Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • اسدعمرکی زیرصدارت این سی او سی کااجلاس،24 مئی سےتعلیمی ادارے،ریسٹورنٹس اورسیاحت کھولنے کا اعلان

    اسدعمرکی زیرصدارت این سی او سی کااجلاس،24 مئی سےتعلیمی ادارے،ریسٹورنٹس اورسیاحت کھولنے کا اعلان

    این سی او سی : رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر اسد عمر کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا اجلاس

    باغی ٹی وی : ‏این سی او سی کا 24 مئی سے تعلیمی ادارے، ریسٹورنٹس اور سیاحت کھولنے کا اعلان

    این سی او سی کے مطابق 5 فیصد سے کم کورونا کیسز والے اضلاع میں تعلیمی ادارے 24 مئی سے کھولے جائیں گے-

    اجلاس میں این سی او سی نے کہا کہ ریسٹورنٹس کو آوٹ ڈور ڈائننگ کی اجازت ہو گی ‏ریسٹورنٹس رات 12بجےتک کھلےرہیں گے ‏ٹیک اوے کی اجازت 24 گھنٹے کے لیے ہوگی، این سی او سی

    این سی او سی کی ایس او پی کے مطابق ‏یکم جون سے شادی ہالز کو آؤٹ ڈور تقریبات کی اجازت ہوگی ‏شادی کی تقریب میں 150 افراد حصہ لے سکیں گے-

    ‏این سی او سی نے کہا کہ 7 جون سے تمام تعلیمی ادارے کھل جائیں گے ‏یکم جون سے کھولے جانے والے شعبوں کا حتمی جائزہ 27 مئی کو لیا جائے گا-

    ‏مزار، سینما گھر، ریسٹورنٹس کے اندر بیٹھ کر کھانا کھانے پر پابندیاں ہوگی ‏اسپورٹس، میلوں اور ثقافتی تقریبات پر بھی پابندیاں برقرار رکھی جائیں گی-

    ‏ان ڈور اور آؤٹ ڈور موسیقی، ثقافتی اور مذہبی تقریبات پر مکمل پابندی رہے گی ‏ہفتہ اور اتوار کو صوبوں کے درمیان ٹرانسپورٹ کی پابندی بھی جاری رہے گی ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا-

  • پاکستان میں مزید 4 ہزار 207 افراد کورونا کا شکار اموات میں بھی اضافہ

    پاکستان میں مزید 4 ہزار 207 افراد کورونا کا شکار اموات میں بھی اضافہ

    پاکستان میں کرونا کی لہر میں شدت،24 گھنٹوں میں131 اموات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر جاری ہے، کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے ملک بھر میں کورونا سے اموات کا اموات کا سلسلہ جاری ہے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا سے مزید 131 اموات ہوئی ہیں-


    این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز کورونا کے 51 ہزار130 ٹیسٹ کئے گئے4 ہزار207 نئے کیس سامنے آ گئے۔ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریبا 8.22 فی صد رہی۔

    پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 19 ہزار778 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 8 لاکھ 84 ہزار581 ہو چکی ہے۔

    کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے پاکستان کے 26 اضلاع ہائی رسک قرار دیئے گئے ہیں-

    خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا کی ویکسینیشن جاری ہے اور چوتھے مرحلے میں40 تا 49 سال کے درمیان عمر والے افراد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے جبکہ 18 سال سے زائد عمر کے افراد کی ویکسین کی رجسٹریشن جاری ہے-

  • مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کرنے کے یہودی ہتھکنڈے   بقلم : عمران محمدی

    مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کرنے کے یہودی ہتھکنڈے بقلم : عمران محمدی

    یہود کا بھیانک چہرہ

    بقلم
    عمران محمدی
    ( عفا اللہ عنہ )

    ===========

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    لَـتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّـلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡا‌ ۚ وَلَـتَجِدَنَّ اَ قۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّـلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى‌ ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ‏

    یقینا تو ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں، سب لوگوں سے زیادہ سخت عداوت رکھنے والے یہود کو اور ان لوگوں کو پائے گا جنھوں نے شریک بنائے ہیں اور یقینا تو ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں، ان میں سے دوستی میں سب سے قریب ان کو پائے گا جنھوں نے کہا بیشک ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس لیے کہ بیشک ان میں علماء اور راہب ہیں اور اس لیے کہ بیشک وہ تکبر نہیں کرتے۔
    المائدة – آیت 82

    ایک قوم جو ڈاکو، غاصب اور ظالم قوم ہے
    جن کی تاریخ وحشت و بربریت سے بھری پڑی ہے
    جس نے اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس پر بھی کیچڑ اچھالا، اللہ کو کبھی بخیل کہا تو کبھی فقیر
    وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ،المائدہ 64
    اور
    قَالُوا إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ، آل عمران 81

    جس نے حضراتِ انبیاء علیہم السلام تک کو معاف نہیں کیا
    کتنے ہی انبیاء کو قتل اور کتنوں کو تکلیفیں پہنچانے والی قوم

    ایک ایسی قوم کہ جن کے ہاتھ ہزاروں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے خون سے رنگین ہیں

    جنہوں نے ہزاروں اولیاء، علماء ائمہ ومحدثین کو قتل کیا

    جو پہلے دن سے آج تک مسلمانوں کے خلاف مشرکین اور نصارٰی کو جنگوں پر ابھارتی چلی آ رہی ہے

    ایک ایسی قوم کہ جنہوں نے اپنی کتاب تک کو معاف نہ کیا اور اس میں من مانی تبدیلیاں کر ڈالیں

    آئیے اہل یہود کے اہل حق کے خلاف بھیانک تاریخی چہرے سے پردہ اٹھاتے ہیں

    یوسف علیہ السلام اور یہود

    قرآن نے یوسف علیہ السلام کے خلاف ان کے بھائیوں کی پلاننگ کا ذکر کیا ہے کہ
    یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے کہا یقینا یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کے ہاں ہم سے زیادہ پیارے ہیں، حالانکہ ہم ایک قوی جماعت ہیں۔
    لہذا یا تو یوسف کو قتل کردو، یا اسے کسی زمین میں پھینک دو ، تاکہ تمہارے باپ کا چہرہ تمہارے لیے اکیلا رہ جائے گا اور اس کے بعد تم نیک لوگ بن جانا۔
    انہوں نے یوسف کے قتل کی پلاننگ بنائی اور اپنے باپ سے کہنے لگے کہ
    اے ابا جان ❗اسے کل ہمارے ساتھ بھیج کہ چرے چگے اور کھیلے کودے اور بیشک ہم ضرور اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
    باپ نے ان کی حرکات کو بھانپتے ہوئے کہا کہ یقینا مجھے یہ بات غمگین کرتی ہے کہ تم اسے لے جاؤ
    بہرحال انہوں نے ضد کی اور بالآخر جب وہ اسے لے گئے تو انھوں نے طے کرلیا کہ اسے اندھے کنویں میں ڈال دیں اور یوں وہ اپنی طرف سے یوسف علیہ السلام کا کام تمام کرنے اور انہیں کنویں میں ڈالنے کے بعد اپنے باپ کے پاس اندھیرے میں روتے ہوئے آئے۔

    یہود کی اپنے محسن اور نبی، موسی علیہ السلام کو اذیتیں

    یہ بات زہن نشین کر لیں کہ موسیٰ علیہ السلام یہود کے لیے عظیم محسن کی حیثیت رکھتے ہیں انہوں نے یہود کی خاطر لمبی مدت تک فرعون سے تکلیفیں جھیلیں، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے انھیں فرعون کی غلامی سے نجات اور آزادی کی نعمت عطا فرمائی۔ جس کی دعا سے انھیں من و سلویٰ ملتا تھا، بادلوں کا سایہ میسر تھا اور ان کے لیے پانی کے بارہ چشمے جاری ہوئے اور پانی ہی میں راستے بنے
    مگر یہود، کہ جن کی فطرت میں شرارت، عناد اور مخالفت رچی بسی ہے، نے ہرموقع پر جناب موسی علیہ السلام کی مخالفت اور تکلیف کا خوب ساماں کیا
    اللہ تعالیٰ نے فرمایا
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا
    اے لوگو جوایمان لائے ہو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائو جنھوں نے موسیٰ کو تکلیف پہنچائی تو اللہ نے اسے اس سے پاک ثابت کر دیا جو انھوں نے کہا تھا اور وہ اللہ کے ہاں بہت مرتبے والا تھا۔
    الأحزاب : 69

    موسی علیہ السلام کے خلاف یہود کی خباثتوں کے چند نمونے

    یہود لوگوں کا شریر رویہ موسیٰ علیہ السلام کے لیے سخت تکلیف دہ تھا
    عموماً وہ موسی علیہ السلام کا حکم ماننے سے صاف انکار کر دیتے تھے
    مثلاً :

    1 موسی علیہ السلام نے انہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا تو کہنے لگے
    « لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً »
    [ البقرۃ : ۵۵ ]

    2 اور جہاد کرتے ہوئے بیت المقدس میں داخل ہونے کا حکم دیا تو کہنے لگے
    : «لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِيْهَا»
    [ المائدۃ : ۲۴ ]

    3 جب ان سے کہا گیا:
    « وَ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ»
    ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو جاؤ اور کہو بخش دے۔‘‘
    تو انھوں نے اسے بدل دیا اور اپنے سرینوں پر گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور کہنے لگے :
    [ حَبَّةٌ فِيْ شَعْرَةٍ ]
    ’’دانہ بالی میں۔‘‘
    [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، بابٌ : ۳۴۰۳۔ مسلم : ۳۰۱۵ ]

    4 گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو کہنے لگے
    ’’ اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا ‘‘
    پھر گائے کی کیفیت کے متعلق سوال پر سوال داغتے رہے۔

    5 موسی علیہ السلام کے بھائی ھارون علیہ السلام نے بچھڑے کی عبادت سے منع کیا تو کہنے لگے :
    « لَنْ نَّبْرَحَ عَلَيْهِ عٰكِفِيْنَ حَتّٰى يَرْجِعَ اِلَيْنَا مُوْسٰى»
    [ طٰہٰ : ۹۱ ]
    ’’ہم اسی پر مجاور بن کر بیٹھے رہیں گے، یہاں تک کہ موسیٰ ہماری طرف واپس آئے۔‘‘

    6 ہفتے کے دن مچھلیاں پکڑنے سے منع کیا تو باز رہنے کی بجائے ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا اور پوری ڈھٹائی کے ساتھ مچھلیاں پکڑتے رہے
    تو اللہ تعالیٰ نے بندر بنا دیا
    فرمایا
    فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَا نُهُوا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ
    پھر جب وہ اس بات میں حد سے بڑھ گئے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا تو ہم نے ان سے کہہ دیا کہ ذلیل بندر بن جاؤ۔
    الأعراف : 166

    7 چربی کھانے سے منع کیا تو پگھلا کر بیچنے لگے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا
    بخاری 2110

    8 اپنی آنکھوں سے دریا میں راستے بنتے دیکھے پھر ان راستوں پر چلے پھر انہیں راستوں پر فرعونی لشکر ڈوبتے ہوئے دیکھا
    مگر اتنے بڑے معجزے کے باوجود دریا کی دوسری جانب پہنچے تو ایسے لوگوں پر آئے جو اپنے کچھ بتوں پر جمے بیٹھے تھے تو انہیں دیکھتے ہی کہنے لگے

    يَا مُوسَى اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ
    اے موسیٰ! ہمارے لیے کوئی معبود بنا دے، جیسے ان کے کچھ معبود ہیں؟ اس نے کہا بے شک تم ایسے لوگ ہو جو نادانی کرتے ہو۔
    الأعراف : 138

    9 فرعون سے نجات پانے کے بعد جب صحرائے سینا میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو چالیس دن رات کے لیے طور پر بلایا تو انہوں نے موسی علیہ السلام کے جانے کے بعد ایک بچھڑا بنا کر اس کی پوجا شروع کر دی

    وَإِذْ وَاعَدْنَا مُوسَى أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَنْتُمْ ظَالِمُونَ
    اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کی میعاد مقرر کی، پھر اس کے بعد تم نے بچھڑا بنا لیا اور تم ظالم تھے۔
    البقرة : 51

    10 کتاب اللہ میں تحریف کرتے ہوئے اپنی من مانی سے جو چاہتے جمع تفریق کردیتے

    مِنَ الَّذِينَ هَادُوا يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ
    نساء :46

    11 بہت زیادہ جھوٹی اور حرام خور قوم
    فرمایا اللہ تعالیٰ نے
    سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ أَكَّالُونَ لِلسُّحْتِ
    بہت سننے والے ہیں جھوٹ کو، بہت کھانے والے ہیں حرام کو
    المائدہ : 42

    12 لوگوں کے مال ناجائز کھانے والی قوم
    وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا
    اور ان کے سود لینے کی وجہ سے، حالانکہ یقینا انھیں اس سے منع کیا گیا تھا اور ان کے لوگوں کے اموال باطل طریقے کے ساتھ کھانے کی وجہ سے اور ہم نے ان میں سے کفر کرنے والوں کے لیے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
    النساء : 161

    13 ایسی ضدی اور عناد پرست قوم کہ ان کے سر پر کوہ طور کھڑا کر کے وعدہ لیا گیا مگر اس کے باوجود انہوں نے بعد میں اسے توڑ دیا

    وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
    اور جب ہم نے تمھارا پختہ عہد لیا اور تمھارے اوپر پہاڑ کو بلند کیا۔ پکڑو قوت کے ساتھ جو ہم نے تمھیں دیا ہے اور جو اس میں ہے اسے یاد کرو، تاکہ تم بچ جاؤ۔
    البقرة : 63
    ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَكُنْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ
    پھر تم اس کے بعد پھر گئے تو اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو یقینا تم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوتے۔
    البقرة : 64

    14 دعوت حق اور نبی آخر الزماں کو اپنے بیٹوں کی طرح بغیر شک و شبہ، پہچاننے کے باوجود محض ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ماننے سے انکار کر دیا

    الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمُ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
    وہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دی وہ اسے پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ وہ لوگ جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا، سو وہ ایمان نہیں لاتے۔
    الأنعام : 20

    موسی علیہ السلام نے تنگ آکر یہود سے علیحدگی اختیار کرنے کی دعا کی

    قَالَ رَبِّ إِنِّي لَا أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِي وَأَخِي فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ
    اس نے کہا اے میرے رب ! بیشک میں اپنی جان اور اپنے بھائی کے سوا کسی چیز کا مالک نہیں، سو تو ہمارے درمیان اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان علیحدگی کر دے۔
    المائدة : 25

    انبیاء کرام کو قتل کرنا اور تنگ کرنا یہود کی پرانی عادت ہے

    جیسا کہ قرآن میں موجود ہے
    قُلۡ فَلِمَ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۡـــۢبِيَآءَ اللّٰهِ مِنۡ قَبۡلُ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ
    اے نبی ❗آپ ان یہودیوں سے کہہ دیجئے کہ اس سے پہلے تم اللہ کے نبیوں کو کیوں قتل کیا کرتے تھے، اگر تم مومن تھے ؟
    البقرة أيت 91

    اور فرمایا
    وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ
    اور وه نبیوں کو حق کے بغیر قتل کرتے تھے
    البقرة :61

    عیسی علیہ السلام اور یہود

    عیسی علیہ السلام کے متعلق تو یہودی لوگ برملا علی الإعلان کہتے ہیں کہ ہم نے ہی عیسی کو قتل کیا ہے
    جیسا کہ ان کی یہ بات اللہ تعالٰی نے قرآن میں نقل کی ہے
    وَّقَوۡلِهِمۡ اِنَّا قَتَلۡنَا الۡمَسِيۡحَ عِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ رَسُوۡلَ اللّٰهِ‌ ۚ وَمَا قَتَلُوۡهُ وَمَا صَلَبُوۡهُ وَلٰـكِنۡ شُبِّهَ لَهُمۡ‌ ؕ

    اور ان کے یہ کہنے کی وجہ سے کہ بلاشبہ ہم نے ہی مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کیا، جو اللہ کا رسول تھا، حالانکہ نہ انھوں نے اسے قتل کیا اور نہ اسے سولی پر چڑھایا اور لیکن ان کے لیے اس (مسیح) کا شبیہ بنادیا گیا ۔

    محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف یہود کی سازشیں

    زہریلے گوشت کے ذریعے آپ کو شہید کرنے کی کوشش

    ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہود کے ہاتھوں شہادت نصیب ہوئی

    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے
    أَنَّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا فَجِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ أَرَدْتُ لِأَقْتُلَكَ قَالَ مَا كَانَ اللَّهُ لِيُسَلِّطَكِ عَلَى ذَاكِ قَالَ أَوْ قَالَ عَلَيَّ قَالَ قَالُوا أَلَا نَقْتُلُهَا قَالَ لَا قَالَ فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

    کہ ایک یہودی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زہر آلود ( پکی ہوئی ) بکری لے کر آئی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ ( گوشت کھایا ) ( آپ کو اس کے زہر آلود ہونے کاپتہ چل گیا ) تو اس عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایاگیا ، آپ نے اس عورت سے اس ( زہر ) کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا : ( نعوذ باللہ! ) میں آپ کو قتل کرنا چاہتی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا کہ تمھیں اس بات پر تسلط ( اختیار ) دے دے ۔ ” انھوں ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نےکہا : یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( تمھیں ) مجھ پر ( تسلط دے دے ۔ ) ” انھوں ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی : کیا ہم اسے قتل نہ کردیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : ” نہیں ۔ ” انھوں ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : تو میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےدہن مبارک کے اندرونی حصے میں اسکے اثرات کو پہچانتاہوں ۔
    مسلم 5705

    عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں جس میں فوت ہوئے فرماتے تھے :
    [ يَا عَائِشَةُ ! مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِيْ أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ فَهٰذَا أَوَانُ وَجَدْتُّ انْقِطَاعَ أَبْهَرِيْ مِنْ ذٰلِكَ السُّمِّ ]
    ’’میں ہمیشہ اس کھانے کی تکلیف محسوس کرتا رہا جو میں نے خیبر میں کھایا تھا اور یہ وقت ہے کہ میں نے اس زہر سے اپنی دل کی رگ کا کٹ جانا محسوس کیا ہے۔ ‘‘
    [ بخاری، المغازی، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ : ۴۴۲۸ ]

    یہود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر پتھر گرا کر آپ کو شہید کرنے کی کوشش کی

    یہود کے بڑے قبیلے بنو نضیر کے قلعے مدینہ کے مشرق کی جانب کئی میل کے فاصلے پر تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دیت کے سلسلے میں تعاون حاصل کرنے کے لیے وہاں پہنچے تو انہوں نے کہا : ” ہاں، اے ابو القاسم ! جیسے آپ پسند فرمائیں گے ، ہم ہر طرح سے آپ کی مدد کریں گے “۔ ادھر آپ سے ہٹ کر انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس سے بہتر موقع کب ہاتھ لگے گا ، اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے قبضے میں ہیں ، آؤ کام تمام کر ڈالو ، چناچہ یہ مشورہ ہوا کہ جس دیوار سے آپ لگے بیٹھے ہیں اس گھر کی چھت پر کوئی چڑھ جائے اور وہاں سے بڑا سا پتھر آپ پر پھینک دے اور ہماری جان ان سے چھڑا دے۔
    عمرو بن جحاش بن کعب نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور چھت پر چڑھ گیا ۔ چاہتا تھا کہ پتھر لڑھکا دے ، اتنے میں اللہ تعالیٰ نے جبریل (علیہ السلام) کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا اور حکم دیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہاں سے اٹھ کھڑے ہوں ۔ چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوراً اٹھ گئے ، آپ کے ساتھ اس وقت آپ کے صحابہ کی ایک جماعت بھی تھی ، جن میں ابوبکر و عمر اور علی (رض) بھی تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں سے فوراً مدینہ کی طرف چل پڑے۔ ادھر جو صحابہ آپ کے ساتھ نہیں تھے اور مدینہ میں آپ کے منتظر تھے ، وہ آپ کے دیر کردینے کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ڈھونڈنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ اس دوران انہیں مدینہ سے آنے والے ایک آدمی نے بتایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ پہنچ گئے ہیں ، چناچہ وہ صحابہ واپس پلٹ آئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچ گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں اپنے ساتھ یہود کے غدر کی بات بتائی اور ان کے ساتھ جنگ کی تیاری کا حکم دے دیا اور صحابہ کو لے کر ان کی طرف چل پڑے۔ یہود لشکروں کو دیکھ کر اپنے قلعوں میں قلعہ بند ہوگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا محاصرہ کرلیا ، اور انہیں مدینہ منورہ سے جلا وطن کر دیا “۔ ( ابن کثیر) ۔

    یہود کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر جادو

    بنی زریق کے ایک شخص یہودی لبید بن اعصم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا تھا اور اس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کے متعلق خیال کرتے کہ آپ نے وہ کام کر لیا ہے حالانکہ آپ نے وہ کام نہ کیا ہوتا۔ ایک دن یا ( راوی نے بیان کیا کہ ) ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف رکھتے تھے اور مسلسل دعا کر رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ! تمہیں معلوم ہے اللہ سے جو بات میں پوچھ رہا تھا، اس نے اس کا جواب مجھے دے دیا۔ میرے پاس دو ( فرشتے جبرائیل و میکائیل علیہما السلام ) آئے۔ ایک میرے سر کی طرف کھڑا ہو گیا اور دوسرا میرے پاؤں کی طرف۔ ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے پوچھا ان صاحب کی بیماری کیا ہے؟ دوسرے نے کہا کہ ان پر جادو ہوا ہے۔ اس نے پوچھا کس نے جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے۔ پوچھا کس چیز میں؟ جواب دیا کہ کنگھے اور سر کے بال میں جو نر کھجور کے خوشے میں رکھے ہوئے ہیں۔ سوال کیا اور یہ جادو ہے کہاں؟ جواب دیا کہ زروان کے کنویں میں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں پر اپنے چند صحابہ کے ساتھ تشریف لے گئے اور جب واپس آئے تو فرمایا عائشہ! اس کا پانی ایسا ( سرخ ) تھا جیسے مہندی کا نچوڑ ہوتا ہے اور اس کے کھجور کے درختوں کے سر ( اوپر کا حصہ ) شیطان کے سروں کی طرح تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے اس جادو کو باہر کیوں نہیں کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے عافیت دے دی اس لیے میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اب میں خواہ مخواہ لوگوں میں اس برائی کو پھیلاؤں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جادو کا سامان کنگھی بال خرما کا غلاف ہوتے ہیں اسی میں دفن کرا دیا
    بخاری 5763

    یہود کا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو مذاق کرنا

    مسلمان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو متوجہ کرنے کے لیے لفظ( راعنا)استعمال کرتے تھے جب یہودیوں نے دیکھا تو وہ بھی اس لفظ کے ساتھ آپ کو مخاطب کرنے لگے ، مگر زبان کو پیچ دے کر لفظ بدل دیتے، جس سے وہ لفظ گالی بن جاتا۔ یعنی وہ ” رَاعِنَا “ کی بجائے ” رَاعِیْنَا “ کہتے، جس کا معنی ” ہمارا چرواہا “ ہے۔
    یا وہ اسے رعونت سے اسم فاعل قرار دے کر ” رَاعِنًا “ کہتے جس کا معنی احمق ہے ، پھر آپس میں جا کر خوش ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آپ کے لیے یہ لفظ استعمال کرنے ہی سے منع فرما دیا اور ” انْظُرْنَا “ کہنے کا حکم دیا
    فرمایا
    يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقُوۡلُوۡا رَاعِنَا وَ قُوۡلُوا انۡظُرۡنَا وَاسۡمَعُوۡا ‌ؕ وَلِلۡڪٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ

    اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم رَاعِنَا (ہماری رعایت کر) مت کہو اور اُنْظُرْنَا (ہماری طرف دیکھ) کہو اور سنو۔ اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے

    یہود کا حمایت یافتہ ایجنٹ عبداللہ بن ابی اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں

    عبداللہ بن ابی رئیس المنافقين اور یہود کے باہمی روابط بہت زیادہ تھے اور دونوں اسلام اور اہلیان اسلام کے خلاف ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور مشاورت کیا کرتے تھے اہل یہود نے بہت سے مواقع پر عبداللہ بن ابی کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا ہے
    حتی کہ قرآن میں اللہ تعالٰی نے دونوں کو بھائی قرار دیا ہے یعنی یہود اور منافقین آپس میں مسلمانوں کے خلاف بھائیوں کی طرح تعاون کرتے ہیں

    فرمایا
    اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ نَافَقُوۡا يَقُوۡلُوۡنَ لِاِخۡوَانِهِمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ

    کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھوں نے منافقت کی، وہ اپنے ان بھائیوں سے کہتے ہیں جنھوں نے اہل کتاب میں سے کفر کیا، ۔
    الحشر 11
    اس آئت میں بالاتفاق اہل کتاب سے مراد یہود اور( الذین نافقوا )سے مراد عبداللہ بن ابی اور اس کی جماعت کے لوگ ہیں

    ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت
    غزوہ احد کے موقعہ پر عین میدان جنگ سے اپنے لوگوں کو واپس لے جانا
    لیخرجن الاعز منھا الاذل جیسے جملے بولنا
    خیبر کے یہودیوں کو مسلمانوں کے حملہ آور ہونے کی ایڈوانس خبر دینا

    یہ سب کام یہود کے ساتھ گٹھ جوڑ رکھنے والے اسی عبداللہ بن ابی کے ہی تھے

    منافقین اور یہود، دونوں کی مسلمانوں سے نفرت حسد کی وجہ سے تھی

    یہود کا حسد اس وجہ سے تھا کہ وہ اس انتظار میں تھے کہ آخری آنے والے رسول انہیں کے خاندان یعنی بنی اسرائیل سے ہونگے لیکن جب آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسماعیل سے آگئے تو وہ خاندانی رقابت اور حسد کا شکار ہو کر حق کا انکار کر بیٹھے
    جیسا کہ قرآن میں موجود ہے
    حَسَدًا مِّنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِهِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الۡحَـقُّ‌ ۚ
    اپنے دلوں کے حسد کی وجہ سے، اس کے بعد کہ ان کے لیے حق خوب واضح ہوچکا۔
    اور
    عبداللہ بن ابی کا حسد اس وجہ سے تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے مدینہ منورہ میں تشریف لانے سے پہلے اوس اور خزرج کے لوگ مشترکہ طور پر عبداللہ بن ابی کو اپنا لیڈر منتخب کر چکے تھے بس اعلان باقی تھا جس کے لیے تاج پوشی کی تاریخ مقرر کرنے والے ہی تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے اور عبداللہ بن ابی کی سرداری کا خواب ادھورے کا ادھورا ہی رہ گیا اور یوں وہ مسلمانوں کے خلاف حسد کا شکار ہو گیا
    اب اس مشترکہ وصف کی بنیاد پر یہود اور منافقین مل کر مسلمانوں کے خلاف صف آراء ہونے لگے

    یہود کی طرف سے ایک مسلمان عورت کو بے پردہ کرنے کی کوشش

    ابن ہشام نے ابوعون سے روایت کی ہے کہ ایک عرب عورت بنوقینقاع کے بازار میں کچھ سامان لے کر آئی اور بیچ کر (کسی ضرورت کے لیے)ایک سنار کے پاس ، جو یہودی تھا، بیٹھ گئی۔ یہودیوں نے اس کا چہرہ کھلوانا چاہا مگر اس نے انکار کر دیا۔ اس پر اس سنار نے چپکے سے اس کے کپڑے کا نچلا کنارا اچھپلی طرف باندھ دیا اور اسے کچھ خبر نہ ہوئی۔ جب وہ اٹھی تو اس سے بے پردہ ہوگئی تو یہودیوں نے قہقہہ لگایا۔ اس پر اس عورت نے چیخ پکار مچائی جسے سن کر ایک مسلمان نے اس سنار پر حملہ کیا اور اسے مارڈالا۔ جوابا یہودیوں نے اس مسلمان پر حملہ کرکے اسے مارڈالا۔ اس کے بعد مقتول مسلمان کے گھروالوں نے شور مچایا اور یہود کے خلاف مسلمانوں سے فریاد کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اور بنی قینقاع کے یہودیوں میں بلوہ ہوگیا۔
    (ابن ہشام 2/ 47 ، 48)
    بحوالہ الرحیق المختوم ص327

    مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کرنے کے یہودی ہتھکنڈے

    کمزور ایمان والے مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے یہود مختلف سازشیں کرتے رہتے تھے، اس سلسلہ کی ان کی ایک سازش یہ بھی تھی کہ وہ اپنے خاص پڑھے لکھے نوجوانوں کو سپیشل اس کام کے لیے تیار کرتے تھے کہ صبح کے وقت قرآن اور پیغمبر پر ایمان کا اظہار کرو اور شام کو کفر و انحراف کا اعلان کر دو ، ممکن ہے یہ طریقہ اختیار کرنے سے بعض مسلمان بھی سوچنے لگیں کہ یہ پڑھے لکھے لوگ مسلمان ہونے کے بعد اس تحریک سے الگ ہوگئے ہیں تو آخر انھوں نے کوئی خرابی یا کمزور پہلو ضرور دیکھا ہوگا۔
    (ابن کثیر، شوکانی)
    ( تفسیر القرآن الکریم از استاذ گرامی حافظ عبد السلام بن محمد حفظہ اللہ تعالٰی )

    جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا
    وَقَالَتۡ طَّآٮِٕفَةٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِىۡۤ اُنۡزِلَ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡهَ النَّهَارِ وَاكۡفُرُوۡۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ‌‌ۚ‌ 

    اور اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کہا تم دن کے شروع میں اس چیز پر ایمان لاؤ جو ان لوگوں پر نازل کی گئی ہے جو ایمان لائے ہیں اور اس کے آخر میں انکار کردو، تاکہ وہ واپس لوٹ آئیں۔

    یہود تمام اہل اسلام کی ہلاکت کے خواہاں ہیں

    یہودیوں کی اسی طرح کی ایک اور کمینگی کا ذکر حدیث میں آیا ہے
     قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُلْ عَلَيْكَ

    کہ وہ ” السلام علیکم “ کے بجائے ” اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ “ کہتے، جس کا معنی ہے تم پر موت ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے جواب میں صرف ” عَلَیْکَ “ کہنے کا حکم دیا کہ وہ تمہیں پر ہو۔
    [ مسلم، السلام، باب النہی عن ابتداء ۔۔ : ٢١٦٤

    یہود کے نزدیک اہل اسلام دنیا کے بدترین لوگ ہیں

    عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ پہلے یہودی تھے بعد میں مسلمان ہو گئے انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! یہود انتہا کی جھوٹی قوم ہے۔ اگر آپ کے دریافت کرنے سے پہلے میرے اسلام قبول کرنے کے بارے میں انہیں علم ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مجھ پر ہر طرح کی تہمتیں دھرنی شروع کر دیں گے۔ چنانچہ کچھ یہودی آئے اور عبداللہ رضی اللہ عنہ گھر کے اندر چھپ کر بیٹھ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا تم لوگوں میں عبداللہ بن سلام کون صاحب ہیں؟ سارے یہودی کہنے لگے وہ ہم میں سب سے بڑے عالم اور سب سے بڑے عالم کے صاحب زادے ہیں۔ ہم میں سب سے زیادہ بہتر اور ہم میں سب سے بہتر کے صاحب زادے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، اگر عبداللہ مسلمان ہو جائیں تو پھر تمہارا کیا خیال ہو گا؟ انہوں نے کہا، اللہ تعالیٰ انہیں اس سے محفوظ رکھے۔ اتنے میں عبداللہ رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے اور کہا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اب وہ سب ان کے متعلق کہنے لگے کہ ہم میں سب سے بدترین اور سب سے بدترین کا بیٹا ہے، وہیں وہ ان کی برائی کرنے لگے۔
    بخاری 3329

    مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش

    ابن ِ اسحاق کا بیان ہے کہ ایک بوڑھا یہودی شاش بن قیس، ایک بار صحابۂ کرام کی ایک مجلس کے پاس سے گذرا ، جس میں اوس و خزرج دونوں ہی قبیلے کے لوگ بیٹھے باہم گفتگو کررہے تھے۔ اسے یہ دیکھ کر سخت رنج ہوا۔ کہنے لگا : ”اوہ ! ا س دیار میں بنو قَیلہ کے اشراف متحد ہوگئے ہیں۔ واللہ ! ان اشراف کے اتحاد کے بعد تو ہمارا یہاں گذر نہیں۔” چنانچہ اس نے ایک نوجوان یہودی کو جو اس کے ساتھ تھا حکم دیا کہ ان کی مجلس میں جائے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر پھر جنگ بعاث اور اس کے پہلے کے حالات کا ذکر کرے۔ اور اس سلسلے میں دونوں جانب سے جو اشعار کہے گئے ہیں کچھ ان میں سنائے۔ اس یہودی نے ایساہی کیا۔ اس کے نتیجے میں اوس وخزرج میں تو تو میں میں شروع ہوگئی۔ لوگ جھگڑنے لگے اور ایک دوسرے پر فخر جتانے لگے حتی ٰ کہ دونوں قبیلوں کے ایک ایک آدمی نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ردّ وقدح شروع کردی ، پھر ایک نے اپنے مدّ ِ مقابل سے کہا : اگر چاہو تو ہم اس جنگ کو پھر جوان کرکے پلٹا دیں – مقصد یہ تھا کہ ہم اس باہمی جنگ کے لیے پھر تیار ہیں جو اس سے پہلے لڑی جاچکی ہے- اس پر دونوں فریقوں کو تاؤ آگیا اور بولے : چلو تیار ہیں، حَرہ میں مقابلہ ہوگا — ہتھیا ر … ! ہتھیار …!
    اب لوگ ہتھیار لے کر حرہ کی طرف نکل پڑے، قریب تھا کہ خونریز جنگ ہوجاتی لیکن رسول اللہﷺ کو اس کی خبر ہوگئی۔ آپﷺ اپنے مہاجرین صحابہ کو ہمراہ لے کر جھٹ ان کے پاس پہنچے اور فرمایا :”اے مسلمانوں کی جماعت ! اللہ۔ اللہ۔ کیا میرے رہتے ہوئے جاہلیت کی پکار ! اور وہ بھی اس کے بعد کہ اللہ تمہیں اسلام کی ہدایت سے سرفراز فرماچکا ہے اور اس کے ذریعے تم سے جاہلیت کا معاملہ کا ٹ کر اور تمہیں کفر سے نجات دے کر تمہارے دلو ں کو آپس میں جوڑ چکا ہے۔” آپﷺ کی نصیحت سن کر صحابہ کو احساس ہوا کہ ان کی حرکت شیطا ن کا ایک جھٹکا اور دشمن کی ایک چال تھی ، چنانچہ وہ رونے لگے اور اوس وخزرج کے لوگ ایک دوسرے سے گلے ملے۔ پھر رسول اللہﷺ کے ساتھ اطاعت شعار وفرمانبردار بن کر اس حالت میں واپس آئے کہ اللہ نے ان کے دشمن شاش بن قیس کی عیاری کی آگ بجھادی تھی
    الرحیق المختوم ص324

    کعب بن اشرف یہودی اور مسلمانوں کی تکالیف

    یہودیوں میں یہ وہ شخص تھا جسے اسلام اور اہل ِ اسلام سے نہایت سخت عداوت اور جلن تھی۔ یہ نبیﷺ کو اذیتیں پہنچایا کرتا تھا اور آپﷺ کے خلاف جنگ کی کھلم کھلا دعوت دیتا پھرتا تھا
    اللہ کا یہ دشمن ، رسول اللہﷺ اور مسلمانوں کی ہجو اور دشمنانِ اسلام کی مدح سرائی بھی کیا کرتا تھا

    ایک دفعہ مسلمانوں کے خلاف جنگ بھڑکانے کے لیے قریش کے پاس پہنچا اور مطلب بن ابی وداعہ سہمی کا مہمان ہوا۔ پھر مشرکین کی غیرت بھڑکانے ، ان کی آتشِ انتقام تیز کرنے اور انہیں نبیﷺ کے خلاف آمادہ ٔ جنگ کرنے کے لیے اشعار کہہ کہہ کر ان سردارانِ قریش کا نوحہ وماتم شروع کردیا جنہیں میدان ِ بدر میں قتل کیے جانے کے بعد کنویں میں پھینک دیا گیا تھا

    اسی طرح وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عورتوں کے بارے میں واہیات اشعار بھی کہا کرتا تھا اور اپنی زبان درازی وبدگوئی کے ذریعے سخت اذیت پہنچاتا تھا

    یہی حالات تھے جن سے تنگ آکر رسول اللہﷺ نے فرمایا :”کون ہے جو کعب بن اشرف سے نمٹے؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دی ہے

    یہود نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ اور پاؤں توڑ دیے

     ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "”لَمَّا فَدَعَ أَهْلُ خَيْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَامَ عُمَرُ خَطِيبًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَامَلَ يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى أَمْوَالِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ نُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ خَرَجَ إِلَى مَالِهِ هُنَاكَ، ‏‏‏‏‏‏فَعُدِيَ عَلَيْهِ مِنَ اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏فَفُدِعَتْ يَدَاهُ وَرِجْلَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ لَنَا هُنَاكَ عَدُوٌّ غَيْرَهُمْ هُمْ عَدُوُّنَا وَتُهْمَتُنَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَأَيْتُ إِجْلَاءَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَجْمَعَ عُمَرُ عَلَى ذَلِكَ أَتَاهُ أَحَدُ بَنِي أَبِي الْحُقَيْقِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏أَتُخْرِجُنَا وَقَدْ أَقَرَّنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَامَلَنَا عَلَى الْأَمْوَالِ، ‏‏‏‏‏‏وَشَرَطَ ذَلِكَ لَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ أَظَنَنْتَ أَنِّي نَسِيتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏كَيْفَ بِكَ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْ خَيْبَرَ تَعْدُو بِكَ قَلُوصُكَ لَيْلَةً بَعْدَ لَيْلَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كَانَتْ هَذِهِ هُزَيْلَةً مِنْ أَبِي الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَجْلَاهُمْ عُمَرُ وَأَعْطَاهُمْ قِيمَةَ مَا كَانَ لَهُمْ مِنَ الثَّمَرِ مَالًا وَإِبِلًا وَعُرُوضًا مِنْ أَقْتَابٍ وَحِبَالٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ””. رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَحْسِبُهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَصَرَهُ.
    بخاری

     جب ان کے ہاتھ پاؤں خیبر والوں نے توڑ ڈالے تو عمر رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کے یہودیوں سے ان کی جائیداد کا معاملہ کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب تک اللہ تعالیٰ تمہیں قائم رکھے ہم بھی قائم رکھیں گے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وہاں اپنے اموال کے سلسلے میں گئے تو رات میں ان کے ساتھ مار پیٹ کا معاملہ کیا گیا جس سے ان کے پاؤں ٹوٹ گئے۔ خیبر میں ان کے سوا اور کوئی ہمارا دشمن نہیں ‘ وہی ہمارے دشمن ہیں اور انہیں پر ہمیں شبہ ہے اس لیے میں انہیں جلا وطن کر دینا ہی مناسب جانتا ہوں۔ جب عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا پختہ ارادہ کر لیا تو بنو ابی حقیق  ( ایک یہودی خاندان )  کا ایک شخص تھا ’ آیا اور کہا یا امیرالمؤمنین کیا آپ ہمیں جلا وطن کر دیں گے حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں باقی رکھا تھا اور ہم سے جائیداد کا ایک معاملہ بھی کیا تھا اور اس کی ہمیں خیبر میں رہنے دینے کی شرط بھی آپ نے لگائی تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھول گیا ہوں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا کہ تمہارا کیا حال ہو گا جب تم خیبر سے نکالے جاؤ گے اور تمہارے اونٹ تمہیں راتوں رات لیے پھریں گے۔ اس نے کہا یہ ابوالقاسم  ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم  )  کا ایک مذاق تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کے دشمن! تم نے جھوٹی بات کہی۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں شہر بدر کر دیا اور ان کے پھلوں کی کچھ نقد قیمت کچھ مال اور اونٹ اور دوسرے سامان یعنی کجاوے اور رسیوں کی صورت میں ادا کر دی۔

    وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین

  • کیا زویا ناصر اورکرسٹن بیٹزمین نے راہیں جدا کر لیں؟

    کیا زویا ناصر اورکرسٹن بیٹزمین نے راہیں جدا کر لیں؟

    سوشل میڈیا پر خبریں زیر گردش ہیں کہ پاکستانی اداکارہ زویا ناصر اور اُن کے منگیتر کرسٹن بیٹزمین نے ایک دوسرے کو انسٹاگرام پر اَن فالو کردیا ہے اور راہیں جدا کرلی ہیں۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر مختلف شوبز ویب سائٹس میں یہ دعویٰ کیا جارہا تھا کہ دونوں نے ایک دوسرے کو انسٹاگرام پر ان فالو کردیا ہے۔

    دونوں کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر فالو کی جانے والی فہرست میں تلاش کیا جائے تو دونوں ایک دوسرے کو فالو بھی کرتے ہیں اور ساتھ وی لاگز بھی بناتے ہیں۔

    زویا اور کرسٹن بیٹزمین جلد ہی شادی کا ارادہ بھی رکھتے ہیں، رمضان المبارک میں جوڑی کے دوست اور یو ٹیوبر شاہ ویر جعفری نے سرپرائز ڈھولکی کا انعقاد بھی کیا تھا۔جس کی تصاویر دونوں نے اپنے سوشل میڈیا پر شئیر کی تھیں-

    جرمن یوٹیوبر کرسٹن نے حال ہی میں اسلام قبول کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد جو خود کے اندر محسوس کیا ہے وہ اس سے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔

    دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد زویا نے کرسٹن سے منگنی کی تھی سوشل میڈیا پر دونوں نے ساحل سمندر پر انگوٹھی سمیت تصاویر بھی شیئر کی تھیں۔

    زویا ناصر معروف ادیب، فلم کہانی و مکالمہ نویس، نغمہ نگار ناصر ادیب کی بیٹی ہیں۔

    زویا ناصراورنومسلم یوٹیوبرکرسٹن بیٹزمین کی شادی کی تقریبات کا آغازہو گیا

  • یاسر حسین نے جسم کے کس حصے کی سرجری کرائی؟

    یاسر حسین نے جسم کے کس حصے کی سرجری کرائی؟

    اداکار یاسر حسین نے نے اپنے ہاتھ کی سرجری کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے-

    باغی ٹی وی : یاسر حسین نے انسٹااسٹوری پر اپنی تصویر شیئر کی جس میں انہوں نے مداحوں کو اپنا آپریشن کروانے کی خبر سے آگاہ کیا۔

    یاسر حسین نے کی جانب سے شیئر کی گئی تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ یاسر اپنی اہلیہ اقراعزیز کے ساتھ گاڑی میں موجود ہیں اور ان کے دائیں ہاتھ میں پلاسٹر لگا ہوا ہے۔

    اس تصویر کے ساتھ انہوں نے مزاحیہ انداز میں کیپشن لکھا سرجری کے بعد، بے ہوشی ختم ہوئی تو بیگم کو دیکھ کے مدہوشی طاری ہوگئی۔

    تاہم یاسر حسین نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے ہاتھ میں کیا ہوا تھا جس کے لیے انہیں آپریشن کروانا پڑا۔

    واضح رہے کہ یاسر حسین اور اقرا عزیز نے چند روز قبل مداحوں کے ساتھ خوشخبری شیئر کی تھی کہ وہ دونوں جلد والدین بننے والے ہیں-

    اقرا نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں کہا تھا کہ ’الحمداللّٰہ! ہمارا ننھا مہمان رواں سال جولائی میں اس دُنیا میں آجائے گا۔

    اقرا عزیز نے گود بھرائی کی خوبصورت ویڈیو مداحوں کیساتھ شئیرکردی

    اقرا عزیز اور یاسر حسین کے ہاں ننھے مہمان کی آمد متوقع

    اقراعزیزکی گود بھرائی کے 100 خصوصی پیغامات پر مشتمل دوپٹے کے چرچے

  • سمندری طوفان تاؤتے سے امیتابھ بچن کا دفتر پانی سے بھر گیا چھتیں اڑ گئیں

    سمندری طوفان تاؤتے سے امیتابھ بچن کا دفتر پانی سے بھر گیا چھتیں اڑ گئیں

    کورونا کے بعد سمندری طوفان تاؤتےکے باعث ممبئی میں ہونے والی طوفانی اور موسلا دھار بارشوں نے تباہی مچا رکھی ہے –

    باغی ٹی وی : بھارتی ریاست گجرات میں اب تک ’تاوتے‘ سے 21 افرا ہلاک، درجنوں زخمی اور سینکڑوں لاپتہ ہوچکے ہیں جب کہ لاکھوں لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں اس کے علاوہ سینکڑوں گھر بھی طوفان کے باعث تباہ ہوچکے ہیں۔

    سمندری طوفان ’تاوتے‘ نے گجرات کے بعد ممبئی کا بھی رخ کیا جہاں ساحلی علاقوں کو شدید نقصان پہنچا اور 270 سے زائد ماہی گیر بھی لاپتہ ہوگئے ہیں جن کی تلاش کے لیے بھارتی بحریہ کا ریسکیو آپریشن جاری ہے اور 150 ماہی گیروں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔

    دوسری جانب سمندری طوفان ’تاوتے‘ سمندری طوفان نے ممبئی کے ساحلی علاقے باندرہ میں بالی ووڈ شخصیات کے گھروں کو بھی کافی نقان پہنچا ہے پالی ہل کے مقام پر زیر تعمیر بالی ووڈ کی نوجوان جوڑی رنبیر کپور اور عالیہ بھٹ کے مکان کو بھی شدید نقصان پہنچا اور لجنڈری اداکارہ امیتابھ بچن کا دفتر بھی پانی سے بھر گیا۔

    اپنی بلاگ پوسٹ میں امیتابھ بچن نے لکھا کہ بن بلائے مہمان یعنی سائیکلون کے باعث دن بھر موسلا دھار بارش برستی رہے اور تیز ہواؤں سے متعدد درخت گر پڑے جب کہ سڑکیں پانی سے بھرگئیں۔

    انہوں نے بتایا کہ بارش کے باعث جوہو میں واقع ان کے دفتر ‘جنَک’ میں بھی پانی بھر گیا تھا اور تیز ہوا کے باعث اسٹاف کے کمروں کی چھتیں بھی اڑگئیں،ہم نے بارشوں سے قبل پلاسٹ کور شیٹس اور شیڈز لگائے تھے لیکن وہ سب تیز ہوا میں اڑگئے تاہم عملے نے ہمت نہیں ہاری اور پانی نکالتے رہے اور مشکل حالات کے باوجود بحالی کاکام کرتے رہے۔

    انہوں نے اپنے عملے کی تعریف کرتے ہوئےکہا کہ وہ سب پانی میں بھیگ چکے ہیں تاہم ابھی بھی کام میں جتے ہوئے ہیں ، میں نے فوری طور پر انہیں کپڑے تبدیل کرنے کو کہا ہے اور اپنی وارڈ روب (الماری) سے انہیں کپڑے دیے ہیں۔

    امیتابھ نے بتایا کہ اسٹاف ممبران کو جو جرسی دیں وہ چیلسی اور جے پور پنک پینتھر ٹیم کی تھیں۔

    خیال رہے کہ سمندری طوفان تاؤتے نے کورونا سے شدید متاثر بھارت کے ساحلی علاقوں میں مزید تباہی پھیلادی ہے اور اب تک 27 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    بھارت: سمندری طوفان ’تاوتے‘ سے عالیہ بھٹ اور رنبیر کپور کا گھر شدید متاثر

  • آمنہ الیاس نے امریکی نائب صدر کو اسرائیل کی حمایت پر آڑے ہاتھوں لے لیا

    آمنہ الیاس نے امریکی نائب صدر کو اسرائیل کی حمایت پر آڑے ہاتھوں لے لیا

    پاکستان کی معروف اداکارہ آمنہ الیاس نے امریکی نائب صدر کملا ہیرس کے اسرائیل کی حمایت میں دیئے گئے بیان پر کڑی تنقید کی ہے۔

    باغی ٹی وی : آمنہ الیاس کی جانب سے انسٹاگرام پر کملا ہیرس کی ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں وہ اسرائیل کی حمایت میں بیان دے رہی ہیں۔

    آمنہ الیاس کی جانب سے کملا ہیرس کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں کہنا ہے کہ ’وہ کملا ہیرس کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کیے بغیر رہ نہیں سکیں، کملا ہیرس کس قسم کی انسان ہیں۔

    آمنہ الیاس کا مزید کہنا تھا کہ ’ کملا ہیرس کو شرم آنی چاہیے۔

    آمنہ الیاس کی جانب سے شیئر کی گئی اس ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین بھی کملا ہیرس کے اس بیان پر غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

  • بھارت: سمندری طوفان ’تاوتے‘ سے عالیہ بھٹ اور رنبیر کپور کا گھر شدید متاثر

    بھارت: سمندری طوفان ’تاوتے‘ سے عالیہ بھٹ اور رنبیر کپور کا گھر شدید متاثر

    کورونا وبا کے بعد سمندری طوفان ’تاوتے‘ نے بھی بھارت میں تباہی مچا دی-

    باغی ٹی وی : بھارت- ریاست گجرات میں اب تک ’تاوتے‘ سے 21 افرا ہلاک، درجنوں زخمی اور سینکڑوں لاپتہ ہوچکے ہیں جب کہ لاکھوں لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں اس کے علاوہ سینکڑوں گھر بھی طوفان کے باعث تباہ ہوچکے ہیں۔

    سمندری طوفان ’تاوتے‘ نے گجرات کے بعد ممبئی کا بھی رخ کیا جہاں ساحلی علاقوں کو شدید نقصان پہنچا اور 270 سے زائد ماہی گیر بھی لاپتہ ہوگئے ہیں جن کی تلاش کے لیے بھارتی بحریہ کا ریسکیو آپریشن جاری ہے اور 150 ماہی گیروں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔

    دوسری جانب سمندری طوفان ’تاوتے‘ سمندری طوفان نے ممبئی کے ساحلی علاقے باندرہ میں پالی ہل کے مقام پر زیر تعمیر بالی ووڈ کی نوجوان جوڑی رنبیر کپور اور عالیہ بھٹ کے مکان کو بھی شدید نقصان پہنچا جس کی ویڈیو بھی بھارتی میڈیا پر آگئی ہے۔

    واضح رہے کورونا وبا کے دوران لاک ڈاؤن کے دوران رنبیر کپور اور عالیہ بھٹ ایک ساتھ ہی رہائش پذیر ہیں اور وہ جلد شادی کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں تاہم بھارت میں کورونا کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث اب تک رکے ہوئے ہیں اور اچھے وقت کا انتظار کررہے ہیں۔

  • کیا غنا علی کے شوہر عمیر گلزار پہلے سے شادی شدہ ہیں؟

    کیا غنا علی کے شوہر عمیر گلزار پہلے سے شادی شدہ ہیں؟

    حال ہی میں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے والی معروف اداکارہ غنا علی سے متعلق خبریں زیرِ گردش ہیں کہ اُن کے شوہر پہلے سے شادی شدہ ہیں۔

    باغی ٹی وی : اداکارہ غنا علی نے سوشل میڈیا پر اپنے شوہر عُمیر گلزار کے ہمراہ تصویریں شیئر کیں تو صارفین کی جانب سے تنقید کے شروع ہوگئی اور صارفین نے اُن کے شوہر کو انکل قرار دے دیا۔

    سید عُبید صارف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر ایک خصوصی پوسٹ شیئر کی ہے جس میں اُنہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ غنا علی کے شوہر پہلے سے شادی شدہ ہیں اور اُن کا ایک بیٹا بھی ہے۔

    فیس بُک صارف نے اپنے اکاؤنٹ پر غنا علی کے نکاح کی تصویر کے ساتھ اُن کے شوہر عُمیر کی اُن کی پہلی اہلیہ کے ساتھ بھی کچھ تصویریں شیئر کیں۔

    صارف نے کہا کہ یہ دیکھنا واقعی حیرت زدہ کہ ہمارے معاشرے کے امیر طاقت ور مرد کیا کرنے کے اہل ہیں!

    صارف نے کہا کہ غنا علی کا شوہر کراچی کا ایک ارب پتی شخص ہے، وہ پہلے سے شادی شدہ ہیں اور اُن کا ایک بیٹا بھی ہے۔

    اُنہوں نے کہا کہ شادی شدہ ہونے کے باوجود بھی عُمیر اور غنا علی کے درمیان دوستی ہوئی اور صرف دو ماہ کے اندر عُمیر کی پہلی بیوی کی زندگی تباہ ہوگئی۔

    فیس بُک صارف نے کہا کہ عُمیر کا ایک بیٹا بھی ہے اور اس کے باوجود بھی اُنہوں نے غنا علی سے شادی کی۔

    فیس بُک صارف نے کہا کہ عُمیر کی غنا کے ساتھ شادی کی تصاویر انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہیں جبکہ ان کی پہلی بیوی اور بیٹے کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ کیا پہلی شادی چھوڑ کر دوسری بیوی سے شادی کرنا بھی قانونی ہے؟

    تاہم اداکارہ یا ان کے شوہر کی جانب سے اب تک اس حوالے سے کوئی تصدیق سامنے نہیں آسکی ہے۔

    غنا علی کی شادی کی تقریبات کا آغاز

    غنا علی رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو گئیں

  • عاصم اظہر کا اسرائیل کے ٹوئٹ پر شدید ردعمل

    عاصم اظہر کا اسرائیل کے ٹوئٹ پر شدید ردعمل

    گلوکار عاصم اظہر نے اسرائیل کے ٹوئٹ کا منہ توڑ جواب دیا ہے-

    باغی ٹی وی :عاصم اظہر نے اسرائیل کے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ٹوئٹ پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے لکھا کہ سچی بات ہے کہ آپ کا ملک 1948 میں قائم ہوا تھا، معذرت کے ساتھ میرا مطلب ہے کہ دنیا پر مسلط کیا گیا تھا۔


    گلوکار نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ آپ تو ہم سے بھی ایک سال چھوٹے ہو آئے بڑے 3000 سالوں والے۔

    عاصم اظہر نے مزید لکھا کہ آپ دہشگردی ختم کریں۔

    خیال رہے کہ اسرائیل کے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ نے اپنے ٹوئٹ میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ ہم یہاں 3000 سال سے ہیں اور ہم یہاں رہنے کے لیے ہیں۔

    اسرائیل کی جانب سے ٹوئٹ میں یہ دعوٰی بھی کیا گیا ہے کہ دہشت گرد خطے کو تشدد اور اندھیرے میں ڈوبانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن کبھی بھی غالب نہیں ہوسکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ حالیہ اسرائیلی حملوں میں اب تک 217 فلسطینی شہید اور 1400 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں جن میں معصوم بچے اور خواتین بھی شامل ہیں-