Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 112 اموات،مریضوں میں بھی اضافہ

    پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 112 اموات،مریضوں میں بھی اضافہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر جاری ہے، کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے –

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا سے اموات کا ریکارڈ آج پھر ٹوٹ گیا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 112 افراد انتقال کر گئے –

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز کورونا کے 65 ہزار 279 ٹیسٹ کئے گئے 4 ہزار 976 نئے کیس سامنے آ گئے۔ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریبا 7.62 فی صد رہی۔

    پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 15 ہزار 982 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 7 لاکھ 45 ہزار182 ہو چکی ہے۔

    این سی او سی کے مطابق کورونا کے سبب س پنجاب میں 7 ہزار 271 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 4 ہزار 541، خیبر پختونخوا 2 ہزار796، اسلام آباد 626، گلگت بلتستان 103، بلوچستان میں 222 اور آزاد کشمیر میں 423 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔اسلام آباد میں کورونا کیسز کی تعداد 68 ہزار665، خیبر پختونخو 1 لاکھ 3ہزاراور419، پنجاب 2 لاکھ 61 ہزار173، سندھ 2 لاکھ 70 ہزار963، بلوچستان 20 ہزار662، آزاد کشمیر 15 ہزار137 اور گلگت بلتستان میں 5 ہزار 163 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

    کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے پاکستان کے 26 اضلاع ہائی رسک قرار دیئے گئے ہیں۔

    قبل ازیں حکومت کی جانب سے ایس او پیز جاری کی گئی ہیں جس کے مطابق ملک میں کورونا کی تیسری لہر کے پیشِ نظر حکومت کے وضع کردہ ایس او پیز پر سختی سے کاربند رہیں۔ ماسک کا استعمال کریں، بار بار ہاتھوں کو 20 سیکنڈ تک صابن سے دھوئیں۔ گھروں کو ہوادار بنائیں اور بلا ضرورت ہرگز گھر سے باہر نہ نکلیں۔ پُرہجوم جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔

    پنجاب میں ماسک پہننے کو لازمی قرار دِیا گیا ہے ، ماسک نہ پہننے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور جرمانے کے علاوہ چھ ماہ قید بھی ہو سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کا کہن اتھا کہ پنجاب حکومت این سی او سی کی ہدایت پر مکمل عمل کر رہی ہے، صوبے میں کورونا وائرس کی صورتحال خطرناک ہو گئی ہے، گجرات اور گوجرانوالہ کے ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ صوبے بھر میں ماسک پہننا لازمی قرار دیدیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی

  • لاہوری فرائیڈ فش بنانے کا طریقہ

    لاہوری فرائیڈ فش بنانے کا طریقہ

    لاہوری فرائیڈ فش

    وقت :45 سے 50 منٹ

    4 سے 5 افراد کے لئے

    اجزائے ترکیبی مقدار

    رہومچھلی ہڈی کے بغیر (دریائی) 1کلو
    تیل (تلنے کے لئے) 2کپ

    پہاڑی نمک ¼ کپ

    میری نیشن:
    بیسن ¼کپ
    سفیدآٹا 2کھانے کے چمچ
    ادرک اورلہسن کا پانی 4کھانے کے چمچ
    ہرا دھنیا (کٹا ہوا) 1کھانے کا چمچ
    تازہ پودینہ (کٹا ہوا) ½ کھانے کا چمچ
    نمک حسب ذائقہ
    سرخ مرچ پاؤڈر 1کھانے کا چمچ
    ہلدی پاؤڈر 1چائے کا چمچ
    زیرہ پاؤڈر 1چائے کاچمچ
    خشک دھنیا (کٹا ہوا) 1چائے کا چمچ
    اجوائن (کٹی ہوئی) ½ چائے کا چمچ
    SNP گرم مصالحہ پاؤڈر ½چائے کا چمچ
    لیموں کا رس 2کھانے کے چمچ
    سفید سرکہ 1کھانے کا چمچ
    سوڈا بائی کاربونیٹ 1½ چائے کا چمچ

    چھڑکاؤ کے لئے :
    چاٹ مصالحہ 2چائے کے چمچ

    طریقہ کار:
    بغیر ہڈی کے مچھلی کو 150سے 200گرام کے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ ان ٹکڑوں پر پہاڑی نمک لگا کر چھلنی میں ڈالیں اور تقریباً 20گھنٹے کے لئے فریج میں رکھ دیں تاکہ مچھلی کا فالتو پانی نچڑ جائے۔ اب آہستگی سے نمک لگی مچھلی کو دھو کر ایک طرف رکھ دیں۔ ایک پیالے می میری نیشن کے تمام مصالحے ڈالیں اور اچھی طرح مکس کرلیں۔ مچھلی کو 2سے 3گھنٹے کے لئے میری نیٹ کریں۔ اب مچھلی کو درمیانی آنچ پر 6 فیصد پکا کر تیل سے نکال کر کمرے کے درجہ حرارت میں ٹھنڈا کریں۔ کچھ گھنٹے کے بعد اسے دوبارہ فرائی کریں حتیٰ کہ وہ مکمل پک جائے۔ کچن ٹشو پیپر پر رکھ کر خشک کریں۔ چاٹ مصالحہ چھڑک کر مولی کی چٹنی کے ساتھ پیش کریں۔ آپ دریائی مچھلی کی کوئی اور قسم بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

  • ونڈر ویمن‘ کا کردار شہزادی ڈیانا جیسی خصوصیات کا حامل اور ان کی زندگی سے متاثر ہے   گال گیڈوٹ

    ونڈر ویمن‘ کا کردار شہزادی ڈیانا جیسی خصوصیات کا حامل اور ان کی زندگی سے متاثر ہے گال گیڈوٹ

    ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ گیل گیڈوٹ کے مطابق ’ونڈر ویمن‘ کا مرکزی کردار شہزادی ڈیانا جیسی خصوصیات کا حامل اور ان کی اصلی زندگی سے بہت متاثر ہے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی اداکارہ گیل گیڈوٹ نے وندڑ ویمن کا کردار ادا کرنے کی لیے اپنی کارکردگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ’ونڈر ویمن‘ کا کردار شہزادی ڈیانا جیسی خصوصیات کا حامل اور ان کی اصلی زندگی سے بہت متاثر ہے۔

    اداکارہ گیل گیڈوٹ نے کہا کہ ’مجھے یاد ہے جب میں شہزادی ڈیانا کے بارے میں ایک دستاویزی فلم دیکھ رہی تھی تو اس کا ایک حصہ تھا جہاں انہیں دکھایا گیا تھا کہ وہ ہمدردی سے بھرپور ہیں اور ہمیشہ لوگوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں تو مجھے خیال آیا انہیں ہماری ونڈر ویمن ہونا چاہیے۔

    35 اداکارہ کا ونڈر ویمن کے کردار کے بارے میں مزید کہنا تھا کہ وہ ایک ایسی عورت کو پردے پر لانا چاہتی تھیں جو متاثر کُن اور متعلقہ ہومیں ونڈر ویمن کے ذریعے اُن کی شخصیت کو دُنیا کو دِکھانا چاہتی تھی۔

    اتفاق سے ونڈر ویمن کا اصل نام ’ڈیانا پرنس‘ ہے تو یہاں صرف ناموں کی مماثلت ہی نہیں ہے بلکہ جس طرح سے گیڈوٹ اور ڈائریکٹر پیٹی جینکنز نے مل کر اس کردار کو پیش کیا ہے اس کے اندازِ بیاں میں بھی مماثلت ہے۔

  • اوپو نے اپنی اے سیریز کا نیا اسمارٹ فون متعارف کرادیا

    اوپو نے اپنی اے سیریز کا نیا اسمارٹ فون متعارف کرادیا

    سمارٹ فون کمپنی اوپو نے اپنی اے سیریز کا نیا اسمارٹ فون اوپو اے 35 متعارف کرادیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اوپو اے 35 نامی یہ اسمارٹ فون پہلے چین میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا اور یہ 3 رنگوں میں دستیاب ہوگا۔

    اوپو اے 35 فون میں میڈیا ٹیک کا ہیلیو پی 35 پراسیسر دیا جارہا ہے جبکہ اینڈرائیڈ 10 آپریٹنگ سسٹم کا امتزاج کلر او ایس 7.2 سے کیا گیا ہے۔

    فون کے اندر 4 جی بی ریم ریم اور 128 جی بی اسٹوریج موجود ہے جس میں ایس ڈی کارڈ سے 256 جی بی تک اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

    فون کی ایچ ڈی پلس ایل سی ڈی ڈسپلے 6.5 انچ ہو گی جس میں واٹر ڈراپ نوچ میں 8 میگا پکسل سیلفی کیمرا چھپا ہوا ہے۔

    فون کے بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ موجود ہے فون کا مین کیمرا 13 میگا پکسل کا ہے جس کے ساتھ 2 میگا پکسل میکرو اور 2 میگا پکسل ڈیپتھ کیمرے موجود ہیں۔

    فون میں 4230 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے جس کے ساتھ 10 واٹ فاسٹ چارجنگ سپورٹ دی گئی ہے۔

    کمپنی کی جانب سے فی الحال ڈیوائس کی دستیابی کی تاریخ اور قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا-

  • تشدد کا رستہ شریعت نہیں ہے  ازقلم:محمد یوسف واصفی

    تشدد کا رستہ شریعت نہیں ہے ازقلم:محمد یوسف واصفی

    تشدد کا رستہ شریعت نہیں ہے
    ازقلم:محمد یوسف واصفی

    محبت کا دعوٰی محبت نہیں ہے

    تشدد کا رستہ شریعت نہیں ہے

    محبت نبی ؐ کی خدا کی عطا ہے

    فقط نعرے بازی کی وقعت نہیں ہے

    مسلماں کا قاتل مسلماں ہوا ہے

    یہ ختم نبوت ؐ کی خدمت نہیں ہے

    کسی امت کا قتل توبہ توبہ

    یہ عشق نبی میں اجازت نہیں ہے

    جلاؤ، گھیراؤ یہ دھرنے ،رکاوٹ

    سیاست گری ہے عقیدت نہیں ہے

  • شیخ ہمدان بن محمد کا دبئی میں 2023 سے روبوٹ ٹیکسیاں متعارف کرانے کا اعلان

    شیخ ہمدان بن محمد کا دبئی میں 2023 سے روبوٹ ٹیکسیاں متعارف کرانے کا اعلان

    دبئی کے ولی عہد شیخ ہمدان بن محمد نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ 2023 سے دبئی میں روبوٹ ٹیکسیاں چلائی جائیں گی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پیر کے روزشیخ ہمدان بن محمد نے اعلان کیا ہے کہ 2023 سے دبئی میں روبوٹ ٹیکسیاں چلائی جائیں گی یہ خودکار ٹیکسیاں کروز نامی کمپنی تیار کرے گی جس کی پشت پر ہونڈا اور جنرل موٹر جیسے ادارے شامل ہیں۔


    شیخ ہمدان نے کہا کہ 2030 تک ، دبئی کا مقصد سالانہ 900 ملین درہم نقل و حمل کے اخراجات کو کم کرنا اور ماحولیاتی آلودگی کو سالانہ 12 فیصد کم کرنے میں 1.5 بلین درہم کی بچت کرنا ہے ، جبکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کو زیادہ موثر بناتے ہوئے سالانہ 18 ارب درہم معاشی محصولات میں اضافہ کرنا ہے۔


    توقع ہے کہ دوسال کے دوران دبئی کی سڑکوں پر اولین خودکار ٹیکسیاں دوڑیں گی۔ اگرچہ اس کے لیے حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن واضح طور 2023 میں اس کا آغاز ہوگا۔

    یاد رہے کہ کروز کمپنی نے پہلی مرتبہ 2019 میں روبوٹ ٹیکسیاں پیش کی تھیں جو فی الوقت سان فرانسسکو میں آزمائش سے گزررہی ہیں یہ ایک طرح کی ٹیکسی سروس ہوگی جس میں سواریاں کسی شٹل گاڑی کی طرح بیٹھ سکیں گے ہر کار میں اسٹیئرنگ نہ ہوگا اور نہ ہی کوئی پیڈل ملے گا۔ تاہم کروز کمپنی نے کہا ہے کہ 2030 تک ایسی 4000 ٹیکسیاں پورے دبئی میں دوڑ رہی ہوں گی۔

    2022 میں جی ایم کمپنی کے ڈیٹرائٹ کارخانے میں دبئی کے لیے کاروں کی تیاری شروع ہوگی کوویڈ 19 کے تناظر میں روبوٹ ٹیکسیاں میں حفاظتی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں اور ہر چکر کے بعد گاڑی کو سینی ٹائز کیا جائے گا۔

    تاہم اب دبئی حکومت نے 2030 تک 20 فیصد سواریوں کو خودکار بنانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ ان میں ڈرون سواریاں اور وولوکاپٹر بھی شامل ہیں۔

    لیکن اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ خودکار ٹیکسیاں پیٹرول سے چلیں گی یا بجلی کے ذریعے دوڑیں گی تاہم اس کا فیصلہ بھی جلد ہی ہوجائے گا۔

  • آج کل کی شہرت کو شہرت نہیں سمجھتی ،اصل شہرت تو ہمارے پرانے آرٹسٹوں کے پاس تھی   اقراعزیز

    آج کل کی شہرت کو شہرت نہیں سمجھتی ،اصل شہرت تو ہمارے پرانے آرٹسٹوں کے پاس تھی اقراعزیز

    پاکستان ڈرامہ نڈسٹری کی معروف اداکارہ اقرا عزیز کا کہنا ہے کہ وہ آج کل کی شہرت کو شہرت نہیں سمجھتیں ،اصل شہرت تو ہمارے پرانے آرٹسٹوں کے پاس تھی-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی ویب سائٹ کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اقرا عزیز نے بتایا کہ میں بچپن سے ہی امی کے ڈوپٹے لے کر اور ساڑھیاں باندھ کر انڈین گانوں پر شیشے کے سامنے اداکاری کرتی تھی، تیار ہوتی تھی اور میک اپ کرتی تھی۔ دسویں جماعت میں ایک اشتہار کے ذریعے شوبز کی فیلڈ میں قدم رکھا اور اسی وقت فیصلہ کرلیا کہ اسی فیلڈ میں کیر یئر بنانا ہے۔

    لیکن جب انھوں نے اس بارے میں اپنی والدہ کو آگاہ کیا تو ان کی والدہ نے کہا کہ پڑھائی نہیں چھوڑنی پھر میں نے اپنی بڑی بہن سے بات کی، ابتدائی طور پر میری بہن نے مجھے سپورٹ کیا اور اس نے امی سے بات کی تو میری امی مان گئیں۔

    اقرا نے کہا کہ ان کی امی ان کی بہترین دوست ہیں میں انھیں ہر بات بتاتی ہوں، وہ میرے ساتھ ہر شوٹ پر جاتی تھیں۔ میری والدہ نے بھی مجھے بھرپور سپورٹ کیا اور ان کے بغیر شاید میں یہ نہ کر سکتی۔

    اقرا نے بتایا کہ ان کا تعلق ایک مڈل کلاس خاندان سے ہےمیں بنس روڈ پر رہتی تھی۔ میں نے ہمیشہ سے محلے داری دیکھی ہے، وہ ماحول دیکھا اور ایک فلیٹ دیکھا ہے، جس میں آپ ایک کمرے سے نکل کر فوراً ہی دوسرے کمرے میں آ جاتے ہیں، چھوٹا سا کچن اور ہر کمرے کے ساتھ باتھ روم بھی نہیں۔ تو میرا بیک گراؤنڈ کچھ ایسا ہے لیکن میں نے ان حالات میں بھی اپنی والدہ کو بہت شکرگزار دیکھا۔‘

    میں نے یاسر کا انتخاب کیا کیونکہ یہ عورت کی صحیح معنوں میں عزت کرنا جانتے ہیں…

    کیریئر کے آغاز میں ہی اقرا عزیز نے یاسر حسین کے ساتھ شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپنے شوہر یاسر حسین سے پہلی ملاقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے اقرا نے بتایا کہ دونوں کی ملاقات بیرون ملک ایک ایوارڈ تقریب میں ہوئی یاسر کو مجھ سے پہلی نظر میں پیار ہو گیا لیکن مجھے تھوڑا وقت لگا لیکن پھر مجھے ایک ماہ میں ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ سب ہمیشہ کے لیے ہے۔

    آج کسی بھی اداکار کی مقبولیت کا اندازہ اس کی اداکاری کو دیکھ کر نہیں بلکہ اس کے سوشل میڈیا پر موجود فالوورز کی تعداد کو دیکھ کر لگایا جاتا ہے۔ اقرا عزیز کا اس بارے میں کہنا ہے کہ وہ اپنی شہرت سے خوش ہیں لیکن وہ اس شہرت کو شہرت نہیں سمجھتیں۔

    ان کا کہنا ہے، یہ سوشل میڈیا کا دور ہے، لوگ میرے کام کو پسند کرتے ہیں، مجھے پہچانتے ہیں یہ بہت بڑی بات ہے لیکن اصل شہرت ہمارے پرانے آرٹسٹس کے پاس تھی۔

    اقرا نے مزید کہا کہ وہ سوشل میڈیا پر ہر طرف نظر نہیں آتے تھے، لوگوں کو علم نہیں ہوتا تھا کہ ان کی زندگی میں کیا ہو رہا ہے؟ آج وہ کیسے لگ رہے ہیں، کیا کر رہے ہیں ان کا گھر کیسا ہے، ان کے شوق کیا ہیں؟ نہ اتنے انٹرویو ہوتے تھے نہ سوشل میڈیا کا دور ہوتا تھا لیکن پھر بھی لوگ آپ کو اتنا پیار کرتے تھے، آپ کو خط لکھتے تھے۔ لیکن اب اپنے پسندیدہ اداکار کے بارے میں جاننے کے بارے میں لوگوں میں وہ تجسس نہیں رہا۔

    ڈرامہ ’خدا اور محبت‘ جس کا تیسرا سیزن آج کل جیو انٹرٹینمنٹ پر دکھایا جا رہا ہے، کے بارے میں اقرا عزیز کا کہنا ہے کہ یہ پرہجکیٹ جب مجھے ملا تو یہ ایسا تھا کہ میرا کوئی خواب پورا ہو گیا۔‘

    تاہم ڈرامہ ’خدا اور محبت‘ پر ناقدین کی یہ رائے کہ یہ حقیقت سے قریب تر نہیں۔ اس بارے میں اقرا عزیز کہتی ہیں کہ اگر انڈین فلم ’دیوداس‘ کی بات کی جائے تو کیا وہ حقیقت سے قریب تر تھی؟’دیوداس میں جس زمانے کو دکھایا جا رہا تھا کیا اس میں لڑکی کا ایسا لائنر اور آنکھیں(میک اپ) ممکن تھا۔‘

    کسی بھی سکرپٹ کے انتخاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے اقرا کا کہنا تھا کہ میں فوراً محسوس کر لیتی ہوں کہ مجھے یہ کرنا ہے یا نہیں کرناکہانی سن کر ہی احساس ہو جاتا ہے کہ یہ کردار کرنا ہے یا نہیں اور ایک بار کوئی فیصلہ لے لیا تو اس کے بعد میں اس بارے میں نہیں سوچتی۔

    ’خدا اور محبت 3‘ ٹوئٹر پر ٹرینڈ کیوں؟

    اقرا عزیز مستقبل میں فلموں میں کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں یا نہیں اس بارے میں ان کا کہنا تھا جب بھی انہیں محسوس ہوا یہ ایک اچھی فلم ہے اور انہیں بڑی اسکرین پر کام کرنا چاہئے تو وہ ضرور فلم میں کام کریں گی۔

    واضح رہے کہ سنو چندا، رانجھا رانجھا اور جھوٹی میں اپنی کمال اداکاری سے پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری میں اپنا نام منوایا ہے اور حال ہی میں وہ ڈرامہ سیریل ’رقیب‘ اور ہاشم ندیم کے تحریر کردہ ڈرامے ’خدا اور محبت3‘ میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا رہی ہیں۔

    صبور علی اور یاسر حسین کی بھارتی گانے پر ڈانس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    ہمارے پروڈکشنز ہاؤسز کا ماحول بالکل فیکٹری والا ہے یاسر حسین

     

  • روزہ، تنہائی کی اصلاح اور تقویٰ کا پیغام     بقلم : عمران محمدی

    روزہ، تنہائی کی اصلاح اور تقویٰ کا پیغام بقلم : عمران محمدی

    روزہ، تنہائی کی اصلاح اور تقویٰ کا پیغام

    بقلم
    عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    =============

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزہ رکھنا لکھ دیا گیا ہے، جیسے ان لوگوں پر لکھا گیا جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جائو۔
    البقرة : 183

    شریعت میں روزہ کی نیت سے صبح صادق سے سورج غروب ہونے تک کھانے پینے اور جماع سے رکے رہنے کا نام صوم ہے۔

    اسلامی روزے کا مقصد نفس کو عذاب دینا نہیں بلکہ دل میں تقویٰ یعنی بچنے کی عادت پیدا کرنا ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے صبح سے شام تک ان حلال چیزوں سے بچے گا تو وہ ان چیزوں سے جو ہمیشہ کے لیے حرام ہیں، ان سے روزہ کی حالت میں بدرجۂ اولیٰ بچے گا۔ اس طرح روزہ گناہوں سے بچنے کا اور بچنے کی عادت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
    [ اَلصِّیَامُ جُنَّۃٌ]
    [ بخاری، الصیام، باب فضل الصوم ۱۸۹۴]
    ’’روزہ (گناہوں اور آگ سے) ڈھال ہے۔‘‘

    روزے رکھنے کا مقصد

    اللہ تعالیٰ نے جب روزہ رکھنا فرض کیا تو اس کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا
    لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
    تاکہ تم تقوی اختیار کر لو۔
    البقرة : 183
    یعنی روزے رکھ کر روزہ دار شخص متقی بن جائے

    تقوی کی حقیقت کیا ہے

    صحیح بخاری میں ہے
    ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
    لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ حَقِيقَةَ التَّقْوَى حَتَّى يَدَعَ مَا حَاكَ فِي الصَّدْرِ
    (بخاری معلقا)
    کوئی شخص تقوی کی حقیقت یعنی اصل روح کو تب تک نہیں پہنچ سکتا جب تک ہر اس کام کو نہ چھوڑ دے جو اس کے سینے میں کھٹکے

    حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں
    ”متقی وہ ہے جو حرام سے بچے اور فرائض بجا لائے ۔ “
    (تفسیر ابن کثیر)

    ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تقویٰ کیا ہے ؟
    انہوں نے کہا کبھی کانٹے دار راستے میں چلے ہو ؟ جیسے وہاں کپڑوں کو اور جسم کو بچاتے ہو ایسے ہی گناہوں سے بال بال بچنے کا نام تقویٰ ہے ۔
    اس واقعہ کی سند ضعیف ہے لیکن بہرحال تقوی کے تعلق سے اصل بات یہی ہے جو اس میں بیان ہوئی ہے کہ گناہوں سے ایسے بچ کر زندگی گزاری جائے جیسے خاردار جھاڑیوں کے بیچ و بیچ گزرنے والے کانٹوں سے بچ کر چلتے ہیں

    ابن معتز شاعر کا قول ہے ۔
    «خل الذنوب صغیرھا ….
    وکبیرھا ذاک التقی ….
    واصنع کماش فوق ارض ….
    الشوک یحدذر مایری ….
    لا تحقرن صغیرۃ ….
    ان الجبال من الحصی»
    یعنی چھوٹے اور بڑے اور سب گناہوں کو چھوڑ دو یہی تقویٰ ہے ۔ ایسے رہو جیسے کانٹوں والی راہ پر چلنے والا انسان ۔ چھوٹے گناہ کو بھی ہلکا نہ جانو ۔ دیکھو پہاڑ کنکروں سے ہی بن جاتے ہیں ۔

    تقوی اور ٹریفک پولیس افسر کی مثال

    اکثر سڑکوں پر یہ منظر دیکھا گیا ہے کہ جب گاڑی چلانے والوں کو پتہ چل جائے کہ آگے ٹریفک پولیس کا ایک ایسا افسر ناکے پر کھڑا ہے کہ جو مخلص ہے جھوٹ نہیں بولتا اور جھوٹ سے کام نہیں لیتا رشوت نہیں لیتا
    اور میری گاڑی کے ڈاکومنٹس بھی پورے نہیں ہیں اور اگر میں وہاں پہنچ گیا تو سو، پچاس کی رشوت سے کام نہیں چلے گا تو ایسے حالات میں کتنے لوگ ہیں جو ناکے سے پہلے ہی اپنا راستہ تبدیل کر لیتے ہیں یا سروس لائن پر آ جاتے ہیں یا کسی ہوٹل پر رک جاتے ہیں یا کسی پٹرول پمپ پر اپنی گاڑی کھڑی کر لیتے ہیں ہیں اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں سامنے والا افسر مخلص ہے رشوت نہیں چلے گی اور ہمیں اپنی غلطی پر سزا یا جرمانہ ادا کرنا ہی پڑے گا

    روزے دار کے تقوی کی حقیقت و کیفیت

    جب روزے دار اکیلا ہوتا ہے اسے کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا بھوک بھی لگی ہوتی ہے پیاس بھی لگی ہوتی ہے کھانے اور پینے کی اشیاء بھی دستیاب ہوتی ہیں لیکن وہ صرف اس لیے کچھ کھاتا ہے نہ کچھ پیتا ہے کہ مجھے اللہ دیکھ رہا ہے تب روزے دار شخص تقوی کی اس معراج پر ہوتا ہے جو شرع میں مطلوب ہیں

    اور عبادات میں یہی وہ درجہ احسان ہے جس کے متعلق
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ»
    (بخاری كِتَابُ الإِيمَانِ،بَابُ سُؤَالِ جِبْرِيلَ النَّبِيَّ ﷺ عَنِ الإِيمَانِ، وَالإِسْلاَمِ، وَالإِحْسَانِ، وَعِلْمِ السَّاعَةِ،50)
    کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ درجہ نہ حاصل ہو تو پھر یہ سمجھو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔

    روزے کا پیغام، مت سمجھو کہ مجھے کوئی نہیں دیکھ رہا

    ابن کثیر نے امام احمد رحمہ اللہ کے متعلق نقل فرمایا کہ وہ یہ دو اشعار پڑھا کرتے تھے، جو یا تو ان کے ہیں یا کسی اور کے ہیں
    إِذَا مَا خَلَوْتَ، الدَّهْرَ، يَوْماً، فَلَا تَقُلْ
    خَلَوْتُ وَلَكِنْ قُلْ عَلَيَّ رَقِيبُ
    کسی دن خلوت میں ہو تو یہ مت کہنا میں تنہا ہوں، بلکہ کہو: مجھ پر ایک نگران ہے
    ولاَ تحْسَبَنَّ اللهَ يَغْفَلُ سَاعَةً
    وَلَا أنَ مَا يُخْفَى عَلَيْهِ يَغِيْبُ
    اللہ تعالی کو ایک لمحہ کیلیے بھی غافل مت سمجھنا، اور نہ یہ سمجھنا کہ اوجھل چیز اس سے پوشیدہ ہوتی ہے۔

    اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھ رہا ہے

    فرمایا
    أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى
    تو کیا اس نے یہ نہ جانا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔
    العلق : 14

    اور فرمایا
    أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ
    کیاوہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے اور وہی تو ہے جو نہایت باریک بین ہے، کامل خبر رکھنے والا ہے۔
    الملك : 14

    اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے

    اتنا لطیف کہ اس سے ایک ذرہ بھی نہیں چھپ سکتا

    فرمایا
    إِنَّ اللَّهَ لَا يَخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ
    بے شک اللہ وہ ہے جس پر کوئی چیز نہ زمین میں چھپی رہتی ہے اور نہ آسمان میں۔
    آل عمران : 5

    فرمایا
    عَالِمِ الْغَيْبِ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَلَا أَصْغَرُ مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْبَرُ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
    جو سب چھپی چیزیں جاننے والا ہے ! اس سے ذرہ برابر چیز نہ آسمانوں میں چھپی رہتی ہے اور نہ زمین میں اور نہ اس سے چھوٹی کوئی چیز ہے اور نہ بڑی مگرایک واضح کتاب میں ہے۔
    سبا : 3

    اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ کون، کب، کہاں، کیا کررہا ہے

    فرمایا
    وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ
    اور وہ جانتا ہے جو تم کماتے ہو۔
    الأنعام : 3

    سورہ رعد میں ہے
    عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ
    وہ غیب اور حاضر کو جاننے والا، بہت بڑا، نہایت بلند ہے۔
    الرعد : 9
    سَوَاءٌ مِنْكُمْ مَنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ
    برابر ہے تم میں سے جو بات چھپا کر کرے اور جو اسے بلند آواز سے کرے اور وہ جو رات کو بالکل چھپا ہوا ہے اور (جو) دن کو ظاہر پھرنے والا ہے۔
    الرعد : 10

    اللہ تعالیٰ درختوں کے ایک ایک پتے اور زمین کی تہوں میں پڑے دانے کو بھی جانتے ہیں

    فرمایا
    وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
    اور اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں، انھیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور وہ جانتا ہے جو کچھ خشکی اور سمندر میں ہے اور کوئی پتّا نہیں گرتا مگر وہ اسے جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ نہیں اور نہ کوئی تر ہے اور نہ خشک مگر وہ ایک واضح کتاب میں ہے۔
    الأنعام : 59

    دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں

    یہ بات مشہور ہے کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں ہیں اور حقیقت بھی ایسے ہی ہے نہ صرف یہ کہ دیواریں بلکہ کائنات کی ہر چیز کے کان ہیں اس سے وہ آوازوں کو سنتے ہیں اور محفوظ کرتے ہیں

    لہذا اے انسان❗ تو گناہ کے لیے کہاں چھپ سکتا ہے جہاں بھی چھپے گا وہاں کا ایک ایک ذرہ تیرے خلاف گواہی دینے والا ہوگا

    فرمایا
    وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا
    اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اورزمین کے لشکر ہیں اور اللہ ہمیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
    الفتح : 7

    زمین

    اے انسان❗ تو جہاں بھی چھپے گا آخر ہوگا تو زمین پر ہی ناں اور یاد رکھ یہ زمین بھی رپورٹ کرے گی کہ تو کیا کرتا رہا تھا
    فرمایا
    إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا
    جب زمین سخت ہلا دی جائے گی، اس کا سخت ہلایا جانا۔
    الزلزلة : 1
    وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا
    اور زمین اپنے بوجھ نکال باہر کرے گی ۔
    الزلزلة : 2
    وَقَالَ الْإِنْسَانُ مَا لَهَا
    اور انسان کہے گا اسے کیا ہے؟
    الزلزلة : 3
    يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا
    اس دن وہ اپنی خبریں بیان کرے گی۔
    الزلزلة : 4
    بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا
    اس لیے کہ تیرے رب نے اسے وحی کی ہو گی۔
    الزلزلة : 5

    کراما کاتبین

    اے گناہ گار انسان❗ تو ان فرشتوں سے کیسے چھپے گا جو تیری ہربات لکھنے کے پابند ہیں
    اس سے مراد اعمال کی کاؤنٹنگ کرنے والے فرشتے ہیں

    فرمایا
    وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ
    حالانکہ بلاشبہ تم پر یقینا نگہبان (مقرر) ہیں۔
    الإنفطار : 10
    كِرَامًا كَاتِبِينَ
    جو بہت عزت والے ہیں، لکھنے والے ہیں۔
    الإنفطار : 11
    يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ
    وہ جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔
    الإنفطار : 12

    سورہ ق میں ہے
    إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ
    جب (اس کے ہر قول و فعل کو) دو لینے والے لیتے ہیں، جو دائیں طرف اور بائیں طرف بیٹھے ہیں۔
    ق : 17
    مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
    وہ کوئی بھی بات نہیں بولتا مگر اس کے پاس ایک تیار نگران ہوتا ہے۔
    ق : 18

    أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ بَلَى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ
    یا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کا راز اور ان کی سرگوشی نہیں سنتے، کیوں نہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس لکھتے رہتے ہیں۔
    الزخرف : 80

    انسان کے ماحول اور استعمال کی چیزیں بھی انسانی افعال اور اعمال پر گواہی دینے والی ہیں

    اے گناہ گار انسان❗ تو ارد گرد کی اشیاء سے کیسے چھپ سکے گا

    ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ! لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتّٰی تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ، وَ حَتّٰی يُكَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَةُ سَوْطِهِ وَشِرَاكُ نَعْلِهِ وَتُخْبِرُهُ فَخِذُهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ ]
    [ترمذي، الفتن، باب ما جاء في کلام السباع : ۲۱۸۱، و قال الألباني صحیح و رواہ أحمد : 84/3، ح : ۱۱۷۹۸ ]
    ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ درندے انسانوں سے کلام کریں گے اور آدمی سے اس کے کوڑے کا کنارا اور جوتے کا تسمہ بات کرے گا اور اس کی ران اسے بتائے گی کہ اس کے گھر والوں نے اس کے بعد کیا کیا۔‘‘

    عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
    [ وَلَقَدْ كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيْحَ الطَّعَامِ وَهُوَ يُؤْكَلُ ]
    [ بخاري، المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام : ۳۵۷۹ ]
    ’’ہم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں) کھانے کی تسبیح سنتے تھے، جب کہ وہ کھایا جا رہا ہوتا تھا۔‘‘

    درخت اور پودے

    فرمایا
    وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ
    اور بے تنے کے پودے اور درخت سجدہ کر رہے ہیں ۔
    الرحمن : 6

    انسانی اعضاء رپورٹ کریں گے

    اے انسان ❗سب سے بڑ کر یہ بات کہ تو اپنے ہی جسم کے اعضاء سے کیسے چھپ سکے گا جو ہروقت تیرے ساتھ ہی رہتے ہیں

    فرمایا
    يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
    جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔
    النور : 24

    اور فرمایا
    الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
    آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اوران کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں اس کی گواہی دیں گے جو وہ کمایا کرتے تھے۔
    يس : 65

    مرغی وہاں ذبح کرنی ہے جہاں آپ کو کوئی بھی نہ دیکھ رہا ہو

    ایک حکایت مشہور ہے کہ ایک استاد نے اپنے چند شاگردوں سے کہا کہ میرے پاس ایک ایک مرغی ذبح کرکے لاو لیکن یہ خیال رہے کہ آپ میں سے ہر ایک نے تنہائی میں اس جگہ مرغی ذبح کرنی ہے جہاں آپ کو کوئی اور نہ دیکھ رہا ہو اگلے دن اس کے شاگرد ذبح کی ہوئی مرغی لے کر استاد کے پاس پہنچ گئے لیکن ایک شاگرد ایسا تھا جس کے ہاتھ میں زندہ مرغی تھی
    استاد نے پوچھا آپ نے مرغی ذبح کیوں نہیں کی تو اس نے کہا مجھے کوئی ایسی جگہ نہیں ملی کہ جہاں مجھے کوئی بھی نہ دیکھ رہا ہو میں جہاں بھی چھپتا تھا جہاں بھی جاتا تھا ہر جگہ مجھے اللہ تعالی دیکھ رہے ہوتے تھے اس لئے میں زندہ مرغی ہی لے کر واپس آگیا ہوں

    ایک بکری ہمیں فروخت کر دو بکریوں کا مالک کونسا دیکھ رہا ہے

    نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ سے باہر کسی سفر پر تھے ان کے ساتھ دیگر لوگ بھی تھے ایک جگہ پڑاؤ کیا کھانے کے لیے دستر خوان بچھایا اسی دوران وہاں سے ایک چرواہا گزرا

    اسے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا آؤ اس دسترخوان پر بیٹھو
    اس نے کہا میں نے روزہ رکھا ہوا ہے

    عبداللہ رضی اللہ عنہ نے(تعجب سے ) اسے کہا اتنے سخت گرمی والے دن اور ان پتھریلے ٹیلوں میں بکریوں کے پیچھے چلتے ہوئے تو نے روزہ رکھا ہوا ہے –

    اس نے کہا میں آنے والے دنوں کی تیاری کر رہا ہوں

    عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کیا تو اپنی ایک بکری ہمیں بیچے گا ہم اس کا گوشت بھی تمہیں کھلائیں گے کہ تو اس کے ساتھ روزہ افطار کر لینا اور تجھے اس کی قیمت بھی ادا کریں گے

    اس نے کہا یہ بکریاں میری نہیں ہے یہ میرے مالکوں کی ہیں

    اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے(امتحان کی غرض سے) کہا کہ اگر تو انہیں کہہ دے گا کہ بکری کو بھیڑیا کھا گیا ہے تو تیرے مالک تجھے کچھ نہیں کہیں گے

    چرواہے نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور یہ کہتے ہوئے آگے چل پڑا
    فأين الله ؟؟؟
    تو پھر اللہ کہاں ہے
    (یعنی اگر میرے مالک نہیں دیکھ رہے تو اللہ تو دیکھ رہا ہے ناں)

    اس کے چلے جانے کے بعد ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ مسلسل یہ جملہ دہراتے رہے
    فأين الله ؟؟؟ فأين الله ؟؟؟
    اللہ کہاں ہے، اللہ کہاں ہے

    پھر جب وہ مدینہ واپس لوٹے تو انہوں نے اس چرواہے کہ مالک سے بات چیت کرکے اس سے بکریاں بھی خرید لیں اور بکریوں کا چرواہا بھی خرید لیا پھر اس چرواہے کو آزاد کرکے وہ ساری بکریاں اس کو تحفے میں دے دیں
    [ صفة الصفوة (١٨٨/٢)
    شعب الإيمان للبیھقی 5291
    مختصر العلو للألباني
    وسندہ حسن ]

    ھالینڈ میں ایک عرب نوجوان کا واقعہ

    ایک عرب نوجوان کا کہنا ہے کہ : اُن دنوں جب میں ھالینڈ میں رہ رہا تھا تو ایک دن جلدی میں ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کر بیٹھا۔ بتی لال تھی اور سگنل کے آس پاس کوئی نہیں تھا، میں نے بھی بریک لگانے کی ضرورت محسوس نہ کی اور سیدھا نکل گیا۔ چند دن کے بعد میرے گھر پر ڈاک کے ذریعے سے اس خلاف ورزی:
    "وائلیشن” کا ٹکٹ پہنچ گیا۔ جو اُس زمانے میں بھی 150 یورو کے برابر تھا۔

    ٹکٹ کے ساتھ لف خط میں خلاف ورزی کی تاریخ اور جگہ کا نام دیا گیا تھا، اس خلاف ورزی کے بارے میں چند سوالات پوچھے گئے تھے، ساتھ یہ بھی کہا گیا تھا کہ آپ کو اس پر کوئی اعتراض تو نہیں؟

    میں نے بلا توقف جواب لکھ بھیجا: جی ہاں، مجھے اعتراض ہے۔ کیونکہ میں اس سڑک سے گزرا ہی نہیں اور نہ ہی میں نے اس خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔

    میں نے یہ جان بوجھ کر لکھا تھا اور یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ یہ لوگ اس سے آگے میرے ساتھ کیا کرتے ہیں؟

    میرے خط کے جواب میں لگ بھگ ایک ہفتے کے بعد محکمے کی طرف سے ایک جواب ملا۔ ان کے خط میں میری کار کی تین تصاویر بھی ساتھ ڈالی گئی تھیں۔ پہلی سگنل توڑنے سے پہلے کی تھی، دوسری میں میں گزر رہا تھا اور بتی لال تھی، تیسری میں میں چوک سے گزر چکا تھا اور بتی ابھی تک بھی لال تھی۔

    یعنی سیدھا سادا معاملہ تھا، میں جرم کا مرتکب تھا تو اس کا مطلب یہی تھا کہ میں مرتکب ہوا تھا اور بس۔ نہ بھاگنے کی گنجائش اور نہ مکر جانے کا سوال۔ چپکے سے اقرار نامہ لکھ بھیجا، جرمانہ ادا کیا اور چُپ ہو گیا۔

    لیکن یاد رہے کہ اللہ تعالٰی کے پاس بھی فوٹو مشین ہے❗
    سوچیں کہ بندے کی بنی ہوئی مشین سے تو ہم بھاگ نہیں سکتے پھر اللہ کی بنائی ہوئی مشین سے کیسے بھاگ سکیں گے
    کدھر ہوگا بھاگنے کا راستہ؟

    سورہ قیامۃ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ
    انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟
    القيامة : 10

    روزے دار کا اللہ تعالیٰ سے رازدارانہ تعلقِ خاص

    چونکہ روزے دار کی تنہائی خاص طور پر اللہ تعالی کے لیے ہوتی ہے اور وہ علیحدگی میں بھی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں سمجھتے ہوئے حرام کا مرتکب نہیں ہوتا اس لیے اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق اور اس کے اجروثواب کی کیفیت بھی باقی اعمال سے الگ ہی حیثیت رکھتی ہے

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

    کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِها إِلَی سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَی مَا شَائَ اﷲُ، يَقُوْلُ اﷲُ تَعَالَی :  إِلَّا الصَّوْمُ فَإِنَّهُ لِی، وَأَنَا أَجْزِی بِهِ.

     ابن ماجه، السنن، کتاب الصيام، باب ما جاء فی فضل الصيام، 2 : 305، رقم :  1638
    ’’آدم کے بیٹے کا نیک عمل دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک آگے جتنا اﷲ چاہے بڑھایا جاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے :  روزہ اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ۔‘

    وفی روایۃ
    کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي وَأنَا اَجْزِيْ بِهِ.

     بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب هل يقول انی صائم اذا شتم، 2 : 673، رقم : 1805
    ’’ابن آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہے سوائے روزے کے۔ پس یہ (روزہ) میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔‘‘

    اور فرمایا
    وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ
    اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، دو باغ ہیں۔
    الرحمن : 46

    تنہائی کی اصلاح کس قدر ضروری ہے

    روزہ، ایک مسلمان انسان کی تنہائی کو درست کرنے کا بہترین زریعہ ہے

    بعض لوگ ظاہر میں دین دار اور عبادت گزار ہوتے ہیں لیکن وہ تنہائی میں گناہوں سے اپنے دامن کو نہیں بچاتے۔ ایسے لوگوں کی دینداری انہیں کچھ کام نہ آئے گی۔ ان کی عبادت اور نیکیوں کی ﷲ تعالیٰ کے ہاں کوئی قیمت نہ ہوگی ۔
    روز قیامت ان کی ساری نیکیاں بے وقعت و بے حیثیت اور رائیگاں ہوسکتی ہیں ۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی روشنی میں سمجھئیے کہ تنہائی کی اصلاح کس قدر اہمیت رکھتی ہے

    سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    ” لَأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي، يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ، بِيضًا، فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَبَاءً مَنْثُورًا ".
    قَالَ ثَوْبَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، صِفْهُمْ لَنَا، جَلِّهِمْ لَنَا ؛ أَنْ لَا نَكُونَ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَا نَعْلَمُ.
    قَالَ : ” أَمَا إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ وَمِنْ جِلْدَتِكُمْ، وَيَأْخُذُونَ مِنَ اللَّيْلِ كَمَا تَأْخُذُونَ، وَلَكِنَّهُمْ أَقْوَامٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللَّهِ انْتَهَكُوهَا ".
    (ابن ماجہ وصححہ الالبانی رحمہ اللہ)
    (میں اپنی امت میں سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو روزِ قیامت تہامہ کے پہاڑوں جیسی چمکدار نیکیاں لے کر آئیں گے، لیکن اللہ تعالی انہیں اڑتی ہوئی دھول بنا دے گا)
    اس پر سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا: "اللہ کے رسول! ہمیں ان کے اوصاف واضح کر کے بتلائیں کہیں ہم ان لوگوں میں شامل نہ ہو جائیں اور ہمیں پتا بھی نہ چلے!”
    تو آپ ﷺ نے فرمایا: (وہ تمہارے بھائی ہیں اور تمہاری قوم سے ہیں، وہ بھی رات کو اسی طرح قیام کرتے ہوں گے جس طرح تم  کرتے ہو، لیکن [ان میں منفی بات یہ ہے کہ] وہ جس وقت تنہا ہوتے ہیں تو اللہ تعالی کے حرام کردہ کام کر بیٹھتے ہیں )

    یوسف علیہ السلام کی تنہائی، امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ

    روزہ رکھ کر تنہائی میں صرف کھانا پینا ہی منع نہیں ہے بلکہ اپنے آپ کو ہر قسم کے حرام کام سے بچا کر رکھنا اصل تقویٰ اور مقصد رمضان ہے

    اس سلسلے میں اللہ کے نبی یوسف علیہ الصلاۃ و السلام کا عظیم واقعہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے

    قرآن میں ہے
    وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَنْ نَفْسِهِ وَغَلَّقَتِ الْأَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ
    اور اس عورت نے، جس کے گھر میں وہ تھا، اسے اس کے نفس سے پھسلایا اور دروازے اچھی طرح بند کرلیے اور کہنے لگی جلدی آ۔ اس نے کہا اللہ کی پناہ، بے شک وہ میرا مالک ہے، اس نے میرا ٹھکانا اچھا بنایا۔ بلاشبہ حقیقت یہ ہے کہ ظالم فلاح نہیں پاتے۔
    يوسف : 23

    اہل علم فرماتے ہیں کہ اس وقت یوسف علیہ السلام کو گناہ پر آمادہ کرنے والی ہر چیز موجود تھی اور روکنے والی دنیا کی کوئی چیز نہ تھی۔ یوسف علیہ السلام کی صحت، جوانی، قوت، خلوت، فریق ثانی کا حسن، پیش کش، اس پر اصرار، غرض ہر چیز ہی بہکا دینے والی تھی، جب کہ انسان کو روکنے والی چیز اس کی اپنی جسمانی یا جنسی کمزوری ہو سکتی ہے، یا فریق ثانی کے حسن کی کمی، یا اس کی طرف سے انکار یا مزاحمت کا امکان یا راز فاش ہونے کا خطرہ یا اپنے خاندان، قوم اور لوگوں میں رسوائی کا خوف، ان میں سے کوئی چیز ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں تھی۔ اٹھتی جوانی تھی، بے مثال حسن تھا، دروازے بند تھے، دوسری طرف سے پیش کش بلکہ درخواست اور اس پر اصرار تھا، اپنے وطن سے دور تھے کہ قبیلے یا قوم میں رسوائی کا ڈر ہو۔ یہاں کتنے ہی لوگ باہر کے ملکوں میں جاتے ہیں تو اپنوں سے دور ہونے کی وجہ سے بہک جاتے ہیں، پھر دروازے خوب بند تھے، راز فاش ہونے کی کوئی صورت ہی نہ تھی اور جب مالکہ خود کہہ رہی ہو تو سزا کا کیا خوف؟
    (تفسیر القرآن الکریم از استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ)

    اہل علم نے یوسف علیہ السلام کے زنا سے بچنے کو عفت کا کمال قرار دیا ہے، کیونکہ دنیاوی لحاظ سے انھیں زنا سے روکنے والی کوئی چیز موجود نہیں تھی، حتیٰ کہ ان کے پاس حرّیت بھی نہیں تھی

    مریم علیہا السلام اور تنہائی میں گناہ سے بچنے کا عظیم نمونہ

    یہ اتنی حیاء والی اور پاکباز عورت تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مثال بیان کی ہے
    فرمایا
    وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا
    اور عمران کی بیٹی مریم کی (مثال دی ہے) جس نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی
    التحریم 12

    جب تنہائی میں ایک فرشتہ انسانی شکل میں ان کے پاس آیا تو انہوں نے اپنی عصمت کے دفاع کیلئے فوراً اللہ کی پناہ حاصل کی

    فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا
    تو ہم نے اس کی طرف اپنا خاص فرشتہ بھیجا تو اس نے اس کے لیے ایک پورے انسان کی شکل اختیار کی۔
    مريم : 17

    قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا
    اس نے کہا بے شک میں تجھ سے رحمان کی پناہ چاہتی ہوں، اگر تو کوئی ڈر رکھنے والا ہے۔
    مريم : 18

    تنہائی میں، اپنے رب سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے رب کے عرش کا سایہ

    حدیث میں عرش کا سایہ حاصل کرنے والے سات خوش بختوں میں ایک وہ بندہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [وَرَجُلٌ طَلَبَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصَبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ ]
    [ مسلم : ۱۰۳۱۔ بخاری، الزکاۃ، باب فضل إخفاء الصدقۃ : ۶۴۷۹ ]
    ’’اور ایسا آدمی جسے کوئی منصب اور خوبصورتی والی عورت برائی کی طرف بلائے تو وہ کہے میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں ۔‘‘

    روزہ،جھوٹ چھوڑنے کا نام ہے

    روزے کو عربی میں ”صَوْمٌ“ کہتے ہیں
    اصل میں یہ کسی بھی کام سے رک جانے کو کہتے ہیں، کھانا پینا ہو یا کلام ہو یا چلنا پھرنا، اسی لیے گھوڑا چلنے سے یا چارا کھانے سے رکا ہوا ہو تو اسے ”فَرَسٌ صَائِمٌ“ کہتے ہیں
    رکی ہوئی ہوا کو بھی ”صَوْمٌ“ کہتے ہیں۔
    (تفسیر القرآن الكريم از استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ)

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ
    [ بخاری، الصیام، باب من لم یدع قول الزور : ۱۹۰۳، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ]
    ’’جو شخص جھوٹی بات اور اس پر عمل نہ چھوڑے اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔‘‘

    روزہ رکھ کر نماز نہ پڑھنے والے، جھوٹ بولنے والے، دھوکا دینے والے، سارا دن ٹی وی پر کان اور آنکھ کے زنا میں مصروف رہنے والے، غرض کسی بھی نافرمانی کا ارتکاب کرنے والے سوچ لیں کہ انھیں روزہ رکھنے سے کیا ملا؟

  • سعادت ماہ رمضان         ازقلم :عظمی ربانی

    سعادت ماہ رمضان ازقلم :عظمی ربانی

    سعادت ماہ رمضان

    ازقلم :عظمی ربانی

    رحمتوں کا مہینہ رمضان آگیا
    بن کے یہ رب کا مہمان آگیا

    اس کا حصول اے مومنو! سعادت ہے تمہاری
    دن رات کی مشقت ریاضت ہے تمہاری

    لوٹ لو نیکیوں کی سیل ہے لگی ہوئی
    ہر نیکی ستر گنا اجر میں بندھی ہوئی

    وقت آگیا روٹھے رب کو منانے کا
    اپنی التجائیں اور دعائیں رب کو سنانے کا

    کیا اچھا ہے دن بھر روزہ داروں کا صیام
    کیا خوب ہے نیکوکاروں کا رات بھر قیام

    رحمان۔۔۔۔ ماہ مقدس میں رحمتیں ہے دکھا رہا
    منادی دے دے کر اپنی طرف ہے بلا رہا

    احسان مانو رب کا کرو شکر اس کا ادا
    نہ ضیاع کرنا وقت کا وہ رہتا نہیں سدا

    صدقہ خیرات کے بڑھ چڑھ کر کرو کام
    کرو کوشش کار خیر کی ہو سکے تو صبح و شام

    تلاوت قرآن ہے سکونِ قلب و جان
    اس کو سینے سے لگا کر راحت کا پیدا کرو سامان

    اس کی قدر کو جانو اپنے آپ کو پہچانو
    واسطے عبادت کے پیدا کیا اس بات کو تم بھی جانو

    صیام و قیام کرتے اک اور عہد کریں
    بقیہ ایام زندگی بھی ہم سپرد خدا کریں
    *********

  • کشف الاسرار:ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں    تحریر: کاشف علی ہاشمی

    کشف الاسرار:ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں تحریر: کاشف علی ہاشمی

    ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں
    تحریر کاشف علی ہاشمی
    کشف الاسرار
    قسط نمبر 1
    تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد یکا یک ہر طرف سے ان کے کارکنان نکلے روڈ اک بلاک کر دئیے جس سے عامة الناس اور عام آدمی متاثر ہواسب سے پہلے تو اگر تحریک کے لوگ محض اپنے قائد کے لیے نکلے ہیں تو یہ انکا پرسنل مسلہ ہے اس پر عوام سے اتنی ذیادتی بالکل برداشت نہیں-

    دوسرا یہ کہ انکا مطالبہ سعد نہیں بلکہ سفیر کو نکالنا ہے تو اس حوالے سے ہر غیرت مند مسلمان انکے ساتھ کھڑا ہے البتہ طریقہ کار سے اختلاف سب کو ہے-

    دیکھیں روڈ بلاک کرنا لوگوں کو تکلیف دینا لوگوں کی۔گاڑیاں جلانا پولیس والوں مارنا بالکل قابل مزمت ہے اگر آپ نبیؐ کے حوالے سے کھڑے اگر آپ مذہب کے حوالے سے کھڑے ہیں تو پھر مذہب پر اور نبیؐ کی تعلیمات پر پہلے خود سختی سے عمل کریں پھر ہم دوسروں پر بھی نافذ کرنے کی بات کریں-

    لیکن اگر آپ خود نبیؐ کے تعلیمات کے منافی کام کریں تو ہم دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں کہ غلامان محمدؐ کیسے ہیں عام عوام میں یہ تاثر اک پریشر گروپ اور غنڈہ گردی جیسا جارہاہے یقینًا کفار کا حملہ بہت بڑا ہے مگر کیا یہ بڑا حملہ ہمیں حضرت محمدؐ کی تعلیمات سے باہر لے جاسکتا ہے؟ کیا ہم اپنے آقا کےفرمودات کے خلاف خود ہی کھڑے ہو جائیں تو جیت کس کی ہے ؟ اور ہارا کون؟

    مجھے ہمارے لبیک والے بھائی بتاو ہم اپنی حکومت کو کیا کہہ رہے ہیں سفیر نکالو کیوں؟ یہ ہماری دینی غیرت کا تقاضہ ہے اور اسلام کے مطابق ہے یہاں تک بات ٹھیک ہے لیکن جو طریقہ ہم نے اختیار کیا ہے کیا وہ عین اسلام کے مطابق ہے؟

    جب ہم اپنے نفس پر اسلام غالب نہیں کر سکتے جب ہم بے گناہ لوگوں کو قتل کر دیں اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی املاک کو جلادیں جب ہم اپنے ہی مسلمانو کا راستہ روک لیں اور اس کو جہاد جیسا عظیم عمل بھی گرداننے لگیں تو یقینًا یہ زیادتی ہے یہ کیسا جہاد ہے جس میں مسلمانو کا جانی و مالی نقصان ہورہا ہے اور مسلمان باہم دست و گریباں ہیں اور سرکارؐ کے احکامات کو نظر انداز کیا جارہاہے
    جذبات الگ چیز ہے-

    کیا ٹی ٹی پی والے بھی پہلے یہ سب کچھ اسلام اور جہاد کے نام پر نہیں کر چکے کیا داعش کا موقف یہی نہیں ہے؟ کہ جو ان مطابق نہیں مانے گا وہ کافر منافق اور واجب القتل ہے یہ ہاتھ اگر اٹھے تو آقا کے احکامات کے مطابق اٹھے. ورنہ اس کے علاوہ شمشیر تو کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ
    اب زرا ہم حکومتی موقف کو بھی دیکھ لیتے ہیں کیا وجہ ہے کہ حکومت سفیر کو نہیں نکال رہی ۔ وجہ ہے فیٹف-

    اچھا یہ فیٹف ہے کیا بلا. جس کی وجہ سے پہلے ہم نے ملک فلاحی کام کرنے والی جماعتوں کو بین کیا جہاد کشمیر سے پیر پیچھے ہٹائے اور اب فرانس کی ناقابل برداشت بدمعاشی کی باوجود ہم اس کے آگے سرنگوں ہیں-

    فیٹف بنیادی طور پر کفار کے سات ممالک کے کہنے پر 1989 میں بنائی گئی فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس ہے جو کہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے بظاہر دہشت گرد گروپوں کو سرمائے استعمال سے روکنے کے لیے بنائی گئی ہے-

    اس پر تفصیلی بات ہم پھر کسی مضمون میں کریں گے فی الحال ہم اس کا معاملہ دیکھتے ہیں کہ فرانس نے سرکاری طور جو بدمعاشی کی ہے اور جو نبیؐ کی توہین کی ہے اور اس پر ڈٹ کر کھڑا ہوگیا ہے جبکہ ہمارے میاوں میاوں کرتے مسلمان ممالک اور ان کے سربراہان سمجھتے ہیں کہ وہ چند بیانات سے اپنے لوگوں کو ٹھنڈا کر لیں درحقیقت ہمارے پڑھے لکھے طبقے اور حکمران مکڈیا زیادہ تر الحاد کی طرف مائل ہیں کیونکہ ہم تعلیم لینے اپنے بچوں کوباہر بھیجتے اور انکہ دین پر اتنی پختگی پہلے نہیں ہوتی وہاں سیکولر لبرل ماحول میں غریب ملک کے یہ بچے سمجھتے ہیں ترقی مذہب سے ہٹ کر ملتی ہے اور ہماری یونیورسٹیاں اور ادارے الحاد کی جانب زیادہ جھکاو دکھا رہے ہیں اور اس جا کوئی موثر جواب بھی نہیں دیا جارہا ہے جس کی جانب اقبال نے اشارہ بھی کیا تھا

    ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں
    امتی باعث رسوائی پیغمبر ہیں
    بت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیں
    تھا ابراہیم پدر اور پسر آذر ہیں

    آج کا پڑھا لکھا مسلمان جو سرمائے اور دولت کو کل کائنات سمجھتا ہے اور اس کے پیچھے بھاگتے اس نوجوان کو جس کی تربیت اب صحابہ کرام کے واقعات اور سیرت نبیؐ کے بجائے مسٹر چپس اور شیلے جیسے لوگوں کو پڑھ کر ہوئی ہے وہ نہیں سمجھ پاتا کہ معیشت اہم ہے یا عزت اہم ہے اور عزت بھی اس ہستی کی کہ جس کے لیے مال و عزت اور جان قربان کرنے کا عزم نا ہو تو ایمان ہی نہیں مانا جاتا
    سیدنا انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا ” کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے اہل وعیال، اس کے مال اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔” (صحیح مسلم)۔

    ایک اور روایت سیدنا عبداللہ بن ہشامؓ اس طرح نقل کرتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ نبی کریم کے ساتھ تھے اور آپ سیدنا عمر بن الخطابؓ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ سیدناعمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ()! یقینا آپ ()مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں سوائے میرے نفس کے جس پر نبی کریم نے ارشاد فرمایا:

    ” نہیں، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے یہاں تک کہ میں تمہارے نزدیک تمہارے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہوجاؤں۔” یعنی اس وقت تک تمہارا ایمان کامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں تمہارے نزدیک تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔زبانِ رسالتؐ سے یہ بات سننی تھی کہ سیدنا عمر ؓ نے عرض کیا ” ہاں! اللہ کی قسم ، اب آپ () مجھے اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔”
    رسول اللہ نے ارشاد فرمایا ” ہاں اب اے عمر۔” یعنی اب تمہارا ایمان مکمل ہوا(صحیح بخاری)۔
    یعنی ایمان ہی قبول نہیں بلکہ وہ تمہارا اسلام ہے ایمان نہیں-

    بھلا ایمان بھی کبھی مجبور ہوتا ہے ایمان تو جان وارنے کا نام ہے ایمان تو مٹ جانے کا نام ہے ایمان تو 313 کو بے سروسامانی کے عالم میں اک بڑے لشکر کے سامنے تلواروں کے مقابل ڈنڈوں سے کھڑا کر دیتا ہے ، ایمان تو پیٹ پر پتھر باندھ کر بھوکے پیاسے خندق کھودتے سر پر کھڑے دشمن کے سامنے ڈٹ جاتا ہے ایمان تو چند ہزار کا لشکر لاکھوں کے جدید ترین اسلحے کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور اسے تنکوں کی طرح بکھیر دیتا ہے ، ایمان تو سات ہزار کا لشکر دشمن کی سرزمین پر اترتا اپنے ملک سے دور دشمن سرزمین چھوٹا سا لشکر ہے دشمن بہت زیادہ ہے راستوں کا پتہ نہیں مگر ایمان یہاں کشتیاں جلا دیتا ہے –

    تم کہتے ہو چند نوکریاں اور معیشت کا مسلہ ہے بے غیرت بن جائیں درحقیقت مسلمانو کی معیشت تو جہاد تھی نبیؐ نے فرمایا میرا رزق میرے نیزے کی انی کے نیچے ہے جب سے جہاد چھوڑا ہے معیشت بھی عزت بھی اور اب غیرت بھی جارہی ہے
    کتنا افسوس ہے کہ جب مسلمان کہتا ہے معاشی مسلہ ہے ہم نبیؐ کی توہین برداشت کر لیں

    غافل آداب سے سکان زميں کيسے ہيں
    شوخ و گستاخ يہ پستی کے مکيں کيسے ہيں

    اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہے
    تھا جو مسجود ملائک’ يہ وہی آدم ہے
    عالم کيف ہے’ دانائے رموز کم ہے
    ہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہے
    ہم سمجھتے کہ معاشی مسلہ فیٹف کے ہاتھ ہے اور اللہ ایمان سب کچھ ختم کئیے بیٹھے ہیں اصل بات یہ ہے کہ ہماری ایمان پر تربیت نہیں ہوئی یہی وجہ کہ اک طرف ہم معاملات کرتے وقت نبیؐ کی تعلیمات کو ہمارا مذہبی طبقہ بھی پیش کرنے سے قاصر ہے اور ہمارا سیکولر طبقہ اس سے ویسے ہی دور ہے اسلام تو سب جانتے ہیں ایمانیات کے مقدمے بابت کم ہی بات ہوتی ہے ان شاءاللہ آئندہ مضامین میں ایمان کیا ہے کیسے بنتا ہے کمزوریاں کہاں ہیں پہ مفصل لکھیں گے جزاک اللہ خیرا
    وما علینا الالبلاغ