Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • حکومت سازی کے بعد  لاہور کے پانچ حلقوں میں ضمنی انتخاب

    حکومت سازی کے بعد لاہور کے پانچ حلقوں میں ضمنی انتخاب

    لاہور: حکومت سازی کے بعد لاہور کے پانچ حلقوں میں ضمنی انتخاب کا میدان سجے گا۔

    باغی ٹی وی : صدر مسلم لیگ ن شہبازشریف نے قصور کی قومی اسمبلی کی نشست رکھی تو لاہور میں چھ حلقوں میں ضمنی انتخاب ہوگا، مریم نواز این اے 119 کی نشست چھوڑیں گی جس پر ضمنی انتخاب ہوگا، اسی طرح شہبازشریف پی پی 158 اورپی پی 164 کی نشستیں چھوڑیں گے جس پردوبارہ انتخاب ہوگا۔

    شہباز شریف لاہوراورقصور دو نشستوں سےایم این اے منتخب ہوئےوہ لاہور یاقصور میں سےکسی ایک جگہ سے نشست چھوڑیں گے، حمزہ شہباز کی جانب سے صوبائی نشست پی پی 147 چھوڑنے کاامکان ہے یہاں بھی دوبارہ میدان لگے گا، شہبازشریف وزیراعظم اور مریم نواز وزارت اعلی پنجاب کے لئے امیدوار نامزد کیے جاچکے ہیں، این اے 117 علیم خان اپنے پاس رکھیں گے اورپی پی 149 کی نشست چھوڑیں گے، قومی اسمبلی میں اسمبلی کی زیادہ نشستوں کی ضرورت کے باعث حمزہ شہباز کو قومی اسمبلی میں رکھنے کی تجویز ہے۔

    وفاقی وزرا کیلئے 15 سینئر رہنماؤں کے نام زیر غور،پی ٹی آئی کا اپوزیشن …

    گلگت بلتستان کے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ ان کی آئینی حیثیت کیا ہے،چیف …

    امریکا نے ایران کا وینزویلا کو فروخت کیا جانیوالا طیارہ قبضے میں لے لیا

  • آصف زرداری نےپی ٹی آئی سے رابطے کی کوشش کی،شیر افضل مروت کا دعویٰ

    آصف زرداری نےپی ٹی آئی سے رابطے کی کوشش کی،شیر افضل مروت کا دعویٰ

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل مروت نے تہلکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری منگل کی شب پی ٹی آئی سے رابطے کی کوشش کرتے رہے-

    باغی ٹی وی : بدھ کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے پیغام دیا گیا کہ ہماری ترجیح ن لیگ کے بجائے پی ٹی آئی ہے، پیپلزپارٹی کے رابطے پر دستیاب پارٹی قیادت کو آگاہ کر دیا تھا کراچی کے تمام حلقوں سے تحریک انصاف جیتی ہے، الیکشن کمیشن کے سامنے تمام فارم 45 رکھے، الیکشن کمیشن ممبران سے عجیب و غریب لطیفے سننے کو ملے۔

    انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے واضح پیغام دیا، نگراں حکومت اسی طرح مینڈیٹ چراتی رہی تو جمہوری عمل پاکستان میں ختم ہو جائے گا، ہم حکومت بنانے کے لالچ میں ان پارٹیوں کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے، پاکستان تحریک انصاف کا واضح مؤقف ہے کہ الیکشن کمیشن سب کا ذمے دار ہے، الیکشن کمیشن کے رویے سے لگ رہا ہے جان بوجھ کر کیس لٹکا رہے ہیں، ہمیں ہاتھ پاؤں باندھ کر الیکشنز میں پھینکا گیا تھا، سب کچھ نواز شریف کے لیے کیا گیاوہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ دو تہائی اکثریت سے پی ٹی آئی جیتے گی۔

    بھارتی کسانوں کا احتجاج،مودی حکومت نے دہلی کی ناکہ بندی کر دی

    شیر افضل کی باتیں کامیڈی شو والی ہیں، میں تو انہیں سنجیدہ شخص نہیں سمجھتا،فیصل کریم کنڈی
    شیر افضل مروت کے بیان پر پیپلز پارٹی کے ترجمان فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ شیر افضل مروت کو خواب میں بھی آصف زرداری نظر آرہے ہیں،تحریک انصاف کو اگر سرکاری موقف دینا بھی ہے تو کسی سنجیدہ شخص سے دلوائیں، شیر افضل مروت غیر سنجیدہ شخص ہیں ان کا دعویٰ بچکانہ ہے، شیر افضل کی باتیں کامیڈی شو والی ہیں، میں تو انہیں سنجیدہ شخص نہیں سمجھتا، شیرافضل مروت کامیڈی شو تو کرسکتے ہیں، لیکن سنجیدہ سیاستدان نہیں بن سکتے، پی ٹی آئی والوں کو پتہ چل گیا ہے کہ اب ان کی حکومت نہیں بن رہی،ہ اگر پی ٹی آئی سے رابطہ کرنا ہوتا تو کسی سنجیدہ شخص کے ذریعے رابطہ کرتے، ایک ایسا شخص جس کی سنجیدگی پر سوالات اٹھتے ہیں اس کے ذریعہ رابطہ کیوں کرتے، کبھی کہتے ہیں 160 سیٹیں ہیں، ہوا میں باتیں کرتے ہیں، انہیں خود بھی نہیں پتہ کتنی سیٹیں ہیں، اگر وہ سمجھتے ہیں دھاندلی والی سیٹیں مل سکتی ہیں تو یہ پیپلز پارٹی یا کوئی اورجماعت نہیں دے سکتی، یہ تو عدالت یا ٹریبونل ہی فیصلہ کرسکتا ہے، وہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ 150 سیٹیں جیتی ہیں تو خواہشات اور خواب دیکھنے پر پابندی نہیں، پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کےلیے شہباز شریف کو ووٹ دینے کا اعلان کیا، تو پھر ان سے رابطہ کیوں اور کس لیے کریں

    واضح رہے کہ منگل کی شب ہی آصف علی زرداری چوہدری شجاعت کی رہائش گاہ پر شہباز شریف، خالد مقبول، علیم خان اور بی اے پی کے صادق سنجرانی کے ساتھ جمع ہوئے تھے اور اس موقع پر چھ جماعتوں پر مشتمل حکمراں اتحاد کا امکان سامنے آیا تھا۔

    وفاقی وزرا کیلئے 15 سینئر رہنماؤں کے نام زیر غور،پی ٹی آئی کا اپوزیشن …

    گلگت بلتستان کے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ ان کی آئینی حیثیت کیا ہے،چیف …

  • معیشت ہمارا  ا یجنڈا  ہونا  چاہیے ملک کو  آگے لے  کر جانا ہے،چوہدری شجاعت

    معیشت ہمارا ا یجنڈا ہونا چاہیے ملک کو آگے لے کر جانا ہے،چوہدری شجاعت

    اسلام آباد : پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ معیشت ہمارا ا یجنڈا ہونا چاہیے ملک کو آگے لے کر جانا ہے، قومی مفاہمت کے لیے سب کو مل جل کر آگے بڑھنا ہوگا-

    باغی ٹی وی : پاکستان مسلم لیگ (ضیاء) کے سربراہ محمد اعجاز الحق مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پہنچے، دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں آئندہ کی حکومت سازی اور ملکی صورتحال سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی۔

    بعدازاں چوہدری شجاعت حسین نے اعجاز الحق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ آج صبح سے سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کا سلسلہ جاری ہے، اعجاز الحق صاحب آج تشریف لائے انہوں نے عزت دی،ہم مل کر ملک کے لیے جو بھی خدمت کریں کریں گے،اعجازالحق کا خیال ہے مجھے وقت دیں مشاورت کے بعد بتاؤں گا معیشت ہمارا ا یجنڈا ہونا چاہیے ملک کو آگے لے کر جانا ہے، قومی مفاہمت کے لیے سب کو مل جل کر آگے بڑھنا ہوگا، جس سے بھی بات ہوگی انفرادی نہیں بلکہ پارٹی کی بنیاد پر ہوگی۔

    گلگت بلتستان کے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ ان کی آئینی حیثیت کیا ہے،چیف …

    اس موقع پر اعجاز الحق نے کہا کہ چودھری شجاعت سے بڑی خوشگوار ملاقات ہوئی ، چوہدری شجاعت حسین میرے بڑے بھائی ہیں، ان سے مشاورت ہوئی ہے، چوہدری صاحب کو الیکشن میں کامیابی پر مبارکباد دی ہے اور ان سے حکومت سازی کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے پاکستان کے لیے کون اس وقت بہتر ہے اور کیا بہتر کیا جا سکتا ہے یہ ضروری ہے ہم نے سے تھوڑا سے وقت مانگا ہے، اپنی جماعت سے صلاح مشورے کے بعد بات چیت آگے بڑھائیں گے،سب کو پاکستان کے مفاد بارے سوچنا چاہیئے-

    وفاقی وزرا کیلئے 15 سینئر رہنماؤں کے نام زیر غور،پی ٹی آئی کا اپوزیشن …

  • نواز شریف کے آئندہ سیاست میں کردار کے حوالے سے مریم نوازکا وضاحتی بیان

    نواز شریف کے آئندہ سیاست میں کردار کے حوالے سے مریم نوازکا وضاحتی بیان

    لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کی جانب سے پارٹی صدرشہباز شریف کو وزیراعظم اور سینیئر نائب صدر مریم نواز کو وزیراعلیٰ پنجاب نامزد کرنے کے بعد نواز شریف کی سیاست کے حوالے سے مریم نواز نے وضاحت جاری کی ہے-

    باغی ٹی وی: سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پرپوسٹ میں مریم نواز نے واضح کیا کہ وزارت عظمیٰ کا عہدہ نہ لینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نواز شریف سیاست سے کنارہ کش ہو رہے ہیں ،نواز شریف اگلے 5 سال نہ صرف بھرپور سیاست کریں گے بلکہ وفاق و پنجاب میں اپنی حکومتوں کی سرپرستی بھی کریں گے۔
    https://x.com/MaryamNSharif/status/1757691879380934881?s=20
    مریم نواز نے لکھا کہ نوازشریف کی تینوں حکومتوں میں عوام نے واضح اکثریت دی تھی اور یہ بات وہ انتخابی تقاریر میں میں واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی مخلوط حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے، جو لوگ نواز شریف کے مزاج سے وقف ہیں انھیں نواز شریف کے اصولی موقف کا پتہ ہے،شہباز شریف اور میں ان کے سپاہی ہیں، ان کے حکم کے پابند ہیں اور ان کی سربراہی اور نگرانی میں کام کریں گے- اللّہ ہمیں کامیابی عطا فرمائے۔ آمین۔‘

    توہین مذہب کیس میں بنا وارنٹ گرفتاری پر ایس پی اسلام آباد طلب

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    امریکا نے ایران کا وینزویلا کو فروخت کیا جانیوالا طیارہ قبضے میں لے لیا

  • بھارتی کسانوں کا احتجاج،مودی حکومت نے دہلی کی ناکہ بندی کر دی

    بھارتی کسانوں کا احتجاج،مودی حکومت نے دہلی کی ناکہ بندی کر دی

    نئی دہلی: بھارتی پولیس نے ملک بھر سے احتجاج کے لیے آنے والے کسانوں کو دارالحکومت میں داخلے سے روکنے کے لیے دہلی کی ناکہ بندی کر دی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق مودی حکومت کی جانب سے کھاد اور فصل کی قیمتوں سمیت کسانوں سے متعلق متنازع پالیسی کے خلاف ہریانہ اور پنجاب سمیت متعدد ریاستوں سے ہزاروں کی تعداد میں کسان نئی دہلی میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    بھارتی حکومت نے احتجاج کو روکنے کے لیے دہلی کی ناکہ بندی کرا دی ہے ناکوں پر بھاری تعداد میں نفری تعینات ہے جب کہ کچھ داخلی راستوں کو مکمل طور پر بند کردیا گیا جس کی وجہ سے نئی دہلی میں داخل ہونے والے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے مکمل چھان بین کے بعد ہی پولیس کسی گاڑی کو دارالحکومت میں داخل ہونے کی اجازت دے رہی ہے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں-

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    قبل ازیں پولیس نے ٹریکٹروں پر نئی دہلی پہنچ کر دارالحکومت میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے کسانوں پر آنسو گیس کی شیلنگ کی اور لاٹھی چارج بھی کیا، ہریانہ اور پنجاب کی سرحدوں پر بھی کسانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جنوری 2021 میں بھی کسانوں نے “دہلی چلو مارچ” کیا تھا جب کسان اپنے سال بھر کے احتجاج کے بعد بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر رکاوٹیں توڑ کر نئی دہلی میں داخل ہوگئے تھے۔

    توہین مذہب کیس میں بنا وارنٹ گرفتاری پر ایس پی اسلام آباد طلب

  • وفاقی وزرا کیلئے  15 سینئر رہنماؤں کے نام زیر غور،پی ٹی آئی کا اپوزیشن لیڈر کون ہوگا؟

    وفاقی وزرا کیلئے 15 سینئر رہنماؤں کے نام زیر غور،پی ٹی آئی کا اپوزیشن لیڈر کون ہوگا؟

    اسلام آباد: وفاقی وزرا کیلئے مسلم لیگ (ن) کے 15 سینئر رہنماؤں کے نام زیر غور ہیں۔

    باغی ٹی وی : میڈیا ذرائع کے مطابق لیگی قیادت نے جن 15 رہنماؤں کے نام وفاقی وزراء کی فہرست میں شامل کئے ہیں ان میں اسحاق ڈار، سردار ایاز صادق، خواجہ آصف شامل ہیں احسن اقبال، مریم اورنگزیب، عطاءاللہ تارڑ، شزا خواجہ، ریاض الحق اور بلال اظہر کیانی شامل ہیں، اویس احمد لغاری، طارق فضل چوہدری، راجہ قمر الاسلام، رانا تنویر حسین کو بھی زیر غور فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

    مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت نہ بننے پر اپوزیشن لیڈر کون ہوگا؟بڑے نام سامنے آ گئے۔

    تحریک انصاف نے حکومت سازی کے معاملے پر وزارت عظمیٰ کا الیکشن لڑنے کافیصلہ کیا ہے لیکن ناکامی کی صورت میں اپوزیشن لیڈر کے ناموں پر بھی غور شروع کردیا ہے،اپوزیشن لیڈر کیلئے بیرسٹر گوہر خان ،شیر افضل مروت اور علی محمد خان کے نام سامنے آ گئے ہیں،بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے شیر افضل مروت کا نام دیا،شیر افضل مروت کو اپوزیشن لیڈر بنانے کیلئے علیمہ خان سرگرم ہو گئیں، بیرسٹرگوہر خان بھی اپوزیشن لیڈر کیلئے فیورٹ ہیں ،پارٹی کی جانب سے علی محمد خان کا نام تجویز کیا جارہا ہے، تاہم حتمی فیصلہ بانی پی ٹی آئی کریں گے۔

  • گلگت بلتستان کے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ ان کی آئینی حیثیت کیا ہے،چیف جسٹس

    گلگت بلتستان کے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ ان کی آئینی حیثیت کیا ہے،چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ ان کی آئینی حیثیت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں گلگت بلتستان کی اعلی عدلیہ میں ججز تعیناتی کیس کی سماعت ہوئی چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کر تے ہوئے عدالت کی معاونت کیلئے گلگت بلتستان بار کونسل اور سپریم اپیلیٹ بار ایسوسی ایشن کو نوٹس جاری کر دیئے گئے۔

    عدالت نے فریقین کو تحریری معروضات بھی جمع کرانے کی ہدایت کر دی، دوران سماعت مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غیرقانونی قبضے کا تذکرہ ہوا تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیئے کہ بھارت نے تو کشمیر کو ہڑپ کر لیا ہے، کشمیر اور گلگت بلتستان کا جو حصہ ہمارے پاس ہے وہاں ریفرنڈم کروا لیں، گلگت بلتستان کے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ ان کی آئینی حیثیت کیا ہے-

    امریکا نے ایران کا وینزویلا کو فروخت کیا جانیوالا طیارہ قبضے میں لے لیا

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ گلگت بلتستان کو صوبائی حیثیت دے کر آئینی دھارے میں لانا چاہتے ہیں لیکن عالمی کنونشنز رکاوٹ ہیں،ریفرنڈم اقوام متحدہ ہی کروا سکتی ہے۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت بن گئی ہے؟ وزیراعظم کون ہیں؟ جس پر گلگت بلتستان حکومت کے وکیل نے جواب دیا کہ حکومت نہیں بنی، اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ مناسب ہوگا کہ نئی حکومت کی تشکیل کا انتظار کر لیا جائے کیونکہ وزیراعظم جی بی کونسل کے چیئرمین ہوتے ہیں۔

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

  • امریکا نے ایران کا وینزویلا کو فروخت کیا جانیوالا طیارہ قبضے میں لے لیا

    امریکا نے ایران کا وینزویلا کو فروخت کیا جانیوالا طیارہ قبضے میں لے لیا

    واشنگٹن: امریکا نے ایران کی جانب سے وینزویلا کی سرکاری ائئر لائن کو فروخت کیا جانے والا بوئنگ 747 کارگو طیارہ قبضے میں لے لیا ہے۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی امور انصاف کے مطابق امریکا کی جانب سے پابندیوں کی فہرست میں شامل ماہان ائئرسے وینیزویلا کو فروخت کیا جانے والا طیارہ ارجنٹائن سے امریکا روانہ کر دیا گیا ہے جسے اب کباڑ کے طور پرفروخت کیا جائے گا، ایران کی ماہان ایئر کی جانب سے 2022 میں وینزویلا کو طیارہ فروخت کرنا تہران پرعائد پابندیوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ امریکا اپنی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر ایسے اقدام اٹھاتا رہے گا۔

    دوسری جانب وینیزویلا حکومت نے امریکی اقدام کو شرمناک قرار دیتے ہوئے طیارہ واپس لینے کے لیے قانون کا سہارا لیے جانے کا عندیہ دیا ہےصدرنکولس مادورو کے دفتر نسے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور ارجنٹائن نے تجارتی و سول قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ہماری کارگو کمپنی کے حقوق غصب کیے ۔

    دوسری جانب ایران کی جانب سے بھی اس واقعے کو خلاف قانون قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی گئی ہے،ایرانی امورخارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کی طرف سے طیارہ تحویل میں لینا اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

  • توہین مذہب کیس میں بنا وارنٹ گرفتاری پر ایس پی اسلام آباد  طلب

    توہین مذہب کیس میں بنا وارنٹ گرفتاری پر ایس پی اسلام آباد طلب

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے توہین مذہب کیس میں بنا وارنٹ گھر میں گھس کر گرفتاری پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بنا وارنٹ پولیس لوگوں کے گھروں کا تقدس کیسے پامال کر سکتی ہے؟ قتل، ڈکیتی کا پرچہ تو پولیس فوری درج نہیں کرتی-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ نے ایس پی اسلام آباد پولیس رخسار مہدی کو توہین مذہب کیس میں زبیر صابری کے گھر بنا وارنٹ گرفتاری کرنے پر طلب کیا،سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے قانون کی پاسداری نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ لگتا ہے اسلام آباد میں کوئی گھر محفوظ نہیں۔

    چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دئیے کہ بنا وارنٹ پولیس لوگوں کے گھروں کا تقدس کیسے پامال کر سکتی ہے؟ قتل، ڈکیتی کا پرچہ تو پولیس فوری درج نہیں کرتی، کیا پولیس شکایت کنندہ کی جیب میں ہے؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اور آپ کی تنخواہ عوام دیتی ہے، تفتیشی افسر کے خلاف مقدمہ درج کرنا چاہیئے اٹارنی جنرل صاحب، ایسے مقدمات تو سپریم کورٹ آنے ہی نہیں چاہیئے، آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، اٹارنی جنرل ہمیں لا افسران سے معاونت نہیں مل رہی، لا افسران مدعی کے وکیل بن جاتے ہیں۔

    عام انتخابات میں رکن اسمبلی منتخب ہونیوالے 9 مئی کے اشتہاریوں کی گرفتا ر …

    جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ قانون کہہ رہا ہے توہین مذیب کیس کی تحقیقات ایس پی کرے گا، قانون کے ہوتے ہوئے ماتحت کیسے تحقیقات کرسکتا ہے؟ چیف جسٹس مدعی کی جانب سے پیر صاحب، پیر صاحب لفظ استعمال کرنے پر بھی برہم ہوگئے، انہوں نے ریمارکس دئیے کہ کیا یہ نام قانون میں درج ہے؟ کس قانون میں دم کرنے کا لکھا ہوا ہے؟۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آپ کا تو ایمان ہی مضبوط نہیں؟-

    بعدازاں سپریم کورٹ نے ایس پی اسلام آباد رخسار مہدی کے عدالت میں پیش ہونے تک سماعت میں وقفہ کر دیا۔

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے توہین مذہب کے ملزم زبیر صابری کی ضمانت منظور کرلی جبکہ ضمانت 50 ہزار روپے مچلکوں کھ عوض منظورکی گئی سپریم کورٹ نے کہا کہ توہین مذہب کیس کی مزید انکوائری کی جائے۔

    عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ توہین مذہب کے حساس معاملات کی نگرانی اورتفتیش ایس پی رینک سے کم کا افسر نہیں کرے گا،،سپریم کورٹ کے حکم پر ایس ایس پی اور ایس پی اسلام آباد پولیس عدالت میں پیش ہوئے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ توہین مذہب کے کیس کی تفتیش ایس پی نے خود کرنا ہوتی ہے، قانون کی خلاف ورزی پر ایس پی کو معطل کریں یا ایس ایس پی کو؟ وکیل کے مطابق پولیس توہین مذہب کے کیسز میں ڈرتی ہے اورجیسے ہی کیس آتا ہے مقدمہ درج کر لیتی ہے، پولیس ڈرپوک ہونے لگی تو بہادر کون رہے گا؟۔

    جسٹس قاضی فائز عیسی نے ایس ایس پی سے سوال کیا کہ نے کہا کہ بغیر وارنٹ کیا پولیس کسی کے گھرمیں داخل ہو سکتی ہے؟ چادر اور چار دیواری کا تقدس کہاں گیا؟ کیا آپ کے گھر کوئی بغیر وارنٹ جا کر تلاشی لے سکتا ہے؟۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس آرڈر 2002 کے مطابق بغیر وارنٹ گرفتاری کسی کے گھر داخل ہونے پر پانچ سال کی سزا بنتی ہے، ایک تصویر کی بنیاد پر توہین مذہب کا کیس بنا دیا جیسے آپ ہی اسلام کے محافظ ہیں، پہلے توہین مذہب کا کیس بنا، گرفتاری ہوئی پھر جا کر تصویر برآمد کرائی، کیا پولیس نے یہ ثابت کرنا ہے کہ توہین مذہب عام ہے اور اس سے اسلام بلند ہو گا؟ ایک شخص اپنے دوست کو دم کرانے گیا وہاں تصویر دیکھی اورآ کرمقدمہ بنا دیا، پولیس بندوقیں رکھ کر بھی ڈرپوک ہے، ہم اس قسم کے کیسز سے تھک چکے ہیں۔

    شہباز شریف کی مختلف اتحادیوں سے ملاقاتوں کے بارے میں نواز شریف کو بریفنگ

    شکایت گزار نے کہا کہ میں پیر کے پاس دوست کے ساتھ دم کرانے گیا جہاں توہین آمیز تصویر آویزاں تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ کیا قرآن میں پیر کا ذکر ہے؟ جس پر شکایت گزار نے کہا کہ قرآن میں پیر کا نہیں رہبر کا ذکر ہے، چیف جسٹس نے شکایت گزار سے سوال کیا کہ پیر کیا ہے؟ اب کیا اللہ سے بھی نوک جھونک کرو گے؟ جس پر شکایت گزار نے کہا کہ میں تو پیر کو نہیں مانتا صرف دوست کو دم کرانے گیا تھا۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اگر آپ پیر کو نہیں مانتے تو دوست کو ڈاکٹر کے پاس لے جاتے، پیر کا دم اپنے کام نہیں آرہا جو 7 ماہ سے جیل میں ہے؟چیف جسٹس نے پوچھا کہ یہ پیر کتنے عرصے سے گرفتار ہے؟ جس پر وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ زبیر صابری 7 ماہ سے گرفتار ہے-

    چیف جسٹس نے پولیس کو ہدایت کی کہ یقینی بنائیں کہ مذہب کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال نا ہو، توہین مذہب کے کیسز کو سنجیدگی سے لیں۔

    خاتون جج دھمکی کیس:عمران خان کی پروڈکشن کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

  • جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    جماعت اسلامی کی پی ٹی آئی سے اتحاد کے حوالےسے ابتدائی مشاورت مکمل کر لی-

    باغی ٹی وی: ترجمان جماعت اسلامی قیصر شریف نے کہا کہ جماعت اسلامی نے طے کیا تھا کہ قومی سطح پر تحریک انصاف سے اشتراک عمل قومی مفاد میں ہو گا ، لیکن تحریک انصاف نے اپنے موقف کو تبدیل کیا ہے ،وہ کے پی میں بھی جس سے چاہیں اپنے معاملات طے کر لیں ، جماعت اسلامی کو خوشی ہو گی –

    پی ٹی آئی جس سے چاہے اپنے معاملات طے کرلے، جماعت اسلامی کو خوشی ہوگی۔لیاقت بلوچ
    جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ نے مرکزی مشاورت اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے قائدین نے جماعت اسلامی سے رابطہ کیا کہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نئی صورتحال میں مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کرے۔ اس کے فوری بعد امیر جماعت اسلامی پاکستان نے مرکزی قیادت اور ذمہ داران کے ساتھ مشاورت کی اور لیاقت بلوچ کی سربراہی میں پروفیسر محمدابراہیم صاحب امیرجماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخوا، اور عنایت اللہ خان صاحب نائب امیر صوبہ خیبر پختونخوا پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی۔ کمیٹی ارکان کا تحریک انصاف کے قائدین بیرسٹرگوہر خان چیئرمین پی ٹی آئی، علی امین گنڈا پور، عمر ایوب خان اور محمد اعظم خان سواتی سے رابطہ ہوا اور ملکی انتخابی صورت حال پر تبادلہ خیال ہوا۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کی طرف سے تحریک انصاف کی قیادت کو آگاہ کر دیا گیا کہ جماعت اسلامی کے انتخابات 2024ء پر بڑے تحفظات ہیں۔ انتخابی نتائج کی تبدیلی اور زور زبردستی، سینہ زوری سے نتائج کو پلٹنا مکروہ اور جمہوریت کے لیے سیاہ گھناؤنا کھیل ہے جس کا نقصان ملک اور جمہوریت کو ہوگا۔ تاہم جماعت اسلامی عوامی مینڈیٹ سے جیتنے والے ممبران اسمبلی کا خیرمقدم کرتی ہے۔ تحریک انصاف کو اپنے آزاد اُمیدواران اورجو اُن کی حمایت سے جیتے ہیں انہیں پارٹی، آئینی، پارلیمانی تحفظ، عوامی مینڈیٹ کے احترام، پی ٹی آئی کے کارکنان کی مشکل حالات میں ثابت قدمی، محنت اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے جماعت اسلامی پی ٹی آئی کے ساتھ غیر مشروط تعاون کے لیے تیار ہے، جس کاپی ٹی آئی قیادت نے خیرمقدم کیا۔ آخری مرحلے میں تحریک انصاف کی قیادت نے پیغام دیا کہ وہ صرف خیبرپختونخوا کی حد تک تعاون چاہتے ہیں، جبکہ قومی سطح پر وہ جماعت اسلامی کے ساتھ اشتراک عمل نہیں کریں گے۔ لیاقت بلوچ نے تحریک انصاف کے قائدین کو آگاہ کیا کہ اُن کی طرف سے بدلے ہوئے دوسرے مؤقف پر مشاورت کے بعد جواب دیاجائے گا۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ مشاورت کے بعد جماعت اسلامی نے طے کیا کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کا قومی سطح پر اشتراک عمل قومی مفاد میں ہوگا لیکن تحریک انصاف نے اپنے مؤقف کو تبدیل کیا ہے تو وہ خیبر پختونخوا میں بھی جس سے چاہیں اپنے معاملات طے کرلیں، جماعت اسلامی کو خوشی ہوگی۔

    تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا تھاکہ صوبائی اسمبلی میں جماعت اسلامی کی نمائندگی نہیں رہی جس کی وجہ سے اب ان کے ساتھ حکومت بنانے کا کوئی جواز نہیں، جماعت اسلامی کےساتھ صرف کے پی میں حکومت سازی پر بات چیت چل رہی تھی، پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے حکومت سازی کے لیے قانونی طریقہ کار کو دیکھاجا رہا ہے۔

    دوسری جانب جماعت اسلامی خیبرپختونخوا اسمبلی کی مزید دو نشستیں ہار گئی ہے، جس کے بعد آئندہ بننے والی صوبائی اسمبلی میں ان کی نمائندگی ختم ہوگئی ہے باجوڑ سے خیبرپختونخوا اسمبلی کے حلقہ پی کے 21 کے سرکاری نتیجے کے مطابق کامیاب جماعت اسلامی کے امیدوار سردار خان کی جیت ہار میں تبدیل ہوگئی، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار اجمل خان 16712 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ جماعت اسلامی کے امیدوار سردار خان 8128 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے،اس کے علاوہ پی کے 20 میں بھی ابتدائی نتائج میں کامیاب قرار دیے گئے جماعت اسلامی کے امیدوار مولانا وحید گل ہار گئے۔

    بھرتی کیس میں پرویز الٰہی کی ضمانت منظور

    دوسری جانب تحریک انصاف کے لیے مجلس وحدت مسلمین کے ذریعے خصوصی نشستوں کا حصول مشکل ہوگیا،ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے اب تک کوئی ترجیحی فہرست جمع نہیں کرائی گئی ہے اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104 کے تحت ترجیحی فہرست جمع کرانےکاوقت گزرچکا ہے۔

    لیکشن ایکٹ کے تحت سیاسی جماعتیں کاغذات نامزدگی جمع کرانےکی آخری تاریخ تک ترجیحی فہرست جمع کراسکتی تھیں جب کہ کاغذات نامزدگی کی تاریخ گزرنے کے بعد ترجیحی فہرست میں تبدیلی یا اضافہ بھی ممکن نہیں، فہرستوں میں ترجیح تبدیل کی جاسکتی ہے اور نہ ہی کسی نام کو نکالا جا سکتا ہے۔

    کے پی میں 16 امیدواروں کی انتخابی نتائج کیخلاف درخواست دائر

    واضح رہے کہ 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) نے قومی اسمبلی کی ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ہے،گزشتہ روز ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کو ان کی جماعت کی ضرورت پڑی، تو وہ غیر مشروط طور پر پارٹی ان کے حوالے کرنے کو تیار ہیں۔