Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • سوہائے علی ابڑو کرکٹر شہزر محمد  کیساتھ  رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں

    سوہائے علی ابڑو کرکٹر شہزر محمد کیساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں

    پاکستان کی معروف اداکارہ سوہائے علی ابڑو اور سابق کرکٹر شعیب محمد کے بیٹے شہزر محمد کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں ۔

    باغی ٹی وی : پاکستان کی معروف اداکارہ سوہائے علی ابڑو اور قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان لٹل ماسٹر حنیف محمد کے پوتے کرکٹر شہزر محمد رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔

    سوہائے علی ابڑو کے شوہر شہزر محمد شعیب محمد کے بیٹے ہیں جو خود بھی کرکٹر رہ چکے ہیں جب کہ شہزر فرسٹ کلاس کرکٹر ہیں اور ستمبر 2019 میں سندھ کی جانب سے قائداعظم ٹرافی میں حصہ لیا تھا۔

    اداکارہ کی شادی کی تقریب گزشتہ روز ہوئی جس میں اہل خانہ سمیت سوہا اور شہزر کے دوستوں نے شرکت کی۔

    اداکار ہمایوں سعید نے اہلیہ کے ساتھ شادی کی تقریب میں شرکت کی جس کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہیں جب کہ ہدایت کار فہیم برنی اور ندیم بیگ بھی شادی کی تقریب میں شریک ہوئے۔

    جوڑی کو اداکاروں سمیت مداحوں کی جانب سے بھی مبارکباد دینے کا سلسلہ جاری ہے۔

  • تصویر جسے کھینچنے میں 12 سال کا عرصہ لگا

    تصویر جسے کھینچنے میں 12 سال کا عرصہ لگا

    فن لینڈ کے ایک مشہور فلکیاتی فوٹوگرافر جے پی میتساوینیو نے تقریباً 12 سال کے عرصے میں تصویر کھینچی۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق فوٹوگرافر جے پی میتساوینیو کی کھینچی گئی تصویر کی حقیقی جسامت 1.7 گیگا پکسل (ایک ارب 70 کروڑ پکسل) ہے ہماری کہکشاں یعنی ’ملکی وے‘ کے وسیع حصے کو ظاہر کرتی ہوئی یہ کوئی ایک تصویر نہیں بلکہ 234 ایسی تصویروں کا مجموعہ ہے جن میں سے ہر ایک بجائے خود درجنوں فلکیاتی تصویروں کا مجموعہ ہے۔

    میتساوینیو 2007 سے پیشہ ورانہ فلکیاتی فوٹوگرافی کر رہے ہیں جس کےلیے انہوں نے فن لینڈ کے شہر اولو میں ذاتی رصدگاہ بھی قائم کر رکھی ہےاپنی کھینچی ہوئی آسمانی تصویریں وہ ایک ویب سائٹ کے ذریعے مختلف افراد اور اداروں کو فروخت کرتے ہیں۔

    فوٹوبشکریہ میڈیا
    رپورٹس کے مطابق ملکی وے کہکشاں کی یہ تصویر کھینچنے کا سلسلہ 2009 سے 2021 کی ابتداء تک جاری رہا جس میں وہ ہماری کہکشاں کے مختلف حصوں کی تفصیلی تصویریں کھینچتے رہے اور انہیں احتیاط سے آپس میں جوڑ کر ایک تصویر کی صورت دیتے رہے۔

    میتساوینیو کا کہنا ہے کہ اس کام کےلیے انہوں نے اپنی دوربین مجموعی طور پر تقریباً 1,250 گھنٹے تک ملکی وے کہکشاں کے الگ الگ حصوں پر مرکوز رکھی۔

    فوٹوبشکریہ میڈیا
    ویسے تو یہ تصویر اصل میں بہت بڑی ہے لیکن فلکیات کا شوق رکھنے والے عام افراد بھی اس کا قدرے بڑا ورژن مفت میں (اس لنک سے) ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں جو 7023 پکسل چوڑا اور 1299 پکسل اونچا ہے، جبکہ کمپیوٹر اسٹوریج میں یہ 11.5 میگابائٹ جتنی جگہ گھیرتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ تصویر آسمان میں 125 ڈگری لمبے اور 22 ڈگری چوڑے حصے کا احاطہ کرتی ہے جس میں ہماری کہکشاں لگ بھگ 2 کروڑ ستارے موجود ہیں۔

    یہی نہیں بلکہ ستاروں کی روشنی بھی ان میں موجود عناصر کا پتا دیتی ہے۔ مثلاً آیونائزڈ ہائیڈروجن سے خارج ہونے والی روشنی سبز رنگ کی ہے، سلفر (گندھک) کی سرخ، جبکہ آکسیجن کی رنگت نیلی ہے وغیرہ۔

  • عہدِ وفا پر قائم رہنا ہی ہماری منفرد پہچان اور کامیاب زندگی ہے

    عہدِ وفا پر قائم رہنا ہی ہماری منفرد پہچان اور کامیاب زندگی ہے

    مارچ کے مہینہ میں آٹھ مارچ کی تیاریخ دنیا میں حقوقِ نسواں کے نام سے جانی جاتی ہے… جس تحریک کا آغاز یورپ میں فرانسیسی انقلاب کے بعد ہوا جس کا مقصد عورتوں کو ہر لحاظ سے مساوی حقوق دینا،یکساں اخلاقی ضابطے مقرر کرنا اور عورتوں کا گھر میں رہنا قید سے تعبیر کرنا اور اُن کی گھریلو اور اہم ترین ذمہ داریوں سے آزاد کرنا،بے پردگی و بے راہ روی کا فروغ،شادی کے معاملے میں آزادی اور جنسی اعتبار سے شتر بے مہار آزادی وغیرہ جس کے بنیادی مقاصد ہیں…
    یعنی اگر مرد مزدوری کرتا ہے تو لازمًا عورت بھی مزدوری کرے…
    مرد چراگاہوں میں جانور چرانے جاتا ہے تو عورت بھی وحشی جانوروں کو قابو کرتی پھرے…
    مساوات کا تو یہی مطلب ہوا ناں کہ ہر ممکن،ناممکن کام کر کے دکھائے عورت…!!!
    جن معاشروں میں اس تحریک نے جنم لیا تھا وہاں عورت ایک صنعتی پراڈکٹ ہے…سنگل مدر کلچر نے عورت پر دوہری تہری ذمہ داری کا بوجھ لادا ہوا ہے…
    جبکہ اسلام نے عورت کو حیا کی چادر دے کر قواریر کا لقب بخشا…اُسے سڑکوں پر رسوا کرنے،کھلونا اور جنسِ بازار بننے سے محفوظ کر کے مقدس رشتوں کے حصار میں مامون کر دیا…وراثت میں حق دیا…مرد کے مقابلے میں ماں کو تین گنا زیادہ حق دیا…جنگ کے میدان میں عورت کے حقوق کے تحفظ کی تعلیم دی…اور اس کے قتل سے منع فرمایا…معاشی ذمہ داریوں سے مستثنٰی رکھا…اور معاشرتی اصلاح میں مہذب کردار کی راہیں ہموار رکھیں…
    آج حقوق نسواں کی تحریکوں کے پشت بان اپنے گریباں میں جھانک کر تو دیکھیں کہ جس گندگی کو وہ اپنے معاشرے میں پھیلا کر اُس کی گلی سڑی فصل کاٹ رہے ہیں وہی نظام اور کلچر مسلم معاشروں پر مسلط کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے جسے الحمدللّٰہ اکثریت نا پسند کرتے ہوئے عورت کے اصل حقوق پر توجہ رکھے ہوئے ہے…
    جنگوں میں لاکھوں خواتین کو آگ و خون کا نشان بنا دینا کس کی تاریخ کا سلگتا اور بھڑکتا ہوا باب ہے…؟
    اسلام نے عورت کو جو باوقار،باعزت اور ذمہ درانہ کردار سونپا ہے،اس کا تصور دنیا کی کسی تہذیب میں نہیں ملتا…عورت کے حقوق کو قرآن جیسے آفاقی پیغام میں سورتیں اُتار کر واضح کیا…عورت سے حُسنِ سلوک کی بار بار تاکید کی…
    اسلام میں تو عورت کی پرورش اور تربیت پر جنت کی خوش خبری دی گئی…!!!
    مسلم معاشروں میں اگر کہیں عورت کے حقوق کا خیال نہیں رکھا جاتا تو وہ تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہو گی اور ایسے واقعات کو عالمی میڈیا میں اُچھال کر ایسی تحریکیں اپنا پلڑا وزنی کرنے کی ناکام کوشش کرتی رہتی ہیں…
    ہمیں صحیح معنوں میں اسلام کا فہم حاصل کر کے اس کی اصلاح و فلاح پر مشتمل تعلیمات کو اپنا کر دوسروں کے اذہان و قلوب کو بھی اس روشنی سے منور کرنا ہو گا…
    اور ایسی خواتین کی تربیت پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی جو حقیقتًا ایسی سازشوں کا شکار ہونے کی بجائے بہترین ردعمل اور گلے کی ہڈی بن جائیں…جن کے بارے شاعر نے بہت خوب کہا ہےکہ:
    یہی وہ مائیں ہیں جن کی گود میں اسلام پلتا ہے…
    اسی غیرت سے انسان نور کے سانچے میں ڈھلتا ہے…!!!
    اور مسلمان عورت سے یہی زیور چھیننا ایسے مشنریوں کا اصل ہدف بھی ہے…!!!
    یاد ہے ناں…؟
    ایک عہد باندھا تھا اس دل کی دھڑکن سے…اگر اُس کی بنیادوں کے تار کھینچنے کی کوشش کی تو اس دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو کر ناکام بھی ہو سکتی ہیں…عہدِ وفا پر قائم رہنا ہی ہماری منفرد پہچان اور کامیاب زندگی ہے…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)
    ==================================

  • دیا خونِ جگر تو گلشن میں پھر نام ہوا   بقلم:جویریہ بتول

    دیا خونِ جگر تو گلشن میں پھر نام ہوا بقلم:جویریہ بتول

    ایک عہد…ایک وفا…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول).
    مارچ کا مہینہ تاریخِ پاکستان میں انفرادی حیثیت رکھتا ہے… یہ وہ مہینہ ہے جب 1940ء میں لاہور کے خاص وقت کے منٹو پارک میں حامیانِ پاکستان کا ایک سیلابی ریلا جمع تھا…دو قومی نظریے کی وضاحت تھی…اور قرارداد لاہور کی منظوری تھی…یہ ساری حسین یادیں تاریخ کے اوراق سے ذہن کے دریچوں میں اُتر کر ایک فرحتِ جاں فزا کا نمونہ پیش کرتی ہیں…اور دل کی گہرائی سے بانیانِ پاکستان کو سلامِ عقیدت پیش کرنے کو جی چاہتا ہے…
    لے کے رہیں گے پاکستان…
    بن کے رہے پاکستان…
    پاکستان کا مطلب کیا ؟
    لا الہ الا اللّٰہ…
    جیسے دور اندیشی پر مشتمل نعرے اس عظیم قوم کا عظیم مستقبل اپنی گونج کی لہروں میں سمیٹے ہوئے تھے…کتنی خوب صورت وضاحت تھی اس نظریہ کی…کہ…!
    یہ دو الگ الگ قومیں ہیں…جن کا جینا مرنا،اُٹھنا بیٹھنا،رسم و رواج،اخلاق و عادات،مذہب و تاریخ،قوانین و ہیرو،خوشی،غمی،تہذیب و ثقافت،حلال حرام سب الگ الگ ہیں…اُدھر کروڑوں خداؤں کے پجاری اور اِدھر درِ واحد پر جھکنے والی جبینیں تھیں…یہ ہر حالت میں ایک دوسرے کی ضد ہیں…!!!
    اور پھر راستے جدا ہو گئے…!!!
    ایک عہد تھا جو وفا ہوا…ایک قرارداد تھی جو حقیقت بن گئی…
    ایک خواب تھا جسے واضح اور روشن تعبیر مل گئی…!!!
    اسی عہد پر لاکھوں مسلمانوں نے جانیں قربان کر دیں…عورتوں نے عزتوں کی قربانی دی اور ثابت کیا کہ ہمارا مقصد محض زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ یہ دیوار ہے لا الہ الا اللہ کے نظریہ کی دیوار…اسلام کے آفاقی اور فلاحی اصولوں کی دیوار…یہ حد فاصل اب قائم ہو کر رہے گی اور قلیل عرصہ کے بعد ہی ریاستِ مدینہ کے بعد دنیا کی پہلی نظریاتی مملکت وجود میں آ گئی…وہ صبح جو اپنے دامن میں صد ہزار نجوم کا خون لیے،اپنے وجود پر اپنی ماؤں اور بہنوں کی ردا اوڑھے…لُٹے پٹے مہاجر قافلوں کی داستاں سمیٹے…منزل کی آس میں آبلہ پا چلے آتے عظیم جواہر کی یاد لیے طلوع ہوئی…
    ایک عہد تھا ناں جو وفا ہوا تھا…؟
    مارچ 1940ء تشکیلِ پاکستان کی طرف اُٹھا ایک اہم قدم تھا…جو 1947ء میں قیامِ پاکستان کی منزل سے ہم آغوش ہوا…
    وہی نظریہ جو کل اس وطنِ عزیز کی نظریاتی عمارت کی بنیاد بنا تھا،آج بھی وہی نظریہ اس کے استحکام اور بلند تعمیر اور فلاح کا راستہ ہے…جن رسوم و رواج اور جس تہذیب و ثقافت کا انکار کرتے ہوئے اس سفر کا آغاز کیا تھا…یہ دن اسی عہد پر مضبوطی سے کاربند رہنے کا اعادہ کرنے اور بزرگوں کی عظیم جدوجہد کو سلام پیش کرنے کی دستک دینے آتا ہے…جس کی بنیاد پر سرحدیں الگ ہوئیں…قومیں الگ ہوئیں…پرچم الگ ہوئے…پہچان الگ بنی…اُسی عہد کو اپنا راہ نما بنانا آج بھی ہماری ویسی ہی ضرورت ہے…کہ
    پاکستان عقیدہ بھی،پاکستان یقین بھی ہے
    پاکستان نظریہ بھی،پاکستان زمین بھی ہے…
    رنگ برنگی دنیا میں اس کی یہ پہچان ہے…!!!
    تبھی یہ قلم کہہ رہا ہے کہ
    کٹھن مراحل سے گزر کر اپنا یہ مقام ہوا…
    دیا خونِ جگر تو گلشن میں پھر نام ہوا…
    فولادی عزم سے ڈٹے تو عمل میں اک رنگ اُبھرا…
    اُسی عمل کی ضرب سے عدو پھر ناکام ہوا…!!!

  • اِک  عہد  جو  کیا  تھا وفا  ہو  گیا      بقلم: جویریہ بتول

    اِک عہد جو کیا تھا وفا ہو گیا بقلم: جویریہ بتول

    اِک عہد جو کیا تھا ،وفا ہو گیا
    بقلم: جویریہ بتول

    یہ اپنا وطن ہے اپنی شان…
    نظریہ اِس کا ہے اپنا ایمان…!

    کیا تھا عہد جب آسماں تلے…
    قافلے وفا کے پھر یوں چلے…
    قدموں سے ایسے قدم وہ ملے…
    روک نہ سکا جنہیں کوئی طوفان…

    وہ جو خواب تھا اقبال کا…
    تھا جواب وہ ہر اِک سوال کا…
    تھا عزم وہ خاتمۂ زوال کا…
    رفعتوں کے سفر کا ہوا تھا اعلان…

    کی قائد نے یوں نظریہ کی وضاحت…
    کہ دنگ کھڑی تھی ہر ایک فصاحت…
    ہار گئی تھی جب ہر سُو شقاوت…
    منہ دیکھتا رہا، عدو ہو کر حیران…

    دامن میں پھر لُہو کے دریا بَھرے…
    سروں پہ بہنوں کی ردائیں اوڑھے…
    وہ بچے، عورتیں اور جواں و بوڑھے…
    بن گئے سب طُلوعِ سَحَر کی اذان…

    اِک عہد جو کیا تھا ،وفا ہو گیا…
    بچے بچے کی زباں پہ صدا ہو گیا…
    نغمۂ آزادی کی پھر جو نَوا ہو گیا…
    جہاں میں بن گئی اپنی یہ پہچان…

    یہ دھرتی ہی نہیں ایک عقیدہ تھا…
    حقیقت کا کُھلا جو جریدہ تھا…
    مقابل جس کے باطِل سَر بریدہ تھا…
    تھاصدیوں کاسینے میں مچلتا ارمان…

    آج بھی ہے ضرورت اُسی اتحاد کی…
    ترقئ علوم و فنون اور ایجاد کی…
    کردارِ انسانیت کی پختہ بنیاد کی…
    خزاں کی زَد میں ہو نہ کبھی گُلستان…

    یہ اپنا وطن ہے اپنی شان…
    نظریہ اس کا ہے اپنا ایمان…!
    ==================================

  • ہر شاعرکی شناخت اس کی قومی زبان ہے

    ہر شاعرکی شناخت اس کی قومی زبان ہے

    پاکستان کے شعراء کو شاعری کا عالمی دن مبارک! یاد رہے کہ عالمی سطح پر ہر شاعرکی شناخت اس کی قومی زبان ہے اغیار کی زبان ہرگز نہیں! حتی کہ پاکستان جیسے غلام ملک میں دو سو سال کی انگریزی غلامی کے باوجود جس کی تعلیم ‘ عدالت’ سرکار ‘ عسکری و سول امتحانات کی زبان انگریزی ہونے کے باوجود عالمی سطح پر ایک بھی انگریزی کا شیکسپئر یاورڈزورتھ پیدانہ ھوسکا !ا

    اے پاکستانی شاعرو! تم بھی دنیا کے تمام شاعروں کی طرح سے اپنی زبان کی بقا و نفاذ کی بات کرو۔ زبان کی بقا پہلے ہے شاعری بعد میں ہے ! تمہاری تو زبانیں اس وقت اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہیں ۔

    خاکم بدہن انگریزی غلامی سے اگر تمہاری زبان کا وجود ہی باقی نہ رہا’ تو تمہاری لکھی ہوئی شاعری کو ہڑھے گا کون؟ اس لیئے اپنی زبان کے نفاذ کی بات کرو۔ ہر مشاعرے اور ادبی تقاریب میں عدالت عظمیٰ کے نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد کی قرارداد ضرور ہیش کرو! تمہاری شہرت’ عزت ‘ روزی روٹی صرف پاکستانی زبانوں کی عزت و توقیر سے وابستہ ہے۔

    فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • کھانا پکانے کی چند اہم ہدایات

    کھانا پکانے کی چند اہم ہدایات

    کھانا پکانے کی ہدایات
    (1)تیل
    سب سے اعلی تجویز کردہ تیل میں کارن آئل، سن فلاور آئل یا سویابین آئل ہے۔ عام زیتون کا تیل بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم انتہائی خالص زیتون کا تیل نہ صرف مہنگاہے بلکہ یہ پاکستانی کھانوں کے لئے موزوں بھی نہیں ہے۔ یہ صرف سلاد کی ڈریسنگ یا فوری تلنے کے عمل کے لئے بہت اچھا ہے۔
    (2)گھی ……
    گھی میں دیسی گھی تجویزکیا جا تا ہے کیونکہ بناسپتی گھی میں موجود ہائیڈرو جنیٹڈ اور آپ کی صحت کے لئے انتہائی مضرہے۔

    (3)چاول……
    باسمتی چاولوں کودو سے تین مرتبہ دھوئیں اور کم از کم آدھے گھنٹے کے لئے پانی میں بھگوئے رکھیں۔ سیلا چاول ایک گھنٹہ کے لئے بھگوئے رکھیں۔

    (4) مونوسوڈیم گلوٹامیٹ (MSG)……
    جسے چائنا نمک یا اجینوموتو بھی کہا جاتا ہے۔ یہ نمک کی طرح کا پاؤڈر گلوٹامیک ایسڈ کا ہوتا ہے جو امینو ایسڈخاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ جاپانی اور چینی کھانوں میں ذائقوں کوبڑھانے کے لئے بہت مقبول اور مشہور ہے۔ اب پاکستانی کھانوں خصوصاً باربی کیو میں بھی یہ وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے بعض لوگوں کو (MSG)سے الرجی کی شکایت بھی ہوجاتی ہے جس کے باعث سردرد، سر چکرانے کے ساتھ قے بھی آ جاتی ہے۔یہ بچوں اوربڑوں کے لئے خاصا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ (MSG) کی حمایت میں بہت سی دلیلیں بھی دی جاتی ہیں کہ یہ بے ضرر ہے تاہم میں یہ سمجھتا ہوں کہ MSG کا استعمال کسی کھانے میں بھی نہیں کیا جانا چاہئے۔

    (5) کچھ کھانے تیار کرنے کے لئے زیادہ گھی یا تیل درکار ہوتاہے ڈش تیار کرنے کے بعد فالتو آئل نکل دینا چاہئے۔

    (6) مصالحوں یا نباتات کی مقدار علاقوں اور موسموں کے مطابق ہوتی ہے۔ برائے مہربانی آپ مصالحوں کا استعمال اپنی ضرورت اور ذائقے کے مطابق کریں۔ اسی طرح نمک کا استعمال بھی حسب ِ ضرورت کریں۔

    (7) کسی بھی ڈش کے لئے مصالحہ تیار کرتے ہوئے اس کے مصالحے کو جلنے یا برتن سے چپکنے سے بچانے کے لئے آپ تھوڑا سا پانی بھی استعمال کرسکتے ہیں اگر ضروری ہو تو پانی ایک سے زائدبار بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    (8)اگر غلطی سے کسی ڈش میں نمک کی مقدار زیادہ ہوجائے تو آپ ایک یا دو پیڑے آٹے کے شامل کردیں جو نمک کی زائد مقدار کو جذب کرلے گا۔

    (9) اگر آ پ مصالحوں کا تیزذائقہ لینا چاہتے ہیں تو ثابت یا پسے ہوئے مصالحے کو توے پر یا نان سٹک برتن میں بھون لیں۔ ا س بات کو یقینی بنائیں کہ وہ جلیں نہیں۔ مصالحوں کو اکٹھا نہ بھونیں کیونکہ کچھ مصالحے جلد پک جاتے ہیں۔

    (10)دالیں پکنے میں نسبتاً کم وقت لیتی ہیں اگر انہیں پکنے سے ایک گھنٹہ قبل پانی میں بھگو دیا جائے۔ پھلیوں کے لئے رات بھر بھگونا تجویز کیا جاتا ہے-

    (11)گوشت کومصالحہ لگا کر رکھنے کے لئے دھاتی برتن کے استعمال سے گریز کریں کیونکہ سرکہ یا لیموں اس عمل میں اپنی تیزابی خاصیت کی وجہ سے ری ایکشن کرسکتے ہیں۔ گلاس، چائنہ یا فوڈ گریڈ اسٹین لیس سٹیل کے برتن اس مقصد کے لئے بہترین ہیں۔

    (12)تمام تراکیب میں چکن بغیر سکن کے استعمال کیا جاتا ہے تاوقتیکہ اسے دوسرے طریقے سے پکانا مقصودہو۔ جہاں چکن بغیر ہڈی کے پکانا مقصود ہ اس کی ترکیب الگ ہوتی ہے۔ مٹن اور بیف کے لئے بھی یہی طریقہ ہوگا۔

    پاکستانی کھانے پکانے کے تین اہم طر یقہ کار

  • قہوہ سٹوڈیو نےیوم پاکستان کے حوالے سے ملی نغمہ ریلیز کر دیا

    قہوہ سٹوڈیو نےیوم پاکستان کے حوالے سے ملی نغمہ ریلیز کر دیا

    قہوہ اسٹوڈیو نے 23 مارچ یوم پاکستان کے حوالے سے حب الوطنی سئے بھر پور نیا ملی نغمہ ریلیز کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی :گلو کار عبدالوحید عاصم کی آواز میں پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا للہ کے عنوان سے جاری قہوہ اسٹوڈیو کے تین منٹ پچیس سیکنڈ پر مبنی اس خصوصی ترانے کو بے حد پسند کیا جا رہا ہے-

    یوم پاکستان کی مناسبت سے گائے گئے حب الوطنی سے لبریز اس ترانے میں مینار پاکستان کے حسین مناظر سمیت بانی پاکستان اور تاریخی جلسوں کی جھلکیاں دکھائی گئی ہیں ترانے کے بول یوں ہیں :

    لا الٰہ الا اللہ ہے جس نے ہمیں جگایا تھا
    آزادی کی راہوں پر اپنا خون بہایا تھا
    قرآں کی سطروں نے ہم کو سبق یہی سکھلایا تھا
    تیرا میرا رشتہ کیا ۔۔۔ لا الہ الا اللہ
    پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ
    آزادی کی قیمت کیا لا الہ الا اللہ
    ہر کشمیری کی یہ صدا لا الہ اللہ

  • رانی مکر جی نے آدتیا چوپڑا سے محبت کرنے کی وجہ بیان کر دی

    رانی مکر جی نے آدتیا چوپڑا سے محبت کرنے کی وجہ بیان کر دی

    بالی وڈ کی معروف اداکارہ رانی مکھرجی نے یش راج فلمز کے سربراہ آدتیا چوپڑا سے محبت کرنے کی وجہ بتا دی۔

    باغی ٹی وی :اداکارہ رانی مکھرجی اور ان کے شوہر اپنی ذاتی ازدواجی زندگی کو کیمروں کی نگاہوں سے دور رکھتے ہیں تاہم اب بھارتی میڈیا سے گفتگو کے دوران رانی مکھرجی آدتیا چوپڑا سے محبت کرنے کی وجہ بیان کی ہے۔

    بھارتی میڈیاکو دیئے گئے ایک انٹرویو میں رانی مکھرجی کا کہنا تھا کہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے تعلق ہونے کے باوجود آدتیا چوپڑا کا خود کو محدود رکھنا ہی ان کی جانب توجہ کا باعث بنا۔

    رانی مکھرجی کے مطابق ان کی اپنے شوہر سے محبت کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ خود کوانتہائی حد تک ذاتی رکھے ہوئے ہیں۔

    رانی نے بتایا کہ انڈسٹری میں کئی سال کا تجربہ رکھنے کے باوجود آدتیا چوپڑا ہی وہ واحد شخص ہیں جن کی وہ عزت کیا کرتی تھیں، آدتیا کا شمار ان کم لوگوں میں ہوتا ہے جن کے اخلاق ،کام کے انداز کے باعث ان کی عزت کرتی تھی اور کرتی ہوں۔

    اداکارہ کے مطابق وہ خود بھی اپنی ذات کو ذاتی رکھے ہوئے ہیں، یہی وجہ تھی جو ہم دونوں کو ایک بہترین جوڑی بنا سکتا ہے۔

    خیال رہے کہ رانی مکھرجی نے بالی وڈ فلم کے معروف فلمساز یش راج کے بیٹے آدتیا چوپڑا سے 2014 میں شادی کی تھی اور دونوں کی ایک بیٹی ہے۔

  • سائرہ شہروز کی علیحدگی اور صدف سے شادی پر سے متعلق شہزاد اور مومل شیخ کی رائے

    سائرہ شہروز کی علیحدگی اور صدف سے شادی پر سے متعلق شہزاد اور مومل شیخ کی رائے

    پاکستانی اداکارہ وماڈل مومل شیخ کا کہنا ہے کہ سائرہ اور شہروز نے علیحدگی سے متعلق تنقید کو جس طرح بہترطور پرڈیل کیا ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔

    باغی ٹی وی : حال ہی میں نامور اداکار جاوید شیخ کی بیٹی اور اداکارہ و ماڈل مومل شیخ، بھائی اور اداکار شہزاد شیخ کے ہمراہ نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں شرکت کی۔

    میزبان کی جانب سے سائرہ اور شہروز کی علیحدگی پر کی جا نے والی شدید تنقید کے سوال پر مومل شیخ کا کہنا تھا کہ لوگ تو باتیں کرتے آئے ہیں کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے جس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

    مومل شیخ نے اداکار جوڑی کی علیحدگی سے متعلق ذاتی رائے شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وہ دو انفرادی اور بالغ افراد ہیں جو جانتے ہیں کہ ان کے لیے کیا اچھا ہے؟ مومل نے مزید کہا کہ سائرہ اور شہروز دونوں ہی خوبصورت دل رکھنے والے افراد ہیں۔

    دوسری جانب شہزاد شیخ کا شہروز سبزواری کی دوسری اہلیہ صدف کنول سے متعلق کہنا تھا کہ صدف ہمارے خاندان میں نیا اضافہ ہے جس نے بے حد تنقید برداشت کی اور مجھے لگتا ہے کہ اس نے سب کچھ سمجھداری سے ہینڈل کیا۔