Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • حکومت نے مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور کردئیے

    حکومت نے مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور کردئیے

    اسلام آباد: قومی اسمبلی اور سینیٹ سے آج ہی آئینی ترمیمی بل منظور کرانے کا فیصلہ ہوگیا ہے-

    باغی ٹی وی :ذرائع کے مطابق حکومت نے مولانا فضل الرحمان کی حمایت حاصل کرلی اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے تحفظات دور کردیے جبکہ پارلیمان کی خصوصی کمیٹی، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں کے وقت تبدیل کردیے گئے، وفاقی کابینہ کا اجلاس کچھ دیر میں شروع ہوگا، آئینی بل کے مسودے کی منظوری دی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان آئینی ترمیم سے متعلق حکومت کا ساتھ دیں گے، آئینی ترمیم ایک جامع پیکج ہے جس میں آئینی عدالت بنائی جائے گی، آئینی عدالت کے لیے ججز کی تقرری کا بھی طریقہ کار وضع کیا جا رہا ہے آئینی عدالت کے لیے نئے سرے سے ججز کی تقرری ہو گی، آئینی عدالت بنانے کا مقصد عام سائلین کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان بلاول بھٹوزرداری نے ثالث کا کردار ادا کیا، گزشتہ رات ہونے والی ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان نے اختلافی معاملات کو سلجھایا جس کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آئینی ترمیم آج پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حکومت کے نمبر پورے ہیں، منحرف ارکان کے ووٹ سے متعلق بھی ترامیم کی جا رہی ہیں جبکہ آئین کے آرٹیکل 63 اے میں ترمیم کے لیے بھی مسودہ تیار ہے حکومتی ذرائع نے سینیٹ میں بھی آئینی ترامیم کے لیے نمبر گیم مکمل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اس سے قبل مسلم لیگ ن کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی طارق فضل چوہدری نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ آئینی ترمیم کے لیے حکومت کے نمبر پورے ہیں۔

    دوسری جانب حکومت اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے درمیان معاملات طے نہ پاسکے، حکومت کی جانب سے آئینی ترمیم سے متعلق آج بل پیش نہ کیے جانے کا بھی امکان ہے پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس سید خورشید شاہ نے طلب کرلیا، سید خورشید شاہ کی زیر صدارت خصوصی کمیٹی کا اجلاس 2 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا-

  • نام نہاد اسمبلیاں مزید بحران کا شکار بھی ہو سکتی ہیں،شیخ رشید

    نام نہاد اسمبلیاں مزید بحران کا شکار بھی ہو سکتی ہیں،شیخ رشید

    ‏ شیخ رشید نےکہا ہے کہ تمام آئینی ادارے سپریم کورٹ کے حکم کے ماتحت ہیں، اور الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے فیصلوں کا پابند ہے۔

    باغی ٹی وی : عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان جاری کیا ہے شیخ رشید نے لکھا کہ تمام آئینی ادارے سپریم کورٹ کے حکم کے ماتحت ہیں، اور الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے فیصلوں کا پابند ہے، آئین کی واضع تشریح کا اختیار بھی سپریم کورٹ کے پاس موجود ہے۔

    عوام مسلم لیگ کے سربراہ نے ایکس بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ کی 63A کی واضع تشریح نے حکومت کی خواہشوں پر پانی پھیر دیا جبکہ حکومت کی منصوبہ بندی بھی دھری کی دھری رہ گئی ہے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حکومت خود اپنے ہی پھندے میں پھنسنے جارہی ہے، اگر سپریم کورٹ نے یہ کہہ دیا کہ الیکشن کمیشن شفاف الیکشن کرانے میں ناکام رہا تو پھر مزید پچیدگیاں پیدا ہو جائیں گی۔

    شیخ رشید احمد نے پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ 30 ستمبر تک سیاست میں شدید قسم کا اتار یا چڑھاؤ آ سکتا ہے، جمہوریت تماشہ بھی بن سکتی ہےنام نہاد اسمبلیاں مزید بحران کا شکار بھی ہو سکتی ہیں۔

  • اسحاق ڈار  کی  بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی

    اسحاق ڈار کی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی

    اسلام آباد: ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی جس میں موجودہ سیاسی صورتحال اور مجوزہ آئینی ترامیم سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    باغی ٹی وی: ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ان کے چیمبر میں ملاقات کی، اعظم نذیر تارڑ اور اسحاق ڈار اسپیکر چیمبر میں مشاورت کے بعد بلاول بھٹو کے پاس پہنچے، ملاقات میں خورشید شاہ اور نوید قمر بھی موجود تھے، بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان سے گزشتہ رات ہونے والی ملاقات پر اتحادی رہنماؤں کو اعتماد میں لیا،اسحاق ڈار اور بلاول بھٹو زرداری کی آئینی ترمیم کے مسودے پراتفاق رائے اور قومی اسمبلی و سینیٹ میں نمبر گیم پر مشاورت جاری ہے۔

  • میں سمجھتا ہوں مولانا نے اصولی مؤقف لیا ہے،بیرسٹر گوہر

    میں سمجھتا ہوں مولانا نے اصولی مؤقف لیا ہے،بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں مولانا نے اصولی مؤقف لیا ہے-

    باغی ٹی وی: پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں مولانا نے اصولی مؤقف لیا ہے اور وہ اس پر قائم ہیں، یہ بہت اہم قانون سازی ہے، جسے اپنے بجائے قوم اور ملک کے لیے کرنا ہے، پہلے ہم اسے دیکھیں تو سہی، پہلے ڈرافٹ پڑھیں تو سہی۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ججز کی ایکسٹینشن نہیں ہونی چاہیئے، عمریں نہیں بڑھنی چاہئیں، سپریم کورٹ کو آپ ٹچ نہ کریں ہم سمجھتے ہیں عدلیہ پر قدغن لگے گی، عدلیہ کمپرومائز ہو جائے گی، جج کو اس کی رائے کے بغیر ٹرانسفر کرنا غیرآئینی ہے۔

    اس موقع پر صحافی نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے سوال کیا کہ کیا آپ نے اپنے اراکین کو ووٹ نہ دینے کی ہدایات جاری کی ہیں، جس پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 2 ستمبر کو ہم نے اپنے تمام ارکان پارلیمنٹ کو ہدایات جاری کر دی تھیں، ہم نے اپنی ہدایات کی کاپی کی مکمل فائل اسپیکر آفس میں بھی جمع کرائی ہے۔

  • ترکمانستان اور پاکستان  کے درمیان معاہدے پر دستخط کا امکان

    ترکمانستان اور پاکستان کے درمیان معاہدے پر دستخط کا امکان

    ترکمانستان چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت گوادر بندرگاہ تک رسائی حاصل کرنے والا پہلا وسطی ایشیائی ملک بننے جا رہا ہے عنقریب ترکمانستان اور پاکستان اسی سلسلے میں ایک معاہدے پر دستخط بھی کرنے والے ہیں۔

    باغی ٹی وی: پاک چین اقتصادری راہدری (سی پیک) پاکستانی معیشت میں بہت اہم کردار ادا کر رہی ہے جس کے تحت ترکمانستان اور گوادر پورٹ کی شراکت داری ہونے جا رہی ہے جس کے بعد ترکمانستان گوادر پورٹ تک رسائی حاصل کر سکے گا۔

    گوادر اور ترکمان باشی بندرگاہوں کے درمیان مفاہمت نامے پر جلد دستخط کیے جائیں گےپاکستان اور ترکمانستان پہلے ہی مختلف مشترکہ منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جن میں تاپی پائپ لائن، ریلوے ٹریک اور فائبر کنیکٹیویٹی شامل ہیں تاکہ دو خطوں یعنی جنوبی اور وسطی ایشیا کو ملایا جا سکے۔

    پاکستانی حکومت نے سی پیک کے تحت گوادر کی بندرگاہ اور ترکمان باشی کی بندرگاہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مسودے کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہےکابینہ کے اجلاس میں گوادر پورٹ سے پبلک سیکٹر کی 50 فیصد درآمدات کی منظوری پر غور کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔

    پاکستانی حکومت سی پیک کے مثبت ثمرات کے حصول کے لیے پوری طرح پرعزم ہے جس پر پاکستان کے تمام اداروں، سیاسی قوتوں اور بلوچستان کے باشعور عوام کے درمیان مکمل اتفاق رائے ہے،یہ پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے مستقبل کی کلید ی کردار ادا کرے گا، بلوچستان کے عوام پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب قازقستان کی کمپنی کے ساتھ کراچی میں سوا تین کروڑ روپے کا فراڈ سامنے آیا ہے کراچی میں جعلسازوں نے قازقستان کے تاجروں کو دھوکا دے کر کروڑوں روپے اینٹھ لیے، قازق تاجر میرس اور بخیت جان نے مرغیوں کی فیڈ خریدنے کے لیے پاکستانی کمپنی بگ ڈریگن سے رابطہ کیا،ان کے درمیان سودا 50 ہزار ڈالرز میں طے ہوا تو قازق تاجروں نے 50 فیصد ایڈوانس دے دیا۔

    ایک جگہ سے دھوکا کھا کر تاجروں نے کراچی میں میکن فوڈز نامی کمپنی سے رابطہ کیا جس کے مالک محمد عمیر نے ناظم آباد میں واقعے دفتر میں میٹنگ کی اور غیر ملکی تاجروں کو فیکٹری کا دورہ بھی کرایا، ڈیل 3 لاکھ 20 ہزار ڈالرز میں ہوئی اور ایڈوانس کے طور 90 ہزار ڈالرز بھی بینک کے ذریعے ادا کر دیے گئے لیکن بد قسمتی یہ کہ محمد عمیر کی کمپنی بھی فراڈ نکلی۔

    فراڈ کرنے والے پہلے ملزم کے خلاف مقدمہ درج ہوا جب کہ دوسرے ملزم کی شکایت پولیس کو درج کرائی گئی مگر کچھ حاصل نہیں ہوا، غیر ملکی تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی قانون انہیں سپورٹ کرے تو وہ ابھی بھی دو طرفہ تجارت کرنا چاہتے ہیں،جرائم پیشہ نیٹ ورک کا فراڈ کرنا اپنی جگہ لیکن اس حوالے سے پولیس کی عدم کارکردگی غیرملکی سرمایہ کاری کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔

  • جمہوریت کے عالمی دن کے موقع  صدر مملکت اور وزیراعظم کا پیغام

    جمہوریت کے عالمی دن کے موقع صدر مملکت اور وزیراعظم کا پیغام

    اسلام آباد: پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج جمہوریت کا عالمی دن منایا جارہا ہے ،صدر مملکت اور وزیراعظم پاکستان نے جمہوریت کے عالمی دن کے موقع پر آئین، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے پختہ اور غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : جمہوریت کا عالمی دن پہلی مرتبہ 2008 ءمیں منایا گیا تھا اوراس کے بعد سے یہ ہر سال تسلسل کے ساتھ منایا جا رہا ہے جمہوریت کا عالمی دن منانے کا مقصد جمہوریت کو فروغ دینا اور لوگوں میں مضبوط جمہوری اداروں کی اہمیت کے بارے میں شعور پیدا کرنا اور لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں مدد کرنا ہے، جمہوریت کے عالمی دن کے موقع پر صدر مملکت آصف زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وزیرا علیٰ پنجاب مریم نواز اور وفاقی وزیر احسن اقبال نے اہم پیغامات جاری کیے ہیں۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری
    جمہوریت کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ قوم کو درپیش موجودہ چیلنجز کا حل متحرک اور فعال جمہوری عمل میں مضمر ہے، انہوں نے پاکستان میں جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے، ضروری اصلاحات کرنے اور اجتماعی طور پر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیامصنوعی ذہانت شفافیت کو بڑھانے، احتساب اور سرکاری انتظامیہ کی استعداد کار کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

    آصف زرداری نے جمہوریت کے تحفظ، عوامی تحفظات کو دور کرنے اور عوام کی شمولیت کے لیے پالیسیوں کی تشکیل کو یقینی بنانے میں پاکستانی پارلیمنٹ کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف
    وزیراعظم شہباز شریف نے جمہوریت کے عالمی دن کے پر اپنے پیغام میں کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی اور فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں، حکومت کا آئینی اقدارکی پاسداری ، جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ کا عزم غیر متزلزل ہے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ جمہوری اقدار پر عملدرآمد ہمارے قومی طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے، منصفانہ، مساوی اور جامع عالمی معاشرے کے لیے کوششیں جاری رکھنےکا عزم کرتے ہیں، باہمی تعاون سے ہی ہم جمہوریت کی بنیادوں کو مضبوط کرسکتے ہیں۔

    ہمیں محنت، جدت، معیار اور علم پرمبنی معیشت کو فروغ دینا ہوگا،وفاقی وزیر احسن اقبال

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے اپنے پیغام میں کہا کہ روشن مستقبل جمہوری عمل کے تسلسل اور اداروں کے استحکام سے جڑا ہے، ہمیں باہمی اختلافات بھلاکر جمہوری اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا، ماضی میں باربار جمہوری عمل میں تعطل پیدا کیا گیا، جمہوری عمل میں تعطل سے سیاسی عدم استحکام،معاشی بدحالی پیدا ہوئی۔

    احسن اقبال نے کہا کہ ہم سب کومل کرجمہوری عمل کے فروغ اورمعاشی ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا، ترقی کا کوئی بھی شعبہ ہو آج عالمی مسابقت میں پاکستان بہت پیچھے ہےہمیں محنت، جدت، معیار اور علم پرمبنی معیشت کو فروغ دینا ہوگا، ہمارا پختہ عزم ہےکہ پاکستان کو2035 تک 1 ہزارارب ڈالرکی معیشت بنائیں، عمل کی تکمیل کے لیے جمہوری استحکام اورپالیسیوں میں تسلسل کی ضرورت ہے، جمہوری عمل ترقی کےساتھ مربوط کرنا ہوگا،یہی بقا اورکامیابی کا راستہ ہے۔

    مسلم لیگ ن نے ہی جمہوری اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز

    عالمی یومِ جمہوریت پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ جمہوریت زندہ باد، پاکستان پائندہ آباد، جمہوریت کے تحفظ کیلئے محمد نواز شریف سمیت تمام جمہور پسند رہنماؤں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں، مسلم لیگ ن نے ہی جمہوری اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے جمہوریت ناگزیر ہے، معاشی اور سیاسی استحکام صرف توانا جمہوریت ہی لا سکتی ہے، جمہوریت محض طرزِ حکومت نہیں، بلکہ عوام کی طاقت، حقوق اور انکی خدمت کا نظریہ ہے۔

    وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ جمہوریت عوام کو اپنے نمائندوں کے ذریعے خود فیصلہ کرنے کا اختیار دیتی ہے، جمہوریت کے استحکام سے ہی ملک میں ترقی اور خوشحالی آتی ہے، جمہوریت کا نظام آگے بڑھنے کا راستہ دکھاتا ہے، جمہوریت معاشرتی انصاف کی ضمانت اور عوامی خوشحالی کا ذریعہ ہے۔

  • ایران نے ملکی سطح پر تیار تحقیقی سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں بھیج دیا

    ایران نے ملکی سطح پر تیار تحقیقی سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں بھیج دیا

    تہران: ایران نے ملکی سطح پر تیار تحقیقی سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں بھیج دیا جس کے سگنلز بھی موصول ہونا شروع ہوگئے،ایران نے رواں برس بھی جنوری میں اپنے 3 سیٹیلائٹ خلا میں روانہ کیے تھے۔

    باغی ٹی وی : ایرانی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق سیٹلائٹ کو ایران کی پاسداران انقلاب کور نے تیار کیا ہےایرانی ساختہ راکٹ کے ذریعے 60 کلو گرام وزنی چمران ون سیٹیلاٹ خلا میں روانہ کیا گیا ایران کا سیٹیلائٹ خلا میں بھیجنے کا مقصد بلندی پر ہارڈویئر اور سافٹ ویئر سسٹم کی ٹیسٹنگ کرنا ہے، دوسرا مقصد خلائی نظام اور نیویگیشن کی کارکردگی کا معائنہ بھی شامل ہے،وہ مزید تیرہ سیٹلائٹ بھی جلد خلا میں بھیجے گا۔

  • نائیجیریا میں دریا میں کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں کئی مسافر لاپتہ

    نائیجیریا میں دریا میں کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں کئی مسافر لاپتہ

    نائیجیریا کی ریاست زامفارا میں دریا میں کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں کئی مسافر لاپتہ ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : ریسکیو حکام کے مطابق 3 گھنٹے کی جدوجہد کے بعد 6 افراد کو بچا لیا گیا، جبکہ 64 افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے دریا میں دو کشتیوں کے آپس میں ٹکرانے سے یہ حادثہ پیش آیا جس کے باعث 60 سے زائد افراد لاپتہ ہوگئے،کشتی میں سوار کسان اپنے کھیتوں کی طرف جا رہے تھے جس دوران حادثہ پیش آیا اور کشتی پلٹ گئی۔

    نائجیریا کے مقامی کشتی ڈرائیور نے بتایا کہ کشتی میں کئی افراد سوار تھے جس سے اس کا وزن بڑھ گیا، حالانکہ کشتی چلانے سے قبل مسافروں کو بار بار خبردار کیا گیا تھا، کشتی کو حادثہ دریا کے عین درمیان میں پیش آیا دوسری کشتی کے ڈرائیور نے مدد کرنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ ایک دوسرے سے ہی ٹکرا گئیں اور دونوں کشتیاں ڈوب گئیں، لاپتہ ہونے والے مسافروں میں مرد خواتین اور بچے شامل ہیں۔

  • غزہ جنگ بندی کے لیےنیتن یاہو کی حکومت کے خلاف بڑا مظاہر

    غزہ جنگ بندی کے لیےنیتن یاہو کی حکومت کے خلاف بڑا مظاہر

    تل ابیب: اسرائیل میں یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ جنگ بندی کے لیے وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف بڑا مظاہرہ کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف ریلی نکالی، حکومت مخالف ریلی میں مظاہرین نے غزہ سے یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جبکہ اس دوران مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے اور مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی تاہم اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئیں جس کے نتیجے میں 15 مظاہرین کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔

  • عدالتیں سیاسی گروہ بن چکی ہیں،مولانافضل الرحمان

    عدالتیں سیاسی گروہ بن چکی ہیں،مولانافضل الرحمان

    اسلام آباد: سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہمیں یاد ہے کس طرح ہاتھ مروڑ کر ایک آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کرائی گئی۔

    باغی ٹی وی : قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں انہوں ںے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ پیش آئے واقعے کی مذمت کرتا ہوں، ساتھیوں کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے پر اسپیکر کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں مگر حق تو یہ تھا اس واقعے کے بعد ایوان کو تین دن کیلئے بند کردیا جاتا، آج کے پی کے میں پولیس نے دھرنا دیا ہوا ہے، لکی مروت، بنوں، ڈی آئی خان میں پولیس احتجاج پر ہے، اگر پولیس نے فرائض ادا کرنا چھوڑدیے تو کیا ہوگا ملک کا؟

    ان کا کہنا تھا کہ ادارے اور اداروں کے بڑے اپنی ایکسٹینشن کے لیے فکر مند ہیں ملک کیلئے نہیں ایکسٹیشن کا عمل فوج سمیت ہرادارے میں غلط ہے اگر یہ حق ہے تو پارلیمنٹ کو بھی ایکسٹینشن کا حق ہے، یہ روایات ٹھیک نہیں ہم اپوزیشن ہیں اور غلط روایت کی بنیاد نہیں ڈالیں گے، آج پارلیمنٹ میں بیٹھ کر ہم کسی کی ایکسٹیشن کی تائید کیوں کریں گے؟

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمیں تسلیم کرنا چاہیے ہمارا عدالتی نظام فرسودہ ہوچکا ہے، جتھوں کو ختم کریں اور پارلیمنٹ کا مضبوط بنائیں، عدالتیں سیاسی گروہ بن چکی ہیں، کوئی عدالتیں کسی کو سپورٹ کرتی ہیں کوئی کسی کو، حکومت کو کہوں گا عدالتی نظام میں اصلاحات لائی جائیں، اپوزیشن کے ساتھ مل کر اصلاحات لائی جائیں،فوج اور عدلیہ میں معیار ایک لایا جائے، ہمیں یاد ہے کس طرح ہاتھ مروڑ کر ایک آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کرائی گئی۔

    جے یو آئی کے سربراہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں 60 ہزار سے زائد مقدمات زیرالتواء پڑے ہوئے ہیں کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ آئینی معاملات کیلئے الگ عدالتیں بنائی جائیں؟ آج ملک میں انگریز دور کا عدالتی نظام چل رہا ہے، اعتماد کو بحال کرنا پرے گا اور پارلیمنٹ کو سپریم بنانا ہوگا،آج کوئی بات کریں تو توہین عدالت ہوجائے گی، بلوچستان پر بات کریں تو ایجنسیاں آجاتی ہیں۔

    اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ وہ تو ہمارے آئین میں لکھا ہوا ہے کہ ہم فوج اور عدلیہ کے خلاف نہیں بول سکتے لیکن میرے پارلیمنٹیرینز کو پارلیمنٹ سے گرفتار کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

    مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ چیف جسٹس کے لیے پارلیمان اور جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہونا چاہیے، عدالتی اصلاحات ہونی چاہئیں، اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر اصلاحات ہونی چاہئیں، انیسویں ترمیم کیلئے پارلیمنٹ کو بلیک میل کیا گیا، انیسویں آئنی ترمیم کیلئے ایک جج نے پارلیمان کو بلیک میل کیا انیسویں آئینی ترمیم کو ختم ہونا چاہیے۔

    علی امین گنڈا پور کا افغانستان سے خود مذاکرات کا کہنا فیڈریشن پر حملہ ہے،خواجہ آصف

    وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے افغانستان سے خود بات کرنے کا بیان دیا، علی امین گنڈا پور کا افغانستان سے خود مذاکرات کا کہنا فیڈریشن پر حملہ ہے، کوئی بھی صوبہ کسی ملک کے ساتھ ڈائریکٹ مذاکرات نہیں کرسکتا، ان کا بیان زہر قاتل ہے، انہوں نے ملکی سلامتی کو داؤ سے لگایا۔

    قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے شاندار روایت قائم کی، اسپیکر نے جو کیا وہ ایوان کے تقدس کے لیے کیا، ہم سے ہمارا حق نمائندگی چھینا گیا تھا، اس کے سب سے بڑا گواہ اسد قیصر صاحب ہیں۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ تاریخ کی درستگی ضرور ہونی چاہیئے، شیر افضل مروت صاحب نے تقریر میں اچھی باتیں کی، مروت صاحب نے مجھ سے چند منٹوں کی ملاقات کی، ملاقات کی وجہ سے مروت صاحب کی پارٹی ان کی پیچھے پڑگئی، یہاں پر یہ ماحول بن گیا ہے کہ اگر کوئی اپوزیشن رکن سرکاری عہدیدار سے ملے توشک کیا جاتا ہے، پی ٹی آئی کے 4 سالہ دور حکومت میں اپوزیشن کو دیوار سے لگایا گیا، قومی اسمبلی کے ماحول کو بہتر رہنا چاہیئے، میں داستانیں سنا کر ماحول خراب نہیں کرنا چاہتا۔

    وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی دور حکومت میں اپوزیشن کو صوبتعوں کا سامنا کرنا پڑا، آج وزیراعلی خیبرپختونخوا کا بیان آیا ہے کہ ہم خود افغانستان سے مذاکرات کریں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا بیان فیڈریشن کے اوپر حملہ ہے، علی امین گنڈاپور کا بیان زہر قتل ہے، انہوں نے ملک کی سلامتی کو وزیراعلی خیبرپختونخوا نے داؤ پرلگایا، کوئی بھی صوبہ کسی ملک کے ساتھ ڈائریکٹ مذاکرات نہیں کرسکتا۔

    ان کا کا کہنا تھا وزیراعلی خیبرپختونخوا نے کس حثیت میں افغانستان سے مذاکرات کا عندیہ دیا، پہلے تنگ نظری کی حکمرانی تھی، ہم تنگ نظری کی حکمرانی نہیں کرتے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دوست آج ایوان میں واپس آئے ہیں، میں ان لوگوں کے سامنے ماضی کو ٹٹولنا چاہتا ہوں، پی ٹی آئی کے دور میں ممبران کے ساتھ بہت غلط ہوا، جب ہمارے ساتھ زیادتی ہورہی تھی تو کسی نے آواز نہیں بلند کی، ہم سے ہمارا حق نمائندگی سالوں کے لیے چھینا گیا تھا، تاریخ کی درستگی ہونی چاہیئے۔

    ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ کل یہاں آرٹیکل 6 پر بات ہورہی تھی جبکہ میں واحد ممبر تھا جس پر آرٹیکل 6 لگا، جو پی ٹی آئی کابینہ نے لگایا تھا، یہ کس کس انتہا تک گئے ہیں، آرٹیکل 6 لگانے والے آج ایوان میں موجود تھے، مجھ پر آرٹیکل 6 اس لیے لگا کیونکہ میرا باہر کاروبار تھا، میں آج پی ٹی آئی والوں کو ویلکم کرتا ہوں۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ یاد کریں کہ جب ہم اپوزیشن میں تھے تو کیا ہوا تھا، نوازشریف، شہباز شریف اور مریم نواز کے ساتھ کیا ہوتا رہا، فریال تالپور کو رات 12 بجے اسپتال سے اٹھایا گیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایوان چلانا ہے جو روایات ایاز صادق نے طے کی ہیں ان پر عمل کیا جانا چاہیئے، جو روایات اسد قیصر نے بنائیں وہ نہیں ہونی چاہئیں، ایک بار اسد قیصر کے گھر میٹنگ تھی باہر چار ایجنسیوں کے بندے بیٹھے ہوئے تھے، جتنی بھی میٹنگز ہوتی تھیں آئی ایس آئی باہر بیٹھی ہوتی تھی، ماضی کے جھروکوں میں جانا چاہیئے کہ پی ٹی آئی کے دور میں کیا ہوتا رہا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے افغانستان سے مذاکرات کیلیے اپنا وفد بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

    علی امین گنڈاپور نے وفد بھیجنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات کرکےجوخون بہہ رہا ہےاسے روکیں گے، انہوں نے شکوہ کیا تھا کہ ایپکس کمیٹی میں متعدد بار وفد بھیجنے کی درخواست کی لیکن کسی نے توجہ نہیں دی۔

    ’عوامی بغاوت ہوگی تو گنڈاپور کا مقابلہ کریں گے‘
    دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ عوامی بغاوت ہوگی تو قوم کے ساتھ مل کر علی امین گنڈاپور کا مقابلہ کریں گے۔

    جاوید لطیف نے قومی اسمبلی سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے وسائل ریاست کے خلاف استعمال کئے تو مقابلہ کرنا ہوگا، ملک کو بیرونی سے زیادہ اندرونی باغیوں کا سامنا ہے، ملک کو غیرمستحکم کرنے والی قوتیں کھل کر سامنے آگئی ہیں۔