Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • آپ سوچ نہیں سکتے ہم کتنے بےبس ہیں، عتیق الرحمٰن بازیابی کیس میں عدالت کے ریمارکس

    آپ سوچ نہیں سکتے ہم کتنے بےبس ہیں، عتیق الرحمٰن بازیابی کیس میں عدالت کے ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس گل حسن اورنگزیب نے عتیق الرحمٰن کی بازیابی کی درخواست پرسماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ اگرفیصلہ بھی دے دیتا ہوں توکیا فرق پڑنا ؟ آپ سوچ نہیں سکتے ہم کتنے بےبس ہیں۔

    باغی ٹی وی : جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عتیق الرحمٰن کی بازیابی کی درخواست پرسماعت کی، جسٹس حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ اگرمیں فیصلہ بھی دے دیتا ہوں تواس سے کیا فرق پڑے گا؟

    عدالت نے کہا کہ جبری گمشدگی کا مطلب ہی یہی ہے کہ آرمڈ فورسز نے بندے کو اٹھایا،اگر میں فیصلہ بھی دے دیتا ہوں تو اس سے کیا فرق پڑے گا؟آپ سوچ نہیں سکتے ہم کتنے بےچین ہیں، ہم کتنے بےبس ہیں، جسٹس کیانی نے مائنڈ ظاہر کیا تو بدنام کرنے کی مہم شروع ہوگئی-

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب مزید کہاکہ وفاقی وزراء کوعدالت میں طلب کیا لیکن کچھ نہ ہوا، وزیراعظم کو طلب کیا تووہ اداس چہرے کے ساتھ آگئے وزیراعظم کواس عدالت نے بلایا لیکن کچھ نہیں ہوا، وزرا کوبلایا جاتا ہے وہ ہنستے ہوئے آتے ہنستے ہوئے واپس چلے جاتے ہیں، آپ کواندازہ نہیں اس صورتحال کا ہمیں کتنا احساس ہے،بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

  • اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس میں اہم پیشرفت

    اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس میں اہم پیشرفت

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے29 ستمبر کو اسلام آباد بلدیاتی الیکشن کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس میں سماعت کی، دوران سماعت الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ انتخابات کے لیے الیکشن ایکٹ میں ترمیم بھی ضروری ہے، مخصوص نشستوں سے متعلق معاملا ت بھی کلیئر نہیں ہیں، اگلے دو ہفتوں میں نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔

    عدالت نے کہا کہ سماعت چھٹیوں کے بعد ہوگی، اگر کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو سی ایم دائر کردی جائے، ایم سی آئی کی آمدن اور اخراجات کی مکمل رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرادی گئی،عدالت نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کا کیا اسٹیٹس ہے، الیکشن ایکٹ سے متعلق بل ایسا کوئی پراسسس میں ہے؟

    جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن ایکٹ بل پراسس میں ہے، کیبنٹ سے بھی ہوگیا ابھی پارلیمنٹ میں پیش ہونا ہے، نشستوں سے متعلق معاملہ وزیر اعظم کو دوبارہ بھجوایا گیا ہے ڈائریکٹ الیکشن ہوسکتا ہے لیکن ایم سی آئی کا نہیں ہوسکتا جب تک نشستوں کا معاملہ حل نہیں ہوتا، عدالت نے کہا کہ ایم سی آئی تیار ہے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار وفاقی حکومت کا کیا اسٹیٹس ہے، شیڈول کب دیں گے؟ الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ میٹنگ میں ایک ہفتہ کا وقت دیا تھا، کل دوبارہ یاد دہانی کروائی گئی ہے، اگست کے پہلے ہفتہ میں شیڈول دیں گے-

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا لوکل گورنمنٹ اسمبلی کے بغیر پراپرٹی ٹیکس معاملات ہوسکتے ہیں؟ اصل مسئلہ ترمیم کا ہے، وفاقی حکومت ہی معاملات کو دیکھے گی اس کے بعد معاملات ٹھیک ہوجائیں گے، بعد ازاں، الیکشن کمیشن کی جانب سے 29 ستمبر کو اسلام آباد بلدیاتی الیکشن کرانے کی یقین دہانی کرادی گئی، کیس کی سماعت 15 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔

  • وزیراعظم   کا  وزارتیں کم کرنے کا  فیصلہ

    وزیراعظم کا وزارتیں کم کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وزیراعظم نےباعث کفایت شعاری پلان پر عمل تیز کرتے ہوئے وزارتیں کم کرنے کا پلان طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی :وزیراعظم شہباز شریف نے کئی وزارتیں اور محکمے ختم کرنے فیصلہ کیا ہےانسٹیٹیوشنل ریفارمز سیل نے رائٹ سائزنگ پر کام شروع کردیا، پانچ وزارتوں سے ایک ہفتے میں سفارشات طلب کی گئی ہیں، جن وزارتوں سے سفارشات مانگی گئی ہیں ان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سرفہرست ہے امور، کشمیر، امورِ کشمیر، سیفران، صنعت و پیداوار اور ہیلتھ سروسز کی وزارتیں بھی شامل ہیں۔

    وزیر اعظم آفس نے وزارتوں سے 8 سوالوں کا جواب مانگ لیا پانچ وزارتوں نے سوالوں کے جواب دینے کے لیے کام شروع کردیا۔ جو وزارتیں صوبوں کو چلی گئی ہیں وزیر اعظم نے ان کا کردار بھی جاننا چاہا ہے،وزیر خزانہ اورنگ زیب کی صدارت میں قائم کمیٹی ڈیٹا مرتب کرنے میں مصروف ہے، اس کمیٹی بھی قومی اسمبلی کے رکن بلال اظہر کیانی بھی شامل ہیں۔

  • وہاب ریاض اور عبدالرزاق کی برطرفی پر شاہد آفریدی کا بیان سامنے آگیا

    وہاب ریاض اور عبدالرزاق کی برطرفی پر شاہد آفریدی کا بیان سامنے آگیا

    لاہور: قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے وہاب ریاض اور عبدالرزاق کو سلیکشن کمیٹی سے ہٹائے جانے پر کہا کہ اتنا کھلا چانس کسی کو نہیں ملا جتنا کپتان بابراعظم کو ملا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ورلڈ چیمپئین شپ آف لیجنڈز ٹورنامنٹ میں شریک پاکستانی ٹیم کے رکن شاہد آفریدی نے جنوبی افریقہ کیخلاف میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی کپتان اتنے موقعے نہیں ملے جتنے بابراعظم کو ملے، ورنہ ہماری روایت ہے کہ میگا ایونٹ میں ناقص فارم کے بعد کپتان پہلے گھر جاتا ہے۔

    سلیکشن کمیٹی سے رزاق اور وہاب کی برطرفی سابق کرکٹر نے کا کہنا تھا کہ یہ اقدام تھا جس کو “سرجری” قرار دیا گیا تھا، ایمانداری کے ساتھ یہ سرجری میری سمجھ سے باہر ہےمیں نے مصباح، یونس نے پاکستانی ٹیم کی قیادت کی لیکن اتنے مواقعے کبھی نہیں ملے، اتنا سب کچھ ملنے کے بعد بھی بابراعظم خود کو ثابت نہیں کرسکے۔

    واضح رہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی سے وہاب ریاض اور عبدالرزاق کو سبکدوش کردیا گیا،جس کی تصدیق پی سی بی نے بھی کی ہے،پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ سابق کرکٹرز وہاب ریاض اور عبدالرزاق کو سلیکشن کمیٹی سے ہٹادیا گیا ہے، اب قومی ٹیم کیلئے اِن خدمات کی ضرورت نہیں،دونوں سابق کرکٹرز ٹی20 ورلڈکپ سمیت نیوزی لینڈ اور انگلینڈ دورے کے دوران مینز سلیکشن کمیٹی کے رکن تھے۔

  • وفاقی بیوروکریسی میں تقرر و تبادلے ،نوٹیفکیشن  جاری

    وفاقی بیوروکریسی میں تقرر و تبادلے ،نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آ باد : وفاقی بیوروکریسی میں تقرر و تبادلے کر دیئے گئے جن کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس گریڈ 19 کے افسرذیشان جاوید کی خدمات بلوچستان حکومت کے سپرد کر دی گئیں وہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں او ایس ڈی تھے، وومن میڈیکل آفیسر نواز شریف ٹیچنگ ہسپتا ل لاہور ڈاکٹر فرخندہ بِسمل کو تبدیل کر کے ڈیپوٹیشن پر 3 سال کیلئے لیڈی میڈیکل آفیسر پاکستان مِنٹ لاہور تعینات کیا گیا جبکہ ای این ٹی کنسلٹنٹ، ٹی ایچ کیو ہاسپٹل، کلر سیداں، راولپنڈی ڈاکٹر زیمل شاہان کو تبدیل کر کے 3 سال کیلئے ڈیپوٹیشن پر ای این ٹی سپیشلسٹ نرم اسپتال اسلام آباد تعینات کیا گیا ، پمز اسپتال اسلام آباد میں تعینات محکمہ صحت بلوچستان حکومت کی فارمسسٹ راحیلہ غفار کی ڈیپوٹیشن پر تعیناتی کی مدت میں 2 سال کا اضافہ کیا گیا جو کہ 9 جنوری 2024 سے شمار ہو گا۔

  • بجلی بلوں میں اضافے کی تحقیقات مکمل،رپورٹ   وزیراعظم کو ارسال

    بجلی بلوں میں اضافے کی تحقیقات مکمل،رپورٹ وزیراعظم کو ارسال

    لاہور: تحقیقاتی اداروں نے بجلی بلوں میں اضافے کی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ وزیراعظم کو ارسال کردی۔

    باغی ٹی وی :لیسکو ذرائع کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سمیت دیگر اداروں نے بھی اپنی رپورٹ مکمل کرکے وزیراعظم کو ارسال کردی، پروریٹا سسٹم کے تحت بلوں میں 200 سے اوپر یونٹس ڈالنے کی رپورٹ وزیراعظم آفس بھجوادی گئی ہے۔

    لیسکو ذرائع کے مطابق تحقیقاتی اداروں کی رپورٹ میں وزارت توانائی کے حکام کو اوور بلنگ کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے اور اس میں وزارت توانائی کے حکام کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے، وزارت توانائی نے نوٹیفکیشن کے ذریعے ڈسکوز میں پروریٹا سسٹم لاگو کروایا۔

    علاوہ ازیں صارفین کی بڑھتی ہوئی مایوسی کے باعث حکومت میٹرنگ ریڈنگ کے موجودہ ”ناقص“ نظام کو ختم کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے پرو ریٹا یا متناسب حساب کتاب کا موجودہ نظام ماہانہ کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے نکال دیتا ہے یا انہیں اگلے سلیب میں دھکیل دیتا ہے،ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق متعلقہ حلقوں (پاور ڈویژن اور دیگر) نے میٹر ریڈنگ سسٹم کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے، اور اس سلسلے میں ایک یا دو دن میں فیصلہ متوقع ہے۔

    وزارت توانائی کے ایک اعلیٰ سرکاری ذرائع نے تصدیق کی کہ “ہم اوور بلنگ کے بارے میں صارفین کی شکایات پر سنجیدگی سے ’پرو ریٹا سسٹم‘ کا جائزہ لے رہے ہیں، ہم اس کا اس طرح جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس سال مارچ میں متعارف کرایا جانے والا سسٹم صارفین کے لیے اچھا یا برا ہے۔

    متعلقہ افسر نے مزید بتایا کہ اگر ہمیں یہ نظام بہتر نہیں ہے تو ہم اسے یقینی طور پر ختم کر دیں گے،200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پرٹیکٹڈ کیٹیگری صارفین کا تناسب اپریل 2023 میں 69.38 فیصد تھا جو اس سال اپریل میں بڑھ کر 73.14 فیصد ہو گیا۔ اسی طرح مئی 2023 میں ایسے صارفین کی شرح 68.84 فیصد تھی جو اس سال مئی میں بڑھ کر 73.59 فیصد ہو گئی۔ تاہم جون میں یہ 59.15 فیصد اور گزشتہ سال 60.42 فیصد تک کم ہو گیا۔

    انہوں نے بتایا کہ وہ صارفین جن کی کھپت کا حساب پرانے سسٹم میں 28 دن کے بلنگ سائیکل پر کیا جاتا ہے، بڑھ گیا ہے، جو انہیں پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے باہر دھکیل رہا ہے۔ اور جن کی بلنگ کا حساب 30 دن کے بلنگ سائیکل پر کیا گیا تھا اس میں کمی آئی ہے، لیکن ہم ان سب پر بھروسہ نہیں کر رہے ہیں، کیونکہ ہم صارفین کے بہترین مفاد میں جو بھی دیکھیں گے وہ کریں گے ، چاہے اس سسٹم کو بند کیا جائے یا نہیں۔

    پرو ریٹا سسٹم کیا ہے؟

    پرو ریٹا سسٹم کے تحت ماہانہ بلوں کا حساب 30 دن کی بجلی کی کھپت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، فرض کریں کہ 30 دن کی کھپت کی مدت ہر مہینے کی 26 تاریخ کو ختم ہوتی ہے اور میٹر ریڈر کچھ دن پہلے ریڈنگ لیتا ہے، ایسی صورت میں، 24 اور 26 کے درمیان استعمال شدہ یونٹس کی تعداد اوسط کی بنیاد پر وصول کیے جائیں گے،اگر 24 تاریخ کو یونٹس کی تعداد 180 ہے اور بل میں بیان کردہ یونٹس کی تعداد 210 ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ 30 یونٹس کے فرق کو پچھلے دنوں کی کھپت کی اوسط کی بنیاد پر شمار کیا گیا ہے، جسے ’پرو ریٹا‘ کہا جاتا ہے۔

  • میڈیکل کالجز کی فیس سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار

    میڈیکل کالجز کی فیس سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے آبادی کے قریب اسٹون کریشنگ کو انسانی زندگیوں کے لیے خطرہ قرار دے دیا،جبکہ میڈیکل کالجز کی فیس سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار دی گئی-

    جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے اسٹون کریشنگ پلانٹس کے خلاف کیس کی سماعت کی،دوران سماعت دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آبادی کے قریب پاور اسٹون کریشرز انسانی جان کے لیے خطرہ ہے، آبادی کے قریب پاور اسٹون کریشرز کو دوسری جگہ شفٹ کریں، خیبرپختونخوا میں اسٹون کریشنگ کا بڑا سنجیدہ ایشو ہے، ہمارے سامنے کیس تین اسٹون کریشرز کا ہے، ایسے سینکڑوں پاور کریشرز ہیں جو آبادی کے قریب ہے۔

    وکیل پاور کریشرز اعتزاز احسن نے مؤقف اختیار کیا کہ ہمیں کمیشن رپورٹ کا جائزہ لینے کا وقت دیا جائے، استدعا ہے کہ کیس کو محرم کے بعد رکھا جائے جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ محرم کی بات ہے تو پھر کیس کا فیصلہ جلدی ہونا چاہیئے، انڈسٹری کو بند نہیں کرنا چاہتے لیکن انسانی جانوں کا معاملہ اہم ہے۔

    سپریم کورٹ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا اور وکیل اسٹون کریشنز کو کل تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ کل اسٹون کریشرز کے وکیل نہ آئے تو کمیشن رپورٹ پر فیصلہ کردیں گے۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ نے میڈیکل کالجز کی فیس سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار دیدی۔

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصورعلی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے میڈیکل کالجز میں فیسوں سے متعلق درخواست پر سماعت کی،دوران سماعت جسٹس منصورعلی شاہ نے سوال کیا کہ میڈیکل کالجز کی فیس پر کون سا قانون لگتا ہے اور فیس کی ریگولیٹری کون کرتاہے؟ سپریم کورٹ ایسے تو کیس نہیں سن سکتا۔

    جسٹس محمدعلی مظہر نے سوال کیا کہ آپ نے پاکستان میڈیکل کمیشن سے فیس کے حوالے سے رابطہ کیا؟ اس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میں نے وزیراعظم، صدر مملکت کو میڈیکل فیس کےحوالے سے خط لکھا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پاکستان میڈ یکل ڈینٹل ایکٹ بنایاگیا اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو غلط لیاگیا۔

    جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا آپ ریگولیٹری کے پاس جائیں، سپریم کورٹ کا میڈیکل فیس دیکھنےسے متعلق کیاکام؟ ریگولیٹری جب بنا ہوا ہے تو کیا آپ وہاں گئے ہیں؟ کیا ہم کمیشن بنا سکتے ہیں؟ جسٹس محمدعلی مظہر نے کہا کہ یہ آپ کا ذاتی مسئلہ ہے تو ریگولیٹری سے رجوع کریں۔

    بعد ازاں عدالت نے میڈیکل کالجز کی فیس سے متعلق درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کردی۔

  • نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی انٹرا کورٹ اپیل ،عمران خان کا تحریری جواب جمع

    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی انٹرا کورٹ اپیل ،عمران خان کا تحریری جواب جمع

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی انٹرا کورٹ اپیل سے متعلق تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا –

    باغی ٹی وی : بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے تحریری جواب میں کہا کہ کسی شخص کی کرپشن بچانے کے لیے قوانین میں ترامیم کرنا عوامی مفاد میں نہیں، کرپشن معیشت کے لیے تباہ کن اور اس کے منفی اثرات ہوتے ہیں، مجھ سے دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ترامیم کا فائدہ آپ کوبھی ہو گا مگر میرا مؤقف واضح ہے یہ میری ذات کا نہیں ملک کا معاملہ ہے،اسی طرح دبئی لیکس پر کوئی تحقیقا ت نہیں کی گئیں جس میں مختلف پبلک آفس ہولڈرز اور ان لوگوں کی آف شور جائیدادوں کا انکشاف ہوا جنہیں سرکاری خزانے سے ادائیگی کی جاتی ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی کو یہ ظاہر کرنا چاہیئے کہ انہوں نے دبئی میں جائیداد خریدنے کے لیے رقم کیسے کمائی اور کن ذرائع سے بیرون ملک بھیجی (چاہے یہ منی لانڈرنگ سے ہو یا کسی اور طریقے سے)۔

    عمران خان نے تحریری جواب میں کہا کہ نواز شریف، زرداری خاندان، راؤ انوار اور کئی سابق جرنیلوں کی جائیدادیں بھی بے نقاب ہو چکی ہیں، نیب یا ایف آئی اے کو ان کیسز کی فوری انکوائری کرنی چاہیئے تھی لیکن نیب ایسا نہیں کر رہا کیونکہ انہیں میرے خلاف خصوصی طور پر کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، انصاف کا یہ منتخب نفاذ اس بدعنوانی کا واضح اشارہ ہے جو ہمارے نظام میں جڑ پکڑ چکی ہے،اگر کسی کے بیرون ملک اثاثہ جات ہوں تو ان کی تفصیلات پہلے ایم ایل اے کے ذریعے حاصل کی جاتی تھی لیکن اس کو بھی ختم کردیا گیا-

    انہوں نے تحریری جواب میں کہا کہ اس سے پہلے، یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری فرد پر تھی کہ ان کی دولت ان کے ذرائع آمدن سے مماثل ہو، نئے قانون کے تحت نیب کو ثابت کرنا ہوگا کہ پیسہ کرپشن کے ذریعے کمایا گیا، پبلک آفس ہولڈرز کی آمدنی کے ذرائع معروف ہیں، اور اگر کوئی رقم ان کے خاندان یا ملازمین کے نام ظاہر ہوتی ہے، تو ان سے اس کی اصلیت ثابت کرنے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔

    عمران خان نے تحریری جواب میں بتایا کہ کرپشن سے پاک پاکستان مزید سرمایہ کاری کو راغب کرے تاہم ان ترامیم کا مقصد ملکی اداروں کو کمزور کرنا اور طاقتوروں کو بچانا ہے، سپریم کورٹ کو ان سب معاملات کو مد نظر رکھنا چاہیے، پارلیمنٹ کو قانون سازی آئین کے اندر رہ کر کرنی چاہیئے، نیب اگر اختیار کا غلط استعمال کرتا ہے تو ترامیم اسے روکنے کی حد تک ہونی چاہئیں، اختیار کے غلط استعمال کی مثال میرے خلاف نیب کا توشہ خانہ کیس ہے، نیب نے میرے خلاف کیس بنانے کے لیے ایک کروڑ 80 لاکھ کے ہار کو 3 ارب 18 کروڑ کا بنا دیا۔

  • حساس ادارے  کو فون ٹیپ کرنے کا اختیار لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

    حساس ادارے کو فون ٹیپ کرنے کا اختیار لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

    لاہور: حساس ادارے آئی ایس آئی کو فون ٹیپ کرنے کا اختیار دینے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ میں شہری فہد شبیر کی جانب سے درخواست دائر کی گئی،شہری کی جانب سے دائردرخواست میں وزیراعظم ، وفاقی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن سمیت دیگرکو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے ایک نوٹیفکیشن میں آئی ایس آئی کو لوگوں کے فون ٹیپ کرنے کی اجا زت دی ہے، پی ٹی اے ایکٹ کے جس سیکشن کے تحت نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے اس کے ابھی تک رولز نہیں بنے پاکستا ن کا آئین شہریوں کو پرائیویسی اور آزادی اظہار رائے فراہم کرتا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا کہ بھارتی سپریم کورٹ کے مطابق بھی لوگوں کے فون ٹیپ کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے، عدالت حکومت کا آئی ایس آئی کو فون ٹیپ کرنے کی اجازت دینے کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دے اور درخواست کے حتمی فیصلے تک مذکورہ نوٹیفکیشن کی کارروائی معطل کرے، حکومت کو ہدایت جاری کی جائے کہ پی ٹی اے ایکٹ کے سیکشن 56 کے رولز بنائے جائیں۔

  • جسٹس طارق محمود جہانگیری کو مشکوک کال اور میسجیز موصول

    جسٹس طارق محمود جہانگیری کو مشکوک کال اور میسجیز موصول

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو مشکوک کال اور پیغامات موصول ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: عدالتی ذرائع کے مطابق مشکوک کال کرنے والے نے خود کو بطور ڈی جی ایف آئی اے متعارف کرایا تاہم تحقیقات کے بعد پتہ چلا ڈی جی ایف آئی اے نے کوئی کال نہیں کی، مشکوک کال کرنے والا ڈائریکٹ جسٹس طارق جہانگیری سے بات کرنا چاہ رہا تھا۔

    عدالتی ذرائع کے مطابق مشکوک کال 2 روز قبل اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس طارق جہانگیری کے آفس میں کی گئی مشکوک نمبر سے جسٹس طارق جہانگیری کے موبائل نمبر پر مسیجز بھی بھیجے گئے،مشکوک کال کے بعد جسٹس طارق جہانگیری نے رجسٹرار کو طلب کر لیا اور ہدایت کی کہ رجسٹرار موبائل نمبر کے حوالے سے ایف آئی اے کو فوری رپورٹ کرے۔

    واضح رہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری الیکشن ٹریبیونل کے جج بھی ہیں اور اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی 3 نشستوں پر جیتنے والے لیگی ارکان کے خلاف پی ٹی آئی کی عذرداری درخواستوں کی سماعت کررہے ہیں۔