Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ہمایوں سیعد ہم سب کیلئے متاثر کن شخصیت ہیں اور رہیں گے    فہد مصطفیٰ

    ہمایوں سیعد ہم سب کیلئے متاثر کن شخصیت ہیں اور رہیں گے فہد مصطفیٰ

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اداکار اور میزبان فہد مصطفیٰ نے ساتھی اداکار ہمایوں سعید کو تمغہ امتیاز ملنے پر مبارکباد دیتے ہوئے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر فہد مصطفیٰ نے ہمایوں سیعد کی ایوان صدر میں لی گئی تصویر شئیر کرتے ہو ئے لکھا کہ اپنے کام میں ماہر لوگوں کو عوامی پزیرائی ملے تو خوشی ہوتی ہے۔


    انہوں نے لکھا کہ ہمایوں بھائی آپ کو تمغۂ امتیاز ملنے پر بے حد خوشی ہوئی ہے آپ ہم سب کیلئے متاثر کن شخصیت ہیں اور رہیں گے ہمیں اپ پر فخر ہے-

    فہد مصطفیٰ نے مزاحیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ اب ملیں گے تو پپّی بنتی ہے۔

    واضح رہے کہ ایوان صدر اور چاروں صوبوں کے گورنر ہاوسز میں اعزازات کی تقسیم کے لیے تقاریب منعقد کی گئیں جن میں صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی اور صوبائی گورنروں نے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات پر گزشتہ سال نامزد ہونے والی شخصیات کو اعزازات سے نوازا جن میں ادکاروں، فن کاروں اور فن و ادب س تعلق رکھنے والوں کی نمایاں تعداد شامل ہے۔

    ان تقاریب میں 23 شخصیات کو ستارہ شجاعت، 8 کو ستارہ امتیاز، 21 کو تمغہ شجاعت، 8 کے لیے تمغہ امتیاز، 6 کو نشان امتیاز، 3 کو ہلال امتیاز، ایک کے لیے ہلال قائد اعظم، ایک کو ستارہ پاکستان، 6 کو ستارہ قائد اعظم، ایک کو تمغہ پاکستان، ایک کو تمغہ قائد اعظم جبکہ 14 شخصیات کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا-

    ہمایوں سعید،علی ظفر اورعابدہ پروین سمیت 88 شخصیات کے لئے قومی اعزازات

    پرائیڈ آف پرفارمنس کا تمغہ میری محنت کا میٹھا پھل ہے ریشم

    ہمایوں سعید اور بشرٰی آپا تمغہ حسن کے صحیح حقدار تھے عائشہ خان

    میں دیکھ رہا ہوں کہ مدت بعد حقدار لوگوں کو تمغوں سے نوازا گیا ہے خلیل الرحمان قمر

  • پاکستان میں عالمی اسٹیبلشمنٹ پھر متحرک امریکہ پی ڈی ایم کی مدد کو پہنچ گیا مودی کا خط کھچڑی تیار  سنیئے مبشر لقمان کی زبانی

    پاکستان میں عالمی اسٹیبلشمنٹ پھر متحرک امریکہ پی ڈی ایم کی مدد کو پہنچ گیا مودی کا خط کھچڑی تیار سنیئے مبشر لقمان کی زبانی

    پاکستان کے سینئیر صحافی کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں ایک طرف اپوزیشن اپنا کھیل کھیل رہی ہے تودوسری طرف عالمی طاقتیں بھی بھرپور متحرک ہو چکی ہیں –

    باغی ٹی وی : مبشر لقمان کا اپنے یوٹیوب کے آفیشل چینل پر جاری ویڈیو میں کہنا ہے کہ ایک طرف پی ڈی ایم پر الزام لگ رہا ہے کہ اسے سعودی عرب سے فنڈنگ مل رہی ہے تو دوسری طرف اس سے امریکی وفد ملاقاتیں کر رہا ہے جو حکومت کے لئے کسی بھی قسم کی ٖغیر متوقع اور غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ پاکستان میں متحرک ہو چکی ہے اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ عالمی طاقتیں پاکستا ن میں اقتدار کی تبدیلی کا کھیل کھیلتی رہی ہیں۔ میاں نواز شریف کو مشرف سے ڈیل کی بھیک دلوانے والا بھی سعودی عرب تھا تو دوسری طرف عمران خان کے دور حکومت میں نواز شریف کو بیماری کے بہانے باہر بھجوانے کا الزام بھی سعودی عرب پر آرہا ہے۔ جبکہ مریم کو باہر آزاد گھومنے کا پروانہ بھی وہیں سے ملنے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

    مبشر لقمان کے مطابق یہ امریکہ ہی تھا جس نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو مشرف سےNRO دلوایا تھا، ماضی میں ہم نے یہ بھی دیکھا کہ بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہ اسلام آباد میں امریکی سفیر سے اقتدار کی بھیک مانگتے نظر آئے۔

    سینئیر صحا فی کا کہنا تھا کہ اس ساری صورتحال میں حمزہ شہباز کی فوری ضمانت اور اس کے بعد انہیں پوری سیاست میں حصہ لینے کی اجازت دینا بھی کسی کھیل اور پریشر کا حصہ محسوس ہو رہا ہے حال ہی میں حمزہ شہباز شریف کی امریکی کونسل جنرل سے لاہور ماڈل ٹاون میں دو گھنٹے ملاقات ہوئی ہے جس کے بعد پریس ریلیز جاری کی گئی کہ Local politics ، Next election اور Pak india relations And Regional situation اور Pakistan US ties Under Biden Adminstration ڈسکس کی گئی۔

    انہوں نے بتایا کہ یہ جو چیزیں امریکی کونسل جنرل نے حمزہ سے ڈسکس کی ہیں موجودہ حالات میں اس کا کوئی جواز نہیں ہے، الیکشن ڈھائی سال بعد ہونے ہیں، لوکل پولیٹکس میں اس وقت امریکہ کا ن لیگ سے ڈسکس کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب کی مدد سے اگلا حکمران پھر ن لیگ سے ہو گا اور مریم کی بجائے حمزہ سے ملاقات کا مطلب ہے کہ ن لیگ میں بھی اب حکمران نواز شریف نہیں شہباز شریف ہوں گے-

    مبشر لقمان کے مطابق حکومت کے لیئے یہ ایک انتہائی تشویش ناک صورتحال ہونی چاہیے،یہ کسی بھی پس پردہ پیش رفت کا نتیجہ ہو سکتی ہیں کیونکہ پاکستان میں جب کبھی بھی سیاسی تحریکیں چلی ہیں وہ یا تو عالمی طاقتوں کی مدد سے چلی ہیں جیسے مشرف کو جب فارغ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تو اس میں امریکہ بہادر کو سب پتا تھا اور اس کی مدد حاصل تھی۔ یا پھر پاکستان کی طاقتوں کی مدد سے یہ کیا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس وقت لانگ مارچ ، جلسے جلوس اور سیاسی عدم استحکام کا ماحول تیار ہے ایسی صورت میں کیا بیرونی طاقتیں اقتدار تبدیل کر کے اپنے مقاصد تو حاصل نہیں کرنے جا رہی، ہمیں اس پر نظر رکھنے کی سخت ضرورت ہے۔جبکہ عمران خان بھی پی ڈی ایم پر بیرونی مدد کا الزام لگا چکے ہیں دوسری طرف سعودی عرب دنیا کو یہ بتا رہا ہے کہ اس کا پاکستان پر اتنا اثرو رسوخ ہے کہ اس کے کہنے پر وہ بھارت کے ساتھ بھی ہاتھ ملا سکتا ہے۔ یہ بات بھی تشویش سے خالی نہیں ہے۔

    مبشر لقمان کے مطابق ہمیں جو بھی کرنا ہے اپنے مفاد میں کرنا ہے کسی کے اشاروں پر نہیں۔ یہ میرا ہمیشہ سے موقف رہا ہے۔ اور امن کسی بھی ملک سے بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور جب بات ہمسائے کی ہو تو اس کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔لیکن وہ امن کس قیمت پر حاصل ہو گا یہ بھی اہم سوال ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ ایک دم سے نہیں ہو رہا بلکہ اس پر سالوں کی محنت شامل ہے۔ یہ نہیں ہوا کہ ایک دم سے DG MO اٹھے اور جا کر بھارت کو کہہ دیا کہ اب ہم ایک دوسرے پر گولہ باری نہیں کریں گے، چلو اچھے بچوں کی طرح رہتے ہیں اور بھارت کا DG MO اس کے لیئے تیار بیٹھا تھا اور کام شروع ہو گیا۔

    انہوں نے کہا کہ پہلے پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر موثر جنگ بندی کی، اس کے بعد سندھ طاس معاہدے پر ڈویلپمنٹ ہوئی، پاکستان میں ایک کانفرنس منعقد کی گئی جس میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کو ماضی بھلا کر آگے بڑھنا چاہیے اور اس میں ہر ایک نے Comprehensive Security frame work پر بات کی جس میں بارڈر، ملٹری اور خارجہ تعلقات سے نکل کر ایک انسان کی سیکیورٹی شامل ہے۔ جس میںEnvironmentWater Food securityسمیت ہر وہ چیز آتی ہے جس سے اس ملک کا شہری تحفظ کا احساس کرتا ہے۔

    مبشر لقمان نے کہا کہ اور اس کے بعد بھارت میں مودی جیسے شخص نے نہ صرف عمران خان کے لیئے خیر سگالی کی ٹویٹ کی بلکہ یوم پاکستان کے موقع پر ایک خط بھی عمران خان کے نام پر لکھا گیا۔جس میں کہا گیا کہ پاکستان کے قومی دن کے موقع پر وہ پاکستانی عوام کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں۔

    مودی نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ اس مشکل وقت میں وہ اُنھیں اور پاکستانی عوام کے کووڈ 19 کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نیک تمنائیں رکھتے ہیں ایک پڑوسی ملک کے طور پر انڈیا پاکستان کے عوام کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتا ہے ایسا ممکن بنانے کے لیےدہشتگردی اور دشمنی سے خالی اور اعتماد سے بھرپور ماحول کی ضرورت ہے۔

    مبشر لقمان کے مطابق امریکہ اور سعودی عرب کی لوکل سیاست میں مداخلت کے باوجود ایسا لگ رہا ہے کہ شائد پی ڈی ایم کو اپنا وجود رکھنا مشکل ہو جائے جبکہ پی ڈی ایم اپوزیشن کے لیئے اپنا وجود قائم رکھنے کے لیئے ناگزیر ہے لیکن یہ بات مریم کو کون سمجھائے۔

    انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی پر مایوسی کا اظہارکیا ہے اور صف زرداری اور نوازشریف کو پیغام دیا ہے کہ بچوں کو سمجھائیں وہ بچگانہ سیاست نہ کریں یہ طے ہوا تھا کہ چار اپریل سے قبل کوئی کسی کے خلاف متنازعہ بیان نہیں دے گا، بلاول اور مریم سمیت دیگر رہنماؤں کے حالیہ بیانات پر بہت مایوسی ہوئی ہے، جو فیصلے پی ڈی ایم اجلاس میں ہوئے تھے ان پر عمل ہونا چاہیے، استعفوں اور لانگ مارچ پر پی پی نے خود وقت مانگا اس لیے سب انتظار کریں۔

    انہوں نے کہا کہ لیکن اس سب کے باوجود ہر طرف یہ بحث ہو رہی ہے کہ کیا پی ڈی ایم اپنا وجود قائم رکھنے میں کامیاب ہو جائے گی پیپلز پارٹی کو یہ گلہ شکوہ ہے کہ مولانا اور مریم پہلے ہی گڈ مڈ کر لیتے ہیں اور پھر اپنے فیصلے ہم پر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    اجتماعی استعفوں کے معاملے میں بھی پیپلز پارٹی کا شکوہ ہے کہ وہ 26 مارچ کے لانگ مارچ کی تیاری کیے ہوئے تھے کہ اچانک دس روز پہلے استعفوں کو لانگ مارچ کے ساتھ نتھی کر دیا گیا، حالانکہ پہلے سے ایسی کوئی بات طے نہیں تھی۔

    مبشر لقمان کیا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کا یہ دیرینہ موقف رہا ہے کہ بُرے سے بُرے حالات میں بھی پارلیمانی سیاست سے دستبرداری سیاسی طور پر نقصان دیتی ہے وہ تو 1985 میں آج سے 36 سال پہلے لگنے والا نقصان بھولنے کو تیار نہیں جب انھوں نے غیر جماعتی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی غلطی کی یہ بائیکاٹ ہی تھا جس نے نواز شریف کو اپنے قدم جمانے کا موقع دیا اور اس کے بعد سے دوبارہ پیپلز پارٹی پنجاب میں وہ مقام حاصل نہ کر پائیاس کے بعد سے پیپلز پارٹی نے استعفوں کی دھمکیاں تو دی ہیں مگر کبھی اس پر عمل نہیں کیا اب بھی ان کا استعفے دینے کا کوئی ارادہ نہیں۔

    سینئیر صحافی نے بتایا کہ اس وقت اپوزیشن چار اپریل کا انتظار تو کر رہی ہے لیکن انہیں ا سکے بعد مایوسی کا منہ دیکھنا پڑے گا مسلم لیگ ن مولانا کو لانگ مارچ عید کے بعد رکھنے کا عندیہ دے چکی ہے۔ جس کے بعد گرمیاں شروع ہو جائیں گی دوسرا پی ڈی ایم کو یہ خطرہ بھی ہے کہ وہ عوام میں مطلویہ پریشر بھی قائم رکھنے میں ناکام ہو جائے گی، اپوزیشن کے قدم اکھڑ چکے ہیں اور اب یہ صرف میاں نواز شریف کی ملک دشمن تقریروں سے نہیں جمیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ جبکہ یوسف رضا گیلانی کی عدالت سے درخواست خارج ہونے کے بعد اس بات کا قوی امکان ہے کہ پیپلز پارٹی سینٹ میں ضزب اختلاف کے لیئے اپنا امیدوار لے آئے گی جس پی ڈی ایم کے تابوت میں آکری کیل ثابت ہو سکتا ہےجبکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں حکمت عملی پر بھی شدید اختلاف ہے، ن لیگ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف دھواں دار تقریریں کرنا چاہتی ہے جبکہ پیپلزپارٹی ن لیگ کے پیچے لگ کر اس تصادم کا حصہ نہیں بننا چاہتی۔

    مبشر لقمان کے مطابق ایسی صورت میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ پی ڈی ایم کا مستقبل تاریک ہے لیکن کسی بھی قسم کی بیرونی غیبی طاقت اس تحریک میں جان ڈال سکتی ہے۔ جو یقینی تور پر اس ملک کے مفاد میں نہیں ہو گا۔

  • شوبز میں کاسٹنگ کاؤچ کا الزام : اچھے کردار اور پیسے کے بدلے میں ایسا مطالبہ کیا گیا جس نے میرے پاوں تلے زمین نکال دی    صبا بخاری

    شوبز میں کاسٹنگ کاؤچ کا الزام : اچھے کردار اور پیسے کے بدلے میں ایسا مطالبہ کیا گیا جس نے میرے پاوں تلے زمین نکال دی صبا بخاری

    پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی ابھرتی ہوئی اداکارہ صبا بخاری کا کہنا ہے کہ یہ بات بلکل جھوٹ ہے کہ یہاں نیپوٹزم نہیں ہے-

    باغی ٹی وی : ’دل نا امید تو نہیں، رسم دنیا اور دکھ کم نہ ہو‘ جیسے ڈراموں میں اداکاری کرنے والی نوجوان اداکارہ صبا بخاری نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی شوبز انڈسٹری میں بھی لڑکیوں سے کام کے بدلے نامناسب مطالبات کیے جاتے ہیں۔

    رواں ماہ 16 مارچ کو صبا بخاری نے اپنی ایک انسٹاگرام پوسٹ میں پاکستانی شوبز انڈسٹری میں خواتین کو مواقع دیے جانے کے بدلے ان سے کیے جانے والے مطالبات پر ایک پوسٹ کی تھی جو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی تھی۔

    صبا بخاری نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں بتایا تھا کہ جب وہ کیریئر کے آغاز میں تھیں تو کئی ہدایت کار، پروڈیوسر اور دوسری شوبز شخصیات انہیں کہا کرتی تھیں کہ ان میں اتنی خود اعتمادی نہیں کہ وہ شوبز میں آگے بڑھ سکیں۔

    اداکارہ نے لکھا تھا کہ انہیں یہ بھی کہا گیا کہ وہ ایک اچھی لڑکی ہیں اور اچھی لڑکیاں شوبز میں نہیں چل سکتیں جب کہ لوگ انہیں طرح طرح کی باتیں کرتے وقت یہ بھی کہتے کہ وہ اتنی خوبصورت ہیں تو ایسا ممکن ہی نہیں کہ کسی نے انہیں کوئی پیشکش نہ کی ہو۔

    اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں بتایا تھا کہ انہیں یہ تک بھی کہا جاتا تھا کہ انہیں کوئی کیوں کام دیں جب کہ شوبز میں کرداروں اور کام کے بدلے دوسری لڑکیاں بہت کچھ کرنے کو تیار ہوتی ہیں۔

    اداکارہ کی مذکورہ پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر تہلکہ مچ گیا تھا اور کئی شوبز شخصیات سمیت عام افراد نے بھی ان کی ہمت کی تعریف کی اور ان کا ساتھ دیا۔

    بعد ازاں صبا بخاری نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اسی معاملے کی مزید وضاحت کی اور انہوں نے براہ راست پاکستانی شوبز انڈسٹری میں ’کاسٹنگ کاؤچ‘ یعنی کام کے بدلے نامناسب تعلقات کے الزامات نہیں لگائے تاہم انہوں نے بتایا کہ انہیں بھی بالواسطہ طور پر ایسی پیشکش کی گئی۔

    صبا بخاری نے دعویٰ کیا کہ انہیں چند ڈراموں کے کرداروں کے لیے شاٹ لسٹ بھی کیا گیا مگر انہیں عین وقت پر کاسٹ کرنے سے منع کردیا گیا اور انہیں کوئی واضح سبب بھی نہیں بتایا گیا تھا۔

    صبا بخاری نے بتایا کہ ایک بار کسی کردار کے لیے انہیں شارٹ لسٹ کیا گیا اور فون پر ان سے پوچھا گیا کہ وہ کاسٹ کیے جانے اور پیسے ملنے کے عوض کاسٹ کرنے والوں کو کیا دیں گی؟

    صبا کا کہنا تھا کہ میرے ذہن میں بالکل نہیں تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں تو میں نے کہا کہ آپ تھوڑے سے پیسے رکھ لیجیے گا تو انھوں نے ساتھ سونے کی بات کی، میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور میں نے کال کاٹ دی۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے انھیں سمجھ آ گئی کہ پہلے بھی انھیں اسی وجہ سے نہیں رکھا گیا تھا۔

    صبا بخاری نے دعویٰ کیا کہ شوبز انڈسٹری میں بعض لڑکیوں نے انجانے اور مجبوری میں کردار ملنے کے عوض دوسروں کے غلط مطالبات بھی تسلیم کیے اور آج ایسی لڑکیاں پچھتا رہی ہیں۔

    صبا کے مطابق وہ سمجھتی تھیں کہ شوبز میں اتنے بڑے ستاروں کے ساتھ کام کرنا بڑی قسمت کی بات ہوتی ہوگی۔ مگر آہستہ آہستہ ان کی نظروں میں یہ ‘چارم’ مانند پڑگیا۔

    انہوں نے کہا کہ شروع میں ہم سوچتے ہیں کہ پتا نہیں اتنے بڑے ناموں کے ساتھ کام کرنے کا موقع کتنا بڑا ہوگا۔ ہم اپنے ذہن میں انڈیا پہنچے ہوتے ہیں۔ لیکن اندر آ کر بس خیالی پلاؤ رہ جاتا ہے۔ اندر بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ اگر آپ کے پاس پیسے یا تعلقات نہیں تو آپ رہنے ہی دیں۔’

    صبا بخاری اب شوبز میں کام کے بدلے جنسی تعلقات کی پیشکش سے تنگ آچکی ہیں ان کا کہنا تھا کہ جب میں چھوٹی تھی تب مجھے یہ باتیں سننے کو نہیں ملی تھیں۔ پھر میں نے خود کو گروم کیا تاکہ بڑے رول مل سکیں ‘اب اگر ان (کاسٹنگ ٹیم) کے سامنے جاؤ تو ان کی نیت ہی کچھ اور ہو جاتی ہے۔ دل بہت زیادہ ٹوٹ گیا ہے۔

    صبا کا کہنا تھا کہ اس انڈسٹری میں اگر آپ کو مشکل سے کام مل بھی جائے تو ساتھ کام کرنے والے سینیئر آرٹسٹس بھی بہت مسئلہ کرتے ہیں مجھے ایک پراجیکٹ میں ایک سینئر اداکارہ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا لیکن انھوں نے مجھے بہت ٹف ٹائم (مشکل وقت) دیا ایک بار انھوں نے مجھے سامنے بیٹھا دیکھ کر یہ بھی کہا کہ آج کل تو ذرا سا بھی چہرہ ہوتا نہیں اور منہ اٹھا کر آ جاتی ہیں۔

    صبا نے بتایا کہ وہ ایک حساس طبیعت کی مالک ہیں اور ان کے خیال میں آرٹسٹ بھی حساس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔

    صبا بخاری کا کہنا تھا کہ ایک ڈائریکٹر نے انھیں جب یہ کہا کہ اچھی لڑکیاں یہاں پر نہیں چلتیں تو وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئیں کہ اب آگے کیا ہو گا یہ بات کافی عرصہ میرے ذہن میں چلتی رہی اور میں سوچنے لگی کہ میں واقعی یہاں پر نہیں چل سکتی لیکن جب مجھے ‘دل نا امید تو نہیں’ کا پراجیکٹ ملا تو میں توقع نہیں کر رہی تھی کہ ایسا ہو جائے گا۔

    اب انسٹاگرام پر اپنی پوسٹ کے بعد ان سے کئی لوگوں نے رابطہ کیا ہے اور ان سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا ہے۔

    میں تو حیران ہوگئی ہوں کہ اتنا سپورٹ مجھے تو سوشل میڈیا پسند بھی نہیں تھا کیونکہ یہاں ایک دوسرے کی برائی کی جاتی ہے لیکن مجھے کافی مثبت ردعمل ملا ہے۔میں سوچ رہی ہوں یہ کیسے ہوسکتا ہے؟-

    صبا بخاری نے نیپوٹزم کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ بالکل جھوٹ ہے کہ شوبز میں نیپوٹزم نہیں ہے اس انڈسٹری میں بہت زیادہ نیپوٹزم ہے اداکار والدین اپنے بچوں کے ویڈیو کلپس لے کر پھر رہے ہوتے ہیں سب کو دکھا رہے ہوتے ہیں کہ یہ دیکھو ہمارے بچوں نے یہ سین کتنا اچھا کیا یہ کام کتنا اچھا کیا-

    تاہم صبا نے تاحال شوبز انڈسٹری میں کام جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے وہ چاہتی ہیں کہ انھیں اپنی محنت اور ہنر کے بل پر اچھا کام ملے-

    صبا بخاری نے شوبز انڈسٹری کا سیاہ چہرہ بے نقاب کر دیا

  • کوہاٹ: خٹک کالونی میں تین سالہ حریم فاطمہ کی لاش برآمد

    کوہاٹ: خٹک کالونی میں تین سالہ حریم فاطمہ کی لاش برآمد

    کوہاٹ خٹک کالونی میں تین سالہ بچی کی لاش برآمد، بچی کی والدین کا کہنا ہے کہ حریم فاطمہ نامی بچی کل سے لاپتہ تھی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق بچی کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ڈی منتقل،مشتعل افراد نے احتجاجاً یونیورسٹی روڈ بند کر دیا.

    تین سالہ ننھی بچی کے بیہمانہ قتل پر سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے شدید غم وغصہ ، دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے گورمنٹ اور اعلی حکام سے مجرموں کو سخت ست سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے یہاں تک کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر #JusticeForHareem ٹوئٹر پینل پر فہرست میں ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے-
    https://twitter.com/IamKHANGE/status/1375035743832322056?s=20
    ذیشان علی خان نامی صارف نے لکھا کہ ہم اس غلط فہمی کے ساتھ مرجائیں گے کہ ہمیں یوم حشر پر صرف کلمہ ،نماز،حج،روزہ اور زکوۃ کا ہی جواب دینا ہے-


    سعود خٹک نامی صارف نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ظلم کی انتہا کوہاٹ خٹک کالونی سے کل یہ بچی دوپہر 3 بجے گھر سے لاپتہ ہوئی اور آج صبح اسکی لاش ایک نالے کے قریب سے ملی آخر کب تک یہ ننھے پھول ظالموں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔


    خٹک نامی صارف نے لکھا کہ کوہاٹ میں ایک اور بچی کو قتل کر دیا گیا، اس ملک میں ایسے درندوں کو کب تک چھوڑ ملتی رہے گی؟
    https://twitter.com/SardarAbidDogar/status/1375036852198113281?s=20
    عابد ڈوگر نامی صارف نے لکھا کہ اس ننھی گڑیا کو کل کوھاٹ میں کل کسی نے اغوا کیا تھا اج صج لاش ڈھیران سے گھر کے نزدیک ملی-
    https://twitter.com/SardarAbidDogar/status/1375037273469771778?s=20
    اس صارف نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ میں پوچھنا چاہتا ہوں ان حکمرانوں سے کہ اس پھول کا کیا قصور تھا؟
    https://twitter.com/SardarAbidDogar/status/1375037719819264001?s=20
    کہاں ہیں مدینہ کی ریاست کے دعوے دار؟؟ کہاں ہیں اس ملک پاکستان کو مدینہ کی ریاست کہنے اور بنانے والے بغیرت حکمران
    عمران خان صاحب کیا یہ ہے ریاست مدینہ-


    ایک صارف نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ یہ بچی جس کا نام حریم ہے کوہاٹ خٹک کالونی سے کل دو پہر کے وقت سے گھر سے لاپتہ تھی اور اج صبح اسکی لاش قریبی نالے کے قریب سے ملی جس کو بے درد سے قتل کیا گیا ہے-


    غفران اللہ نامی صارف نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس پھول جیسی گڑیا کے قاتلوں کو نشانِ عبرت بناؤ۔
    https://twitter.com/fkkundi/status/1375036805456797698?s=20
    https://twitter.com/talhaleghari005/status/1375035244974329856?s=20


    ابراہیم نامی صارف نے لکھا کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ہمارے ننھے فرشتے بھی محفوظ نہیں-


    مدثر خان نامی صارف نے لکھا کہ جسکا قاتل نامعلوم ہو اسکا قاتل حکمران وقت ہوتا ہے عمران خان صاحب سینیٹ آپ جیت چکے ہے اپوزیشن بکھری ہوٸی ہے لہذا انسانیت کی تذلیل کرنے والے سینگ زدہ درندے آپ توجہ کے منتظر ہے۔پے درپے واقعات سرعام سزاووں کا مطالبہ کرتی ہے۔
    https://twitter.com/MSRAZA95/status/1375040101202415619?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ ننھے بچوں کے ساتھ اس طرح کرنے والے کیا مسلمان نہیں ہیں ؟کیا یہ لوگ قرآن پاک نہیں پڑھتے ؟کیا انہیں نہیں معلام کہ قوم لوط کے ساتھ اس طرح فعل کرنے کی وجہ سے کیا ہوا تھا؟-
    https://twitter.com/MSRAZA95/status/1375040101202415619?s=20


    ایک صارف نے لکھا کہ مُجھ میں ہمت نہیں کہ کوہاٹ کی اس ننھی تین سال کی پھولوں سی حریم کی مسلی ہوئی، روندی ہوئی لاش کی تصویر لگاوں جو کل سے لاپتہ تھی اور آج صبح بے جان و بے آبرو ایک گندی نالی میں ملی اپنے بچوں کو لاشوں میں بدلنے سے روکنا ہے تو درندوں کو چوکوں میں لٹکانا ہو گا-
    https://twitter.com/AnamZehri/status/1375039897438973952?s=20

  • ماحول اور فطرت کے تحفظ کے مشن کا حصہ بننے پر خوشی اور فخر ہے   اشنا شاہ

    ماحول اور فطرت کے تحفظ کے مشن کا حصہ بننے پر خوشی اور فخر ہے اشنا شاہ

    جانوروں کے تحفظ اور ماحولیات کے لیے سرگرم رہنے والی اداکارہ اشنا شاہ کو ملٹی نیشنل فلاحی ادارے ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) پاکستان نے جذبہ خیر سگالی سفیر مقرر کردیا جس پر اداکارہ نے خوشی کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : ڈبلیو ڈبلیو ایف کی جانب سے سوشل میڈیا پوسٹس میں بتایا گیا تھا کہ ماحولیات اور جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے اور اداکارہ اشنا شاہ کے درمیان جذبہ خیر سگالی سفیر کے معاہدے پر دستخط ہوگئے۔

    معاہدے کے تحت اداکارہ کو پاکستان میں ماحولیات اور جانوروں کے تحفظ کے لیے سفیر مقرر کیا گیا ہے، جس کے تحت وہ نہ صرف سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مہم چلاتی رہیں گی بلکہ وہ ادارے کے ساتھ مختلف منصوبوں میں مل کر کام بھی کریں گی۔

    تاہم اب اداکارہ اشنا شاہ نے بھی ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ساتھ معاہدے کی تصاویر اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کرتے ہوئے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ وہ عالمی ادارے کے ساتھ مل کر جانوروں اور ماحول کے تحفظ کے لیے کام کریں گی۔

    اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ انہیں ماحول اور فطرت کے تحفظ کے مشن کا حصہ بننے پر خوشی اور فخر ہے اور انہیں امید ہے کہ ان کی کوششوں سے بہتری آئے گی۔

    اداکارہ نے لکھا کہ وہ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ساتھ کام کرنے پر پرجوش ہیں اور وہ کام شروع کرنے کے حوالے سے مزید انتظار نہیں کر سکتیں۔

    خیال رہے کہ اشنا شاہ سوشل میڈیا پر ماحول کے تحفظ اور خصوصی طور پر جانوروں کے تحفظ اور ان کے ساتھ کیے جانے والے ناروا سلوک پر پوسٹس کرتی رہتی ہیں۔

    اداکارہ اشنا شاہ ڈبلیو ڈلیو ایف کی خیر سگالی سفیر بن گئیں

  • پاکستان کے ساحلوں پر اچانک بڑی تعداد میں جیلی فش کیوں نظر آنے لگیں؟

    پاکستان کے ساحلوں پر اچانک بڑی تعداد میں جیلی فش کیوں نظر آنے لگیں؟

    چند روز قبل پاکستان کے صوبہ سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں پر اچانک بڑی تعداد میں مردہ جیلی فش نظر آنے لگیں۔

    باغی ٹی وی :ایک فٹ سے لے کر نصف فٹ چوڑی اور کلو سے ڈیڑھ کلو وزنی یہ سمندری حیات سمندری لہروں کے ساتھ تیرتی ہوئی کراچی کے سی ویو سے لے کر بلوچستان کے اوڑماڑہ ساحل تک دیکھی گئیں۔

    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جیلی فش آخر آئی کہاں سے اور ان کا ساحلوں پر اس طرح نمودار ہونے کا کیا مطلب ہے؟

    اس حوالے سے غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے جنگلی حیات کے عالمی ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے معاون معظم خان کا کہنا ہے کہ جب سمندر میں جیلی فش کی تعداد بڑھی تو ماہی گیروں نے اس کا فائدہ اٹھانا شروع کیا اور اس کی ہارویسٹنگ کا آغاز ہو گیا۔

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اسے نمک اور پھٹکڑی لگا کر چین برآمد کیا جاتا ہے برآمد ہونے والی جیلی فش کی دو اقسام ہیں ایک کو ‘اصلی’ اور ایک کو ‘جنگلی’ کہا جاتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ چین کی مارکیٹ میں کویوڈ کی وجہ سے مندی کا رجحان ہے اور کویوڈ کے بعد انھوں نے برآمدات پر بھی کچھ پابندیاں لگائی ہیں اس لیے پاکستان سے وہاں جیلی فش جا نہیں رہی یا کم جا رہی ہے اس لیے اس موسم میں ماہی گیروں نے اس کی ہارویسٹنگ نہیں کی اور یہ مردہ حالت میں ساحلوں تک پہنچ گئیں۔

    معظم خان کے مطابق پاکستان میں جیلی فش کی پچاس سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں جو سندھ کی کریکس سے لے کر بلوچستان کی کلمت تک پھیلی ہوئی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ جس طرح پہاڑوں پر پھول کھلتے ہیں اس طرح سمندر میں جیلی فش کا بلوم آتا ہے جس کی وجہ سے یہ بڑی تعداد میں ملتی ہیں۔15 سال پہلے تک یہ اس تعداد میں نہیں ملتی تھیں اور اس کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تغیر ہے۔

    ان کے مطابق اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر مچھلی کا شکار اور وہ سمندری حیات جو جیلی فش کو خوراک کے طور پر استعمال کرتی ہیں ان کی تعداد میں کمی بھی جیلی فش کی تعداد میں اضافے کے ایک وجہ سمجھی جاتی ہے۔

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے ساحل پر ماہی گیر جال لگا کر بھی مچھلیاں پکڑتے ہیں سی ویو پر بھی ایک درجن کے قریب ماہی گیر ایک طویل جال سمندر میں لے گئے اور وہاں سے کھینچ کر کنارے تک لائے اور اس میں سے جیلی فش نکال نکال کر ساحل پر پھینکتے رہے۔

    ایک ماہی گیر آفتاب نے بتایا کہ مارچ سے لے کر مئی، جون تک جیسے جیسے پانی کی سطح بلند ہوتی ہے اور یہ گرم ہوتا ہے یہ جیلی فش ساحل کی طرف آتی ہیں

    آفتاب نے بتایا کہ عام دنوں میں جال میں مچھلی زیادہ آتی ہے لیکن ان دنوں میں جیلی فش بھی آ جاتی ہے، پہلے یہ جیلی فش چین خرید لیتا تھا ابھی ان کا بھاؤ نہیں اس لیے ہم اس کو پکڑ کر باہر پھنیک دیتے ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ایک ایسا وقت بھی تھا جب چین والوں کو جیلی فش کی طلب ہوئی تو ماہی گیروں نے مچھلی چھوڑ کر اس کا کاروبار شروع کر دیا اور ساحل پر جال لگا کر مچھلی پکڑنے والوں سے لے کر کشتی والے ماہی گیروں تک بس اس کا شکار کرتے رہے لیکن آج کل اسے کوئی نہیں خریدتا۔

    کراچی یونیورسٹی کے شعبے میرین سائنس کی سربراہ ڈاکٹر راشدہ قادری کا کہنا ہے کہ جیلی فش میں اضافے کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں Eutrophication یعنی پانی میں معدنیات اور نشوونما کے اجزا شامل ہو جانا، سیوریج سمندر میں جانے سے سمندری نباتات بڑھنا، اس کے علاوہ انسانی سرگرمیاں اور سمندری درجہ حرارت میں اضافہ شامل ہیں۔

    ’اگر ان کو کنٹرول کیا جائے تو جیلی فش کی تعداد معمول پر آ سکتی ہے۔‘

  • سنجے لیلا بھنسالی اوراداکارہ عالیہ بھٹ ہتک عزت کا مقدمہ دائر عدالت کا 21 مئی کو پیش ہونے کا حکم

    سنجے لیلا بھنسالی اوراداکارہ عالیہ بھٹ ہتک عزت کا مقدمہ دائر عدالت کا 21 مئی کو پیش ہونے کا حکم

    بالی ووڈ ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی،اداکارہ عالیہ بھٹ اور دو مصنفین پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ممبئی کی ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت نے اداکارہ عالیہ بھٹ، فلمساز سنجے لیلا بھنسالی اور دو مصنفین کو فلم ’گنگو بائی کاٹھیا واڑی‘ سے منسلک ایک مجرمانہ ہتک عزت کے معاملے میں سمن جاری کیا ہے۔ جس میں انہیں 21 مئی کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ہتک عزت کا مقدمہ بابو راؤجی شاہ نامی شخص نے دائر کیا ہے جو گنگو بائی کاٹھیاواڑی کا لے پالک بیٹا ہونے کا دعویدار ہے سنجے لیلا بھنسالی فلم کے ہدایت کار اور عالیہ بھٹ مرکزی اداکارہ ہیں اور یہ فلم مصنف حسین زیدی کی کتاب ’مافیا کوئین آف ممبئی‘ کے ایک باب پر مبنی ہے جو کہ گنگو بائی کاٹھیاواڑی کی زندگی پر مشتمل ہے۔

    بابوراؤ جی شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ کتاب میں گنگو بائی کاٹھیاواڑی پر موجود ابواب میں ان کی منہ بولی والدہ کو بدنام کیا گیا ہے، ان کی ساکھ کو داغدار کیا گیا ہے اور ان کی والدہ کی رازداری اور عزت نفس کے حق کی خلاف ورزی کی گئی ہے-

    کاٹھیاواڑی کے لے پالک بیٹے نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ فلم حقائق پر مبنی نہیں ہے اور اس میں ان کے خاندان کو بدنام کیا گیا ہے۔

    بابوراؤ جی شاہ کی شکایت کے بعد ممبئی کی مجسٹریٹ عدالت نے عالیہ بھٹ، سنجے لیلا بھنسالی اور مصنفین کو 21 مئی کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے سمن جاری کیا ہے۔

    واضح رہے کہ بابو راؤجی شاہ نے اس سے قبل ممبئی کی سول عدالت سے رجوع کیا تھا جس میں اس نے کتاب کے مصنفین کے خلاف کتاب شائع کرنے سے روکنے کا حکم مانگاتھا اور عدالت سے استدعا کی تھی کی فلم کے ٹریلرز اور پروموز کو نشر نہ کیا جائے۔ تاہم اسے عدالت سے خارج کردیا گیا تھا۔ اس مقدمے کی برطرفی کے بعد اہل خانہ کو بدنام کرنے پر شاہ نے مصنفین اور فلمساز کے خلاف فوجداری کارروائی کی درخواست کی تھی۔

    واضح رہے کہ فلم ’’گنگوبائی کاٹھیاواڑی‘‘ رواں سال 30 جولائی کو ریلیز کی جائے گی۔ فلم میں عالیہ بھٹ کے علاوہ اجے دیوگن بھی اہم کردار میں نظر آئیں گے۔

    عالیہ بھٹ اورسنجے لیلا بھنسالی پروڈکشن کے خلاف مقدمہ درج

    عالیہ بھٹ کی فلم گنگو بائی کاٹھیاواری کی ریلیز کی تاریخ سامنے آ گئی

  • پاکستانی طالب علم نے واٹس ایپ طرز کی ایپ بنالی

    پاکستانی طالب علم نے واٹس ایپ طرز کی ایپ بنالی

    کراچی: پاکستان کے نویں جماعت کے طالب علم نبیل حیدر جعفری نے واٹس ایپ طرز کی ایپ بنالی۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق پاکستان کے شہر کراچی کے طالب علم نبیل حیدر جعفری نے ’ایف ایف میٹنگ‘ کے نام سے واٹس طرز کی ایپ بنالی جسے اب تک دو لاکھ سے زائد صارفین گوگل ایپ سے ڈاؤن لوڈ کرچکے ہیں۔

    ایف ایف میٹنگ نامی ایپلی کیشن میں بہت سے آپشنز موجود ہیں،ایف ایف ایم یعنی فرینڈ اینڈ فیملی میٹنگ ایپ کی تیاری میں نبیل کو تین سال کا عرصہ لگا۔

    نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’باخبر سویرا‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نبیل حیدر کا کہنا تھا کہ میں اس ایپ پر گزشتہ تین سالوں سے کام کررہا تھا کوشش تھی کہ کچھ نیا کرکے ملک کا نام روشن کروں اور اس میں کامیاب بھی رہا۔

    طالب علم کا کہنا تھا کہ جب تیسری جماعت میں تھا تو گیمز تیار کرتا تھا پھر میں ںے یوٹیوب پر دوسری ایپس دیکھیں تو خیال آیا ہے صارفین کے لیے نئی ایپ بنائی جائے، ایپ کی تیاری کے لیے والد نے بہت سپورٹ کیا۔

    ایپ سے متعلق نبیل حیدر نے بتایا کہ دوسری ایپلی کیشن میں دو منٹ کی ویڈیو بھیجی جاسکتی ہیں لیکن ایف ایف میٹنگ میں تین سے چار گھنٹے کی ویڈیو بھیجی جاسکتی ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ایپ میں کمزور بینائی والے افراد کے لیے کلر اور فونٹ کا آپشن بھی موجود ہے۔

    نبیل کی والدہ کا کہنا تھا کہ ایپ بنانے کے دوران نبیل کی پڑھائی متاثر نہیں ہوئی، وہ پرنسپل اور ٹیچرز کے فیورٹ طالب علم ہیں، جب بھی پیرنٹس میٹنگ میں شرکت کرتے ہیں تو ہمیں بیٹے پر فخر ہوتا ہے۔

    نبیل کی والدہ نے کہا کہ بیٹے کو مختلف ممالک سے پذیرائی مل رہی ہے لیکن وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی جانب سے اب تک کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

    ایف ایف میٹنگ کے بانی سید نبیل حیدر جعفری کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو

  • سینئیراداکارہ سیمی راحیل نے کورونا ویکسین لگوالی

    سینئیراداکارہ سیمی راحیل نے کورونا ویکسین لگوالی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ سیمی راحیل نے بھی عالمی وبا کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگوالی۔

    باغی ٹی وی : اداکارہ سیمی راحیل نے اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنی تصویر شیئر کی جس میں وہ ویکسینیشن سینٹر میں موجود ہیں اور کورونا وائرس سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے ویکسین لگوا رہی ہیں۔

    اداکارہ نے تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’کورونا ویکسین لگوانا مشکل کام نہیں ہے اس کے کوئی منفی اثرات نہیں ہیں-

    اُنہوں نے پاکستانی عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’لازمی کورونا ویکسین لگوائیں تاکہ ہر ایک محفوظ رہ سکے۔‘

    خیال رہے کہ اس سے قبل بشریٰ انصاری، ثمینہ پیرزادہ اور ارمینا خان، جبکہ جاوید شیخ ، طلعت حسین بھی کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگوا چکے ہیں۔

  • بگ باس کے گھر اچھا خاصا انسان بھی ذہنی اذیت کا شکار ہوجاتا ہے      پویترا پونیا

    بگ باس کے گھر اچھا خاصا انسان بھی ذہنی اذیت کا شکار ہوجاتا ہے پویترا پونیا

    بھارت کے معروف رئیلیٹی شو بگ باس کے سیزن 14 کی کھلاڑی پویترا پونیا کا کہنا ہے کہ بگ باس کے گھر اچھا خاصا انسان بھی ذہنی اذیت کا شکار ہوجاتا ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پویترا پونیا نے اپنے حالیہ انٹرویو میں بگ باس 14 کے گھر میں گُزارے گئے دنوں کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں جب بگ باس کے گھر سے باہر آئی تو میں نے ہر بار میڈیا کو یہی بتایا کہ بگ باس کا گھر جہاں خوبصورت ہے تو وہیں وہاں رہنا مشکل بھی ہے۔‘

    پویترا پونیا نے کہا کہ جب آپ ایک چھت کے نیچے ایسے انجان لوگوں کے ساتھ رہتے ہو جن کے بارے میں آپ کو زیادہ علم نہ ہو تو لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں۔

    اُنہوں نے کہا کہ بعض اوقات تو وہ جھگڑے اتنی شدت اختیار کرجاتے ہیں کہ اچھا خاصا انسان بھی ذہنی اذیت کا شکار ہوجاتا ہے اور پھر وہ بس یہی چاہتا ہے کہ کسی طرح اس گھر سے باہر نکل جاؤں۔

    پویترا پونیا نے مزید کہا کہ اسی طرح بگ باس کا سفر خوبصورت بھی ہے کیونکہ ہم نئے لوگوں سے ملتے ہیں، نئے رشتے بناتے ہیں اور اچھے لمحات ساتھ گزارتے ہیں جو بعد میں یاد آتے ہیں۔

    واضح رہے کہ پویترا پونیا کو بگ باس 14 کے گھر میں بالی ووڈ اداکار اعجاز خان سے محبت ہوگئی تھی اعجاز خان اور پویترا پونیا کی پہلی ملاقات بگ باس کے سیزن 14 میں ہوئی تھی، دونوں ہی بطور اُمیدوار اس شو میں شامل ہوئے تھے-

    پویترا پونیا ووٹوں کی کمی کی وجہ سے جلد ہی بگ باس 14 سے باہر ہوگئی تھیں جبکہ اعجاز خان کو اپنی فلم کی شوٹنگ کی وجہ سے بگ باس کا گھر چھوڑنا پڑا لیکن اس کے بعد اعجاز خان کی جگہ ’دیولینا‘ اُن کی پروکسی بن کر اُن کے لیے کھیل رہی تھیں۔

    بگ باس کے گھر سے باہر آنے کے بعد اعجاز خان اور پویترا پونیا نے ایک دوسرے سے شادی کا فیصلہ کیا تھا تاہم ابھی تک دونوں نے شادی کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے۔

    بگ باس 14 کے کنٹسٹنٹ اعجاز خان کا ساتھی امیدوار پویترا پونیا سے شادی کا فیصلہ