Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ عابدہ پروین کا یوم پیدائش

    عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ عابدہ پروین کا یوم پیدائش

    عابدہ پروین ، صوفی موسیقی کی ملکہ

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سندھی، اردو اور سرائیکی زبان کی عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ عابدہ پروین 20 فروری 1954 میں لاڑکانہ سندھ (پاکستان) میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد غلام حیدر شیخ اور والدہ ممتاز بیگم دونوں گلوکار اور موسیقار تھے چنانچہ اپنے گھر میں موجود موسیقی کے ماحول سے متاثر ہو کر انہوں نے بچپن میں ہی سے موسیقی میں دلچسپی لی اور موسیقی اور گائیکی کی ابتدائی تربیت انہوں نے اپنے والد استاد غلام حیدر سے حاصل کی جس کے بعد انہوں نے استاد سلامت علی خان اور استاد منظور علی خان کی شاگردی اختیار کی ۔

    عابدہ پروین نے 1975 میں ریڈیو پاکستان حیدر آباد کے سینیئر پروڈیوسر غلام حسین شیخ سے شادی کی جس سے انہیں 3 بچے پرہ، مریم حسین اور سارنگ لطیف پیدا ہوئے۔ عابدہ پروین نے گائیکی کی شروعات سندھ کے اولیائے کرام و صوفیائے کرام کی درگاہوں سے کی جس کے بعد وہ ریڈیو اور ٹیلیوژن کی اسکرین تک پہنچیں اپنی صوفیانہ اور وجد طاری کرنے والی گائیکی کے باعث وہ صوفی موسیقی کی ملکہ کے خطاب سے نوازی گئیں وہ عالمی شہرت حاصل کرنے والی پاکستان کی صوفی گلوکارہ بن گئیں وہ امریکہ ، برطانیہ ، دبئی، بھارت اور یورپ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکی ہیں ۔

    عابدہ پروین اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اور مصروف ترین گلوکارہ ہیں عابدہ پروین درگاہ حضرت سلطان باہو کے صاحبزاہ نجیب سلطان کی بیعت کر چکی ہیں اور ان کی معتقد اور مریدنی ہیں 2010 میں ان پر دل کا دورہ پڑا جس کے بعد انہوں نے انجیو گرافی کرا رکھی ہے عابدہ پروین کو راگ کی رانی کے خطاب سے بھی نوازا گیا ہے، حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں پاکستان کے سب سے بڑے شہری اعزاز ہلال امتیاز اور ملک کے دوسرے بڑے سویلین اعزاز نشان امتیاز سے نوازا گیا ہے عابدہ پروین 1990 میں لاڑکانہ سے کراچی منتقل ہو چکی ہیں ۔

  • ہر بچہ آنکھیں کھولتے ہی کرتا ہے سوال محبت کا

    ہر بچہ آنکھیں کھولتے ہی کرتا ہے سوال محبت کا

    کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
    مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

    آج اس شعر کے خالق غلام محمد قاصر کی پچیسویں برسی ہےغلام محمد قاصر 1944 میں ڈیرہ اسماعیل خان سے 40 کلومیٹر شمال میں واقع ایک چھوٹے سے قصبے پہاڑ پور میں پیدا ہوئے۔ ان کے تین شعری مجموعے تسلسل ، آٹھواں آسماں بھی نیلا ہے اور دریائے گماں شائع ہوئے. کلیاتِ قاصر ’’ اک شعر ابھی تک رہتا ہے ‘‘ کے عنوان سے 2009ء میں شائع ہو چکا ہے۔ انہوں نے پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے لیے متعدد ڈرامے بھی لکھے ڈراما سیریل تلاش اور بچوں کے لیے کھیل بھوت بنگلہ نے بہت مقبولیت حاصل کی۔

    غلام محمد قاصر نےگورنمنٹ ہائی اسکول پہاڑپور سے میٹرک کیا ۔ بعد میں اسی اسکول میں بطور ٹیچر تقرری ہوئی ۔ ملازمت کے دوران اردو میں ایم اے کیا۔ 1975ء میں بطور لیکچرار پہلا تقرر گورنمنٹ کالج مردان میں ہوا۔ اس کے بعد پشاور ، درہ آدم خیل، طورو اور پبی کے کالجوں میں رہے۔

    ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک بڑا مشاعرہ ہوا جس میں اس دور کے اکثر نامی گرامی شعرا نے حصہ لیا، جن میں ناصر کاظمی، منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی، قتیل شفائی، محبوب خزاں وغیرہ شامل تھے۔ مشاعرے کے آغاز ہی میں ایک نوجوان شاعر کو کلام سنانے کی دعوت دی گئی چوبیس پچیس سالہ دبلے پتلے اسکول ٹیچر نے ہاتھوں میں لرزتے ہوئے کاغذ کو بڑی مشکل سے سنبھال کر غزل سنانا شروع کی، اس شعر پر آئے تو گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے شعرا بھی یک لخت اُٹھ بیٹھے اور تمام سامعین کی آواز میں آواز ملا کر داد دی ۔

    تم یوں ہی ناراض ہوئے ہو ورنہ میخانے کا پتہ
    ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے

    سب ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ یہ کون ہے.

    1977ء میں جب ان کا پہلا شعری مجموعہ ’ تسلسل‘ شائع ہوا تو ظفر اقبال جیسے لگی لپٹی نہ رکھنے والے شاعر نے لکھا کہ میری شاعری جہاں سے ختم ہوتی ہے قاصر کی شاعری وہاں سے شروع ہوتی ہے۔آج ہی محمودالحسن نے بتایا کہ ظفر اقبال نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے مصحفی کو شاعر ماننے سے انکار کیا.

    غلام محمد قاصر کا 20 فروری 1999 کو انتقال ہوا 2006 میں صدر پاکستان نے ان کیلئے پرائڈ آف پرفارمنس کا اعزاز دیا.

    غلام محمد قاصر کے کچھ شعر…

    بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو
    اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو

    بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتا
    وہ شخص جس کا مجھے نام بھی نہیں آتا

    بیاباں دور تک میں نے سجایا تھا
    مگر وہ شہر کے رستے سے آیا تھا

    گلابوں کے نشیمن سے مرے محبوب کے سر تک
    سفر لمبا تھا خوشبو کا مگر آ ہی گئی گھر تک

    ہم نے تمہارے غم کو حقیقت بنا دیا
    تم نے ہمارے غم کے فسانے بنائے ہیں

    ہم تو وہاں پہنچ نہیں سکتے تمام عمر
    آنکھوں نے اتنی دور ٹھکانے بنائے ہیں

    ہر بچہ آنکھیں کھولتے ہی کرتا ہے سوال محبت کا
    دنیا کے کسی گوشے سے اسے مل جائے جواب تو اچھا ہو

    ہر سال بہار سے پہلے میں پانی پر پھول بناتا ہوں
    پھر چاروں موسم لکھ جاتے ہیں نام تمہارا آنکھوں میں

    ہر سال کی آخری شاموں میں دو چار ورق اڑ جاتے ہیں
    اب اور نہ بکھرے رشتوں کی بوسیدہ کتاب تو اچھا ہو

    ہزاروں اس میں رہنے کے لیے آئے
    مکاں میں نے تصور میں بنایا تھا

    جن کی درد بھری باتوں سے ایک زمانہ رام ہوا
    قاصرؔ ایسے فن کاروں کی قسمت میں بن باس رہا

    کہتے ہیں ان شاخوں پر پھل پھول بھی آتے تھے
    اب تو پتے جھڑتے ہیں یا پتھر گرتے ہیں

    کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
    مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

    کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا
    اور ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

    کتاب آرزو کے گم شدہ کچھ باب رکھے ہیں
    ترے تکیے کے نیچے بھی ہمارے خواب رکھے ہیں

    کوئی منہ پھیر لیتا ہے تو قاصرؔ اب شکایت کیا
    تجھے کس نے کہا تھا آئنے کو توڑ کر لے جا

    محبت کی گواہی اپنے ہونے کی خبر لے جا
    جدھر وہ شخص رہتا ہے مجھے اے دل! ادھر لے جا

    پہلے اک شخص میری ذات بنا
    اور پھر پوری کائنات بنا

    سایوں کی زد میں آ گئیں ساری غلام گردشیں
    اب تو کنیز کے لیے راہ فرار بھی نہیں

    سب سے اچھا کہہ کے اس نے مجھ کو رخصت کر دیا
    جب یہاں آیا تو پھر سب سے برا بھی میں ہی تھا

    سوچا ہے تمہاری آنکھوں سے اب میں ان کو ملوا ہی دوں
    کچھہ خواب جو ڈھونڈتے پھرتے ہیں جینے کا سہارا آنکھوں میں

    امید کی سوکھتی شاخوں سے سارے پتے جھڑ جائیں گے
    اس خوف سے اپنی تصویریں ہم سال بہ سال بناتے ہیں

    وہ لوگ مطمئن ہیں کہ پتھر ہیں ان کے پاس
    ہم خوش کہ ہم نے آئینہ خانے بنائے ہیں

    زمانوں کو اڑانیں برق کو رفتار دیتا تھا
    مگر مجھ سے کہا ٹھہرے ہوئے شام و سحر لے جا

    میں بدن کو درد کے ملبوس پہناتا رہا
    روح تک پھیلی ہوئی ملتی ہے عریانی مجھے

    گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے، گھر کا سناٹا کہتا ہے
    اس شہر کا ہر رہنے والا کیوں دوسرے شہر میں رہتا ہے

    نظر نظر میں ادائے جمال رکھتے تھے
    ہم ایک شخص کا کتنا خیال رکھتے تھے
    جبیں پہ آنے نہ دیتے تھے اک شکن بھی کبھی
    اگرچہ دل میں ہزاروں ملال رکھتے تھے

    کشتی بھی نہیں بدلی، دریا بھی نہیں بدلا
    ہم ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

    پہلے اِک شخص میری ذات بنا
    اور پھر پوری کائنات بنا

    کیا کروں میں یقیں نہیں آتا
    تم تو سچے ہو بات جھوٹی ہے

    بیکار گیا بن میں سونا میرا صدیوں کا
    اس شہر میں تو اب تک سِکہ بھی نہیں بدلا

    آگ درکار تھی اور نور اٹھا لائے ہیں
    ہم عبث طور اٹھا لائے ہیں

    پیاس کی سلطنت نہیں مٹتی
    لاکھہ دجلے بنا فرات بنا

    نظر نظر میں اداۓ جمال رکھتے ہیں
    ہم ایک شخص کا کتنا خیال رکھتے ہیں

    تری پسند کی چیزیں خریدنے والے
    تری پسند کے چیزوں کے نام بھول گئے

    یزید نقشہ جورو جفا بناتا ہے
    حسین اس میں خط کربلا بناتا ہے

    یزید لکھتا ہے تاریکیوں کو خط دن بھر
    حسین شام سے پہلے دیا بناتا ہے

    یزید تیز ہواؤں سے جوڑ توڑ میں گم
    حسین سر پہ بہن کے ردا بناتا ہے

    خوشبو گرفت عکس میں لایا اور اس کے بعد
    میں دیکھتا رہا تیری تصویر تھک گئی

    میں نے پڑھا تھا چاند کو انجیل کی طرح
    اور روشنی صلیب پہ آکر لٹک گئی

    روتی رہی لپٹ کے ہر اک سنگ میل سے
    مجبور ہو کے شہر کے اندر سڑک گئی

  • حزب اللہ کی سرنگیں حماس سے زیادہ جدید اور اسرائیل تک پھیلی ہوئی ہیں،فرانسیسی اخبار

    حزب اللہ کی سرنگیں حماس سے زیادہ جدید اور اسرائیل تک پھیلی ہوئی ہیں،فرانسیسی اخبار

    لبنان: لبنانی حزب اللہ ملیشیا کے پاس خفیہ سرنگوں کا نیٹ ورک موجود ہے جو غزہ میں حماس کے مقابلے میں زیادہ جدید ہیں۔

    باغی ٹی وی : یہ انکشاف فرانسیسی اخبار "لبریشن” نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے،اخبار کے مطابق لبنانی ملیشیا کے پاس ایسی سرنگیں ہیں جو سینکڑوں کلومیٹر لمبی ہیں اور ان کی شاخیں ہیں جو اسرائیل اور شاید اس سے آگے شام تک پہنچتی ہیں۔

    اخبار نے اسرائیلی محققین اور ویب سائٹس کے حوالے سے کہا ہے کہ تحریک نے بیروت، بقاع اور جنوبی لبنان کو جوڑنے والے مقامی زیر زمین نیٹ ورکس سے منسلک درجنوں آپریشن سینٹرز کے ساتھ ایک دفاعی منصوبہ بنایا ہے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان مسلسل کشیدگی اور خطرات کے تحت، تل ابیب میں شمالی سرحد پر حزب اللہ کی سرنگوں کی موجودگی کے بارے میں خوف پیدا ہو گیا ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی اسرائیل کے ساحل پر واقع شہر نہاریا کے ایک ہسپتال تک پہنچتی ہیں۔

    نوٹ کیا کہ پاکستان میں انتخابات عام طور پر مستحکم اور ہموار طریقے سے ہوئے،چین

    رپورٹ کے مطابق مہینوں پہلے، نہاریا میں میڈیکل سنٹر کی انتظامیہ کی طرف سے ڈرلنگ کے شور کے بارے میں موصول ہونے والی شکایات کے بعد، اسرائیلی فوج نے لبنان سے مذکورہ ہسپتال کی طرف جانے والی سرنگ کے وجود کے خدشے کو مسترد کرنے کے لیے زمینی ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    اسرائیلی اخبار اسرائیلی ہیوم نے انکشاف کیا کہ اسرائیل نے جانچ کے لیے 40 سے زائد مقامات پر کھدائی کی لیکن سرنگ کی موجودگی کا پتہ لگانے میں ناکام رہے جس کے باعث ان کا یہ خدشہ ختم ہوگیا،،اخبار کے مطابق ہسپتال کے علاقے میں کام شروع ہونے کے بعد حفاظت کی خاطر کھدائی کا کام ترک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔جغرافیائی طور پر نہاریہ میں موجود گیلیلی اسپتال اسرائیل کی شمالی سرحد پر ہے جو کہ لبنان کے ساتھ لگتی ہے، مشتبہ سرنگوں کے معاملے کی ابتدائی اطلاعات گذشتہ سال دسمبر میں سامنے آئی تھیں۔

    اقوام متحدہ کی عالمی عدالتِ انصاف میں فلسطین پر اسرائیلی قبضے سے متعلق سماعت

    یروشلم پوسٹ نے بھی حزب اللہ کی سرنگ کے خطرے کا خدشہ ظاہر کیا ہے اور بتایا ہے کہ حزب اللہ کو سرنگیں کھودنےکا وسیع تجربہ ہے اور اب جب یہ پتہ چلا ہے کہ حماس کی سرنگیں اس سے کہیں زیادہ بڑی اور وسیع ہیں جو پہلے سوچا گیا تھا تو کیا یہ ممکن نہیں کہ حزب اللہ کی سرنگوں کا خطرہ اس سے کہیں زیادہ ہو جو پہلے سوچا گیا تھا-

    قابل ذکر بات یہ ہےکہ جنوبی لبنان کا خطہ غزہ جیسا نہیں ہے،کیونکہ یہ پتھریلی پہاڑیوں اور وادیوں پر مشتمل ہے اور اسی لیے اسرائیلی اندازے اس خیال کو قبول نہیں کرتے کہ حزب اللہ اسرائیل میں 10 کلومیٹر گہرائی تک سرنگیں کھودنے میں کامیاب ہوچکی ہے۔

    روس کو بڑی کامیابی،یوکرین کے اہم قصبےپر قبضہ کر لیا

  • جسٹس شاہد  چوہدری کینیڈا میں جج تعینات ہو نیوالے پہلے پاکستانی

    جسٹس شاہد چوہدری کینیڈا میں جج تعینات ہو نیوالے پہلے پاکستانی

    ٹورنٹو: جسٹس شاہد چوہدری کینیڈا کی اونٹاریو کورٹ آف جسٹس میں جج تعینات ہوگئے ہیں-

    جسٹس شاہد چوہدری کینیڈا میں اس قانونی عہدے پر فائز ہونے والے پہلے پاکستانی ہیں، اونٹاریو کورٹ آف جسٹس میں بطور جج میری تعیناتی ہو چکی ہے اور آج کل ٹریننگ ہو رہی ہے،جسٹس آف پیس کا عہدہ سنبھالنے والے شاہد چوہدری 25 سال پہلےکینیڈا منتقل ہوئے تھے جب کہ ان کا تعلق پنجاب کے شہر بورےوالا سے ہے، جسٹس شاہد نے یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور سے الیکٹریکل انجینیئرنگ کی ڈگری جب کہ کینیڈا کے اوسگوڈ ہال لاء اسکول سے پوسٹ گریجویٹ سرٹیفکیٹ مکمل کیا۔

    جسٹس شاہد اونٹاریو کی کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کےکونسل اور مختلف کمیٹیوں کے رکن رہے ہیں، اس کے علاوہ 2011 میں کینیڈین امیگریشن اور سٹیزن شپ کنسلٹنٹ بھی رہے ہیں-

    حکومت سازی کیلئے پی پی اور ن لیگ کا پانچواں اجلاس بھی بے نتیجہ …

    اردو اور پنجابی کی معروف شاعرہ سیدہ گلفام پروین

    جمعیت علمائے اسلام حکومت سازی میں شامل نہیں ہو گی، مولانا عبدالغفور حیدری

  • جے یو آئی نظریاتی  کا انتخابی اتحاد میں تحریک انصاف کیساتھ چلنے کااعلان

    جے یو آئی نظریاتی کا انتخابی اتحاد میں تحریک انصاف کیساتھ چلنے کااعلان

    اسلام آباد: جمعیت علما اسلام نظریاتی نے انتخابی اتحاد میں تحریک انصاف کے ساتھ چلنے کااعلان کردیا –

    باغی ٹی وی : جے یو آئی نظریاتی کے رہنما مولانا گل نصیب نےپی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں،ہم چاہتے ہیں اس نظام پراعتماد پیدا کیا جائے، جس کیلئے ہم تحریک انصاف کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔

    پی ٹی آئی رہنمابیرسٹرگوہرنے کہا کہ ملکی معیشت اورحالات کو بہتر کرنےکیلئےمل کرآگے بڑھیں گے،ہم رابطے جاری رکھیں گے، اور مشترکہ کوششیں کریں گے-

    پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو 2 نئے لائسنس جاری

    پی ٹی آئی رہنما اسدقیصر نے کہا کہ پوراالیکشن متنازعہ ہوگیا ہے،کمشنر راولپنڈی کے بیان سےواضح ہوگیا کہ کتنی بڑی دھاندلی ہوئی ہے،ان انکشافات کی انکوائری ہونی چاہیے،کراچی اورکوئٹہ جائیں گے،بندکمروں کےفیصلوں کااختیارکسی کونہیں دیں گے منصوبہ بندی سے ہمارا مینڈیٹ چھینا گیا،ہم تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کررہے ہیں،جو بھی وزیراعظم ہمارےعلاوہ وزیراعظم بنا وہ جعلی ہوگا۔

    حکومت سازی کیلئے پی پی اور ن لیگ کا پانچواں اجلاس بھی بے نتیجہ …

  • پی ٹی آئی کی  بشریٰ بی بی کو قید میں نہایت  غیرمعیاری کھانا دینے کی مذمت

    پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی کو قید میں نہایت غیرمعیاری کھانا دینے کی مذمت

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کور کمیٹی نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ کامیاب امیدواروں کو ڈرانے دھمکانے اور جماعت چھوڑنے پر مجبور کرنے کی بھی مذمت کی ہے-

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی کورکمیٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی زندگی کو دوران قید لاحق مبینہ سنگین خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیاہے بشریٰ بی بی کو بنی گالہ میں قید رکھنے اور مبینہ طور پر نہایت غیرمعیاری کھانا دیے جانے کی مذمت کی گئی ہے کور کمیٹی نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ کامیاب امیدواروں کو ڈرانے دھمکانے اور جماعت چھوڑنے پر مجبور کرنے کی بھی مذمت کی ہے اور پنجاب اور سندھ کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کو فی الفور ہٹا کر کڑا محاسبہ کرنےکا مطالبہ کیا ہے کورکمیٹی نے ایم ڈبلیو ایم اور سنی اتحاد کونسل کے ساتھ سیاسی اشتراکِ عمل کی مکمل تائید و توثیق بھی کی ہے، کورکمیٹی نےکمشنر راولپنڈی کے اعترافِ جرم پر جوڈیشل کمیشن کے ذریعے عدالتی تحقیقات کروانےکا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    جمعیت علمائے اسلام حکومت سازی میں شامل نہیں ہو گی، مولانا عبدالغفور حیدری

    حکومت سازی کیلئے پی پی اور ن لیگ کا پانچواں اجلاس بھی بے نتیجہ …

    پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو 2 نئے لائسنس جاری

  • جمعیت علمائے اسلام حکومت سازی میں شامل نہیں ہو گی، مولانا عبدالغفور حیدری

    جمعیت علمائے اسلام حکومت سازی میں شامل نہیں ہو گی، مولانا عبدالغفور حیدری

    لاہور: مرکزی سیکرٹری جنرل جے یوآئی مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ ہم احتجاجاً حکومت سازی میں شامل نہیں ہوں گے۔

    باغی ٹی وی : صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام بلوچستان میں بھی حکومت سازی میں شامل نہیں ہوگی، تحریک انصاف کے وفد نے جذبہ خیر گسالی کے تحت دورہ کیا، تحریک انصاف سے بات اس ملاقات سے آگے نہیں بڑھی۔

    مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی، مولانا نے کہہ دیا کمشنر راولپنڈی کا بیان ہمارے موقف کو تقویت دے رہا ہے، جمعیت علمائے اسلام کو آزادی سے انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی گئی، ہمارے منتخب ممبران اسمبلیوں میں حلف اٹھائیں گے لیکن ہم احتجاجاً حکومت سازی میں شامل نہیں ہوں گے۔

    پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو 2 نئے لائسنس جاری

    دوسری جانب 8 فروری کے الیکشن میں این اے 43 ٹانک کے کچھ پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ نہ ہوسکی تھی جو آج مکمل کی گئی، غیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجے کےمطابق پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ داور خان کنڈی 64483 ووٹ لے کا کامیاب ہوگئے، جے یوآئی کے مفتی اور سربراہ جمیعت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمان کے بیٹے اسعد محمود 63900 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے، داور خان کنڈی 583 ووٹوں کی برتری سے کامیاب ہوئے۔

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس فروری کےآخری ہفتے طلب کرنےکا فیصلہ

  • اردو اور پنجابی کی معروف شاعرہ سیدہ گلفام پروین

    اردو اور پنجابی کی معروف شاعرہ سیدہ گلفام پروین

    میرے بارے میں بڑے بوڑھے کہا کرتے تھے
    یہ جو گل نام کی لڑکی ہے نیا بولتی ہے

    گلفام نقوی

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو اور پنجابی کی معروف شاعرہ سیدہ گلفام پروین المعروف گلفام نقوی 19 فروری 1964 میں ٹوبہ ٹیک سنگھ پنجاب پاکستان میں پیدا ہوئیں ۔ گلفام کے والد کا نام سید چراغ علی شاہ اور والدہ محترمہ کا نام سیدہ غلام جنت ہے۔ ان کے دادا سید سلطان شاہ اپنے علاقہ کی ایک بہت بڑی بااثر شخصیت تھے جبکہ گلفام کے نانا جان سید سردار علی شاہ ایک ولی کامل اور عارف شاعر و مصنف تھے ان کی ایک کتاب ، تحفہ عرفانی، شائع ہو چکی ہے ۔ گلفام نے گورنمنٹ کالج سمن آباد لاہور سے بی اے کیا ۔ 27 فروری 1987 میں ان کی شادی سید اقتدار علی شاہ سے ہوئی شادی کے بعد وہ لاہور منتقل ہو گئیں اولاد میں انہیں ایک بیٹا سید علمبدار حسین شاہ اور ایک بیٹی سیدہ قرت العین پیدا ہوئی ۔ شادی کے 5 سال بعد گلفام نقوی نے اپنے شوہر کے غلط راہ پر چلنے کی وجہ سے علیحدگی اختیار کر لی اور اپنے بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کے لیے انہوں نے فیصل آباد میں بیوٹی پارلر اور کپڑوں پر ڈیزائننگ کا کام شروع کیا اور بچیوں و خواتین کی تربیت کے لیے میں اپنے گھر میں سلائی کڑھائی کا سینٹر قائم کیا۔ گلفام کے دونوں بچے ماشاء اللہ بڑے ہو کر شادی کے بعد خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں ۔ گلفام نے بچپن سے ہی شاعری شروع کر دی تھی چھٹی جماعت میں انہوں نے پہلا شعر کہا۔ وہ اردو اور پنجابی میں غزل اور نظم لکھ رہی ہیں اب تک ان کے 4 شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں ۔ ان کی شاعری کی پہلی کتاب ”سہارے مل ہی جاتے ہیں“دوسرا مجموعہ”کرب کی کوک میں “ ہے۔

    گلفام صاحبہ کی شاعری سے بطور نمونہ ایک غزل قارئین کی نذر

    میری پازیب کی جس وقت کتھا بولتی ہے
    میں تو چپ رہتی ہوں گھنگھور گھٹا بولتی ہے

    دستکیں بند کواڑوں پہ ہوا کرتی ہیں
    وصل کی جب میرے ہونٹوں پہ دعا بولتی ہے

    میرے بارے میں بڑے بوڑھے کہا کرتے تھے
    یہ جو گل نام کی لڑکی ھے نیا بولتی ہے

    یہ جو دھڑکن ہے میرے دل کی مجھے تو ہی بتا
    نام اگر تیرا نہیں لیتی تو کیا بولتی ہے

    پیار کے گیت سناتی ھے وہاں خاموشی
    عاشقی دشت میں جب آبلہ پا بولتی ہے

    کس کی ہمت ھے تیری خاک۔قدم چھو پائے
    تیرے لہجے میں اگر خوئے حیا بولتی ہے

    کوئی سندیسہ تیرے نام کا لے آئی ھوں
    کان کی بالی سے چپکے سے ہوا بولتی ہے

    اس کی قربت میں تو خاموش ہی رہتی ہوں میں گل
    میری چوڑی میرے آنچل کی ادا بولتی ہے

    گلفام نقوی

  • حکومت سازی کیلئے پی پی اور ن لیگ کا پانچواں اجلاس  بھی بے نتیجہ ختم

    حکومت سازی کیلئے پی پی اور ن لیگ کا پانچواں اجلاس بھی بے نتیجہ ختم

    اسلام آباد: وفاق میں حکومت سازی کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کا پانچواں اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : میڈیا ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی رابطہ کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور پارلیمنٹ لاجز میں اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر ہوا، پیپلزپارٹی کے وفد میں مراد علی شاہ، قمر زمان کائرہ، ندیم افضل چن اور دیگر شامل ہیں۔

    تین گھنٹے طویل بیٹھک کے بعد دونوں جماعتوں نے مذاکرات میں وقفہ کیا اور اس دوران ن لیگ کے ایم کیو ایم پاکستان سے مذاکرات کامیاب ہوئے جس میں ایم کیو ایم نے ن لیگ کی حمایت کا اعلان کیا ہے دس بجے کے بعد پیپلزپارٹی کا وفد دوسرے راؤنڈ کیلئے نہ آیا اور ن لیگ کے قائدین انتظار کرتے رہ گئے جس کے بعد سوا گیارہ بجے انہوں نے اجلاس ختم کر کے صبح بات چیت آگے بڑھانے کا عندیہ دیا۔

    19 فروری کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم پُرامید ہیں معاملات اور معاہدہ طے پاجائے گا۔ اجلاس کے اختتام پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان بات چیت مثبت انداز میں جاری ہے، صبح دوبارہ نشست ہو گی، وفاقی کابینہ میں پیپلز پارٹی کی شمولیت کے حوالے سے کچھ چیزیں پہلے سے طے شدہ ہیں۔

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس فروری کےآخری ہفتے طلب کرنےکا فیصلہ

  • پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو 2 نئے لائسنس جاری

    پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو 2 نئے لائسنس جاری

    اسلام آباد: پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی (پی این آر اے) نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو 2 نئے لائسنس جاری کر دئیے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان میں پہلی سربمہر تابکار ماخذ کی تیاری کیلئے آپریٹنگ لائسنس جاری کیا گیا ہے، پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے اعلامیے کے مطابق سورس مینو فیکچرنگ فیسیلیٹی بنانے کے لئے لائسنسنگ کا عمل نومبر 2022 میں شروع ہوا تھا، اس کے ذریعے شعبہ طب، صنعت اور تحقیقاتی مقاصد میں استعمال ہونے والے سرب مہر تابکار ذرائع تیار کئے جائیں گے۔

    تحقیقی ری ایکٹر کیساتھ مولیبڈینم پیداواری سہولت کی تعمیر کا لائسنس بھی جاری کیا گیا ہے،مولیبڈینم پیداواری سہولت (ایم پی ایف) کی تعمیر کے لئے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے ستمبر 2021ء میں درخواست جمع کروائی تھی جس کو تمام تر ضروری اور مروجہ قوانین کے تحت پرکھنے کے بعد آج لائسنس جاری کیا گیا ہے۔

    19 فروری کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس فروری کےآخری ہفتے طلب کرنےکا فیصلہ

    گلگت اور گردو نواح میں زلزلےکے شدید جھٹکے