Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • زمین نام نہ کرنے پر شوہر اور دیوروں نے خاتون کا سر مونڈھ دیا

    زمین نام نہ کرنے پر شوہر اور دیوروں نے خاتون کا سر مونڈھ دیا

    لودھراں: باہمنی والا میں زمین نام نہ کرنے پر شوہر اور دیوروں نے خاتون کا سر مونڈھ دیا۔

    باغی ٹی وی: پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے خاتون کے شوہر اور دونوں دیوروں کو گرفتار کرلیا،متاثرہ خاتون کی والدہ کا کہنا ہے کہ داماد نے شادی کے وقت ایک کنال زمین میری بیٹی کے نام کی تھی، 10 سال سے میری بیٹی کے کوئی اولاد نہیں ہوئی، میرا داماد اور اس کےبھائی میری بیٹی سے زمین واپس اپنے نام کروانا چاہتے ہیں۔

    دوسری جانب بہاولنگر میں پولیس اہلکار نے ساتھی کے ساتھ مل کر خاتون کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا،اور ویڈیو بھی بنائی-

    پولیس اہلکار کی ساتھی کے ساتھ ملکر خاتون سے مبینہ زیادتی

    پولیس ترجمان کے مطابق پولیس اہلکار 25 فروری کو خاتون کو نوکری کاجھانسہ دے کر نامعلوم مقام لےگیا، مبینہ زیادتی کی اور ویڈیو بھی بنائی، خاتون سے مبینہ زیادتی کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور پولیس اہلکار کو فوری طور پر معطل کرکےمحکمانہ کارروائی کا آغازکردیا گیا ہے۔

    پیٹرول کی قیمت میں اضافہ

    خاتون کے مطابق پولیس اہلکار نصیر اور وہ آپس میں قریبی رشتہ دار ہیں، ملزم نےدھمکی دی کہ کسی کو بتایا تو ویڈیو وائرل ہوجائےگی، ڈی پی اونصیب اللہ خان نے واقعےکا نوٹس لیتے ہوئےکہا ہےکہ متاثرہ لڑکی کے ساتھ انصاف کے تقاضے پورےکیے جائیں گے ۔

    29 فروری کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

  • کینیڈا میں پی آئی اے کا ایک اور میزبان سلپ

    کینیڈا میں پی آئی اے کا ایک اور میزبان سلپ

    ٹورنٹو: پی آئی اے کے فضائی میزبانوں کے سلپ ہونے میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، ٹورنٹو پرواز پر تعینات ایک اور فضائی میزبان مبینہ طور پر ہوٹل سے غائب ہوگیا،جس کے بعد چند ماہ کےد وران ٹورنٹو پروازوں پر تعینات 12 فضائی میزبان سلپ ہوچکے ہیں-

    باغی ٹی وی : پی آئی اے ترجمان نے فضائی میزبان کے غائب ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 29 فروری کو پی آئی اے کی پرواز نمبر 782 پر تعینات فضائی میزبان واپسی کے لئے ڈیوٹی کے لئے نہیں پہنچا، جبران بلوچ نامی فلائٹ اسٹیورڈ اس ماہ میں سلپ ہونے والا دوسرا فضائی میزبان ہے، کچھ روز قبل ایک خاتون ائیر ہوسٹس بھی ہوٹل سے لاپتہ ہوچکی ہیں، عملے کی جانب سے جبران بلوچ کے کمرے کی تلاشی پر اس کے سلپ ہونے کا انکشاف ہوا جبران بلوچ کے مبینہ طور پر غائب ہونے اطلاع ٹورنٹو پولیس اور بارڈر سیکیورٹی فورس کو اطلاع کردی ہے۔

    ٹورنٹو پرواز پر تعینات عملے کے پاسپورٹ حکام کے پاس جمع کرانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا، چند ماہ میں ٹورنٹو پروازوں پر تعینات 12 کے قریب فضائی میزبان سلپ ہوچکے ہیں۔

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان

    الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ کبھی نہیں کیا، فافن کی شیعب شاہین کے دعوے …

    لاہور میں میلہ چراغاں پر 2 مارچ کو چھٹی کا اعلان

  • پولیس اہلکار کی ساتھی کے ساتھ ملکر خاتون سے مبینہ زیادتی

    پولیس اہلکار کی ساتھی کے ساتھ ملکر خاتون سے مبینہ زیادتی

    بہاولنگر : پولیس اہلکار نے ساتھی کے ساتھ مل کر خاتون کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا،اور ویڈیو بھی بنائی-

    باغی ٹی وی:پولیس ترجمان کے مطابق پولیس اہلکار 25 فروری کو خاتون کو نوکری کاجھانسہ دے کر نامعلوم مقام لےگیا، مبینہ زیادتی کی اور ویڈیو بھی بنائی، خاتون سے مبینہ زیادتی کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور پولیس اہلکار کو فوری طور پر معطل کرکےمحکمانہ کارروائی کا آغازکردیا گیا ہے۔

    خاتون کے مطابق پولیس اہلکار نصیر اور وہ آپس میں قریبی رشتہ دار ہیں، ملزم نےدھمکی دی کہ کسی کو بتایا تو ویڈیو وائرل ہوجائےگی، ڈی پی اونصیب اللہ خان نے واقعےکا نوٹس لیتے ہوئےکہا ہےکہ متاثرہ لڑکی کے ساتھ انصاف کے تقاضے پورےکیے جائیں گے ۔

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان

    لاہور میں میلہ چراغاں پر 2 مارچ کو چھٹی کا اعلان

    الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ کبھی نہیں کیا، فافن کی شیعب شاہین کے دعوے …

  • 29 فروری کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    29 فروری کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    29 فروری کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    1980ء – یگال آلون، اسرائیلی جنرل اور سیاستدان۔یگال اسرائیل ڈیفنس فورسز کا ایک جنرل اور اسرائیل کا قائم مقام وزیر اعظم تھا۔

    ٭1968ء۔۔۔پاکستان کے نامور طبلہ نواز استاد اللہ دتہ نے کراچی میں وفات پائی اور علی باغ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ وہ 1908ء کے لگ بھگ سیالکوٹ کے ایک گاؤں بہاری پور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد رحیم بخش سارنگی نواز تھے۔ استاد اللہ دتہ نے کم عمری میں طبلہ بجانا شروع کردیا تھا ان کے اس شوق کو جلابخشنے میں ان کے استاد، استاد قادر بخش کا بڑا اہم کردار تھا۔ استاد اللہ دتہ نے طبلہ بجانے میں بڑے کمالات پیدا کئے۔ وہ جتنا اچھا طبلہ کسی کی سنگت میں بجاتے تھے اتنا ہی اچھا طبلہ اکیلی پرفارمنس میں بجاتے تھے وہ بیان، گت اور پرت سب میں یکساں اختصاص رکھتے تھے۔ انہیں طبلہ نوازی میں ان کے عبور کی وجہ سے ’’پری پیکر‘‘ کا خطاب دیا گیا تھا۔

    1992ء۔۔محبہ انونو (22 ستمبر 1897ء) 11 نومبر 1938ء سے لے کر 27 مئی 1950ء تک اپنے شوہر عصمت انونو کی صدارت ترکیہ کے دوران میں ترکی کی خاتون اول تھیں وہ 22 ستمبر 1897ء کو استنبول کے ضلع فاتح کے محلہ سلیمانی میں پیدا ہوئیں۔ اس کے والد تپ دق (سل) کی وجہ سے انتقال کر گئے جب وہ تین سال کی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد اس کا بھائی بھی فوت ہو گیا۔ خاندان میں ہونے والے نقصانات کے بعد، محبہ کی ماں اس کے ساتھ دادا کے گھر چلی گئی، جہاں اس کی پرورش ہوئی۔ خاندان کے فیصلے کی وجہ سے اس نے پہلی جماعت کے بعد سیکنڈری اسکول چھوڑ دیا۔اس نے 13 اپریل 1916ٰء کو سلطنت عثمانیہ کی فوج کے کرنل (عثمانی ترک زبان: میرالے) کے ایک افسر مصطفی عصمت انونو سے شادی کی۔ 21 دن بعد اس کے شوہر پہلی جنگ عظیم کے مشرق وسطیٰ کے محاذ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ 30 اکتوبر 1918ء کو معاہدۂ مدروس کے اختتام کے بعد ہی گھر واپس آئیں۔ جوڑے کا پہلا بیٹا 1919ء میں پیدا ہوا تھا۔ مصطفیٰ عصمت 1920ء میں ترکی کی جنگ آزادی میں شامل ہونے کے لیے اناطولیہ گئے تھے۔ ایک افسر کی شریک حیات ہونے کے ناطے، جسے عثمانی انتظامیہ نے قومی مزاحمت میں ملوث ہونے کی وجہ سے موت کی سزا سنائی تھی، محبہ اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ اپنے شوہر کے آبائی شہر مالاطیہ چلی گئیں اور برسوں وہیں رہیں۔ جدوجہد کے دور میں 1921ء میں اس کے بیٹے ایزیٹ کا انتقال اس دوران ہوا۔10 نومبر 1938ء کو ترکی جمہوریہ کے بانی اور پہلے صدر، مصطفٰی کمال اتاترک کی وفات کے بعد، مصطفٰی عصمت انونو اگلے دن صدر منتخب ہوئے۔ محبہ انونو اس کے بعد ترکی جمہوریہ کی دوسری خاتون اول کی حیثیت سے سرکاری صدارتی رہائش گاہ میں منتقل ہوگئیں، جہاں وہ 27 مئی 1950ء تک رہیں۔

    1996ء۔۔شمس پہلوی پہلوی خاندان کی ایک ایرانی شہزادی تھی، جو ایران کے آخری شاہ محمد رضا پہلوی کی بڑی بہن تھی۔ اپنے بھائی کے دور میں وہ ریڈ لائین اینڈ سن سوسائٹی کی صدر تھیں۔شمس پہلوی 28 اکتوبر 1917ء کو تہران میں پیدا ہوئیں وہ رضا شاہ اور ان کی تدج الملوک کی بڑی بیٹی تھیں۔جب 1932ء میں تہران میں دوسری مشرقی خواتین کی کانگریس کا اہتمام کیا گیا تو شمس پہلوی نے اس کی صدر اور صدیقہ دولت آبادی نے اس کی سیکرٹری کے طور پر کام کیا۔8 جنوری 1936ء کو، انھوں نے اور ان کی والدہ اور بہن نے کشف حجاب (پردے کے خاتمے) میں ایک اہم علامتی کردار ادا کیا جو تہران ٹیچر کالج میں گریجویشن کی تقریب میں شرکت کرکے خواتین کو عوامی معاشرے میں شامل کرنے کی شاہ کی کوششوں کا ایک حصہ تھا۔ شمس پہلوی نے 1937ء میں اپنے والد کے سخت حکم کے تحت ایران کے اس وقت کے وزیر اعظم محمود دجام کے بیٹے فریدون دجم سے شادی کی، لیکن یہ شادی ناخوشگوار رہی اور رضا شاہ کی موت کے فوراً بعد دونوں نے طلاق لے لی۔ 1941 ءمیں ایران پر اینگلو سوویت حملے کے بعد رضا شاہ کی معزولی کے بعد، شمس اپنے والد کے ساتھ جلاوطنی کے دوران میں پورٹ لوئس، ماریشس اور بعد ازاں جوہانسبرگ، جنوبی افریقہ گئیں اور اس سفر کی اپنی یادداشتیں ماہانہ قسطوں میں1948ء میں اخبار میں ایٹیلا میں شائع کیں۔مہرداد پہلوبڈ سے دوسری شادی کے بعد وہ مختصر مدت کے لیے اپنے عہدوں اور اعزازات سے محروم رہی اور 1945ء سے 1947ء تک امریکا میں مقیم رہیں۔ بعد میں، عدالت کے ساتھ مفاہمت ہو گئی اور آبادان بحران کی ہلچل کے دوران یہ جوڑا صرف تہران واپس آیا۔ انھوں نے 1940ء کی دہائی میں رومن کیتھولک مذہب اختیار کیا۔ شہزادی شمس کو شاہ کے بہترین دوست ارنسٹ پیرون نے کیتھولک مذہب اختیار کرنے پر آمادہ کیا۔ اس کے بعد اس کے شوہر اور بچوں نے کیتھولک مذہب اپنایا۔1953ء کی بغاوت کے بعد ایران واپس آنے کے بعد، انھوں نے اپنے بھائی کی حکومت کو دوبارہ قائم کیا، انھوں نے اپنی بہن شہزادی اشرف پہلوی کے برعکس عوامی سطح پر خود کو کم رکھا اور اپنی سرگرمیوں کو باپ سے ملنے والی وراثت میں وسیع دولت کے انتظام تک محدود رکھا۔1960ء کی دہائی کے اواخر میں، اس نے فرینک لائیڈ رائٹ فاؤنڈیشن کے معماروں کو کارج کے قریب مہرشہر میں موروارڈ محل اور مازندران کے چلوس میں ولا مہرفرین کی تعمیر کے لیے کمیشن دیا۔وہ اسلامی انقلاب کے بعد ایران چھوڑ کر امریکا چلی گئیں اور 29 فروری 1996ء کو اپنی سانتا باربرا اسٹیٹ میں کینسر کی وجہ سے انتقال کر گئیں۔

    2000ء۔۔عارف نکئی ایک پاکستانی سیاست دان تھے۔ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب بھی رہے۔وہ نکئی مثل کے معزز جاٹ خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے پردادا سردار ایشر سنگھ نکئی پیدائشی سکھ تھے جنھوں نے سنہ 1879ء میں اسلام قبول کیا تھا۔عارف نکئی 29 فروری 2000ء کو لاہور میں فوت ہوئے تھے اور آبائی گاؤں واں آدھن میں دفن ہیں

    2016ء – ممتاز قادری یکم جنوری 1985 کو پیدا ہوئے تھے۔ان کا یوم شہادت 29 فروری 2016 ہے۔انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ممتاز قادری کو 01 اکتوبر2011 کو تعزیرات پاکستان اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دومرتبہ موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ ممتاز قادری پنجاب کی ایلیٹ فورس کا اہلکار تھے اور وہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے سرکاری محافظوں میں شامل تھے ۔انہوں نے گورنر کو 04 جنوری 2011ء میں اسلام آباد میں ایسے وقت گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا جب سلمان تاثیر ایک ریسٹورنٹ سے نکل کر اپنی گاڑی میں بیٹھ رہے تھے۔پنجاب کے اس وقت کے گورنر سلمان تاثیر نے 2010ء میں ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے ایک مقدمے میں سزا سنائے جانے کے بعد، ا س مجرمہ سے شیخوپورہ جیل میں ملاقات کی تھی اوراس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری سے سزا معاف کروانے کا وعدہ کیا تھا۔ ممتاز قادری نے گرفتاری کے بعد اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ ا س نے سلمان تاثیر کو اس لیے قتل کیا کیوں کہ گورنر نےتوہین رسالت کے قانون کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے اس کی تبدیلی کی حمایت کی تھی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے ممتاز قادری کی اپیل پر قتل کے مقدمے میں سزائے موت کو برقرار جبکہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت دی جانے والی موت کی سزا کو کالعدم قرار دیا ۔06 اکتوبر 2015 کو سپریم کورٹ نے ممتاز قادری پر دہشت گردی کی دفعات بھی بحال کردیں جنہیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ختم کالعدم قرار دیا تھا ۔14 دسمبر 2015 کو سپریم کورٹ نے ممتاز قادری کی سزائے موت کے خلاف نظر ثانی کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے 2 مرتبہ موت کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دیا۔

    اس کے بعد ممتاز قادری کے اہل خانہ نے صدر ممنون حسین سے انصاف کی اپیل کی اس لیے کہ ممتاز قادری نے ایک توہین رسالت کے مجرم جو اسلام میں واجب القتل تھا کو قتل کیا ہے لہذا اسلامی ریاست کے سربراہ کی حثیت سے صدر مملکت ممتاز قادری کو انصاف فراہم کریں لیکن یہ اپیل رد کر دی گئی۔ اپیل پر فیصلہ دینے سے پہلے ان کی سیکیورٹی بڑھادی گئی تھی۔ممتاز قادری کو 29 فروری2016ء کو اڈیالہ جیل میں پھانسی دی گئی۔جیل حکام کے مطابق ممتاز قادری کو اتوار اور پیر کی درمیانی رات پھانسی دی گئی۔پھانسی کے وقت اڈیالہ جیل جانے والے راستے کو سیل کر دیا گیا تھا اور ان کی لاش قانونی کارروائی پوری کرنے کے بعد اہلِ خانہ کے حوالے کر دی گئی ہے۔ممتاز قادری کو پھانسی دیے جانے کا معاملہ انتہائی خفیہ رکھا گیا اور اس بارے میں پنجاب کے محکمہ جیل خانہ جات کے چند افسران ہی باخبر تھے۔ پھانسی دینے والے شخص کو خصوصی گاڑی کے ذریعے اتوار کی شب لاہور سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل پہنچایا گیا جبکہ عموماً پھانسی دینے والے جلاد کو دو دن پہلے آگاہ کیا جاتا ہے کہ اسے کس جیل میں قیدیوں کو تختہ دار پر لٹکانا ہے۔ پھانسی گھاٹ میں موجود لو گوں کا کہنا ہے کہ ممتاز قادری پھانسی کے وقت حالت روزہ میں تھا اور تختہ دار پر لٹکتے ہوئے اس کی زبان پر درود سلام جاری تھا۔نماز جنازہ یکم مارچ 2016 کو 4 بجے لیاقت باغ میں ادا کی گئی جس میں ایک اندازے کے مطابق کئی لاکھ افراد نے شرکت کی۔ نماز جنازہ کی امامت علامہ سید حسین الدین شاہ ص، مہتمم جامعہ رضویہ ضیاء العلوم ،راولپنڈی ، سرپرست اعلیٰ تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان نے کرائی۔ جنازہ میں لاکھوں افراد کی شرکت کے باوجود کسی قسم کا ناخوشگوار واقعہ سامنے نہیں آیا۔

    2020ء۔۔محمد علی رمضانی دستک ایک ایرانی سیاست دان تھے جو 2020ء کے انتخابات میں مجلس ایران (ایرانی پارلیمان) کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ وہ ایران عراق جنگ میں بھی شریک رہے تھے۔ 29 فروری 2020ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی موت کی وجہ متنازع ہے۔ ایرانی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ انفلوئنزا تھا تاہم دیگر ذرائع بشمول برطانوی نشریاتی ادارہ (بی بی سی) کے مطابق ان کی موت کی وجہ کورونا وائرس تھا

  • پیٹرول کی قیمت میں اضافہ

    پیٹرول کی قیمت میں اضافہ

    اسلام آباد: نگراں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں4 روپے کا اضافہ کردیا۔

    باغی ٹی وی: فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق قمیت میں اضافے کے بعد فی لیٹر پیڑول 279 روپے 75 پیسے کا ہوگیا پیٹرول کی قیمت میں اضافے کی وجہ بین الاقوامی قیمتوں، امپورٹ پریمیئم اور ایکسچینج ریٹ میں معمولی ایڈجسٹمنٹ ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

    قبل ازیں 16 فروری کو بھی نگراں حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 275 روپے 62 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی، جبکہ ڈیزل کی قیمت 8 روپے 37 پیسے فی لیٹر اضافے کے ساتھ 287 روپے 33 پیسے فی لیٹر پہنچ گئی تھی، جو اب بھی برقرار ہے۔

  • پاکستان کی نئی حکومت کو فوری طور پر معاشی صورتحال کو ترجیح دینی چاہیئے،امریکا

    پاکستان کی نئی حکومت کو فوری طور پر معاشی صورتحال کو ترجیح دینی چاہیئے،امریکا

    واشنگٹن: امریکا کا کہنا ہے کہ پاکستان ملک میں معاشی استحکام کے حصول کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ کام جاری رکھے۔

    باغی ٹی وی: امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں پی ٹی آئی کے سابق چیئرمین عمران خان کی جانب سے آئی ایم ایف کو ارسال کیے گئے مراسلے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکا قرضوں اور مالی امداد کے شیطانی چکر سے آزاد ہونے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے-

    ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ پاکستان کی نئی حکومت کو فوری طور پر معاشی صورتحال کو ترجیح دینی چاہیے کیونکہ آئندہ کئی ماہ کی پالیسیاں پاکستانیوں کے لیے معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ہوں گی،میں آئی ایم ایف کے حوالے سے صرف اتنا کہوں گا کہ ہم قرضوں اور بین الاقوامی فنانسنگ کے شیطانی چکر سے آزاد ہونے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں، پاکستان کی حکومت کی طویل مدتی معاشی منصوبہ بندی اہم ہے،پاکستان کو حالیہ برسوں میں مالیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، جس میں زرمبادلہ کے کم ہوتے ذخائر اور اپنی قومی کرنسی کی گرتی ہوئی قدر ہے۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی مراسلے میں آئندہ قرض کی سہولت کو ملک میں 8 فروری کے عام انتخابات کے آڈٹ سے منسلک کرنے کی تجویز دی گئی تھی،قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی کم از کم 30 فیصد نشستوں” کے انتخابی آڈٹ کا بھی مطالبہ کیا، جو پارٹی کے بقول “صرف دو ہفتوں” میں مکمل ہو سکتی ہے۔

  • انٹرا پارٹی الیکشن: بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی کے بلامقابلہ چئیرمین منتخب

    انٹرا پارٹی الیکشن: بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی کے بلامقابلہ چئیرمین منتخب

    اسلام آباد: بیرسٹر گوہر علی خان انٹرا پارٹی الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بلامقابلہ چئیرمین جبکہ عمر ایوب بھی بلامقابلہ مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : مرکزی پارٹی چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ بیرسٹر گوہر کے چئیرمین منتخب ہونے کا باقاعدہ اعلان تین مارچ کو کوئٹہ میں پارٹی صدارتی انتخابات ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

    پاکستان تحریک انصاف نے 3 مارچ کو انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا پی ٹی آئی کی طرف سے جاری شیڈول کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی 23 اور 24 فروری تک جمع کرائے جاسکتے تھے، جن جانچ پڑتال 25 فروری کو ہونی تھی، جبکہ کاغذات نامزدگی پر فیصلے 27 فروری تک ہونے تھے۔

    شیڈول کے مطابق پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کیلئے پولنگ 3 مارچ کو ہوگی، انتخابات کے لیے پولنگ سینٹرل آفس سمیت چاروں صوبائی سیکریٹریٹ میں ہوگی، لیکن انتخابات سے قبل ہی جاری اعلامیے کے مطابق عمر ایوب بھی بلامقابلہ مرکزی جنرل سیکریٹری منتخب ہوگئے ہیں،خیبرپختونخوا میں علی امین گنڈا پور پینل، سندھ میں حلیم عدیل شیخ پینل بلامقابلہ منتخب ہو اہے، جبکہ پنجاب میں یاسمین راشد پینل بلامقابلہ کامیاب قرار پایا ہے۔

  • سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان

    اسلام آباد: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی : اپنے بیان میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سیاسی میدان میں سرگرم ہوتے ہوئے نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کر دیا،انہوں نے کہا کہ موجودہ انتخابی مہم میں پاکستان کے مسائل پر کوئی بات نہیں کی گئی، سیاسی جماعتیں ملکی مسائل پر بات نہیں کر رہیں، یک دوسرے کو کرپٹ کہنا چھوڑنا ہو گا،ملک میں کبھی کسی کو کرپشن پر سزا نہیں ملی، ملک کے مسائل دیکھیں اور ان کا حل نکالیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ نئی سیاسی جماعت سے متعلق سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے بڑا اعلان کیا تھا، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی 3 بڑی سیاسی جماعتیں فیل ہو گئی ہیں، ان کے پاس عوام کے مسائل کا حل نہیں ہے، 35 سال سے ن لیگ سے منسلک رہا، پارٹی پالیسی سے اختلاف ہے جس پر علیحدہ ہوا ہوں، نواز شریف میرے قائد تھے میں نے الیکشن چھوڑا ہے سیاست نہیں، یہ الیکشن بے مقصد ہو چکا ہے، الیکشن جتنے غیر متنازعہ ہوںگے اتنا ہی بہتر ہے، کسی کی سپورٹ سے ملک نہ پہلے چلا نہ چلے گا۔

    الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ کبھی نہیں کیا، فافن کی شیعب شاہین کے دعوے …

    سابق وزیراعظم نے کہا تھا کہ الیکشن کے دوران نمائندوں کو طلب کر رہے ہیں ابھی بھی وقت ہے کہ اس الیکشن کو غیر متنازعہ بنائیں، پچھلے 5 سال سے نیب کے چکر لگا رہے ہیں، نیب کو کہا کہ پنجاب کی کرپشن سے میرا کیا تعلق ہے، نیب اور اینٹی کرپشن سیاسی جوڑ توڑ کیلئے استعمال ہورہے ہیں،ن لیگ کے ٹکٹ سے الیکشن میں حصہ لوں گا اور نہ ن لیگ کیخلاف الیکشن لڑوں گا ، الیکشن کے ماحول میں دباؤ کا اثر ہو گا۔

    لاہور میں میلہ چراغاں پر 2 مارچ کو چھٹی کا اعلان

  • لاہور میں میلہ چراغاں پر 2 مارچ کو چھٹی کا اعلان

    لاہور میں میلہ چراغاں پر 2 مارچ کو چھٹی کا اعلان

    لاہور: لاہور میں سالانہ عرس شاہ حسین المعروف میلہ چراغاں پر چھٹی کا اعلان کردیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی: میلہ چراغاں یا میلہ شالامار دراصل پنجابی صوفی شاعر مادھو لال حسین یا شاہ حسین کے عرس کی تین روزہ تقاریب کا نام ہے یہ تقاریب شاہ حسین کے مزار، جو لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں واقع کے قریبی علاقوں میں منعقد ہوتی ہیں،دو مارچ کو ضلع لاہور میں مقامی تعطیل ہوگی، مادھو لال حسین کے عرس کے موقع پر دی گئی ہے۔

    شاہ حسین کا میلہ چراغاں یا عرس پنجاب میں ثقافت کے اعتبار سے سب سے بڑی تقریب سمجھا جاتا ہے، کچھ کتب کے مطابق شاہ حسین المعروف مادھو لال حسین ایک صوفی اور پنجابی شاعر تھے جو فقیرِ لاہور سے معروف ہیں، شاہ حسین لاہوری 945ھ میں ٹکسالی دروازے لاہور میں پیدا ہوئے۔

    ووٹ مانگنے عمر ایوب مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئے

    آپ کے والد گرامی کا نام شیخ عثمان تھا جو کہ کپڑا بننے کا کام کرتے تھے آپ کے دادا کا نام کلجس رائے ہندو تھا، جو کہ فیروز شاہ تغلق کے دور میں دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تھے لیکن والد حلقہ بگوش اسلام ہوئے، لاہور میں برس ہا برس تک درو یشانہ رقص و سرود کی محفلیں آباد کرنے کے بعد یہ درویش 1599ء میں اللہ کو پیارا ہوگئے۔

    ملکی ترقی کا راستہ،ذاتی نہیں عوامی مفادات،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ان کی قبر اور مزار لاہور کے شالیمار باغ کے قریب باغبانپورہ میں واقع ہے ہر سال میلہ چراغاں کے موقع پر ان کا عرس منایا جاتا ہے،اس حوالے سے پنجاب حکومت نے 2 مارچ بروز ہفتہ ڈسٹرکٹ لاہور میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے، صوبائی دفاتر میں اس چھٹی کا اطلاق نہیں ہوگا،چھٹی کا نوٹیفکیشن چیف سیکرٹری پنجاب کی منظوری سے سیکشن آفسر صفدر شبیر نے جاری کیا۔

    اے این پی کا بھی پارلیمانی الیکشن کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ

  • الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ کبھی نہیں کیا، فافن کی شیعب شاہین کے دعوے کی تردید

    الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ کبھی نہیں کیا، فافن کی شیعب شاہین کے دعوے کی تردید

    اسلام آباد: فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شعیب شاہین کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی رہنما سول سوسائٹی گروپس کو سیاست میں نہ گھسیٹیں۔

    باغی ٹی وی : فافن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ کبھی نہیں کیا، سیاسی رہنما عوامی بیانات دینے سے پہلے اپنا ہوم ورک کریں اور آزاد سول سوسائٹی گروپوں کو اپنی سیاست میں نہ گھسیٹیں، فافن سمجھتا ہے کہ موجودہ الیکشن کمیشن کو ڈیٹا اینالیٹکس اور فرانزک کا استعمال کرتے ہوئے قانونی طور پر چیلنج شدہ حلقوں کے کسی بھی آڈٹ کی اجازت دینی چا ہیے، آڈٹ میں آزاد مبصرین کے ساتھ سیاسی جماعتوں اور متعلقہ امیدواروں کے نمائندوں کو بھی شامل کرنا چاہیے۔

    اے این پی کا بھی پارلیمانی الیکشن کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ شعیب شاہین نے اپنے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ فافن اور فوٹن مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو استعفا دے دینا چاہیے، فافن سمجھتا ہےموجودہ الیکشن کمیشن کو ڈیٹا اینالیٹکس اور فرانزک کا استعمال کرتے ہوئے قانونی طور پر چیلنج شدہ حلقوں کے کسی بھی آڈٹ کی اجازت دینی چاہیے، آڈٹ میں آزاد مبصرین کے ساتھ سیاسی جماعتوں اور متعلقہ امیدواروں کے نمائندوں کو بھی شامل کرنا چاہیے۔

    ووٹ مانگنے عمر ایوب مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئے

    پیپلزپارٹی و ن لیگ کی الیکشن میں لڑائی قوم کو دھوکہ دینے کیلئے تھی،سراج الحق