Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • 04 مارچ  تاریخ کے آئینے میں

    04 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    04 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    1665ء برطانوی بادشاہ چارلس دوم نے ہالینڈ سے جنگ کا اعلان کیا۔

    1789ء امریکی کانگریس نے امریکی آئین کی منظوری دی۔

    1791ء ورماؤنٹ امریکہ کی چودہویں ریاست بنا۔

    1861ء ابراہم لنکن نے امریکہ کے سولہویں صدرکی حیثیت سے سنبھالا۔

    1861ء امریکا کا پہلا قومی پرچم بنایا گیا۔

    1894ء شنگھائی میں بڑے پیمانے پر آتشزدگی سے ایک ہزار سے زائد عمارتیں راکھ کا ڈھیر بن گئیں۔

    1945ء فن لینڈ نے جرمنی سے جنگ کا اعلان کیا۔

    1945ء برطانیہ میں شہزادی ایلزبتھ نے بطور ڈرائیور برطانوی افواج میں شمولیت اختیار کی جو بعد میں ملکہ الزبتھ دوم بنیں۔

    1956ء واحد صدارتی امیدوار اسکندر مرزا پاکستان کے صدر منتخب ہوئے۔

    1962ء پہلے امریکی ایٹمی پاور پلانٹ نے انٹارکٹیکا میں کام شروع کیا۔

    1977ء رومانیہ میں زلزلہ سے ایک ہزار پانچ سو اکتالیس افراد ہلاک ہو گئے۔

    2008ء لاہور کے بحریہ وار کالج کی پارکنگ میں خودکش حملہ، 3 اہلکاروں سمیت 5 شہید، 11 زخمی ہو گئے۔

    04 مارچ کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    1325ء۔۔۔حضرت خواجہ نظام الدین اولیا ٭ برصغیر پاک و ہند کے عظیم بزرگ سلطان المشائخ محبوب الٰہی حضرت نظام الدین اولیاء27صفر المظفر 636ہجری بمطابق 9اکتوبر 1238ء کو بدایوں میں پیدا ہوئے۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کا اصل نام محمد تھا اور آپ کاسلسلہ نسب حضرت علی تک پہنچتا ہے۔ مولانا علاء الدین اصولی سے قرآن پاک پڑھا اور مزید تعلیم کی حصول کے لیے دہلی پہنچے جہاں آپ نے مولانا شمس الدین وامغانی، مولانا کمال الدین اور مختلف مشاہیر سے مختلف علوم کی تحصیل کی ۔ 20 برس کی عمر میں آپ بابا فرید گنج شکرؒ کی خدمت میں پاکپتن پہنچے جنہوں نے آپ کو اپنا خلیفہ مقرر کیا۔ بابا صاحب نے آپ کو جو نصائح اور ہدایات فرمائیں ان کی تفصیل آپ کی تصنیف راحت القلوب میں درج ہیں۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے مریدین میں حضرت امیرخسرو کا نام سرفہرست ہے ۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کی تاریخ وصال 4 مارچ 1325ء مطابق 18 ربیع الاول 725 ہجری ہے۔ آپ کا مزار دہلی میں ہے، جہاں ہر سال لاکھوں زائرین حاضری دیتے ہیں۔ آپ سلسلہ نظامیہ کے بانی ہیں جو سلسلہ چشتیہ کی ایک شاخ ہے۔ آپ کی تصانیف میں فوائد الفواد، فصل الفواد، راحت المحبین اور سیر الاولیا کے نام سرفہرست ہیں

    1769ء محمد علی پاشا ، مصری فوجی و سیاستدان ، آلِ محمد علی کی سلطنت کے (18 جون 1805ء تا 20 جولائی 1848ء) پہلے بادشاہ اور جدید مصر کے بانی تھے۔ وہ مصر کے خدیو یا والی تھے۔ محمد علی موجودہ یونان کے شہر کوالا میں ایک البانوی خاندان میں پیدا ہوئے۔ نوجوانی میں تجارت سے وابستہ ہونے کے بعد وہ عثمانی فوج میں شامل ہو گئے۔ (وفات: 3 اپریل 1849ء)

    1811ء جان لارنس ، برطانوی سیاستدان و شاہی ریاستکار (12 جنوری 1864ء تا 12 جنوری 1869ء) 25واں گورنر جنرل اور وائسرائے ہند۔ (وفات: 27 جون 1879ء)

    1882ء سر رالف گرفتھ ، انگریز سفارتکار ، برطانوی ہندوستان میں ایڈمنسٹریٹر تھے اور موجودہ پاکستانی صوبے این ڈبلیو ایف پی (خیبر پختونخوا) کے (1931ء تا 1932ء) پہلےچیف کمشنر اور (1932ء تا 1937ء) پہلے گورنر (وفات: 11 دسمبر 1963ء)

    1899ء مہاراج غلام حسین کتھک ، صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی و نگار ایوارڈ یافتہ پاکستان کے معروف کلاسیکی رقاص و معلم (وفات: 29 جون، 1998ء)

    1916ء خورشید جہاں بمعروف بیگم خورشید مرزا ، تقسیم ہند سے قبل فلمی ہیروئن اور مشہور پاکستانی اداکارہ، آپ بیتی نگار و سماجی کارکن۔٭4 مارچ 1918ء بھارت کی سابق فلمی اداکارہ اور پاکستان ٹیلی وژن کی ممتاز فنکارہ بیگم خورشید مرزا کی تاریخ پیدائش ہے۔ بیگم خورشید مرزا کا اصل نام خورشید جہاں تھا اور ان کا تعلق علی گڑھ کے ایک ممتاز گھرانے سے تھا۔ ان کے والد شیخ عبداللہ نے علی گڑھ میں مسلم گرلز کالج کی بنیاد رکھی تھی اور ان کی بڑی بہن ڈاکٹر رشید جہاں انجمن ترقی پسند مصنّفین کی بانیوں میں شامل تھیں۔ ان کی دیگر بہنیں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں۔ خورشید جہاں کی شادی، سترہ برس کی عمر میں ایک پولیس آفیسر اکبر حسین مرزا سے ہوئی۔ خورشید جہاں کے بھائی محسن عبداللہ بمبئی میں دیویکارانی اور ہمانسورائے کے فلمی ادارے بمبئی ٹاکیز سے وابستہ تھے۔ ان کے توسط سے جب دیویکا رانی کی ملاقات خورشید جہاں سے ہوئی تو انہوں نے انہیں اپنی فلموں میں اداکاری کی دعوت دی۔ یوں خورشید جہاں نے رینوکا دیوی کے نام سے فلموں میں کام کرنا شروع کردیا۔ ان کی مشہور فلموں میں جیون پربھات، بھابی، نیا سنسار اور غلامی شامل تھیں۔ قیام پاکستان کے بعد خورشید جہاں، جو اب بیگم خورشید مرزا بن چکی تھیں پاکستان آگئیں اور انہوں نے یہاں ریڈیو اور ٹیلی وژن کے متعدد ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے اور ریڈیو کے کئی پروگراموں کی کمپیئرنگ بھی کی۔ ٹیلی وژن پر ان کی مشہور سیریلز میں کرن کہانی، زیر زبر پیش،انکل عرفی، پرچھائیں، رومی،افشاں اور انا کے نام سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ ڈرامہ ماسی شربتے میں بھی ان کا کردار بڑا یادگار سمجھا جاتا ہے۔1984ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ بیگم خورشید مرزا کی سوانح عمری A Woman of Substance کے نام سے شائع ہوچکی ہے جو ان کی صاحبزادی لبنیٰ کاظم نے تحریر کی ہے۔ 8 فروری 1989ء کو بیگم خورشید مرزا لاہور میں وفات پاگئیں اور میاں میر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

    1918ء محمد بن عبد العزیز آل سعود ،سعودی عرب کے حکمران خاندان آلِ سعود کے اہم رکن، سیاستدان اور (2 نومبر 1964ء تا 29 مارچ 1965ء) ولی عہد سلطنت ، اپنے چھوٹے بھائیوں خالد بن عبدالعزیز آل سعود اور فہد بن عبدالعزیز آل سعود کے قریبی اور طاقتور معتمد اور مشیر (وفات: 26 نومبر 1988ء)

    1922ء دینا پاٹھک ، بھارتی اداکارہ اور گجراتی تھیٹر کی ڈائریکٹر (وفات: 11 اکتوبر 2002ء)

    1932ء سلیم رضا پرانا نام نوئیل دیاس، پاکستانی گلوکار (وفات: 25 نومبر 1983ء)

    1932ء میریم مکیبا ، جنونی افریقی اداکارہ و گلو کارہ (وفات: 9 نومبر 2008ء)

    1934ء ڈاکٹر حسن منظر ، پاکستانی ماہر نفسیات اور افسانہ نگار

    1935ء ڈاکٹر محمد ریاض ، پاکستانی سے تعلق رکھنے والے اردو اور فارسی ادیب، محقق، ماہرِ اقبالیات اور ماہرِ تعلیم (وفات: 26 نومبر 1994ء)

    1938ء الفا کوندے ، جمہوریہ گنی کے سیاست دان و مصنف ، وہ دسمبر 2010ء سے جمہوریہ گنی کے صدر اور 30 جنوری 2017 ء تا 28 جنوری 2018ء) سربراہ افریقی اتحاد ۔

    1945ء امیرالملک مینگل ، بلوچستانی وکیل، منصف ، (21 نومبر 1996ء تا 17 اپریل 1997ء) چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ اور (8 اپریل 1997ء تا 22 اپریل 1997ء نگران اور 21 اکتوبر 1999ء تا یکم فروری 2003ء) 18ویں گورنر بلوچستان

    1965ء خالد حسینی ، افغان نژاد امریکی ناول نگار اور طبیب

    1968ء غلام محمد لالی ، پاکستانی سیاست دان ، (یکم جون 2013ء تا 31 مئی 2018ء) پنجاب کے حلقہ این اے۔87 (NA-87 (Jhang-II) سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر ممبر چودھویں قومی اسمبلی رہے۔

    1970ء اینڈریا بینڈیوالڈ ، امریکی ٹیلی ویژن اداکارہ

    1973ء تارا ، بھارتی فلمی اداکارہ

    1980ء کملینی مکھرجی ، بھارتی فلمی اداکارہ

    1987ء شاردھا داس ، بھارتی فلمی اداکارہ

    1990ء اینڈریا بون ، امریکی فلمی اداکارہ

    1998ء سعدیہ گل ، بنوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی پیشہ ور اسکواش کھلاڑی

    1932ء۔۔۔٭پاکستان کی مشہور اداکارہ، ملکہ جذبات، نیر سلطانہ کی تاریخ پیدائش 4 مارچ 1932ء ہے۔ نیر سلطانہ کا اصل نام طیبہ خاتون تھا اور وہ علی گڑھ میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کی پہلی فلم ہدایت کار انور کمال پاشا کی قاتل تھی جو 1955ء میں نمائش پذیر ہوئی۔ اس فلم میں انہوں نے نازلی فرح کے نام سے کام کیا تھا بعدازاں فلم ساز اور ہدایت کار ہمایوں مرزا نے انہیں نیر سلطانہ کا نام دیا اور اپنی فلم انتخاب میں بطور ہیروئن منتخب کیا۔ نیر سلطانہ کی اصل شہرت کا آغاز فلم سات لاکھ سے ہوا۔ انہوں نے مجموعی طور پر 216 فلموں میں کام کیا جن میں 140 فلمیں اردو میں، 49 فلمیں پنجابی میں، ایک فلم سندھی میں اور 6 فلمیں پشتو میں بنائی گئی تھیں۔ نیر سلطانہ کی یادگار ترین فلموں میں سہیلی، اولاد، گھونگھٹ، باجی، ثریا، ماں کے آنسو اور ایک مسافر ایک حسینہ کے نام سرفہرست تھے۔ انہوں نے پاکستان کے مشہور اداکار درپن سے شادی کی تھی جو پاکستان کی فلمی صنعت کی کامیاب ترین شادیوں میں شمار ہوتی ہے۔ 27 اکتوبر 1992ء کو نیر سلطانہ کراچی میں وفات پاگئیں اور لاہور میں مسلم ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئیں۔

  • بھارت اور فرانس کا مصنوعی ذہانت  پر تبادلہ خیال

    بھارت اور فرانس کا مصنوعی ذہانت پر تبادلہ خیال

    نئی دہلی: بھارت اور فرانس نے شعبہ عسکری شعبہ (فوجی ڈومین) میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارت کی وزارت خارجہ کے اعلامیہ کے مطابق نئی دہلی میں دونوں فریقوں نے ’تخفیف اسلحہ اور جوہری عدم پھیلاؤ، کیمیائی، حیاتیاتی ڈومینز کے ساتھ خلائی سلامتی، فوجی ڈومین میں اے آئی سمیت روایتی ہتھیاروں‘‘ سے متعلق ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پربھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے کہا کہ انہوں نے فرانسیسی وزارت خارجہ کی سیکرٹری جنرل این میری ڈیسکوٹس سے ملاقات کی،ہماری اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط سے مضبوط تر ہورہی ہے، دفتر خارجہ کی مشاورت اور اسٹریٹجک اسپیس ڈائیلاگ اس کی رفتار کو مزید بڑھا دے گا۔

  • اخوان المسلمین کے 8 رہنماؤں کو سزائے موت  سنا دی گئی

    اخوان المسلمین کے 8 رہنماؤں کو سزائے موت سنا دی گئی

    قاہرہ: مصر کی فوجداری عدالت نے اخوان المسلمین کے 8 رہنماؤں کو سزائے موت سنا دی-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اخوان المسلمین کے 8 رہنماؤں میں 8ویں سپریم گائیڈ 80 سالہ محمد بدیع بھی شامل ہیں جو طویل عرصے سے پابند سلاسل ہیں چند برس قبل محمد بدیع کو سزائے موت سنائی گئی تھی تاہم بعد میں ان کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا گیا تھا،سزائے موت پانے والوں میں 79 سالہ قائم مقام گائیڈ محمود عزت بھی شامل ہیں جنہیں برسوں روپوش رہنے کے بعد اگست 2020 میں قاہرہ سے گرفتار کیا گیا تھا،6 دیگر رہنماؤں یعنی محمد البلتاگی، عمرو محمد ذکی، اسامہ یاسین، صفوت ہیگزی، عاصم عبدالمجید اور محمد عبدالمقصود کو بھی سزائے موت سنائی گئی۔

    مصر نے اخوان المسلمین کو 2013 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا مصری حکومت کی جانب سے یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب حکومت مخالف مظاہروں کے بعد فوج نے صدر مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور اس کے بعد اسکندریہ کے سیدی گبر ضلع میں پرتشدد فسادات میں 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

    پاکستان میں افغان نژاد کالعدم ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے ملوث ہونے کی تصدیق

    حکومت نے ان فسادات کی تمام تر ذمہ داری اخوان المسلمین پر عائد کی جبکہ اخوان المسلمین نے ہلاکتوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے صدر مرسی کو معزول کیے جانے کے بعد سے اسلام پسند اخوان المسلمین کے متعدد رہنماؤں کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔

    امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی الیکشن کیلئے اہل قرار دیدیا

    سپریم اسٹیٹ سیکیورٹی پراسیکیوشن نے اپریل 2021 میں کیس کو اسٹیٹ سیکیورٹی کریمنل کورٹ میں بھیج دیا تھا اس مقدمے میں قائدین کی جانب سے قاہرہ کے مشرق میں النصر روڈ پر رابع العدویہ دھرنے سے لے کر ’’پلیٹ فارم میموریل‘‘ تک ایک اجتماع منعقد کرنے کے الزامات شامل تھے۔

    چین کا بھارت کے 17 رافیل لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ

  • چین کا  بھارت کے 17 رافیل لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ

    چین کا بھارت کے 17 رافیل لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ

    بیجنگ: چین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنے جے 20 اسٹیلتھ جیٹ طیاروں کا استعمال کرتے ہوئے بھارت کے 17 رافیل لڑاکا طیاروں کو مار گرایا ہے-

    باغی ٹی وی : چینی میڈیا کے مطابق پی ایل اے ایسٹرن تھیٹر کمانڈ کے ماتحت وانگ ہائی ایئر گروپ سے تعلق رکھنے والے ایک چینی پائلٹ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ 2020 کی نقلی مشقوں میں رافیل لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا، وانگ ہائی ایئر گروپ چین کا پہلا فضائی ونگ ہے جو جے20 لڑاکا طیاروں کا استعمال کر رہا ہے۔

    پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس (پی ایل اے اے ایف) کی اس کامیابی کی اطلاع ملک کی ایسٹرن تھیٹر کمانڈ سے وانگ ہائی ایئر گروپ سے وابستہ ایک چینی پائلٹ نے دی۔

    بلغاریہ کے ملٹری ڈیفنس پورٹل کی رپورٹ کے مطابق، چینی پائلٹ نے بتایا کہ اس نے اور اس کے ساتھیوں نے فضائی جنگی تخروپن کے دوران ہندوستانی فضائیہ کے 17 رافیل لڑاکا طیاروں کو "مار گرایا”۔

    مولانا فضل الرحمن کا شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی سے ملاقات

    ملٹری سمیولیشنز یا وار گیمز میں ایسے ماحول تیار کیے جاتے ہیں جہاں جنگی نظریات کو حکمت عملی اور اسٹریٹیجک حل تیار کرنے اور حقیقی جنگ میں غلبہ حاصل کرنے کے لیے جانچا جاتا ہے۔

    ملٹری سمیولیشنز کے تحت فلائٹ سمیولیٹرز کا استعمال فضائی لڑائی کو دوبارہ بنانے اور اصل ہوائی جہاز کے کاک پٹ کے حقیقت پسندانہ جسمانی پہلوؤں کو بہتر سمجھنے کے لیے کیا جاتا ہے، جو اکثر فل موشن پلیٹ فارم پر نصب ہوتا ہے اور اصلی تجربہ فراہم کرتا ہے۔

    اس کا استعمال پائلٹوں کی تیاری، لڑاکا طیاروں کی خصوصیات پر تحقیق کرنے اور حقیقی جنگی طیارے میں سوار ہوئے بغیر ہینڈلنگ کی خصوصیات کو کنٹرول کرنے کے لیے کیا جاتا ہے،یہ فائٹر جیٹ کی پرواز، فلائٹ کنٹرول کے اطلاق، دیگر ہوائی جہاز کے نظام کے اثرات، اور ہوا کی کثافت، ہنگامہ خیزی، ونڈ شیئر، بادل، بارش وغیرہ جیسے بیرونی عوامل پر جیٹ کے رد عمل کی مساوات کو دوبارہ تیار کرتا ہے۔

    پاکستان میں افغان نژاد کالعدم ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے ملوث ہونے کی تصدیق

    اگرچہ اس طرح کے نقوش کو ماہرین نے ان کی تخمینی نوعیت اور حقیقی جنگ میں غیر یقینی صورتحال کو نقل کرنے میں ناکامی کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے، لیکن یہ اب بھی فوجیوں کے لیے ضروری ہیں تاکہ وہ اپنے طیاروں کی جانچ کریں اور دشمن سے الجھے بغیر پریکٹس کرسکیں۔

    ہندوستانی فضائیہ 36 رافیل لڑاکا طیاروں کا مالک ہے جسے Dassault Aviation نے تیار کیا تھا اور گزشتہ سال، مبینہ طور پر ان 4.5 جنریشن کے لڑاکا طیاروں میں سے 26 کو اپنی بحریہ کے استعمال کے لیے آرڈر کیا تھا رافیل لڑاکا طیارے کا بحری قسم ہندوستان کے طیارہ بردار بحری جہازوں پر استعمال کرنے کے لیے ہے۔

    رافیل لڑاکا طیاروں کے علاوہ، ہندوستانی فضائیہ کے پاس تقریباً 250 Sukhoi Su-30MKI لڑاکا طیارے بھی ہیں، جن میں سے زیادہ تر ہندوستانی ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL) نے مقامی طور پر بنائے ہیں۔

    استحکام پاکستان پارٹی کا صدر کے انتخاب میں آصف علی زرداری کو ووٹ دینے …

    چین اور دیگر ممالک کی فضائی افواج اپنے آپ کو اور اپنے اثاثوں کو حقیقی جنگی حالات میں بے نقاب کیے بغیر اپنی فضائی حکمت عملیوں اور حکمت عملیوں کو جانچنے اور تیار کرنے کے لیے فضائی جنگی نقلی استعمال کرتی ہیں۔

    اس طرح، ان نقالی کے نتائج بنیادی طور پر فوجی منصوبہ سازوں کے مطالعہ کے لیے ہیں اور یہ اس بات کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں کہ میدان جنگ میں کیا واقع ہو سکتا ہے۔

    J-20 "مائٹی ڈریگن” اور رافیل لڑاکا طیارے دونوں AESA (ایکٹو الیکٹرانک سکینڈ اری) ریڈار سے لیس ہیں، لیکن پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے میں 4.5 جنریشن کے فرانسیسی ساختہ طیاروں کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ریڈار ہونے کی اطلاع ہے۔

    مزید برآں، J-20 لڑاکا طیارہ اسٹیلتھ کے قابل ہے، رافیل کے برعکس، جس میں صرف کم ریڈار کراس سیکشن ہے۔

    یوٹیلیٹی اسٹورز پرساڑھے7 ارب روپےکا رمضان ریلیف پیکج کا اعلان کردیا گیا

  • امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی الیکشن  کیلئے اہل قرار دیدیا

    امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی الیکشن کیلئے اہل قرار دیدیا

    واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کے لیے اہل قرار دیدیا۔

    باغی ٹی وی : بی بی سی کےمطابق امریکی سپریم کورٹ نےقراردیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدارتی انتخابات کے لیے اہل ہیں، ریاستوں کی سپریم کورٹ فیصلہ نہیں کر سکتیں کہ کوئی صدارتی امیدوار نااہل ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کو کولوراڈو کے بیلٹ پیپر سے غلط طریقے سے ہٹایا گیا، امریکی سپریم کورٹ نے متفقہ طور پر 6 جنوری 2021 کے کیپٹل ہل فسادات کے دوران ٹرمپ کو پرائمری بیلٹ سے ہٹانے کے فیصلے کو مسترد کردیا۔

    واضح رہے کہ رہے گزشتہ سال ریاست کولوراڈو کی سپریم کورٹ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا تھا عدالت نے کیپٹل ہل پر حملے میں ان کے کردار کے لیے امریکی آئین میں بغاوت کی شق کا حوالہ دیا،کولوراڈو کی سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ‘ججوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ ٹرمپ 14ویں ترمیم کے سیکشن تین کے تحت عہدہ صدارت کے اہل ہی نہیں ہیں۔

  • پاکستان میں افغان نژاد کالعدم ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے ملوث ہونے کی تصدیق

    پاکستان میں افغان نژاد کالعدم ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے ملوث ہونے کی تصدیق

    پاکستان میں افغان نژاد کالعدم ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوگئی۔

    باغی ٹی وی :شمالی وزیر ستان کے علاقے سپن وام میں 28 فروری 2024ء کو ہلاک چھ دہشتگردوں کی شناخت کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے یہ دہشت گرد سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے تھے، مصدقہ اطلاعات کے مطابق ہلاک دہشتگردوں کا تعلق افغانستان سے ہے۔

    مقامی ذرائع نے آپریشن کے دوران ایک خودکش حملہ آور کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے کالعدم ٹی ٹی پی کو افغان دہشتگردوں کی پشت پناہی بھی حاصل ہے، ٹی ٹی پی کا افغان شہریوں پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے ہلاک ہونے والے دہشتگردوں میں محمد انور ولد انگور خان اور شبیر جان عرف عابد کی رہائش خوست، حمزہ اور فرمان کا تعلق لوگر، گل جان کا تعلق پکتیکا سے ہے ، آپریشن کے دوران ہلاک دہشت گردوں میں طلحہ عرف ضرار بھی شامل ہے۔

    ہلاک دہشتگردوں میں تیر تنگی، شمالی وزیرستان کا رہائشی 16 سالہ مبینہ خودکش بمبار عابد اللہ ولد جمال بھی شامل ہے ٹی ٹی پی کی جانب سے افغان شہریوں کا پاکستان کیخلاف دہشتگرد کارروائیوں میں استعمال، افغان عبوری حکومت کے دعوؤں کی نفی اور سوالیہ نشان ہے۔

    خطے کی سکیورٹی کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ افغان عبوری حکومت کو اپنے شہریوں کو پاکستان کیخلاف دہشتگرد کارروائیوں سے روکنے کیلئے ٹھوس اور مخلص اقدامات کرنے چاہئیں جب کہ عالمی برادری پاکستان میں ہونے والی افغان دہشتگردوں کی سرگرمیاں روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

  • فوجی حکام کی لیک آڈیو پر روس اور جرمنی کے درمیان  کشیدگی

    فوجی حکام کی لیک آڈیو پر روس اور جرمنی کے درمیان کشیدگی

    جرمن حکومت نے الزام لگایا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن جرمنی میں سیاسی انتشار پیدا کر کے یوکرین جنگ کے حوالے سے مسائل کھڑے کرنا چاہتی ہے۔

    باغی ٹی وی :جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریس نے روس کے سرکاری ٹی وی کی طرف سے جرمن فوجی قیادت کی ایک میٹنگ کی آڈیو منظرِ عام پر لائے جانے کے حوالے سے کہا کہ روسی قیادت جرمنی میں سیاسی انتشار پیدا کر کے یوکرین جنگ کے حوالے سے مسائل کھڑے کرنا چاہتی ہے۔

    روسی سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی کی سربراہ مارگریٹا سمونیا نے حال ہی میں بنڈ یشویئر کے علاقے میں اعلیٰ فوجی حکام کی ایک میٹنگ کی آڈیو جاری کی ہے جس میں انہیں جرمن ساختہ ٹورس میزائلوں سے کرائمیا میں روسی فوج پر حملے کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔

    نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف نے حلف اٹھا لیا،عارف علوی نے حلف لیا

    میٹنگ میں جرمن فضائیہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل انگو گرہارٹمز نے بھی شرکت کی تھی،روس نے 2014 میں کرائمیا پر قبضہ کرلیا تھا، جرمن فوجی حکام نے اپنی میٹنگ میں جزیرہ نما کرائمیا کو مین لینڈ رشیا سے ملانے والے آبنائے کرچ کے پُل کو تباہ کرنے کے امکان پر بھی بات کی تھی، جرمن جریدے ڈیر اسپیگل نے بتایا ہے کہ ماہرین اس آڈیو کے اصلی ہونے کی تصدیق کرچکے ہیں۔

    شہباز شریف خود ہی اسمبلی میں مان گئے کہ انہیں اپوزیش لیڈر چن لیا گیا،یاسمین …

    جرمن چانسلر اولف شولز نے اعلیٰ فوجی حکام کی میٹنگ کی آڈیو لیک ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا ہے،یوکرین کے صدر نے کئی بار جرمن حکومت سے استدعا کی ہے کہ روسی فوج کا بہتر انداز سے سامنا کرنے کے لیے جدید ترین ٹورس میزائل فراہم کیے جائیں۔

    قومی اسمبلی اجلاس،اپوزیشن کا ہنگامہ،کورم کی نشاندہی کے بعد ملتوی

  • سونے کی فی تولہ قیمت میں اضافہ ،ڈالر کی قیمت میں 7 پیسے کی کمی

    سونے کی فی تولہ قیمت میں اضافہ ،ڈالر کی قیمت میں 7 پیسے کی کمی

    کراچی: ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں مسلسل چوتھے روز اضافہ ہوا ہے،جبکہ انٹربینک تبادلہ مارکیٹ میں آج پاکستانی روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 7 پیسے کم ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی: آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت 900 روپے بڑھ کر2 لاکھ 21 ہزار 200 روپے ہوگئی، دس گرام سونے کی قیمت 771 روپے اضافے سے 1 لاکھ89 ہزار 643 روپے ہو گئی جبکہ عالمی بازار میں سونے کی قیمت 3 ڈالر اضافے سے 2086 ڈالر فی اونس ہو گئی ہے،پاکستان میں سونے کی فی اونس قیمت 20 ڈالر پریمیم شامل کرکے 2106 ڈالر فی اونس ہے۔

    ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا ، 8ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مستعفی ہو گئے

    دوسری جانب انٹربینک تبادلہ میں نئےکاروباری ہفتےکے پہلے روز ڈالر7 پیسے مہنگا ہوا ہے انٹربینک میں کاروبار کے اختتام پر ایک امریکی ڈالر کی قیمت 279 روپے 26 پیسے ہے، انٹربینک کےگزشتہ کاروباری دن میں ڈالر 279 روپے 19 پیسے پر بند ہوا تھا۔

    سینیٹ اجلاس،سوشل میڈیا پر پابندی کے حوالے سے قرارداد واپس

    نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف نے حلف اٹھا لیا،عارف علوی نے حلف لیا

  • 2024 کا پہلا سورج گرہن 8 اپریل کو  ہوگا

    2024 کا پہلا سورج گرہن 8 اپریل کو ہوگا

    2024 کا پہلا سورج گرہن 8 اپریل کو ہوگا-

    باغی ٹی وی: سورج گرہن کا مشاہدہ شمالی امریکی ممالک جیسے میکسیکو، امریکا اور کینیڈا میں کیا جا سکے گا،اگست 2017 کے بعد یہ پہلا موقع ہو گا جب امریکا میں مکمل سورج گرہن کا مشاہدہ کیا جائے گا اور اگلی بار اسے دیکھنے کے لیے خطے کے لوگوں کو اگست 2044 تک انتظار کرنا ہوگا، دنیا میں آخری بار مکمل سورج گرہن دسمبر 2021 میں ہوا تھا مگر اس کا مشاہدہ صرف انٹار کٹیکا میں ہوا تھا۔

    سورج گرہن کا آغاز میکسیکو سے ہو گا جہاں سے شمال مشرقی سمت میں امریکا کی جانب سے سفر کرتا ہوا کینیڈا کے مشرقی صوبوں میں اختتام پذیر ہوگا، صرف امریکا میں ہی 3 کروڑ 30 لاکھ افراد سورج گرہن کا مشاہدہ کر سکیں گے،مکمل سورج گرہن کے دوران چاند کا سایہ مکمل طور پر سورج کو چھپا لیتا ہے اور اس دوران دن کے وقت بھی اندھیرا چھا جاتا ہے۔

    ایک ہی خاندان کے 5 افراد کو قتل کرنے والے 3 مرکزی ملزمان …

    امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق 8 اپریل کو ہونے والے مکمل سورج گرہن کا دورانیہ ساڑھے 3 سے 4 منٹ تک ہو گا، چاند اچانک سورج کے سامنے نہیں آتا بلکہ جزوی گرہن سے اس عمل کا آغاز ہوتا ہے جس سے سورج ہلال کی طرح نظر آنے لگتا ہے،اس جزوی سورج گرہن کا دورانیہ 70 سے 80 منٹ تک ہوگا،8 اپریل کو سورج گرہن کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق 9 اپریل کی شب 12 بج کر 7 منٹ کو ہوگا اور اس کا اختتام ایک بج کر 46 منٹ پر ہوگا، اس کے بعد اگلا مکمل سورج گرہن اگست 2026 میں ہوگا جو گرین لینڈ، آئس لینڈ، اسپین اور پرتگال جیسے ممالک میں دیکھنے میں آئے گا۔

    نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف نے حلف اٹھا لیا،عارف علوی نے حلف لیا

    جب چاند سورج کے سامنے سے گزرتا ہے تو ہمارے نظام شمسی کی شعاعوں سے چاند کے کونے جگمگاتے محسوس ہوتے ہیں، مگر مکمل گرہن کے ساتھ جگمگاہٹ غائب ہو جاتی ہے، میکسیکو، امریکا اور کینیڈا کے جو علاقے سورج گرہن کے راستے میں نہیں ہوں گے، وہاں کے رہائشی جزوی گرہن کا مشاہدہ کر سکیں گے جس میں چاند صرف سورج کے چہرے کو بلاک کرتا ہے۔

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے وزیر اعلیٰ سندھ کی ملاقات

  • معروف پاکستانی گلوکار امجد پرویز انتقال کر گئے

    معروف پاکستانی گلوکار امجد پرویز انتقال کر گئے

    معروف پاکستانی گلوکار امجد پرویز انتقال کر گئے۔

    باغی ٹی وی : اہل خانہ کے مطابق ڈاکٹر امجد پرویز گردوں کے مریض اور ایک ماہ سے بیمار تھے، ان کی عمر 79 سال تھی،امجد پرویز کی نماز جنازہ پیر 4 مارچ بعد نماز ظہر مین بلیوارڈ مسجد شادمان لاہور میں ادا کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے گلوکار امجد پرویز کے انتقال پر اظہار تعزیت کا اظہار کیا ہے،مریم نواز نے کہا کہ امجد پرویز کی فن موسیقی میں خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔

    ڈاکٹر امجد پرویز پیشے کے اعتبار سے انجینئر تھے، انہوں نے کئی اردو اور انگریزی تصانیف بھی لکھیں، انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز 1954 میں ریڈیو پاکستان کے پروگرام ”ہونہار“ میں بطور چائلڈ آرٹسٹ شرکت سے کیا اور زندگی بھر ریڈیو پاکستان کے ساتھ منسلک رہے۔

    تعلیمی ترقی ضامن معاشی ترقی

    ڈاکٹر امجد پرویز نے شام چوراسی گھرانے کے استاد نزاکت علی خان سے باقاعدہ کلاسیکل موسیقی کی تربیت حاصل کی،70 کی دہائی میں ریڈیو پاکستان لاہور مرکز سے ڈاکٹرامجد پرویز کی گائی سو سے زائد غزلیں اور گیت نشر ہوئے،امجد پرویز نے موسیقی سمیت دیگر موضوعات پر بھی اردو اور انگریزی زبان میں کئی کتابیں لکھیں اور طویل عرصہ ایک قومی اخبار سے بطور کالم نگار بھی منسلک رہے،ڈاکٹر امجد کو 1977 میں بہترین ٹیکنیکل پیپر لکھنے پر صدارتی گولڈ میڈل، سن 2000ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور 2009 میں ڈاکٹر اے کیو خان لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

    نامورادیبہ،شاعرہ،عالمہ ، ڈرامہ رائٹر، براڈ کاسٹر اور ریڈیو کمپیئر افروز رضوی