Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • وزیر اعلیٰ مہاراشٹرا کا بالی ووڈ انڈسٹری سے متعلق نئے اقدامات کا اعلان

    وزیر اعلیٰ مہاراشٹرا کا بالی ووڈ انڈسٹری سے متعلق نئے اقدامات کا اعلان

    ممبئی اور مہاراشٹر میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسزکے پیش نظرمہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے فلم انڈسٹری سے متعلق اقدامات کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق کورونا کی تمام احتیاط برتنے کی تاکید کی تھی اب فلم انڈسٹری سے متعلق نئے اقدمات کا اعلا ن کیا ہے۔

    کورونا کے سبب با لی وڈ بھی بے حد پریشان ہے ممبئی میں ویک اینڈ لاک ڈاؤن اور نائٹ کرفیو کے سبب بڑے پیمانوں پر فلموں اور ٹی وی سیریل کی شوٹنگ مثاثر ہورہی ہے۔

    اس دوران وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے انڈسٹری کے تمام ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز کی تنظیموں کے ساتھ ایک میٹنگ کی اور شوٹنگ کے وقت تمام احتیاط برتنے کی ہدایت دی تھیں لیکن حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اب نئے اقدامات کرنے کافیصلہ کیا گیاہے۔

    انڈسٹری کی سب سے بڑی تنظیم فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنے اے ایمپلائز FWICE نے کہاکہ ٹی وی سیریل اور ویب شوز کی شوٹنگ کے بارے میں نئی گائیڈ لائن جاری کرتے ہوئے انہیں سختی سے نافذ کرنے کا اشارہ دیا ہے۔

    نئی گائیڈ لائن کے مطابق بھیڑ والے مناظر اور بڑی تعداد میں ڈانس والے گانوں کی شوٹنگ کی اجازت نہیں ہوگی شوٹنگ کے سیٹ پر پروڈکشن اور پوسٹ پروڈکشن سے وابستہ تمام دفتروں میں لوگوں کو لگاتار ماسک پہنے رکھنا لازمی ہوگا۔

    FWICE نے سیٹ اور پروڈکشن سے متعلق جگہوں پر گائیڈ لائن پر عمل کرانے اور نگرانی رکھنے کیلئے ایک مانیٹرنگ ٹیم کی تشکیل دی ہے۔

    جاری کی گئی گائیڈ لائن کی خلاف ورزی کرنے والے کسی شخص اور پروڈکشن یونٹ پر FWICEکی جانب سے جرمانہ کارروائی کی جائے گی۔

  • پاکستانی طلبا نے مفت لیکچر کے لیے تعلیمی ایپلی کیشن تیار کرلی

    پاکستانی طلبا نے مفت لیکچر کے لیے تعلیمی ایپلی کیشن تیار کرلی

    کورونا وبا کی وجہ سے دیگر سرگرمیوں سمیت تعلیمی ادارے بند ہیں اور اور طلبہ آن لائن تعلیم حاصل کر رہے ہیں انٹرنیٹ کی عدم فراہمی کی جہ سے کچھ طلبا کو یہ سہولت میسر نہیں تاہم ماہرین نے مفت لیکچر کے لیے تعلیمی ایپلی کیشن تیار کرلی ہے-

    باغی ٹی وی :کورونا کی وبا کے دوران تعلیمی اداروں کی بندش سے طلبا کو اپنی تدریس کا عمل جاری رکھنے میں سخت مشکلات پیش آرہی ہیں تدریسی سرگرمیوں کے بارے میں پائی جانے والی مشکلات کو کم کرتے ہوئے طلبا کی ان مشکلات کو ٹیکنالوجی پر مبنی اسٹارٹ اپ Edkasaنے آسان بنادیا ہے –

    لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے طلباکے تیار کردہ اس پلیٹ فارم سے پاکستان کے تمام تعلیمی بورڈز سے منسلک نویں اور دسویں جماعت کے علاوہ انٹرمیڈیٹ کی سطح کے طالب علم امتحانات کی گھر بیٹھے تیاری کرکے امتیازی نمبر حاصل کرسکتے ہیں یہ اسٹارٹ اپ زیادہ تر ایسے طلباء کو لرننگ سلوشنز فراہم کرتا ہے جو اسکولوں اور اپنے اطراف میں اساتذہ نہیں ڈھونڈ سکتے۔

    اڈکاسا کے سی ای او محمد فہد تنویر نے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طلباء کی فکری صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے یہ ایک بہترین ٹول ہے اور وہ انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ اس کے بعد مزید کیا تعلیم حاصل کی جائے۔

    فہد تنویر کا کہنا تھا کہ اسے 2017 میں بنایا گیا تھا، اس اسٹارٹ اپ نے مقامی اور انٹرنیشنل انویسٹرز سے 3 لاکھ 20 ہزار ڈالرز جمع کرلیے ہیں جبکہ اس سے قبل بوسٹن میں ہونے والے ایک مقابلے میں یو ایس ایڈ، یوکے ایڈ کی جانب سے انعامی رقم بھی حاصل کی تھی۔

    فہد تنویر نے وضاحت کی کہ یہاں خاص طور پر دور دراز علاقوں میں اسکولز تو موجود تھے جن میں سائنس کے طالب علم تھے لیکن اس خاص مضمون میں اسپیشلٹ کی حیثیت رکھنے والے اساتذہ کی کمی کے باعث ان اسٹوڈنٹس کو مشکلات کا سامنا تھا ٹیکنالوجی پرمبنی اس پلیٹ فارم کا بنیادی مقصد طلبا کو امتحانات کی تیاری کے لیے عالمی معیار کے مطابق تدریس کا تجربہ فراہم کرنا ہے۔

    موبائل ایپلی کیشن کی شکل میں طلبا کی رہنمائی اور نصاب کی تیاری میں مدد دینے والے اس پلیٹ فارم سے اب تک جنوبی پنجاب، کراچی، مظفرآباد اور کوئٹہ کے مختلف علاقوں سمیت پاکستان کے 40 سے زائد اسکول منسلک ہوچکے ہیں اور 55ہزار طالب علم اس منفرد تعلیمی ایپلی کیشن سے استفادہ کررہے ہیں-

    انہوں نے بتایا کہ اس ایپلی کیشن کے ذریعے طلبا کو تجربہ کار اور بہترین صلاحیتوں سے لیس اساتذہ آن لائن پڑھانے کے ساتھ ریکارڈ شدہ لیکچرز کے ذریعے بھی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

    مختلف کلاسز کے ریاضی، انگریزی، بائیولوجی، کیمسٹری اور فزکس جیسے مشکل مضامین سے متعلق لگ بھگ 4500ویڈیو لیکچرز بھی اس ایپلی کیشن کا حصہ ہیں جن کی مدد سے طلبا بنیادی تصورات کلیئر کرنے کے ساتھ سیکھنے کی تکنیک سے آگہی حاصل کرسکتے ہیں۔

    اس اسٹارٹ اپ نے ہزاروں طلبا کی مدد کی ہے اور سن 2020 میں اساتذہ کے ذریعے 250،000 سے زیادہ سوالات کے جوابات کے ساتھ 1.3ملین گھنٹے سے زیادہ واچ ٹائم ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    نئی لانچ شدہ موبائل ایپلی کیشن میں طالب علموں کی ضرورت کا اندازہ لگانے کے لیے ابتدائی کوئز شامل کیا گیا ہے اور اس کے بعد طلباء کی ضروریات جیسے کہ ایک خاص امتحان، مضمون یا ایگزامینیشن بورڈ پر مبنی مطالعہ کے اپنی مرضی کے مطابق راستے پیش کیے جاتے ہیں۔

    اس کے علاوہ مختلف مضامین سے متعلق 15ہزار مختصر سوالات (ایم سی کیوز) بھی اس ایپلی کیشن کا حصہ ہیں، ایپلی کیشن سے وابستہ طالب علم کی ریکنگ بھی کی جاتی ہے تاکہ طالب علم جان سکیں کہ ان کی تیاری کس حد تک موثر ہے۔

  • آسٹریلوی بلاگر عظیم خان یاسر حسین پر برہم

    آسٹریلوی بلاگر عظیم خان یاسر حسین پر برہم

    حال ہی میں اداکارہ صبا قمر سے شادی کرنے اور پھر شادی سے انکار کے باعث خبروں کی زینت بننے والے آسٹریلوی بلاگر عظیم خان اداکار یاسر حسین پر برس پڑے۔

    باغی ٹی وی : صبا قمر کے شادی سے انکار کے اعلان کے بعد دیگر شوبز شخصیات کے ساتھ ساتھ یاسر حسین نے انہیں حوصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ صبا قمر جتنی خود مضبوط ہے اتنے ہی مضبوط مرد کی حقدار ہے۔

    ساتھ ہی یاسر نے مضبوط اور طاقتور مرد کی خصوصیات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ یاد رکھنا کہ مرد اپنی داڑھی مونچھ سے نہیں بلکہ اپنی سوچ اور ایمانداری سے مرد بنتا ہے۔

    یاسر حسین کے کئی دن پہلے دیئے گئے اس پیغام پر گزشتہ روز برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عظیم خان نے کہا کہ داڑھی مونچھ رکھنے سے واقعی کوئی مرد نہیں بنتا، پر ہرگزرتی چیز میں انگلی کرنا مردانہ عادت نہیں ہے۔

    آسٹریلوی بلاگر نے یہ بھی لکھا کہ کبھی ارطغرل میں مسئلے ہیں، کبھی باہر والوں کے پاکستان آکر کام کرنے سے مسئلے ہیں، مردوں کی سب سے اچھی فطرت میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ پھپھو والے کام نہیں کرتے۔

    واضح رہے کہ صبا قمر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹا گرام پر ایک نوٹ شیئر کرتے ہوئے عظیم خان سے شادی کے فیصلے کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔

    جتنی مضبوط صبا ہے وہ اتنے ہی مضبوط مرد کی حقدار ہے یاسر حسین

    صبا قمر کا شادی کا فیصلہ واپس لینے پر ساتھی فنکاروں کا رد عمل

  • بگ باس کنٹسٹنٹ اور اداکارہ ریمی سین نے بگ باس کو بیکار شو قرار دیا

    بگ باس کنٹسٹنٹ اور اداکارہ ریمی سین نے بگ باس کو بیکار شو قرار دیا

    معروف بھارتی رئیلیٹی شو بگ باس کے سیزن 9 کی کھلاڑی ریمی سین کا کہنا ہے کہ بگ باس ایک بیکار شو ہے لیکن میں اچھے پیسوں کی پیش کش کی وجہ سے بگ باس کے گھر میں آئی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریمی سین نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ ’میں نے بگ باس کے سیزن 9 میں صرف اس لیے کام کیا تھا کیونکہ مجھے اچھے پیسوں کی آفر ہوئی تھی۔

    ریمی سین نے کہا کہ ’میں بگ باس میں آنے سے پہلے ہمیشہ یہی سوچا کرتی تھی کہ یہ ایک ایسا بیکار شو ہے جہاں لوگ تین مہینے تک صرف ایک کافی کے لیے لڑتے ہیں۔

    بالی ووڈ اداکارہ نے کہا کہ ’مجھے بگ باس کا شو بیکار لگتا تھا لیکن میں اچھے پیسوں کی پیش کش کی وجہ سے بگ باس کے گھر میں آئی۔

    اُنہوں نے کہا کہ بگ باس ایک ایسی چھٹیاں ہیں جس کے بدلے آپ کو اچھا خاصہ معاوضہ ملتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ حقیقت جانتے ہوئے بھی ہر کوئی اس کی آفر قبول کرلیتا ہے۔

    ریمی سین نے کہا کہ میں جب بگ باس کے گھر میں داخل ہوئی تو میں نے اُس وقت محسوس کیا کہ یہ شو کس طرح کنٹسٹنٹ کے دماغ کے ساتھ کھیل رہا ہے اور اس کی وجہ سے ہمارے ذہنی صحت کس قدر مُتاثر ہورہی ہے۔

    اداکارہ نے مزید کہا کہ بگ باس کے گھر میں ہر شخص دوسرے کنٹسٹنٹ کو بُرا بھلا کہتا ہے لیکن میں کبھی نہیں لڑتی کیونکہ یہ مسئلے کا حل نہیں تھا، اس سے مزید مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

    خیال رہے کہ بگ باس نے اداکارہ ریمی کو49 دنوں میں 2 کروڑ 25 لاکھ دیئے تھے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ایک انٹرویو میں بگ باس کے سیزن 14 کی کھلاڑی پویترا پونیا کا کہنا ہے کہ بگ باس کے گھر اچھا خاصا انسان بھی ذہنی اذیت کا شکار ہوجاتا ہے-

    ویترا پونیا نے کہا تھا کہ جب آپ ایک چھت کے نیچے ایسے انجان لوگوں کے ساتھ رہتے ہو جن کے بارے میں آپ کو زیادہ علم نہ ہو تو لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں۔

    اُنہوں نے کہا تھا کہ بعض اوقات تو وہ جھگڑے اتنی شدت اختیار کرجاتے ہیں کہ اچھا خاصا انسان بھی ذہنی اذیت کا شکار ہوجاتا ہے اور پھر وہ بس یہی چاہتا ہے کہ کسی طرح اس گھر سے باہر نکل جاؤں۔

    بگ باس کے گھر اچھا خاصا انسان بھی ذہنی اذیت کا شکار ہوجاتا ہے پویترا پونیا

  • ریکھا اور امیتابھ بچن کے درمیان محبت سے متعلق خبروں پر جیا بچن کا رد عمل

    ریکھا اور امیتابھ بچن کے درمیان محبت سے متعلق خبروں پر جیا بچن کا رد عمل

    بالی ووڈ معروف اداکار امیتابھ بچن کی اہلیہ جیا بچن کا کہنا ہے کہ امیتابھ بچن اور ریکھا کے معاملے کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا-

    باغی ٹی وی : جیا بچن کاایک پرانا انٹرویوبھارتی میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں انہوں نےمعروف اداکارہ ریکھا اور امیتابھ بچن کے درمیان محبت سے متعلق خبروں پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس پیشے میں ہم ہیں یہاں چیزیں اتنی آسان نہیں لہذا کسی کے لیے جنون کی حد تک پاگل نہیں ہونا چاہیے-

    انہوں نے کہا کہ لہذا میں نے یہ معاملہ امیتابھ بچن پر چھوڑدیا تھا کیوں کہ مجھے ان پر بھروسہ تھا، میں نے ایک اچھے آدمی سے شادی کی اور ہمارا خاندان ثابت قدمی پر یقین رکھتا ہے۔

    جیا بچن نے مزید کہا کہ ہم انسان ہیں، اگر ہم منفی باتوں کا ردعمل دیتے ہیں تو مثبت باتوں پر بھی ردعمل کا اظہار کرتے ہیں، میڈیا امیتابھ بچن کو ہر ہیروئن سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے تاہم میں نے آج تک ان باتوں کو سنجیدہ نہیں لیا اگر سنجیدہ لیتی تو میری زندگی جہنم بن چکی ہوتی۔

    واضح رہے کہ حال ہی میں اداکارہ ریکھا نے ٹی وی شو کے دوران شادی شدہ مرد سے محبت کرنے کے سوال پر میزبان کو لاجواب کردیا تھا –

    بھارت کے مقبول شو انڈین آئیڈیل کی ریکارڈنگ کے دوران میزبان جے بھنوشالی مقابلے میں شریک ایک کنٹیسٹنٹ سے مذاق کر رہے تھے کہ اس دوران اچانک انہوں نے شو کی ججز نیہا کاکڑ اور ریکھا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ریکھا جی، نیہو، کبھی آپ نے کسی عورت کو کسی آدمی کے لیے اتنا پاگل ہوتے دیکھا اور وہ بھی شادی شدہ آدمی کے لیے؟-

    ے کی اس بات پر ریکھا نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مجھ سے پوچھیے! ریکھا کی اس حرکت نے میزبان سمیت تمام حاضرین کو ششدر کردیا۔ اس کے فوراً بعد ہی ریکھا نے بیان بدل دیا اور کہا نہیں نہیں میں نے کچھ نہیں کہا۔

    شادی شدہ مرد سے محبت کرنے کے سوال پر ریکھا نے میزبان کو لاجواب کر دیا

  • 50 ہزار روپے قیمت رکھنے والاجدید ٹیکنالوجی سے لیس فیس ماسک

    50 ہزار روپے قیمت رکھنے والاجدید ٹیکنالوجی سے لیس فیس ماسک

    دسمبر 2019 میں چین سے شروع ہونے والی کورونا کی وبا کے بعد دنیا بھر میں ماسک کی ڈیمانڈ بڑھنے کے بعد دنیا کی معروف کمپنیوں اور برانڈز نے بھی دیدہ زیب، اسمارٹ اور مہنگے ترین فیس ماسک متعارف کرائے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کا دنیا کا خاتمہ کو تقریباً ناممکن ہوگیا ہے کیوں کہ عالمی ادارہ صحت نے بھی مستقبل میں کرونا کے موسمی بیماری میں تبدیل ہونے کا عندیہ دیا ہے۔

    اگرچہ پہلے ہی ایل جی سمیت دیگر ٹیکنالوجی کمپنیاں اسمارٹ فیس ماسک متعارف کرا چکی ہیں، جن میں نہ صرف ایل ای ڈی لائٹس ہیں بلکہ وہ چارجنگ پر بھی چلتے ہیں-
    https://twitter.com/xupermask/status/1380206056689651712?s=20
    ایسے ہی اب امریکی ریپر ولیم ایڈمس المعروف ولیم آئی ایم نے امریکی کمپنی ہنی ویل اور ہولی وڈ سائنس فکشن کرداروں اسپائیڈر مین اور بیٹ مین کے لباس تیار کرنے والے ڈیزائنر جوز فرنانڈز کے ساتھ مل کر ایک منفرد فیس ماسک متعارف کرادیا۔


    ولیم آئی ایم نے ہونی ویل اور جوز فرنانڈس کے ساتھ مل کر ’سپر ماسک‘ نامی اسمارٹ فیس ماسک متعارف کرادیا۔

    ’سپر ماسک‘ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں تین پنکھے اور ایسے ڈیجیٹل فلٹرز نصب ہیں جو ہوا کو سانس کے لیے صاف بنانے میں مددگار بناتے ہیں۔


    ’سپر ماسک‘ میں جہاں پنکھے نصب ہیں، وہیں اس میں بلیوٹوتھ، ہیڈفون اور مائیکرو فون کی سہولت بھی ہے اور فیس ماسک کے مذکورہ تمام فیچرز بیٹری کی مدد سے کام کرتے ہیں۔

    ’سپر ماسک‘ کی بیٹری 7 گھنٹے تک کام کرتی ہے اور اس میں ہوا کو صاف بنانے والے فلٹرز کو 30 دن بعد تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے۔


    ’سپر ماسک‘ کی رقم 300 امریکی ڈالر یعنی پاکستانی 50 ہزار روپے کے قریب تک رکھی گئی ہے اور اسے ابتدائی طور پر آن لائن فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

    ’سپر ماسک‘ کو پیش کیے جانے پر امریکا میں رعایتی سیل بھی متعارف کرائی گئی ہے اور اسے کمپنی کی ویب سائٹ سے خریدنے پر 80 ڈالر تک کی رعایت حاصل کی جا سکتی ہے۔

    فیس ماسک کا متبادل ’نوزی‘ صارفین کو کب تک دستیاب ہو سکے گا؟

  • فیفا سے پاکستان فٹ بال فیڈریشن کی معطلی:فٹبالر سحر زمان کی اعلی حکام سے مسئلے کو حل کرنے کی اپیل

    فیفا سے پاکستان فٹ بال فیڈریشن کی معطلی:فٹبالر سحر زمان کی اعلی حکام سے مسئلے کو حل کرنے کی اپیل

    حال ہی میں فیفا کی جانب سے پاکستان فٹبال فیڈریشن کے معاملات میں بیرونی مداخلت پر پاکستان کی رکنیت معطل کی گئی ہے جس پر فٹ بالر مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں-

    اباغی ٹی وی : 7 اپریل کو جاری خبروں کے مطابق فیفیا نے پی ایف ایف ہیڈ کوارٹر پر مبینہ قبضے کی وجہ سے رکنیت معطل کی ہے پاکستان فٹبال فیڈریشن نارملازیشن کمیٹی کو اختیارات کی واپسی تک پاکستان کی رکنیت معطل رہے گی۔

    فیفا نے پی ایف ایف کے معاملات میں بیرونی مداخلت پر پاکستان کو رکنیت معطل کرنے کے حوالہ سے وارننگ بھی دی تھی،فیفا کی جانب سے لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا تھا کہ بدھ 31 مارچ کی رات تک فیڈریشن کا چار ج ہارون ملک کے حوالے نہ کیا گیا تو پاکستان فٹبال کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ پی ایف ایف کے فٹبال ہاؤس میں در اندازی کا معاملہ کانگریس اجلاس میں لے جایا جائے گا۔اگر فیڈریشن کے حالات بہتر نہ ہوئے تو پاکستان فٹبال فیڈریشن کی رُکنیت کو معطل بھی کیا جاسکتا ہے-

    فیفا سے پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف) کی رکنیت معطل ہونے پر قومی فٹبالرز نے مایوسی کا اظہارکر رہے ہیں-

    اس سلسلے میں فٹ بالر کلیم اللہ کا کہنا تھا کہ پانچ سال میں دوسری مرتبہ پاکستان فٹبال فیڈریشن کومعطل کیا ہے، صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان قومی فٹبالرز اور پاکستان کے امیج کا ہے-

    قومی ویمن فٹ بالر فاطمہ انصاری کا کہنا تھا کہ معطلی کے بعد ہم سب کا مستقبل تباہ ہوجائے گا، موجودہ صورتحال پاکستان میں فٹبالرز کےلیے بہت دکھ کی بات ہے۔حکومت کو ان حالات میں کنٹرول کرنا چاہیے .

    تاہم اب ویمن فٹ بالر سحر زمان نے بھی حکام سے اپیل کی ہے کہ ‘پاکستان میں فٹ بال بچائیں’۔

    سحر زمان نے ایک انسٹاگرام پر ویڈیو پیغام میں حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ فیفا کے ذریعہ پاکستان فٹ بال فیڈریشن پر حالیہ پابندی سے متعلق معاملے کو دیکھیں۔

    اطلاعات کے مطابق سحر زمان جو کنیئرڈ کالج کی سابقہ طالبہ ہیں اور پاکستان کی قومی ٹیم کا حصہ ہیں ، نے ایک ویڈیو پیغام شیئر کیا ہے جس میں انہوں نے پاکستان پر حالیہ پابندی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔

    سحر نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت فٹ بال کے حالات بہت خراب جا رہے ہیں فیفا نے پہلے ہی پاکستان کی رکنیت کو معطل کرد یا ہے اور ہو سکتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں ہم پر پانچ سالوں کے لئے پابندی بھی لگ جائے-

    اس کا مطلب ہے کہ فٹ بال پلئیرز کسی بھی عالمی مقابلے اور کسی بھی عالمی میدان میں پاکستان کی نمائندگی نہیں کر سکیں گے یہ ایک بہت بڑی زیادتی ہو گی ان سب کھلاڑیوں کے ساتھ جنہوں نے اپنی پوری زندگی یا زندگی کا بہت بڑا ٹائم فٹ بال کو دیا ہے-

    انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ماضی ، حال اور مستقبل کے کھلاڑی متاثر ہوتے ہیں-

    ویڈیو پیغام کے اختتام پر ، نوجوان کھلاڑی نے کہا کہ اس وقت میں درخواست کرتی ہوں یہ ایک عاجزانہ گزارش ہے ان لوگوں سے ، جو اس مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں ، جوکسی نہ کسی طرح ہمارے فٹ بال کو بچا سکتے مہربانی کر کے ان سے میری عاجزانہ اپیل ہے کہ آنے والے بچوں کے ساتھ ہم کھلاڑیوں کے ساتھ یہ زیادتی نہ ہونے دیں اس مسئلے کا حل نکالیں تاکہ ہم دل جان لگا کر پاکستانی جھنڈے کی نمائندگی کر سکیں اور پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کر سکیں-

    واضح رہے کہ سحر زمان پاکستان ویمن فٹ بال کے مکس فیلڈر ہیں۔ وہ دو بار قومی کھیل میں طلائی تمغہ اور پانچ مرتبہ نیشنل ویمن فٹ بال گولڈ میڈل اپنے نام کر چکی ہیں-

    فیفا سے پاکستان فٹ بال فیڈریشن کی معطلی ، فٹ بالر مایوس ہوگئے

    فیفا نے پاکستان کی رکنیت معطل کر دی

  • عریانیت سے متعلق بیان: حمزہ علی عباسی اورروحیل حیات کی دبے لفظوں میں وزیراعظم کی حمایت

    عریانیت سے متعلق بیان: حمزہ علی عباسی اورروحیل حیات کی دبے لفظوں میں وزیراعظم کی حمایت

    وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ملک میں بڑھتے جنسی ہراسانی اور ‘ریپ’ واقعات کو ‘فحاشی’ سے جوڑنے پر جہاں سیاسی و سماجی شخصیات نے رائے کا اظہار کیا، وہیں شوبز شخصیات بھی ان کے بیان سے ناخوش دکھائی دیں وہیں اداکارہ حمزہ علی عباسی اور روحیل حیات نے دبے لفظوں میں حمایت بھی کی-

    باغی ٹی وی :وزیر اعظم عمران خان نے 4 اپریل کو ٹیلی فون پر براہ راست عوام کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے ملک میں بڑھتے ریپ واقعات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں عریانیت یا خواتین کے بولڈ لباس کو ‘ریپ’ واقعات سے جوڑا تھا۔

    عمران خان نے واضح طور پر یہ نہیں کہا تھا کہ خواتین کا بولڈ لباس ہی ریپ کا سبب بنتا ہے تاہم انہوں نے بے پردگی اور فحاشی کو ایسے واقعات سے جوڑا تھا۔

    وزیر اعظم نے کہا تھا کہ معاشرے میں جتنی فحاشی بڑھے گی، اس کے اتنے ہی اثرات ہوں گے اور یہ کہ ہر انسان میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ خود کو روک سکے۔

    وزیر اعظم نے کہاتھا زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لئے سخت آرڈننس لائے ہیں، فیملی سسٹم کو بچانے کے لئے دین نے ہمیں پردے کا درس دیا، اسلام کے پردے کے نظریے کے پیچھے فیملی سسٹم بچانا اور خواتین کو تحفظ فراہم کرنا ہے-

    وزیر اعظم نے کہا تھا کہ کئی سال قبل برطانیہ بھی ایسا نہیں تھا مگر جب وہاں بھی خواتین نے عریانیت کو فروغ دیا اور مختصر لباس پہننے لگیں تو ’ریپ‘ واقعات بڑھنے لگے اور پھر فحش فلموں نے باقی کسر بھی پوری کی۔

    ان کے ایسے بیان پر متعدد سیاسی و سماجی شخصیات سمیت عام خواتین نے بھی اختلاف کرتے ہوئے ان پر تنقید کی تھی جب کہ شوبز شخصیات کی اکثریت بھی ان سے نالاں دکھائی دیں تاہم بعض شخصیات کے مطابق وزیر اعظم کے بیان کا مطلب غلط لیا گیا جن میں ان کی سابق اہلیہ کے بعد اب حمزہ علی عباس- اور روحیل حیات بھی شامل ہیں-

    حمزہ علی عباسی نے وزیر اعظم کے بیان پر سلسلہ وار ٹوئٹس میں مرد و خواتین دونوں کو پردے اور اپنی حفاظت کرنے کے مذہبی احکامات یاد دلائے۔


    حمزہ علی عباسی کا قرآن پاک کی آیت کا ترجمہ لکھتے ہوئے کہنا تھا کہ مذہبی کتاب میں اللہ نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ دونوں مرد و خواتین ایک دوسرے کے لیے جنسی کشش رکھتے ہیں اس لیے دونوں کو اپنی حیا کی حفاظت کی تلقین کی گئی اور مرد حضرات کو اپنی نگاہیں نیچے رکھنے کا حکم دیا گیا۔


    دوسری جانب روحیل حیات نے اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں لکھا کہ مجھے یقین ہے کہ عمران خان کی بار کا غلط مطلب نکالا گیا یے اور نام نہاد چیمپیئن آف فریڈم اینڈ لبرلز کے ذریعہ پیدا کردہ ایک بہت بڑی ہنگامہ آرائی ہے۔ انہوں نے عصمت دری کی واضح طور پر مذمت کی ہے اور ان کے کہنے ک مطلب ہے کہ شائستگی کی حدود سے نکلنا پریشانی کی دعوت دیتا ہے اور کون اس حقیقت سے انکار کرسکتا ہے؟


    روحیل حیات نے لوگوں کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ وزیر اعظم نے اپنے بیان میں ‘ریپ’ واقعات کی مذمت کی اور ایک لیڈر ہونے کے ناتے انہوں نے حقائق بیان کیے کہ فحاشی کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں۔


    انہوں نے کہا کہ لیکن یہ صرف عمران خان کے کہنے ہی کی بات نہیں ہے ایک باپ کی حیثیت سے ، میں اپنے بچے کو بھی یہی مشورہ دوں گا کہ آپ ہمارے معاشرے میں کس طرح کے لباس پہنتے ہیں اس کو ذہن میں رکھیں۔ اس لئے نہیں کہ میں اس چیز کو ختم کرنا چاہتا ہوں ، لیکن اس لئے کہ میں اس شخص کا بھلا چاہتا ہوں جس کو میں مشورہ دے رہا ہوں۔


    انہوں نے کہا کہ مرد اور عوت دونوں میں ایک سرد جنگ ہے کوئی بھی اپنی غلطی مان کر اس کو صحیح کرنے کو تیا رنہیں –


    اصل میں وہ دونوں ایک جیسے ہیں۔ انتہا پسند! دونوں دوسرے کو مارنے کا نعرہ لگاتے ہیں اور وہ دونوں اپنے طریقوں کے سوا ہر چیز سے نفرت کرتے ہیں۔ ایک سر سے پیر تک کا احاطہ کرنا چاہتا ہے اور دوسرا اپنی ترجیحات کی نمائش کے طور پر رہنا چاہتا ہے-


    حمزہ علی عباسی اور موسیقار روحیل نے واضح طور پر وزیر اعظم کے بیان کی حمایت یا اس سے اختلاف نہیں کیا بلکہ دونوں مرد و خواتین کو مشورہ دیا اورخیال ظاہر کیا کہ وزیر اعظم کے بیان کا مطلب غلط سمجھا گیا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اپنے ایک ٹوئٹ میں عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما خان نے بھی خیال ظاہر کیا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان کے بیان کا مطلب غلط لیا گیا ہوگا۔

    جمائمہ کی وزیر اعظم عمران خان کے فحاشی اور عریانیت سے متعلق بیان پر ٹوئٹ

    وزیر اعظم کے عریانیت اور ریپ کے بیان پر عوام کا ردعمل

  • ہر انسان میں صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں کسی کو ان کی جسمانی ساخت پر نہیں پرکھا جا سکتا   کنول آفتاب

    ہر انسان میں صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں کسی کو ان کی جسمانی ساخت پر نہیں پرکھا جا سکتا کنول آفتاب

    حال ہی میں ایکسپریس انٹرٹینمنٹ پر نشر ہونے والے ڈرامے ’اوئے موٹی‘ پر صارفین کی جانب سے تنقید پر اداکارہ اور ٹک ٹاکر کنول آفتاب نے رد عمل دیا ہے-

    باغی ٹی وی : ڈرامے ’اوئے موٹی‘ کی نویں قسط کا پرومو جاری کیا گیا، جس میں اداکارہ کنول آفتاب کو فربہ حالت میں دکھایا گیا پرومو میں دکھایا گیا کہ کس طرح 160 کلو وزن رکھنے کی وجہ سے اداکارہ کو مشکلات پیش آتی ہیں اور کافی محنت کے بعد جب ایک شخص سے ان کی منگنی ہوتی ہے تو وہ منگنی کے موقع پر ہی انہیں وزن کا طعنہ دیتے دکھائی دیتے ہیں۔

    پرومو میں دکھایا گیا کہ منگیتر ادکارہ سے ان کا وزن 160 کلو سے 70 کلو تک لے آنے کا مطالبہ کرتا ہے اور ایسا کرنے پر ہی وہ ان سے شادی کی شرط رکھتا ہے۔


    مذکورہ پرومو جاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے ڈرامے کی ٹیم کو کہانی اور کرداروں کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا اور بعض افراد نے ڈرامے کو پانچویں گریڈ کا ڈراما قرار دیا۔

    بعض مداحوں نے ڈرامے کی کہانی اور کرداروں کی ساخت پر شدید برہمی کا اظہار کیا کہا کہ بطور ملک ہم اسی لیے ہی ناکام ہیں، کیوں کہ ہم ’اوئے موٹی‘ جیسے ڈرامے بناتے ہیں اور ان میں ٹک ٹاکرز کو کاسٹ کرتے ہیں۔

    لوگوں کی تنقید کے بعد ’اوئے موٹی‘ میں 160 کلو وزنی لڑکی کا کردار ادا کرنے والی ٹک ٹاکر کنول آفتاب نے انسٹاگرام پر پوسٹ شیئر کی اور بتایا کہ انہوں نے کتنی محنت اور وقت لگا کر مذکورہ ڈراما بنایا۔

    اداکارہ و ٹک ٹاکر نے وضاحت کی کہ انہوں نے ڈرامے میں موٹی لڑکی کا کردار صرف اور صرف ان خواتین کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے کیا، جنہیں ان کی جسمانی ساخت پر تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

    کنول آفتاب نے لکھا کہ لوگ نہ تو کسی ’موٹی‘ کو جینے دیتے ہیں اور نہ ہی کسی ’پتلی‘ کو زندگی سکون سے گزارنے دیتے ہیں اور انسان کبھی بھی خوش نہیں رہتا۔

    اداکارہ نے لکھا کہ ہر انسان میں صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں اور کسی کو ان کی جسمانی ساخت پر نہیں پرکھا جا سکتا۔

    انہوں نے ناقدین سے درخواست کی کہ خود بھی خوش رہیں اور دوسروں کو بھی خوش رہنے دیں –

    باڈی شیمنگ پر بنے ڈرامے ’اوئے موٹی‘ پر تنقید، صارفین نےپانچویں گریڈ کا ڈراما قرار دیا

  • باڈی شیمنگ پر بنے ڈرامے ’اوئے موٹی‘ پر تنقید، صارفین نےپانچویں گریڈ کا ڈراما قرار دیا

    باڈی شیمنگ پر بنے ڈرامے ’اوئے موٹی‘ پر تنقید، صارفین نےپانچویں گریڈ کا ڈراما قرار دیا

    حال ہی میں ایکسپریس انٹرٹینمنٹ پر نشر ہونے والے ڈرامے ’اوئے موٹی‘ پر صارفین کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے-

    باغی ٹی وی : ڈرامے ’اوئے موٹی‘ کو اگرچہ ابتدائی طور پر رواں برس فروری میں نشر کیا گیا تھا اور 10 اپریل تک اس کی 9 اقساط دکھائی جا چکی تھی تاہم ڈرامے کے شروع ہونے کے دو ماہ بعد اب اس پر تنقید کی جا رہی ہے-

    ’اوئے موٹی‘ کا آغاز فروری کے وسط سے ہوا تھا اور ڈرامے میں فربہ خواتین کو پیش آنے والی مشکلات دکھائی جاتی ہیںڈرامے کی ہر قسط میں کسی نہ کسی خاتون یا لڑکی کو ان کے زائد وزن اور موٹاپے کی وجہ سے مشکلات کا شکار دکھایا گیا ہے۔

    ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح خواتین یا نوجوان لڑکیوں کو ان کی جسمانی ساخت پر تضحیک کا نشانہ بنا کر نہ صرف کام کی جگہ پر بار بار طعنے دئیے جاتےہیں بلکہ انہیں ہسپتالوں تک دوران علاج وزن اور ازدواجی زندگی میں بھی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

    اگرچہ ڈرامے کا مقصد سماج میں اضافی وزن والی خواتین سے متعلق شعور اجاگر کرنا ہے، تاہم ڈرامے کو پیش کرنے کے انداز پر لوگ اس پر سوشل میڈیا پر تنقید کرتے دکھائی دئیے۔

    سوشل میڈیا پر ’اوئے موٹی‘ پر اس وقت تنقید شروع ہوئی جب ڈرامے کی نویں قسط کا پرومو جاری کیا گیا، جس میں اداکارہ کنول آفتاب کو فربہ حالت میں دکھایا گیا۔


    پرومو میں دکھایا گیا کہ کس طرح 160 کلو وزن رکھنے کی وجہ سے اداکارہ کو مشکلات پیش آتی ہیں اور کافی محنت کے بعد جب ایک شخص سے ان کی منگنی ہوتی ہے تو وہ منگنی کے موقع پر ہی انہیں وزن کا طعنہ دیتے دکھائی دیتے ہیں۔

    پرومو میں دکھایا گیا کہ منگیتر ادکارہ سے ان کا وزن 160 کلو سے 70 کلو تک لے آنے کا مطالبہ کرتا ہے اور ایسا کرنے پر ہی وہ ان سے شادی کی شرط رکھتا ہے۔

    مذکورہ پرومو جاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے ڈرامے کی ٹیم کو کہانی اور کرداروں کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا اور بعض افراد نے ڈرامے کو پانچویں گریڈ کا ڈراما قرار دیا اور شدید برہمی کا اظہار کیا کہا کہ آج کل پانچویں گریڈ کے ڈرامے بن رہے ہیں یہ شرمناک ہے اور وہ گانا اوئے موٹی مطلب کچھ بھی ؟ اداکاروں میں کوئی احساس نہیں ہوتا ہو ایسے اسکرپٹ پر عمل کرتے ہوئے؟-

    بعض افراد نے لکھا کہ بطور ملک ہم اسی لیے ہی ناکام ہیں، کیوں کہ ہم ’اوئے موٹی‘ جیسے ڈرامے بناتے ہیں اور ان میں ٹک ٹاکرز کو کاسٹ کرتے ہیں۔


    https://twitter.com/Red_Zone1/status/1380146764351700993?s=20