Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • اسرائیل برازیل کشیدگی میں اضافہ

    اسرائیل برازیل کشیدگی میں اضافہ

    برازیلی صدر کے غزہ میں نسل کشی کے بیان کے بعد اسرائیل برازیل کشیدگی بڑھ گئی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایتھوپیامیں افریقی یونین کانفرنس سے برازیل کے صدرلولا ڈی سلوا نے خطاب کرتے ہوئےغزہ میں نسل کشی کو ہولوکاسٹ سے تشبیہ دی، جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے وہ ماضی میں کبھی بھی نہیں ہوا، تاریخ غزہ کی اس وحشیانہ جنگ کی مثال نہیں پیش کر سکتی، غزہ جنگ ویسی ہی ہے جیسا ہٹلر نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا، اس وقت غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ نسل کشی ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق برازیل کے صدر کے بیان پر اسرائیلی وزیر ارعظم نیتن یاہو نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ،اسرائیلی وزیر ارعظم نیتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ برازیلین صدر کا بیان ہولوکاسٹ کو معمولی بنانا ہے،ان کا یہ بیان یہودی لوگوں پر حملہ ہے۔

    بھارت کے لیے پاکستان کے نئےناظم الامور دہلی پہنچ گئے

    تاہم برازیلین صدرکےغزہ میں نسل کشی بیان کےبعداسرائیل برازیل کشیدگی بڑھ گئی اور ایسے میں برازیل نے اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بُلا لیا، برازیلی وزارت خارجہ کے مطابق برازیل میں اسرائیلی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے اسرائیل کے ردعمل پر احتجاج بھی کریں گے۔

    اسٹاک مارکیٹ میں کاروبارکا مثبت آغاز،ڈالر مہنگا

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس:عمران خان اور اہلیہ کیخلاف فرد جرم کی کارروائی ملتوی

  • بھارت کے لیے پاکستان کے نئےناظم الامور  دہلی پہنچ گئے

    بھارت کے لیے پاکستان کے نئےناظم الامور دہلی پہنچ گئے

    نئی دہلی: بھارت کے لیے پاکستان کے نئےناظم الامور سعد احمد وڑائچ دہلی پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کا کہنا ہے کہ سعد وڑائچ نئی ذمہ داریاں سبھالنے گذشتہ رات بھارت پہنچے ہیں،سعد وڑائچ دہلی میں اعزاز خان کی جگہ ناظم الامورکاعہدہ سنبھالیں گے سعد وڑائچ اگلے ہفتے اپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گے اور اس دوران وہ ایک ہفتہ اعزازخان کے ساتھ اوور لیپ پیریڈ گزاریں گے، اعزازخان مدت مکمل کرکےمارچ کے پہلے ہفتے میں دہلی سےاسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ نگران حکومت نے نئی دہلی میں ہائی کمیشن کے لیے دفتر خارجہ کے سینیئر افسر سعد وڑائچ کو اگست 2023 میں بھارت کے لیے نیا چارج ڈی افیئر (ناظم الامور) منتخب کیا تھا، سعد وڑائچ دفترخارجہ پاکستان میں افغانستان، ایران اور ترکی ڈیسک کے ڈائریکٹر جنرل تھے۔

    اسٹاک مارکیٹ میں کاروبارکا مثبت آغاز،ڈالر مہنگا

    نیپرا میں بجلی مزید مہنگی کرنے کی درخواست دائر

    سیارچوں کی سطح پر پہلی بار پانی کے مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف

  • اسٹاک مارکیٹ میں کاروبارکا مثبت آغاز،ڈالر مہنگا

    اسٹاک مارکیٹ میں کاروبارکا مثبت آغاز،ڈالر مہنگا

    کراچی: انٹربینک میں آج کاروبار کے آغاز پر ہی ڈالرکی قیمت میں 10پیسے اضافہ ہوگیا۔

    باغی ٹیی وی : ڈالرکی قیمت میں اضافے کے بعد انٹربینک میں ڈالرکی قیمت 279.45 روپے پر آگئی، جبکہ گزشتہ روز انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت برقراررہتے ہوئے اوپن مارکیٹ میں24پیسے تک بڑھی تھی۔

    فار یکس ایسوسی ایشن کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پیر کو پاکستانی روپے کے مقابلے میں انٹربینک میں ڈالر کی قیمت خرید 279.20روپے اور قیمت فروخت 279.50 روپے پر برقرار رہی، تاہم اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت خرید24پیسے کے اضافے سے 279.33 روپے سے بڑھ کر279.57روپے اور قیمت فروخت 23پیسے کے اضافے سے 281.93روپے سے بڑھ کر 282.16روپے ہو گئی تھی۔

    سیارچوں کی سطح پر پہلی بار پانی کے مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف

    دوسری جانب اسٹاک مارکیٹ میں منگل کو بھی کاروبار کا مثبت آغاز ہوا ، پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 289 پوائنٹس کے اضافے سے 60 ہزار749 پوائنٹس پر پہنچ گیا، پیر کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے دوران تیزی دیکھی گئی تھی۔

    ڈھاکا سے ریاض کی سعودی ائیر کی پرواز کی کراچی میں ہنگامی لینڈنگ

    نیپرا میں بجلی مزید مہنگی کرنے کی درخواست دائر

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس:عمران خان اور اہلیہ کیخلاف فرد جرم کی کارروائی  ملتوی

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس:عمران خان اور اہلیہ کیخلاف فرد جرم کی کارروائی ملتوی

    اسلام آباد: 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف فرد جرم کی کارروائی ملتوی کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : ریفرنس کی سماعت اسلام آباد میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی جگہ لینے والے نئے جج نے کرنی تھی تاہم احتساب عدالت کےنئےتعینات جج ناصرجاویدرانانےتاحال چارج نہیں سنبھالا، ریفرنس کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے 23 فروری تک ملتوی کردی گئی۔

    گزشتہ سماعتوں پربھی جج محمدبشیرکی عدم دستیابی کے باعث سماعت بغیرکارروائی ملتوی ہوگئی تھی،واضح رہے کہ جج محمد بشیر کی ریٹائرمنٹ تک رخصت کے باعث گزشتہ روز احتساب عدالت میں سیشن جج ناصرجاوید رانا نئے جج کی تعیناتی کی گئی تھی، جج ناصرجاوید رانا نے حال ہی میں سارہ انعام قتل کیس کا فیصلہ سنایا تھا۔

    سیاست دانوں کی نااہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    نیپرا میں بجلی مزید مہنگی کرنے کی درخواست دائر

    ڈھاکا سے ریاض کی سعودی ائیر کی پرواز کی کراچی میں ہنگامی لینڈنگ

  • نیپرا میں بجلی مزید مہنگی کرنے کی درخواست  دائر

    نیپرا میں بجلی مزید مہنگی کرنے کی درخواست دائر

    اسلام آباد: سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع کروادی۔

    باغی ٹی وی : نیپرا سے بجلی 7 روپے 13پیسے فی یونٹ مہنگی کر نے کی درخواست کی گئی ہے جس پر سماعت 23 فروری کو ہوگی، درخوا ست جنوری کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں جمع کرائی گئی ہے، اس اضافے سے صارفین پر 66ارب77کروڑروپے تک کااضافی بوجھ پڑے گا۔

    واضح رہے کہ جنوری میں سب سے مہنگی بجلی 45 روپے 60 پیسے فی یونٹ کے حساب سے ڈیزل سے پیدا کی گئی، ڈیزل سے 10 کروڑ یونٹ بجلی پیدا کی گئی ہے،فرنس آئل سے 35 روپے فی یونٹ بجلی پیدا کی گئی، جنوری میں فرنس آئل سے 75 کروڑ یونٹ بجلی پیدا کی گئی۔

    سیاست دانوں کی نااہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی

    عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ عابدہ پروین کا یوم پیدائش

  • ڈھاکا سے ریاض کی سعودی ائیر کی پرواز  کی کراچی میں ہنگامی لینڈنگ

    ڈھاکا سے ریاض کی سعودی ائیر کی پرواز کی کراچی میں ہنگامی لینڈنگ

    کراچی: بھارت نے مسلمانوں کے خلاف ایک بار پھر انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بنگلا دیشی مسلمان مسافر کی طبیعت خرابی کے باوجود پرواز کو ممبئی ائیرپورٹ پر اترنے نہ دیا،بعد ازاں ڈھاکا سے ریاض کی سعودی ائیر کی پرواز نے کراچی میں میڈیکل ایمرجنسی لینڈنگ کی-

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی ائیر کی پرواز ایس وی 805 رات 3:57 پر ڈھاکا سے ریاض کیلئے روانہ ہوئی، طیارہ بھارتی فضائی حدود میں تھا کہ طیارےمیں سوار 44 سالہ مسافر ابو طاہر کی طبیعت خراب ہوئی جس پر پائلٹ نے طیارےکا رخ ممبئی کی طرف موڑ دیا،اور پائلٹ نے اے ٹی سی ممبئی سے انسانی ہمدردی کی بنا پر لینڈنگ کی اجازت طلب کی۔

    ذرائع کے مطابق ائیر ٹریفک کنٹرولر ممبئی کا جواب ملنے تک طیارہ ممبئی کی لینڈنگ اپروچ لے چکا تھا تاہم اے ٹی سی ممبئی نے متاثرہ مسافر کی قومیت اور دیگر تفصیلات مانگیں جس پر ممبئی ائیرپورٹ حکام نے بنگلا دیشی مسلمان مسافر کو آف لوڈ کرنے سے انکار کردیا،ائیر ٹریفک کنٹرول ممبئی نے سعودی طیارے کو لینڈنگ دینے سے صاف منع کردی-

    ا جس پر پائلٹ نے لینڈنگ منسوخ کرکے اے ٹی سی کراچی سے لینڈنگ کی اجازت طلب کی اور اے ٹی سی کراچی نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لینڈنگ کی اجازت دے دی ائیر ٹریفک کنٹرولر کی ہدایت پر طیارے کا رخ کراچی کی طرف کردیا گیا اور پرواز نے ہنگامی صورتحال ہونے کے باوجود دگنا سفر کرکے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر صبح 7:28 پرلینڈ کیا۔

    بنگلا دیشی مسافر کو ہائی بلڈ پریشر سے مسلسل قے آرہی تھیں کراچی ائیرپورٹ پر سول ایوی ایشن کی میڈیکل ٹیم نے ہنگامی اقدامات کیے اور طیارے کے لینڈ کرتے ہی ڈاکٹرز فوری طور پر پہنچ گئے، ڈاکٹرز کی ٹیم نے طیارے میں سوار مسافر کا معائنہ کیا اور اسے طبی امداد فراہم کی، بعدازاں پرواز کراچی سے ریاض روانہ ہوگئی۔

    24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی

    عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ عابدہ پروین کا یوم پیدائش

    سیاست دانوں کی نااہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

  • سیارچوں کی سطح پر پہلی بار پانی کے مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف

    سیارچوں کی سطح پر پہلی بار پانی کے مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف

    سان اینٹونیو: ماہرین نے سیارچوں کی سطح پر پہلی بار پانی کے مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے-

    باغی ٹی وی : پلینیٹری سائنس جرنل میں شائع تحقیق کے نتائج مطابق ماہرینِ فلکیات کا ماننا ہے کہ زمین کے ابتدائی دور میں اس سے ٹکرانے والے سیارچے اس سیارے پر پانی اور دیگر عناصر کی موجودگی کا سبب بنے، اس لیے سیارچوں پر پانی کی موجودگی کے شواہد کی تلاش اس نظریے کو تقویت دے سکتی ہے۔

    ماہرین کی جانب سے یہ ڈیٹا اسٹریٹو اسفیرک آبزرویٹری فار انفرا ریڈ آسٹرونومی (SOFIA) نامی آلے سے اکٹھا کیا گیا،اس ٹیلی اسکوپ کو جدید بوئنگ 747 ایس پی طیارے پر نصب کر کے استعمال کیا گیا جس نے زمین کے ایٹماسفیئر سے اوپر جا کر پرواز کی۔

    عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ عابدہ پروین کا یوم پیدائش

    سوفیا ٹیلی اسکوپ میں نصب فینٹ آبجیکٹ انفرا ریڈ کیمرا (FORCAST) نے ماہرین کو مریخ اور مشتری کے درمیان موجود دو سیارچوں آئرس اور میسالیا میں پانی کے مالیکیولز کی نشان دہی کرنے میں مدد دی، دونوں سیارچے سورج سے 35 کروڑ 90 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں۔

    سیاست دانوں کی نااہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سان اینٹونیو میں قائم ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والی تحقیق کے سربراہ مصنفہ ڈاکٹر انیسیا ایریڈونڈو کا کہنا تھا کہ اس ٹیلی اسکوپ کی جانب سے چاند پر پانی کی نشان دہی کرنے کے بعد ماہرینِ فلکیات نے اس کو سیارچوں کا مطالعے کے لیے استعمال کا فیصلہ کیا۔

    24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی

  • سپریم کورٹ میں ذوالفقار بھٹو کی پھانسی پر صدارتی ریفرنس کی سماعت  جاری

    سپریم کورٹ میں ذوالفقار بھٹو کی پھانسی پر صدارتی ریفرنس کی سماعت جاری

    اسلام آباد: سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کوعدالتی فیصلے کے تحت پھانسی دینے کے خلاف صدارتی ریفرنس پرسماعت آج سپریم کورٹ میں ہورہی ہے-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 9 رکنی لارجر بینچ ریفرنس کی سماعت کر رہا ہے بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں، عدالت نے ریفرنس میں مقررکیے گئے عدالتی معاونین سے تحریری دلائل طلب کر رکھے ہیں۔

    سماعت کے دوران چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری، شیری رحمان، فیصل کریم کنڈی اور دیگر پارٹی رہنما بھی موجود ہیں، سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیاعدالتی معاونین نےجواب جمع کرائے ہیں؟ کیا ریما عمر آئی ہیں؟

    اس دوران مخدوم علی خان روسٹرم پرآئے جن سے چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا آپ نےکچھ فائل کیاہے؟ آپ نے2 والیم پرمشتمل جواب جمع کرایاہے،سابق جج اسد اللہ چمکنی اور صلاح الدین بھی بطور عدالتی معاونین پیش ہوئے، چیف جسٹس نےاُن سےکہا کہ صلا ح الدین صاحب آپ ناراض نہ ہوں توط مخدوم صاحب کو پہلے سن لیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے مخدوم علی خان سے سوال کیا کہ اس معاملے میں آپ کاقانونی نکتہ کیا ہے؟ ، اس پر انہوں نے جواب دیا کہ بھٹو کیس میں جو فیصلہ دیا گیا کیا اس کے آرٹیکل 4 کو پورا کیا؟

    مخدوم علی خان نے اپنے دلائل کے آغاز پر عدالت کو بتایا کہ عدالتی معاون خالد جاوید بیمارہیں، وہ آئندہ سماعت پرآئیں گے، چیف جسٹس نے ان سے مکالمہ کیا کہ مخدوم صاحب آپکاجواب 2 والیم پر مشتمل ہے، ہمارا اصل فوکس آئینی پہلو کی طرف ہے۔

    جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیے کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عدالتی کاروائی میں طریقہ کاردرست اپنایا گیا یا نہیں، مخدوم علی خان نے کہا کہ ذوالفقاربھٹوکیس فیصلے میں بدنیتی پر بات کروں گا، سابق چیف جسٹس نے انٹرویو میں کہا تھا کہ ان پر فیصلے کیلئے دباؤتھا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیےکہ سابق چیف جسٹس نے اپنی غلطی کااعتراف کیا،اسے بدنیتی نہیں اعتراف جرم کہیں گے، ذوالفقارعلی بھٹو قتل کے فیصلے میں غلطی کا اعتراف کیا گیا ہے، جان بوجھ کر غلط کام کیا جائے تو اسے بدنیتی نہیں کہیں گے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارااختیار سماعت بالکل واضح ہے یہ واضح ہے کہ دومرتبہ نظرثانی نہیں ہوسکتی، ہم اس کیس میں لکیرکیسے کھینچ سکتے ہیں،کیااس کیس میں تعصب کاسوال ہےیاغلط فیصلہ کرنے کوتسلیم کرنا ہے؟

    عدالتی معاون کی جانب سے یہ کہنے پر کہ ایک جج نے انٹرویو میں کہا ان پر دباؤ تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو نہیں کہا میں تعصب کا شکار تھا، اگرمیں دباؤ برداشت نہیں کرسکتا تومجھے عدالتی بنچ سے الگ ہوجانا چاہیے۔

    مخدوم علی خان نے جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انٹرویو کا ایک حصہ تعصب کے اعتراف کا ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کل کوئی جج کہے مجھ پر بیوی کا دباؤتھا تویہ کس کیٹیگری میں آئے گا؟-

    جسٹس منصور شاہ نے کہا کہ اصل سوال ہےکہ اب ہم کیسے دروازہ کھول سکتےہیں، کیاہم آرٹیکل186کے تحت اب یہ فیصلہ کرسکتےہیں کہ پروسس غلط تھا،اب ہم اس معاملے میں شواہد کیسے ریکارڈ کرسکتے ہیں؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا ہم اب انکوائری کر سکتے ہیں؟ ،اب ہم اس معاملے میں شواہد کیسے ریکارڈ کرسکتے ہیں؟

    چیف جسٹس نے کہاکہ کیا ہم اس پہلوکو نظراندازکرسکتے ہیں کہ کیس کے وقت ملک میں مارشل لا تھا، مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا اپنا مفاد تھا، جسٹس منصورعلی شاہ کے سوال پر مخدوم علی خان نے بتایا کہ اس وقت ججزنے پی سی اوکے تحت حلف اٹھایا تھا، جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ اختلاف کرنے والوں کوبعد میں ملک نہیں چھوڑنا پڑا؟ جسٹس صفدرشاہ نے ملک چھوڑا کیا اختلاف کرنے والوں کا کوئی انٹرویویا کتاب ہے؟

    مخدوم علی خان نے جسٹس دراب پٹیل کے انٹرویو کا حوالہ دیا جس پرجسٹس منصور علی شاہ نے 3 بنیادی سوالات کے جواب دینے کا کہا، ذوالفقار بھٹو کیس کے فیصلے میں کیا ناانصافی ہوئی؟، اگر ناانصافی ہوئی توثبوت کیسے ملیں گے؟ ثبوت مل جائیں توکیا یہ عدالت آرٹیکل 186 کے تحت انکوائری کرا سکتی ہے؟

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کیا عدالت کمرے میں ہاتھی یعنی مارشل لا کونظراندازکردے؟ کیا پراسیکیوشن کو اس وقت ایک شخص کو مارشل لا کے نفاذ کیلئے سزا دینا مقصود نہیں تھا؟جسٹس منصور علی شاہ کے سوال پر مخدوم علی خان نے بتایاکہ فیصلہ چارتین سے آیا تھا ، اقلیتی ججزمیں جسٹس محمد حلیم ، جسٹس غلام صفدر شاہ اور جسٹس دراب پٹیل تھے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کیا بھٹو کیس افواج پاکستان اور سپریم کورٹ کیلئے اپنی غلطی درست کرنے اور ساکھ بحالی کا ایک موقع نہیں؟ کیا یہ موقع نہیں دونوں ادارے خود پر لگے الزامات سے دامن چھڑائیں، کیا بھٹو کیس کے فیصلے سے عدلیہ اور فوج کے لیے ایک لکیر نہیں کھینچ جائے گی؟ مارشل لا فوج بطور ادارہ نہیں لگاتی ایک شخص کا انفرادی فعل ہوتا ہے، کیا غلط کاموں کا مدعا انہی انفرادی شخصیات پر ڈال کر اداروں کا ان سے لاتعلق ہونے کا موقع نہیں؟ کیا ایسا کرنا قوم کے زخم نہیں بھرے گا؟ ہم ماضی میں رہ رہے ہیں اور ہماری تاریخ بوسیدہ ہے یہ ایک مخصوص کیس تھا ،اگرہم اس کیس کوایک خاص پیرائے میں دیکھیں تو مارشل لاء کے دوران باقی کیسزکودیکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

    سپریم کورٹ میں وقفہ کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عدالتی معاون مخدوم علی خان نے اپنے دلائل مکمل کیے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کیس کی آئندہ سماعت 26فروری کو ہوگی۔

    چیف جسٹس نے آج کی سماعت کا حکمنامہ لکھوایا جس میں کہا گیا کہ آج عدالتی معاون مخدوم علی خان نے معاونت کی، عدالتی معاون خالدجاویدنےتحریری بریف عدالت کو فراہم کیا، عدالتی معاون صلاح الدین کو معاونت کیلئے ایک گھنٹہ چاہیے، عدالتی معاونین کے عدالت دیگرفریقین کو عدالت سنے گی، صدارتی ریفرنس پرآئندہ سماعت 26فروری دن ساڑھے گیارہ بجے ہوگی۔

    واضح رہے کہ بھٹو کی بھانسی کے خلاف یہ ریفرنس ان کے داماد اور سابق صدر صف علی زرداری کی جانب سے 2011 میں آئین کے آرٹیکل 86 کے دائر کیا گیا تھا سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دور میںیفرنس پر چند سماعتیں ہوئیں لیکن اُن کے بعد آنے والے چیف جسٹس صاحبان نے صدارتی ریفرنس پر سماعت نہیں کی،موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اکتوبر 2023 میں صحافیوں سے ملاقات میں ذوالفقارعلی بھٹو کی سزائے موت کے خلاف صدارتی ریفرنس کی جلد سماعت کا عندیہ دیا تھا-

    سیاست دانوں کی نااہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    ریفرنس کی پیروی سابق وفاقی وزیر بابر اعوان نے کی تھی جو اُس وقت پی پی کاحصہ تھے تاہم اب پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں، پیپلز پارٹی کی قیادت نے وکیل رہنما اور سینئر پارٹی رُکن عتزاز احسن سے ریفرنس کی پیروی کرنے کی درخواست کی تھی تاہم انہوں نے معذرت کرلی۔

    کیس کی پہلی سماعت 2 جنوری 2012 اورآخری 12 نومبر 2012 کو ہوئی تھی جو 9 رکنی لارجربینچ نے کی تھی تاہم اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل بابر اعوان کا وکالت لائسنس منسوخ ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ نے وکیل کی تبدیلی کا حکم دیا تھا، بعد ازاں اسی بنیاد پر یہ ریفرنس ملتوی کردیا گیا تھا۔

    24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی

    پی پی کے شریک چئیرمین اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے صدارتی ریفرنس میں پانچ سوالات اٹھاتے ہوئے سپریم کورٹ سے رائے طلب کی تھی۔

    کیا سابق وزیراعظم ذوالفقاربھٹو کے قتل کا ٹرائل آئین میں شامل بنیادی انسانی حقوق کے مطابق تھا؟، کیاپھانسی کی سزا کا فیصلہ عدالتی نظیر کے طور پرآرٹیکل 189 کے تحت سپریم کورٹ اورتمام ہائیکورٹس پر لاگو ہو گا؟اگر نہیں تو فیصلے کے نتائج کیا ہو ں گے؟، کیا سپریم کورٹ کا فیصلہ منصفانہ تھا؟ کیا ذاولفقارعلی بھٹو کو سزائے موت سنانے کا یہ فیصلہ جانبدار نہیں تھا؟، کیا یہ سزائے موت قرآنی احکامات کی روشنی میں درست ہے؟، کیا سابق وزیراعظم کیخلاف ثبوت اور گواہان کے بیانات انہیں سزا سنانے کیلئے کافی تھے؟-

    عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ عابدہ پروین کا یوم پیدائش

  • سیاست دانوں کی نااہلی  کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سیاست دانوں کی نااہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت سیاست دانوں کی نااہلی کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی :53 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا، فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ کا اضافی نوٹ شامل ہے جبکہ جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ بھی تفصیلی فیصلے کا حصہ ہے۔ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت سیاست دانوں کی نااہلی کیس میں جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا، جس میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کو عوامی رائے اور عوام کی شاباشی حاصل کرنے کے بجائے آئین و قانون کے تحت فیصلے کرنے چاہیں۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاناما کیس فیصلے میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت سپریم کورٹ براہ راست کورٹ آف لاء کے تحت کسی امیدوار کی اہلیت کا تعین کیسے کر سکتی ہے؟ کسی امیدوار کو نااہل کرنے میں عدلیہ کو انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی امیدوار کے کردار کا تعین کرنا عدالتوں کا کام نہیں بلکہ جمہوری معاشروں میں یہ کام ووٹر کا ہے، نہ آئین میں اور نہ ہی کسی قانون میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ کورٹ آف لاء کون سا عدالتی فورم ہوگا جو ڈیکلریشن دینے کا مجاز ہوگا۔

    24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سیاست دانوں کی تاحیات نا اہلی کا سپریم کورٹ کا فیصلہ ختم کیا جاتا ہے، سمیع اللہ بلوچ کیس میں تاحیات نا اہلی کا فیصلہ ختم کیا جاتا ہے۔

    فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ نے سمیع اللہ بلوچ کیس میں تاحیات نا اہلی کا ڈکلیئریشن دے کر آئین بدلنے کی کوشش کی الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد نا اہلی کی مدت پانچ سال سے زیادہ نہیں ہوسکتی، آرٹیکل 62 ون ایف میں تاحیات نا اہلی کا کہیں ذکر نہیں، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا تصور بنیادی حقوق کی شقوں سے ہم آہنگ نہیں، ضیا الحق نے مارشل لا لگا کر آرٹیکل 62 میں تاحیات نااہلی کی شق شامل کرائی،تاحیات نا اہلی انتخابات لڑنے اور عوام کے ووٹ کے حق سے متصادم ہے۔

    عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ عابدہ پروین کا یوم پیدائش

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق عدالت الیکشن ایکٹ کے اسکوپ کو موجودہ کیس میں نہیں دیکھ رہی،آرٹیکل 62 ون ایف کو تنہا پڑھا جائے تو اس کے تحت سزا نہیں ہوسکتی، آرٹیکل 62 ون ایف میں درج نہیں کہ کورٹ آف لا کیا ہے، آرٹیکل 62 ون ایف واضح نہیں کرتا کہ ڈکلیئریشن کس نے دینی ہے، ایسا کوئی قانون نہیں جو واضح کرے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کا طریقہ کار کیا ہوگا،سابق جج عمر عطا بندیال نے سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ لکھا اور خود فیصلے کی نفی بھی کی، سابق جج عمر عطا بندیال نے فیصل واوڈا اور اللہ ڈینو بھائیو کیس میں اپنے ہی فیصلے کی نفی کی۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ تاحیات نا اہلی ختم کرنے کے فیصلے سے اختلاف کرتا ہوں، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہلی مستقل یا تاحیات نہیں، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہلی کورٹ آف لا کی ڈکلیئریشن تک محدود ہے، نا اہلی تب تک بر قرار رہتی ہے جب تک کورٹ آف لا کی ڈکلیئریشن موجود ہو، سپریم کورٹ کا سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ درست تھا۔

    ہر بچہ آنکھیں کھولتے ہی کرتا ہے سوال محبت کا

  • 24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی

    24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی

    غزہ: اسرائیلی فوج کے غزہ میں رہائشی علاقوں، اسپتالوں پر حملے جاری ہیں، 24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی ہوگئے ہیں جبکہ الناصر اسپتال غیر فعال ہونے سے 8 مریض انتقال کر گئے۔

    باغی ٹی وی : غزہ وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی ہوگئے،فلسطینی شہدا کی مجموعی تعداد 29 ہزار سے بڑھ گئی،اسرائیل نے رمضان تک اسرائیلی یرغمالی رہا نہ ہونے پر رفح میں زمینی آپریشن کا اعلان کیا ہے دوسری جانب حماس نے بھی اعلان کر رکھا ہے کہ غزہ سے اسرائیلی فوجی انخلاء کے بغیر یرغمالی رہا نہیں کیے جائیں گےتاہم یورپی یونین نے اسرائیل کو رفح پر چڑھائی کرنے سے خبردار کر دیا ہے-

    یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا ہے کہ ہنگری کے علاوہ یورپی یونین کے تمام ارکان نے غزہ میں فوری جنگی وقفے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس امر کا مطالبہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد کیا ہے، یورپی یونین کے 26 ارکان نے اتفاق کیا ہے کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر فوری جنگی وقفہ کیا جائے اور یہ جنگی وقفہ بعد ازاں پائیدار ‘ سیز فائر ‘ میں تبدیل ہو جائے۔

    امریکا کی غزہ میں جنگ بندی کیلئے اقوام متحدہ میں ووٹنگ کو …

    یورپی یونین نے سات اکتوبر سے مسلسل اسرائیل کی حمایت میں ایک متحدہ موقف اختیار کر رکھا ہے اور ہر اہم موقع یا مرحلے پر انہوں نے اسرائیل کی ہی مدد کی ہے، تاہم اب جبکہ غزہ میں فلسطینی بچوں اور عورتوں کی اکثریتی تعداد کے ساتھ 29 ہزار ہلاکتیں ہو چکی ہیں ، پورا غزہ تباہ ہو چکا اور غزہ کی تقریباً پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے ان ملکوں نے سوائے ہنگری کے سب جنگ میں وقفہ چاہنے لگے ہیں۔

    یورپی یونین کے رکن ممالک نے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اپنے اس موقف کا بھی اعادہ کیا ہے کہ ‘اسرائیل رفح میں جنگی یلغار نہ کرے ، جو اس وقت غزہ کی نصف سے زیادہ بے گھر ہو چکی آبادی کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے،ای یو وزرائے خارجہ کا کہنا ہے رفح پر حملہ 15 لاکھ بے گھر فلسطینیوں کے لیے تباہ کُن ہوگا۔

    اقوام متحدہ کی عالمی عدالتِ انصاف میں فلسطین پر اسرائیلی قبضے سے متعلق سماعت

    تاہم یورپی یونین کے ایک رکن ہنگری نے دیگر تمام ارکان کے ساتھ ہم آواز ہونے سے انکار کیا ہے اور غزہ میں ساڑھے چار ماہ کے دوران جو کچھ ہوا ہے اس سب کچھ کے باوجود وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔ جبکہ یورپی یونین کے دیگر تمام ارکان میں سے جرمنی ایک ایسا ملک ہے جو کسی بھی صورت میں اسرائیل کے حق دفاع کو کمزور نہیں دیکھنا چاہتا ہے-

    دوسری جانب خان یونس میں اسرائیلی فوج پر حماس کی جانب سے حملے کیے گئے جس میں کئی اسرائیلی فوج ہلاک اور متعدد کو زخمی کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

    حزب اللہ کی سرنگیں حماس سے زیادہ جدید اور اسرائیل تک پھیلی ہوئی ہیں،فرانسیسی اخبار