Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • لوگ جن باتوں کو چھپاتے ہیں میں وہ بولتی ہوں   متھیرا

    لوگ جن باتوں کو چھپاتے ہیں میں وہ بولتی ہوں متھیرا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی متنازع اداکارہ و ہوسٹ متھیرا کا کہنا ہے کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں، کوئی ایک دوسرے سے برتر نہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی ویب سائٹ انڈیپینڈنٹ اردو کو دیئے گئے انٹرویو میں اداکارہ متھیرا کا کہنا تھا کہ فیمنزم اچھی چیز ہے، عورت مارچ تو ٹھیک ہے لیکن اس مارچ کے دوران پلے کارڈز میں جو باتیں لکھی ہوتی ہیں ان میں سے کچھ ٹھیک نہیں ہوتیں عورت مارچ کے بعض بینرز ضرورت سے زیادہ ہوتے ہیں۔

    متھیرا نے کہا کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں کوئی ایک دوسرے سے برتر نہیں۔

    ہمیشہ تنازعات میں گھرے رہنے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر متھیرا نے کہا کہ میں سچی باتیں کرتی ہوں، میں وہ سچ بولتی ہوں جو دوسرے نہیں بولتے، لوگ جن باتوں کو چھپاتے ہیں میں وہ بولتی ہوں۔ لوگ اب باتوں کو چھپاتے ہیں اور جب یہ باتیں سامنے آتی ہیں تو انہیں ہضم کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

    متھیرا کا کہنا تھا کہ کیرئیر کے دوران امتحان آتے رہے ہیں اور مختلف معاملات شہرت کی وجوہات بنتے ہیں، انسان کو جب شہرت ملتی ہے تو اسے پتہ بھی نہیں چلتا اور اگر نہیں ملنی ہوتی تو ایڑی چوٹی کا زور لگالیں نہیں ملے گی۔

    کم کارڈیشیئن بننے کی کوشش کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ بھی ایک عورت ہیں اور کم کارڈیشیئن کو پسند کرتی ہیں مگر اس کی نقل نہیں کرتیں۔ متھیرا کا کہنا ہے کہ شہرت اچانک ملتی ہے، یہ کوشش سے نہیں ملتی۔

    انہوں نے کہا کہ وہ ہرگز پاکستان کی سیکس سمبل نہیں بننا چاہتیں ’ہر شخص مجھے ایک ہی نظر سے دیکھتا ہے، اب اگر لوگوں نے مجھے سیکس سے جوڑ دیا ہے تو اس میں میرا کیا قصور۔‘

    ’مجھے کبھی اس لیے ڈر نہیں لگا کیونکہ میں نے کسی کے پیسے نہیں کھائے۔ میں ملنگ عورت ہوں، میری دنیا ہی الگ ہے اور مجھے آگ سے کھیلنے کا شوق نہیں۔

    متھیرا نے کہا کہ کسی کو چھوٹے کپڑے پہننے پر دھمکیاں نہیں ملتیں پاکستان پرانے خیالات کا ملک ضرور ہے مگر ایسا بھی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی نظریے پر کام نہیں کرتیں، فلسفہ صرف کتابوں میں اچھا لگتا ہے۔

    پاکستان چھوڑنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں انہوں نے شہرت اور پیسہ کمایا بلکہ پاکستان کے جو اداکار بھارت گئے انہیں اتنی عزت نہیں ملی، اس ملک نے انہیں بہت کچھ دیا ہے اس لیے وہ یہیں رہنا چاہتی ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ بغاوت نہیں کرتیں، ان کے جیسے کپڑے بہت سی اداکارائیں پہنتی ہیں، کپڑوں سے بغاوت نہیں ہوتی۔

    مذہبی معاملات پر ان کہنا تھا کہ یہ ان کا نجی معاملہ ہے اور وہ اسے نجی زندگی تک محدود رکھنا چاہتی ہیں۔ ’لوگوں کو پارسا بننے کا شوق چھوڑ دینا چاہیے، جو ہیں، ویسے رہیں۔ میں کسی پر رائے زنی نہیں کرتی تو مجھ پر کیوں کی جاتی ہے۔‘

    فلموں میں مزید کام کرنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اکثر وقت پر پیسے نہیں ملتے اس لیے وہ کم کام کرتی ہیں۔

    میری جسامت پر طعنے دینے کے بجائے لوگ اپنی ذات اور اپنے مسائل پر فوکس رکھیں متھیرا

  • چند سال قبل حرا اور مانی کو کیا ناخوشگوار واقعہ پیش آیا؟

    چند سال قبل حرا اور مانی کو کیا ناخوشگوار واقعہ پیش آیا؟

    پاکستان شوبز کے مزاحیہ اداکار سلمان ثاقب شیخ عرف مانی نے چند سال قبل اپنے اور اہلیہ اداکارہ و ماڈل حرا کے ساتھ پیش آئے ایک ناخوشگوار واقعے کا ذکر کیا۔

    باغی ٹی وی :حال ہی میں اداکار جوڑی نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں شریک ہوئیں جس دوران کیرئیر میں پیش آنے والے اتار چڑھاؤ کا ذکر کرتے ہوئے حرا مانی نے بتایا کہ ایک وقت ایسا بھی آچکا ہے جب میرا ڈرامہ ہٹ ہورہا تھا لیکن میرے اور مانی کے اکاؤنٹ میں صرف 10 ہزار روپے تھے۔

    مانی نے اپنے کیرئیر کے ایک ناخوشگوار واقعے سے متعلق بتایا کہ 5 سال قبل ایک اداکارہ نے مارننگ شو میں میرے اور حرا کے ہمراہ انٹری دینے سے بھی انکار کردیا تھا اور اس کی وجہ مقبولیت کا نہ ہونا تھا تاہم مانی نے اداکارہ کا نام لینے سے انکار کردیا۔

    دورانِ شو مانی نے بتایا کہ میری حرا سے لڑائی ہی ہمیشہ کپڑوں پر ہوتی ہے کیونکہ حرا کو بغیر آستین کے کپڑے پہننے سے منع کرتا تھا اور میں کپڑوں کے معاملے میں حساس ہوں۔

    مانی کا کہنا تھا کہ میں پاکستانی ہوں، یہاں پیدا ہواہوں اس لیے مجھے یہاں کا پتا ہے ، میرا خیال ہے کہ آپ جو بھی پہنیں علاقہ دیکھ کر پہنیں آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ آپ کو کس علاقے میں کیا پہن کر جانا چاہیے۔

  • کراچی میں خواجہ سراؤں کی پہلی کمرشل ٹیلر شاپ پر کام کا آغاز

    کراچی میں خواجہ سراؤں کی پہلی کمرشل ٹیلر شاپ پر کام کا آغاز

    پاکستان کے سب سے بڑے شہرکراچی میں خواجہ سرا کمیونٹی کی جانب سے قائم کی گئی پہلی کمرشل ٹیلر شاپ پر کام کا آغاز کردیا۔

    باغی ٹی وی : مخنث افراد کو بااختیار بنانے والی تنظیم ’ٹرانس پرائڈ سوسائٹی‘ نے دیگر اداروں کی معاونت سے کراچی کے کاروباری علاقے محمد علی (اے ایم ) جناح روڈ پر دکان حاصل کی۔

    ٹرانس پرائڈ سوسائٹی کی جانب سے انسٹاگرام پوسٹ میں بتایا گیا کہ ایم اے جناح روڈ کے جناح کمپلیکس میں مخنث افراد کے اسٹاف پر مبنی پہلی ٹیلر شاپ کھول لی گئی۔

    مذکورہ دکان کھولے جانے کی افتتاحی تقریب میں سندھ حکومت کی خواتین کی کمیشن کی چیئرپرسن اور کراچی بار کے اعلیٰ عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔

    خواجہ سرا افراد کے اسٹاف پر مبنی ٹیلر شاپ کھولے جانے کے موقع پر ٹرانس پرائڈ سوسائٹی کی سربراہ نیشا راؤ نے اپنے پیغام میں کہا کہ مذکورہ پروگرام مخنث افراد کو خودمختار بنانے کی طرف پہلا قدم ہے۔

    انہوں نے عام لوگوں سے اپیل کی کہ وہ مخنث افراد کے ٹیلر شاپ پر خصوصی طور پر آئیں تاکہ خواجہ سرا افراد باعزت روزگار حاصل کرسکیں۔

    خیال رہے کہ ٹرانس پرائڈ سوسائٹی کی سربراہ نیشا راؤ پاکستان کی پہلی خواجہ سرا وکیل بھی ہیں نیشا راؤ کراچی بار کا بھی حصہ ہیں اور وہ وکالت کی تعلیم حاصل کرنے اور وکالت سے قبل سڑکوں پر بھیک مانگتی تھیں۔

    وکالت کی تعلیم حاصل کرنے اور وکالت کا آغاز کرنے کے بعد نیشا راؤ نے اپنی کمیونٹی کے افراد کے لیے مختلف فلاحی منصوبے شروع کیے اور ایسے ہی منصوبوں کی تکمیل کے لیے انہوں نے ’ٹرانس پرائڈ سوسائٹی‘ نامی ادارے کا قیام کیا، جس کے تحت اب خواجہ سرا افراد کا پہلا ٹیلر شاپ کھول دیا گیا۔

  • میری جسامت پر طعنے دینے کے بجائے لوگ اپنی ذات اور اپنے مسائل پر فوکس رکھیں   متھیرا

    میری جسامت پر طعنے دینے کے بجائے لوگ اپنی ذات اور اپنے مسائل پر فوکس رکھیں متھیرا

    اپنے بولڈ انداز کی وجہ سے متنازع اداکارہ و ٹی وی میزبان متھیرا نے جسامت پر تنقید کرنے والے افراد کو کہا ہے کہ وہ کون ہوتے ہیں، ان کی جسامت پر بات کرنے والے اور انہیں پلاسٹک کہنا بند کیا جائے۔

    باغی ٹی وی :متھیرا نے حال ہی میں یوٹیوب شو ’ٹو بی آنیسٹ‘ میں شرکت کی تھی، جہاں انہوں نے اپنی ذاتی زندگی سمیت پیشہ ورانہ زندگی پر بھی کھل کر بات کی تھی اور بتایا تھا کہ کس طرح وہ زمبابوے سے اچانک پاکستان آئی تھیں۔

    متھیرا کے مطابق ان کے والد زمبابوے کے نامور سیاستدان ہیں جب انہوں نے ان کی والدہ کو طلاق دی تو انہیں اچانک پاکستان آنا پڑا۔

    لوگوں کی جانب سے پلاسٹک سرجری کروائے جانے کے الزامات کے بعد اداکارہ نے انسٹاگرام اسٹوری پر وضاحت کی اور لوگوں کو کہا کہ وہ انہیں پلاسٹک کہنا بند کریں۔

    متھیرا نے اپنی اسٹوری میں بتایا کہ وہ جیسی بھی ہیں، اپنی جسامت سے خوش ہیں، انہیں بار بار طعنے دینے کے بجائے لوگ اپنی ذات اور اپنے مسائل پر فوکس رکھیں۔

    اداکارہ و ٹی وی میزبان نے لکھا کہ وہ لوگوں کے سوالات کے جوابات دے دے کر تھک چکی ہیں کہ انہوں نے کوئی سرجری نہیں کروائی۔

    متھیرا نے انکشاف کیا کہ انہیں ہارمونز کا مسئلہ درپیش ہے جس وجہ سے ان کی جسامت بعض حصوں سے کافی بڑھی ہوئی نظر آتی ہے، اس لیے یہ کہنا بند کریں کہ انہوں نے سرجری کروائی ہے۔

    انہوں نے اسٹوری میں لکھا کہ پہلی بات تو انہوں نے سرجری نہیں کروائی، دوسرا یہ کہ اگر وہ سرجری کرواتیں تو اس بات کو تسلیم کرتیں اور ساتھ ہی انہوں نے وضاحت کی کہ وہ سرجری کروانے یا نہ کروانے سے متعلق آزاد ہیں، ان کی مرضی ہے وہ جو چاہیں کریں۔

    متھیرا نے لکھا کہ اگر وہ 40 بار بھی سرجریز کروائیں گی تو بھی ان کی اپنی مرضی ہے اور اس سے دوسرے لوگوں کو مسئلہ نہیں ہونا چاہیے اس لیے دوسرے لوگ انہیں پلاسٹک کہنا بند کریں۔

  • سمندروں کا سختی سے تحفظ کیا جائے توعالمی غذا کی فراہمی اور حیاتیاتی تنوع کا بحران ختم کیا جاسکتا ہے  تحقیق

    سمندروں کا سختی سے تحفظ کیا جائے توعالمی غذا کی فراہمی اور حیاتیاتی تنوع کا بحران ختم کیا جاسکتا ہے تحقیق

    سمندر دنیا کے 70 فیصد رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں اور اب دنیا میں تحفظ کے حامل سمندری علاقوں کے مفصل نقشے سے انکشاف ہوا ہے کہ اگرسمندروں کی حفاظت کی جائے تو اس سے نہ صرف آب و ہوا میں تبدیلی کے مسائل حل ہوسکتے ہیں بلکہ عالمی غذا کی فراہمی اور حیاتیاتی تنوع کا بحران بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ایک تحقیقی مقالے رپورٹس کے مطابق سمندروں کا سختی سے تحفظ کیا جائے تو صحتمند خوراک کی مسلسل فراہمی یقینی ہوجائے گی، سمندری جانوروں کے مسکن اور ان کی بقا کو فروغ ملے گا اور شاید موسمیاتی تبدیلیوں کا قدرتی حل بھی برآمد ہوسکے گا۔

    ہفت روزہ سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین نے سمندروں میں خاص مقامات کی نشاندہی کی ہے۔ اگر ان کی کڑی نگرانی اور حفاظت کی جائے تو 80 فیصد سمندری حیات کو تحفظ ملے گا، ماہی گیری کی تعداد میں 80 لاکھ میٹرک ٹن کا اضافہ ہوگا، اور سمندری فرش کی ٹرالنگ روکنے سے ایک ارب ٹن تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کم ہوجائے گا کیونکہ سمندری فرش پر ماہی گیری کا یہ طریقہ نہایت خطرناک ہے۔


    یہی وجہ ہے کہ ٹرالنگ کا عمل نہ صرف سمندری حیاتیات کےلیے تباہ کن ہے بلکہ اس سے سمندروں میں سالانہ کروڑوں ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ سمندری پانیوں میں گھل رہی ہے۔ اس تحقیق کے اہم رکن پروفیسر اینرک سیلا کہتے ہیں کہ اس وقت عالمی بحر کے صرف سات فیصد رقبے کو تحفظ حاصل ہے۔ انہوں نے تمام ممالک پر زور دے کر کہا کہ 2030 تک سمندروں کے 30 فیصد حصے کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے بے پناہ فوائد حاصل ہوں گے۔

    اپنی تحقیق میں انہوں نے سمندری ڈیٹا اور الگورتھم کی مدد سے کہا ہے کہ عالمی سطح پر یہ کام ممکن ہے اور اس میں تمام شریک کو ایک میزپربیٹھنا ہوگا کیونکہ سمندروں کا تحفظ ہر حال میں انسانوں کو ان گنت فوائد فراہم کرسکتا ہے صرف 30 فیصد سمندری علاقوں کو تحفظ اور کڑی نگرانی کے ذریعے محفوظ بنا کر اس سے تین گنا فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں-

    اس تحقیق میں بین الاقوامی ماہرین نے اہم کردار ادا کیا ہے جسے محض نقشے کی بجائے ایک پورا منصوبہ (فریم ورک) کہا جاسکتا ہے جو ایک تہائی سمندری علاقوں کی سخت نگرانی اور تحفظ پر زور دیتا ہے کیونکہ سمندر کے یہ مقامات خود کی مرمت اور بحالی کے شاندار خواص رکھتے ہیں۔

    ان علاقوں کو ایم پی اے یا میرین پروٹیکٹڈ ایریا کہا جاتا ہے جہاں ماہی گیری پر پابندی عائد کرکے بہت سے فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ اس طرح پورا ماحول اور مسکن دھیرے دھیرے بحال ہوجاتا ہے دوسری جانب رپورٹ میں سمندری فرش کی ٹرالنگ کو انتہائی تباہ کن قرار دیا گیا ہے۔

  • تجربہ گاہ میں آنکھوں میں آنسو پیدا کرنے والے غدود کی کاشت

    تجربہ گاہ میں آنکھوں میں آنسو پیدا کرنے والے غدود کی کاشت

    ہالینڈ کے سائنسدانوں نے تجربہ گاہ میں پہلی بار آنکھوں میں آنسو پیدا کرنے والے غدود ’کاشت‘ کیے ہیں-

    باغی ٹی وی : ماہرین کا کہنا ہے کہ آنکھوں میں آنسوؤں کا بنتے رہنا اور وقفے وقفے سے خارج ہونا ہماری صحت کےلیے بہت ضروری ہے کیونکہ اس سے ہماری آنکھیں مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتی ہیں بلکہ آنکھوں کی صفائی بھی ہوتی رہتی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ’سیل پریس‘‘ کے ریسرچ جرنل ’’اسٹیم سیل‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ہالینڈ کی ’دی رائل نیدرلینڈز اکیڈمی آف آرٹس اینڈ سائنسز‘ کی سرپرستی میں کی گئی اس تحقیق میں سب سے پہلے جینیاتی انجینئرنگ کی جدید ترین ٹیکنالوجی ’کرسپر‘ (CRISPR) سے استفادہ کرتے ہوئے وہ جین شناخت کیے گئے جو انسانوں اور چوہوں کی آنکھوں میں آنسو پیدا کرنے والے غدود میں اہم ترین حیثیت رکھتے ہیں۔

    یعنی ’خلیاتِ ساق‘ (stem cells) استعمال کرتے ہوئے پیٹری ڈش میں آنسو بنانے والے مخصوص خلیات تخلیق کرکے انہیں غدود کی شکل میں کامیابی سے یکجا کیا گیا۔


    تجربہ گاہ کے ماحول میں ان غدود نے ٹھیک ویسے ہی آنسو بہائے جیسے قدرتی آنکھ سے آنسو نکلتے ہیں۔

    فی الحال یہ ابتدائی نوعیت کے تجربات ہیں جن کا مقصد آنکھوں میں آنسو پیدا کرنے والے غدود کے کام کو باریک بینی سے سمجھنا ہے۔

    تاہم مستقبل میں ماہرین اسی طریقے پر آنسو بنانے والے ایسے غدود تیار کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں جنہیں خشک آنکھوں کی بیماری میں مبتلا مریضوں میں پیوند کیا جاسکے گا البتہ یہ منزل ابھی بہت دور ہے جس کا انحصار آئندہ تجربات میں کامیابیوں پر ہے۔

  • ون ڈیزل کے بیٹے ’ فاسٹ اینڈ فیوریس‘ سے اداکاری میں ڈیبیو کریں گے

    ون ڈیزل کے بیٹے ’ فاسٹ اینڈ فیوریس‘ سے اداکاری میں ڈیبیو کریں گے

    ہالی ووڈ فلم’ فاسٹ اینڈ فیوریس 9‘ میں مرکزی کردار نبھانے والے اداکار ون ڈیزل کے بیٹے بھی اس بار والد کے ساتھ فلم میں اداکاری کرتے ہوئے ہالی ووڈ میں ڈیبیو کریں گے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اداکار ون ڈیزل کے بیٹے10 سالہ ونسنٹ فلم میں اداکاری کرتے نظر آئیں گے ان کے کنٹریکٹ میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق ونسنٹ کو ایک ہزار5 ڈالر فی دن معاوضہ بھی دیا گیا جبکہ انہیں فلم میں کتنا ٹائم اسکرین پر دکھایا جائے گا اسکی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

    دنیا بھر میں شائقین ’ فاسٹ اینڈ فیوریس نو ‘ کا بےصبری سے انتظار کر رہے ہیں لیکن یہ انتظار 25 جون کو ختم ہوگا جب فلم نمائش کے لئے پیش کی جائے گی۔

    واضح رہے ’فاسٹ اینڈ فیوریس 9‘ کی ریلیز کورونا وائرس کی وجہ سے کئی بار ملتوی کی جاچکی ہے۔

  • کھانے پکانے کے طریقے اور اس کے لئے درکار اشیاء

    کھانے پکانے کے طریقے اور اس کے لئے درکار اشیاء

    کھانے پکانے کے طریقے اور اس کے لئے درکار اشیاء

    بالٹی:
    جسے کڑاہی بھی کہا جاتا ہے۔ خیبرپاس کے چھوٹے مختلف قصبوں سے یہ شروع ہوئی۔ 60کی دہائی کے شروع میں جب سیاحوں نے بڑی تعداد میں ان علاقوں کا رخ کیا تو انہیں کھلانے کے لئے ذرائع میسر نہیں تھے تو انہوں نے بالٹی میں دنبے کا گوشت پکانا شروع کیا۔ دنبے کا گوشت اپنی ہی چربی میں صرف نمک کے ساتھ تیز آنچ پر پکایا جاتا تھا۔ آخر میں چند ٹماٹراور کچھ سبز مرچیں بھی شامل کرلی جاتیں۔پاکستان کے دیگر علاقوں میں بالٹی کو کڑاہی کہاجاتا ہے اور اس میں زیادہ احتیاط سے پکایا جاتا ہے۔روایتی طور پر صرف دنبے یا مٹن کو اس طریقے سے پکانے کو بالٹی یا کڑاہی کہا جاتا تھا بعد میں چکن بھی بالٹی یا کڑاہی کے طورپر مشہور ہو گیاتاہم دال یا سبزی بالٹی جیسی کوئی چیزموجود نہیں۔

    پرات:
    پرات ایک چپٹے پیند ے والے 6سے8سینٹی میٹر گھیرے پر مشتمل ایک برتن ہے جو اشیا کو گوندھنے اور مکسنگ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ المونیم کا بنا ہوتاہے تاہم بعدمیں یہ سٹین لیس سٹیل میں بھی آنے لگا۔ اسے مختلف مقاصد کے لئے استعمال کیاجاتا ہے عام طورپر اس میں روٹی پکانے کے لئے آٹا گوندھا جاتا ہے۔

    اسٹیمر:
    یہ ایک تہہ دار ڈبہ ہے۔ جو کسی دھا ت یا بانس سے بنا ہوتا ہے جوکہ ابلتے ہوئے پانی پر رکھ دیا جاتا ہے۔ کھاناپکانے کے حصہ میں رکھ دیا جاتا ہے اور اوپر سے ڈھانپ دیاجاتا ہے تاکہ بھاپ باہر نہ نکل سکے بھاپ سے پکانے کا عمل ایک بہترین طریقہ ہے جس میں کھانے کی اصل شکل اور غذائیت برقرار رہتی ہے۔ مزید برآں بھاپ کے اس عمل میں تیل مشکل ہی استعمال ہوتاہے۔

    باسمتی چاول:
    باسمتی چاول پاکستان میں لمبے اورخوشبودار چاولوں کی ایک قسم ہے۔ بلاشبہ پاکستانی باسمتی چاول دنیا میں بہترین ہیں۔ پکانے پراس کے دانے اپنے سائز سے دگنے ہوجاتے ہیں اور ایک خوشبو دیتے ہیں۔ یہ کافی سخت ہوتے ہیں۔ ایک سال یا اس کے بعد یہ ذائقے میں بہترین ہوجاتے ہیں۔

    باتھو:
    یہ سبز پتوں پر مشتمل ایک پودا ہے جو گندم کے کھیتوں میں اگتا ہے۔ یہ صرف سردیوں کے موسم میں دستیاب ہے اور مختلف ڈشز اور رائتوں میں استعمال ہوتا ہے۔ آلو اور ساگ کے ساتھ اس کا ملاپ بہت مقبول ہے۔

    بھرتہ:
    بھرتہ پاکستانی اور بھارتی پکوانوں دونوں کا حصہ ہے۔ یہ مختلف سبزیوں سے بنایا جاتا ہے جیسا کہ بینگن یا آلو وغیرہ سے۔ بھرتہ میں سبزیاں پہلے پکائی جاتی ہیں پھر کاٹ کر کوٹا جاتا ہے اور اس میں مختلف مصالحہ جات بھی شامل کرلئے جاتے ہیں۔

    بھجیا:
    پکی ہوئی سبزی کی کسی بھی خشک شکل کو بھجیا کہا جاتا ہے۔ یہ آلو، بینگن، بند گوبھی، شلجم حتیٰ کہ انڈے کی بھی ہوسکتی ہے۔ بھجیا بناتے ہوئے زیادہ تر پانی ڈالا جاتا ہے اور پھر اسے تیار ہونے تک خشک کرلیا جاتا ہے۔

    بریانی:
    بریانی پکے ہوئے چاولوں کی ایک ایسی قسم میں جو گوشت، مرغی یا سبزی کے ساتھ تیار کی جاتی ہے۔ بہت سی بریانی مصالحے دار اور رنگدار ہوتی ہے اسے عموماً رائتے یا کچھ بھی ڈالے بغیر کھایا جاتا ہے۔

    بلانچنگ (چھلکے اتارنا) :
    بلانچنگ کا مطلب مغزیات یا دیگر پھل اور سبزیوں کو مختصر وقت کے لئے ابلتے ہوئے پانی میں ڈال کر پھر انہیں فوری طور پر ٹھنڈے پانی میں ڈالنا ہے تاکہ ان کے چھلکے اتارے جاسکیں اور انکی شکل اورذائقے کو بھی برقرار رکھا جاسکے۔ ٹماٹر کو پورا بلانچ کرکے چھلکا اتارا جاسکتا ہے۔ بلانچنگ کچھ سبزیوں کو پکنے کے لئے یا فریز کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔

    بوٹی تکہ:
    گوشت،مچھلی یا مرغی کے ٹکڑے جو انگیٹھی پر پکائے جائیں۔

    بٹر فلائی:
    جب گوشت، مرغی یامچھلی کوعلیحدہ کئے بغیر کاٹا جائے تویہ عمل ”بٹرفلائی“ کہلاتا ہے۔مثال کے طورپر ایک ”پران“ کو لمبائی میں کاٹ کر سیدھا کریں تو یہ تتلی کی شکل سے مشابہت رکھے گی۔اسی طرح چکن کا سینہ یا بیف کوبھی اسی طریقے سے کاٹا جاسکتا ہے۔

    چاٹ:
    چاٹ سبزی، پھلوں اور دالوں پر مشتمل ایک مکسچر ہے۔ اس میں پیاز، سبز مرچ، چھوٹی الائچی اور مختلف مصالحے شامل ہوتے ہیں۔ بعض اوقات اس میں میٹھی یا کھٹی چٹنی بھی اضافے کے لئے شامل کرلی جاتی ہے۔ یہ زیادہ تر سنیکس کے طورپر استعمال کی جاتی ہے تاہم یہ دیگر کھانوں کے ساتھ بھی پیش کی جاسکتی ہے۔

    چھوہارا:
    چھوہارے خشک کھجوریں ہوتی ہیں۔ اسے خشک کرنے کا عمل اسے دیرپا رکھتا ہے اورکھانوں میں اس کا استعمال اضافی ہوتا ہے۔

    کڑی:
    کڑی نام کا استعمال پاکستان میں عام طورپر نہیں ہوتا تاہم پاکستان اور بھارت میں پتلی یا گاڑھی گریوی ڈش بنانے کے لئے مشہور و معروف ہے۔ آج کل تھائی، ملیشین اور انڈونیشیائی کڑی بھی مشہور ہو رہی ہے جو کہ برصغیر کی کڑی کے ساتھ مکس ہوتی جارہی ہے۔

    دَ م پُخت:
    دَ م پُخت کا مطلب ہے ہلکی آنچ پر بھاپ میں پکانا۔ یہ زیادہ تر اچھی طرح ڈھانپے ہوئے برتنوں میں پکایا جاتا ہے تاکہ بھاپ کہیں سے باہر نہ نکل سکے۔ اس طریقہ کار سے گوشت اپنے ہی پانی میں پکایا جاسکتا ہے۔

    ڈیپ فرائی:
    گرم تیل یا گھی میں تلنے کا طریقہ ”ڈیپ فرائی“ کہلاتا ہے۔ گھروں میں اس مقصد کے لئے عام طورپر کڑاہی استعمال کی جاتی ہے۔

    دیسی چکن:
    دیسی چکن کا مطلب حقیقت میں ”مقامی چکن“ ہے جو”اورگینک“ چکن ہے –

    ڈیوینڈ پرانز:
    یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں آپ پران کو تیز چھری کے ساتھ ہڈی نکال دیتے ہیں اور اس کی خوراک کی نالی کو نکال دیتے ہیں۔

    دنبہ:
    دنبہ پاکستان میں بہت معروف ہے خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں جہاں ان کے لئے باڑے بھی موجود نہیں ہیں۔ چرواہے اپنے ریوڑ کے ساتھ کھلے کھیتوں میں نکلتے ہیں ان کی بھیڑیں وہاں قدرتی گھاس اور مقامی جڑی بوٹیاں کھاتی ہیں کیونکہ ان چراگاہوں میں کوئی کھاداور زرعی ادویات استعمال نہیں کی جاتیں لہٰذا دنبہ اور گینک اور فری رینج ہے۔

    تلے ہوئے پیاز کا پیسٹ:
    پیاز کے ٹکڑوں کو تیل میں براؤن اور خستہ ہونے تک تلیں اور اسے گاڑھابنانے کے لئے چٹو بٹا کا استعمال کریں۔

    کالا نمک:
    یہ چٹان سے حاصل کردہ نمک ہے جو پاکستان، بھارت اور دیگر جنوب ایشیا ممالک میں استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ کوہ ہمالیہ کی سالٹ رینج میں پایا جاتا ہے۔ اس کے بنیادی اجزا میں سوڈیم کلورائیڈ ہے تاہم اس میں سلفر بھی ہوتاہے جو اس کی تیز بو کا سبب ہے۔ اس کا رنگ گلابی بھورے سے گہرا چاغی ہوسکتا ہے یہ عام طورپر ہاضمے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

    کھڑ ا مصالحہ:
    جب کسی بھی گوشت کو دہی اور ثابت مصالحہ جات کے ساتھ پکایا جائے تو اسے کھڑا مصالحہ کہاجاتا ہے یعنی تمام کری ثابت مصالحوں سے بھرپور۔ دہی کی اتنی مقدار میں ڈالا جاتا ہے کہ فالتو پانی کی ضرورت نہیں رہتی۔ دہی اور ثابت مصالحوں کے استعمال اور براؤن پیاز استعمال نہ کرنے اورٹماٹر نہ استعمال کرنے کی وجہ سے اس کی کری کا رنگ عام کری سے مختلف ہوسکتا ہے۔

    کھچڑی:
    یہ چاول کی ایک ڈش ہے جو دال کے ساتھ پکائی جاتی ہے۔ اسے قدرے نرم اور چکنا رکھا جاتا ہے۔ آسانی سے ہضم ہوجانے کی خوبی کے باعث اسے مریضوں کو بھی تجویزکیاجاتا ہے۔

    کھوپرا:
    ناریل کی خشک شکل کو کھوپرا کہا جاتاہے۔ اسے برصغیر میں ٹکڑوں یا پاؤڈر کی صورت میں کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

    گھی:
    مکھن کو گرم کرکے صاف کیا جائے تو گھی کہلاتا ہے تاہم پاکستان میں اسے دیسی گھی کہا جاتا ہے۔ بناستی گھی مختلف اقسام کے تیل سے تیار کیا جاتا ہے اوراس دانے دار بنانے کے لئے ہائیڈوجنائزڈ کیا جاتا ہے۔

    گلوکوز کاشربت:
    گلوکوز سیرپ ایکایسا گاڑھا شربت ہے جودنیا کے مختلف ممالک میں کسی بھی قدرتی خوراک جیسے گندم، چاول، مکئی، جو اور حتیٰ کہ ٹماٹر سے بھی بنایا جاتا ہے۔

    حلوہ:
    ایک مقبول میٹھا پکوان ہے جو دلئے، دالوں اور سبزیوں سے تیار کیا جاتا ہے-

    ہانڈی:
    یہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں کھا نا پکانے کا مشہور برتن ہے۔ جو روغنی، غیرروغنی اور مختلف شکلوں اورسائز میں ہوسکتاہے۔

    جولینی کٹ:
    سبزیوں کو لمبے ٹکڑوں کی شکل میں کاٹنے کو جولینی کٹ کہاجاتا ہے۔ عام طورپر ایک بہترین جولینی کٹ کا سائز تقریباً 5سینٹی میٹر ہوتاہے۔

    کچنار:
    اس کا نباتاتی نام ”پوہینا ویریگاٹا“یا پھر اسے آرچرڈ ٹری اور ماؤنٹین ایپوتی بھی کہا جاتاہے۔ یہ جنوب مغربی ایشیا سے مغربی چین اور پاکستان اور بھارت میں پایا جاتا ہے۔ اس کے پھول سفیداور گلابی رنگ کے ہوتے ہیں۔ اسے کشمیر، نیپال اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں بطور خوراک استعمال کیاجاتا ہے۔

    کچومر:
    سلاد کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹنا ”کچومر“ کہلاتا ہے۔

    کوفتہ:
    قیمے، مرغی، مچھلی، دالوں یا سبزیوں سے بنے گولے۔

    ساگ:
    یہ ایک مقامی سبزی ہے جس کا کوئی انگریزی نام نہیں ہے۔ یہ فروری سے مئی تک کے موسم میں دستیاب ہوتی ہے۔ اسے عموماً پالک کے ساتھ ملا کر پکایا جاتا ہے تاہم اسے گوشت یا آلو کے ساتھ بھی پکایا جاسکتا ہے۔

    لڈو:
    اس کے لئے بھی انگریزی میں کوئی نام نہیں تاہم بعض اوقات اسے انگریزی میں بھی لڈو ہی کہا گیاہے۔ لڈو میٹھے اور بہت ہی مزیدار ہوتے ہیں۔

    لیموں :
    لیموں ایک ترش پھل ہے۔ جس کا سائز 3سے 5 سینٹی میٹر ہوتاہے اسے عموماً لیمن ہی خیال کیا جاتا ہے جبکہ لیمن کا سائز اس سے بڑا ہوتا ہے اوروہ کم ترش ہوتاہے۔ لیموں بنیادی طور پر بھارت یا فارس کا پھل ہے اسے مختلف کھانوں، باربی کیو، دم پخت، بریانی، سمندری خوراک، سلاداور اچار میں بھی استعمال کیا جاتا ہے اور گرمیوں میں اس سے پیاس بجھانے کے لئے سکنجبین بھی تیار کی جاتی ہے۔

    مصالحہ:
    مصالحہ ایک بنیادی جزوہے جوکسی بھی سالن یا کری کو بنانے کیلئے ضروری ہے اس میں عام طورپر پیاز، ادرک، لہسن، ٹماٹر، تیل یا کچھ مصالحے ہوتے ہیں یہ آمیزہ مصالحوں کی ماں کہلاتا ہے۔

    میکھ:
    بچھرے،گائے یا دنبے کی ہڈی کا گودا ”میکھ“ کہلاتا ہے۔ اسے پہلے پکایا جانا چاہئے برصغیرکے علاوہ فرانس کے لوگ بھی میکھ کے انتہائی شوقین ہیں۔

    مٹن:
    برصغیر میں مٹن کی اصطلاح بکرے کے گوشت کے طورپر لی جاتی ہے۔ یہ نرم گوشت ہوتا ہے۔

    نرگسی کوفتے:
    روایتی کوفتوں کے برعکس نرگسی کوفتے ابلے انڈوں کے گرد قیمہ لپیٹ کر پکائے جاتے ہیں۔ انڈے کو دو حصوں میں کاٹنے پروہ نرگسی پھول کی طرح نظر آتے ہیں اسی بنا پر ان کا نام نرگسی گوفتے پڑ گیا۔

    نہاری:
    نہاری ایک مقبول ڈش ہے جسے گائے کی پنڈلی کے گوشت سے گریوی میں تیار کیا جاتا ہے اسے دیرتک حتیٰ کہ رات بھر ابلنے دیا جاتا ہے تاوقتیکہ یہ نرم نہ ہوجائے۔ یہ ناشتے کے لئے ایک مقبول ڈش ہے۔

    پکوڑہ:
    سبزیوں چکن یامچھلی وغیرہ کو بیسن لگا کر تلی ہوئی ایک ڈش-

    پین فرائی:
    تلنے کے اس عمل میں تھوڑا گھی یا تیل استعمال کیا جاتا ہے جوکہ فرائی پین یاکڑاہی میں کیا جاتا ہے۔گھی یا تیل کھانے کیصرف نچلے حصے تک ہی رہتا ہے۔

    کم ابلے چاول:
    چاول آدھے ایک گھنٹے کے لئے بھگو کر رکھے جاتے ہیں۔ اس میں کافی مقدار میں پانی نمک اور کچھ تیل ڈال دیاجاتا ہے اس کے بعد پانی کو ابال کر اس میں چاول شامل کرلئے جاتے ہیں اور چاول آدھے گل جائیں تو پانی کو انڈیل کر چاولوں کوکسی مطلوبہ ڈش کے لئے سائیڈ پر رکھ دیا جاتا ہے۔

    پھل مکھانہ:
    پھل مکھانے گندم کے دانوں کو پھلا کر بنائے جاتے ہیں۔

    پاؤچ:
    کھانے کو محلول میں اس انداز میں ہلکی آنچ پر پکانے کا نام ہے جس میں درجہ حرارت ابلنے سے کچھ کم رکھا جاتا ہے۔ پاؤچنگ میں پھل، سبزیاں مچھلی اورچکن وغیرہ شامل کئے جاسکتے ہیں۔

    پلاؤ:
    پلاؤ چاولوں کی ایک اور مشہور ڈش ہے یہ گوشت، چکن اور سبزیوں سے بنایا جاسکتا ہے۔ یہ بریانی کی طرح مصالحے دار نہیں ہوتا اور عام طورپر کری کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔
    قیمہ:
    گوشت، چکن یا مچھلی کے باریک باریک ٹکڑے-

    قورمہ:
    ایک گاڑھا خوشبودار سالن جس میں گوشت، دہی اور مختلف خوشبودارمصالحہ جات ڈالے جاتے ہیں۔

    قورمہ بادامی:
    جس میں پسے ہوئے یا ثابت بادام ڈالے جائیں قورمہ بادامی کہلاتا ہے۔

    سموسہ:
    گندھے ہوئےمیدے کا خول جس میں سبزیاں یاگوشت ڈال کر تلا جاتا ہے۔

    سوتے:
    سوتے ایک فرانسیسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب مکھن یا تیل کی تھوڑی سے مقدار میں کھانا بنانا۔

    تکہ:
    گوشت، مرغی یا مچھلی کا ٹکڑا جو کھلی انگیٹھی پر پکایا جائے۔

    وڑیاں :
    یہ ایک روایتی قدیمی کھانا ہے۔ یہ ٹکیاں ہوتی ہیں جو دال اورمصالحوں کے ساتھ بنا کردھوپ میں قدرتی طریقے سے سکھائی جاتی ہیں۔ایک دفعہ خشک ہونے پر اسے چھ سے چار ماہ کے لئے ہوا بند جار یں محفوظ کیا جاسکتا ہے۔

    یخنی:
    گوشت، چکن یا مچھلی کا شوربہ

    ٹیل آن پرانز:
    جب پران کے سر اور خول کو الگ کردیا جائے لیکن دم برقرار رہے اسے ”ٹیل آن پرانز“ کہتے ہیں۔

    ٹکاٹک:
    بعض اوقات اسے ٹکاٹن بھی کہا جاتا ہے اس ڈش میں زیادہ تر مٹن، چکن گردے اور کلیجی وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ اس میں گوشت ایک سیدھے توے پر ڈال کر پکایا جاتا ہے اور مزید چھوٹے ٹکڑے کئے جاتے ہیں۔ یہ غالباً ان چند ڈشز میں سے ایک ہے جس کا نام اس کے پکنے کے طریقہ کار میں پیدا ہونے والی آوازوں پر رکھا گیا ہے۔

    تندوری:
    ایسے کھانے جو تندور میں پکائے جائیں وہ تندوری کہلاتے ہیں۔ تندو ر ایک چکنی مٹی یا اسٹیل کا بنا ہوا وون ہوتا ہے جس میں نان اور روٹی پکائی جاتی ہے یا بعض اوقات مرغی یا گوشت کے باربی کیو بنانے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

    توا:
    یہ پاکستان کا انتہائی اہم اور عام برتن ہے۔ یہ چھوٹے سے لے کر بہت بڑے سائز میں دستیاب ہوتاہے۔ یہ عام طور پر گول ہوتا ہے۔ یہ سیدھا اور عمودی بھی ہوسکتا ہے۔ یہ عام طورپرروٹی یا پراٹھا بنانے کے لئے استعمال ہوتاہے۔

    سیخ کباب:
    گوشت، چکن، مچھلی کا مصالحے دارقیمہ جو چوکور سیخوں پر لپیٹ کر کوئلوں کی انگیٹھییا سکلٹ پر پکایا جاتا ہے۔

    سیلا چاول:
    پہلے سے چھلکوں سمیت ابلے ہوئے چاولوں کوسیلا چاول کہتے ہیں۔ جسے پہلے بھگویا جاتا ہے بھاپ دی جاتی ہے اور چھڑائی سے قبل خشک کرلیاجاتا ہے۔ اس عمل کے بعداسکا رنگ ہلکا زرد ہو جاتاہے۔ تاہم اسے پالش کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ سیلا چاول پکنے میں کم وقت لیتے ہیں۔ یہ کھڑے اور کم چپکے ہوتے ہیں۔ سیلا چاول دیگ میں پکانے کے لئے انتہائی پسندیدہ ہیں۔

    شیلو فرائی:
    گھانا گرم تیل یا گھی کی درمیانی مقدار میں فرائی کیا جاتا ہے۔ اس طرح پکانے میں کھانے کومکمل طورپر گھی میں ڈبویا نہیں جاتا۔

  • انگلی کے اشارے اور دماغ سے کمپیوٹر قابو کرنے والا فیس بک کا ڈیجیٹل رسٹ بینڈ

    انگلی کے اشارے اور دماغ سے کمپیوٹر قابو کرنے والا فیس بک کا ڈیجیٹل رسٹ بینڈ

    فیس بک نے کلائی پر باندھے جانے والا ایک ویئرایبل بنایا ہے جو دماغی سگنل پڑھ کر آگمینٹڈ ریئلٹی کے ماحول میں آپ کو مختلف سہولیات فراہم کرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : فیس بک نے اپنے بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ اس طرح آئی پوڈ جیسا نظام پہن کر دماغی سگنلوں کو پڑھا جاسکتا ہے اور جب آپ کسی منظر میں کوئی ڈیجیٹل شے دیکھتے ہیں تو صرف دماغی طور پر سوچنے سے ہی اسے ایک سے دوسری جگہ لے جاسکتے ہیں۔ ڈیجیٹل پٹا الیکٹرومائیوگرافی (ای ایم جی) استعمال کرتے ہوئے دماغ سے ہاتھوں تک پہنچنے والے حرکتی (موٹر) اعصاب کو پڑھتا ہے۔


    اب تک اس آلے کو کوئی نام نہیں دیا گیا ہے لیکن اس کی بدولت آگمینٹڈ ریئلٹی کی معلومات یا اجزا کو انگلی کے اشارے یا محض سوچنے سے ہی ایک سے دوسری جگہ حرکت دینا ممکن ہوگا۔

    اسی برس نو مارچ میں فیس بک نے خود فیس بک گلاس (عینک) کا اعلان کیا تھا جو آگمینٹڈ ریئلٹی میں استعمال کی جاسکتی ہیں اسی کے ساتھ مخصوص دستانے اور دیگر آلات پر تحقیق کے لیے بھی غیرمعمولی رقم خرچ کی گئی ہے۔

    آگمینٹڈ ریئلٹی کو یوں سمجھئے کہ آپ ایک مخصوص عینک سے حقیقی منظر کو دیکھ رہے ہیں اور اس میں ڈجیٹل معلومات شامل ہوتی جاتی ہیں۔ اس کی بہترین مثال پوکے مون گیم ہے جو حقیقی مقامات پر ڈجیٹل پوکے مون کردار دکھاتا ہے۔اسی طرح آگمینٹڈ ریئلٹی کسی بھی جگہ اور منظر میں مزید معلومات اور پہلوؤں کا اضافہ کرسکتی ہے۔

    تاہم اسے گوگل گلاس، یا کسی ہیڈ اپ ڈسپلے کے ساتھ ہی استعمال کیا جاسکے گا اور فیس بک کے خیال میں ڈیجیٹل کنگن اس ضمن میں بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے لیکن واضح رہے کہ یہ ٹیکنالوجی فیس بک کی ریئلٹی لیبس میں اب تک تحقیق اور مزید تصدیق کے مراحل میں سے گزررہی ہے اس پر کئی برس سے تحقیق جاری ہے-

  • کنگنا رناوت نے بہترین اداکارہ کا قومی ایوارڈ اپنے نام کر لیا

    کنگنا رناوت نے بہترین اداکارہ کا قومی ایوارڈ اپنے نام کر لیا

    بالی ووڈ اداکار منوج باجپائی اور اداکارہ کنگنا رناوت کو بہترین اداکاری کا قومی ایوارڈ اپنے نام کر لیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں پھیلنے والی کورونا وبا کی وجہ سے بھارت کے 67ویں نیشنل ایوارڈز کی تقریب منعقد نہیں ہوسکی تھی جو بھارتی وزارت اطلاعات کی جانب سے آج منعقد کی گئی اور اس میں بہترین فنکاروں سمیت بہترین فلمز کے ایوارڈز بھی دیئے گئے۔

    بھارتی حکومت کی جانب سے اداکار منوج واجپائی کو بہترین اداکار کے نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا ان کو یہ ایوارڈ 2018 میں ریلیز ہونے والی فلم ’بھونسلے‘ میں ان کی جاندار اداکاری کے لیے دیا گیا۔

    بھارتی حکومت نے بہترین اداکارہ کا نیشنل ایوارڈ کنگنا رناوت کو دیا۔ انہیں یہ ایوارڈ دو فلموں کے لیے دیا گیا 2018 میں ریلیز ہونے والی فلم ’مانیکرنیکا؛ دی کوئین آف جھانسی‘ اور 2020 میں ریلیز ہونے والی فلم ’پنگا‘ میں کنگنا کی جاندار اداکاری کی وجہ سے انہیں یہ ایوارڈ دیا گیا۔

    دوسری جانب آنجہانی بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی زندگی میں ریلیز ہونے والی ان کی آخری فلم ’چھچھورے‘ بہترین فلم کا نیشنل ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اس فلم میں سوشانت سنگھ راجپوت کے مدمقابل شردھا کپور نے مرکزی کردار ادا کیا تھا جبکہ فلم میں اداکار ورون شرما بھی شامل تھے-