Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • گلوکارہ آئمہ بیگ اور شہباز شگری نے منگنی کر لی

    گلوکارہ آئمہ بیگ اور شہباز شگری نے منگنی کر لی

    پاکستان میوزک انڈسٹری کی نامور گلوکارہ آئمہ بیگ اور اداکار وماڈل شہباز شگری نے منگنی کرلی۔

    باغی ٹی وی : گلوکارہ آئمہ بیگ نے گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنی منگنی کی انگوٹھی کی تصویر شیئر کی اور اس پوسٹ کو شہباز شگری کو بھی ٹیگ کیا جس سے اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ دونوں نے منگنی کر لی ہے-

    آئمہ بیگ کی جانب سے منگنی کی خوشخبری شیئر کرتے ہی ان کے مداحوں اور شوبز فنکاروں کی جانب سے انہیں مبارکباد دینے کا سلسلہ جاری ہوگیا۔

    تاہم دوسری جانب شہباز شگری نے آئمہ بیگ کے ساتھ منگنی کرنے کے حوالے سے کوئی بھی پوسٹ اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر نہیں کی۔

    واضح رہے کہ آئمہ بیگ اور شہباز شگری کافی عرصے سے ایک دوسرے کے دوست ہیں آئمہ بیگ اور شہباز شگری کئی مواقعوں پر ایک دوسرے کے ساتھ دیکھے گئے ہیں ان کی جوڑی کو بے حد پسند کیا جاتا ہے-

    جبکہ آئمہ بیگ نے ایک مارننگ شو کے دوران اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ان دونوں کے درمیان رشتہ دوستی سے بڑھ کر ہے ۔

  • پاکستانیوں کو ذلت کے عمیق گڑھے سے کون نکالے گا، کیسے نکالے گا؟  ازقلم:پروفیسر محمد سلیم ہاشمی

    پاکستانیوں کو ذلت کے عمیق گڑھے سے کون نکالے گا، کیسے نکالے گا؟ ازقلم:پروفیسر محمد سلیم ہاشمی

    پاکستانیوں کو ذلت کے عمیق گڑھے سے کون نکالے گا، کیسے نکالے گا؟
    (پروفیسر محمد سلیم ہاشمی)

    سوال کیا گیا، "جو لائق ہیں وہ انگریزی میں پڑھ کر بھی زندگی کی دوڑ میں آگے نکل جاتے ہیں جو نالائق ہیں وہ اردو میں پڑھ کر بھی نالائق ہی رہتے ہیں۔ زبان کا تعلیم سے کیا تعلق ہے؟”

    میں تڑپ اٹھا۔ ہم کس قدر پستی میں ڈوب گئے، کس قدر ذلت میں اتر گئے کہ اب ہم بنیادی معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت بھی کھو بیٹھے۔ ہمیں روشنی اور اندھیرے، عزت اور ذلت، زندگی اور موت میں فرق کرنا بھی نا ممکن نظر آنا شروع ہوگیا۔

    لیاقت ثانوی بات ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ تعلیم کس زبان میں دی جائے۔
    برطانیہ میں تعلیم انگریزی میں دی جاتی ہے۔
    امریکہ میں تعلیم انگریزی میں دی جاتی ہے۔
    روس میں تعلیم روسی میں
    جرمنی میں جرمن
    ترکی ترک
    ایران فارسی
    جاپان جاپانی
    چین چینی
    فرانس فرانسیسی
    سپین ہسپانوی
    پرتگال پرتگالی
    فن لینڈ فنش
    ہالینڈ ڈچ
    ناروے نارویجن
    ڈنمارک ڈینش
    سویڈن سویڈش
    برما برمی
    تھائی لینڈ تھائی
    بنگلہ دیش بنگلہ
    افغانستان افغانی
    بھلا ساری دنیا کے ملک اپنی اپنی زبان میں تعلیم کیوں دے رہے ہیں؟
    اگر دوسری زبان میں تعلیم دینا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہوتا تو
    روس میں انگریزی
    جرمنی میں فرانسیسی
    چین میں روسی
    جاپان میں جرمن
    اور اس طرح باقی ملکوں میں بھی غیر ملکی زبانوں میں تعلیم دی جا رہی ہوتی۔
    معاملہ یہ ہے کہ پاکستانیوں کا مقیاس ذہانت اس قدر کم ہو چکا ہے کہ ان کو زندگی اور موت کے درمیان فرق محسوس تک نہیں ہوتا۔ ان کے لئے غلامی اور ازادی، ذلت اور عزت اور روشنی اور اندھیرے کے درمیان تمیز کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ ہم بھلا ایسے ہی ذلتوں کے عمیق سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
    آؤ میں بتاؤں کیا فرق ہے

    انگریزی اردو
    غلامی آزادی
    تاریکی روشنی
    بدحالی خوشحالی
    پسماندگی ترقی
    ذلت عزت
    جہالت علم
    موت زندگی۔
    ہے۔
    بات سمجھ میں آ جائے تو سمجھ جاؤ کہ ابھی زندگی کی کوئی رمق تمہارے اندر موجود ہے ورنہ اپنے آپ کو مردہ سمجھنا شروع کر دو۔
    پاکستانیو یاد رکھو جب تک اس ملک میں ہر شعبہ زندگی میں ہر سطح پر اردو نافذ نہیں ہو جاتی، تم ذلیل رہو گے، اندھیروں میں ڈوبے رہو گے، بد حال رہو گے، پسماندہ رہو گے، پستیوں میں گرتے رہو گے، مردہ رہو گے۔
    کسی ملک پر کسی غیر ملکی زبان کا تسلط اتنا ہی سادہ مسئلہ ہوتا تو پاکستان جیسے تماشے جگہ جگہ ملک ملک لگے ہوتے۔
    پاکستان پر انگریزی کا تسلط اس ملک کے خلاف سب سے بڑی سازش اور مجرمانہ حرکت ہے۔ یہ برصغیر پرانگریزوں کے قبضے سے بھی بھیانک اور سنگین معاملہ ہے۔

    پروفیسر محمد سلیم ہاشمی

    انتخاب و اشتراک
    فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • انگریزی ذریعہ تعلیم سے ایک ایسی گونگی بہری’ قوم  پیدا ہورہی ہے جو نہ اردو’ میں اپنا مافی الضمیر بیان کر سکتی ہے نا انگریزی میں

    انگریزی ذریعہ تعلیم سے ایک ایسی گونگی بہری’ قوم پیدا ہورہی ہے جو نہ اردو’ میں اپنا مافی الضمیر بیان کر سکتی ہے نا انگریزی میں

    ابھی ہم سے امریکہ میں گزشتہ پینتیس سال سے مقیم محترم ظفر عالم فون پر پاکستانیوں کی انگریزی غلامی پر افسوس کا اظہار فرما رہے تھے۔ پاکستانی کسی بھی میدان میں آگے نہیں ہیں۔ پاکستانیوں کی انگریزی غلامی نے ان کو کو کہیں کا نہ چھوڑا۔ انہوں نے کہا لمز کا طالب علم امریکہ آ کر انگریزی میں فیل ہوگیا۔ہم یہ بات سن کر سناٹے میں آگئے۔ لمز؟ جی! لمز! یہی تو وہ طبقہ جو اپنے مفادات کی خاطر ننانوے اعشاریہ نناوے فیصد عوام پر انگریزی مسلط کئے بیٹھاہے۔اپنی ساری جہالت’ نالائقی کو انگریزی کے پردے میں چھپائے بیٹھا ہے۔ اندازہ کیجئے کہ جب لمز کا طالب علم بھی امریکہ جا کر انگریزی میں فیل ہو جاتے ہیں تو پھر بائس کروڑ پاکستانیوں پر انگریزی کیوں دن رات مسلط ہے؟ جو انگریزی پاکستانیوں کو امریکہ و برطانیہ میں اعلی ملازمت نہ دلوا سکی پاکستان کا لمز کا گریجویٹ بھی وہاں درجہ چہارم کی ملازمت کررہا ہے تو پھر کیوں نہ پوری دنیا کی طرح اپنا تمام کاروبار مملکت اپنی قومی زبان میں کیا جائے۔ جس نے امریکہ یا برطانیہ جانا ہے وہ انگریزی زبان کے کورس کرلیں جیسے پوتی دنیا کررہی ہے۔۔
    لمز’ جی ائی کے’ فاسٹ’ ایچی سن ‘ وغیرہ جو پاکستان میں انگریزی کے اعلی اور مہنگے ترین ادارے ہیں یہ بتادیں کہ کہ انہوں نے اس ملک کو کتنے عالمی سطح کے سائنسدان’ انجنیئر’ ماہر معیشیت دئیے ہیں؟
    ہمیں محترم ظفر عالم نے بتایا کہ میں نے اپنے بچوں کو اپنی ذاتی کوشش سے اردو ‘ عربی بھی سکھائی ہے۔ انہوں نے ہمیں اپنے ایک واقعہ سنایا کہ وہ ایک گورے کو انٹرویو دے رہاتھا۔۔میرے ایک غلط جملے پر اس نے مجھے ٹوک دیا۔ تو ظفر عالم نے اس کو کہا کہ تم شکر ادا کرو کہ میں تمہاری زبان بول رہا ہو ‘ تم تو میری اتنی زبان بھی نہیں بول سکتے ! یہ ہوتی ہے قومی حمیت ! یہ ہوتی ہے خود داری!!
    انہوں نے مذید کہا کہ پاکستانی الٹا بھی لٹک جائیں تو کبھی بھی امریکیوں جیسی انگریزی بول ہی نہیں سکتے۔۔ترقی کرنا تو دور کی بات ہے! انہوں نے بتایا کہ اس وقت امریکہ میں چالیس ہزار ست زیادہ بھارتی ڈاکٹر ہیں ۔ پاکستانی صرف چار ہزار۔۔ہم نے ان کو بتایاکہ بھارت میں انگریزی ایسے مسلط نہیں جیسے پاکستان میں ہے بھارت میں کوئی اے لیول سسٹم نہیں۔۔وہاں مقابلے کا امتحان اردو’ انگریزی سمیت سترہ زبانوں میں دیا جاسکتا ہے۔ بھارت میں پرائمری تعلیم مادری زبان اور ھندی میں دی جاتی ہے۔مودی سرکار ہر جگہ ھندی میں اپنا مافی الضمیر کھل ڈھل کر بیان کرتی ہے! اب وہ زیادہ سے زیادہ ھندوستانی زبانوں کو فروغ دے رہے ہیں۔۔انگریزی کی بالادستی ختم کر رہے ہیں۔ لیکن پاکستان میں انگریزی کے تسلط نے اس قوم کو غلامی ‘ بوٹی مافیا’ رٹا بازی’ جعلسازی’ دونمبری’ قومی احساس کمتری کے سوا کچھ نہیں دیا۔۔انگریزی ذریعہ تعلیم سے ایک ایسی گونگی بہری’ قوم پیدا ہورہی ہے جو نہ اردو’ میں اپنا مافی الضمیر بیان کر سکتی ہے نا انگریزی میں! اس کا حل یہی ہے کہ پاکستان کی ترقی’ خوشحالی’ یکجھتی’ سائنس وعلم کے فروغ کے لئے فوری طور پر اردو کو ہر شعبہ زندگی میں نافذ کردیا جائے۔۔ورنہ اس قوم کے پلے کچھ نہیں رہے گا!
    فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • برصغیر میں کھانا پکانے کا حیران کن برتن

    برصغیر میں کھانا پکانے کا حیران کن برتن

    دیگ—– برصغیر میں کھانا پکانے کا خاص برتن:
    دیگ برصغیر میں کھانا پکانے کا حیران کن برتن ہے۔ اس قسم کے مفید اور منفرد برتن کی کم ہی مثالیں موجود ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا برتن ہوتا ہے جو زیادہ مقدار میں کھانا بنانے کے لئے استعمال کیاجاتا ہے۔ زیادہ تر دیگیں شادیوں کے موقع پر استعمال ہوتی ہیں یا دیگر بڑی تقریبات میں جہاں کھانا زیادہ مقدار میں درکار ہوتا ہے۔ جو کھانا دیگ میں پکایا جائے اسے دیگی کھانا کہتے ہیں۔

    دیگیں 10,5یا 12 کلوگرام کے مختلف سائز میں ہوتی ہیں۔ بڑے سائز میں ہونے کی وجہ سے یہ بات حیران کن نہیں کہ ایک دیگ سے پچاس سے زیادہ لوگ کھانا کھا سکتے ہیں دیگیں غالباً پہلی بارمقامی فوجوں نے اپنے بڑے لشکروں کو کھانا فراہم کرنے کیلئے استعمال کیں۔ دیگوں کی ساخت اس قسم کی ہوتی ہے کہ دو دیگیں بیک وقت اکٹھی اٹھائی جاسکتی ہیں۔ دیگ کی موٹائی اور اس کا گول پیندہ کھانوں کو گرم رکھنے میں مدد دیتاہے۔ اس کے کنارے نہیں ہوتے جس کی وجہ سے اسے صاف کرنا آسان ہوتاہے۔ دیگ کی ساخت بڑی ہونے کی وجہ سے اسے پانی ابالنے، چاول بنانے، کھانا بھاپ میں پکانے یہاں تک کہ زیادہ مقدار میں چائے بنانے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

    تندور…… برصغیر میں کھانا پکانے کا ایک اہم آلہ:
    تندور مٹی سے بنی گول نما بھٹی ہوتی ہے جوکہ بنیادی طور پر روٹی اور نان بنانے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ اپنے بڑے سائز اور شدید گرم ہونے کی بنا پر یہ زیادہ مقدار میں پکائی کے لئے بہت مفید ہے۔ روایتی تندور کو لکڑیوں سے جلایاجاتا ہے تاہم جب سے گیس مختلف شکلوں میں آج کل عام دستیاب ہے زیادہ تر تندور گیس پرمنتقل ہوچکے ہیں۔ مورخین کے مطابق تندور کا پہلی بار استعمال قبل از مسیح ہو جوکہ قدیم وادی ئ سندھ اور ہڑپہ تہذیب میں کیاگیا۔ یہ علاقے صوبہ سندھ اور پنجاب میں واقع ہیں۔

    دوسرے ملکوں میں تندور کا استعمال چکن باربی کیو اور گوشت کے دیگر پکوان بنانے میں کیا جاتا ہے۔ تندور کا استعمال کب شروع ہوا اس کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہاجاسکتا۔ مغل بادشاہوں کے سر بھی اس کا سہرا جاتا ہے خصوصاً جہانگیر بادشاہ کو لیکن اس بارے میں بھی حتمی طور پر کوئی شواہد موجود نہیں۔

    1920 میں موتی محل پشاور کے ایک ریسٹورنٹ میں تندوری چکن تکہ بنانے کا آغاز ہوا جس کا سہرا کند لعل گجرال کو جاتا ہے۔ بعد ازاں 1947 میں دہلی منتقل ہوگئے اور وہاں دریا گنج میں اسی نام سے ایک ریسٹورنٹ کھولا۔مختلف بزرگ لوگوں سے معلوم کرنے سے یہ اندازہ ہوا کہ وہ ایسی کسی ڈش سے لاعلم ہیں اور نہ ہی انہوں نے اپنے کسی بزرگ سے تندوری چکن تکہ کے بارے میں کچھ سنا۔ ابھی تک پشاور اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں ایسی کسی تندوری ڈش کا وجود نہیں۔ پاکستان میں سوائے چند پرتعیش مغربی ہوٹلوں کے چکن تندوری زیادہ مقبول نہیں ہم ابھی تک چار کول گرل پر چکن تکہ بنانا ہی پسندکرتے ہیں۔

  • پاکستانی کھانے پکانے کے تین اہم طر یقہ کار

    پاکستانی کھانے پکانے کے تین اہم طر یقہ کار

    پاکستانی کھانے پکانے کے تین اہم طر یقہ کار

    (1)بھُنائی (2)تڑکا (3)دم

    یہ ہمارے کھانوں کی روح ہیں۔
    (1)بھُنائی:
    بھُنائی ہمارے کھانوں کے پکانے میں ایک اہم جزو ہے۔ بھُنائی کا طریقہ کار زیادہ ترسبزیوں اور گوشت کی ڈشز تیار کرنے میں استعمال ہوتاہے۔ بھُنائی کا مقصد پکے ہوئے کھانے میں موجود اضافی رطوبت کو ختم کرنے اور سبزی یا گوشت کو مصالحوں کے ساتھ کوکنگ آئل میں بھون کرذائقے میں اضافہ کرنا ہے۔ بھوننے سے اضافی رطوبت خشک ہو جاتی ہے اور سبزی اور گوشت میں موجود آئل اور مصالحے اندر تک جذب ہو کرذائقہ بڑھاتے ہیں۔ بھُنائی ایک دفعہ گوشت کے نرم ہونے تک کی جاتی ہے اس کے بعد ہلکی اور درمیانی آنچ پر اسے بھونا جاتا ہے۔ بھونتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ تیل کی مقدار مناسب ہو تاکہ گوشت پیندے کے ساتھ نہ چپک جائے۔ بعض اوقات بھُنائی کے لئے زیادہ آئل استعمال کیا جاتا ہے جو بعد میں نکال دیاجاتا ہے۔

    زیادہ تر گوشت اور سبزیوں کی ڈشز بھُنائی کے بعد مکمل ہوجاتی ہیں اور اس کے بعد سجاوٹ کے ساتھ پیش کرنا ہی باقی رہ جاتا ہے۔ تاہم گاڑھے شوربے والے سالن میں بھُنائی کاطریقہ کار ذرا سا مختلف ہے۔ جب گوشت 80 فیصد پک جائے تو بھُنائی ہو جاتی ہے اس کے بعد پانی شامل کیاجاتا ہے اور مکمل تیار ہونے تک پکایا جاتا ہے۔ آلو گوشت کی صورت میں بھُنائی کے بعد آلو اورپانی شامل کیا جاتا ہے۔ جتنی دیر میں آلوپکتے ہیں ساتھ ہی گوشت بھی گل چکا ہوتا ہے۔

    بھُنائی برصغیر کا روایتی طریقہ کار ہے جبکہ دوسرے ممالک میں جہاں سالن کھائے جاتے ہیں یہ طریقہ اتنا معروف اور مقبول نہیں ہے۔ حتیٰ کہ پاکستانی عورتوں میں یہ طریقہ کار عام ہے لیکن چونکہ یہ بہت زیادہ وقت لیتاہے اس لئے یہ پیشہ ور باورچیوں میں عام نہیں۔ چونکہ غیرملکی شیف ہمارا کھانے پکانے کا طریقہ کار انہی پیشہ ور بارچیوں سے سیکھتے ہیں لہٰذ اوہ بھُنائی کی اس مہارت سے مکمل آگاہ نہیں ہیں اسی وجہ سے دنیا کے زیادہ تر لوگ پاکستان کے روایتی کھانوں کے حقیقی ذائقے اور لذت سے محروم رہ جاتے ہیں۔

    (2) تڑکا:
    تڑکا برصغیر میں کھانے پکانے میں عام استعمال ہوتا ہے۔ تیل یا گھی کی تھوڑی سی مقدار گرم کرنے کے بعد اس میں پیاز، ادرک، لہسن، ثابت یا پستے ہوئے مصالحوں کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے۔ یہ عمل صرف چند منٹ لیتاہے۔ گرم تیل مصالحوں کے ساتھ پہلے سے پکی ہوئی ڈشز مثلاً دال وغیرہ میں فوراً شامل کردیاجاتاہے۔ تڑکے کا یہ عمل نہ صرف دال میں مصالحوں کی خوشبو شامل کردیتاہے بلکہ اس کے ذائقہ کو بھی بڑھا دیتا ہے۔

    (3) دَم:
    دَم کا مطلب ہے کھانے کو دھیمی آنچ پر ڈھک کر بھاپ سے پکایا۔ گوشت یا دوسرے کھانے ان کے اپنے ہی پانی یا تھوڑا سا مزید پانی شامل کرکے پکایا جاتا ہے۔ دَ م اصل میں پانی کی زیادتی سے بچانا ہے اور مصالحوں کو گوشت،چاول یا سبزیوں میں بھرپور طریقے سے سرایت کرنے میں مدد دیتا ہے۔ دَم کا یہ عمل گوشت وغیرہ کو نرم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ عمل چاولوں کی ڈشزتیار کرنے میں بھی استعمال ہوتاہے۔ چاولوں کو دم اس طریقہ کار سے ان کی اضافی نمی ختم ہوجاتی ہے جس سے چاول پھول جاتے ہیں۔

  • عاطف اسلم کے گانے’چلے تو کٹ ہی جائے گا’ نے ریلیز ہوتے ہی نیا ریکارڈ بنا لیا

    عاطف اسلم کے گانے’چلے تو کٹ ہی جائے گا’ نے ریلیز ہوتے ہی نیا ریکارڈ بنا لیا

    پاکستان میوزک انڈسٹری کے عالمی شہرت یافتہ گلوکار عاطف اسلم کا گانا ‘چلے تو کٹ ہی جائے گا’ ریلیز ہوا ہے جس نے چند گھنٹوں میں ہی نیا ریکارڈ بنالیا ہے۔

    باغی ٹی وی :عاطف اسلم کا نیا گانا صوفی اسکور کے یوٹیوب چینل پر ریلیز ہوا ہے اور اسے مداحوں کی جانب سے بہت زیادہ پسند کیا جارہا ہے۔
    https://twitter.com/itsaadee/status/1372928361027284998?s=20
    ‘چلے تو کٹ ہی جائے گا’ ریلیز ہونے کے بعد سے سوشل میڈیا پر مختلف ہیش ٹیگز بھی ٹرینڈ کررہے تھے اس گانے کو ایک دن سے بھی کم وقت میں 40 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا جاچکا ہے جو بیک وقت پاکستان اور بھارت میں ریلیز ہوا تھا۔

    عاطف اسلم میں گائے جانے والے اس گانے کی موسیقی احسن پرویز مہدی نے ترتیب دی ہے اور اس کی ہدایات ڈیوڈ زینی نے دی ہیں۔

    گلوکار عاطف اسلم کی آواز میں ریلیز ہونے والے یہ گانا دراصل پاکستانی گلوکارہ مسرت نذیرکے ہی گانے کا ری میک ہے ‘چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر ‘ گانے کو ابتدائی طور پر پاکستانی گلوکارہ مسرت نذیر نے گایا تھا جو ان کی آواز میں آج بھی مقبول ہے۔

    سوشل میڈیا پر مداحوں کی جانب سے عاطف اسلم کے گانے کو بہت زیادہ سراہا جارہا ہے مداحوں نے عاطف اسلم کے اس گانے کو ماسٹر پیس اور حیرت انگیز قرار دیا۔
    https://twitter.com/singer_zamir/status/1373042458863362048?s=20

  • جامعہ الدراسات الاسلامیہ تقریب تکمیل بخاری آج شام 7 بجے لائیو نشر کی جائے گی

    جامعہ الدراسات الاسلامیہ تقریب تکمیل بخاری آج شام 7 بجے لائیو نشر کی جائے گی

    جامعہ الدراسات الاسلامیہ کراچی میں تقریب تکمیل بخاری براہ راست نشر کی جائے گی-

    باغی ٹی وی : تقریب تکمیل بخاری دیئے گئے لنکس پر 7 بجے لائیو نشر کی جائے گی ان شاء اللہ گورنر سندھ عمران اسماعیل اس تقریب کے مہمان خصوصی ہونگے.

    جبکہ اس تقریب کے حوالے سے ٹویٹر ایکٹیوٹی 7 بجے شروع ہو گی.

    واضح رہے کہ گلشن اقبال کراچی میں وفاق المدارس سلفیہ سے الحاق شدہ جامعہ الدراسات الاسلامیہ اہل حدیث مکتب فکر کی سب سے بڑی دینی علوم کی درسگاہ ہے یہ یونیورسٹی روڈ پر سفاری پارک کے سامنے واقع ہے۔

    جامعہ الدراسات الا سلامیہ گزشتہ پینتیس سال سے شعبہ درس نظامی شعبہ حفظ اور شعبہ لغت العربیہ اور طالبات کے لیے دوسالہ فہم دین کورس کروا رہا ہے۔

    جامعہ میں طلباءکو دینی تعلیم کے ساتھ ایم اے تک عصری تعلیم کے مواقع، کمپیوٹر کورس، فن تحریر وتقریرکے کورس بھی کروائے جاتے ہیں جامعہ کے زیر اہتمام کراچی میں قائم 31 سے زائد طلباءوطالبات کے مدارس ہیں۔

  • فائیو جی ٹیکنالوجی کے انسانی صحت کےلیے نقصان دہ ہونے کے دعوے بے بنیاد ہیں   تحقیق

    فائیو جی ٹیکنالوجی کے انسانی صحت کےلیے نقصان دہ ہونے کے دعوے بے بنیاد ہیں تحقیق

    ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل کمیونی کیشن کی جدید ٹیکنالوجی ’فائیو جی‘ انسانی صحت کےلیے بالکل محفوظ ہے۔

    باغی ٹی وی :’جرنل آف ایکسپوژر سائنس اینڈ اینوائرونمنٹل ایپی ڈیمیولوجی‘ کے تازہ شمارہ جات کے مقالہ جات نمبر 1، نمبر 2 کے مطابق اب تک کی سب سے بڑی اس سائنسی تحقیق میں دو الگ الگ جائزے لیے گئے جن میں 6 گیگاہرٹز یا اس سے زیادہ فریکوئنسی والی ریڈیو لہروں (ملی میٹر ویوز) کی کم مقدار سے انسانی صحت کےلیے ممکنہ خطرات کے حوالے سے 138 سابقہ مطالعات اور 100 سے زائد تجربات کا نئے سرے سے تجزیہ کیا گیا۔

    جائزے کا کام ’آسٹریلین ریڈی ایشن پروٹیکشن اینڈ نیوکلیئر سیفٹی ایجنسی‘ (ARPANSA) اور سوئنبرن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں ماہرین کی ٹیموں نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ مطالعہ اب تک فائیو جی ٹیکنالوجی اور انسانی صحت میں تعلق کے حوالے سے کیا گیا سب سے بڑا مطالعہ ہے لیکن اس ضمن میں تحقیق کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    6 گیگا ہرٹز یا اس سے زیادہ فریکوئنسی والی ریڈیو لہروں کے خلوی تقسیم، خلیوں میں جینیاتی تبدیلیوں، خلیوں کے مابین پیغامات کے تبادلے اور خلوی جھلی کی کارکردگی پر پڑنے والے اثرات کے علاوہ ایسے ہی دوسرے کئی پہلوؤں پر کی گئی سائنسی تحقیقات کا محتاط تجزیہ کرنے کے بعد ماہرین کو ’ایسی کوئی مصدقہ شہادت نہیں ملی جو یہ ثابت کرتی ہو کہ فائیو جی نیٹ ورک میں استعمال ہونے والی ریڈیو لہریں انسانی صحت کےلیے خطرناک ہیں۔

    واضح رہے کہ فائیو جی (5G) ٹیکنالوجی کو موبائل کمیونیکیشن کی ’اگلی نسل‘ بھی کہا جاتا ہے جس میں 28 گیگاہرٹز سے 39 گیگاہرٹز فریکوئنسی تک کی ریڈیو لہریں استعمال کی جاتی ہیں ان میں سے چند سائنسی تحقیقات ایسی ضرور تھیں جن میں فائیو جی فریکوئنسی کے انسانی صحت کےلیے نقصان دہ ہونے کے دعوے کیے گئے تھے لیکن اوّل تو ان میں کئی طرح کی خامیاں تھیں اور دوسرے یہ کہ ان میں حاصل شدہ نتائج کی کسی بھی دوسرے معتبر ذریعے سے تصدیق نہیں ہوئی۔

  • کوک اسٹوڈیو کا یوم پاکستان کے حوالے سے گانا ریلیز

    کوک اسٹوڈیو کا یوم پاکستان کے حوالے سے گانا ریلیز

    کوک اسٹوڈیو نے یوم پاکستان 23 مارچ کی مناسبت سے حب الوطنی سئے بھر پور نیا گانا ریلیز کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی :’آو عہد کریں ‘ کے عنوان سے جاری کوک اسٹوڈیو کے پانچ منٹ دو سیکنڈ پر مبنی اس خصوصی ترانے کو صرف20 گھنٹؤں میں 1 لاکھ 30 ہزار سے زائد مرتبہ دیکھا جاچکا ہے۔

    اس میوزک ویڈیو میں پاکستان کی متنوع ثقافت، روایات اور تاریخی مقامات کو بھی دکھایا گیا ہے علاوہ ازیں اس ویڈیو میں پہاڑوں سے لے کر سمندر تک، مغل تاریخی ورثے، ساحل سمندر پر غروبِ آفتاب کے حسین منظر اور مینار پاکستان سمیت کئی خوبصورت مناظر دکھائے گئے۔


    اس گانے میں ینگ اسٹنرز، سعادت شفقت امانت علی، زاور علی، علی حمزہ، نمرہ رفیق، مہک علی، عدنان دھول، ہارون شاہد نے اپنی آواز کا جادو جگایا ہے علاوہ ازیں سرتال اکیڈمی، نبیحہ سلیم، سعد احمد، زہاب حسین، ردا بتول، فروا بتول، شموں بائی، کاشف دن اور وشنو ساگر بھی اس گانے کا حصہ ہیں۔

    پاکستان ڈے کی مناسبت سے ریلیز کیا گیا کوک اسٹوڈیو کا خصوصی گانا علی حمزہ نے پروڈیوس کیا ہے اس خصوصی ٹریک میں ‘وطن کی مٹی’ ، ‘اپنی قوت اپنی جان جاگ رہا ہے پاکستان’، ‘اتنے بڑے جیون ساگر میں’، ‘اللہ اکبر ‘ اور ‘میرا انعام پاکستان، میرا پیغام پاکستان’ کے نغمے شامل ہیں۔

    کوک اسٹوڈیو کے اس ٹریک کو موسیقی کے شائقین کی جانب سے بہت زیادہ پسند کیا جارہا ہے۔

  • خلائی کاٹھ کباڑ کو تلف کرنے والا مقناطیسی بردار سیٹلائٹ

    خلائی کاٹھ کباڑ کو تلف کرنے والا مقناطیسی بردار سیٹلائٹ

    گزشتہ 70 برس سے خلا میں جانے والے راکٹ، ناکارہ سیٹلائٹ اور دیگرخلائی حادثات سے جو خلائی کاٹھ کباڑ جمع ہوچکا ہے اسے تلف کرنے کے لیے جاپان نے ایک سیٹلائٹ بنایا ہے جو 20 مارچ کو یعنی آج خلا میں بھیجا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ایسٹرواسکیل کمپنی کے سیٹلائٹ کا نام ’ اینڈ آف لائف سروسز(ایلسا ڈی)‘ رکھا گیا ہے حقیقت میں یہ سیٹلایٹ دو حصوں میں تقسیم ہے یعنی ایک چھوٹا سیٹلائٹ ہے اور ایک بڑا سیٹلائٹ جسے ’چیزر‘ کہا گیا ہے۔

    چھوٹے سیٹلائٹ میں ایک مقناطیسی پلیٹ لگی ہے جس کے ذریعے وہ بڑے سیٹلائٹ سے الگ ہوسکتا ہے اور جڑ سکتا ہے لیکن پہلے سیٹلائٹ جوڑے کو کئی ٹیسٹ سے گزارا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق پہلے مدار میں رہتے ہوئے چھوٹا سیٹلائٹ الگ ہوگا اور بڑا سیٹلائٹ اسے دوبارہ پکڑے گا۔ دوسرے ٹیسٹ میں بڑا سیٹلائٹ چھوٹے کو راہ سے دور ہٹائے گا اور اس کی حرکت کو نوٹ کرتے ہوئے اس کا پیچھا کرکے اسے دوبارہ جوڑے گا۔ ان دونوں کی کامیابی کی صورت میں اب چھوٹا سیٹلائٹ کئی سو میٹر دور جائے گا اور بڑا سیٹلائٹ اسے تلاش کرکے اس سے دوبارہ جڑے گا۔ یہ سارے ٹیسٹ کسی بھی قسم کی انسانی مداخلت کے بغیرخود کار انداز میں ہوں گے۔

    ایسٹرواسکیل کمپنی کے مطابق اس سے قبل ایسا خلائی تجربہ نہیں کیا گیا ہے تجربے کے خاتمے پر دونوں سیٹلائٹ زمین کا رخ کریں گے۔ خلا سے فضا میں پہنچیں گے اور اس کی رگڑ اور حدت سے جل کر راکھ ہوجائیں گے۔

    فوٹو بشکریہ ایکسپریس
    اگلے مرحلے میں یہی سیٹلائٹ خلا میں بھیجا جائے گا اور اپنے تجربات کی روشنی میں ناکارہ سیٹلائٹ یا خلائی کوڑے کے بڑے ٹکڑے کو چپکا کر بڑے سیٹلائٹ تک دھکیلے گا۔ اس طرح ایک وقت میں ایک ناکارہ سیٹلائٹ کو مدار سے نکال کر زمین پر دھکیلا جائے گا۔ اگرچہ یہ محنت طلب اور صبرآزما کام ہے لیکن خلائی کچرے کو صاف کرنے کا اس سے بہتر کوئی اور راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔

    پھر بعض ممالک خود چاہتے ہیں کہ ان کا ناکارہ یا مدت پوری کرنے والا سیٹلائٹ کسی طرح مدار بدر کردیا جائے انہی ممالک کے اخراجات سے یہ کمپنی آگے کام کرے گی اور خلائی کچرے کو ٹھکانے لگائے گی۔

    واضح رہے کہ مدار میں گردش کرتا ہوا کوڑا کرکٹ نہ صرف مزید خلائی مشن کے لیے ایک رکاوٹ بن چکا ہے بلکہ اس کی زد میں آنے والا خلائی اسٹیشن بھی کسی حادثے کا شکار ہوسکتا ہے۔ خلائی کچرے کے لاکھوں کروڑوں ٹکڑے مدار میں بہت تیزی سے سفر کرتے ہیں اور وہ باہر موجود خلانورد کو بھی نقصان پہنچاسکتے ہیں۔