔اور اس سفر کو آرام دہ پرسکون بنانے والے نوجوان اسلام بھی ابھی زندہ ہیں۔۔۔
    لہذا میں مسجد اقصی اپنی خون کی روتی آنکھوں سے اس سر زمین کا ہر وہ کونہ تاک میں لئیے بیٹھی ہوں۔۔۔جہاں مسلم ممالک رہائش پذیر ہیں۔۔۔کہ اس رستے پر چل کر کوئیغزنوی کا بیٹا کوئی فاتح القدس آئے گا۔۔۔اور مجھے ان ظالموں کے پنجے سے آزاد کروائے گا۔۔۔
    _اے غزنوی کے بیٹے پھر فلسطیں میں آ_
    _کہ رستہ تکتی ہے مسجد اقصی تیرا___
    طالب دعا
    بنت نقاش

  • تاریخ صرف فتوحات گنتی ہے  محل، لباس، ہیرے، جواہرات اور لذیز کھانے نہیں

    تاریخ صرف فتوحات گنتی ہے محل، لباس، ہیرے، جواہرات اور لذیز کھانے نہیں

    تاریخ صرف فتوحات گنتی ہے محل، لباس، ہیرے، جواہرات اور لذیز کھانے نہیں-

    یہ 1973ء کی بات ہے۔عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کو تھی ایسے میں ایک امریکی سنیٹر ایک اہم کام کے سلسلے میں اسرائیل آیا۔ وہ اسلحہ کمیٹی کا سربراہ تھا۔ اسے فوراً اسرائیل کی وزیراعظم ”گولڈہ مائیر“ کے پاس لے جایا گیا۔ گولڈہ مائیر نے ایک گھریلو عورت کی مانند سنیٹر کا استقبال کیا اور اسے اپنے کچن میں لے گئی۔ یہاں اس نے امریکی سنیٹر کو ایک چھوٹی سی ڈائننگ ٹیبل کے پاس کرسی پر بٹھا کر چولہے پر چائے کے لئے پانی رکھ دیا اور خود بھی وہیں آ بیٹھی۔ اس کے ساتھ اس نے طیاروں، میزائلوں اور توپوں کا سودا شروع کر دیا۔

    ابھی بھاؤ تاؤ جاری تھا کہ اسے چائے پکنے کی خوشبو آئی۔ وہ خاموشی سے اٹھی اور چائے دو پیالیوں میں انڈیلی۔ ایک پیالی سنیٹر کے سامنے رکھ دی اور دوسری گیٹ پر کھڑے امریکی گارڈ کو تھما دی۔ پھر دوبارہ میز پر آ بیٹھی اور امریکی سنیٹر سے محو کلام ہو گئی۔

    چند لمحوں کی گفت و شنید اور بھاؤ تاؤ کے بعد شرائط طے پا گئیں۔ اس دوران گولڈہ مائیر اٹھی، پیالیاں سمیٹیں اور انہیں دھو کر واپس سنیٹر کی طرف پلٹی اور بولی ”مجھے یہ سودا منظور ہے۔ آپ تحریری معاہدے کے لئے اپنا سیکرٹری میرے سیکرٹری کے پاس بھجوا دیجئے۔

    یاد رہے کہ اسرائیل اس وقت اقتصادی بحران کا شکار تھا، مگر گولڈہ مائیر نے کتنی ”سادگی“ سے اسرائیل کی تاریخ میں اسلحے کی خریداری کا اتنا بڑا سودا کر ڈالا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خود اسرائیلی کابینہ نے اس بھاری سودے کو رد کر دیا۔ اس کا موقف تھا، اس خریداری کے بعد اسرائیلی قوم کو برسوں تک دن میں ایک وقت کھانے پر اکتفا کرنا پڑے گا۔

    گولڈہ مائیر نے ارکان کابینہ کا موقف سنا اور کہا :
    ”آپ کا خدشہ درست ہے، لیکن اگر ہم یہ جنگ جیت گئے اور ہم نے عربوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا تو تاریخ ہمیں فاتح قرار دیگی اور جب تاریخ کسی قوم کو فاتح قرار دیتی ہے، تو وہ بھول جاتی ہے کہ جنگ کے دوران فاتح قوم نے کتنے انڈے کھائے تھے اور روزانہ کتنی بار کھانا کھایا تھا۔ اسکے دستر خوان پر شہد، مکھن، جیم تھا یا نہیں اور ان کے جوتوں میں کتنے سوراخ تھے یا ان کی تلواروں کے نیام پھٹے پرانے تھے۔ فاتح صرف فاتح ہوتا ہے۔“

    گولڈہ مائیر کی دلیل میں وزن تھا، لہٰذا اسرائیلی کابینہ کو اس سودے کی منظوری دینا پڑی۔ آنے والے وقت نے ثابت کر دیا کہ گولڈہ مائیر کا اقدام درست تھا اور پھر دنیا نے دیکھا، اسی اسلحے اور جہازوں سے یہودی عربوں کے دروازوں پر دستک دے رہے تھے۔ جنگ کے ایک عرصہ بعد واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا اور سوال کیا: ”امریکی اسلحہ خریدنے کے لئے آپ کے ذہن میں جو دلیل تھی، وہ فوراً آپ کے ذہن میں آئی تھی، یا پہلے سے حکمت عملی تیار کر رکھی تھی؟“گولڈہ مائیر نے جو جواب دیا وہ چونکا دینے والا تھا۔ وہ بولی :

    ”میں نے یہ استدلال اپنے دشمنوں (مسلمانوں) کے نبی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سے لیا تھا، میں جب طالبہ تھی تو مذاہب کا موازنہ میرا پسندیدہ موضوع تھا۔ انہی دنوں میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح حیات پڑھی۔ اس کتاب میں مصنف نے ایک جگہ لکھا تھا کہ۔۔جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو ان کے گھر میں اتنی رقم نہیں تھی کہ چراغ جلانے کے لئے تیل خریدا جا سکے، لہٰذا ان کی اہلیہ (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) نے ان کی زرہ بکتر رہن رکھ کر تیل خریدا، لیکن اس وقت بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کی دیواروں پر نو یا سات تلواریں لٹک رہی تھیں۔

    میں نے جب یہ واقعہ پڑھا تو میں نے سوچا کہ دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے ہوں گے لیکن مسلمان آدھی دنیا کے فاتح ہیں، یہ بات پوری دنیا جانتی ہے۔ لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھے اور میری قوم کو برسوں بھوکا رہنا پڑے، پختہ مکانوں کی بجائے خیموں میں زندگی بسر کرنا پڑے، تو بھی اسلحہ خریدیں گے، خود کو مضبوط ثابت کریں گے اور فاتح کا اعزاز پائیں گے۔“

    گولڈہ مائیر نے اس حقیقت سے تو پردہ اٹھایا، مگر ساتھ ہی انٹرویو نگار سے درخواست کی اسے ”آف دی ریکارڈ“ رکھا جائے اور شائع نہ کیا جائے۔ وجہ یہ تھی، مسلمانوں کے نبیﷺ کا نام لینے سے جہاں اس کی قوم اس کے خلاف ہو سکتی ہے، وہاں دنیا میں مسلمانوں کے موقف کو تقویت ملے گی۔ چنانچہ واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے یہ واقعہ حذف کر دیا۔ وقت دھیرے دھیرے گزرتا رہا، یہاں تک کہ گولڈہ مائیر انتقال کر گئی اور وہ انٹرویو نگار بھی عملی صحافت سے الگ ہو گیا۔

    اس دوران ایک اور نامہ نگار، امریکہ کے بیس بڑے نامہ نگاروں کے انٹرویو لینے میں مصروف تھا۔ اس سلسلے میں وہ اسی نامہ نگار کا انٹرویو لینے لگا جس نے واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے کی حیثیت سے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا تھا۔ اس انٹرویو میں اس نے گولڈہ مائیر کا واقعہ بیان کر دیا، جو سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق تھا۔ اس نے کہا کہ اب یہ واقعہ بیان کرنے میں اسے کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہو رہی ہے۔

    گولڈہ مائیر کا انٹرویو کرنے والے نے مزید کہا: ”میں نے اس واقعے کے بعد جب تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا، تو میں عرب بدوؤں کی جنگی حکمت عملیاں دیکھ کر حیران رہ گیا، کیونکہ مجھے معلوم ہوا کہ وہ طارق بن زیاد جس نے جبرالٹر (جبل الطارق) کے راستے اسپین فتح کیا تھا، اس کی فوج کے آدھے سے زیادہ مجاہدوں کے پاس پورا لباس نہیں تھا۔ وہ بہترّ بہترّ گھنٹے ایک چھاگل پانی اور سوکھی روٹی کے چند ٹکڑوں پر گزارا کرتے تھے۔ یہ وہ موقع تھا، جب گولڈہ مائیر کا انٹرویو نگار قائل ہو گیا کہ۔۔

    ”تاریخ فتوحات گنتی ہے، دستر خوان پر پڑے انڈے، جیم اور مکھن نہیں۔

    گولڈہ مائیر کے انٹرویو نگار کا اپنا انٹرویو جب کتابی شکل میں شائع ہوا تو دنیا اس ساری داستان سے آگاہ ہوئی ۔ یہ حیرت انگیز واقعہ تاریخ کے دریچوں سے جھانک جھانک کر مسلمانان عالم کو جھنجھوڑ رہا ہے، بیداری کا درس دے رہا ہے، ہمیں سمجھا رہا ہے کہ ادھڑی عباؤں اور پھٹے جوتوں والے گلہ بان، چودہ سو برس قبل کس طرح جہاں بان بن گئے؟

    ان کی ننگی تلوار نے کس طرح چار براعظم فتح کر لئے؟ اگر پُرشکوہ محلات، عالی شان باغات، زرق برق لباس، ریشم و کمخواب سے آراستہ و پیراستہ آرام گاہیں، سونے، چاندی، ہیرے اور جواہرات سے بھری تجوریاں، خوش ذائقہ کھانوں کے انبار اور کھنکھناتے سکوں کی جھنکار ہمیں بچا سکتی تو تاتاریوں کی ٹڈی دل افواج بغداد کو روندتی ہوئی معتصم باللہ کے محل تک نہ پہنچتی۔

    آہ ! وہ تاریخِ اسلام کا کتنا عبرت ناک منظر تھا جب معتصم باللہ ، آہنی زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا ، چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان کے سامنے کھڑا تھا۔ کھانے کا وقت آیا تو ہلاکو خان نے خود سادہ برتن میں کھانا کھایا اور خلیفہ کے سامنے سونے کی طشتریوں میں ہیرے اور جواہرات رکھ دئیے۔ پھر معتصم سے کہا۔:
    ’’جو سونا چاندی تم جمع کرتے تھے اُسے کھاؤ!‘‘۔
    بغداد کا تاج دار بے چارگی و بے بسی کی تصویر بنا کھڑا تھا، بولا:
    ’’میں سونا کیسے کھاؤں؟‘‘
    ہلاکو نے فوراً کہا
    ’’پھر تم نے یہ سونا چاندی جمع کیوں کیا تھا؟‘‘ ۔

    وہ مسلمان جسے اُسکا دین ہتھیار بنانے اور گھوڑے پالنے کیلئے ترغیب دیتا تھا، کچھ جواب نہ دے سکا۔ ہلاکو خان نے نظریں گھما کر محل کی جالیاں اور مضبوط دروازے دیکھے اور سوال کیا: ’’تم نے اِن جالیوں کو پگھلا کر آہنی تیر کیوں نہ بنائے ؟ تم نے یہ جواہرات جمع کرنے کی بجائے اپنے سپاہیوں کو رقم کیوں نہ دی، تاکہ وہ جانبازی اور دلیری سے میری افواج کا مقابلہ کرتے؟‘‘۔
    خلیفہ نے تاسف سے جواب دیا۔
    ’’اللہ کی یہی مرضی تھی‘‘۔
    ہلاکو نے کڑک دار لہجے میں کہا: ’’ پھر جو تمہارے ساتھ ہونیوالا ہے ، وہ بھی خدا کی مرضی ہوگی۔‘‘۔

    پھر ہلاکو خان نے معتصم باللہ کو مخصوص لبادے میں لپیٹ کر گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روند ڈالا، بغداد کو قبرستان بنا ڈالا۔ ہلاکو نے کہا ’’ آج میں نے بغداد کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا ہے اور اَب دنیا کی کوئی طاقت اسے پہلے والا بغداد نہیں بنا سکتی۔‘‘۔

    تاریخ تو فتوحات گنتی ہے ۔ محل، لباس، ہیرے، جواہرات لذیز کھانے نہیں۔ اگر ہم ذرا سی بھی عقل و شعور سے کام لیتے تو برصغیر میں مغلیہ سلطنت کا آفتاب کبھی غروب نہ ہوتا۔ اندازہ کرو جب یورپ کے چپے چپے پر تجربہ گاہیں اور تحقیقی مراکز قائم ہو رہے تھے۔ تب یہاں ایک شہنشاہ دولت کا سہارا لیکر اپنی محبت کی یاد میں تاج محل تعمیر کروا رہا تھا۔ جب مغرب میں علوم و فنون کے بم پھٹ رہے تھے۔ تب یہاں تان سین جیسے گوئیے نئے نئے راگ ایجاد کر رہے تھے۔ جب انگریزوں، فرانسیسیوں اور پرتگالیوں کے بحری بیڑے برصغیر کے دروازوں پر دستک دے رہے تھے، ہمارے اَرباب و اختیار شراب و کباب اور طاؤس و رباب سے مدہوش پڑے تھے۔ تن آسانی، عیش کوشی اور عیش پسندی نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔

    ہمارا بوسیدہ اور دیمک زدہ نظام بکھر گیا، کیونکہ تاریخ کو اِس بات سے کوئی غرض نہیں ہوئی کہ حکمرانوں کی تجوریاں بھری ہیں یا خالی؟ شہنشاہوں کے تاج میں ہیرے جڑے ہیں یا نہیں ؟ درباروں میں خوشامدیوں، مراثیوں، طبلہ نوازوں اور وظیفہ خوار شاعروں کا جھرمٹ ہے یا نہیں ؟ یاد رکھیے! تاریخ کو صرف کامیابیوں سے غرض ہوتی ہے اور تاریخ عُذر قبول نہیں کرتی۔

    افسوس صد افسوس!
    سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک یہودی عورت نے تو سبق حاصل کر لیا۔ مگر مسلمان اِس پہلو سے نا آشنا رہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی، علوم و فنون پر دسترس رکھنے کی بجائے لاحاصل بحثوں اور غیر ضرروی کام میں مگن رہے۔ چنانچہ زوال ہمارا مقدر ٹھہرا۔ تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے..

    ماخوذ: سوشل میڈیا وائرل پوسٹ

  • واٹس ایپ پرائیویسی پالیسی کو قبول نہ کرنیوالے صارفین کے اکاؤنٹس کیساتھ کیا ہوگا؟

    واٹس ایپ پرائیویسی پالیسی کو قبول نہ کرنیوالے صارفین کے اکاؤنٹس کیساتھ کیا ہوگا؟

    واٹس ایپ نے اپنی متنازعہ پرائیویسی پالیسی کو 15 مئی سےلاگو کردیا ہے-

    باغی ٹی وی :رواں سال 4 جنوری کو واٹس ایپ نے صارفین کے لیے نئی پرائیویسی پالیسی متعارف کرائی جس میں کچھ شرائط متنازع تھی، ان شرائط کے سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں واٹس ایپ کے لاکھوں صارفین اس کے حریف میسجنگ پلیٹ فارمز ٹیلی گرام، سنگل وغیرہ کو استعمال کرنے لگے۔

    بعد ازاں واٹس ایپ نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا جس میں اس نئی پالیسی کے متعلق پھیلنے والی افواہوں کی تردید کی گئی تاہم صارفین کی تمام تر مخالفت اور تنقید کے باوجود بالآخرواٹس ایپ نے تین دن قبل اس پالیسی کودنیا بھرمیں موجود صارفین پرلاگو کردیا ہے۔

    واٹس ایپ کا صارفین کو نئی پرائیویسی پالیسی پر نظر ثانی کا موقع

    جن صارفین نے اب تک اس پالیسی کو قبول نہیں کیا ہے ان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس کے ساتھ کیا ہوگا یہ بات ابھی تک غیر یقینی تھی تاہم واٹس ایپ نے اپنے حالیہ بیان میں نئی شرائط کو قبول نہ کرنے والے اکاؤنٹس کے بارے میں تفصیلی بیان جاری کردیا ہے۔ جس کے مطابق صارفین کا اکاؤنٹ ڈیلیٹ نہیں ہوگا-

    واٹس ایپ پرائیویسی پالیسی:صارفین کے رد عمل نے واٹس ایپ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر…

    کمپنی کا کہنا ہے کہ 15 مئی کے بعد بھی پالیسی قبول نہ کرنے والے صارفین کے اکاؤنٹس نہ ہی ختم کیے جائیں اورنہ ہی واٹس ایپ کی کارکردگی میں فرق پڑے گا۔

    اگر چہ کمپنی شرائط قبول نہ کرنے والے اکاؤنٹس کو ختم نہیں کر رہی لیکن، صارفین کو ایک مخصوص مدت کے بعد یاد دہانی کا نوٹیفیکیشن اس وقت تک ملتا رہے گا جب تک صارف نئی شرائط کو قبول نہیں کرلیتا۔

    پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی:واٹس ایپ کی دو بہترین متبادل ایپس دستیاب

    جب تک آپ نئی اپ ڈیٹس کو قبول نہیں کر لیتے اس وقت تک آپ کو واٹس ایپ کے افعال محدود ہونے کا سامنا کرنا پڑے گا استعمال کنندگان اپنی چیٹ لسٹ تک رسائی کے اہل نہیں ہوں گے، تاہم وہ وائس اورویڈیو کالز کا جواب دے سکتے ہیں۔

    تاہم ایسے صارفین جنہوں نے نوٹیفیکیشن کےفیچر کو موثر رکھا ہوا ہےوہ نوٹیفیکیشن میں آنے والے پیغامات کو پڑھنے، جواب دینے کے ساتھ مِسڈ کالز کا جواب بھی دے سکتے ہیں۔

    واٹس ایپ کے سربراہ کا نئی پرائیویسی پا لیسی پر وضاحتی بیان

    کمپنی کی نئی شرائط کے حوالے سے وضح کردہ FAQ(زیادہ پوچھے جانے والے سوالات) میں واضح لکھا ہوا ہے کہ کمپنی کچھ ہفتوں بعد ایسے صارفین کو کال اور پیغامات بھیجنے کا سلسلہ بھی بند کردے گی۔

    ایسے صارفین جو نئی پرائیویسی اپ ڈیٹ کو قبول نہیں کرنا چاہتے تو وہ اینڈرائیڈ یا آئی فون پر موجود اپنی چیٹ ہسٹری کو ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ اگر آپ نے واٹس ایپ اکاؤنٹ ڈیلیٹ کردیا تو پھرآپ اپنی چیٹ ہسٹری اور بیک اپ کو دوبارہ حاصل نہیں کر سکتے۔

    واٹس ایپ نے اپنی نئی پرائیویسی پالیسی کے نوٹیفیکشنز بھیجنے کا سلسلہ شروع کر دیا

    واٹس ایپ چیٹ کو محفوظ بنانے کے چار طریقے