Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • بجلی ایک ماہ کیلئے  7 روپے 5 پیسے فی یونٹ مہنگی

    بجلی ایک ماہ کیلئے 7 روپے 5 پیسے فی یونٹ مہنگی

    اسلام آباد: حکومت کی جانب سے بجلی صارفین کو ایک اور جھٹکا، بجلی ایک ماہ کیلئے 7 روپے 5 پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی گئی-

    باغی ٹی وی : نیشنل الیکٹرک ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نو ٹیفکیشن جاری کر دیا، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا،بجلی کی قیمتوں کے اضافے کا اطلاق رواں ماہ کے بلوں پر ہو گا، لائف لائن سمیت کے الیکٹرک صارفین پر اضافے کا اطلاق نہیں ہو گا،صارفین پر جی ایس ٹی سمیت 66 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا ،واضح رہے کہ بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ جنوری کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے۔

  • غزہ میں  جنگ بندی کیلئے مذاکراتی وفد  قطر پہنچ گیا

    غزہ میں جنگ بندی کیلئے مذاکراتی وفد قطر پہنچ گیا

    اسرائیلی موساد سربراہ کی قیادت میں مذاکراتی وفد اسرائیل میں کچھ وقت گذارنے کے بعد قطر پہنچ گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی وفد پیرس سے اتوار کے روز اسی مذاکراتی عمل کے بعد واپس تل ابیب پہنچا تھا جہاں ہفتے کی رات وزیر اعظم اور کابینہ کو وفد ارکان نے تفصیلی بریفنگ دی۔ اتوار اور پیر کا دن اسرائیل میں ہی رکنے کے بعد وفد بعد از دوپہر کے اوقات میں قطر روانہ ہو گیا ہے، قطر میں پیرس مذاکرات میں ہونےوالی افہام و تفہیم کے اگلے مرحلے پر بات چیت ہوگی۔ مذاکراتی ایجنڈے میں اسرائیلی نقطہ نظر سے یرغمالیوں کی رہائی اہم ترین ہے جبکہ حماس اور فلسطینیوں کے نقطہ نگاہ میں غزہ میں جنگ بندی اور انسانی بنیادوں پر امدادی سامان کی ترسیل میں آسانی اور سرعت پیدا کرنا ہے۔ حماس غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ بھی رکھتا ہے ، تاہم ابھی اندازہ نہیں ہے کہ یہ مطالبہ پایہ تسلیم کو پہنچتا ہے یا نہیں۔

    اسرائیل جس کی حکومت اور پارلیمنٹ نے دو ٹوک انداز میں خبر دار کیا ہے کہ فلسطینی ریاست کے یکطرفہ فیصلے یا بیرون سے کیے گئے فیصلے کو قبول نہیں کیا جائے ، بلکہ صرف اسی صورت فلسطینی ریاست پر بات اور اس بارے میں امادگی کا امکان ہو سکتا ہے کہ مذاکرات اسرائیل اور فلسطینی براہ راست کریں۔ مگر دلچسپ بات ہے کہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات بھی اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان نہیں ہو رہے ہیں، تاہم اسرائیل اس سلسلے میں پورا تعاون کر رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق قطر پہنچنے والے اسرائیلی وفد میں موساد کے علاوہ اسرائیلی فوج کے حکام بھی شریک ہیں ذرائع کے مطابق حماس نے قیدیوں کی یرغمالویں کی رہائی کو وقفے وقفے سے رہا کرنے کی تجویز دی ہے ۔ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اسرائیلی وفد حماس کی اس بالواسطہ ملنے والی تجویز کو قبول کرلے گا۔ تاہم اسرائیل حماس کی طرف سے چار سے ساڑھے چار ماہ کے لیے جنگ بندی کی تجویز کو رد کیا گیا ہے۔

  • سندھ کابینہ کے الوداعی اجلاس میں نگران وزیراعلیٰ  اور وزیر صحت کے درمیان تلخ کلامی

    سندھ کابینہ کے الوداعی اجلاس میں نگران وزیراعلیٰ اور وزیر صحت کے درمیان تلخ کلامی

    کراچی: سندھ کابینہ کے الوداعی اجلاس میں نگران وزیراعلیٰ ریٹائرڈ جسٹس مقبول باقر اور وزیر صحت ڈاکٹر سعد خالد نیاز میں تلخ کلامی ہوئی۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق نگراں وزیراعلیٰ جسٹس (ر) مقبول باقر کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا الوداعی اجلاس شروع ہوا تو وزیراعلیٰ اور نگراں وزیرصحت کے درمیان تلخ کلامی اور انتہائی سخت جملوں کا تبادلہ ہوا،جس کے باعث اجلاس ملتوی کردیا گیا ،سیکیورٹی اہلکار وزیراعلیٰ کو تحویل میں لے کر روانہ ہوگئے جبکہ نگراں وزیر صحت ڈاکٹر سعد اپنے دفتر پہنچے اور میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ مجھے دھمکیاں دی گئیں ہیں جس پر خاموش نہیں بیٹھوں گا بلکہ کارروائی کروں گا –

    نئی قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 29 فروری کو طلب

    ڈاکٹر سعد نے کہا کہ میری ناکامی کی وجہ عدم تعاون، مداخلت اور نگراں وزیراعلیٰ کی انا تھی، اجلاس میں نگران وزیراعلیٰ سندھ نےکہا میں برداشت نہیں کرسکتا اور وہ چیخنےلگے، نازیبا الفاظ بھی استعمال کیے، کہا یہاں سے نکل جاؤ، تم جانتے نہیں میں کیا کرسکتا ہوں اور یہ واقعہ کئی لوگوں کے سامنے ہوا، میں نےجواب دیا کہ آپ کی والدہ میری ٹیچرتھی، آپ کو اپنے الفاظ پر شرم آنی چاہیے ، میرا قصور یہ تھا کہ میں نے کئی غلط معاملات پر آواز اٹھائی، میں نے روبوٹک سرجری اور جے ڈی سی کے معاملے پر اعتراض اٹھایا، یہ سب میں نے اپنے لیے نہیں بلکہ ملک و قوم کے فائدے کیلئے کیا۔

    26 فروری تاریخ کے آئینے میں

    ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

  • 26 فروری  تاریخ کے آئینے میں

    26 فروری تاریخ کے آئینے میں

    26 فروری تاریخ کے آئینے میں

    1531ء ۔اسپین کے شہر لسبن میں ہولناک زلزلہ سے بیس ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے، 1797ء ۔بینک آف انگلینڈ نے ایک پاونڈ کا پہلا نوٹ جاری کیا، 1924ء ۔جرمنی کے شہرمیونخ میں ہٹلر کے خلاف مقدمے کا آغاز ہوا، 1952ء ۔برطانیہ نے ایٹم بم تیار کیا۔

    1980ء – پاکستان میں وفاقی شرعی عدالت قائم ہوئی، 1984ء ۔بیروت سے امریکی فوجی دستوں کی واپسی صدر ریگن نے انیس سو بیاسی میں اپنی فوج کو بیروت میں قیام امن کے لیے بھیجا تھا، 1991ء ۔ٹم برنرز لی نے پہلا ویب براوزر ورلڈ وائب ویب متعارف کرایا۔، نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے باہر26فروری 1993 کو ہونے والے دھماکے میں 6افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔۔

    2004ء ۔امریکی نے اپنے شہریوں کو تئیس سال بعد لیبیا کاسفر کرنے کی اجازت دی، 2009ء ۔شریف برادران کی نااہلی کے بعد پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے اراکین کا داخلہ ممنوع ، اسپیکر نے اسمبلی کے باہر سیڑھیوں پراجلاس کی صدارت کی۔

    26 فروری 1958 کو ضلع خیرپور میں خیرپور میرس سے پندرہ میل کے فاصلے پر کوٹ ڈیجی کے مقام پر ایک ایسی قدیم تہذیب کے آثار دریافت ہوئے جو موئن جودڑو کی تہذیب سے بھی پرانے تھے۔یہ دریافت شدہ آثار 600 فٹ طویل اور 400 فٹ عریض رقبے پر پھیلے ہوئے تھے۔ یہ علاقہ دو حصوں میں منقسم تھا۔ ایک حصہ شہر اور قلعے پر جبکہ دوسرا حصہ عوام کے مکانات پر مشتمل تھا۔ کوٹ ڈیجی کی ایک اور وجہ شہرت اس کا قلعہ ہے جسے دنیا کے چند بڑے قلعوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس قلعہ کی تعمیر 1797ء میں شروع ہوئی اور 32 سال میں مکمل ہوئی۔ یہ قلعہ پانچ ہزار فٹ لمبا، تین ہزار فٹ چوڑا اور زمین سے 70 فٹ اونچائی پر واقع ہے۔ اس قلعہ کو قلعہ احمد آباد بھی کہتے ہیں جو کوٹ ڈیجی کا پرانا نام ہے۔

    2019ء۔۔۔پلوامہ ڈرامے کے بعد بھارتی جارحیت اور پاکستان کے ہاتھوں عبرت ناک شکست کو دو سال بیت گئے ہیں۔ بھارت نے 26فروری 2019 کو بالاکوٹ پر سرجیکل اسٹرائیک کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔بھارتی طیارے پاکستانی حدود میں گھسے لیکن شاہینوں سے بچنے کے لیے اپنا پے لوڈ گرا کر بھاگ نکلے جس سے چند درختوں کو نقصان پہنچا۔ اگلے ہی دن پاکستان نے دن کی روشنی میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔پاک فضائیہ کے جوانوں نے جرات اور بہادری کے ساتھ بھارتی اہداف کو نشانہ بنایا۔27 فروری کو بھارتی ائیر فورس کے طیارے نے پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کی۔ جس پر پاک فضائیہ نے بھارتی ائیر فورس کے طیارے کو مار گرایا اور پائلٹ ابھینندن کو گرفتار کرلیا۔بھارت نے 26 فروری 2019 کو بالاکوٹ کے مقام جابا پر مبینہ دہشتگردی کے کیمپ پر نام نہاد فضائی حملے کا ڈرامہ رچایا۔جابہ ضلع مانسہرہ کے ایک گاؤں کا نام ہے جو شہر سے تقریباً20کلو میٹر کی مصافحت پر بالاکوٹ روڈ پر واقع ہے اور مظفرآباد تھانے کی حدود میں آتا ہے،2020ء۔۔پاکستان میں کرونا وائرس کا پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا،2024ء۔۔مریم نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئیں-

    26 فروری کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    1802ء وکٹر ہیوگو ، فرانسیسی مصنف، شاعر، ڈراما نگار، سیاستدان اور انسانی حقوق کے کارکن , وہ فرانسیسی زبان کا سب سے عظیم مصنف مانا جاتا ہے۔ شروع میں شاعری اُس کی وجہ شہرت بنی مگر بعد میں اُس نے ناول اور ڈراموں کو بھی بہت شہرت ملی۔ (وفات: 22 مئی 1885ء)

    1902ء ابیسن عباس بمعروف اندجار اسمار ، انڈونیشین نژاد ملائشی صحافی، فلم ہدایت کار، ڈراما نگار، منظر نویس (وفات: 20 اکتوبر 1961ء)

    1903ء گیلیو ناٹا ، نوبل انعام برائے کیمیاء (1963ء) یافتہ اطالوی کیمسٹ، انجینئر، موجد، استاد جامعہ ، یہ انعام انہیں جرمن کیمیاء دان کارل زیگلر کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا، جس کی وجہ ان دونوں کی جانب سے پولی مر پر کیا گیا تحقیقی کام تھا۔ (وفات: 2 مئی 1979ء)

    1909ء طلال بن عبداللہ ، ہاشمی خاندان سے تعلق رکھنے والا (20 جولائی 1951ء تا 11 اگست 1952ء) دوسرا شاہ اردن ، جب صحت کی وجوہات (مبینہ طور پر انفصام) کی وجہ سے اس کے بیٹے حسین بن طلال حق میں دستبردار ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔ (وفات: 7 جولائی 1972ء)

    1922ء منموہن کرشنا ، بھارتی فلمی اداکار (وفات 3 نومبر: 1990ء)

    1928ء آرئیل شارون ، اسرائیلی جنرل اور سیاستدان ، (13 اکتوبر 1998ء تا 6 جون 1999ء) وزیر خارجہ ، (7 مارچ 2001ء تا 14 اپریل 2006ء) 11واں اسرائیلی وزیرِ اعظم (وفات: 11 جنوری 2014ء)

    1933ء سر جیمز مائیکل گولڈ سمتھ ، انگریزی نژاد فرانسیسی سرمایہ کار و سیاستدان، والد جمائما گولڈ سمتھ (19 جولا‎ئی 1994ء تا 19 جولا‎ئی 1997ء) رکن یورپی پالیمان (وفات: 18 جولائی 1997ء)

    1940ء عزالدین علیہ ، تیونس نژاد فرانسیسی ڈریس اور شو ڈیزائنر (وفات: 18 نومبر 2017ء)

    1946ء احمد حسان زیول ، نوبل انعام برائے کیمیاء (1993ء) یافتہ مصری نژاد امریکی کیمسٹ، محقق و استاد جامعہ ، انعام کی وجہ کیمیاء کی شاخ فمٹو کیمسٹری سے جڑے ان کے کارنامے تھے انھیں فیمٹو کیمسٹری کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔ وہ پہلے مصری اور اور مسلمان باشندے تھے جنھیں نوبل انعام برائے کیمیاء ملا وہ آخری عمر کیلیفورننیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں بطور پروفیسر کام کر رہے تھے۔ پروفیسر احمد زویل نے اپنی تمام زندگی امریکا میں صرف کی اور امریکی صدر براک اوباما کے مشیروں کی کونسل کے رکن بھی رہے۔ (وفات: 2 اگست 2016ء)

    1956ء اقبال درانی ، بھارتی مصنف ، ڈائریکٹر، اداکار اور ہندی فلموں کے پروڈیوسر

    1959ء احمد داؤد اوغلو ، ترک ماہر تعلیم، مصنف، پروفیسر، سیاستدان و سفارتکار ، (1 مئی2009ء تا 29 اگست2014ء) تُرک وزیرِ خارجہ اور 28 اگست2014ء سے 26ویں وزیراعظم ترکی

    1974ء معمر رانا ، پاکستانی فلمی اداکار و ہدایتکار بمقام لاہور

    1984ء وینا ملک ، اداکارہ و ماڈل بمقام

    1954ء – رجب طیب اردوغان،
    ایک ترک سیاست دان،استنبول کے سابق ناظم، جمہوریہ ترکی کے سابق وزیر اعظم اور بارہویں منتخب صدر ہیں۔ رجب28 اگست2014ء سے صدارت کے منصب پر فائز اور عدالت و ترقی پارٹی (AKP) کے سربراہ ہیں جو ترک پارلیمان میں اکثریت رکھتی ہے۔اکتوبر 2009ء میں دورۂ پاکستان کے موقع پر رجب اردوغان کو پاکستان کا اعلی ترین شہری اعزاز نشان پاکستان سے نوازا گیا۔علاوہ ازیں جامعہ سینٹ جانز، گرنے امریکن جامعہ، جامعہ سرائیوو، جامعہ فاتح، جامعہ مال تپہ، جامعہ استنبول اورجامعہ حلب کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند سے بھی نوازا گیا ہے۔ فروری 2004ء میں جنوبی کوریا کے دار الحکومت سیول اور فروری 2009ء میں ایران کے دار الحکومت تہران نے رجب اردوغان کو اعزازی شہریت سے بھی نوازا۔سن 2008ء میں غزہ پٹی پر اسرائیل کے حملے کے بعد رجب طیب ایردوان کے زیرقیادت ترک حکومت نے اپنے قدیم حلیف اسرائیل کے خلاف سخت رد عمل کا اظہار کیا، اور اس پر سخت احتجاج کیا۔ ترکی کا احتجاج یہیں نہیں رکا بلکہ اس حملے کے فوری بعد ڈاؤس عالمی اقتصادی فورم میں ترک رجب طیب ایردوان کی جانب سے اسرائیلی صدر شمعون پیریز کے ساتھ دوٹوک اور برملا اسرائیلی جرائم کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد ڈاؤس فورم کے اجلاس کے کنویئر کیک جانب سے انہیں وقت نہ دینے پر رجب طیب ایردوان نے فورم کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور فوری طور پر وہاں سے لوٹ گئے ۔ اس واقعہ نے انہیں عرب اور عالم اسلام میں ہیرو بنادیا اور ترکی پہنچنے پر فرزندان ترکی نے اپنے ہیرو سرپرست کا نہایت شاندار استقبال کیا۔اس کے بعد 31 مئی بروز پیر 2010 ء کو محصور غزہ پٹی کے لیے امدادی سامان لے کر جانے والے آزادی بیڑے پر اسرائیل کے حملے اور حملے میں 9 ترک شہریوں کی ہلاکت کے بعد پھر ایک بار اردوگان عالم عرب میں ہیرو بن کر ابھر اور عوام سے لے کر حکومتوں اور ذرائع ابلاغ نے ترکی اور ترک رہنما رجب طیب ایردوان کے فلسطینی مسئلے خاص طورپر غزہ پٹی کے حصار کے خاتمے کے لیے ٹھوس موقف کو سراہا اور متعدد عرب صحافیوں نے انہیں قائد منتظر قرار دیا۔اور وہ واحد وزیر اعظم ہیں جنہوں نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما کی پھانسی پر ترکی کے سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔15 جولائی 2016 کی شب فوج کے ایک دھڑے نے اچانک ہی ملک میں مارشل لا کے نفاذ کا اعلان کر دیا لیکن بغاوت کی اس سازش کو تر ک عوام نے سڑکوں پر نکل کر، ٹینکوں کے آگے لیٹ کر ناکام بنادیا اور یہ ثابت کیا کہ اصل حکمران وہ ہے جو لوگوں کے دلوں پر حکومت کرے

    1917ء۔۔۔۔۔قدرت اللہ شہاب (1986ء-1917ء) پاکستان کے نامور اردو ادیب اور بیورو کریٹ تھے۔ ان کی پیدائش گلگت میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے ریاست جموں و کشمیر اور موضع چمکور صاحب ضلع انبالہ میں حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم -اے انگلش کیا۔ 1941ء میں انڈین سول سروس میں شامل ہوئے۔ابتداء میں شہاب صاحب نے بہار اور اڑیسہ میں خدمات سرانجام دیں۔ 1943ء میں بنگال میں متعین ہو گئے۔آزادی کے بعد حکومت آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل ہوئے۔ بعد ازاں پہلے گورنر جنرل پاکستان غلام محمد، پھر اسکندر مرزا اور بعد ازاں صدر ایوب خان کے سیکریٹری مقرر ہوئے۔ پاکستان میں جنرل یحیی خان کے بر سر اقتدار آنے کے بعد انہوں نے سول سروس سے استعفی دے دیا اور اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو سے وابستہ ہوگئے ۔ انہوں نے مقبوضہ عرب علاقوں میں اسرائیل کی شرانگیزیوں کا جائزہ لینے کے لیے ان علاقوں کا خفیہ دورہ کیا اور اسرائیل کی زیادتیوں کا پردہ چاک کیا ۔ ان کی اس خدمت کی بدولت مقبوضہ عرب علاقوں میں یونیسکو کا منظور شدہ نصاب رائج ہوگیا جو ان کی فلسطینی مسلمانوں کے لئے ایک عظیم خدمت تھی ۔پاکستان رائٹرز گلڈ کی تشکیل انہی کی مساعی سے عمل میں آئی۔ صدر یحییٰ خان کے دور میں وہ ابتلاء کا شکار بھی ہوئے اور یہ عرصہ انہوں نے انگلستان کے نواحی علاقوں میں گزارا۔ شہاب صاحب ایک بہت عمدہ نثر نگار اور ادیب بھی تھے۔ ان کی تصانیف میں یاخدا، نفسانے، ماں جی اور ان کی خود نوشتہ سوانح حیات “شہاب نامہ“ قابل ذکر ہیں۔ قدرت اللہ شہاب نے 24 جولائی 1986ء کو اسلام آباد میں وفات پائی اور اسلام آباد کے سیکٹر H-8 کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔

    26 فروری کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    1887ء آنندی گوپال جوشی ، پہلی ہندوستانی خاتون معالج ، جس دور میں خواتین کا تعلیم حاصل کرنا انتہائی مشکل سمجھا جاتا تھا، اس وقت طب کی تعلیم حاصل کرنا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ ان کی شادی نو سال کی عمر میں ان سے قریب 20 سال بڑے گوپال راؤسے ہوئی تھی۔ جب 14 سال کی عمر میں وہ ماں بنیں اور ان کی پہلی اولاد کی موت 10 دنوں میں ہو گئی تو انہیں بہت بہت صدمہ ہوا۔ اپنی اولاد کو کھو دینے کے بعد انہوں نے یہ قسم کھائی کہ وہ ایک دن ڈاکٹر بنیں گی اور اس طرح کی المناک اموات کو روکنے کی کوشش کریں گی۔ ان کے شوہر گوپال راؤ نے بھی ان کا بھرپور تعاون کیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ (پیدائش: 31 مارچ 1865ء)

    1898ء فریڈرک ٹینی سن ، انگریزی شاعر و مصنف (پیدائش: 5 جون 1807ء)

    1931ء اوتو والاخ ، نوبل انعام برائے کیمیاء (1910ء) یافتہ جرمن کیمسٹ و استاد جامعہ ، انعام کی وجہ انکی جانب سے کئی گئی نامیاتی کیمیاء اور کیمیائی صنعت میں تحقیق تھی اور ایک الیسائیکلک کمپاونڈ کی گئی اولین تحقیقات تھی۔ (پیدائش: 27 مارچ 1847ء)

    1969ء لیوی اشکول ، اسرائیلی فوجی اور سیاستدان ، (26 جون 1963ء تا 5 جون 1967ء) اسرائیلی وزیرِ دفاع اور (21 جون 1963ء تا 26 فروری 1969ء) تیسرا وزیر اعظم اسرائیل (پیدائش: 25 اکتوبر 1895ء)

    1985ء تجالنگ کوپمنس ، نوبل انعام برائے معاشیات (1975ء) یافتہ ڈچ نژاد امریکی ماہر معاشیات، ریاضی دان و استاد جامعہ ، انہیں یہ انعام روسی ماہرِ معاشیات لیونڈکانٹروچ کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا۔ (پیدائش: 28 اگست 1910ء)

    1990ء سید محمد اکرم الہ آبادی ، بھارتی جاسوسی ناول نگار (1923ء)

    1998ء تھیوڈور سکلٹز ، نوبل میموریل انعام برائے معاشیات (1979ء) یافتہ امریکی ماہر اقتصادیات و استاد جامعہ ، انھیں یہ انعام برطانوی ماہرِ اقتصادیات ڈبلیو آرتھر لیوسکو کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا۔ (پیدائش: 30 اپریل 1902ء)

    2005ء جیف رسکن پیر ، امریکی موسیقار و کمپیوٹر سائنس دان، دنیا کے پہلے ایپل میکنٹوش کمپیوٹر کے خالق۔ (پیدائش: 9 مارچ 1943ء)

    2009ء آغا محمد صادق بمعروف ڈاکٹر آغا سہیل ، پاکستان سے تعلق رکھنے و الے اردو کے ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار، نقاد اور محقق (پیدائش: 6 جون 1933ء)

    2010ء حسن عبد الحکیم ، نومسلم برطانوی سفیر، مصنف، مدرس، صوفی اسلام اور محقق اسلام (پیدائش: 1 جنوری 1921ء)

    اردو کے نامور نقاد اور افسانہ، ناول نگار ڈاکٹر محمد احسن فاروقی نے 26 فروری 1978 کو ڈاکٹر محمد احسن فاروقی کوئٹہ میں وفات پائی ۔ وہ کراچی میں خراسان باغ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ڈاکٹر محمد احسن فاروقی 22 نومبر 1913ء کو قیصر باغ لکھنؤ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ لکھنؤ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے اور انہوں نے ’’رومانوی شاعروں پر ملٹن کے اثرات‘‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ کراچی یونیورسٹی، سندھ یونیورسٹی اور بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی سے وابستہ رہے۔ وہ اردو کے صف اول کے ناقدین میں شمار ہوتے ہیں، ان کی تنقیدی کتب میں اردو ناول کی تنقیدی تاریخ، ناول کیا ہے، ادبی تخلیق اور ناول، میر انیس اور مرثیہ نگاری اور تاریخ انگریزی ادب کے نام سرفہرست ہیں۔ ان کے ناولوں میں شام اودھ، آبلہ دل کا، سنگ گراں اور سنگم شامل ہیں جبکہ افسانوں کا مجموعہ رہ رسم آشنائی کے نام سے اشاعت پذیر ہوا۔۔

    سائنسی موضوعات کے معروف مصنف، محقق اور ماہر تعلیم میجر آفتاب حسن نے 26 فروری 1993 کو کراچی میں وفات پائی اورکراچی ہی میں گلشن اقبال کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ میجر آفتاب حسن بازید پور (بہار) میں 16 ستمبر 1909ء کو پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ ملٹری اکیڈمی کاکول میں سائنس شعبے کے سربراہ رہے، بعدازاں وہ اردو سائنس کالج کراچی کے پرنسپل کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1960ء سے 1972ء تک وہ شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ جامعہ کراچی کے سربراہ رہے اس دوران انہوں نے اردو میں سائنسی اصطلاحات سازی اور سائنسی موضوعات پر کتب کی اشاعت کے سلسلے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ وہ مقتدرہ قومی زبان کے پہلے معتمد تھے۔ بعدازاں ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کی وفات کے بعد وہ اس ادارے کے قائم مقام صدر نشین بھی رہے، 2024ء۔۔پنکج ادھاس ۔مشہور بھارتی غزل گائک

  • نئی قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 29 فروری  کو طلب

    نئی قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 29 فروری کو طلب

    اسلام آباد: نئی قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 29 فروری کو طلب کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی: قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے 29 فروری کو قومی اسمبلی اجلاس کا وقت مقرر کر دیا اور اجلاس صبح دس بجے ہو گا، آئین کے آرٹیکل 91 کےتحت انتخابات کے 21 ویں روز قومی اسمبلی کااجلاس ہونا لازم ہےحکام قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطا بق صدر اجلاس 21ویں روز سے قبل بلا سکتے ہیں مگر انہوں نےنہیں بلایا، 21 ویں روز اجلاس ہونا لازم، صدر یا اسپیکر کے نوٹیفکیشن کی ضرورت نہیں۔

    واضح رہے کہ صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی اجلاس بلانے کی سمری مسترد کرکے واپس بھیج دی تھی، عارف علوی نے موقف اختیارکیا کہ پہلےخواتین اور اقلیتوں کی نشستوں کو مکمل کیا جائے، صدر کے فیصلے کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں قومی اسمبلی میں ہنگامی اجلاس بلانےکا فیصلہ کیا تھا۔

    نگران وزیراعظم نے تمام سرکاری کام روکتے ہوئے سمریاں واپس بھیج دیں

    وفاقی وزیرتعلیم و تربیت مستعفی

    مریم نواز کی جانب سے ہاتھ پیچھے کرنے پر عظمیٰ کاردار کا وضاحتی بیان

  • ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    لاہور:ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں ۔

    باغی ٹی وی: زلزلے کے جھٹکے لاہور ، قصور، پتوکی اور گردونواح میں محسوس کئے گئے،زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت4 اعشاریہ 3 ریکارڈ کی گئی ،زلزلہ محسوس ہونے پر شہری خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے ، اور کلمہ طیبہ کا ورد کیا،زلزلے کی وجہ سے کسی جانی و مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ۔

  • مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ بلوچستان میں داخل،معمول سے تیز ہوائیں چلنے کی پیشگوئی

    مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ بلوچستان میں داخل،معمول سے تیز ہوائیں چلنے کی پیشگوئی

    کراچی: محکمہ موسمیات نے کل سے شہرقائد میں معمول سے تیزہوائیں چلنے کا امکان ظاہر کیا ہے-

    باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات ارلی وارننگ سینٹر کے مطابق مغرب کی جانب سےہواؤں کا نیا سلسلہ بلوچستان میں داخل ہوگیا، سسٹم کے زیراثرشہرمیں معمول سے تیزہوائیں چلنے جبکہ مضافاتی علاقوں میں گردآلودہوائیں چل سکتی ہیں، سمندر کی جنوب مغربی سمت کی ہوائیں معطل رہنے جبکہ زیادہ تربلوچستان کی شمال مشرقی سمت کی ہوائیں چلنے کی توقع ہے۔

    ارلی وارننگ سینٹر کے مطابق شہر میں مذکورہ سسٹم کے نتیجے میں بارش کا کوئی امکان نہیں ہے البتہ دیہی سندھ کےاضلاع قمبر شہداد کوٹ، لاڑکانہ، جیکب آباد، کندھ کوٹ، شکارپور اور گھوٹکی میں ہلکی بارش ہوسکتی ہے، پیر کو شہر کا کم سے کم پارہ 16.5ڈگری جب کہ ہوا میں نمی کاتناسب 34فیصد رہا،زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30.1ڈگری اورنمی کا تناسب 17فیصد ریکارڈ ہوا۔

    مریم نواز کی جانب سے ہاتھ پیچھے کرنے پر عظمیٰ کاردار کا وضاحتی بیان

    مریم نواز کا پانچ روز میں مہنگائی پر کنٹرول کے لئے ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کا …

    نوجوان نے اپنے ہونٹوں کے اندرونی حصے پر محبوبہ کا نام لکھوا لیا

  • نومنتخب وزیراعلیٰ مریم نواز  کا تھانہ شالیمار کا دورہ

    نومنتخب وزیراعلیٰ مریم نواز کا تھانہ شالیمار کا دورہ

    لاہور: پنجاب کی نومنتخب وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے وزارت اعلیٰ کا عہدہ سنبھالتے ہی عوامی فلاح و بہبود کیلئےاقدامات شروع کردئیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اچانک لاہور کے تھانہ شالیمار کا دورہ کرنے پہنچ گئیں، اس موقع پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے انہیں فرنٹ ڈیسک میں درج شکایات اور ایف آئی آر کے اندراج سے متعلق بریفنگ دی، اس موقع پر چیف سیکرٹری پنجاب اور سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ بھی موجود تھے۔

     

    سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    مریم نواز کا پانچ روز میں مہنگائی پر کنٹرول کے لئے ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کا …

     

  • وفاقی وزیرتعلیم و تربیت مستعفی

    وفاقی وزیرتعلیم و تربیت مستعفی

    اسلام آباد: نگران حکومت کےآخری دنوں میں وفاقی وزیرتعلیم و تربیت مستعفی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نگران وفاقی وزیرتعلیم و تربیت مدد علی سندھی نے استعفیٰ دے دیا،صدر مملکت نےوزیراعظم کی ایڈوائس پروزیر تعلیم کا استعفٰی منظور کرلیا،مدد علی سندھی کو بطور وفاقی وزیر تعلیم و تربیت ذمے داریوں سے فوری طور پر سبکدوش کردیا گیا ہے،کابینہ ڈویژن کی جانب سے مدد علی سندھی کے استعفی کی منظوری کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    دوسری جانب نگران وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ حکومت نے ملک میں تعلیم کی شرح کو بہتر بنانے کیلئے صوبوں کیلئے 25 ارب روپے اور اسلام آباد کیلئے 70 کروڑ روپے کا پراجیکٹ منظور کیا ہے۔

  • نگران وزیراعظم نے  تمام  سرکاری کام روکتے ہوئے سمریاں واپس بھیج دیں

    نگران وزیراعظم نے تمام سرکاری کام روکتے ہوئے سمریاں واپس بھیج دیں

    اسلام آباد: نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے تمام کاموں کو روکتے ہوئے منظوری کے لیے اپنی پاس آنے والی سمریاں واپس بھیج دیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے الیکشن کا مرحلہ مکمل ہونے اور حکومتی سازی کے مراحل تقریبا مکمل ہونے کے بعد اب تمام سرکاری امور روک دئیے ہیں، نگراں وزیراعظم نے کہا کہ تمام کام اور سمریوں پر فیصلے اب آنے والی حکومت کرے گی، انوار الحق کاکڑ نے منظوری کیلئے آئی ہوئی تمام سمریاں واپس بھی بھیج دیں اور کہا کہ ہم صرف نئی حکومت کی حلف برداری کا انتظار کر رہے ہیں،ہم نئی حکومت کو اپنے کاموں اور منصوبوں کے حوالےسے بریفنگ بھی دیں گے۔

    ایف بی آر کے دس ہزار ملازم ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کراتے،سینیٹر مشتاق خان

    مریم نواز کا پانچ روز میں مہنگائی پر کنٹرول کے لئے ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کا …

    سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر