Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • بھارت میں نپاہ وائرس سے ایک اور موت

    بھارت میں نپاہ وائرس سے ایک اور موت

    کیرالہ: بھارتی ریاست کیرالہ میں نپاہ وائرس سے ایک اور مریض جان بحق ہو گیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق کیرالہ میں 24 سالہ طالب علم نپاہ وائرس سے متاثر ہوا تھا جو بعد ازاں دم توڑ گیا،نپاہ وائرس کا پھیلاؤ روکنےکے لیے متاثرہ فرد سے ملنےوالے 151 افراد زیرنگرانی ہیں جن میں طالب علم کے رشتہ دار اور قریبی دوست شامل ہیں،نپاہ وائرس انسانوں میں مہلک اور دماغی سوجن والے بخار کا سبب بن سکتا ہے جب کہ کیرالہ میں رواں سال نپاہ وائرس سے 2 اموات ہوچکی ہیں۔

    ریاست کے وزیر صحت وینا جارج نے اتوار کے روز کیس کی تصدیق کی، طالب علم کا تعلق بنگلورو کے آچاریہ کالج سے تھا، 24 سالہ ایم ایس سی طالب علم کی موت 9 ستمبر کو ایک پرائیویٹ اسپتال میں ہوئی تھی، شک کے بنا پر ڈاکٹروں نے نپاہ وائرس کے لیے ٹیسٹ کرایا تو وہ مثبت نکل آیا۔

    حکام کا کہنا تھا کہ ترووالی پنچایت میں ماسک پہننے سمیت سخت نپاہ پروٹوکول پابندیاں عائد کی گئی ہیں، بخار سے متاثرہ افراد سے متعلق ڈور ٹو ڈور ڈیٹا اکٹھا کرنے کا کام جاری ہے۔

    واضح رہے کہ 2018 کے بعد سے ریاست کیرالہ میں نپاہ وائرس کی یہ چھٹی وبا ہے، اس کی وجہ سے ریاست میں گزشتہ چھ سالوں میں 22 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔

    نپاہ وائرس کیا ہے؟
    نپاہ وائرس (NiV) ایک زونوٹک وائرس (جانوروں سے انسان) ہے جو آلودہ یا براہ راست لوگوں کے درمیان کھانے کے ذریعے منتقل ہوسکتا ہے۔ NiV کا تعلق Paramyxoviridae خاندان میں Henipavirus کی نسل سے ہے۔ پھلوں کی چمگادڑیں، جنہیں عام طور پر اڑنے والی لومڑی کے نام سے جانا جاتا ہے، NiV کے قدرتی جانوروں کے میزبان ذخائر ہیں۔ نپاہ وائرس خنزیروں اور انسانوں کو بھی متاثر کرتا ہے یہ ساحلی علاقوں اور بحر ہند، ہندوستان، جنوب مشرقی ایشیا اور اوشیانا کے کئی جزیروں میں پایا جاتا ہے۔ یہ وائرس جنگلی اور گھریلو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے، اب تک صرف ایشیا میں پھیلنے کی اطلاع ملی ہے۔

    ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، کھانسی، گلے کی سوزش، سانس لینے میں دشواری، قے، انتہائی کمزوری اور پٹھوں میں درد شامل ہیں جب کہ شدید علامات میں الجھن، غنودگی یا بدحواسی، دورے، بے ہوشی، دماغ کی سوجن شامل ہیں40 سے 75 فی صد کیسز میں موت واقع ہو سکتی ہے، نپاہ وائرس کے انفیکشن سے بچ جانے والوں نے طویل مدتی ضمنی اثرات کی اطلاع دی ہے۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ پر  قاتلانہ حملے کی کوشش کرنے والاملزم گرفتار

    ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی کوشش کرنے والاملزم گرفتار

    واشنگٹن:سابق امریکی صدر اور ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر کل قاتلانہ حملے کی کوشش کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی کوشش کرنے والے مشتبہ شخص کو مارٹن کاؤنٹی سےگرفتارکیا گیا،فلوریڈا پولیس کے مطابق مشتبہ شخص گالف کورس میں فائرنگ کرنے کے بعد رائفل چھوڑ کر فرار ہوگیا تھا جسے بعد ازاں پولیس نے مارٹن کاؤنٹی سےگرفتارکیا جب کہ مبینہ حملہ آور فرار ہوتے ہوئے پیچھے دو بیگ، رائفل اور کیمرا چھوڑ گیا تھا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق گرفتار کیے جانے والے 58 سالہ حملہ آور کا نام ریان ویسلے روتھ ہے اور وہ ایک چھوٹی تعمیراتی کمپنی کا مالک ہے، ریان کا کوئی فوجی پس منظر نہیں مگر وہ ماضی میں اپنی سوشل میڈیا پوسٹوں میں یوکرین کی جنگ میں حصہ لینے کی خواہش کا اظہار کرچکا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ریان ویسلے نے 2023 میں نیو یارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے بتایا تھاوہ یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد وہاں گیا تھا تاکہ یوکرین کی طرف سے لڑنے کے لیے افغان فائٹرز کو بھرتی کرسکے اور یوکرین کو اس کے لیے اجازت دینے پر راضی کرے،2002 میں بھی مبینہ حملہ آور ریان نے خود آٹومیٹک ہتھیاروں سے لیس کرکے ایک عمارت میں بند کرلیا تھا۔

    دوسری جانب اپنے اوپر ہونے والے مبینہ حملے پر ردعمل دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میں محفوظ ہوں اور کبھی ہار نہیں مانوں گا۔

    ادھر ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اپنی ٹیم کو خصوصی ہدایات دی ہیں ایک بیان میں جوبائیڈن نے سابق صدرکی حفاظت یقینی بنانے پرسیکرٹ سروس کی تعریف کی اور کہا کہ امریکا میں کسی قسم کےسیاسی تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے ٹرمپ پرحملےکے الزام میں ایک مشتبہ شخص حراست میں ہے، ٹرمپ کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اپنی ٹیم کو خصوصی ہدایات دی ہیں۔

    واضح رہے کہ اتوار کو فلوریڈا میں ویسٹ پام بیچ میں واقع ٹرمپ گالف کلب کے قریب فائرنگ ہوئی جہاں سابق صدر اور امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت گالف کھیل رہے تھےڈونلڈ ٹرمپ فائرنگ سے محفوظ رہے جب کہ امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے واقعہ کو ٹرمپ کے قتل کی کوشش قرار دے دیا۔

    سابق امریکی صدر ٹرمپ پر جولائی میں بھی انتخابی ریلی کے دوران فائرنگ کی گئی تھی جس سے وہ زخمی ہوئے تھے جب کہ سکیورٹی اہلکاروں نے حملہ آور کو ہلاک کردیا تھا۔

  • کراچی:12 ربیع الاول کے جلوسوں کے باعث  ٹریفک پلان جاری

    کراچی:12 ربیع الاول کے جلوسوں کے باعث ٹریفک پلان جاری

    کراچی: شہر قائد میں منگل کو 12 ربیع الاول کے جلوسوں کے باعث ٹریفک پلان جاری کر دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : ٹریفک پولیس کے مطابق ایم اے جناح روڈ اور اطراف کی گلیاں بند ہوں گی،گرو مندر سے ایم اے جناح روڈ آنے والی ٹریفک کو سینٹرل جیل کی جانب موڑا جائے گاایم آرکیانی چوک سے ٹریفک کوکورٹ روڈ چورنگی موڑا جائے گا اورایمپریس مارکیٹ سے ٹریفک کو زیب النساء اسٹریٹ موڑاجائےگاشارع لیاقت آنے والے ٹریفک کو آرام باغ لائٹ سگنل سے شاہین کمپلیکس موڑا جائےگا،یونیورسٹی روڈ سے آنے والے ٹریفک کو جیل فلائی اوور سے کشمیر روڈ بھیجاجائےگا جب کہ پیپلز چورنگی آنے والے ٹریفک کو شارع قائدین یاکوریڈور 3 سے صدر کی جانب موڑا جائے گا

  • اے این ایف  کی مختلف کارروائیاں،کروڑوں روپے کی منشیات برآمد

    اے این ایف کی مختلف کارروائیاں،کروڑوں روپے کی منشیات برآمد

    راولپنڈی: اے این ایف کی مختلف کارروائیاں ، 8 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی 437 کلو گرام منشیات برآمد کرکے 9 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    باغی ٹی وی : ترجمان اے این ایف کے مطابق ایم ون ٹول پلازہ اسلام آباد کے قریب گاڑی سے 6 کلو گرام چرس برآمد کرکے ملزم کو گرفتار کیا گیا موٹروے اسلام آباد کے قریب ملزم سے 3.6 کلو گرام چرس برآمد ہوئی، جبکہ کالابٹ ٹاؤن بائی پاس ہری پور میں ملزم سے 3.6 کلو گرام چرس برآمد کی گئی،گرفتار ملزمان نے تعلیمی اداروں کے طلباء کو منشیات فروخت کرنے کا اعتراف بھی کیا،چکلالہ گیریژن راولپنڈی میں آئی ایم او آفس میں اونٹاریو سے بھیجے گئے پارسل سے 64 گرام ویڈ برآمد کی گئی،رنگ روڈ پشاور کے قریب ٹرک سے 58.8 کلو گرام چرس برآمد کرکے ملزم کو گرفتار کیا گیا۔

    ترجمان کے مطابق رنگ روڈ لاہور پر گاڑی سے 141.6 کلو گرام چرس اور 16.8 کلو گرام افیون برآمد کرکے ملزم کو گرفتار کیا گیا ،پھلاں والا چوک شاہدرہ لاہور میں ملزم سے 30 کلو گرام افیون برآمد ہوئی، فیض پور انٹرچینج لاہور کے قریب 27.6 کلو گرام چرس برآمد کرکے ملزم کو گرفتار کیا گیا۔ لاہور ایئر پورٹ پر کارگو کمپلیکس سے سعودی عرب بھیجے جانے والے دو کارٹن سے کپڑوں میں جذب 21.5 کلو گرام آئس برآمد کی گئی۔

    ترجمان اے این ایف کے مطابق شمالی بائی پاس گڈاپ ٹاؤن کراچی میں گاڑی سے 126 کلو گرام چرس برآمد کرکے ملزم گرفتار کر لیا گیا۔ کراچی ایئرپورٹ پر بحرین جانے والے مسافر سے 1.2 کلو گرام آئس برآمد کی گئی،ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

  • مولانا  نے آئینی ترمیم کے مسودے کا پہلا راؤنڈ جیت لیا ہے، شیخ رشید

    مولانا نے آئینی ترمیم کے مسودے کا پہلا راؤنڈ جیت لیا ہے، شیخ رشید

    اسلام آباد:عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو آئینی ترمیم کے مسودے کا پہلا راؤنڈ جیت لیا ہے-

    باغی ٹی وی : سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے آئینی ترمیم کے مسودے کا پہلا راوئنڈ جیت لیا ہے، مولانا فضل الرحمان نے سب کو گھر کا راستہ دکھایا ہے، مفتی محمود مرحوم نے بھی ذوالفقار علی بھٹو کو شکست دی تھی، ووٹ کو عزت دینے والوں نے ووٹ کو ٹکے ٹوکری بنا دیا ہے، ووٹ کا جمعہ بازار بنا ہوا ہے، یہ 25 کروڑ عوام کو کیسے اعتماد میں لیں گےکسی کے پاس آئینی مسودے کی کاپی نہیں ہے، جمہوریت پر جب بھی شب خون مارا گیا رات کے اوقات میں مارا گیا، امید ہے کہ 30 ستمبر تک جمہوریت کی سیاست کا اتار چڑھاؤ فیصلہ کن ہو جائے گا۔

  • میں لوٹا تو میرے آگے وہی منظر پرانا تھا

    میں لوٹا تو میرے آگے وہی منظر پرانا تھا

    میں لوٹا تو میرے آگے وہی منظر پرانا تھا !!!!!!
    کئی چہروں سے ملنا تھا کئی قبروں پہ جانا تھا

    ڈاکٹر اجمل نیازی

    یوم ولادت : 16 ستمبر 1946
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ڈاکٹر اجمل نیازی 16ستمبر 1946ء کو موسی خیل (ضلع میانوالی) میں پیدا ہوئے، گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی لاہور میں طالبعلمی کے دوران راوی اور محور کی ادارت کی، مختلف مجالس سے وابستگی رہی، گارڈن کالج راولپنڈی اور گورنمنٹ کالج میانوالی میں لیکچرار رہے، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور اور ایف سی کالج میں تعینات رہے، روزنامہ نوائے وقت میں بے نیازیاں کے عنوان سے کالم لکھتے رہے ہیں، 45 سال صحافتی و ادبی خدمات انجام دیں۔

    ڈاکٹر اجمل نیازی 75 سال 1 ماہ کی عمر میں طویل علالت کے بعد 18 اکتوبر 2021ء کی رات 2 بجے لاہور میں اِنتقال کرگئے،ڈاکٹر صاحب ایک کہنہ مشق استاد ،ماہر تعلیم، صحافی اور بلند پایہ شاعر تھے .آپ کی تصانیف "”مندر میں محراب”” (1991ء، سفرنامہ بھارت)، "”جل تھل”” (1980ء، تذکرہ شعرائے میانوالی )، "”محمد الدین فوق”” (1987ء، کتابیات)، "”بے نیازیاں”” (کالمز کا مجموعہ)، "”مجموعہ مقالات”” (سونح حمید نظامی) ہمیشہ آپ کو زندہ رکھیں گی.

  • قومی اسمبلی میں مجوزہ آئینی ترامیم کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں

    قومی اسمبلی میں مجوزہ آئینی ترامیم کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں

    قومی اسمبلی میں مجوزہ آئینی ترامیم کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں، مجوزہ آئینی ترمیمی بل کا مسودہ سامنے آگیا، جس میں مجموعی طور پر 54 تجاویز شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی: اتوار کو قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے کے بعد مختصر ترین کارروائی کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا جو آج دوبارہ ہوگا، قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل وفاقی کابینہ سے آئینی ترامیم کی منظوری لی جائے گی۔

    نجی خبررساں ادارے "آج نیوز” کے مطابق مجوزہ آئینی ترمیمی بل کا مسودہ سامنے آگیا، جس میں 54 تجاویز شامل ہیں جبکہ قومی اسمبلی میں مجوزہ آئینی ترامیم کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں،مجوزہ ترمیمی بل میں آرٹیکل 63 اے میں ترمیم کی تجویز شامل ہے، آرٹیکل 63 اے میں پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کے خلاف جانے پر ووٹ شمار کرنے کی ترمیم کی تجویز بھی ہے۔

    آرٹیکل 17 میں ترمیم کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت کی تجویز اور آرٹیکل 175 اے کے تحت ججز کی تقرری کے طریقہ کار میں بھی ترمیم کی تجویز شامل ہے، وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے لیے نام قومی اسمبلی کی کمیٹی وزیراعظم کو دے گی۔

    دستاویز کے مطابق قومی اسمبلی کی کمیٹی3 سینئر ترین ججز میں سے چیف جسٹس کا انتخاب کرے گی، ججز کی تقرری کے لیے قومی اسمبلی کی کمیٹی 8 ارکان پر مشتمل ہو گی، کمیٹی ارکان کا انتخاب اسپیکر قومی اسمبلی تمام پارلیمانی پارٹی کے تناسب سے کریں گے، کمیٹی چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے 7 روز قبل سفارشات وزیراعظم کو دے گی۔

    مجوزہ آئینی ترمیمی بل کے مسودے کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے جج کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال ہو گی، سپریم کورٹ کا جج وفاقی آئینی عدالت میں 3 سال کے لیے جج تعینات ہو گا بل میں ہائیکورٹس سے سو موٹو لینے کا اختیار واپس لینے اور ہائیکورٹ ججز کی ایک ہائیکورٹ سے دوسری ہائیکورٹ میں تبادلے کی تجویز بھی شامل ہے۔

    دوسری جانب حکومت قومی اسمبلی اور سینیٹ سے عدلیہ سے متعلق آئینی ترمیمی بل منظور کرانے جا رہی ہے، مجوزہ آئینی ترمیم میں 20 سے زائد شقیں شامل کی گئی ہیں۔

  • انتخابات سے قبل کشمیر میں حریت  پسندوں کے حملوں کی نئی لہر  ،بھارتی افواج حیران

    انتخابات سے قبل کشمیر میں حریت پسندوں کے حملوں کی نئی لہر ،بھارتی افواج حیران

    ہائی ٹیک اور اسٹریٹجک: انتخابات سے قبل کشمیر میں حریت پسندوں کے حملوں کی نئی لہر نے بھارتی افواج کو حیران کر دیا۔

    باغی ٹی وی : "دی گارڈین” کے مطابق ⁠انٹرنیشنل میڈیا نے بھارتی افواج اور حکومت کا بیانیہ اڑا کے رکھ دیا ⁠ایلس پیٹرسن نے گارڈین میں لکھا کہ حریت پسندوں نے بھارتی فوجیوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں۔

    ⁠گارڈین میں شائع ہونے والے آرٹیکل کے مطابق حریت پسند پہلے سے کہیں زیادہ پُر عزم ہیں جبکہ بھارتی سکیورٹی فورسز کا مورال پست ترین سطح پر ہے،کشمیری مجاہدین جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں ⁠ہندوستانی افواج کشمیری مجاہدین کی گوریلا جنگی حکمت عملیوں سے حیران ہو گئی ہیں جس میں عسکریت پسند اپنے اہداف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بناتے ہیں اور ناہموار پہاڑی علاقے میں غائب ہو جاتے ہیں۔

    دی گارڈین کے مطابق ⁠کشمیری مجاہدین اب بہت بہتر تربیت یافتہ ہیں اور جنگی ساز و سامان کی ترسیل کے لئے وادی کے اندر ڈرونز کا استعمال کرتے ہیں مجاہدین باڈی کیمروں کا استعمال کرتے ہوئے گھات لگانے کی فلم بناتے ہیں ہندوستانی فوجی حکام ان عسکریت پسندوں کے بارے میں انٹیلی جنس جمع کرنے میں دشواری کا اعتراف کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہےنئے علاقوں میں گھات لگا کر حملے ہو رہے ہیں، جیسے کہ ہندو اکثریتی صوبہ جموں، جہاں پہلے حملے بہت کم ہوتے تھے۔

    دی گارڈین کے مطابق ⁠عسکریت پسندوں نے فوجیوں پر حملہ کرنے، غائب ہونے اور پھر دوسری جگہ حملہ کرنے کے لیے دوبارہ ابھرنے کے نئے حربے اپنائے ہیں ⁠حریت پسند جدوجہد پر قابو پانے کے لیے ہندوستانی سیکورٹی فورسز کی سر توڑ کوششیں دہلی سرکار کے ان دعوؤں کی تردید کرتی ہے جنکے مطابق کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد علاقے میں زندگی معمول پر آ گئی ہے۔

    – ⁠گارڈین میں شائع ہونے والے آرٹیکل کے مطابق حریت پسند پہلے سے کہیں زیادہ پُر عزم ہیں جبکہ بھارتی سکیورٹی فورسز کا مورال پست ترین سطح پر عسکریت پسندوں کے پاس جدید ترین ہتھیار ہیں اور وہ بہتر تربیت یافتہ ہیں، اسی لیے ہم حکومت سے اضافی مدد مانگ رہے ہیں ⁠اس بار ہم زیادہ خوفزدہ ہیں۔ بھارتی افواج

  • ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے

    ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے

    تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے
    ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے

    شان الحق حقی

    شاعر ابن شاعر، ماہر لسانیات، محقق و مترجم

    15 ستمبر 1917: یوم ولادت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    60 سے زائد کتابوں کے مصنف ، ماہر لسانیات ، نقاد ، شاعر اور مترجم شان الحق حقی 15 ستمبر 1917 میں دہلی میں معروف شاعر اور مترجم مولانا احتشام الحق حقی المعروف ناداں دہلوی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ وہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی کے خانوادے کی تیرہویں پیڑھی سے تھے اور ڈپٹی نذیر احمد کے پڑ نواسے تھے۔ ان کے والد ایک عالم ، و شاعر اور مترجم تھے جنہوں نے دیوان حافظ شیرازی اور رباعیات عمر خیام کا فارسی زبان سے اردو زبان میں ترجمہ کیا۔ شان الحق حقی اڑھائی سال کی عمر کو پہنچے تو ان کی والدہ محترمہ کا انتقال ہو گیا چناں چہ انہیں ان کی پھوپھی کے پاس پشاور بھیج دیا گیا مڈل تک انہوں نے پشاور میں تعلیم حاصل کی جس کے بعد واپس دہلی لائے گئے ۔ دہلی اور علی گڑھ سے اعلی تعلیم حاصل کی ۔ لندن میں ذرائع ابلاغ کا کورس بھی مکمل کیا۔ قیام پاکستان کے فوری بعد اگست 1947 میں وہ اپنے خاندان کے ہمراہ دہلی سے کراچی منتقل ہو گئے ۔ وہ کراچی سے شائع ہونے والے ” ماہ نو” کے دو سال تک چیف ایڈیٹر رہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن ، فلمسازی اور یونائٹڈ اشتہارات کراچی کے ڈائریکٹر اور آرٹس کونسل کی مجلس انتظامیہ کے رکن و دیگر کئی سرکاری و غیر سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے سب سے اہم علمی کام آکسفرڈ ڈکشنری کا اردو زبان میں ترجمہ کیا جو کہ 22 جلدوں پر مشتمل ہے جس کی اب تک 25 لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں ۔ ان کی دیگر تصانیف میں ، انتخاب کلام ظفر، انجان راہی (امریکی ناول گار جیک شیفر کے ناول SHANE کا ترجمہ) تار پیرہن(منظومات) دل کی زبان، پھول کھلے ہیں ، نکتہ راز، افسانہ در افسانہ(خود نوشت / سوانح حیات ) حرف دل رس (غزلوں کا مجموعہ)، شاخسانے، نقد و نگارش، ، آئینہ افکار غالب، درپن درپن(مختلف زبانوں کی شاعری کا ترجمہ)، لسانی مسائل و لطائف ، نوک جھونک ،سہانے ترانے، حافظ ایک مطالعہ، لسان الغیب، تیسری دنیا، صور اسرافیل(بنگالی شاعر قاضی نذرالسلام کی نظموں کا ترجمہ) ن، نوائے ساز شکن (ان کی شاعری کا آخری مجموعہ) و دیگر کتب شامل ہیں ۔ وہ اردو، عربی، فارسی، انگریزی ، ہندی ، سنسکرت ، ترکی اور فرانسیسی زبان پر عبور رکھتے تھے ۔
    حکومت پاکستان کی جانب سے شان الحق حقی صاحب کو ان کی اعلی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز اور قائد اعظم ایوارڈ ایوارڈ دیا گیا جبکہ اسلام آباد میں ایک سڑک ” شان الحق حقی روڈ” کے نام سے منسوب کیا گیا ۔ 11 اکتوبر 2005 میں کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے ایک ہسپتال میں داخل پھیپڑوں کے سرطان کے دوران علاج ان کا انتقال ہوا اس موقع پر ان کی اہلیہ سلمی Salma اور بیٹا شایان حقی وہاں پر موجود تھے ۔

    نمونہ کلام (جسے ناہید اختر نے خوب صورت آواز میں گایا ہے)
    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے
    ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے

    دل کے ماروں کا نہ کر غم کہ یہ اندوہ نصیب
    زخم بھی دل میں نہ ہوتا تو کراہے جاتے

    کم نگاہی کی ہمیں خود بھی کہاں تھی توفیق
    کم نگاہی کے لئے عذر نہ چاہے جاتے

    کاش اے ابر بہاری ترے بہکے سے قدم
    میری امید کے صحرا میں بھی گاہے جاتے

    ہم بھی کیوں دہر کی رفتار سے ہوتے پامال
    ہم بھی ہر لغزش مستی کو سراہے جاتے

    لذت درد سے آسودہ کہاں دل والے
    ہیں فقط درد کی حسرت میں کراہے جاتے

    ہے ترے فتنۂ رفتار کا شہرا کیا کیا
    گرچہ دیکھا نہ کسی نے سر راہے جاتے

    دی نہ مہلت ہمیں ہستی نے وفا کی ورنہ
    اور کچھ دن غم ہستی سے نباہے جاتے

    شان الحق حقی

  • دنیائے عرب کی پہلی خاتون وکیل،مفیدہ عبدالرحمٰن

    دنیائے عرب کی پہلی خاتون وکیل،مفیدہ عبدالرحمٰن

    مفیدہ عبدالرحمٰن

    دنیائے عرب کی پہلی خاتون وکیل

    یوم وفات 15 ستمبر 2002
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔,۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مصر سے تعلق رکھنے والی عورت مفیدہ عبدالرحمن کو دنیائے عرب کی پہلی خاتون وکیل ہونے کا منفرد اور تاریخی اعزاز حاصل ہے ۔ مفیدہ 20 جنوری 1914 کو مصر میں ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئیں۔ 1939 میں 34 برس کی عمر میں انہوں نے فواد لاء کالج قاہرہ سے قانون کا امتحان پاس کیا۔ وہ عرب دنیا کی پہلی خاتون وکیل کی حیثیت سے عدالت میں پیش ہوئیں اور انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہوا ہے کہ انہوں نے عدالت میں اپنا پہلا مقدمہ ہی جیت لیا۔ انہوں نے ہمیشہ اور ہر موڑ پر خواتین کے حقوق کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا وہ 17 سال مسلسل مصری پارلیمینٹ کی رکن رہیں جبکہ خواتین کے حقوق کیلئے تنظیم ” دختر نیل کی بھی فعال رکن رہیں ۔ 15 ستمبر 2002 میں ان کی وفات ہوئی